Anokha Islam 1

Anokha Islam 1

Share

इस पेज पर हम आप को रोशनाश करायैंगे। दी?

Photos from Anokha Islam 1's post 26/05/2024
23/05/2024
26/11/2023

Talib e lim Ateeb shaban
Darul Uloom Anware Mustafa Telibagh Lucknow

25/11/2023

Talib e lim darul Uloom Anware Mustafa Telibagh Lucknow

21/11/2023

*شہزادۂ علمبردار اہل سنت حضرت مولانا محمد کاظم رضا وجد نعیمی کا انتقال امت مسلمہ کا ایک عظیم خسارا،مصروفیات کی وجہ سے کچھ تو نہ لکھ سکا مگر کچھ قلبی کیفیت صفحٔہ قرطاس پر نقل کررہاہوں نئے اسلوب پر*
_________________________
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
کہاں ہو تم،
درسگاہ میں!
وہاں بھی نہیں!
اوہ کچھ مریض آئے ہونگے انہیں دیکھ رہے ہیں!
وہ مسند بھی خالی ہے!
احباب کا حلقہ بھی نہیں!
نہیں نہیں ابھی کچھ دیر بعد حلقۂ احباب کا وجود ہوگا!
بزم سجے گی!
چائے نوشی کا دور چلے!
تنظیم میں سناٹا کیوں ہے؟
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
طلباء و اساتذہ اداس کیوں ہیں!
اساتذہ کے اداس چہرے کس کا اشارہ دے رہیں!
وہ بھیڑ بھاڑ!
وہ رنگ و رونق!
وہ مسکراہٹوں کا بازار!
وہ محفل مریضاں کا ہجوم!
وہ آہ کے نالوں کی دلخراش آوازیں!
وہ تسلی دینے والی صدائیں !
آج پردۂ سماعت سے نہیں ٹکرا رہی ہیں!
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
ملنے جلنے والوں کی کوئی آمد بھی نہیں!
تنظیم میں اس قدر سناٹا تو کبھی دیکھا نہیں؟
ارے بھیٔ بتاؤ بھی تو
*کیا ہوگیا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے
چمن اجڑ گیا
کلیاں مرجھا گئیں
پھولوں کی رنگینیاں ختم ہوگئیں!
کوئلوں نے کوکنا بند کردیا!
رفتار زندگی نے سستی اختیار کرلی!
نقشۂ عہد وفا ذہن کے تصویر خانے سے غائب ہوگیا!
پرندوں کی پروازیں تھم گئیں ہیں !
بازوں نے اڑان ترک کرکے زمین پر اترنا شروع کردیا ہے!
پروان و مہانندا کے تلاطم میں سستی کے آثار نمایاں ہیں!
یہ کس چیز کا پتہ دے رہی ہیں؟
یہ سب کچھ اچانک کیوں ہورہا ہے؟
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
اس گلابی موسم میں گرمی کا احساس!
دل کی ڈھرکنوں کی تیز رفتاری
بائسی کی گلیاں سسنان ہیں!
اچانک یہ اندھیرے کیوں برپا ہوگئے؟
کوئی چراغ تو جلاؤ،
کیابات ہے؟
چراغ بھی جلنے کو تیار نہیں!
نہیں نہیں یہ چراغ جلیں گے!
ان کی باتییاں دیکھ لو!
شاید باتییاں ختم ہوگئیں ہوں!
چراغ میں تو باتیاں بھی ہیں!
پھریہ جل کیوں نہیں رہے ہیں؟
مجھے ان کی باتیوں میں نمی کا احساس ہورہا ہے!
کہیں یہ رو تو نہیں رہے ہیں؟
کیسی باتیں کررہے ہو؟
کہیں چراغ بھی روتے ہیں؟
جی ہاں روتے ہیں!
یہ چراغ ہی کیا!
شمش وقمر بھی روتا ہے!
موسم بہار میں خزاں بھی آتے ہیں!
رفتار زندگانی تھم بھی جاتی ہے!
