12/08/2026
نوجوانوں کی بے وقت اموات
زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
نوجوانوں پر بہت لوڈ ہے. اور اور یہ بار خالقِ کائنات نے نہیں ڈالا. بلکہ سماج نے ان پر ڈالا ہوا ہے.
آج کے زمانے میں انسان کی بنیادی ضروریات میں اتنی رنگارنگی اور تنوع ہے کہ سارے لوگ وہ ساری قسمیں حاصل نہیں کرسکتے. حالانکہ ان کو حاصل کرنے کے لیے اہل خانہ کا بہت دباؤ ہوتا ہے..
نوجوان اسی دباؤ کو جھیل نہیں پاتے اور بے وقت مرجاتے ہیں..
آپ سوچئے. روٹی کپڑا مکان اور شادی پہلے بھی انسان کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے.. لیکن انسان پہلے مٹی کی دیوار اور پھونس کے چھپر سے مکان بنا لیتا تھا اور اسی میں خوش رہتا تھا . یہ گھر اسے دھوپ اور بارش سے پناہ دیتا تھا. رات کو آرام دیتا تھا..
اب مٹی کی دیوار اور پھونس کے چھپر کہاں.. آپ کہیں گے کہ اگر پسند ہے تو بنا لیجیے. لیکن جناب معاشرے کا دباؤ ایسا کرنے نہیں دے گا. دوسروں کا دیکھ کر لوگ اطمینان کھو چکے ہیں . ان کو چھپر میں سکون نہیں ملے گا. بلکہ ان کو اسی جیسے گھر میں سکون ملے گا. جیسا گھر شہر کے دوسرے لوگوں کا ہے...
پھر معیار اتنا اونچا ہوگیا ہے کہ سماج میں ایک سے بڑھ کر ایک گھر ہیں..
شاہ رخ خان کا منت ہے. امبانی کا انٹیلیا ہے. بہ سے بہتر اور بہتر سے بہترین کرنے کی کوشش نوجوان کو چین نہیں لینے دیتی. یہ ایسی دوڑ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی. اور اس کا سارا پریشر نوجوانوں پر ہے .
حالانکہ سارے نوجوان یکساں صلاحیت کے حامل نہیں.. لیکن دباؤ سب پر یکساں ہوتا ہے..
نوجوانوں میں بیماری کی شروعات جسم کی خرابی سے نہیں. بلکہ دل کی خرابی سے ہوتی ہے. نوجوان ان لا یطاق تکالیف سے کڑھتا ہے. اور یہ یہی کڑھن آگے چل کر بیماری بن جاتی ہے..
بلڈ پریشر، شوگر، ڈپریشن اور کینسر وغیرہ..
ایسا کوئی نہیں ہے جس کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا موقع ملا ہو اور وہ نوجوانی میں بیمار ہوجائے.. نوجوان مصنوعی اور زبردستی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. اسی لئے بیماری کے شکار ہورہے ہیں..
آج ضروریات زندگی کو اتنا پھیلا دیا گیا ہے کہ ہر کوئی محروم و مایوس ہے. اطمینان اور آسودگی کہیں رخصت ہوگئی ہے. ہر جگہ بھوک اور پیاس پسری ہوئی ہے. .. صارفیت عام ہے. شاپنگ کے عوض عزتیں بک رہی ہیں.. اگر کسی کے پاس اتنے پیسے ہیں جس سے وہ دن میں کئی بار چائے پی سکتا ہے تو اسے یہ تکلیف ہے کہ میں انیتا امبانی کی طرح تین لاکھ کی چائے کیوں نہیں پیتا . اگر کوئی ہزار روپے کا جوتا پہنا ہوا ہے تو اسے دکھ ہے کہ میں امازون سے پندرہ ہزار کا جوتا کیوں نہیں خرید سکتا؟
خریداری کے لئے قیمتی چیزوں تک عام لوگوں کی رسائی ممکن ہوچکی ہے. لیکن پیسے سب کے پاس نہیں. نوجوان خود کو قناعت کا درس دے سکتے ہیں لیکن بیوی بچوں کو نہیں منا سکتے. پھر ان کی خواہشات پوری کرنے کے لئے تگ ودو کرتے ہیں. حالانکہ یہ خواہشات فطری نہیں ہوتیں بلکہ معاشرے کی دین اور مصنوعی ہوتی ہیں . سب ایک دوسرے کو دیکھ کر آرزوئیں بناتے اور پالتے ہیں.. جب کہ ان کو پورا کرنے کا بوجھ نوجوانوں پر ہوتا ہے .. نوجوان نہیں، نہیں کہہ پاتے.. بس دوڑتے رہتے ہیں اور اسی حصول زر کی تڑپ میں بیمار ہوجاتے اور آخر میں مرجاتے ہیں...
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
غالب.
ابو المرجان فیضی