Md Ghulam Rabbani Misbahi

Md Ghulam Rabbani Misbahi m

الحمد للہ سیتا مڑھی سے اجمیر شریف ناچیز کی معیت میں جناب ماسٹر محمد شفیع الزماں ، ماسٹر محمد سمیع اللہ ، ماسٹر محمد نعمت...
02/11/2024

الحمد للہ سیتا مڑھی سے اجمیر شریف ناچیز کی معیت میں جناب ماسٹر محمد شفیع الزماں ، ماسٹر محمد سمیع اللہ ، ماسٹر محمد نعمت علی زیارت دربار خواجہ غریب نواز رحمۃ اللّٰہ علیہ اجمیر شریف کے لئے عازم سفر ہیں ان شاء اللہ تمام احباب کے لئے دعائیں کی جایں گی آپ تمام احباب سے بھی سفر کی کامیابی کے لئے خصوصی دعا کی درخواست ہے ۔

محترم جناب بھائی محمد ارشاد انصاری صاحب کو پردھان شکچھک بننے بر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔
01/11/2024

محترم جناب بھائی محمد ارشاد انصاری صاحب کو پردھان شکچھک بننے بر دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔

12/11/2023

کل فیس بک کا نیا اصول شروع ہوگا جہاں وہ آپ کی تصاویر استعمال کر سکتے ہیں۔ مت بھولنا آج آخری تاریخ ہے!! اسے آپ کے خلاف قانونی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جو کچھ بھی پوسٹ کیا ہے وہ آج سے عوامی ہو جائے گا - حتیٰ کہ وہ پیغامات بھی جو حذف کر دیے گئے ہیں۔ ایک سادہ کاپی اور پیسٹ کے لیے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، بہتر ہے کہ آپ محفوظ رہیں۔
---
میں Facebook یا Facebook سے وابستہ کسی بھی ادارے کو اپنی تصاویر، معلومات، پیغامات یا پوسٹس، ماضی یا مستقبل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں۔ اس بیان کے ساتھ، میں فیس بک کو مطلع کرتا ہوں کہ اس پروفائل اور/یا اس کے مواد کی بنیاد پر میرے خلاف انکشاف، کاپی، تقسیم یا کوئی اور کارروائی کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ رازداری کی خلاف ورزی پر قانون کے ذریعے سزا دی جا سکتی ہے۔

نوٹ: فیس بک اب ایک عوامی ادارہ ہے۔ تمام ممبرز ایسی وضاحت ضرور پوسٹ کریں۔

اگر آپ چاہیں تو اس ورژن کو کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کم از کم ایک بار بیان شائع نہیں کرتے ہیں، تو پروفائل اسٹیٹس اپ ڈیٹس میں آپ کی تصاویر اور معلومات کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
شیئر نہ کریں۔ صرف متن کو کاپی کریں اور پیسٹ کریں۔

ان کا نیا الگورتھم انہی چند لوگوں کو منتخب کرتا ہے - تقریباً 25 - جو پوسٹس پڑھیں گے۔
یہ نظام کو نظرانداز کرے گا۔

میں فیس بک کو اپنے بارے میں کچھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

زمانہ آج بھی اور کل بھی ان سے فیض پاےگا ، مثال چشمۂ آبِ رواں ہے حافظ ملت ۔
24/10/2023

زمانہ آج بھی اور کل بھی ان سے فیض پاےگا ، مثال چشمۂ آبِ رواں ہے حافظ ملت ۔

03/10/2023
جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ۔
28/09/2023

جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ۔

ईद मिलादुल नबी के मौके पर मदरसा गुलशने बगदाद द्वारा निकाला गया शांति जुलूस #तेजस्वी #तेजस्वी ...

جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی مبارکباد ۔ جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند 🌙 اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلا...
27/09/2023

جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی مبارکباد ۔ جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند 🌙 اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام ۔

جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔
20/09/2023

جشن عیدمیلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔

عالم انسانیت کو جشن ولادت رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا چاند مبارک ہو ۔
16/09/2023

عالم انسانیت کو جشن ولادت رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا چاند مبارک ہو ۔

.            آج کے دینی جلسوں کا نظریاتی جائزہ !!!تحریر .  عاشق علی مصباحی دار العلوم اسلامیہ ہمدانیہ اسلام آباد کشمیر  ...
24/08/2021

. آج کے دینی جلسوں کا نظریاتی جائزہ !!!
تحریر . عاشق علی مصباحی دار العلوم اسلامیہ ہمدانیہ اسلام آباد کشمیر
ہندوستان کے اکثر جگہوں میں جلسہ و جلوس کا جو رواج عام ہے ہر شخص اس سے بخوبی واقف ہے خطبا و شعرا اور ناظم حضرات کا جو حال رہتا ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے. اگر خطیب حضرات کی بات کی جائے تو اکثر ان میں بے علم و عمل کے حامل افراد ہوتے ہیں جو اپنی گرج دار آواز کے ذریعے صرف جیب گرم کرنے کے درپے رہتے ہیں غیرمعتبرروایات مزاحیہ چٹکلے اور بے فائدہ قصے کہانیاں سنا کر ایک گھنٹہ کا وقت محض پاس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا ہے اِلا یہ کہ عوام وقتی طور پر جذباتی بن کر چاروں طرف سے نعرہ بازی فقط کرتے ہیں ۔
خطیب بھی سمجھ جاتا ہے کہ ہماری تقریر خوب جم گئی اور جلسہ کرنے والے بھی اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہمارا جلسہ کامیاب ہوگیا حالاں
کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ شعراء حضرات جن کو نعت خوانی کے لئے مدعو کیا جاتا ہے ان کا حال بھی کچھ یوں رہتا ہے کہ اللہ خیر کرے! حمد باری تعالی کے اشعار تو کوئی شاعر پڑھتا ہی نہیں دو چار اشعار نعت کے پڑھتے بھی ہیں تو نعت خوانی کے جو آداب ہیں اس سے ہٹ کر ، باقی منقبت یا کسی پیر صاحب کی قصیدہ خوانی ہی کرتے رہتے ہیں اور پیر صاحب بھی اس میں مست رہتے ہیں اور مریدین پیر صاحب کی تعریف وتوصیف سن کر خوب پیسہ لٹا تے ہیں ۔ بہت سارے شعرا تو اس طرح اور ایسے انداز میں نعت پڑھتے ہیں کہ لگتا ہے اسٹیج پر گانا گا رہے ہو اور وہی طرز اور وہی دھن کہ خود تو گنہگار ہوتے ہی ہیں اور سامعین و ناظرین کو بھی برابر گناہ میں شریک کر لیتے ہیں ہیں ۔اب تو نظامت اور اعلان کے لیے الگ سے ناظم حضرات کا انتخاب کیا جاتا ہے جو صرف جھوٹ اور غلو سے کام چلاتے ہیں اور کسی صاحب کو بلانے میں خود ہر مرتبہ ناظم صاحب ہی دس منٹ کا وقت کھا جاتے ہیں اور اتنے لمبے چوڑے القاب سے ملقب کرتے ہیں جس کا وہ جزوی طور پر بھی مصداق نہ ہو یہی حال ہے ہمارے آج کے جلسوں کا