پھول خوشبوؤں کا لباس اتار دیتے ہیں!
پرندے اپنی اپنی پروازیں بند کر کے آہ و بکا میں مشغول ہوجاتے ہیں!
گلیاں اداس رہنے لگتی ہیں!
درودیوار روتے ہیں! سارا جہاں روتا!
اپنے اور بیگانے سبھی آہ آہ کرتے ہیں!
محفل یاراں میں سناٹا پسر جاتا ہے!
مئے خانے ویران ہوجاتے ہیں!
بادہ خوروں کو مئے کی طلب نہیں ہوتی!
مسیحائے زماں مریضوں سے اپنے دستہائے مسیحائی اٹھا لیتے ہیں؟
گلابی موسم میں باد سموم کے جھونکے بھی آتے ہیں!
چمنستان کے زرق وبرق اپنی تباہی کی نشاندہی کرتے ہیں!
دسمبر کی سردی میں بنا وجہ پسینے کی دھار نکلتی ہے!
بنا کمزوری کے چکر بھی آتا ہے!
الغرض وہ تمام ہوتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے!
یہ کب ہوتا ہے!
جب کسی کا سب کچھ لٹا جاتا!
دیکھو پریشان نہ کرو
دل بیٹھا جارہا ہے!
دماغ کی نسوں نے تننا شروع کردیا ہے!
جلدی جلدی بتاؤ یہ کب ہوتا ہے!
*جلدی بتاؤ کچھ ہوگیا ہے کیا؟* اگر سننا ہی چاہتے ہو تو سنو!
ویسے تو بتاناہی پڑے گا!
ہم نہیں بتائیں گے تو کوئی اور بتائے دےگا!
دارالعلوم تنظیم المسلمین بائسی کے مہتمم مولانا کاظم رضا وجد نعیمی اب ہمارے درمیان نہ رہے!
انا للہ وانا الیہ راجعون
ککککککککک کیا!
اللہ اکبر
کیسے؟
یہ تو مرضیٔ مولیٰ تھی
ہرایک کو جانا ہے!
پھر واپس نہیں آنا ہے!
کیوں چلے گئے اتنی جلدی!
کیا ہم سب کا خیال نہیں کیا!
خیال تو کیا ہوگا!
مگر بلاوا ہی ایسے دربار سے تھا!
جہاں کسی کی مرضی نہیں چلتی!
چلتی ہے تو صرف اسی کی!
جس کے لئے تمام تعریفیں ہیں!
جوتمام کائنات کا مالک و پروردگار ہے!
ملک عدم کا سفر اتنی جلدی!
کاش کچھ دن اور رکتے!
کاش آپ کایا سایہ کچھ دن اور ہمارے سروں پر ہوتا!
ایسے ملنسار ____عہد وفا کا ضامن _______الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس کی تفسیر جمیل، _______باپ جیسا شفیق، _____بھائی جیسا رفیق_______ حلقۂ احباب کا سردار ________مسافران دین و دنیا کا قافلۂ سالار ______انجمن کی زینت _____بے لوث محبت کا تاجدار _______سادگی میں یکتائے زماں ______منکسرالمزاج ____عفو وحلم شہزادہ ____ اتنی جلدی اس دارفانی کو خیر آباد کہہ گیا!
بھئ یقین نہیں ہورہا ہے؟
تمہیں کیا کسی کو بھی یقین نہیں آتا!
آہ مولانا کاظم آہ آپ اتنی جلدی رحمۃ اللہ علیہ ہوگئے!
ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا!
تم سے ہم نے مسکراہٹ کا انداز سیکھا!
ضبط غضب کا ہنر جانا!
اخلاقی پاکیزگی کا سلیقہ سیکھا!
دست شفقت فرمانے کی تہذیب سیکھی!
حسن سلوک کا میعار جانا!
ادارے کے اساتذہ سے برتاؤ کا طرق معلوم کیا!
رشتے داری نبھانے کا ڈھنگ جانا!
اصاغر نوازی کے چشمے کا پتہ معلوم کیا!
وغیرہ وغیرہ

کاش کچھ دنوں اور رکتے تو تمہارے اصاغر کو تمہارے نشان قدم کی صحیح پہچان آجاتی!

