اُردو نصیحتیں

اُردو نصیحتیں

Share

مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِه.
اِس چینل پر دینی، اخلاقی، اصلاحی، سماجی، اور خوب صورت تحریری گل دستے پیش کیے جائیں گے ۔ اِن شاء اللہ

16/06/2026

*اختلافِ رائے کا جرم اور دیوبندیت سے اخراج*

زیرِ نظر تحریر اگرچہ ایک خاص مکتبِ فکر کے تناظر میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کا بنیادی پیغام، مقصد اور لبِ لباب تمام مکاتبِ فکر اور عام مسلمانوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ اس مضمون میں فکر و نظر کی اصلاح کے حوالے سے ایک انتہائی اہم نصیحت پوشیدہ ہے، جس پر ہم سب کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (ایڈمن)

*🚫اخـتـلافِ رائے کا جـرم اور دیـوبـنـدیـت سے اخـراج🚫*

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ

پرسوں میں نے ایک سوال کے جواب میں "دیوبندی مکتبِ فکر اور امام مہدیؑ کی آمد" كے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ اس مضمون میں دیوبندی مکتبِ فکر سے وابستہ چند ممتاز شخصیات، خصوصاً شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے نامور شاگرد اور معتمدِ خاص امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مشہور محدث و فقیہ مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے صاحبزادے جناب قمر احمد عثمانی، اور علامہ حبیب الرحمن صدیقی کاندھلویؒ کی آراء کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ان شخصیات کے افکار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ امام مہدیؑ کے بارے میں رائج اور مقبول دیوبندی تعبیر سے اختلاف رکھتے تھے، یا کم از کم اس مسئلے کو ایک مختلف زاویۂ نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اس مضمون کے بعد متعدد علماء، طلبہ اور اصحابِ فکر کے پیغامات موصول ہوئے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ جن شخصیات کا حوالہ دیا گیا ہے، انہیں دیوبندی مفتیانِ کرام نے ’’دیوبندیت سے خارج‘‘ قرار دے دیا ہے، اس لیے ان کی آراء کو دیوبندی مکتبِ فکر کا حصہ قرار دینا درست نہیں۔ ابتدا میں میں نے اس اعتراض کو محض ایک جذباتی ردِعمل سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب جانا، لیکن جب یہی بات مسلسل دہرائی جانے لگی تو محسوس ہوا کہ اصل مسئلہ امام مہدیؑ کے بارے میں اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک زیادہ سنگین اور بنیادی سوال ہے: آخر یہ ’’دیوبندیت سے اخراج‘‘ کیا شے ہے، اس کا معیار کیا ہے، اور یہ اختیار کس کے پاس ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے عہد میں بعض مذہبی حلقوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تکفیر کا ہتھیار صرف ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جو دائرۂ اسلام سے باہر سمجھے جاتے تھے، پھر یہ دائرہ وسیع ہوا اور اہلِ قبلہ کے مختلف طبقات تک پہنچ گیا، اور اب معلوم ہوتا ہے کہ بعض حضرات نے ایک نئی عدالت قائم کر لی ہے جہاں لوگوں کے اسلام کا نہیں بلکہ ان کی مسلکی شہریت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ گویا اب صرف یہ کافی نہیں کہ کوئی مسلمان ہو، بلکہ اسے یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ فلاں مسلک کا ’’مجاز‘‘ فرد ہے، اور اس کی اسنادِ وفاداری پر چند مخصوص افراد کی مہر ثبت ہے۔

تاریخِ اسلام کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ مسلمانوں کی علمی روایت کی بنیاد یکسانیت پر نہیں بلکہ تنوع پر قائم رہی ہے۔ فقہ، حدیث، تفسیر، کلام، تصوف اور فلسفہ کے میدانوں میں صدیوں تک شدید اختلافات موجود رہے، لیکن ان اختلافات کے باوجود علمی نسبتیں باقی رہیں۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ نے امام ابوحنیفہؒ سے بے شمار بنیادی مسائل میں اختلاف کیا، لیکن کسی نے ان کی حنفیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ امام نوویؒ اور امام رافعیؒ کے درمیان اختلافات تھے، مگر دونوں شافعی رہے۔ اشعری اور ماتریدی روایتوں کے اندر صدیوں تک علمی مباحث جاری رہے، لیکن کسی کو اس بنا پر مکتب سے خارج قرار دینے کا سلسلہ کبھی علمی روایت کا حصہ نہیں بنا۔