جلسے کا صحیح معنوں میں تصور اور اس کی شرعی حیثیت کی طرف ہم چلتے ہیں جلسے جلوس ایک امر مستحسن ہے اگر اپنے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہو تو جلسہ جلوس کے فائدے بہت ہیں جس کا کوئی بھی ذی عقل انکار و تردید نہیں کرسکتا ، اگر چند امور پر عمل کر لیا جائے تو جلسہ کا حقیقی فائدہ اور بہتر نتائج ضرور دیکھنے کو مل جائیں گے اولاً جلسہ عشاء کے بعد شروع ہو اور 12 سے 1 کے بیچ ہی ختم ہو جائے تو جو لوگ فجر میں اٹھتے ہیں ان کو دقت نہ ہو اور ان کی فجر کی نماز بھی قضا نہ ہوگی
ثانیاً صرف ایک یا دو خطیب کو مدعو کیا جائے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خطیب اچھا عالم باعمل بھی ہو ۔ خطیب کی تاریخ لینے کے وقت مقرر کو موضوع سے آگہی کرا دی جائے اور وقت کی پابندی کی ہدایت بھی کردی جائے .
ثالثاً باہر سے شعراء اور ناظم حضرات کو بالکل نہ بلایا جائے آئے بلکہ علاقہ ہی کے جو نعت خواں ہوں تو دو یا تین صرف انہیں کو مدعو کیا جائے اور نعت خوانی کے آداب و تقاضے بھی بتادیئے جائیں
رابعاً یہ جو ناظم حضرات کو الگ سے بلانے اور بک کرانے کا سلسلہ ہے اسے بالکل بند کر دیا جائے نظامت اسی گاؤں یا محلہ کے امام صاحب کے حوالے کر دیا جائے
خامساً اگر جلسہ مسجد میں ہو تو اور زیادہ بہتر ہوگا ورنہ تو جگہ کی کوئی قید نہیں ہے ایسا مقرر جس کا مطمحِ نظر صرف پیسہ ہو اور بے حد پیسے کا لالچ ہو اس کو بالکل نہ بلایا جائے نذرانہ ضرور دیا جائے مگر ایک حد تک ایسا نہ ہو کہ محلہ کے امام صاحب کو ایک مہینہ پر پانچ ہزار اور ایک گھنٹہ کی تقریر کے لئے خطیب کو پندرہ ہزار
اگر ان چند مذکورہ امور پر عمل کر لیا جائے تو امت میں ایک عظیم انقلاب آجائے اور قوم کا بہت سارا پیسہ بے مصرف صرف ہونے سے بچ جائے اور جو پیسہ بچ جائے تو دینے والوں کی رضا سے مسجد یا مدرسہ یا مکتب یا مدرسہ اور مکتب کے ملازمین پر صرف کر دیا جائے
کشمیر میں میں جلسے کا بہت اچھا نظام اور پاکیزہ ماحول رہتا ہے کشمیر میں جلسہ اکثر و بیشتر مساجد میں ہوتے ہیں اور صرف ایک یا دو خطیب کو مدعو کرتے ہیں نعت خوانی اور نظامت کے لئے الگ سے کسی کو بلایا نہیں جاتا مسجد کے جو نمازی ہوتے ہیں انہیں میں سے کوئی نظامت بھی کرتا ہے اور جو بزرگ رہتے ہیں وہی لوگ نعت خوانی کرتے ہیں یا جس کو بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گلدستہ نعت پیش کرنا ہوتا ہے خود وہ پڑھتا ہے ایک چیز اور یہاں کی خاصیت یہ ہے کہ دوران نعت یا تقریر پیسہ دینے لینے کا رواج بالکل نہیں ہے
جس طرح یوپی یا دیگر صوبوں میں مقرر بک ہوکے آتے ہیں یہاں تو اس کا تصور ہی نہیں ہے
یہاں کشمیر میں اگر کوئی خطیب نذرانہ پہلے طے کرے تو ساری عزت اس کی مٹیا میل ہوجائے گی اور کوئی سلام بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا یہاں مغرب کے بعد مسجد ہی میں جلسہ شروع ہو گا اور عشاء سے پہلے ختم اب اگر کوئی بہت ہی بڑی کانفرنس ہو تو دن میں ہوگی وہ بھی ہر چیز وقت پر کشمیر میں تو اہل علم حضرات کو بہت احتیاط سے رہنا پڑتا ہے اگر پان گٹکھا سگریٹ کوئی مولوی استعمال کرتا ہو تو شاید اس کے پیچھے لوگ نماز تک پڑھنے کے لیے راضی نہیں ہوں گے. اے کاش ایسا ہی نظام ہمارے یوپی بہار میں بھی ہوجائے

मज़हब नहीं सिखाता आपस मे बैर रखना, हिन्दी हैं हम वतन है हिंदोस्तान हमारा
15/08/2021

मज़हब नहीं सिखाता आपस मे बैर रखना, हिन्दी हैं हम वतन है हिंदोस्तान हमारा

Address

PARIHAR
Parihar

Telephone

+919431419438

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Md Ghulam Rabbani Misbahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Md Ghulam Rabbani Misbahi:

Shortcuts

Share

Category