ابھی تو آپ کو بہت کچھ کرنا تھا!
بہت کچھ دیکھنا تھا!
کم از کم ایک سال اور رہ جاتے
تو شہزادے کو بصورت عریس ملاحظہ فرما لیتے!
گلستان زیست کی بہاروں سے لطف اندوز ہوتے!
اتنی جلدی گئے کہ!
قلب کی نیک خواہشات باہر کا راستہ نہ دیکھ سکی،
دل کے ارمانوں کا جنازہ تمہارے ساتھ دل ہی میں دفن ہوکر رہ گیا!
تم تو چلے مگر بہت سے ادھورے کام چھوڑ گئے!
مگر جانے والوں کو کون روک سکتا!
روکنا بھی چاہے تو نہیں روک سکتا!
کیونکہ یہ کسی کے بس میں ہے ہی نہیں!
جب بلاوا آتا ہے تو جانا پڑتا ہے!
خیر تمہارے ادھورے کام کی تکمیل میاں شہزادے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے!
آپ نے اسے تو اس قابل تو بنا ہی دیا ہے!
کہ وہ باپ دادا کی وراثت کی نگہبانی کرسکیں!
یقیناً کریں گے اور ضرور کریں گے!
کیونکہ وہ ابھی بالکل نوجوان ہے!
اس کی فکر جوان ہے ____حوصلے جوان ہیں____ پرواز کے لئے جوش پرواز ہے _____ صحیح غلط کی تمیز ہے ____تعلیم اچھی ہے____تعلیم گاہ میعاری ہے _____اس تعلیم گاہ کی خاصیت ہی سب سے الگ _____وہاں سے جو نکلتا ہے _______اپنے آپ میں کچھ نا کچھ بن کر نکلتا ہے ______شہزادے نے اپنے مقام کا تعین ہی خود اعلی معیار کا بنایا ہے ______کیونکہ اسے یہ معلوم تھا اور ہے کہ اسے اپنے باپ دادا کی وراثت کی نگہبانی کرنی ہے!

ہم تو دعا کرتے ہیں مولیٰ میاں شہزادے کو عروج و ارتقاء کی وہ منزل عطا کرے جو تم دیکھنا چاہتے تھے،
اس سے بھی کہیں اعلی
شہزادے میں
باپ کا عکس ہو _________دادا کا پرتو ہو ______ اس میں اکابرین کی جھلک ہو
خوب خوب کامیاب ہو _____تم پریشان نہ ہونا _
اپنے شہزادے کے لئے ____
ہم لوگ ہیں نا _______جب تاج اہتمام سر پر سجے گا ____تمہاری طرح ہم بھی اس کے مشیر و معین ہونگے____
ہماری خواہش تو یہی ہے کہ محفل چہلم میں ہی تاج اہتمام شہزادے کے سر پر سجا دیا جائے _________ پھر فراغت کے بعد میاں شہزادے مستقل طور پر مسند اہتمام پر بھیٹیں!
یہ خواہش صرف ہماری ہی نہیں!
بلکہ علاقے کے درجنوں اکابرین کی ہے!
سینکڑوں علماء کی ہے!
ہزاروں عوام کی ہے!
خیر تم تو ہم سب سے پہلے چلے گئے!
بڑا نصیب اور بہت دعائیں لے کر گئے!
اور اپنی عدم موجود کا بڑا غم ہم سبھوں کے لئے چھوڑ گئے!_____
تم پہلے بھی بہت یاد آتے تھے! ______
اور اب تو اس سے زیادہ یاد آؤگے! _____
حافظ نیاز سے تمہاری خیریت معلوم کرلیا کرتا تھا! _____
تمہیں فون اس لئے نہیں کرتاکہ کہیں تمہارے آرام میں خلل نہ واقع ہو______
ہمیں فون تمہیں کو کرنا تھا!

یہ بات اب سمجھ میں آئی کہ تم تو آرام ہی نہیں کرتے تھے!

ان شاء اللہ ہم بھی بہت جلد تمہارے پاس آئیں گے!

