اُردو نصیحتیں

اُردو نصیحتیں مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِه.
اِس چینل پر دینی، اخلاقی، اصلاحی، سماجی، اور خوب صورت تحریری گل دستے پیش کیے جائیں گے ۔ اِن شاء اللہ

دل بار بار ٹوٹتا ہے، مگر یہی ٹوٹنا انسان کو مضبوط بھی بناتا ہے۔  کبھی خاموشی میں چھپا درد، انسان کو اللہ کے قریب لے آتا ...
18/08/2026

دل بار بار ٹوٹتا ہے، مگر یہی ٹوٹنا انسان کو مضبوط بھی بناتا ہے۔
کبھی خاموشی میں چھپا درد، انسان کو اللہ کے قریب لے آتا ہے…
صبر کرو، ہر زخم کا مرہم وقت اور رب کی رحمت میں ہے۔ 🤍

17/08/2026
12/08/2026

نوجوانوں کی بے وقت اموات

زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں

نوجوانوں پر بہت لوڈ ہے. اور اور یہ بار خالقِ کائنات نے نہیں ڈالا. بلکہ سماج نے ان پر ڈالا ہوا ہے.
آج کے زمانے میں انسان کی بنیادی ضروریات میں اتنی رنگارنگی اور تنوع ہے کہ سارے لوگ وہ ساری قسمیں حاصل نہیں کرسکتے. حالانکہ ان کو حاصل کرنے کے لیے اہل خانہ کا بہت دباؤ ہوتا ہے..
نوجوان اسی دباؤ کو جھیل نہیں پاتے اور بے وقت مرجاتے ہیں..
آپ سوچئے. روٹی کپڑا مکان اور شادی پہلے بھی انسان کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے.. لیکن انسان پہلے مٹی کی دیوار اور پھونس کے چھپر سے مکان بنا لیتا تھا اور اسی میں خوش رہتا تھا . یہ گھر اسے دھوپ اور بارش سے پناہ دیتا تھا. رات کو آرام دیتا تھا..
اب مٹی کی دیوار اور پھونس کے چھپر کہاں.. آپ کہیں گے کہ اگر پسند ہے تو بنا لیجیے. لیکن جناب معاشرے کا دباؤ ایسا کرنے نہیں دے گا. دوسروں کا دیکھ کر لوگ اطمینان کھو چکے ہیں . ان کو چھپر میں سکون نہیں ملے گا. بلکہ ان کو اسی جیسے گھر میں سکون ملے گا. جیسا گھر شہر کے دوسرے لوگوں کا ہے...
پھر معیار اتنا اونچا ہوگیا ہے کہ سماج میں ایک سے بڑھ کر ایک گھر ہیں..
شاہ رخ خان کا منت ہے. امبانی کا انٹیلیا ہے. بہ سے بہتر اور بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش نوجوان کو چین نہیں لینے دیتی. یہ ایسی دوڑ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی. اور اس کا سارا پریشر نوجوانوں پر ہے .
حالانکہ سارے نوجوان یکساں صلاحیت کے حامل نہیں.. لیکن دباؤ سب پر یکساں ہوتا ہے..
نوجوانوں میں بیماری کی شروعات جسم کی خرابی سے نہیں. بلکہ دل کی خرابی سے ہوتی ہے. نوجوان ان لا یطاق تکالیف سے کڑھتا ہے. اور یہ یہی کڑھن آگے چل کر بیماری بن جاتی ہے..
بلڈ پریشر، شوگر، ڈپریشن اور کینسر وغیرہ..
ایسا کوئی نہیں ہے جس کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا موقع ملا ہو اور وہ نوجوانی میں بیمار ہوجائے.. نوجوان مصنوعی اور زبردستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. اسی لئے بیماری کے شکار ہورہے ہیں..
آج ضروریات زندگی کو اتنا پھیلا دیا گیا ہے کہ ہر کوئی محروم و مایوس ہے. اطمینان اور آسودگی کہیں رخصت ہوگئی ہے. ہر جگہ بھوک اور پیاس پسری ہوئی ہے. .. صارفیت عام ہے. شاپنگ کے عوض عزتیں بک رہی ہیں.. اگر کسی کے پاس اتنے پیسے ہیں جس سے وہ دن میں کئی بار چائے پی سکتا ہے تو اسے یہ تکلیف ہے کہ میں انیتا امبانی کی طرح تین لاکھ کی چائے کیوں نہیں پیتا . اگر کوئی ہزار روپے کا جوتا پہنا ہوا ہے تو اسے دکھ ہے کہ میں امازون سے پندرہ ہزار کا جوتا کیوں نہیں خرید سکتا؟
خریداری کے لئے قیمتی چیزوں تک عام لوگوں کی رسائی ممکن ہوچکی ہے. لیکن پیسے سب کے پاس نہیں. نوجوان خود کو قناعت کا درس دے سکتے ہیں لیکن بیوی بچوں کو نہیں منا سکتے. پھر ان کی خواہشات پوری کرنے کے لئے تگ ودو کرتے ہیں. حالانکہ یہ خواہشات فطری نہیں ہوتیں بلکہ معاشرے کی دین اور مصنوعی ہوتی ہیں . سب ایک دوسرے کو دیکھ کر آرزوئیں بناتے اور پالتے ہیں.. جب کہ ان کو پورا کرنے کا بوجھ نوجوانوں پر ہوتا ہے .. نوجوان نہیں، نہیں کہہ پاتے.. بس دوڑتے رہتے ہیں اور اسی حصول زر کی تڑپ میں بیمار ہوجاتے اور آخر میں مرجاتے ہیں...
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
غالب.