درحقیقت کوئی بھی علمی مکتب چند جامد آراء کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک زندہ فکری روایت ہوتا ہے۔ زندہ روایتوں کی مثال درختوں کی سی ہوتی ہے، پتھروں کی نہیں۔ درخت کی جڑ ایک ہوتی ہے لیکن اس کی شاخیں بے شمار ہوتی ہیں۔ ہر شاخ کا زاویہ الگ ہوتا ہے، ہر پتہ اپنی سمت میں لہراتا ہے، لیکن اس تنوع کے باوجود درخت اپنی وحدت برقرار رکھتا ہے۔ اگر کوئی مالی اس خیال میں مبتلا ہو جائے کہ جو شاخ اس کی پسندیدہ سمت میں نہ بڑھے اسے کاٹ دیا جائے، تو وہ درخت کی اصلاح نہیں بلکہ اس کی تباہی کا سامان کر رہا ہوتا ہے۔

افسوس کہ بعض حلقوں میں دیوبندیت کو ایک زندہ علمی روایت کے بجائے ایک نظریاتی قلعے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے دروازے پر چند مفتیان کرام بطور دربان کھڑے ہیں۔ جو شخص ان کی پسند کی ہر رائے سے اتفاق کرے وہ اندر ہے، اور جو کسی مسئلے میں اختلاف کر دے وہ باہر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی کوئی عظیم علمی روایت اس اصول پر قائم رہ سکتی ہے؟ کیا علم کی تاریخ میں کسی مکتب نے اپنے ناقدین، مختلف الرائے افراد اور اجتہادی ذہنوں کو خارج کر کے ترقی کی ہے؟

اگر اختلافِ رائے واقعی دیوبندیت سے اخراج کا معیار ہے تو پھر اس معیار کو تمام مسائل پر یکساں طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ دیوبندی اکابر کے درمیان تصویر کے مسئلے پر اختلاف رہا ہے۔ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے بارے میں مختلف آراء موجود رہی ہیں۔ سیاسی شرکت، جمہوریت، قومی ریاست، خواتین کی تعلیم، جدید ذرائع ابلاغ اور بے شمار سماجی و فقہی مسائل میں دیوبندی علماء کے اندر تنوع پایا جاتا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجتماع میں اندرا گاندھی کی شرکت اور ان کا خطاب ایک تاریخی حقیقت ہے، جسے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ فراموش کیا جا سکتا ہے۔ اگر عورت کی تقریر سننا دیوبندیت کے منافی ہے تو کیا اس اجتماع میں شریک ہزاروں علماء کو دیوبندیت سے خارج قرار دیا جائے گا؟ اگر تصویر ہی معیار ہے تو کیا ان تمام علماء کو خارج کیا جائے گا جن کی تصاویر اخبارات، رسائل اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں؟ اگر بعض سیاسی نظریات معیار ہیں تو کیا مختلف جماعتوں اور تحریکوں سے وابستہ تمام افراد ایک دوسرے کو دیوبندیت سے بے دخل کرتے رہیں گے؟

اس منطق کا انجام انتہائی خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو ابتدا میں دوسروں کے گھر جلانے کے لیے روشن کی جاتی ہے لیکن آخرکار اپنے ہی گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اخراج کا یہ سلسلہ اگر جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہر گروہ خود کو ’’اصلی دیوبندی‘‘ اور باقی سب کو منحرف قرار دے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک وسیع علمی روایت درجنوں چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم ہو جائے گی، اور ہر دائرہ اپنے گرد اتنی بلند دیوار کھڑی کر لے گا کہ اس کے اندر ہوا اور روشنی کا گزر بھی مشکل ہو جائے گا۔

اصل سوال یہ نہیں کہ مولانا عبیداللہ سندھیؒ یا قمر احمد عثمانی صاحب یا علامہ حبیب الرحمن کاندھلویؒ نے فلاں مسئلے میں کیا رائے اختیار کی تھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی علمی روایت کے اندر اختلاف کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ اگر موجود ہے تو پھر ان شخصیات کی آراء کو محض اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض معاصر مفتیان ان سے متفق نہیں۔ اور اگر اختلاف کی گنجائش موجود نہیں تو پھر دیوبند کو ایک علمی روایت نہیں بلکہ ایک فکری چھاؤنی قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا، جہاں تحقیق کی جگہ اطاعت اور استدلال کی جگہ تقلیدِ محض مطلوب ہو۔

یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دیوبند بنیادی طور پر ایک تعلیمی ادارہ اور ایک علمی روایت کا نام ہے، کوئی منظم کلیسا نہیں جس کے پاس اخراج اور شمولیت کے سرکاری پروانے ہوں۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرنے والا شخص، یا دیوبندی اکابر کی علمی روایت سے وابستگی رکھنے والا عالم، بہت سے مسائل میں اپنے معاصرین سے اختلاف رکھ سکتا ہے۔ جیسے جامعہ ازہر کے علماء مختلف آراء رکھنے کے باوجود ازہری کہلاتے ہیں، ویسے ہی دیوبندی علماء بھی اختلافات کے باوجود دیوبندی رہ سکتے ہیں۔ علمی نسبتیں فتووں سے نہیں، تاریخ، تربیت، روایت اور فکری تسلسل سے قائم ہوتی ہیں۔

اختلافِ رائے علم کا دشمن نہیں بلکہ اس کی روح ہے۔ جس معاشرے میں سوال اٹھانے کی جرات ختم ہو جائے وہاں تحقیق مر جاتی ہے، اور جہاں تحقیق مر جائے وہاں صرف عقیدت باقی رہ جاتی ہے، علم نہیں۔ قبرستان میں مکمل سکوت ہوتا ہے، کوئی اختلاف نہیں ہوتا، کوئی بحث نہیں ہوتی، کوئی سوال نہیں اٹھتا؛ لیکن اس سکوت کو زندگی نہیں کہا جاتا۔ زندگی کی علامت حرکت ہے، اور حرکت کی علامت اختلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام بڑی علمی روایتوں نے اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے منظم کیا، اس کی تہذیب کی، اور اسے فکری ارتقا کا ذریعہ بنایا۔

میری گزارش صرف اتنی ہے کہ اختلاف کو جرم نہ بنایا جائے، اور مسلکی وابستگی کو چند افراد کی منظوری کا محتاج نہ سمجھا جائے۔ جو لوگ ہر مختلف الرائے شخص کو دیوبندیت سے خارج قرار دینے پر مصر ہیں، انہیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ وہ دراصل دیوبند کی حفاظت کر رہے ہیں یا اس کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم روایتیں اپنی وسعت سے زندہ رہتی ہیں اور اپنی تنگ نظری سے مر جاتی ہیں۔ سمندر اس لیے عظیم ہے کہ وہ بے شمار دریاؤں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے؛ اگر وہ ہر آنے والے دھارے کو مسترد کر دے تو بالآخر خود ایک خشک گڑھا بن کر رہ جائے۔
دیوبند کی اصل قوت اس کی علمی جرات، فکری وسعت، تحقیقی مزاج اور اختلاف کو برداشت کرنے کی روایت میں رہی ہے۔ اگر اس روایت کو برقرار رکھنا ہے تو اخراج کے فتووں کے بجائے مکالمے کی فضا پیدا کرنا ہوگی، الزام کے بجائے استدلال کو فروغ دینا ہوگا، اور مسلکی شناخت کو تنگ دائروں سے نکال کر اس تاریخی وسعت میں دیکھنا ہوگا جس نے دیوبند کو برصغیر کی ایک مؤثر علمی روایت بنایا۔ بصورتِ دیگر، یہ اندیشہ بے جا نہیں کہ کل وہی لوگ جو آج دوسروں کو دیوبندیت سے خارج کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو بھی اسی دائرے سے باہر قرار دینے لگیں، اور پھر سوال یہ باقی رہ جائے کہ آخر دیوبند میں دیوبندی بچا کون؟
م12/6/2026

👍🏽 ✍🏻 📩 📤
*ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔
*📕اردو نصیــــحتیں🌸*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔

*فيــــس بـــك پیـــج لنـــك:*
https://www.facebook.com/UrduNaseehaten/

*واٹـســـپ چـیــنــل:*
https://whatsapp.com/channel/0029VaAyKKF3rZZZt01lW90b

*ٹیــــلی گـــــرام لنـکــــ:*
https://t.me/UrduNaseehaten

13/06/2026

جو دل میں ہے، وہ اللہ جانتا ہے… بس کافی ہے۔ ✨
#خاموشی
#صبر
#احساس
#زندگی

13/06/2026

جو دل میں ہے، وہ اللہ جانتا ہے… بس کافی ہے۔ ✨
#خاموشی
#صبر
#احساس
#زندگی
ُquotes

13/06/2026

مگر قوم کا سردار وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو نادان اور ناسمجھ بنا کر رکھتا ہے...........

