خانقاہ تیغیہ علائیہ چکنا شریف مظفرپور
Official Page of Khanquah_e Alaiya Chakna Shareef, Saraiya Kothi, Muzaffarpur
کیف و روحانیت کی جلو میں چند گھڑیاں !!!
15/ اکتوبر کی شام ہمارے لیے نویدِ جاں فزا بن کر آئی جب میرے عزیز بلکہ ہر دل عزیز سخن ور محترم فارح مظفر پوری نے فون پر ہمیں بتایا کہ اگلے ماہ 24/ نومبر کو نانا جان ارشاد الطالبین، علاء الملۃ و الدین حضرت شاہ طالب القادری علیہ الرحمہ و الرضوان کے عرس سراپا قدس کے حسین موقع سے دوسرا سالانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آئے گا جس میں آپ کی شرکت لازمی ہے ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ علاقائی شعرا کے ساتھ ساتھ مہمان خصوصی کے طور پر دو اہم شخصیات محترم ڈاکٹر منصور فریدی اور مفتی کلیم مصباحی پوکھریروی بھی تشریف لا رہے ہیں ۔ فارح صاحب خود ایک وسیع الظرف، محبت نواز اور عجز پیکر شخص ہیں بھلا ان کی محبت اور خلوص سے لب ریز دعوت پر کیسے انکار کر سکتا تھا ان کے محبت نامے کو بہ صد جاں قبول کر لیا اور مشاعرے میں حاضری کی ہامی بھردی ۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے، عمر یونہی تمام ہوتی ہے کے مصداق دن گزرتے رہے شام ہوتی رہی اور 24/ نومبر کی تاریخ آ گئی ۔ 23/نومبر کو شام کے وقت فارح صاحب نے فون کیا اور یاد دہانی کرائی کل مشاعرہ ہے اور مشاعرے کا آغاز صبح نو بجے سے ہونا ہے لہذا وقتِ مقررہ پر تشریف لانے کی کوشش کریں چوں کہ اس بار سردی کی ستم ظریفی معمول سے ذرا پہلے ہی شروع ہو چکی ہے ہم نے معذرت چاہتے ہوئے کچھ تاخیر سے پہنچنے کی اجازت مانگی مگر یہ ان کا حکم تھا محبت آمیز حکم جس کی تعمیل ضروری تھی ۔ 24/ نومبر کی صبح ہم ابھی چکنا شریف کے لیے نکلنے ہی والے تھے کہ محترم شبنم رضوی صاحب کا فون آیا آپ جلد سے جلد نکلیں ہم لوگ نکل چکے ہیں بیس پچیس منٹ سفر کرنے کے بعد سلسلہ تیغیہ کے ایک بزرگ محبوب الاولیا صوفی محمد حسین تیغی علیہ الرحمہ کے دیار پربہار بگہیں شریف پہنچے جہاں پہلے سے شبنم صاحب اپنے شریکِ سفر ثناخوانِ خوش گلو محترم سید نورانی حلیمی کے ساتھ ہمارے منتظر تھے ۔ یہاں سے ہمارا سہ نفری قافلہ چکنا شریف کے لیے رواں دواں ہوا ۔ بےچھت کی سواری پر سوار ہوکر اور صبح کی خنک آمیز ہواؤں اور سرد لہروں سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہم چکنا شریف کی روحانی و عرفانی فضاؤں میں سانس لے رہے تھے ۔ اولاً مفتی کلیم مصباحی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا پھر محترم فارح صاحب زرق برق لباس میں ملبوس بادلوں کی اوٹ میں روپوش چاند کی طرح اچانک ہماری نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوئے اور مصافحہ ؤ معانقہ سے شرف لقا بخشا ۔ ابھی ہم بیٹھے چائے بسکٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے محوِ گفتگو تھے کہ ادیبِ ربّانی، عطائے آلِ رسول ڈاکٹر منصور فریدی صاحب عالمانہ شان اور پروفیسرانہ وقار کے ساتھ سفید کرتا پاجامہ اس کے اوپر نیلی بلیزر اور سر پہ افغانی ٹوپی پہنے اور آنکھوں پر خوب صورت عینک لگائے محترم غلام مصطفیٰ جامی کے ہم راہ ہمارے کمرے میں فروکش ہوئے ان کے فاخرانہ ملبوس اور لبوں پر تیرتی مسکراہٹ کی سحر انگیزیوں سے متاثر ہوتے ہوئے ہم نے آگے بڑھ کر ان سے سلام و مصافحہ کی سعادت حاصل کی ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنے گلے سے لگا کر اصاغر نوازی اور خلوص کیشی کی شمع روشن کی ۔ ابھی ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ نواسہ علائے ملت محترم وقار اعظم بہاری تشریف لائے اور کہا کہ تمامی حضرات ناشتہ کے لیے تیار ہوجائیں ہم نے یونہی کہا بھئی! ہم لوگوں نے تو ابھی ابھی ناشتہ کیا ہے ۔ انھوں نے قہقہہ آمیز انداز میں ہنستے ہوئے فرمایا: جناب! وہ ”ناشتی“ تھا یہ ”ناشتہ“ ہے ۔ ان کے اس برجستہ اور ظریفانہ جملے کو سن کر ہم بھی اپنی ہنسی نہیں روک سکے ۔ وقار صاحب کے فرمود کے مطابق دسترخوان بچھایا گیا اور شان دار قسم کے لحم البقرہ اور باقر خوانی سے لذتِ کام و دہن کا اہتمام کیا گیا ۔ چوں کہ اب نو بج چکے تھے اور مشاعرہ کا وقت ہو گیا تھا فارح صاحب آئے اور مدعو شعرا کو اپنے ساتھ لےکر اسٹیج پر چلے گئے اور 9/ بجے سے باضابطہ طور پر مشاعرہ کا آغاز ہو گیا ۔ علاقائی شعرا میں اولاً شاہد رضا ویشالوی، وقار اعظم بہاری، عاطر علائی اور مولانا راجی مصباحی نے اپنے اپنے کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا ۔ بعدہ نقیبِ شہیر غلام مصطفیٰ جامی نے نظامت کی کمان سنبھالی اور مہمان شعرا میں احمد ضیا، عاقب چشتی اور سید نورانی حلیمی کو ایک ایک کرکے برسرِ مائک کرتے رہے ۔ ضیا صاحب نے اپنے مخصوص مترنم انداز میں نغمہ عقیدت گنگنا کر سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، عاقب صاحب نے اپنی شاعری کے انفرادی پہلو کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اشعار میں جا بہ ہندی الفاظ کا استعمال کرکے جہاں اہلِ ذوق کو محظوظ کیا اہلِ اسٹیج کی خصوصی داد سمیٹنے میں کام رہے، وہیں شہزادہ نغمگیت، شاہ کارِ غنائیت محترم سید نوارانی حلیمی نے اپنی کلاسیکی اور دل کش و مدہوش کن آواز و انداز میں سازِ عقیدت چھیڑ کر پوری محفل کو وجد کرنے پر مجبور کر دیا ان کی کام یابی اور پذیرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود صاحبِ سجادہ قبلہ شاہ شہاب الدین فاخر القادری حفظہ الباری نے سید صاحب کو اپنے گلے سے لگا کر حوصلہ افزائی کی اور خوب داد و تحسین سے نوازا ۔ اب نظامت کی باگ ڈور فارح صاحب کے ہاتھوں میں تھی ۔ فارح نے پہلے غلام مصطفیٰ جامی کو دعوتِ سخن دی ۔ جامی نے اپنی بولڈ اور دھماکہ خیز آواز و انداز میں اشعار پیش کرکے خوب داد بٹوری ۔ بعدہ فارح نے اس شکستہ انداز اور نحیف الجثہ کو سامعین کی عدالت میں کھڑا کیا چند منٹ ہم نے بھی سمع خراشی کی کوشش کی اور دامنِ مراد کو گلہائے عقیدت سے پُر کیا ۔ اب باری تھی آسمانِ سخن پر اپنی شاعرانہ کرنیں بکھیرنے والے آفتاب و ماہتاب کی ۔ نومبر کے آخری ایام ہیں ۔ دن کا پہلا پہر اپنے شباب پر ہے ۔ آسمان میں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہے اور اپنی ضیائیں بکھیر رہا ہے مگر نومبر کی خنک آمیز فضائیں اپنے مقراضِ اعتدال سے دھوپ کی شدت کے پر کتر کر تن من میں لطف باری کا رنگ بھر رہی ہیں ۔ آگے سے لے کر پیچھے تک پورا صحن عقیدت مندوں اور ذوق آشناؤں سے بھرا ہوا ہے ۔ اسٹیج کے دائیں جانب صاحب عرس کا آستانہ ہے جو بزم عقیدت کی رونق افزائی اور حسن و زیبائی میں چار چاند لگا رہا ہے سر پر کپڑے کے شامیانہ کی بہ جائے چمکیلے جھالروں کی چادر تان دی گئی ہے اس کی اوٹ سے چھن چھن کر آ رہی سورج کی دھوپ جہاں جسم و جاں میں حرارت کا احساس کرا رہی ہے صاحب عرس کے دم قدم سے ہو رہی کیف و روحانیت کی موسلادھار بارش سے روح تک شرابور ہوئی جا رہی ہے گویا کچھ ایسا سماں بندھ چکا ہے جہاں چہار سمت نور ہی نور ہے، رنگ ہی رنگ ہے، کیف ہی کیف ہے، لطف ہی لطف ہے اور عشق و عرفان کی جلوہ ریزیاں ہیں ۔ ایسے نورانی و روحانی ماحول میں فارح صاحب نے نہایت ادب و خلوص کے ساتھ انتہائی سادہ لباس میں مزین ایک سادہ لوح اور عجز کے پتلے کو زحمتِ سخن دی اس شخصیت نے برسرِ مائک جلوہ افرز ہوکر خاموش سمندر کی روانی کی مانند اپنے دھیمے اور متین لہجے میں مطلع پیش کیا ؎
چراغِ شوقِ زیارت جلا رہا ہوں میں
شبِ فراق کی ظلمت مٹا رہا ہوں میں
ان کا مطلع جیسے ہی افقِ سماعت پر طلوع بار ہوا پورے مجمع کو اپنی چکاچوندھ میں نہا گیا ہر طرف سے واہ واہ کی صدائیں بلند ہونے لگی اور تحسین و آفرین کے گل برسنے لگے ۔ اپنی سادگی سے دلکشی و رنگینی کا رنگ لٹانے والے یہ شخص کوئی اور نہیں صاحبِ 'خورشیدِ رسالت' کلیم الشعرا مفتی کلیم مصباحی پوکھریروی تھے ۔ ان کا شعری سفر از اول تا آخر اسی رنگ میں منزل آشنا ہوا ۔ ان کے لہجے کی متانت اور اسلوب کی سنجیدگی سے محسوس ہو رہا تھا جیسے چودہویں کا چاند آسمان پر نور بار ہے اور اس کی نکھری نکھری اور ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی دل کو گد گدا رہی ہے ۔ اب ناظم مشاعرہ محترم فارح صاحب نے مہمانِ خصوصی کے طور بزم میں میرِ کارواں کی حیثیت سے جلوہ آرا ادیبِ ربّانی، سلطان الشعرا ڈاکٹر منصور فریدی گیاوی کو آوازِ محبت دی ۔ ڈاکٹر صاحب مائک پر تشریف لائے اور اپنے مخصوص و منفرد اور البیلے لہجے میں مطلع سامعین کے گوش گزار فرمایا ؎
اس انتظار میں تو بارہا رہا ہوں میں
وہ ایک بار یہ کہ دیں بلا رہا ہوں میں
آئے ہائے کیا غضب کا مطلع پیش فرمایا ۔ مطلع کی سادگی و شگفتی نے ایسی قیامت برپا کی کہ دیکھنے والی آنکھیں اس کے صلے میں ملنے والی داد و دہش کے منظر کو شاید کبھی نہ بھول پائیں ۔ کیا عام کیا خاص، کیا چھوٹا کیا بڑا، کیا اپنے کیا بیگانے پورا مجمع ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر مطلع کا استقبال کر رہا تھا بلکہ خود صاحبِ سجادہ نے کھڑے ہوکر ڈاکٹر صاحب کو اپنے سینے سے لگا لیا اور خوب پذیرائی فرمائی اور برسرِ مائک آکر عجز و خلوص اور سرشاری و بےخودی کی ملی جلی کیفیت میں کہے گئے اس شعر پر تبصرانہ خیال کا اظہار بھی فرمایا ۔ گویا سلسلہ فریدیہ کے ایک فرہاد کی آرزو تھی کہ سرکاران تیغیت کی بارگاہ میں شرفِ باریابی حاصل ہو جس کی تکمیل کی سند دربارِ علائی میں عطا کی جا رہی تھی ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا شعری سفر اپنے ہی انداز میں اختتام پذیر کیا ۔ کلام پیش کرنے کے بعد ان کی تہ دار شخصیت کے حوالے سے ذہن و فکر میں یہ تاثر ابھر رہا تھا جیسے کڑاکے کی سردی میں جب موسم یخ بستہ ہو اور ہر طرف کہرے کی دبیز چادر بچھی ہوئی ہو پھر سورج فاتحانہ شان سے طلوع ہوکر موسم کا مزج تبدیل کردے اور پوری فضا کو اپنی شعاعوں سے نور بار و لطف بار کردے ۔ ڈاکٹر صاحب بھی مائیک پر اسی شان سے جلوہ گر ہوئے اور اپنے وجود کی کرنوں سے پوری محفل کو منور و مجلیٰ بنا دیا ۔ ہم نے پوسٹر میں مہمان شعرا کا نام جس طور دیکھا کہ چاروں طرف سے ستاروں کی کہکشاں آباد ہے اور ان کے درمیان ڈاکٹر صاحب اور مفتی صاحب کے نام آفتاب و ماہتاب کی مانند جگمگا رہے ہیں برسرِ محفل بھی یہی نظارا دیکھا کہ مذکورہ بالا دونوں شخصیات آفتاب و ماہتاب کی طرح بزم میں رونق افروز ہیں اور جب مائک پر آکر شاعرانہ داد دی تو ایک سورج کی طرح چھا گئے اور ایک چاند کی طرح جگمگا گئے ۔ ان حضرات کے بعد قبلہ فاتح چشتی صاحب مائک پر آئے اور تشکراتی و تبصراتی کلمات کے ساتھ اپنے فاتحانہ کلام سے جہاں حاضرین کا دل فتح کیا اپنی میزبانیت کا حق بھی ادا کیا ۔ پھر فارح صاحب نے اس سلسلے کی آخری کڑی کے طور پر محبوب الشعرا محترم افضل مظفرپوری صاحب کو مدعو کیا موصوف نے نغماتِ عقیدت پیش کرکے سامعین کے ذوق سماعت کو کیف و سرور سے ہم آہنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ چوں کہ بارہ بج کر بیس منٹ پر قل شریف کی تقریب منعقد ہونا تھی صاحب سجادہ نے آئے ہوئے مہمان و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور صلاۃ و سلام کے ساتھ محفل اختتام پذیر ہوئی ۔ بعدہ قل شریف کی تقریب کا اہتمام ہوا اور سارے لوگوں نے خلوص و عقیدت کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کا شرف حاصل کیا ۔ ابھی ہم تقریبِ قل سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ فارح صاحب تشریف لائے اور ہمیں خانقاہ شریف میں لے گئے وہاں دسترخوان بچھائی گئی اور ظہرانہ کے طور پر 'مرغ بریانی' سے شکم سیری کے ساتھ لطف سامانی کا اہتمام کیا گیا ۔ اس مجلسِ لطف میں ہمارے ساتھ ڈاکٹر فریدی صاحب، مفتی کلیم صاحب، مفتی شاہد صاحب، علامہ فاتح صاحب، عاقب چشتی صاحب، غلام مصطفیٰ جامی اور محترم احمد ضیا صاحب بھی شریکِ سفر تھے ۔ جس وقت ہم علائی لنگر سے لذتِ کام و دہن کا اہتمام کر رہے تھے سید نورانی کا مشاعرے میں پڑھا گیا مقبول و منظور شعر بار بار ذہن کی اسکرین پر ابھر رہا تھا ؎
کہاں وہ شاہِ زمانہ کے کھان پان میں ہے
مزا جو طالبی لنگر میں پا رہا ہوں میں
اب دو بج چکے تھے اور روانگی کی تیاری ہو رہی تھی صاحب سجادہ نے مدعو شعرا کو ایک ایک کرکے حسبِ منزل زادِ سفر اور خانقاہ کے زیر اہتمام اشاعت پذیر چند کتب سے نواز کر پروانہ رخصت عطا کیا اور سارے احباب ایک دوسرے سے مل کر روانگی کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے ۔
دورانِ مشاعرہ ڈاکٹر منصور فریدی صاحب نے مفتی کلیم احمد مصباحی کو ان کی تالیف 'خورشید رسالت' کی پاداش میں بہ شکل طغریٰ منظوم سپاس نامہ ہدیہ کیا کسی صاحب علم کا علمی کارنامہ انجام دینے پر اس انداز میں ہمت افزائی کے چراغ روشن کرنے کا یہ طریقہ بہت پسند آیا ۔ اسی طرح جس وقت ہم صاحبِ سجادہ مولانا شاہ شہاب الدین فاخر القادری سے پروانہ رخصت حاصل کر رہے تھے حضرت نے چار عدد کتابیں ہمیں تحفتاً عطا فرمائیں ۔ 'حیات طالب، انوار طالب، فیضان طالب اور سوغات میلاد ۔ ان کی جانب سے عطا کردہ یہ علمی تحفے اس بات کی دلیل ہیں کہ ان کا خانوادہ صرف پیری مریدی اور ظاہری تصوف کے دکھاوا کا خوگر نہیں بلکہ عشق و عرفان، علم و عمل اور شعر و ادب کا شیدائی ہے ۔ وقتِ ملاقات مفتی کلیم مصباحی نے مجھ سمیت کئی احباب کو اپنی گراں قدر علمی کاوش 'خورشید رسالت' ہمارے ذوق مطالعہ کی نذر فرمائی اس علمی سوغات کے حصول پر ہم تہ دل سے ان کے ممنون ہیں اور کتاب پر اظہار خیال کے مقروض بھی بعد مطالعہ اس پر روشنی ڈالی جائے گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