ابو المرجان فیضی

✨ جنت پانے کا راز سادہ ہے مگر ہم مشکل بنا دیتے ہیں…اگر واقعی جنت الفردوس چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دل سے مانگیں 🤲دنیا ...
12/08/2026

✨ جنت پانے کا راز سادہ ہے مگر ہم مشکل بنا دیتے ہیں…

اگر واقعی جنت الفردوس چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے دل سے مانگیں 🤲
دنیا کی چھوٹی خواہشیں جب پوری ہو سکتی ہیں،
تو اللہ سے مانگنے میں جھجھک کیوں…؟

💫 دعا مانگنا کمزوری نہیں، ایمان کی طاقت ہے۔
آج ہی اپنے رب سے جنت طلب کریں…

11/08/2026

ایک خاتون بار بار مسیجز کررہی تھی کہ سر حالات خراب ہیں، تنخواہ کم ہے کہیں اچھی جاب دلا دیں۔ روز دو تین مرتبہ پوچھتی رہتی۔ میں نے چند دوستوں سے بات کی تو ایک دوست نے کوآرڈینیٹر کی جاب آفر کی۔ میں نے سفارش کی کہ مسائل ہیں تنخواہ اچھی دینا۔
پچھلے تین دن سے موصوفہ مسیج سین کر دیتی ہیں ریپلائی نہیں دے رہی۔
پچھلے سال ایک نوجوان نے کہا سر کوئی کام دلوادیں۔ یونیورسٹی میں پڑھتا ہوں۔ اخراجات زیادہ ہیں۔ افورڈ نہیں کرسکتا۔ میں نے کچھ ٹائپنگ اور ڈیزائننگ کا کام دے دیا اور ساتھ میں 5 ہزار ایڈوانس بھی دئیے کہ فی الحال اس سے کام چلا لو۔ باقی کام کے بعد دے دوں گا۔ جناب نے میرا نمبر ہی بلاک کردیا۔
کچھ عرصہ پہلے پبلشنگ کمپنی شروع کی تھی۔ فیصلہ کیا کہ یتیم بچوں کو فری کتابیں دیں گے۔ ایک سکول میں فری کتابیں لیکر خود پہنچ گیا تو سکول پرنسپل نے مسائل کے انبار سامنے رکھے۔ ظاہر ہے میں خود بھی مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہوں۔ تمام دوستوں کی فرمائشیں پوری کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انکار کرنے پر انھوں نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا اور بعد میں میرے ہر پوسٹ پر منفی کمنٹس کرتا رہا۔ آخر میں مجھے ان کو بلاک کرنا پڑا۔
آپ نے اکثر بازار میں کسی بچے یا بزرگ کو دیکھا ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں دو چار پین ہوں گے۔ آپ سوچتے ہیں کہ یہ سب بیچ کر ان کو کیا ملے گا؟ یہی سے وہ آپ کی ہمدردی حاصل کرتے ہیں۔ ہم ان کو خوددار سمجھ کر پیسے دے دیتے ہیں۔ یہ دو چار پین ان کو روزانہ دو تین ہزار کما کردیتے ہیں۔ اس کو سوشیالوجی کی زبان میں ڈرائی بیگنگ (Dry Begging) کہتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کام نہیں ہے۔ کام بہت ہیں۔ کام کرنے والے نہیں ہیں۔ کام کے نام پر بھیک مانگنے والے (ڈرائی بیگرز) ذیادہ ہیں۔
تحریر: مزمل شاہ