*📌تجاهل و تغافل ؛ خوش گوار زندگی کا ایک اہم اصول*

ریاض کے محلے حی الخلیج کی مسجد المدینۃ المنورۃ کے امام عبدالرحمن الباھلی نے، اپنے ایک خطبہ میں، خانگی معاملات میں حد سے زیادہ سیانے پن کا مظاہرہ کرنے، بال کی کھال اتارنے اور شک کے ماحول میں رہنے کے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے ایک واقعہ سنایا: کہتے ہیں:

"میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ساحل پر ٹھہر کر غروبِ آفتاب کا خوب صورت منظر دیکھتے ہوئے اس کے دل میں ایک خیال آیا اور اس نے ایک پریکٹیکل تجربہ کرنے کا ارادہ کیا۔ ڈوبتے سورج سے بنی شفق کی روشنی سے سحر انگیز منظر کی ویڈیو بنائی اور اسی ویڈیو کے درمیان میں اپنی آواز میں پیغام ریکارڈ کرتے ہوئے کہا: میری عالی القدر پیاری بیوی: ان خوب صورت لمحات میں تمہیں یاد کیا، اپنے دل کو تمہارے پیار سے لبریز پایا، اور تم جیسی بیوی کو پانے پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرتے ہوئے الحمد للہ پڑھا"۔

شیخ الباھلی کے مطابق ان کے اس دوست کی دو بیویاں تھٰیں، اس نے وقت بچانے کے لیے یہ کلپ بیک وقت ہی اپنی دونوں بیویوں کو علیحدہ علیحدہ بھیج دیا۔ اس کا مقصد دونوں کے لیے خوبصورت پیغام دینا اور پیار کے جذبات کا اعادہ کرنا تھا۔

کلپ بھیجتے ہی ایک بیوی کا پیغام ملا کہ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھیں، آپ کے چہرے کا نور سلامت رہے، ایمان اور صحت کی سلامتی ملے۔ آمین۔ یاد رکھنے اور بہت ہی پیارا اور خوبصورت کلپ بھیجنے کا بہت بہت شکریہ۔

دوسری بیوی کا بھی اسی لمحے پیغام ملا: یہ کلپ میرے لیے ہی بنایا ہے یا اپنی دوسری چہیتی کے لیے؟ دیکھ لو غلطی سے تو نہیں بھیج دیا مجھے۔

الباھلی کہتے ہیں: اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے: کس نے اس لمحے کو کیش کرایا ہے اور دل جیتا ہے؟ پہلی نے یا دوسری نے؟ دیکھئے: عائلی اور خانگی زندگی میں زیادہ سیان پتی کو چھوڑیے، اپنی زندگی کو جئیں، مزے کو خراب کرنا بند کیجیے۔ کچھ عورتیں اپنی زندگی کو اپنی ضرورت سے زیادہ دانائی کی وجہ سے برباد کرتی ہیں۔ تغابي: نادان اور جاہل بننے کی کوشش کیا کرو، یاد رکھو کہ نادان کبھی بھی اپنی قوم کا سردار نہیں ہوا کرتا مگر قوم کا سردار وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو نادان اور ناسمجھ بنا کر رکھتا ہے۔ (لیس الغبی بسید بقومہ، لکن سید القومہ المتغابی)۔ یعنی وہ سب سمجھتا ہے لیکن چشم پوشی کرتا ہے اور معاملات چلنے دیتا ہے۔ اپنے معاملات کو چلتے رہنے دیا کرو، زیادہ چھان بین اور جانچ پڑتال نہ کیا کرو۔
بشکریہ ڈاکٹر عدنان شہدی

✍ سͩــⷷیⷱــⷱـــ᩺ـد ثــͬمᷧــͫــͣــ᩺ــر احͩــⷷمͫــͪــⷣــد
10 جون, 2026

👍🏽 ✍🏻 📩 📤
*ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔
*📕اردو نصیــــحتیں🌸*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔

*فيــــس بـــك پیـــج لنـــك:*
https://www.facebook.com/UrduNaseehaten/

*واٹـســـپ چـیــنــل:*
https://whatsapp.com/channel/0029VaAyKKF3rZZZt01lW90b
*ٹیــــلی گـــــرام لنـکــــ:*
https://t.me/UrduNaseehaten

