Nayab rahman

Nayab rahman Urdu Adab | Shayari | Soch

Yeh platform un logon ke liye hai jo alfaaz ki asal qeemat samajhte hain.

Yahan Urdu adab ke mukhtalif pehlu—adeebon ki zindagi, shayari ki samajh, aur alfaaz ke peeche chhupi soch—asaan aur moassar andaaz me bayan ki jaati

06/09/2026

Urdu ke lafz "Niam-ul-Badal" (نِعْمَ الْبَدَل) aur aapke sher ke hisab se ek perfect caption aur hashtags niche diye gaye hain. Aap seedhe ise copy-paste kar sakte hain:
Urdu mein ek lafz hai, "Niam-ul-Badal"—kisi khoyi hui cheez ki jagah par us jaisi hi kisi cheez ka mil jaana. ✨
Humne maana ki waqt marham hai,
Par ye zakhto’n ka hal nahi saahib,
Lakh duniya mehaata aa jaye,
Uska niam-ul-badal nahi saahib. 🍂

20/07/2026

Hath Main Maqtool ke Zanjeer Likh dena

19/07/2026

Yaqeen mano ki hum inqilab layenge, jo nafraton ke diye hain unhe bujhayenge..."
Aaj desh ke halaat dekh kar dil dukhda hai. Jantar Mantar par Sonam Wangchuk ji aur unke sath aaye logo ke sath jo bartaav hua, wo loktantra (democracy) me chinta ka vishay hai. Ek shayar aur ek nagrik hone ke naate, meri ye nazm un sabhi ke naam hai jo apni zameen aur haq ke liye lad rahe hain.
Jab tak zinda hain, sach kehte rahenge aur sir nahi jhukayenge. Is video ko zyada se zyada share karein taaki ye aawaz har kone tak pahunche.

19/07/2026

Tumhare Saamne Ham Sir Nhi Jhukaynge..." ✊🔥

Jab haq ki aawaz uthane walon ko hi khamosh karne ki koshish ki jaye, toh shayar ka qalam chup nahi baith sakta. Jantar Mantar se lekar Ladakh ki zameen tak, jo ho raha hai wo sirf ek shakhs ka dard nahi, pure desh ka masla hai.
Haq ki is ladaai me shabdo ka inqilab zaruri hai. Aapka kya kehna hai is mudde par? Comments me batayein aur is aawaz ko aage badhayein.

Nayab Rahman

مرد: الزام، ذمہ داری اور تنہائیبانو قدسیہ سے ایک اختلافمصنف: نایاب رحمٰن بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھنے والے کے دل پ...
14/06/2026

مرد: الزام، ذمہ داری اور تنہائی

بانو قدسیہ سے ایک اختلاف

مصنف: نایاب رحمٰن

بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھنے والے کے دل پر دستک نہیں دیتیں بلکہ اس کے اندر اتر جاتی ہیں۔

بانو قدسیہ کا نام بھی انہی قلم کاروں میں شمار ہوتا ہے جن کے لفظ صرف لفظ نہیں ہوتے بلکہ سوچ کی ایک پوری دنیا اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔

میں نے بانو قدسیہ کا وہ اقتباس پڑھا جس میں وہ عورت کے گرد بکھری ہوئی چیزوں کا ذکر کرتی ہیں۔

وہ لکھتی ہیں:

"عورت کے گرد و نواح میں کتنے بکھرے ہیں۔ عورت کا لباس، عورت کی آواز، عورت کے ہاتھ پاؤں، عورت کی شکل و صورت، اس کی تعلیم، اس کا خاندان، اس کا مستقبل..."

میں نے یہ اقتباس پڑھا۔

دوبارہ پڑھا۔

پھر تیسری بار پڑھا۔

اور پھر ایک سوال میرے دل میں پیدا ہوا۔

اگر عورت کے گرد اتنی چیزیں بکھری ہوئی ہیں تو مرد کے گرد کیا بکھرا ہوا ہے؟

کیا اس کے گرد کوئی ملبہ نہیں؟

کیا اس کی روح پر کوئی بوجھ نہیں؟

کیا اس کے سینے میں کوئی قبرستان آباد نہیں؟

یا پھر اس کے زخم اتنے پرانے ہو چکے ہیں کہ اب کسی کو دکھائی ہی نہیں دیتے؟

مجھے لگتا ہے مسئلہ یہ نہیں کہ بانو قدسیہ نے عورت کا درد بیان کیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ مرد کا درد بیان ہی نہیں کیا گیا۔

