Sunni Network

Sunni Network اس پیج پر اہل سنت و جماعت کی تقریر و تحریر کے ذریعے ترجمانی کی جائے گی لہذا ضرور اس پیچ کو جوئن کریں

22/07/2026

افضلیت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تعلیمات حضرت سید مخدوم اشرف سمنانی چشتی رضی اللہ عنہ
ABU BAKAR SUDDIQE RADI ALLAH ANHU AUR

13/07/2026

AUR KI KHUSHBU
مخدوم اشرف اور سیدوں کی خوشبو
رکارڈنگ:مولانا شبیر احمد راج محلی

13/07/2026
دارالعلوم گلشن کلیمی راج محل میںعرس اشرفی و کلیمی کی جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں تصویروں کی شکل میں
13/07/2026

دارالعلوم گلشن کلیمی راج محل میں
عرس اشرفی و کلیمی کی جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں تصویروں کی شکل میں

10/07/2026

MAKHDOOM ASHRAF AUR KECHCHA KE SAYYADON KI TAHQIQ BY

10/07/2026

MURID AISE KE PEER BHI NAAZ KAREN,

مرید ایسے کہ پیر بھی ناز کریں۔
مولانا شبیر احمد راج محلی

18/05/2026

بزرگوں کے شطحیات کا حکم۔
بزرگان دین کے شطحیات ایسے اقوال و افعال کو کہتے ہیں جو ان سے بے خودی، غلبہ حال،میں صادر ہوجاتے ہوں،جو بظاہر شریعت کے خلاف ہوں۔
بزرگوں کے شطحیات کے بارے میں علماء کرام کا نظریہ یہ رہاہے کہ جن کی زندگی شریعت پر عمل میں گزری ہو اور جن کا علم وفضل امت کے درمیان مشہور ومعروف ہو اگر ان سے کچھ ایسے کلمات صادر ہو جاتے ہیں جو بظاہر خلاف شریعت معلوم ہوتے ہیں تو ان کی تاویل کی جائے گی اگر ممکن ہو اگر ممکن نہ ہو تو پھر اس کے معنی ومفہوم کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا اور اس بارے مین ان کو معذور سمجھ کر ان پر کفر و گمراہی کا فتویٰ نہیں لگایا جائے گا۔لیکن اس غلطی میں ان کی پیروی نہیں کی جائے گی یعنی کسی اور شخص کو ایسے الفاظ یا جملے بولنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔
چند دلائل ملاحظہ فرمائیں:
"مسلم شریف" میں حدیث پاک ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيِسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا، قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ "
(مسلم شریف۔المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري(المتوفى: 261هـ)،ج ٤،ص ٢١٠٤،حدیث نمبر ٢٧٤٧،کتاب التوبۃ،بَابٌ فِي الْحَضِّ عَلَى التَّوْبَةِ وَالْفَرَحِ بِهَا،الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)
یعنی:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب اللہ کا بندہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس(کی توبہ)پر تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنی سواری پر کسی چٹیل میدان(صحرا)میں ہو اور وہ سواری اس سے چھوٹ کر بھاگ جائے جب کہ اس کا کھانا اور پانی بھی اسی پر ہو،وہ اس(کے ملنے)سے بالکل ناامید ہو جائے اور ایک درخت کے پاس آ کر اس کے سائے میں لیٹ جائے، اس حال میں کہ وہ اپنی سواری سے (پوری طرح) مایوس ہو چکا ہو۔وہ اسی عالم میں ہو کہ اچانک اسے اپنے پاس کھڑا پائے، تو وہ اس کی نکیل پکڑ لے، پھر خوشی کی شدت میں(بے خود ہو کر) کہے: ’اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں‘۔ اس نے خوشی کی شدت کی وجہ سے (لفظوں کی) یہ غلطی کی۔"
توجہ دیجیے! اس حدیث شریف میں جو لفظ ہے کہ وہ بندہ بے خودی میں کہے:"اللهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ"اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔"بتایا جائے یہ جملہ کیا درست ہے؟کیا ہم میں سے کوئی بندہ اگر یہ جملہ کہے گا تو اس پر فتویٰ لگے گا یا نہیں؟تو جواب ہوگا بالکل فتویٰ لگے گا۔مگر اس حدیث سے ثابت ہے کہ بے خودی میں کسی بندے نے ایسا جملہ کہا تو اس پر فتویٰ نہیں لگے گا بلکہ ایسا بندے سے تو اللہ محبت کرتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ "بے خودی" میں "غلبہ حال" میں اگر زبان سے غلط جملے نکل جائیں تو اس پر فتویٰ نہیں لگتا لہٰذا اولیاء اللہ صوفیاء کرام کی زبان سے بھی غلبہ حال میں بے خودی کی کیفیت میں کوئی غلط جملہ نکل جائے تو اس پر بھی فتویٰ نہیں لگتا۔
اس حدیث کی تشریح میں امام قاضی عیاض مالکی(المتوفى: 544هـ) اپنی کتاب"إكمالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم"میں لکھتے ہیں:
وقوله: " فقال من شدة الفرح: اللهم أنت عبدى وأنا ربك ": فيه أن ما قاله الإنسان من مثل هذا - من دهش، وذهول - غير مؤاخذ به إن شاء الله، وكذلك حكايته عنه على طريق علمى وفائدة شرعية، لا على الهز والمحاكاة والعبث لحكاية النبى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إياه، ولو كان منكرًا لما حكاه.
(شَرْحُ صَحِيح مُسْلِمِ لِلقَاضِي عِياض المُسَمَّى إكمالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم،المؤلف: عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، أبو الفضل (المتوفى: 544هـ)ج ٨،ص ٢٤٥،کتاب التوبۃ،باب فى الحض على التوبة والفرح بها،الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر)
یعنی:نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمانا کہ: 'اس شخص نے خوشی کی شدت میں کہہ دیا: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں'؛ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان اس جیسی حالت میں—یعنی سخت حیرت، گھبراہٹ یا مدہوشی کے عالم میں—جو کچھ کہہ گزرے، ان شاء اللہ اس پر اس کا مواخذہ (پکڑ) نہیں ہوگا۔اور اسی طرح اس واقعے کو بیان کرنا بھی درست ہے اگر اس کا مقصد علمی رہنمائی اور شرعی فائدہ حاصل کرنا ہو، نہ کہ مذاق اڑانے، نقل اتارنے یا لغو (بے کار) مقصد کے لیے؛ کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے خود اسے بیان فرمایا ہے، اور اگر اس بات کا نقل کرنا ہی ناپسندیدہ یا برا ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے ہرگز بیان نہ فرماتے۔"