13/06/2026
‎N اردو نصیحتیں‎ – WhatsApp channel 12/06/2026

ایمان کی چاشنی ہوتی ہی ایسی ہے کہ جب وہ مل جائے تو دنیا ہیچ لگتی ہے۔ ہمیں بغیر محنت کے یہ ایمانی دولت ملی ہے اس لیے کما حقہ قدر نہیں کرتے۔ جب کبھی کسی وجہ سے اسے چھیننے کی کوشش ہوتی ہے تو آپ محسوس کرتے ہوں گے کہ سینے میں اس کی قوت اور دل میں اس کے انمول ہونے کا احساس قوی ہو گیا ہے۔
ہمارے زیادہ تر اندیشے اس دنیاوی زندگی کے وساوس کے تخلیق کردہ ہیں۔ ہمیں آخرت کی ویسی ہی فکر ہوتی جیسی ہونی چاہیے تو ہمیں اندیشہ ہائے دور دراز اپنی گرفت میں نہیں لیتے۔ یہ گھبراہٹ ایمان کی کمی کا غماز ہے ۔ اسلام کو پھیلنا ہے ، یہ دین بڑھے گا، روکنے کی لاکھ کوششوں کے باوجود یہ پھیلے گا ، لوگ جانوں کی پروا کیے بغیر اسے اپنائیں گے کہ یہی حق ہے، راہ نجات ہے ، ذریعہ سکون ہے اور یہی کامیابی و کامرانی ہے۔
ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ کہیں ہم پر دنیا اتنی تو نہیں حاوی ہو گئی کہ ہم آخرت کے بالمقابل اس کے نقصانات کا زیادہ خیال رکھنے لگے ہیں۔ ملتیں اصول و عقائد اور اقدار و روایات سے پہچانی جاتی ہیں اور اپنا وجود ثابت کرتی ہیں، اس راہ کی پریشانیاں معلوم ہیں لیکن یہی شوکت و عظمت کی بھی راہ ہے۔

*✍🏻 ثناء اللہ صادق تیمی*

👍🏽 ✍🏻 📩 📤
*ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉⁿᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔
*📕اردو نصیــــحتیں🌸*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔

*واٹـســـپ چـیــنــل:*
https://whatsapp.com/channel/0029VaAyKKF3rZZZt01lW90b

*فيــــس بـــك پیـــج لنـــك:*
https://www.facebook.com/UrduNaseehaten/

*ٹیــــلی گـــــرام لنـکــــ:*
https://t.me/UrduNaseehaten

‎N اردو نصیحتیں‎ – WhatsApp channel Follow ‎N اردو نصیحتیں‎'s WhatsApp channel. ‎1️⃣ ذاتی تحریر، یا مضامین ایڈمن کو ارسال کیجئے۔

2️⃣ روزآنہ صرف ایک سے دو پوسٹ کرنے کی کوشش ہوگی، اور کبھی مصروفیت میں تحریر کے لئے معذرت خواہ ہیں۔

3️⃣ اپنی پوسٹ گروپ میں ارسال کرنے کے لئے ایک یاد دہانی کرائیں۔

4️⃣ عوام تک صحیح دینی، علمی، اخلاقی، تربیتی، ادبی اور غیر اختلافی مسائل پہنچانا ہے۔ اِن شاء اللہ

5️⃣ گروپ کے مقصد کی خاص رعایت کرتے ہوئے اختلافی مسائل سے حتی الوسع گریز کیا جائے گا۔

6️⃣ علمی خیانت (مضامین کاپی پیسٹ کرتے وقت مضمون نگار کا نام وغیره) اور چوری سے کلی طور پر بچیں۔

7️⃣ ممبران کو پوسٹ میں غلطی نظر آئے تو اس کی نشان دہی کریں۔
جزاکم اللہ خیرا وبارک اللہ فیکم
😊☺️
Share the 🌹اردو نصیحتیں 📚 channel on WhatsApp:

👍🏽 ✍🏻     📩 📤
*ˡᶦᵏᵉ ᶜᵒᵐᵐᵉnᵗ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔
*📕اردو نصیــــحتیں🌸*
┄┈•※ ͜✤۝✤͜ ※•┄┈۔

*واٹـســـپ چـیــنــل:*
https://whatsapp.com/channel/0029VaAyKKF3rZZZt01lW90b

*فيــــس بـــك پیـــج لنـــك:*
https://www.facebook.com/UrduNaseehaten/

*ٹیــــلی گـــــرام لنـکــــ:*
https://t.me/UrduNaseehaten

10k family members completed. Alhamdulillah 01 August 2025 Juma....‎ Join 39K followers for the latest updates.