اللہ تعالیٰ تمہارے صغائر کبائر اپنے حبیب کے وسیلے بخشے اور
تم کو جنت میں عمدہ محل عطا کرے
اور تمہارے وارثین کو صبر جمیل کی دولت عطا فرمائے
آمین ثم آمین
چلتے چلتے ہم آپ کے اہل خانہ کے کو تعزیت کے پھول پیش کرتے ہیں ۔قبول فرمائیں

تمہارا سوگوار
*غلام آسی مونس پورنوی*
خادم التدریس والافتاء دارالعلوم انوار مصطفےٰ رمضان نگر تیلی باغ لکھنؤ

13/05/2023

ایک زمانہ وہ تھا کہ لوگ جب مرید ہونے کی غرض سے کسی خانقاہ میں جاتے یا کسی پیر طریقت سے مرید ہونے کا ارادہ ظاہر کرتے تو پہلے ان سے مجاہدہ کروایا جاتا، قیام اللیل کی ٹریننگ دی جاتی تھی، ممنوعات سے بچنے کا سلیقہ سمجھایا جاتا تھا، علم دین پڑھایا جاتا، الغرض کہ قلب کی صفائی کے لئے جو جو تدبیریں ہوتی انہیں اپنایا جاتا، تب کہیں جاکر اسے اجازت و خلافت کی سند دی جاتی تھی، پھر اسکے بعد زمانے میں کچھ تبدیلیاں واقع ہوئیں، حالات کے اعتبار سے خلافت اجازت، ایک عالم دین جو شریعت کے نشیب وفراز سے واقفیت رکھتے انہیں دی جانے لگی، یہاں تک تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک چلتا رہا،
مگر اس کے بعد وارد ہوا آج کا رنگین دور، جس دور میں ہم اور آپ جی رہے ہیں، ہمارے اس دورمیں اہلیان خانقاہ نے خلافت اور سجادگی کو اپنے باپ کی بپوتی سمجھ رکھا ہے،وہ اس طرح کہ اگر کوئی صاحب سجادہ ہوگا تو پیر صاحب کا بیٹا، بھتیجا، داماد وسالا، پوتا ونواسہ ہی ہوگا، اس کے علاوہ کوئی بھی سجادگی کی مسند پر ہرگز نہیں بیٹھ سکتا، اگرچہ، بیٹا بھتیجہ، بھانجہ نواسہ، پوتا داماد وسالا جاہل مطلق ہی کیوں نا ہوں،آج یہ المیہ ہندوپاک،نیپال بنگلہ دیش، کے اکثروبیشتر خانقاہوں کا ہے،مگر ابھی بھی کچھ خانقاہوں میں دین و شریعت و تصوف کا رنگ موجود ہے، اس پر کلام نہیں، مگر اکثر بیشتر خانقاہیں دین و شریعت وتصوف سے کوسوں دور ہوچکی ہیں، وہ سبھی سجادگان اپنے باپ دادا کے نام کی روٹیاں سینک سینک کر کھارہے ہیں، خانقاہ و تصوف کی آڑ میں دین فروشی کا گورکھ دھندہ بہت ہی آن بان شان سے چل رہا ہے مگر افسوس کہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں،
آج کل پیر بننا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ کوئی بھی نتھو خیرو اجازت و خلافت کی سند لے کر ایسے گھومنے لگا ہے جیسے برسات میں مینڈک نکل پڑتے ہیں، اور گندی نالیوں سے کیڑے باہر آکر شور و واویلا برپا کرتے ہیں،
شریعت نے پیر بننے کی جو شرطیں مقرر کر رکھی ہیں ان شرائط سے کسی کا کوئی لینا دینا نہیں، بس پیر بننے کے لئے صرف شہزادۂ فلاں....... اورنبیرہ فلاں.............. ہونا ہی کافی ہے،
اگرچہ وہ شہزادے اور نبیرے جاہل مطلق ہی کیوں نہ ہو، جبکہ شریعت نے پیر ہونے کے لئے چار شرطیں مقرر کیں ہیں،
امام اہل سنت مجدد دین ملت سرکار اعلیٰ حضرت نے اپنے فتاوے میں تحریر فرمایا ہے کہ پیر ہونے کے لئے چار شرطیں ہیں ان چاروں شرائط پر جو کوئی پورا اترے وہی پیر کامل ہے باقی سب ایمان کے ڈاکو ہیں،