اسی طرح" مسلم شریف" ہی میں ایک اور حدیث ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا - عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ: أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا، قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ لِلْأَرْضِ: أَدِّي مَا أَخَذْتِ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: خَشْيَتُكَ، يَا رَبِّ - أَوْ قَالَ مَخَافَتُكَ - فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ "
(مسلم شریف۔المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري(المتوفى: 261هـ)،ج ٤،ص ٢١١٠،حدیث نمبر ٢٧٥٦،کتاب التوبۃ،بَابٌ فِي سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى وَأَنَّهَا سَبَقَتْ غَضَبَهُ،الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت)
یعنی:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ایک شخص نے اپنی جان پر بہت ظلم کیے تھے۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ: 'جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، پھر میری راکھ کو سمندر میں ہوا کے سپرد کر دینا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھ پر قدرت پا لیا (یعنی مجھے پکڑ لیا) تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہوگا۔' نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: 'ان بیٹوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔' پھر اللہ تعالیٰ نے زمین سے فرمایا: 'جو کچھ تو نے لیا ہے اسے واپس کر دے۔' تو وہ شخص اچانک (دوبارہ زندہ ہو کر) کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: 'تجھے اس حرکت پر کس بات نے مجبور کیا؟' اس نے کہا: 'اے میرے رب! تیرے خوف نے' تو اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے اسے معاف کر دیا۔"
توجہ کیجیے!اس حدیث سے واضح اور صاف ہے کہ اس شخص نے بظاہر اللہ کی قدرت کا انکار کردیا اور اللہ کی قدرت کا انکار کفر ہے اب بتائیں جب یہ کفر ہے تو اس انسان کی بخشش کیسے ہوئی؟تو وجہ یہ ہے کہ جس وقت اس انسان نے یہ بات کہی اس لمحے اس پر خوفِ خدا اتنا زیادہ غالب تھا کہ اس کی عقل حیران رہ گئی اسی غلبہ حال میں اس سے اس طرح کا جملہ نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی نیت اور اس کے دل کے سچے خوف کو قبول فرمایا اور اس کی بخشش ہو گئی معلوم ہوا اگر غلبہ حال میں کوئی خلاف شریعت بات زبان سے نکل جاتی ہے تو اس پر فتویٰ نہیں لگتا ہے۔
اس حدیث کی تشریح میں امام قاضی عیاض مالکی(المتوفى: 544هـ) کی کتاب"إكمالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم"میں لکھا ہے:
قال الإمام: لا يصح حمل هذا الحديث على أنه أراد بقوله: " قدر علىَّ " من القدرة، فإنه من شك فى كون البارى - سبحانه - عارف به، وقد ذكر فى آخر الحديث أن الله تعالى قال له: " ما حملك على ما صنعت؟ قال: من خشيتك يارب - أو مخافتك - فغفر له بذلك "، والكافر لا يخشى الله ولا يغفر الله له. فإذا ثبت ألاّ يصح حمل الحديث على هذا المعنى فيحمل على أحد وجهين: إما أن يكون المراد به: لئن قدر على، بمعنى: قدر على العذاب. ويقال: قدر وقدر بمعنى واحد، أو يكون أراد: قدر على، بمعنى: ضيق على، قال الله تعالى: {فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ} (1)، وهكذا القول فى قوله تعالى: {فَظَنَّ أَن لَّن نَقْدِرَ عَلَيْهِ (2)} (3).
قال القاضى: قد اختلف فى تأويل قوله هذا، فقيل ما تقدم، وقيل: بل قال ما قاله وهو غير ضابط لكلامه ولا معتقد لظاهره، بل لما اعتراه من الخوف أو من الجزع الذى استولى عليه، فلذلك لم يؤاخذه به ولم يضبط قوله، كما لم يضبط الآخر فى الحديث المتقدم من شدة الفرح ودهش بغته السرور، وقوله: " أنت عبدى وأنا ربك"
(شَرْحُ صَحِيح مُسْلِمِ لِلقَاضِي عِياض المُسَمَّى إكمالُ المُعْلِمِ بفَوَائِدِ مُسْلِم،المؤلف: عياض بن موسى بن عياض بن عمرون اليحصبي السبتي، أبو الفضل (المتوفى: 544هـ)ج ٨،ص ٢٥٥ تا ٢٥٦،کتاب التوبۃ،باب فى سعة رحمة الله تعالى، وأنها سبقت غضبه،الناشر: دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، مصر)
یعنی:امام(ابو عبد اللہ محمد بن علی بن عمر التمیمی المازری)فرماتے ہیں:"اس حدیث کو اس معنی پر محمول کرنا (یعنی یہ سمجھنا) درست نہیں ہے کہ اس شخص نے اپنے قول 'اگر اللہ مجھ پر قادر ہو گیا' سے اللہ کی 'قدرت' مراد لی تھی(یعنی اسے اللہ کی قدرت پر شک تھا)؛کیوں کہ جو شخص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم اور قدرت کے بارے میں شک کرے وہ (دائرہ اسلام سے خارج یعنی کافر ہے)۔جب کہ حدیث کے آخر میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: 'تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟' تو اس نے عرض کیا: 'اے میرے رب! تیرے خوف نے'، اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مومن تھا کیوں کہ) کافر نہ تو اللہ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی اللہ اسے معاف فرماتا ہے۔چناں چہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ اس حدیث کا وہ(ظاہری) معنی لینا صحیح نہیں، تو پھر اس کے دو میں سے ایک معنی مراد لیے جائیں گے:
​یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ: 'اگر اللہ نے مجھ پر عذاب کا فیصلہ(تقدیر)کر دیا'۔(عربی لغت میں) 'قَدَرَ' اور 'قَدَّرَ' ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔یا پھر اس سے مراد 'تنگی کرنا' ہے (یعنی اگر اللہ نے مجھ پر گرفت میں تنگی کی)۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ} (ترجمہ: پس اللہ نے اس پر اس کا رزق تنگ کر دیا)۔ اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں اللہ کے اس فرمان: {فَظَنَّ أَن لَّن نَقْدِرَ عَلَيْهِ} کا بھی یہی مطلب ہے (کہ انہوں نے سمجھا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے)۔"
​امام قاضی عیاض مالکی فرماتے ہیں:
"اس شخص کے اس قول کی تاویل میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک تو وہی(دو تاویلات)ہیں جو اوپر گزریں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ: اس نے یہ بات اس حال میں کہی تھی کہ وہ اپنے کلام پر قابو نہیں رکھتا تھا اور نہ ہی ان الفاظ کے ظاہری معنی کا عقیدہ رکھتا تھا، بلکہ یہ الفاظ اس خوف اور سخت بے چینی کی وجہ سے (زبان سے نکل گئے) تھے جو اس پر غالب آ چکی تھی۔ اسی لیے اللہ نے اس پر گرفت نہیں فرمائی کیوں کہ وہ مدہوشی کی کیفیت میں تھا، بالکل اسی طرح جیسے اس دوسرے شخص کا معاملہ تھا جس نے خوشی کی شدت اور اچانک ملنے والی مسرت کی وجہ سے ہوش و حواس کھو دیے تھے اور (غلطی سے) کہہ دیا تھا: 'تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں'۔"
اسی طرح اس حدیث کی تشریح میں امام نووی (المتوفى:676هـ)اپنی کتاب" شرح النووي علی مسلم" میں لکھتے ہیں :
اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي تَأْوِيلِ هَذَا الْحَدِيثُ فقالت طائفة لايصح حَمْلُ هَذَا عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ نَفْيَ قُدْرَةِ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّاكَّ فِي قُدْرَةِ اللَّهِ تَعَالَى كَافِرٌ وَقَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ إِنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ هَذَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْكَافِرُ لَا يَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى وَلَا يُغْفَرَ لَهُ قَالَ هَؤُلَاءِ فَيَكُونُ لَهُ تَأْوِيلَانِ أَحَدُهُمَا أَنَّ مَعْنَاهُ لَئِنْ قَدَّرَ عَلَيَّ الْعَذَابَ أَيْ قَضَاهُ يُقَالُ مِنْهُ قَدَرَ بِالتَّخْفِيفِ وَقَدَّرَ بِالتَّشْدِيدِ بِمَعْنًى وَاحِدٍ وَالثَّانِي إِنَّ قَدَرَ هُنَا بِمَعْنَى ضَيَّقَ عَلَيَّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فَقَدَرَ عَلَيْهِ رزقه وهوأحد الْأَقْوَالِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَظَنَّ أَنْ لَنْ نقدر عليه وَقَالَتْ طَائِفَةٌ اللَّفْظُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَلَكِنْ قَالَهُ هذا الرجل وهو غير ضابط لكلامه ولاقاصد لِحَقِيقَةِ مَعْنَاهُ وَمُعْتَقِدٍ لَهَا بَلْ قَالَهُ فِي حَالَةٍ غَلَبَ عَلَيْهِ فِيهَا الدَّهْشُ وَالْخَوْفُ وَشِدَّةُ الْجَزَعِ بِحَيْثُ ذَهَبَ تَيَقُّظُهُ وَتَدَبُّرُ مَا يَقُولُهُ فَصَارَ فِي مَعْنَى الْغَافِلِ وَالنَّاسِي وَهَذِهِ الْحَالَةِ لايؤاخذ فِيهَا وَهُوَ نَحْوُ قَوْلِ الْقَائِلِ الْآخَرِ الَّذِي غَلَبَ عَلَيْهِ الْفَرَحُ حِينَ وَجَدَ رَاحِلَتَهُ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ فَلَمْ يَكْفُرْ بِذَلِكَ الدَّهْشِ وَالْغَلَبَةِ وَالسَّهْوِ وَقَدْ جَاءَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي غَيْرِ مُسْلِمٍ فَلَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ أَيْ أَغِيبُ عَنْهُ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَى ظَاهِرِهِ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ هَذَا مِنْ مَجَازِ كَلَامِ الْعَرَبِ وَبَدِيعِ اسْتِعْمَالِهَا يُسَمُّونَهُ مَزْجَ الشَّكِّ بِالْيَقِينِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى وَإِنَّا أواياكم لعلى هدى فَصُورَتُهُ صُورَةُ شَكٍّ وَالْمُرَادُ بِهِ الْيَقِينِ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ هَذَا الرَّجُلُ جَهِلَ صِفَةً مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ تَعَالَى۔
(المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج،المعروف شرح النووي علی مسلم، المؤلف: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (المتوفى:676هـ) ج ١٧،ص ٧١،کتاب التوبۃ،باب سعة رحمة الله تعالى وأنها تغلب غضبه،الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت،)
یعنی:علماء نے اس حدیث کی تاویل(وضاحت)میں اختلاف کیا ہے۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ یہ درست نہیں کہ اس بات کو اللہ کی قدرت کی نفی پر محمول کیا جائے (یعنی یہ سمجھا جائے کہ وہ اللہ کی قدرت کا منکر تھا)، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ جب کہ حدیث کے آخر میں صراحت ہے کہ اس شخص نے یہ سب کچھ اللہ کے خوف کی وجہ سے کہا تھا، اور کافر اللہ تعالیٰ سے (اس طرح) نہیں ڈرتا اور نہ ہی کافر ہو بخشا جاتا ہے۔لہٰذا علماء کے نزدیک اس کلام کی دو تاویلیں ہو سکتی ہیں:
​پہلی تاویل: "لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ" کا مطلب یہ ہے کہ "اگر اللہ نے مجھ پر عذاب کا فیصلہ کر لیا"۔ عربی میں 'قَدَرَ' (تخفیف کے ساتھ) اور 'قَدَّرَ' (تشدید کے ساتھ) دونوں ایک ہی معنی (فیصلہ کرنے) میں استعمال ہوتے ہیں۔
​دوسری تاویل: یہاں 'قَدَرَ' کا مطلب تنگی کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ" (یعنی اس پر اس کا رزق تنگ کر دیا گیا)۔ حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے میں بھی "فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ" کا ایک مطلب یہی (تنگی کرنا) لیا گیا ہے۔
​دیگر گروہوں کی آراء
​اور علماء کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ لفظ اپنے ظاہری معنی پر ہی ہے، لیکن یہ بات اس شخص نے اس وقت کہی جب اس کے حواس قابو میں نہیں تھے اور وہ کلام کی حقیقت اور اس کے معنی کا قصد نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ اس پر خوف، دہشت اور شدید گھبراہٹ اس قدر غالب تھی کہ اس کی سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی۔ وہ اس وقت ایک غافل اور بھولنے والے کے حکم میں تھا، اور ایسی حالت میں انسان کی گرفت نہیں ہوتی۔
​یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے اس شخص نے کہا تھا جس پر اپنی گمشدہ سواری ملنے پر خوشی اس قدر غالب آئی کہ اس نے (غلطی سے) کہہ دیا: "اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں"۔ اس نے مدہوشی اور سہو کی حالت میں یہ کہا تھا، اس لیے اس پر کفر کا حکم نہیں لگا۔مسلم کے علاوہ دیگر روایات میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں: "تاکہ میں اللہ سے اوجھل ہو جاؤں"۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا قول (بظاہر قدرت کی نفی پر) سخت گھبراہٹ کی حالت میں تھا۔
​اور علماء کا تیسرے گروہ کا کہنا ہے کہ یہ عربی زبان کے مجاز اور کلام کے خوبصورت اسلوب میں سے ہے جسے "شک کو یقین کے ساتھ ملانا" کہتے ہیں۔ جیسے قرآن میں ہے: "وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى" (اور بے شک ہم یا تم ہدایت پر ہیں)۔ اس کی صورت شک والی ہے مگر مراد یقین ہے۔
علماء کا ​چوتھے گروہ کا ماننا یہ ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی ایک صفت سے ناواقف تھا (یعنی اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ ذرات کو جمع کر کے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے)۔
ضروری نوٹ:امام قاضی عیاض مالکی رضی اللہ عنہ اور شارح مسلم امام نووی رضی اللہ عنہ کی تشریحات سے واضح اور صاف ہے کہ غلبہ حال میں یا بے خودی میں جب بندہ مؤمن سے کوئی بظاہر خلاف شریعت بات صادر ہو جائے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی تاویل کی جائے اور تاویل ممکن نہ ہو تو بھی قائل پر کفر و گمراہی کا فتویٰ نہیں لگایا جائے گا لہٰذا جب مؤمن بندہ کو بے خودی اور غلبہ حال پر نظر کرتے ہوئے کافر و گمراہ نہیں کہا جائے گا تو بدرجہ اولی جن اللہ کے نیک بندوں سے جن اولیاء اللہ سے بے خودی یا غلبہ حال میں شطحیات صادر ہوئے ہیں ان کو بھی کافر و گمراہ نہیں کہا جائے گا۔
سبط ابن الجوزي»(٥٨١ هـ - ٦٥٤هـ) اپنی کتاب"مرآة الزمان في تواريخ الأعيان" میں لکھتے ہیں:
فصل: قال المصنِّفُ رحمه الله: وقد نقلتُ عنه ألفاظًا من باب الشطح والدعاوى، والجوابُ مختصر؛ وهو أن للمشايخ أحوالًا، حالُ قبض وبسط، وفناء وبقاء، وقد يطرأُ على الإنسان أحوالٌ فتغيِّبه عن الموجودات.
وقيل للجنيد: قد قال أبو يزيد: سبحاني! فقال: الرجل مستهلَكٌ في شهود الجلال، أذهلَه الحقُّ عن رؤية ما سواه، فوصفَه بما لا يليقُ إلَّا به سبحانه.وفي الحديث: لو رأيتموهم لقلتم مجانين، ولو رأوكم لقالوا: ما آمنوا …
(،مرآة الزمان في تواريخ الأعيان،تصنيف:شمس الدين أبي المظفر يوسف بن قز أوغلي بن عبد الله المعروف بـ «سبط ابن الجوزي»(٥٨١ هـ - ٦٥٤هـ)ج ١٥،ص ٤٤٢،)
یعنی:فصل (باب): مصنف رحمہ اللہ نے فرمایا:
اور میں نے ان سے شطحیات (وجد و مستی کی حالت میں زبان سے نکلنے والے کلمات) اور دعووں کے قبیل کے کچھ الفاظ نقل کیے ہیں، اور اس کا جواب مختصر ہے؛ وہ یہ کہ مشائخ(صوفیاء)کے کچھ احوال(روحانی کیفیات)ہوتے ہیں،جیسے قبض و بسط (تنگی و کشادگی) کی حالت، اور فناء و بقاء کی حالت۔ اور بسا اوقات انسان پر ایسی کیفیات طاری ہوتی ہیں جو اسے موجودات (دنیا و مافیہا) سے غائب (بے خبر) کر دیتی ہیں۔اور (امام)جنید بغدادی سے کہا گیا کہ ابو یزید (بسطامی) نے کہا ہے: "سبحانی! (میری ذات پاک ہے!)" تو انہوں نے فرمایا: "یہ شخص جلالِ الٰہی کے مشاہدے میں مستغرق(کھویا ہوا) ہے، حق تعالیٰ(کی معرفت)نے اسے اپنے سوا کسی بھی دوسری چیز کو دیکھنے سے غافل کر دیا ہے، چنانچہ انہوں نے (اس بے خودی میں) اللہ کی وہ صفت بیان کر دی جو صرف اسی(اللہ) سبحانہ و تعالی کے لائق ہے۔"اور حدیث میں ہے: "اگر تم انہیں دیکھو تو یقیناً کہو گے کہ یہ دیوانے ہیں، اور اگر وہ تمہیں دیکھیں تو کہیں گے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں لائے۔۔۔"
سبط ابن الجوزي کی عبارت سے واضح اور صاف ہے کہ بے خودی کے عالم میں صوفیاء کرام سے شطحیات صادر ہوتے ہیں جن کے سبب ان کی پکڑ نہیں ہوتی بلکہ ان کی تاویلیں کی جائیں ممکن ہو تو ورنہ پھر ان پر فتویٰ نہیں لگے گا کیونکہ یہ شطحیات غلبہ حال کی کیفیت میں صادر ہوتے ہیں۔
امام ابن خلدون( المتوفى:808هـ)اپنی کتاب"تاریخ ابن خلدون"میں لکھتے ہیں:
ورابعها ألفاظ موهمة الظّاهر صدرت من الكثير من أئمّة القوم يعبّرون عنها في اصطلاحهم بالشّطحات تستشكل ظواهرها فمنكر ومحسن ومتأوّل. فأمّا الكلام في المجاهدات والمقامات وما يحصل من الأذواق والمواجد في نتائجها ومحاسبة النّفس على التّقصير في أسبابها فأمر لا مدفع فيه لأحد وأذواقهم فيه صحيحة والتّحقّق بها هو عين السّعادة. وأمّا الكلام في كرامات القوم وأخبارهم بالمغيّبات وتصرّفهم في الكائنات فأمر صحيح غير منكر. وإن مال بعض العلماء إلى إنكارها فليس ذلك من الحقّ.
یعنی:​"چوتھی بات وہ الفاظ ہیں جن کے ظاہری معنی سے(حقیقت کے بارے میں)مغالطہ پیدا ہوتا ہے،جو صوفیاء کے بہت سے ائمہ سے صادر ہوئے ہیں اور وہ اپنی اصطلاح میں انہیں 'شطحیات'(وجدانی مغلوبیت میں نکلنے والے الفاظ)سے تعبیر کرتے ہیں۔ان کے ظاہری الفاظ پر اعتراضات کیے جاتے ہیں،چناں چہ(ان الفاظ کو سن کر لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے ہیں):کوئی انکار کرنے والا ہے،کوئی حسنِ ظن رکھنے والا اور کوئی ان کی تاویل(وضاحت)کرنے والا ہے۔بہر حال!مجاہدات اور مقامات، اور ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اذواق و مواجد(روحانی ذوق اور قلبی کیفیات)اور اس کے اسباب میں کوتاہی پر نفس کا محاسبہ کرنے کے بارے میں جو کلام ہے،اس سے کسی کو انکار کی گنجائش نہیں۔اس بارے میں ان(صوفیاء)کے تجربات و اذواق درست ہیں اور ان حقائق کو پا لینا ہی اصل کامیابی (عینِ سعادت) ہے۔رہی بات ان بزرگوں کی کرامات، غیب کی باتوں کی خبر دینے اور کائنات میں ان کے تصرف کے بارے میں گفتگو کی، تو یہ امر برحق ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگرچہ بعض علماء نے ان کے انکار کی طرف میلان ظاہر کیا ہے، لیکن یہ درست نہیں۔
مزید آگے لکھتے ہیں:
وأمّا الألفاظ الموهمة الّتي يعبّرون عنها بالشّطحات ويؤاخذهم بها أهل الشّرع فاعلم أنّ الإنصاف في شأن القوم أنّهم أهل غيبة عن الحسّ والواردات تملكهم حتّى ينطقوا عنها بما لا يقصدونه وصاحب الغيبة غير مخاطب والمجبور معذور. فمن علم منهم فضله واقتداؤه حمل على القصد الجميل من هذا وأمثاله وأنّ العبارة عن المواجد صعبة لفقدان الوضع لها كما وقع لأبي يزيد البسطاميّ وأمثاله. ومن لم يعلم فضله ولا اشتهر فمؤاخذ بما صدر عنه من ذلك إذا لم يتبيّن لنا ما يحملنا على تأويل كلامه. وأمّا من تكلّم بمثلها وهو حاضر في حسّه ولم يملكه الحال فمؤاخذ أيضا.
(ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر"المعروف تاريخ ابن خلدون" المؤلف:عبد الرحمن بن محمد بن محمد ابن خلدون أبو زيد، ولي الدين الحضرمي الإشبيلي (المتوفى: 808هـ)ج ١، ص ٦٢٣ تا ٦٢٤،الکتاب الأول.... الباب السادس.... الفصل السابع عشر فی علم التصوف۔الناشر: دار الفكر، بيروت۔)
یعنی:​"رہی بات ان مغالطہ آمیز الفاظ کی جنہیں وہ (صوفیاء) 'شطحیات' (وجدانی مغلوبیت میں نکلنے والے کلمات)سے تعبیر کرتے ہیں اور جن کی وجہ سے اہلِ شرع ان پر گرفت کرتے ہیں، تو جان لینا چاہیے کہ ان بزرگوں کے بارے میں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ:وہ (بسا اوقات)اپنے حواس سے غائب ہو جاتے ہیں اور ان پر ایسی قلبی واردات طاری ہو جاتی ہیں جو انہیں اپنے قابو میں کر لیتی ہیں، یہاں تک کہ وہ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جن کا وہ ارادہ نہیں رکھتے۔اور جو شخص(حواس سے)غائب ہو وہ شرعی طور پر مخاطب (مکلف) نہیں رہتا،اور جو مجبور ہو وہ معذور ہوتا ہے۔
​چنانچہ صوفیاء میں سے جس بزرگ کی فضیلت اور پیروی(تقویٰ)ثابت ہو،اس کے ایسے کلمات کو نیک نیتی اور اچھے مقصد پر محمول کیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ(روحانی)کیفیات اور وجدان کو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ لغت میں ان کے لیے الفاظ وضع نہیں کیے گئے(یہ وہ کیفیات ہیں جن کے لیے زبان میں الفاظ موجود نہیں)، جیسا کہ ابو یزید بسطامی اور ان جیسے دیگر بزرگوں کے ساتھ پیش آیا۔لیکن جس شخص کی فضیلت معلوم نہ ہو اور نہ ہی وہ (اپنے تقویٰ میں) مشہور ہو، تو اس سے صادر ہونے والے ایسے کلمات پر اس کی گرفت کی جائے گی، بشرطیکہ ہمیں کوئی ایسی وجہ معلوم نہ ہو جو ہمیں اس کے کلام کی تاویل (وضاحت) پر آمادہ کرے۔ اسی طرح وہ شخص بھی گرفت کے لائق ہے جو ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ایسی باتیں کرے اور اس پر کوئی (وجدانی) کیفیت طاری نہ ہو۔
توجہ کیجیے! امام خطیب بغدادی کی عبارات نے مسئلہ کتنا واضح کردیا کہ بزرگوں کے شطحیات میں جہاں تک ممکن ہو تاویل کی جائے تاویل کی گنجائش نہ تو بے خودی و غلبہ حال کے سبب چوں کے صادر ہوئے اس لیے ان پر فتویٰ نہیں لگایا جائے گا۔
وہابیوں کے امام و علامہ ابن تیمیہ (المتوفى: 728هـ)اپنی کتاب"مجموع الفتاویٰ" میں لکھتے ہیں:
وَكَذَلِكَ صَارَ فِي شُيُوخِ الصُّوفِيَّةِ مَنْ يَعْرِضُ لَهُ مِنْ الْفَنَاءِ وَالسُّكْرِ مَا يَضْعُفُ مَعَهُ تَمْيِيزُهُ حَتَّى يَقُولَ فِي تِلْكَ الْحَالِ مِنْ الْأَقْوَالِ مَا إذَا صَحَا عَرَفَ أَنَّهُ غَالَطَ فِيهِ كَمَا يُحْكَى نَحْوُ ذَلِكَ عَنْ مِثْلِ أَبِي يَزِيدَ وَأَبِي الْحُسَينِ النُّورِيِّ وَأَبِي بَكْرٍ الشِّبْلِيِّ وَأَمْثَالِهِمْ. بِخِلَافِ أَبِي سُلَيْمَانَ الداراني وَمَعْرُوفٍ الْكَرْخِي والْفُضَيْل بْنِ عِيَاضٍ بَلْ وَبِخِلَافِ الْجُنَيْد وَأَمْثَالِهِمْ مِمَّنْ كَانَتْ عُقُولُهُمْ وَتَمْيِيزُهُمْ يَصْحَبُهُمْ فِي أَحْوَالِهِمْ فَلَا يَقَعُونَ فِي مِثْلِ هَذَا الْفَنَاءِ وَالسُّكْرِ۔
(مجموع الفتاوى، المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني (المتوفى: 728هـ) ج ١٠،ص ٢٢٠ تا٢٢١،علم السلوک،الفناء أنواع،الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية)
یعنی:اسی طرح صوفیہ کے شیوخ (بزرگوں)میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوئے جن پر(روحانی)فنا اور سکر(بے خودی)کی ایسی حالت طاری ہو جاتی تھی جس سے ان کی قوتِ تمیز (صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت)کمزور پڑ جاتی تھی،یہاں تک کہ وہ اس حالت میں ایسی باتیں کہہ جاتے تھے کہ جب وہ ہوش میں آتے(صحو کی حالت میں ہوتے)تو انہیں خود اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ اس میں غلطی پر تھے۔جیسا کہ اس طرح کی باتیں ابو یزید (بسطامی)، ابو الحسین النوری اور ابو بکر الشبلی اور ان جیسے دیگر حضرات سے مرویات میں ملتی ہیں۔برعکس اس کے، ابو سلیمان الدارانی، معروف الکرخی، فضیل بن عیاض، بلکہ امام جنید (بغدادی) اور ان جیسے دیگر اکابرین کا معاملہ مختلف تھا؛ کیوں کہ ان کی عقلیں اور قوتِ تمیز ان کے (روحانی)احوال میں بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں، اس لیے وہ اس قسم کی فنا، سکر (بے خودی) اور اس جیسی حالتوں کا شکار نہیں ہوتے تھے۔
وہابیوں کے امام و علامہ ابن تیمیہ کی اس عبارت سے واضح ہے کہ اللہ کے ولیوں پر کبھی کبھی بے خودی کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس حالت میں ان سے شطحیات کا ظہور ہو جاتا ہے اور اوپر دلائل لکھ چکا ہوں کہ ایسی حالت میں صادر ہونے والے کلمات کی تاویل کی جائے گی جہاں تک ممکن ہو اور تاویل ممکن نہ ہو تب بھی قائل پر حکم کفر و گمراہی نہیں لگایا جائے گا۔
اسی طرح وہابیوں کے امام و علامہ ابن تیمیہ کی کتاب"مجموع الفتاوى"میں ایک جگہ اور لکھا ہے:
فَقَدْ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْحَالِ: أَنَا الْحَقُّ أَوْ سُبْحَانِي أَوْ مَا فِي الْجُبَّةِ إلَّا اللَّهُ وَنَحْوَ ذَلِكَ وَهُوَ سَكْرَانُ بِوَجْدِ الْمَحَبَّةِ الَّذِي هُوَ لَذَّةٌ وَسُرُورٌ بِلَا تَمْيِيزٍ۔