🌿 اپنی اصلاح کا سفر آج سے شروع کریں…اپنے اندر جھانکنا سب سے بڑی کامیابی ہے،کیونکہ جو شخص اپنی غلطیوں کو پہچان لیتا ہے،وہ...
09/08/2026

🌿 اپنی اصلاح کا سفر آج سے شروع کریں…

اپنے اندر جھانکنا سب سے بڑی کامیابی ہے،
کیونکہ جو شخص اپنی غلطیوں کو پہچان لیتا ہے،
وہی اصل کامیابی کی طرف بڑھتا ہے۔

✨ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے،
اپنی اصلاح پر توجہ دیں…
یہی اصل دانائی اور کامیابی کا راستہ ہے۔

07/08/2026

نگہت غوری صاحبہ جو کہ کاروباری خاتون ہے اور روس میں مقیم ہیں وہ اپنے ایک دلچسپ سفر کے متعلق بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ بالکل 100 فیصد ٹھیک مقولہ ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو پہچاننا ہو یا اس کی خصلتوں کے بارے میں جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کر لو اس کے بعد وہ اپنی روداد سناتی ہیں کہ

ایک بار وہ امریکہ سے پاکستان ارہی تھی ان کے پاس بزنس کلاس کی ٹکٹ تھی ان کا بتانا ہے کہ وہ شروع سے ہی بیرون ملک رہی ہیں ان کی پرورش یورپ میں ہوئی ہے ان کی پیدائش بھی وہیں کی ہے اور پھر تعلیم کے لیے وہ امریکہ منتقل ہوئی ان کے والدین فرانس میں رہتے ہیں اور اپنا کاروبار کرتے ہیں وہ فرانس سے امریکہ اپنے کسی دوست کی شادی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے گئی تھیں اور پھر وہاں کچھ دن رکی رہی اپنے باقی دوستوں سے ملاقات کی اس کے بعد وہ پاکستان ارہی تھیں پاکستان انے کے لیے ان کے پاس جرمنی کی ایک نجی ایئر لائن کی ٹکٹ تھی ٹکٹ بزنس کلاس تھی وہ کہتی ہیں کہ جب سفر شروع کرنے سے پہلے میں اپنی فلائٹ میں سیٹ پر جا کر بیٹھی تو میرے پہلو والی سیٹ بھی کسی پاکستانی بزنس مین کی تھی وہ انتہائی خوبصورت اور نوجوان شخص تھا میں اس کو دیکھتے ہی اس کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں وہ ا کر اپنی سیٹ پر بیٹھا اسی دوران اس نے بیل بجائی تو ایئر ہوسٹس ان کے پاس اگئی انہوں نے ایئر ہوسٹس سے سرگوشی میں کوئی بات کی ائیرہوسٹس نے نفی میں سر ہلایا تو ائیرہوسٹس کا جواب سن کر وہ تھوڑے متذبذب دکھائی دیے جب بھی اپ کے پڑوس میں کچھ ایسا ہو جاتا ہے اپ کی توجہ خود بخود ان کی طرف منتقل ہو جاتی ہے گو کہ میرے بالکل ساتھ بیٹھے ہوئے وہ اتنے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے کہ میں ان کی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی تھوڑی دیر دونوں اپس میں گفتگو کرتے رہے پھر وہ صاحب ایرہوسٹس کے ساتھ اٹھ کر پیچھے اکانومی کلاس میں گیا ہے مگر تھوڑی دیر بعد وہ اسی میزبان خاتون کے ہمراہ واپس اگئے واپس ا کر میزبان خاتون مجھ سے مخاطب ہوئی اور پوچھا کہ ان صاحب کا کہنا ہے اپ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے اگر کسی قسم کی تکلیف محسوس کرتی ہیں تو اپ کو کسی خاتون کے ساتھ ایڈجسٹ کر دیتے ہیں تاکہ اپ کا سفر اسانی سے گزر جائے؟
میرے لیے یہ ایک انہونی بات تھی کیونکہ میں جس ماحول میں رہی تھی وہاں ایسا ہونا تو دور کے بعد ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا مجھے بھلا اس شخص کے ساتھ بیٹھنے سے کیا فرق پڑتا لیکن پھر بھی میں نے اخلاق کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے ان کے ساتھ سفر کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہیں ہے اگر ان کو میری وجہ سے کوئی پرابلم ہو تو یہ اپنی سیٹ ضرور بدل سکتے ہیں جب میں نے یہ بات کی تو وہ صاحب ڈائریکٹ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ دراصل میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ غیر مرد ہونے کے ناطے اپ میری وجہ سے سفر میں تنگ نہ ہوں کیونکہ سفر لمبا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اپ کا سکون میری وجہ سے خراب ہو اس شخص کا لہجہ اتنا دھیما تھا کہ جب وہ مجھ سے مخاطب تھا تو شاید ایئر ھوسٹس اس کی بات نہیں سن پا رہی تھی
میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ہم دونوں اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے

جیسے ہی ہمارا جہاز محو پرواز ہوا تو میں اپنے موبائل میں مشغول ہو گئی اور انہوں نے اپنا لیپ ٹاپ کھول لیا میں موبائل چلاتے چلاتے سو گئی اسی دوران پتہ نہیں کیا ہوا کہ مجھے شدید قسم کی کھانسی ہونے لگی یہ میرے لیے زندگی کا پہلا موقع تھا کہ میں اتنی شدید کھانسی کر رہی تھی یہاں تک کہ مجھے کسی کو مدد کے لیے بلانے کا بھی موقع مل نہیں رہا تھا ان صاحب نے جو اپنا کام کر رہے تھے وہ اسی وقت چھوڑ دیا اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا فضائی میزبان کو بلایا اس سے پانی لانے کے لیے کہا میرے لیے پانی اگیا مجھے پانی پلایا گیا جب میرے کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے ان کا شکریہ ادا کیا فضائی میزبان نے مجھ سے پوچھا کہ اور کسی قسم کی کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ جہاز کے اندر ایک ڈاکٹر بھی موجود ہے اگر اپ کو طبی معائنہ کروانا ہے تو بھی بتائیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے اپ جا سکتی ہیں میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ فضائی میزبان میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اس کے بعد میں نے اپنی سیٹ پر ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا بھی شکریہ ادا کیا اسی دوران ہماری گفتگو شروع ہو گئی اس شخص کے بولنے کا انداز اتنا پیارا تھا جیسے کوئی شخص واعظ کر رہا ہو اواز اتنی رسیلی ہو کے اس کے الفاظ سن کر اس کا لہجہ دیکھ کر غیر مسلم بھی اسلام قبول کر لے میں اس شخص سے بہت متاثر ہوئی اتنا متاثر کہ وہ میرے دل میں اتر گیا میں نے اس سے نمبر لے لیا تاکہ بعد میں بھی اس سے رابطے میں رہ سکوں پہلے پہلے وہ نمبر دینے سے انکاری رہا پھر میں نے اس کو بتایا کہ مجھے بزنس میں اپ کی رہنمائی کی ضرورت ہوگی اگر اپ مجھ پر یہ احسان کر سکتے ہیں تو کر دیں اس پر اس شخص نے مجھے اپنا نمبر دے دیا

