21/11/2023
*شہزادۂ علمبردار اہل سنت حضرت مولانا محمد کاظم رضا وجد نعیمی کا انتقال امت مسلمہ کا ایک عظیم خسارا،مصروفیات کی وجہ سے کچھ تو نہ لکھ سکا مگر کچھ قلبی کیفیت صفحٔہ قرطاس پر نقل کررہاہوں نئے اسلوب پر*
_________________________
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
کہاں ہو تم،
درسگاہ میں!
وہاں بھی نہیں!
اوہ کچھ مریض آئے ہونگے انہیں دیکھ رہے ہیں!
وہ مسند بھی خالی ہے!
احباب کا حلقہ بھی نہیں!
نہیں نہیں ابھی کچھ دیر بعد حلقۂ احباب کا وجود ہوگا!
بزم سجے گی!
چائے نوشی کا دور چلے!
تنظیم میں سناٹا کیوں ہے؟
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
طلباء و اساتذہ اداس کیوں ہیں!
اساتذہ کے اداس چہرے کس کا اشارہ دے رہیں!
وہ بھیڑ بھاڑ!
وہ رنگ و رونق!
وہ مسکراہٹوں کا بازار!
وہ محفل مریضاں کا ہجوم!
وہ آہ کے نالوں کی دلخراش آوازیں!
وہ تسلی دینے والی صدائیں !
آج پردۂ سماعت سے نہیں ٹکرا رہی ہیں!
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
ملنے جلنے والوں کی کوئی آمد بھی نہیں!
تنظیم میں اس قدر سناٹا تو کبھی دیکھا نہیں؟
ارے بھیٔ بتاؤ بھی تو
*کیا ہوگیا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے ہائے
چمن اجڑ گیا
کلیاں مرجھا گئیں
پھولوں کی رنگینیاں ختم ہوگئیں!
کوئلوں نے کوکنا بند کردیا!
رفتار زندگی نے سستی اختیار کرلی!
نقشۂ عہد وفا ذہن کے تصویر خانے سے غائب ہوگیا!
پرندوں کی پروازیں تھم گئیں ہیں !
بازوں نے اڑان ترک کرکے زمین پر اترنا شروع کردیا ہے!
پروان و مہانندا کے تلاطم میں سستی کے آثار نمایاں ہیں!
یہ کس چیز کا پتہ دے رہی ہیں؟
یہ سب کچھ اچانک کیوں ہورہا ہے؟
*کیا ہوا کچھ ہوگیا ہے کیا؟*
اس گلابی موسم میں گرمی کا احساس!
دل کی ڈھرکنوں کی تیز رفتاری
بائسی کی گلیاں سسنان ہیں!
اچانک یہ اندھیرے کیوں برپا ہوگئے؟
کوئی چراغ تو جلاؤ،
کیابات ہے؟
چراغ بھی جلنے کو تیار نہیں!
نہیں نہیں یہ چراغ جلیں گے!
ان کی باتییاں دیکھ لو!
شاید باتییاں ختم ہوگئیں ہوں!
چراغ میں تو باتیاں بھی ہیں!
پھریہ جل کیوں نہیں رہے ہیں؟
مجھے ان کی باتیوں میں نمی کا احساس ہورہا ہے!
کہیں یہ رو تو نہیں رہے ہیں؟
کیسی باتیں کررہے ہو؟
کہیں چراغ بھی روتے ہیں؟
جی ہاں روتے ہیں!
یہ چراغ ہی کیا!
شمش وقمر بھی روتا ہے!
موسم بہار میں خزاں بھی آتے ہیں!
رفتار زندگانی تھم بھی جاتی ہے!
پھول خوشبوؤں کا لباس اتار دیتے ہیں!
پرندے اپنی اپنی پروازیں بند کر کے آہ و بکا میں مشغول ہوجاتے ہیں!
گلیاں اداس رہنے لگتی ہیں!
درودیوار روتے ہیں! سارا جہاں روتا!
اپنے اور بیگانے سبھی آہ آہ کرتے ہیں!
محفل یاراں میں سناٹا پسر جاتا ہے!
مئے خانے ویران ہوجاتے ہیں!