(مجموع الفتاوى، المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني (المتوفى: 728هـ) ج ٢،ص ٣٩٦،توحید الربوبیۃ فصل: في بعض من غلب عليه الحال فوقع في نوع من الحلول أو الاتحاد،الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية)
یعنی:پس وہ اس حالت میں کہہ اٹھتے ہیں :'انا الحق'(میں حق ہوں) یا 'سبحانی' (میری پاکی ہو) یا 'ما فی الجبۃ الا اللہ' (جبے میں اللہ کے سوا کچھ نہیں) اور اس جیسے دیگر کلمات،جب کہ وہ محبت کے اس وجد میں مغلوب الحال (مست) ہوتے ہیں جو کہ بغیر کسی قوتِ تمیز (ہوش و حواس) کے محض لذت اور سرور کی ایک حالت ہوتی ہے۔"
مزید ایک جگہ لکھا ہے:
لَكِنَّ بَعْضَ ذَوِي الْأَحْوَالِ قَدْ يَحْصُلُ لَهُ فِي حَالِ الْفَنَاءِ الْقَاصِرِ سُكْرٌ وَغَيْبَةٌ عَنْ السَّوِيِّ وَالسُّكْرِ وُجِدَ بِلَا تَمْيِيزٍ. فَقَدْ يَقُولُ فِي تِلْكَ الْحَالِ: سُبْحَانِي أَوْ مَا فِي الْجُبَّةِ إلَّا اللَّهُ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ مِنْ الْكَلِمَاتِ الَّتِي تُؤْثَرُ عَنْ أَبِي يَزِيدَ البسطامي أَوْ غَيْرِهِ مِنْ الْأَصِحَّاءِ وَكَلِمَاتُ السَّكْرَانِ تُطْوَى وَلَا تُرْوَى وَلَا تُؤَدَّى؛ إذَا لَمْ يَكُنْ سُكْرُهُ بِسَبَبِ مَحْظُورٍ مِنْ عِبَادَةٍ أَوْ وَجْهٍ مَنْهِيٍّ عَنْهُ. فَأَمَّا إذَا كَانَ السَّبَبُ مَحْظُورًا لَمْ يَكُنْ السَّكْرَانُ مَعْذُورًا لَا فَرْقَ فِي ذَاكَ بَيْنَ السُّكْرِ الْجُسْمَانِيِّ وَالرُّوحَانِيِّ؛ فَسُكْرُ الْأَجْسَامِ بِالطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَسُكْرُ النُّفُوسِ بِالصُّوَرِ وَسُكْرُ الْأَرْوَاحِ بِالْأَصْوَاتِ۔
(مجموع الفتاوى، المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني (المتوفى: 728هـ) ج ٢،ص ٤٦١،توحید الربوبیۃ فصل: غلط دعوى الاتحاد العيني،الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية)
یعنی:لیکن بعض صاحبِ احوال لوگوں کو(روحانی) فنائے قاصر(محدود فنا) کی حالت میں سکر(بے خودی) اور ماسوا(اللہ کے سوا ہر چیز)سے غیبت(بے خبری) لاحق ہو جاتی ہے، اور یہ سکر عقل و تمیز کے بغیر ہی پایا جاتا ہے۔چناں چہ وہ اس حالت میں کہہ بیٹھتا ہے: 'سبحانی'(میری پاکی ہو) یا 'ما فی الجبۃ الا اللہ' (جبے میں اللہ کے سوا کچھ نہیں) یا اس جیسے دیگر کلمات، جو ابو یزید بسطامی یا ان جیسے دیگر صالحین(جو عام حالات میں بالکل درست عقل و صحت رکھتے ہیں) سے منقول ہیں۔اور ایسے مغلوب الحال (بے خود) شخص کے کلمات کو لپیٹ دیا جاتا ہے (یعنی ان سے درگزر کیا جاتا ہے)، انہیں (دلیل کے طور پر) آگے روایت نہیں کیا جاتا اور نہ ہی(شریعت میں) پیش کیا جاتا ہے؛ بشرطیکہ اس کی یہ بے خودی کسی ممنوعہ عبادت یا کسی ایسے طریقے کی وجہ سے نہ ہو جس سے شرعاً منع کیا گیا ہو۔ لیکن اگر (اس بے خودی کا) سبب ہی کوئی ممنوعہ کام ہو، تو پھر وہ بے خود شخص معذور نہیں مانا جائے گا۔ اور اس معاملے میں جسمانی سکر (نشے) اور روحانی سکر (بے خودی) کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ کیونکہ جسموں کا سکر (نشہ) کھانے اور پینے (شراب وغیرہ) سے ہوتا ہے، نفس کا سکر (خوبصورت وجاہت والی) صورتوں سے ہوتا ہے، اور روحوں کا سکر (وجد آفریں) آوازوں اور نغموں سے ہوتا ہے۔
وہابیوں کے امام و علامہ ابن تیمیہ کی مذکورہ بالا عبارات ت سے واضح ہے کہ بزرگوں سے شطحیات صادر ہوئے ہیں بے خودی میں جیسے حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ وغیرہم جو وہابیوں کے امام و علامہ کے نزدیک صالحین میں سے ہیں۔
اسی طرح وہابیوں کے امام و علامہ ابن تیمیہ کتاب( مجموع الفتاویٰ"میں ایک جگہ اور لکھا ہے:
كَمَا يَحْصُلُ لِبَعْضِ الْعَاشِقِينَ فِي غَيْبَتِهِ بِمَعْشُوقِهِ عَمَّا سِوَاهُ فَيَقُولُ أَحَدُهُمْ فِي هَذِهِ الْحَالِ: أَنَا الْحَقُّ أَوْ سُبْحَانِي أَوْ مَا فِي الْجُبَّةِ إلَّا اللَّهُ. وَمِنْهُمْ مَنْ غَلَبَ عَلَيْهِ حَالُ الرَّجَاءِ وَالرَّحْمَةِ حَتَّى قَالَ: أَبْسُطُ سَجَّادَتِي عَلَى جَهَنَّمَ. فَمَنْ قَالَ هَذَا فِي حَالِ زَوَالِ عَقْلِهِ بِحَيْثُ يَكُونُ كَالسَّكْرَانِ أَوْ الْمُولَهِ وَكَانَ السَّبَبُ الَّذِي أَوْجَبَ ذَلِكَ غَيْرَ مَنْهِيٍّ عَنْهُ شَرْعًا فَلَا إثْمَ عَلَيْهِ.
(مجموع الفتاوى، المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني (المتوفى: 728هـ) ج ١٠،ص ٣٥٠،علم السلوک،الضرورة بسبب محظور لا تستباح بها المحرمات،الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية)
یعنی:جیسا کہ بعض عاشقوں کے ساتھ پیش آتا ہے کہ وہ اپنے معشوق(کی محبت)میں اس طرح غرق ہو جاتے ہیں کہ ماسوا سے بالکل غائب(بے خبر)ہو جاتے ہیں، چناں چہ ان میں سے کوئی اس حالت میں کہہ اٹھتا ہے: 'انا الحق'(میں ہی حق ہوں)یا 'سبحانی' (میری ہی پاکی ہو) یا 'ما فی الجبۃ الا اللہ' (جبے میں اللہ کے سوا کچھ نہیں)۔اور انہی صوفیہ میں سے کچھ لوگ وہ بھی ہیں جن پر (اللہ کی) رحمت اور رجاء (امید) کا حال اس قدر غالب آ گیا کہ انہوں نے کہہ دیا: 'میں جہنم پر اپنا مصلّٰی (جائے نماز) بچھا دوں گا'۔پس جس کسی نے یہ باتیں عقل زائل ہو جانے(کھو بیٹھنے)کی حالت میں کہی ہوں، اس طور پر کہ وہ کسی مغلوب الحال (مست) یا عشق میں بے خود و مدہوش شخص کی طرح ہو چکا ہو، اور وہ سبب جس کی وجہ سے یہ حالت پیدا ہوئی وہ شرعی طور پر ممنوع نہ ہو، تو اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
وہابیوں کے امام و علامہ ابن تیمیہ کی مذکورہ بالا عبارت سے واضح ہے کہ بزرگوں سے شطحیات صادر ہوئے ہیں بے خودی میں جیسے حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ وغیرہم لیکن شطحیات چوں کہ غلبہ حال بے خودی میں صادر ہوتے ہیں لہٰذا ان پر فتویٰ نہیں لگایا جائے گا۔
امام اسماء الرجال علامہ ذہبی (المتوفى : 748هـ)اپنی کتاب" سیر اعلام النبلاء" میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