دنیا نے عورت کے زخموں کی گنتی سیکھی۔

مرد کے زخموں کی نہیں۔

دنیا نے عورت کے آنسوؤں کو ادب بنایا۔

مرد کے آنسوؤں کو کمزوری۔

دنیا نے عورت کے خوف کو سمجھنے کی کوشش کی۔

مرد کے خوف کو ذمہ داری کا نام دے دیا۔

اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں انصاف کا ترازو آہستہ آہستہ ایک طرف جھکنے لگا۔

ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں:

"مبارک ہو، بیٹا ہوا ہے۔"

کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس نومولود کے کان میں اذان کے ساتھ ساتھ ایک اور اعلان بھی سرگوشی کر دیا گیا ہے۔

تمہیں رونا نہیں ہے۔

تمہیں ٹوٹنا نہیں ہے۔

تمہیں ہارنا نہیں ہے۔

تمہیں کمانا ہے۔

تمہیں سہارا بننا ہے۔

تمہیں مضبوط رہنا ہے۔

تمہیں مرتے دم تک مضبوط رہنا ہے۔

اور عجیب بات یہ ہے کہ اس معاہدے پر اس بچے نے کبھی دستخط بھی نہیں کیے ہوتے۔

بچپن میں وہ گرتا ہے۔

کہا جاتا ہے:

"لڑکے روتے نہیں۔"

جوانی میں دل ٹوٹتا ہے۔

کہا جاتا ہے:

"اتنی سی بات پر پریشان ہو گئے؟"

نوکری نہ ملے تو کہا جاتا ہے:

"کسی کام کے نہیں ہو۔"

شادی نہ ہو تو کہا جاتا ہے:

"ابھی تک سیٹل نہیں ہوئے؟"

اور اگر کبھی وہ اپنے دل کی بات کہہ دے تو کہا جاتا ہے:

"مرد بنو۔"

میں سوچتا ہوں...

آخر مرد کب انسان بنے گا؟

کیونکہ بچپن سے بڑھاپے تک اسے صرف مرد بننے کا حکم ملا ہے۔

انسان بننے کی اجازت نہیں۔

آج کا سماج عجیب سماج ہے۔

یہاں مرد کے لیے محبت بھی مشروط ہے۔

احترام بھی مشروط ہے۔

قبولیت بھی مشروط ہے۔

اگر تم کامیاب ہو تو لوگ تمہیں سلام کریں گے۔

اگر تم ناکام ہو جاؤ تو وہی لوگ تمہاری طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیں گے۔

ایک عورت اگر مالی طور پر کمزور ہو تو لوگ اس کے لیے ہمدردی محسوس کرتے ہیں۔

ایک مرد اگر مالی طور پر کمزور ہو تو لوگ اس کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

یہ تلخ حقیقت ہے۔

ممکن ہے کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے۔

لیکن حقیقت اکثر ناگوار ہی گزرتی ہے۔

میں نے اپنی زندگی میں بے شمار عورتوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ معاشرہ ان پر دباؤ ڈالتا ہے۔

اور میں مانتا ہوں کہ کئی جگہوں پر واقعی ایسا ہوتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا معاشرہ مرد پر دباؤ نہیں ڈالتا؟

کیا ایک متوسط طبقے کے نوجوان کی راتیں آسان ہوتی ہیں؟

کیا وہ اپنے باپ کی بڑھتی عمر نہیں دیکھتا؟

کیا وہ اپنی بہن کی شادی کی فکر نہیں کرتا؟

کیا وہ اپنی ماں کی دواؤں کا حساب نہیں لگاتا؟

کیا وہ اپنی جیب اور خوابوں کے درمیان روزانہ جنگ نہیں لڑتا؟

اگر یہ سب دباؤ نہیں تو پھر دباؤ کسے کہتے ہیں؟

یہاں ایک اور عجیب تضاد پیدا ہوتا ہے۔

جب ایک عورت ناکام ہوتی ہے تو بعض لوگ فوراً کہتے ہیں:

"کیونکہ وہ عورت ہے۔"

لیکن جب ایک مرد ناکام ہوتا ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا:

"کیونکہ وہ مرد ہے۔"

اسے ناکام، نالائق، کمزور اور بے کار کہا جاتا ہے۔

گویا مرد کی ناکامی اس کی اپنی ناکامی ہے۔

اور عورت کی ناکامی پورے سماج کی ناکامی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ عورتوں کے مسائل نہیں ہیں۔

ہرگز نہیں۔

میں صرف یہ پوچھتا ہوں کہ مردوں کے مسائل پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

آخر کیوں ہر بحث میں ایک فریق کا درد دکھائی دیتا ہے اور دوسرے کا درد پس منظر میں چلا جاتا ہے؟

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو اور واضح کر دیا ہے۔

میں نے بارہا دیکھا ہے کہ اگر کوئی مرد کوئی نامناسب بات کہہ دے تو پورا معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔

اور ہونا بھی چاہیے۔

غلط بات غلط ہی ہوتی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ جب کوئی عورت مردوں کے بارے میں توہین آمیز عمومی جملے کہتی ہے تو کیا وہی ردعمل سامنے آتا ہے؟

کیا وہی غصہ دکھائی دیتا ہے؟

کیا وہی اخلاقی معیار نافذ ہوتے ہیں؟

اکثر نہیں۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف کمزور پڑنے لگتا ہے۔

کیونکہ انصاف کا مطلب صرف سزا دینا نہیں۔

انصاف کا مطلب ایک ہی پیمانہ سب کے لیے استعمال کرنا ہے
شاید ہمارے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔

بلکہ یہ ہے کہ لوگ صرف وہی سچ سنتے ہیں جو ان کے نظریے کو مضبوط کرتا ہو۔

اگر عورت روئے تو معاشرہ پوچھتا ہے:

"کس نے تکلیف دی؟"

اور اگر مرد روئے تو معاشرہ پوچھتا ہے:

"اتنے کمزور کیوں ہو؟"

یہی وہ لمحہ ہے جہاں انصاف مرنے لگتا ہے۔

کیونکہ انصاف اس وقت زندہ رہتا ہے جب انسان کے آنسو دیکھے جائیں، جنس کے نہیں۔

آج ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں ہمدردی بھی شناختوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

کچھ آنسو مقدس قرار دیے جا چکے ہیں۔

اور کچھ آنسو ابھی تک اپنی شناخت کے منتظر ہیں۔

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایک لڑکے کو اگر موٹا، کالا، پستہ قد، گنجا یا بدصورت کہا جائے تو محفل قہقہوں سے بھر جاتی ہے۔

لوگ کہتے ہیں:

"یار مذاق تھا۔"

"دل پر کیوں لے لیا؟"

"مرد بنو۔"

لیکن اگر یہی جملے کسی عورت کے لیے کہے جائیں تو فوراً انہیں Body Shaming قرار دیا جاتا ہے۔

میں پوچھتا ہوں:

اگر کسی انسان کے جسم کا مذاق اڑانا غلط ہے تو دونوں کے لیے غلط کیوں نہیں؟

اگر عزت صرف عورت کا حق ہے تو مرد کیا ہے؟

اور اگر عزت ہر انسان کا حق ہے تو پھر معیار دو کیوں ہیں؟

یہی دوہرے معیار آہستہ آہستہ معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

کیونکہ ناانصافی صرف ظلم سے پیدا نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی ناانصافی ترجیحی ہمدردی سے بھی پیدا ہوتی ہے۔

نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان اپنی تکلیف کو دوسروں کی تکلیف سے زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔

اسے Self-Serving Bias کہا جاتا ہے۔

انسان اپنی ناکامیوں کی وجوہات باہر تلاش کرتا ہے اور اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ خود لے لیتا ہے۔

یہ رجحان مردوں میں بھی ہوتا ہے۔

عورتوں میں بھی۔

لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک پورا معاشرہ ایک فریق کو صرف مظلوم اور دوسرے فریق کو صرف ظالم سمجھنے لگے۔

کیونکہ پھر حقیقت مر جاتی ہے۔

اور نظریات زندہ رہ جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ظالم مرد بھی ہوتے ہیں۔

ظالم عورتیں بھی ہوتی ہیں۔

مظلوم مرد بھی ہوتے ہیں۔

مظلوم عورتیں بھی ہوتی ہیں۔

لیکن نظریات کو حقیقت سے زیادہ آسان کہانیاں پسند ہوتی ہیں۔

اسی لیے آج بھی بے شمار مرد اپنی خاموشی کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

دنیا مرد سے کہتی ہے:

اپنے آپ کو بہتر بناؤ۔

زیادہ کماؤ۔

زیادہ مضبوط بنو۔

زیادہ کامیاب بنو۔

زیادہ برداشت کرو۔

زیادہ قربانیاں دو۔

زیادہ ذمہ دار بنو۔

اور مرد پوری زندگی یہی کرتا رہتا ہے۔

وہ اپنے آپ کو بہتر بنانے میں لگا رہتا ہے۔

اپنی خواہشات قربان کرتا ہے۔

اپنی نیند بیچتا ہے۔

اپنی جوانی خرچ کرتا ہے۔

اپنی صحت داؤ پر لگاتا ہے۔

اپنی خوشیاں مؤخر کرتا ہے۔

اور پھر بھی اکثر اسے یہی سننے کو ملتا ہے کہ:

"تم کافی نہیں ہو۔"

شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے مرد محبت سے زیادہ قبولیت تلاش کرتے ہیں۔