ہمارا سفر اختتام کو پہنچا جب میں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے بعد واپس فرانس اپنے والدین کے پاس چلی گئی تو میں نے وہاں جا کر ان کو اس شخص کے بارے میں بتایا اور پھر ان کو اپنے دل کے حالات بتائے پھر ان کو بتایا کہ میں اس شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں میرے والدین نے اس کا اتا پتہ پوچھا تو میں نے ان کو ساری روداد سنا دی کہ میں کس طرح اور کہاں اس سے ملی ہوں اور کتنا اس کو جانتی ہوں میری بات سن کر میرے والدین مسکرائے اور کہا کہ تم ایسا کرو پہلے اس سے پوچھو اگر وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہو تو پھر اس کی ہم سے بات کرواؤ پھر ہم تصدیق کر لیں گے اس کو ڈھونڈ لیں گے میں نے اس شخص سے بات کی اس نے کہا کہ میں نے اپنا یہ حق اپنے والدین کو دے رکھا ہے میں نے اس کے والدین کا نمبر لیا اس کے والدین سے بات کی اس کے والدین کو اپنا سب کچھ بتایا انہوں نے کہا ہم اپنے بیٹے کی مرضی جاننے کے بعد اپ سے بات کریں گے رابطہ کریں گے میں ان کا انتظار کرنے لگی ٹھیک 15 دن بعد مجھے اس شخص کے والدین کی کال ا گئی انہوں نے کہا کہ اپ لوگ ہماری دعوت پر روس ائیں
رشیا کے متعلق سن کر میرے والدین حیران رہ گئے خیر ہم نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ہم لوگ رشیا چلے گئے ایک بار پھر وہاں ہمارا سارا خاندان اپس میں ملا وہیں پہ ہمارا رشتہ طے ہوا اور پھر فیصلہ ہوا کہ ہم سب لوگ مل کر عمرہ کرنے کے لیے جائیں گے وہاں ہی ہم نکاح کے بندھن میں بندھ جائیں گے پھر ہم نے بالکل ایسے ہی کیا اور یوں میری شادی ہو گئی