قُلْتُ: كَذَا تُكُلِّمَ فِي السُّلَمِيّ مِنْ أَجل تَأَلِيفه كِتَاب (حَقَائِق التَّفْسِيْر) ، فَيَاليتَه لَمْ يُؤلفه، فَنَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الإِشَارَات الحَلاَّجيَّة، وَالشَّطَحَات البِسْطَامِيَّة، وَتَصَوُّف الاَتحَادِيَّة، فَواحُزْنَاهُ عَلَى غُرْبَة الإِسْلاَم وَالسُّنَّة۔
(سير أعلام النبلاء، المؤلف:شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي (المتوفى : 748هـ) ج ١٣،ص ٤٤٢،طبقۃ ١٤ تا ١٦،الطبقۃ السادسۃ عشرۃ الحَكيمُ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بنُ عَلِيٍّ التِّرْمِذِيّ ،الناشر : مؤسسة الرسالة)
یعنی:میں(ذہبی)کہتا ہوں: اسی طرح (ابو عبد الرحمن) سُلمی پر ان کی کتاب 'حقائق التفسیر' کی تصنیف کی وجہ سے علمی کلام(تنقید)کیا گیا ہے،کاش کہ انہوں نے یہ کتاب تصنیف ہی نہ کی ہوتی!پس ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں حلاجی اشاروں(منصور حلاج کے صوفیانہ نظریات)،بسطامی شطحیات(بایزید بسطامی کے مدہوشانہ کلمات) اور اتحادیوں (وحدت الوجود کے قائلین) کے تصوف سے۔ہائے افسوس! اسلام اور سنت کی اس غربت (بے کسی و تنہائی) پر۔
ضروری نوٹ:امام ذہبی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ کلمات شطحیات کو غلط کہا جا سکتا ہے لیکن جن بزرگوں سے کلمات شطحیات منقول ہیں ان صوفیاء کرام پر کوئی فتویٰ نہیں لگایا جا تبھی امام ذہبی نے بھی نہیں لگایا بلکہ امام ذہبی نے حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا لکھا ملاحظہ فرمائیں:
امام ذہبی لکھتے ہیں:
أَبُو يَزِيْدَ البِسْطَامِيُّ طَيْفُوْرُ بنُ عِيْسَى
سُلْطَانُ العَارِفِيْنَ، أَبُو يَزِيْدَ طَيْفُوْرُ بنُ عِيْسَى بنِ شَرْوَسَان البِسْطَامِيُّ، أَحَدُ الزُّهَادُ، أَخُو الزَّاهِدَيْنِ: آدَمَ وَعَلِيٍّ، وَكَانَ جَدُّهُم شَرْوَسَان مَجُوْسِيّاً، فَأَسلَمَ۔
(سير أعلام النبلاء، المؤلف:شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي (المتوفى : 748هـ) ج ١٣،ص ٨٦،طبقۃ ١٤ تا ١٦،تابع الطبقۃ الرابعۃ،الناشر : مؤسسة الرسالة)
یعنی:ابو یزید البسطامی طیفور بن عیسیٰ
​عارفین کے سلطان، ابو یزید طیفور بن عیسیٰ بن سروشان البِسطامی، (اپنے وقت کے) بڑے زاہدوں میں سے ایک تھے، اور دو زاہد بھائیوں—آدم اور علی—کے بھائی تھے۔ ان کے دادا 'سروشان' مجوسی (آتش پرست) تھے، پھر وہ اسلام لے آئے۔
مزید آگے لکھتے ہیں:
وَلَهُ هَكَذَا نُكَتٌ مَلِيْحَةٌ، وَجَاءَ عَنْهُ أَشْيَاء مُشْكِلَةٌ لاَ مَسَاغَ لَهَا، الشَّأْنُ فِي ثُبُوْتِهَا عَنْهُ، أَوْ أَنَّهُ قَالَهَا فِي حَالِ الدَّهْشَةِ وَالسُّكْرِ وَالغَيْبَةِ وَالمَحْوِ، فَيُطْوَى، وَلاَ يُحْتَجُّ بِهَا إذْ ظَاهِرُهَا إلْحَادٌ، مِثْل: سُبْحَانِي، وَمَا فِي الجُبَّةِ إِلاَّ الله،
یعنی:"ان(بایزید بسطامی)سے اس طرح کے کئی خوبصورت اور لطیف نکات(حکمتیں)بھی منقول ہیں، اور ان سے کچھ ایسی پیچیدہ اور مشکل باتیں بھی مروی ہیں جن کی (شریعت میں) کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب اصل معاملہ (یا حقیقتِ حال) یہ ہے کہ: یا تو یہ باتیں ان سے ثابت ہی نہیں ہیں، یا پھر انہوں نے یہ باتیں مدہوشی، (شوقِ الٰہی کے) سکر، غیبت (بے خودی) اور محو (فنا فی اللہ) کی حالت میں کہی ہوں گی۔ لہٰذا ایسی باتوں کو لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا (ان پر خاموشی اختیار کی جائے گی) اور ان سے (دین میں) کوئی حجت (دلیل) نہیں لی جائے گی؛ کیونکہ ان کا ظاہری معنی الحاد (اور کفر) ہے، جیسے کہ (ان کا یہ کہنا): 'میری ذات پاک ہے' (سبحانی) اور 'اس چغے (جبے) میں اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے'۔"
مزید آگے لکھتے ہیں:
قَالَ السُّلَمِيُّ فِي (تَارِيْخِ الصُّوْفِيَّةِ) : تُوُفِّيَ أَبُو يَزِيْدَ عَنْ ثَلاَثٍ وَسَبْعِيْنَ سَنَةً، وَلَهُ كَلاَمٌ حَسَنٌ فِي المُعَامَلاَتِ.
ثُمَّ قَالَ: وَيُحْكَى عَنْهُ فِي الشَّطْحِ أَشْيَاءُ، مِنْهَا مَا لاَ يَصِحُّ، أَوْ يَكُونُ مَقُوْلاً عَلَيْهِ، وَكَانَ يَرْجِعُ إِلَى أَحْوَالٍ سَنِيَّةٍ،
(سير أعلام النبلاء، المؤلف:شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذهبي (المتوفى : 748هـ) ج ١٣،ص ٨٩،طبقۃ ١٤ تا ١٦،تابع الطبقۃ الرابعۃ،الناشر : مؤسسة الرسالة)
"(ابو عبد الرحمن) السُّلَمی نے 'تاريخ الصوفية' میں کہا ہے: ابو یزید (بسطامی) نے تہتر (73) سال کی عمر میں وفات پائی، اور معاملات (زہد و تقویٰ اور اخلاقیات) کے بارے میں ان کا کلام بہت خوبصورت ہے۔
​پھر انہوں نے (السلمی نے) کہا: اور ان سے 'شطح' (وجدانی بے خودی کے کلمات) میں کچھ ایسی چیزیں بھی حکایت کی جاتی ہیں جن میں سے بعض (سرے سے) ثابت ہی نہیں ہیں، یا (جھوٹ موٹ) ان کے نام تھپ دی گئی ہیں، جبکہ وہ (حقیقت میں) بلند پایہ اور عمدہ احوال کے مالک تھے۔
امام ذہبی کی مذکورہ بالا عبارات سے واضح اور صاف ہیکہ حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ جن کی طرف شطحیات منسوب ہیں ان میں بعض ثابت ہی نہیں اور کچھ کو ثابت بھی مانا جائے تو فتویٰ نہیں لگے گا کیونکہ یہ سب شطحیات بے خودی کے عالم میں صادر ہوئے ہیں تبھی امام ذہبی کے نزدیک حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ عمدہ احوال کے مالک تھے۔
امام جلال الدین سیوطی (المتوفى: 911هـ)اپنی کتاب " الحاوی للفتاوی" میں لکھتے ہیں:
قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُ أَبِي يَزِيدَ الْبَسْطَامِيُّ: سُبْحَانِي مَا أَعْظَمَ شَانِي، فَهُوَ فِي مَعْرِضِ الْحِكَايَةِ عَنِ اللَّهِ، وَكَذَلِكَ قَوْلُ مَنْ قَالَ أَنَا الْحَقُّ مَحْمُولٌ عَلَى الْحِكَايَةِ، وَلَا يُظَنُّ بِهَؤُلَاءِ الْعَارِفِينَ الْحُلُولُ وَالِاتِّحَادُ ; لِأَنَّ ذَلِكَ غَيْرُ مَظْنُونٍ بِعَاقِلٍ، فَضْلًا عَنِ الْمُتَمَيِّزِينَ بِخُصُوصِ الْمُكَاشَفَاتِ وَالْيَقِينِ وَالْمُشَاهَدَاتِ، وَلَا يُظَنُّ بِالْعُقَلَاءِ الْمُتَمَيِّزِينَ عَلَى أَهْلِ زَمَانِهِمْ بِالْعِلْمِ الرَّاجِحِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ وَالْمُجَاهَدَةِ وَحِفْظِ حُدُودِ الشَّرْعِ الْغَلَطُ بِالْحُلُولِ وَالِاتِّحَادِ۔