*شرط اول* پیر سنی صحیح العقیدہ ہو، کیونکہ بدمذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک،
*شرط دوم* پیر عالم دین ہو یعنی کم از کم اتنا علم ضروری ہے کہ وہ بلا کسی کے مدد کے اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں (ماخذ) سے نکال سکتا ہو، عقائد اہل سنت سے لازمی طور پر واقف ہو، کفر واسلام، گمراہی و ہدایت کے فرق کا خوب عارف ہو،
*شرط سوم* پیر فاسق معلن نہ ہو یعنی اعلانیہ گناہ نہ کرتا ہو،
*شرط چہارم* پیر کا سلسلہ درست واسطوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو بیچ میں منقطع نہ ہو،

مگر آج کے کچھ پیر صاحبان کے لئے یہ چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتی، ان کے لئے تو بس، ان کے آباء اجداد کا پیر ہونا ہی کافی ہے، العیاذ باللہ

یہ ساری باتیں میں نے اس لئے تحریر کیں کہ آج کل ہمارے علاقے (سیمانچل) میں کچھ پیر صاحبان ڈیرا جمائے ویراجمان ہیں، پکڑ پکڑ کر لوگوں کو مرید کرتے پھر رہے، ہر تیجہ چالیسواں، دسواں، بیسواں، فاتحہ و میلاد کی محافل میں ان پیر صاحبان کی حاضری ضروری سمجھی جانے لگی ہے، اور پیر صاحب مہینوں مریدین کے گھروں کی روٹیاں شوق سے توڑ رہے ہیں، غضب تو اس وقت ہوا کہ ہمارے گاؤں کے دو تین گاؤں کے بعد ایک گاؤں میں ایک پیر صاحب نے ایسے لوگوں میں خلافت وترن کئے جو کسی لحاظ سے خلافت واجازت کے اہل نہیں، افسوس اس کا نہیں کہ پیر صاحب نے خلافت جاہلوں میں بانٹا بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ وہاں موجود ذمہ دار علماء کے ہاتھوں سے خلافت کی دستار باندھی گئی،
کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں خلافت وترن کا مخالف ہوں،
مگر جب نااہل اور جاہلوں کو یہ مقام ومنصب چاپلوسی کی بنیاد پر دی جاتی ہے تو درد کا احساس تو ہوتا ہے، اور ہرایک صاحب بصیرت کو اس دردکا احساس ہونا چاہئے، اور اس قسم کے خرافات کا علی الاعلان بائیکاٹ بھی، تاکہ لوگوں کو یہ تو پتہ چلے کہ دین و مذہب کی تعلیمات کیا ہیں، اور کس پیر سے شرف بیعت حاصل کرنے میں دارین کی سعادتیں حاصل ہوسکتی ہے، یہ ہمارا فریضۂ منصبی
اللہ تعالی ہم سب کو ان فتنوں سے بچائے، اور ہمارے ایمان کو ان ڈاکوؤں سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین،

از-: غلام آسی مونس پورنوی /مقیم حال بائسی پورنیہ بہار
22/شوال المکرم 1444 ھ

06/04/2023

کیا مال زکوۃ کے مستحق صرف غریب رشتے دار ہیں؟
کیا اس میں مدارس کا حصہ نہیں؟
___________________________________________