بادہ خوروں کو مئے کی طلب نہیں ہوتی!
مسیحائے زماں مریضوں سے اپنے دستہائے مسیحائی اٹھا لیتے ہیں؟
گلابی موسم میں باد سموم کے جھونکے بھی آتے ہیں!
چمنستان کے زرق وبرق اپنی تباہی کی نشاندہی کرتے ہیں!
دسمبر کی سردی میں بنا وجہ پسینے کی دھار نکلتی ہے!
بنا کمزوری کے چکر بھی آتا ہے!
الغرض وہ تمام ہوتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیے!
یہ کب ہوتا ہے!
جب کسی کا سب کچھ لٹا جاتا!
دیکھو پریشان نہ کرو
دل بیٹھا جارہا ہے!
دماغ کی نسوں نے تننا شروع کردیا ہے!
جلدی جلدی بتاؤ یہ کب ہوتا ہے!
*جلدی بتاؤ کچھ ہوگیا ہے کیا؟* اگر سننا ہی چاہتے ہو تو سنو!
ویسے تو بتاناہی پڑے گا!
ہم نہیں بتائیں گے تو کوئی اور بتائے دےگا!
دارالعلوم تنظیم المسلمین بائسی کے مہتمم مولانا کاظم رضا وجد نعیمی اب ہمارے درمیان نہ رہے!
انا للہ وانا الیہ راجعون
ککککککککک کیا!
اللہ اکبر
کیسے؟
یہ تو مرضیٔ مولیٰ تھی
ہرایک کو جانا ہے!
پھر واپس نہیں آنا ہے!
کیوں چلے گئے اتنی جلدی!
کیا ہم سب کا خیال نہیں کیا!
خیال تو کیا ہوگا!
مگر بلاوا ہی ایسے دربار سے تھا!
جہاں کسی کی مرضی نہیں چلتی!
چلتی ہے تو صرف اسی کی!
جس کے لئے تمام تعریفیں ہیں!
جوتمام کائنات کا مالک و پروردگار ہے!
ملک عدم کا سفر اتنی جلدی!
کاش کچھ دن اور رکتے!
کاش آپ کایا سایہ کچھ دن اور ہمارے سروں پر ہوتا!
ایسے ملنسار ____عہد وفا کا ضامن _______الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس کی تفسیر جمیل، _______باپ جیسا شفیق، _____بھائی جیسا رفیق_______ حلقۂ احباب کا سردار ________مسافران دین و دنیا کا قافلۂ سالار ______انجمن کی زینت _____بے لوث محبت کا تاجدار _______سادگی میں یکتائے زماں ______منکسرالمزاج ____عفو وحلم شہزادہ ____ اتنی جلدی اس دارفانی کو خیر آباد کہہ گیا!
بھئ یقین نہیں ہورہا ہے؟
تمہیں کیا کسی کو بھی یقین نہیں آتا!
آہ مولانا کاظم آہ آپ اتنی جلدی رحمۃ اللہ علیہ ہوگئے!
ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا!
تم سے ہم نے مسکراہٹ کا انداز سیکھا!
ضبط غضب کا ہنر جانا!
اخلاقی پاکیزگی کا سلیقہ سیکھا!
دست شفقت فرمانے کی تہذیب سیکھی!
حسن سلوک کا میعار جانا!
ادارے کے اساتذہ سے برتاؤ کا طرق معلوم کیا!
رشتے داری نبھانے کا ڈھنگ جانا!
اصاغر نوازی کے چشمے کا پتہ معلوم کیا!
وغیرہ وغیرہ
کاش کچھ دنوں اور رکتے تو تمہارے اصاغر کو تمہارے نشان قدم کی صحیح پہچان آجاتی!
ابھی تو آپ کو بہت کچھ کرنا تھا!
بہت کچھ دیکھنا تھا!
کم از کم ایک سال اور رہ جاتے
تو شہزادے کو بصورت عریس ملاحظہ فرما لیتے!
گلستان زیست کی بہاروں سے لطف اندوز ہوتے!
اتنی جلدی گئے کہ!
قلب کی نیک خواہشات باہر کا راستہ نہ دیکھ سکی،
دل کے ارمانوں کا جنازہ تمہارے ساتھ دل ہی میں دفن ہوکر رہ گیا!