12/06/2026

‏"شَمسُ الخَمِيسِ إذَا تَغِيبْ
زِد فِي الصَّلَاةِ عَلىٰ الحَبيبْ."✨

"جمعرات کا سورج جب غروب ہوجائے"
تو محبوب ‏‎ﷺ پر درود کی تعداد بڑھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

ﺍﻟـﻠَّـﻬُـﻢَّ ﺻَـﻞِّ عَلٰی ﻣُـــﺤَـــﻤَّـــﺪٍ
ﻭَعَلٰیﺁﻝ ِﻣُـــﺤَـــﻤَّـــﺪٍ
ﻛَـﻤَـﺎ ﺻَـﻠَّـﻴْـﺖَ
عَلٰیﺇِﺑْـﺮَﺍﻫِـﻴـﻢَﻭَعَلٰیﺁﻝِ ﺇِﺑْـــﺮَﺍﻫِـــﻳـــﻢَ
ﺇِﻧَّـﻚَ ﺣَـﻤِـﻴـﺪٌ ﻣَـــﺠِــﻴــﺪٌ.......

ﺍﻟـﻠَّـﻬُـﻢَّ ﺑَـﺎﺭِﻙْعَلٰیﻣُـــﺤَـــﻤَّـــﺪٍ
ﻭَعَلٰیﺁﻝ ِﻣُـــﺤَـــﻤَّـــﺪٍ
ﻛَـﻤَـﺎ ﺑَـﺎﺭَﻛْـﺖَ
عَلٰی ﺇِﺑْــﺮَﺍﻫِــﻴــﻢَﻭَعَلٰیﺁﻝِ ﺇِﺑْــﺮَﺍﻫِــﻴــﻢَ
ﺇِﻧَّـﻚَ ﺣَـﻤِـﻴـﺪٌ ﻣَـــﺠِــﻴــﺪٌ.......

09/06/2026

کبھی کبھی خاموشی سب سے گہری بات کہہ دیتی ہے۔ لفظ تو صرف آواز ہوتے ہیں، مگر احساس دل کی زبان میں بولتے ہیں۔ انسان ہنستا بھی ہے، مسکراتا بھی ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

ہم سب اپنی اپنی کہانی کے مسافر ہیں۔ کچھ لوگ راستے میں ملتے ہیں، ساتھ چلتے ہیں، اور پھر اچانک کہیں کھو جاتے ہیں۔ مگر وہ اپنی یادوں کے نقوش دل پر چھوڑ جاتے ہیں، جو کبھی مٹتے نہیں۔

زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر چیز ہمیشہ نہیں رہتی، مگر ہر لمحہ ایک سبق بن کر رہ جاتا ہے۔ اس لیے جیو، محسوس کرو، اور ہر چھوٹی خوشی کو دل سے قبول کرو—کیونکہ یہی لمحے اصل زندگی ہیں۔

09/06/2026

https://whatsapp.com/channel/0029VaAyKKF3rZZZt01lW90b

اے نوجوانو!

اے نوجوانو! ذرا اپنی حالت تو دیکھو! آپ ارد گرد احوال کا جائزہ تو لو!
اپنے دن رات کے اوقات کو دیکھو! اپنی ڈھلتی عمر دیکھو! دیکھو تم مال میں سے اپنے رب کے لیے کیا خرچ کررہے ہو؟! اپنی حد درجہ لاپرواہی دیکھو رب العالمين کے اس فرمان سے :
الذاريات آیت نمبر 56

وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ ۞
میں نے جنات اور انسانوں کو محض اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔

اے نوجوانو کی جماعت! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمایا : روز قیامت بندے کے قدم اپنی جگہ سے اس وقت نہ ہل سکیں گے جب تک اس سے سوال نہ کرلیا جائے اسکی عمر کے بارے میں کہ اس نے ساری زندگی کہاں گلا دیا؟ اسکی صحت کے بارے میں!
اسکی عافيت کے بارے میں پوچھا جائے گا!
اسکے مال کے متعلق پوچھا جائے گا؟!
اے جوانو!
یقیناً تم اپنی امت کے سب گھٹیا افراد میں شامل ہو گئے اور تم نے اپنی سربلند امت کو بالکل نچلے اور ذلت کے مقام پر پہنچا دیا ہے رب العالمين کے احکامات کی نافرمانی کی وجہ سے اور مولا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے غفلت و روگردانی کرنے کی وجہ سے اور قرآن کریم کی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے اور سنت نبی کے ساتھ زندگی میں عدم میں بیداری کی وجہ سے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Nashik?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Malegaon
Nashik