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی زکوۃ فطرات صدقات اور دیگر عطیات اپنے غریب رشتہ داروں کو ہی دیتے ہیں، دارالعلوم، اور جامعات اور دینی اداروں کو اس کی ضرورت بالکل نہیں، انہیں چاہیۓ کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے انتقال کے بعد انہیں رشتے داروں سے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کروائیں ، انہیں رشتہ داروں سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی نماز جنازہ پڑھوائیں، اور انہیں سے نکاح بھی پڑھوائیں ، اور بچے کی پیدائش پر انہیں سے بچے کے کان میں اذان بھی دلوائیں، اور اگر کوئی مصیبت آپڑے تو انہیں رشتہ داروں سے سے دعا تعویذ بھی کروائیں،جو اس طرح کی مانسکتا کے لوگ ہیں انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے کسی بھی کام کے لئے لیے مدرسوں کے دروازے کھٹکھٹائیں، اور علماء سے کسی بھی قسم کا کوئی کام لیں
اور ان رشتہ داروں کو بھی سوچنا چاہئے کہ آپ کے رشتہ دار آپ کو صرف اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی زکوۃ تمہیں دیکر واہ واہی حاصل کریں، اور آپ پر احسان بھی جتلائیں، اگر امداد ہی مقصد ہو تو صرف رمضان میں زکوۃ و فطرات و صدقات سے ہی کیوں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ آپ رشتہ داروں کو مال زکوۃ و فطرات و عطیات نہیں دے سکتے، بالکل دے سکتے ہیں اورحق قربت ادا کرسکتے ہیں، میرا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ جہاں ایک مسلمان ہونے کے ناطے آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے رشتہ داروں کی عزیزو اقارب کی امداد و اعانت کریں وہیں آپ پر یہ فریضہ بھی عائد ہوتا ہے کہ آپ مدارس اسلامیہ کو بھی مایوس نہ کریں، مدارس کی زبوں حالی کے سدباب کی ذمہ داری بحیثیت مسلمان آپ پر بھی ہے،
یاد رکھیں مدارس اسلامیہ کا پورا دارومدار رمضان المبارک پرہی ہوتا ہے اسی رمضان المبارک کی آمدنی سے سے اہل مدارس طالبان علوم نبویہ کی پرورش کرتے ہیں، اور انہیں پڑھاتے لکھتے ہیں، ان کی سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، اور انہیں قوم کی رہنمائی کے لیے تیار کرتے ہیں، یقیناً اہل خیر اس ماہ مبارک میں دل کھول کر مدارس اسلامیہ کی امداد کرتے ہیں، تاکہ دین و مذہب کے قلعے مضبوط سے مضبوط ہوں اور اسلام کی حفاظت کے لیے قابل اور باصلاحیت محافظین تیار کیے جائیں،اگر ان موسموں میں مدارس اسلامیہ کا خیال نہ رکھا گیا تو دین و مذہب کے یہ قلعے کمزور ہو جائیں گے، اور اسلام اور اہل اسلام کو اچھا خاصا خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا، ذرا تصور کریں کہ اگر مدارس اسلامیہ کمزور ہوگئے تودین و ملت کا کام کیسے چلے گا، مساجد کو امام کہاں سے ملے گا، اور مدارس اسلامیہ کی درسگاہیں بارونق کیسے رہیں گی، اور دارالافتاء کی بہاریں کیسے برقرار رہیں گی، ملت اسلامیہ کے افراد کے ایمان پر حملہ کرنے والوں سے ڈٹ کر مقابلہ کون کرےگا،یاد رکھیں جس طرح زندہ رہنے کے لئے جسم میں خون کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح اللہ و رسول کے احکام کی ترجمانی اور دین متین کی نشر اشاعت کے لئے مدارس اسلامیہ کا مضبوط ہونا اور رہنا ضروری، اسی لئےآپ سے گذارش ہے کہ آپ اپنے اپنے علاقے کے مدارس و جامعات کی بھرپور تعاون فرماکر دین متین کے قلعوں کو مضبوطی فراہم کریں اور عنداللہ ماجور ہوں،

غلام آسی مونس پورنوی
شب15 رمضان المبارک 1444کیا مال زکوۃ کے مستحق صرف غریب رشتے دار ہیں؟
کیا اس میں مدارس کا حصہ نہیں؟
___________________________________________