تم تو چلے مگر بہت سے ادھورے کام چھوڑ گئے!
مگر جانے والوں کو کون روک سکتا!
روکنا بھی چاہے تو نہیں روک سکتا!
کیونکہ یہ کسی کے بس میں ہے ہی نہیں!
جب بلاوا آتا ہے تو جانا پڑتا ہے!
خیر تمہارے ادھورے کام کی تکمیل میاں شہزادے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے!
آپ نے اسے تو اس قابل تو بنا ہی دیا ہے!
کہ وہ باپ دادا کی وراثت کی نگہبانی کرسکیں!
یقیناً کریں گے اور ضرور کریں گے!
کیونکہ وہ ابھی بالکل نوجوان ہے!
اس کی فکر جوان ہے ____حوصلے جوان ہیں____ پرواز کے لئے جوش پرواز ہے _____ صحیح غلط کی تمیز ہے ____تعلیم اچھی ہے____تعلیم گاہ میعاری ہے _____اس تعلیم گاہ کی خاصیت ہی سب سے الگ _____وہاں سے جو نکلتا ہے _______اپنے آپ میں کچھ نا کچھ بن کر نکلتا ہے ______شہزادے نے اپنے مقام کا تعین ہی خود اعلی معیار کا بنایا ہے ______کیونکہ اسے یہ معلوم تھا اور ہے کہ اسے اپنے باپ دادا کی وراثت کی نگہبانی کرنی ہے!
ہم تو دعا کرتے ہیں مولیٰ میاں شہزادے کو عروج و ارتقاء کی وہ منزل عطا کرے جو تم دیکھنا چاہتے تھے،
اس سے بھی کہیں اعلی
شہزادے میں
باپ کا عکس ہو _________دادا کا پرتو ہو ______ اس میں اکابرین کی جھلک ہو
خوب خوب کامیاب ہو _____تم پریشان نہ ہونا _
اپنے شہزادے کے لئے ____
ہم لوگ ہیں نا _______جب تاج اہتمام سر پر سجے گا ____تمہاری طرح ہم بھی اس کے مشیر و معین ہونگے____
ہماری خواہش تو یہی ہے کہ محفل چہلم میں ہی تاج اہتمام شہزادے کے سر پر سجا دیا جائے _________ پھر فراغت کے بعد میاں شہزادے مستقل طور پر مسند اہتمام پر بھیٹیں!
یہ خواہش صرف ہماری ہی نہیں!
بلکہ علاقے کے درجنوں اکابرین کی ہے!
سینکڑوں علماء کی ہے!
ہزاروں عوام کی ہے!
خیر تم تو ہم سب سے پہلے چلے گئے!
بڑا نصیب اور بہت دعائیں لے کر گئے!
اور اپنی عدم موجود کا بڑا غم ہم سبھوں کے لئے چھوڑ گئے!_____
تم پہلے بھی بہت یاد آتے تھے! ______
اور اب تو اس سے زیادہ یاد آؤگے! _____
حافظ نیاز سے تمہاری خیریت معلوم کرلیا کرتا تھا! _____
تمہیں فون اس لئے نہیں کرتاکہ کہیں تمہارے آرام میں خلل نہ واقع ہو______
ہمیں فون تمہیں کو کرنا تھا!
یہ بات اب سمجھ میں آئی کہ تم تو آرام ہی نہیں کرتے تھے!
ان شاء اللہ ہم بھی بہت جلد تمہارے پاس آئیں گے!
اللہ تعالیٰ تمہارے صغائر کبائر اپنے حبیب کے وسیلے بخشے اور
تم کو جنت میں عمدہ محل عطا کرے
اور تمہارے وارثین کو صبر جمیل کی دولت عطا فرمائے
آمین ثم آمین
چلتے چلتے ہم آپ کے اہل خانہ کے کو تعزیت کے پھول پیش کرتے ہیں ۔قبول فرمائیں
تمہارا سوگوار
*غلام آسی مونس پورنوی*
خادم التدریس والافتاء دارالعلوم انوار مصطفےٰ رمضان نگر تیلی باغ لکھنؤ