شادی کے بعد میں نے اپنے شریک حیات جو کہ کبھی میرا شریک سفر تھا اس سے پوچھا کہ تمہارا اخلاق اتنا بہترین کیوں ہے تو وہ میری بات سن کر حیران ہوا اور پھر کہا کہ تم کو نہیں پتہ اسلام میں اخلاق کی کتنی اہمیت ہے اسلام کی بنیاد ہی اخلاق ہے پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہ اتنا بڑا کاروبار کیسے کھڑا کیا تو اس نے جواب دیا کہ میں نے صرف کوشش کی یہ سب کچھ میرے والدین کی دعاؤں کو نتیجہ تھا میں اج جہاں پر کھڑا ہوں میں اسے اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ ہی سمجھتا ہوں
پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ میری کس چیز نے تمہیں سب سے زیادہ متاثر کیا ہے تو میں نے اسے بتایا کہ تمہاری سب سے زیادہ بات جو مجھے پسند ائی ہے وہ اس کھلے ڈلے ماحول میں رہتے ہوئے بھی اسلامی نظریات کو مد نظر رکھنا ہے
میری بات سن کر انہوں نے مجھے بتایا کہ پتہ ہے میں ان اسلام نظریات کو مد نظر کیوں رکھتا ہوں میں نے اس کے جواب میں کہا کہ مجھے بھلا یہ سب کچھ کیسے پتہ ہوگا؟
میری بات سن کر اس نے جواب دیا کہ ایک بار میں نے کوئی ایسا عمل کیا تھا کوئی ایسا کام کر لیا تھا جس کی وجہ سے میری والدہ مجھ سے ناراض ہو گئی تھی شاید وہ کام شرع کے خلاف تھا میں نے وہ حرکت اپنے غیر مسلم دوست کے کہنے پر کی تھی تب میری ماں نے مجھے کہا تھا کہ بیٹا یاد رکھنا یہ دوستی یاری یہ تعلق واسطے اور یہ دنیا کے کام یہاں ہی رہ جائیں گے وہاں تمہارے ساتھ صرف تمہارے کیے گئے اعمال جائیں گے اج جس چھوٹی سی خوشی کے لیے تم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اس سے تمہارا اللہ تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اللہ کے رسول تم سے کتنا ناراض ہوا ہوگا اور قبر میں یا روز محشر تم کتنی سزا کے مستحق ٹھہرو گے اگر تم میری اولاد ہو تو ائندہ کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہ کرنا جس کی وجہ سے تمہارے رب اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم یا تمہاری والدہ کو پسند نہ آئے اور وہ رنجیدہ ہوں
یاد رکھنا تمہارا ایمان واحد ایسی چیز ہے جو تمہارے ساتھ قبر میں جائے گا جتنا تمہارا ایمان مضبوط ہوگا اتنا ہی تمہیں اللہ اور اس کے رسول کا قرب ملے گا اور جتنا تمہارا ایمان کمزور ہوگا اتنے ہی تم اللہ اور اس کے رسول سے دور ہوتے جاؤ گے اس لیے زندگی میں کوئی بھی ایسا کام نہ کرنا جو تجھے اسلام کے اصولوں کے خلاف جا کر کرنا پڑے
میری والدہ نے مجھے فقط پانچ سے سات منٹ کا یہ لیکچر دیا والدہ کی بات اختتام کو پہنچ گئی اس کے بعد کبھی میری والدہ کو مجھے سمجھانے کی نوبت نہیں ہے مجھے پتہ چل گیا کہ میں نے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا اگر میں کہیں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں الجھ جاتا ہوں یا مجھے خوف ہوتا ہے کہ میں یہاں کوئی فیصلہ کروں گا تو غلط کر بیٹھوں گا تب میں اپنی والدہ سے ڈسکس کر لیتا ہوں اگر میری والدہ مجھے مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتی تو وہ مجھے کہتی ہیں تم کسی عالم سے مشورہ کر لو والدہ کی اس دن کی نصیحت سے لے کر اج تک میں نے کوئی ایسا عمل اپنی طرف سے جان بوجھ کر نہیں کیا جس کی وجہ سے مجھے اللہ تعالی اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا اپنی والدہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا

اپنے شوہر کی معصومیت اور نیک نیتی پر میں حیران رہ گئی تھی مجھے احساس ہوا تھا کہ اج ہم دنیا میں جہاں جی رہے ہیں وہاں اس دنیا کے قائم رہنے میں میرے شوہر جیسے بہت سارے لوگوں کا ہاتھ ہے ورنہ جس طرح کے ہمارے اعمال ہیں ہم لوگوں پر کب کا اللہ تعالی کا قہر اور عذاب نازل ہو چکا ہوتا میں جس دن سے اس گھر میں ائی ہوں اس دن سے لے کر اج تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی اس دن سے لے کر اج تک مجھے کبھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور یہ سب کچھ یقینا صرف اسی وجہ سے ہے کہ یہ گھرانہ مکمل طور پر دین اسلام پر عمل پیرا ہے

اختتام
اگر تحریر پسند ائے تو پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کر دیں

03/08/2026

ڈیوڈ گاگنز (David Goggins) دنیا کے سب سے مضبوط ذہنی صلاحیت رکھنے والے انسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ امریکی نیوی سیل (Navy SEAL) کے سابق اہلکار، الٹرا رنر اور مصنف ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان اپنے دماغ کو قابو میں کر کے کس طرح ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔

یہاں ان کے سکھائے ہوئے **7 اہم ترین اسباق** اردو میں پیش ہیں:

---

# # # 1۔ 40 فیصد کا قانون (The 40% Rule)

جب آپ کا دماغ آپ سے کہتا ہے کہ "بس اب میں تھک گیا ہوں اور مزید کچھ نہیں کر سکتا،" تو حقیقت میں آپ ابھی صرف اپنی **40 فیصد** صلاحیت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ باقی 60 فیصد طاقت آپ کے اندر محفوظ ہوتی ہے۔ گاگنز کا کہنا ہے کہ جب آپ اس تھکن کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں، تو آپ اپنے ذہن کی اصل طاقت کو انلاک (unlock) کرتے ہیں۔