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنی زکوۃ فطرات صدقات اور دیگر عطیات اپنے غریب رشتہ داروں کو ہی دیتے ہیں، دارالعلوم، اور جامعات اور دینی اداروں کو اس کی ضرورت بالکل نہیں، انہیں چاہیۓ کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے انتقال کے بعد انہیں رشتے داروں سے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کروائیں ، انہیں رشتہ داروں سے اپنی اور اپنے گھر والوں کی نماز جنازہ پڑھوائیں، اور انہیں سے نکاح بھی پڑھوائیں ، اور بچے کی پیدائش پر انہیں سے بچے کے کان میں اذان بھی دلوائیں، اور اگر کوئی مصیبت آپڑے تو انہیں رشتہ داروں سے سے دعا تعویذ بھی کروائیں،جو اس طرح کی مانسکتا کے لوگ ہیں انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے کسی بھی کام کے لئے لیے مدرسوں کے دروازے کھٹکھٹائیں، اور علماء سے کسی بھی قسم کا کوئی کام لیں
اور ان رشتہ داروں کو بھی سوچنا چاہئے کہ آپ کے رشتہ دار آپ کو صرف اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی زکوۃ تمہیں دیکر واہ واہی حاصل کریں، اور آپ پر احسان بھی جتلائیں، اگر امداد ہی مقصد ہو تو صرف رمضان میں زکوۃ و فطرات و صدقات سے ہی کیوں؟
میں یہ نہیں کہتا کہ آپ رشتہ داروں کو مال زکوۃ و فطرات و عطیات نہیں دے سکتے، بالکل دے سکتے ہیں اورحق قربت ادا کرسکتے ہیں، میرا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ جہاں ایک مسلمان ہونے کے ناطے آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے رشتہ داروں کی عزیزو اقارب کی امداد و اعانت کریں وہیں آپ پر یہ فریضہ بھی عائد ہوتا ہے کہ آپ مدارس اسلامیہ کو بھی مایوس نہ کریں، مدارس کی زبوں حالی کے سدباب کی ذمہ داری بحیثیت مسلمان آپ پر بھی ہے،
یاد رکھیں مدارس اسلامیہ کا پورا دارومدار رمضان المبارک پرہی ہوتا ہے اسی رمضان المبارک کی آمدنی سے سے اہل مدارس طالبان علوم نبویہ کی پرورش کرتے ہیں، اور انہیں پڑھاتے لکھتے ہیں، ان کی سہولیات کا انتظام کرتے ہیں، اور انہیں قوم کی رہنمائی کے لیے تیار کرتے ہیں، یقیناً اہل خیر اس ماہ مبارک میں دل کھول کر مدارس اسلامیہ کی امداد کرتے ہیں، تاکہ دین و مذہب کے قلعے مضبوط سے مضبوط ہوں اور اسلام کی حفاظت کے لیے قابل اور باصلاحیت محافظین تیار کیے جائیں،اگر ان موسموں میں مدارس اسلامیہ کا خیال نہ رکھا گیا تو دین و مذہب کے یہ قلعے کمزور ہو جائیں گے، اور اسلام اور اہل اسلام کو اچھا خاصا خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا، ذرا تصور کریں کہ اگر مدارس اسلامیہ کمزور ہوگئے تودین و ملت کا کام کیسے چلے گا، مساجد کو امام کہاں سے ملے گا، اور مدارس اسلامیہ کی درسگاہیں بارونق کیسے رہیں گی، اور دارالافتاء کی بہاریں کیسے برقرار رہیں گی، ملت اسلامیہ کے افراد کے ایمان پر حملہ کرنے والوں سے ڈٹ کر مقابلہ کون کرےگا،یاد رکھیں جس طرح زندہ رہنے کے لئے جسم میں خون کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح اللہ و رسول کے احکام کی ترجمانی اور دین متین کی نشر اشاعت کے لئے مدارس اسلامیہ کا مضبوط ہونا اور رہنا ضروری، اسی لئےآپ سے گذارش ہے کہ آپ اپنے اپنے علاقے کے مدارس و جامعات کی بھرپور تعاون فرماکر دین متین کے قلعوں کو مضبوطی فراہم کریں اور عنداللہ ماجور ہوں،

غلام آسی مونس پورنوی
شب15 رمضان المبارک 1444

Want your school to be the top-listed School/college in Purnea?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Purnea