(الحاوی للفتاوی،ج ٢ ،ص ١٦١،
المؤلف:عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي(المتوفى: 911هـ) الفتاوی الحدیثیۃ،کتاب البعث،مبحث الالھیات،تَنْزِيهُ الِاعْتِقَادِ عَنِ الْحُلُولِ وَالِاتِّحَادِ،الناشر: دار الفكر للطباعة والنشر، بيروت - لبنان)
یعنی:​"انہوں نے فرمایا: اور جہاں تک ابو یزید بسطامی کے اس قول کا تعلق ہے کہ: 'سُبْحَانِي مَا أَعْظَمَ شَانِي' (میری پاکی ہو، میری شان کس قدر بلند ہے!)، تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکایت(یعنی اللہ کا کلام نقل کرنے) کے انداز میں ہے؛ اور اسی طرح جس شخص (یعنی حضرت منصور حلاج) نے 'أَنَا الْحَقُّ'(میں ہی حق ہوں) کہا، اس کا قول بھی حکایت پر محمول ہے (کہ وہ غلبہ حال میں اللہ تعالیٰ کا کلام دہرا رہا تھے)۔
​اور ان عارفینِ باللہ کے بارے میں حلول اور اتحاد (ذاتی طور پر خدا کی ذات کے ساتھ ایک ہو جانے) کا گمان تک نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ اس طرح کا باطل عقیدہ تو کسی عام عقل مند شخص کے بارے میں بھی فرض نہیں کیا جا سکتا، چہ جائیکہ ان ہستیوں کے بارے میں جو مخصوص مکاشفات، یقین اور (روحانی) مشاہدات کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوں۔اور ایسے عقل مندوں کے بارے میں حلول اور اتحاد کی غلطی کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا—جو اپنے زمانے کے لوگوں میں اپنے علمِ راجح (افضل علم)، عملِ صالح، مجاہدہ اور حدودِ شریعت کی سخت حفاظت کرنے میں ممتاز و نمایاں تھے۔"
امام جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ کی عبارت سے واضح ہے کہ بزرگان دین سے جو شطحیات صادر ہوئے ہیں ان کی جہاں تک ممکن ہو تاویل کی جائے جیسا کہ خود علامہ جلال الدین سیوطی رضی اللہ عنہ نے تاویل پیش کی اور تاویل نہ ہو سکے تو بھی ان بزرگوں پر فتویٰ نہیں لگے گا بلکہ ان بزرگوں کی عظمت تسلیم کی جائے گی۔
نور الدين ابن برهان الدين(المتوفى: ١٠٤٤هـ)اپنی کتاب" سیرت حلبیہ" میں لکھتے ہیں:
وقول بعض العارفين وهو أبو يزيد البسطامي: سبحاني ما أعظم شأني، وقوله:
«إني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدون. وقوله: وأنا ربي الأعلى، وقوله: أنا الحق وهو أنا وأنا هو: ليس من دعوى الحلول في شيء، وإنما قوله: سبحاني إني أنا الله، محمول على الحكاية: أي قال ذلك على لسان الحق من باب حديث «إن الله تعالى قال على لسان عبده سمع الله لمن حمده» وقوله أنا ربي الأعلى وأنا الحق الخ. إنما قال ذلك لأنه انتهى سلوكه إلى الله تعالى، بحيث استغرق في بحر التوحيد، بحيث غاب عن كل ما سواه سبحانه، وصار لا يرى في الوجود غيره سبحانه وتعالى، الذي هو مقام الفناء ومحو النفس وتسليم الأمر كله له تعالى، وترك الإرادة منه والاختيار.
فالعارف إذا وصل إلى هذا المقام ربما قصرت عبارته عن بيان ذلك الحال
الذي نازله فصدرت عنه تلك العبارة الموهمة للحلول.
(السيرة الحلبية =إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون=ـالمؤلف:علي بن إبراهيم بن أحمد الحلبي، أبو الفرج، نور الدين ابن برهان الدين(المتوفى: ١٠٤٤هـ) ج ١، ص ٣٦٣ تا ٣٦٤،باب: بدء الوحي له صلى الله عليه وسلم، الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت)
یعنی:اور بعض عارفین، یعنی ابو یزید بسطامی کا یہ قول:"میری ذات پاک ہے، میری شان کتنی عظیم ہے!"
​اور ان کا یہ فرمانا:"بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔"اور ان کا یہ قول: "میں ہی اپنے رب کا بلند ترین مقام ہوں"، اور "میں حق ہوں، اور وہ میں ہے اور میں وہ ہوں"۔
​یہ تمام اقوال حلول (خدا کا بندے کی ذات میں سما جانا) کے دعوے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ بلکہ ان کا یہ کہنا کہ "میری ذات پاک ہے، بے شک میں ہی اللہ ہوں"، حکایت (بطورِ نقلِ قول) پر محمول ہے۔ یعنی انہوں نے یہ بات حق تعالیٰ کی زبان سے (اللہ کی طرف سے حکایت کرتے ہوئے) کہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے حدیثِ پاک میں آتا ہے:"اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی زبان پر فرمایا: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی (سمع اللہ لمن حمده)۔"اور ان کا یہ کہنا کہ "میں اپنے رب کا بلند ترین مقام ہوں" اور "میں حق ہوں" وغیرہ، تو انہوں نے یہ اس لیے کہا کیونکہ ان کا سلوک (روحانی سفر) اللہ تعالیٰ تک پہنچ چکا تھا، جہاں وہ توحید کے سمندر میں اس طرح غرق ہو گئے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے غائب (بے خبر) ہو گئے۔ اب انہیں کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ دکھائی ہی نہ دیتا تھا۔یہ دراصل "مقامِ فنا"، نفس کو مٹانے، پورا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے، اور اپنی مرضی و اختیار کو ترک کر دینے کا مقام ہے۔پس عارف جب اس مقام پر پہنچتا ہے، تو بسا اوقات اس کے الفاظ اس کیفیت (حال) کو بیان کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں جو اس پر طاری ہوتی ہے، چنانچہ اس کی زبان سے ایسی عبارات صادر ہو جاتی ہیں جن سے (بظاہر) حلول کا وہم پیدا ہوتا ہے۔
سیرت حلبیہ کی اس عبارت سے بھی واضح اور صاف ہے کہ بزرگان دین سے جو شطحیات صادر ہوئے ہیں ان میں تاویل کی جائے لیکن ان شطحیات کو غلط معنی میں محمول کر کے ان بزرگان دین پر لعن طعن نہیں کرنا چاہیے۔
مرتب:شبیر احمد راج محلی۔
سرپرست:اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن ممبئی۔
تاریخ:١٨/٠٥/٢٠٢٦

Address

Rajmahal،Rajmahal, Sahebganj (JH)India
Rajmahal
816108

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sunni Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Sunni Network:

Shortcuts

Share