وہ ایسی جگہ تلاش کرتے ہیں جہاں ان سے یہ نہ پوچھا جائے کہ ان کے پاس کیا ہے۔

بلکہ یہ پوچھا جائے کہ وہ کیسے ہیں۔

مگر ایسی جگہیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔

اسی لیے مردوں کی تنہائی بڑھ رہی ہے۔

اسی لیے ان کے دلوں میں اندھیرے بڑھ رہے ہیں۔

اور اسی لیے ان کے قبرستان آباد ہو رہے ہیں۔

ایسے قبرستان جن میں جسم نہیں دفن ہوتے۔

خواب دفن ہوتے ہیں۔

جذبات دفن ہوتے ہیں۔

امیدیں دفن ہوتی ہیں۔

اور کبھی کبھی پورا انسان دفن ہو جاتا ہے۔

باہر سے زندہ رہتے ہوئے۔

میں عورت کے خلاف نہیں لکھ رہا۔

میں انصاف کے حق میں لکھ رہا ہوں۔

میں عورت کے درد کا انکار نہیں کر رہا۔

میں صرف مرد کے درد کا اقرار مانگ رہا ہوں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ عورتوں نے آسان زندگی گزاری ہے۔

میں صرف یہ کہتا ہوں کہ مردوں نے بھی آسان زندگی نہیں گزاری۔

میں یہ نہیں کہتا کہ عورت کو سننا بند کر دو۔

میں صرف یہ کہتا ہوں کہ مرد کو بھی سن لو۔

کیونکہ شاید وہ صدیوں سے خاموش کھڑا ہے۔

اور خاموش انسان جب ٹوٹتا ہے تو آواز نہیں کرتا۔

صرف بکھر جاتا ہے۔

مجھے بانو قدسیہ سے اختلاف ہے۔

اس لیے نہیں کہ انہوں نے عورت کا درد بیان کیا۔

بلکہ اس لیے کہ مرد کے درد کو وہ جگہ نہیں ملی جس کا وہ مستحق تھا۔

عورت کے گرد بکھری ہوئی چیزیں ضرور ہیں۔

مگر مرد کے گرد بھی ملبے کے پہاڑ پڑے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ عورت کے زخم دکھائی دیتے ہیں۔

مرد کے زخم اکثر ذمہ داریوں کے لباس کے نیچے چھپ جاتے ہیں۔

اور شاید اسی لیے دنیا انہیں دیکھ نہیں پاتی۔

مگر نہ دیکھنے سے زخم ختم نہیں ہوتے۔

وہ رہتے ہیں۔

پکتے ہیں۔

گہرے ہوتے ہیں۔

اور کبھی کبھی پوری نسلوں کو زخمی کر دیتے ہیں۔

اس مضمون کا مقصد عورت اور مرد کے درمیان جنگ چھیڑنا نہیں۔

بلکہ اس خاموش انسان کی طرف اشارہ کرنا ہے جو ہر گھر میں موجود ہے۔

کبھی باپ کی صورت میں۔

کبھی بھائی کی صورت میں۔

کبھی شوہر کی صورت میں۔

کبھی بیٹے کی صورت میں۔

وہ انسان جو اکثر سب کا سہارا بنتا ہے۔

مگر جب اسے سہارا چاہیے ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف خاموشی رہ جاتی ہے۔

اور شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

کہ ہم نے مرد کی طاقت تو دیکھی۔

مگر اس کی تھکن نہیں دیکھی۔

ہم نے اس کی ذمہ داریاں تو دیکھیں۔

مگر اس کے زخم نہیں دیکھے۔

ہم نے اس کی کامیابیاں تو گنیں۔

مگر اس کی قربانیاں نہیں گنیں۔

اور جب تاریخ لکھی جائے گی تو شاید وہ ہم سے ایک ہی سوال پوچھے گی:

تم نے عورت کے آنسو تو دیکھ لیے تھے...

کیا تم نے مرد کے آنسو کبھی دیکھنے کی کوشش کی تھی؟

اختتام

انصاف اس دن پیدا نہیں ہوگا جب صرف عورت کو سنا جائے گا۔

اور نہ اس دن جب صرف مرد کو سنا جائے گا۔

انصاف اس دن پیدا ہوگا جب آنسوؤں کی قیمت جنس سے نہیں، انسان سے لگائی جائے گی۔

اور شاید اس دن...

مرد کے آنسوؤں کا بھی کوئی قبرستان نہیں رہے گا۔

مُصنّف: نایاب رحمٰن
Email:- [email protected]

13/05/2026
09/05/2026

Muhabbat?

09/05/2026

Muhabbt?

Na koi Ahad nibhae 🥀
12/04/2026

Na koi Ahad nibhae 🥀

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nayab rahman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

  • Want your school to be the top-listed School/college?

Share