# # # 2۔ جوابدہی کا آئینہ (The Accountability Mirror)

گاگنز کہتے ہیں کہ اپنے آپ سے جھوٹ بولنا بند کریں۔ وہ خود ایک آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی خامیوں کو کاغذ پر لکھ کر چپکا دیتے تھے (جیسے: "تم موٹے ہو"، "تم سست ہو")۔ جب تک آپ آئینے میں دیکھ کر اپنی سچائی اور کمزوریوں کو تسلیم نہیں کریں گے، آپ خود کو بدل نہیں سکتے۔ خود سے مخلص ہونا ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

# # # 3۔ دماغ کو قابو کرنا (Taking Souls)

جب آپ کسی مشکل مقابلے، نوکری یا امتحان میں ہوں، تو اپنی محنت اور کارکردگی سے سامنے والے (یا اپنے حریف) پر ایسا ذہنی غلبہ حاصل کر لیں کہ وہ دنگ رہ جائے۔ اس کا مطلب کسی کو نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ اپنی محنت سے دوسروں کا حوصلہ پست کرنا اور خود کو سب سے آگے لے جانا ہے۔

# # # 4۔ کوکی جار کا تصور (The Cookie Jar)

جب زندگی میں بہت مشکل وقت آئے اور آپ ہار ماننے والے ہوں، تو اپنے دماغ کے "کوکی جار" (بسکوٹ کے ڈبے) میں ہاتھ ڈالیں۔ اس خیالی ڈبے میں آپ کی زندگی کی وہ تمام پرانی کامیابیاں اور مشکلات موجود ہیں جن پر آپ پہلے فتح پا چکے ہیں۔ اپنے ماضی کی مشکلات کو یاد کریں کہ "جب میں اس وقت نہیں ہارا، تو اب کیوں ہاروں؟" یہ چیز آپ کو فوری حوصلہ دے گی۔

# # # 5۔ تکلیف سے پیار کرنا (Embrace the Suck)

کامیابی کا راستہ آرام دہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ کو وزن کم کرنا ہے، پڑھائی کرنی ہے یا کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا ہے، تو آپ کو اس کے لیے ہونے والی تکلیف، صبح جلدی اٹھنے اور سخت محنت سے پیار کرنا پڑے گا۔ گاگنز کے مطابق، آرام پسندی انسان کو کمزور بناتی ہے، جبکہ تکلیف انسان کو فولاد بناتی ہے۔

# # # 6۔ اپنے ذہن کے مالک بنیں (Master Your Mind)

اگر آپ اپنے دماغ کو نہیں چلائیں گے، تو آپ کا دماغ آپ کو چلائے گا۔ صبح جب الارم بجتا ہے اور دماغ کہتا ہے کہ "تھوڑی دیر اور سو جاؤ، باہر سردی ہے،" تو اسی وقت آپ کو اپنے دماغ کو حکم دینا ہے کہ "نہیں، مجھے اٹھنا ہے"۔ زندگی کے فیصلے اپنے آرام کے مطابق نہیں، بلکہ اپنے نظم و ضبط (Discipline) کے مطابق کریں۔

# # # 7۔ کبھی بھی مطمئن نہ ہوں (Never Settled)

چاہے آپ نے زندگی میں کتنا ہی بڑا مقصد کیوں نہ حاصل کر لیا ہو، کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ "بس میں نے کر لیا"۔ گاگنز کے نزدیک زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک پہاڑ سر کرنے کے بعد، دوسرے اونچے پہاڑ کی تلاش شروع کر دیں۔ ہمیشہ سیکھتے رہیں اور خود کو چیلنج کرتے رہیں کیونکہ جمود (رک جانا) ذہنی موت ہے۔

Address

Malegaon
Nashik

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اُردو نصیحتیں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share