Saqiب Khaن

Saqiب  Khaن 🤲Alhamdulillah
"Just enjoy the life, we will never be young again."
🥀 ٹوٹے لفظ، سچے احساس
🖤 جو کہا نہ جا سکا، وہ یہاں لکھ دیا🫴

لیکن نیچے صاحب بڑے سکون سے گھاس پر لیٹے ہوئے ہیں۔ 😂
21/09/2026

لیکن نیچے صاحب بڑے سکون سے گھاس پر لیٹے ہوئے ہیں۔ 😂

مخلص انسان کی قدر ہر کسی کو نہیں ہوتی، ❤️‍🩹کچھ لوگ ہیرے کو بھی پتھر سمجھ کر کھو دیتے ہیں۔ 🥀
17/09/2026

مخلص انسان کی قدر ہر کسی کو نہیں ہوتی، ❤️‍🩹
کچھ لوگ ہیرے کو بھی پتھر سمجھ کر کھو دیتے ہیں۔ 🥀

21/08/2026

نہ دولت کی خواہش، نہ شہرت کا شوق...
بس ایک آرزو ہے،
میرے پاس کتابوں کا ایسا خزانہ ہو
کہ ہر دن ایک نئی کتاب اور ہر رات ایک نئی غزل میرا انتظار کرے۔

20/08/2026

رات تنہا تھی، ستارے بھی پریشان لگے،
جیسے سب کو کوئی اپنا یاد آیا ہوگا۔

19/08/2026

"مجھے وقت لگا یہ سمجھنے میں کہ؛ میرا سب کے ساتھ اچھا ہونا میرے لیے اچھا نہیں!" 🙂🥀

Old days, real friends. 🫶
05/08/2026

Old days, real friends. 🫶

31/07/2026

گولی تو مت چلا ئیے سرکار بس کریں
ہم کو معاف کیجئے اس بار بس کریں

بندوق رکھ کے سینے پہ کہتے ہو ، اب بتا
یعنی یہی ہے اپ کا معیار بس کر

کردار پر ہمارے نہ انگلی اٹھائیے
ہم جانتے ہیں اپ کا کردار بس کریں

کتنے سہاگ اجڑ گئے کتنے ہوئے تباہ
کتنوں کی جان لینی ہے سرکار بس کریں

یا اللہ کشمیریوں کے لیے آسانیاں عطا فرما ! امین ثم امین

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں چند دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں...
15/06/2026

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں چند دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سیاہ چشم تو دیکھے ہیں پر نہ ایسے بھی
کہ سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے ہرن اس کو دشت بھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں طواف کرتی ہیں اس کا
چلے تو اسکو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے، تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فــــــراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں

احمد فــــــــراز

02/05/2026

ناجانے وہ شبنمی آنکھوں والی اب کیسی دِکھتی ہوگی۔
وہ دُکھوں میں، نم آنکھوں کے ساتھ،
نجانے اب کس کے پہلو میں پناہ گزیر ہوگی۔🕊️

Address

Poonch

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saqiب Khaن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share