وقتِ وداع جب احباب ایک دوسرے سے مل کر روانگی کے لیے پرُ عزم تھے محترم شبنم صاحب نے 'بےوفا چائے اسٹال' کا تذکرہ چھیڑ دیا ( یہ خانقاہ شریف سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر قلبِ شہر ( سریاں کوٹھی) میں واقع چائے کی کوئی مشہور دکان ہے جہاں گزشتہ سال احباب باصواب نے لطف و لذت سے ہم کناری کا شرف حاصل کیا تھا ) قبلہ فاتح صاحب نے فرمایا : سارے احباب بےوفا چائے والے کے یہاں تشریف لے چلیں وہیں چائے کے جام سے سیرابیِ روح کا سامان ہوگا پھر سب لوگ اپنی اپنی منزل کے لیے ہم رکاب سفر ہوں گے ۔ ڈاکٹر منصور فریدی، مفتی کلیم مصباحی، حضرت فاتح چشتی، فارح مظفر پوری، غلام مصطفیٰ جامی، محبوب شبنم اور سید نورانی حلیمی کے ہم راہ ہمارا کارواں خراماں خراماں شہر پہنچا اولاً تو شہر میں بےپناہ جام کا نظارا دیکھ کر طبیعت ذرا گھبرائی تاہم بھیڑ بھاڑ کی صفوں کو چیرتے اور گرتے پڑتے 'بےوفا ٹی اسٹال' پہنچ گئے یہاں پہنچنے کے بعد معلوم ہوا ابھی میخانے میں تالا پڑا ہے اور رند و ساقی نہ دارد ہیں ۔ 'بےوفا چائے' کی اس بےوفائی نے ہمارے ارمانوں کا خون کردیا اور ہمارے لبوں پر بےساختہ یہ شعر مچلنے لگا ؎
یہ اداے بےنیازی تجھے بےوفا مبارک
تونے ایسی بےرخی کی کہ سلام تک نہ پہنچے
خیر ! یہ 'بےوفا ٹی اسٹال' تھا جس نے عارضی طور ہمیں بےوفائی کے زخم دیے لیکن جس میکدہ عقیدت سے سیراب ہوکر ہم واپس ہو رہے تھے اس کے روحِ رواں حضور صاحبِ سجادہ اور خادمین و شہزادگان کی وفا شعاری، خلوص پیمائی، مہمان نوازی، اور قدر افزائی آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔ یہ تاریخی مشاعرہ ڈاکٹر منصور فریدی کے شاعرانہ تیور، مفتی کلیم کے کلیمانہ انداز، سید نورانی کے مسحور کن لہجے، جامی کے جداگانہ آہنگ اور دیگر شعرا و سامعین کی سماعت کے حیرت انگیز رنگ کے سبب برسوں یادوں کے البم میں جگمگاتا رہے گا اور دیارِ علائی کی بافیض نگری میں 'کیف و روحانیت کی جلو میں گزری یہ چند گھڑیاں' ہمارے وجدان و تیقن میں اجالے بھرتی رہیں گی ۔ دعا ہے ربِ کریم عشق و عقیدت کی اس بھٹی کو سلامت رکھے اور اس میں تپنے والے ہر فردِ سلیم کو انمول پارس بنائے ۔ آمین
خوشا مجلس و مسجد و خانقاہے
کہ در وے بود قیل و قالِ محمد ﷺ
شہر پہنچنے کے بعد چوں کہ مفتی کلیم صاحب کو سیتامڑھی کے لیے بس پکڑنی تھی وہ وہیں رک گئے باقی احباب اپنی اپنی منزل کے لیے احمد فراز کا یہ شعر گنگناتے ہوئے عازمِ سفر ہوگئے ؎
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
عجب سفر ہے کہ بس ہم سفر دیکھتے ہیں
____________________________
رشحاتِ خامہ
انجم کمالی قادری نیپالی
٣٠\ نومبر ٢٠٢٥
بروز یک شنبہ
26/11/2025
رپورٹ ۔ عاقب چشتی
26/11/2025
عرس علائی کی خبر آج کے اخبار میں
رپورٹ ۔ عاقب چشتی
25/11/2025
مظفرپور
رپورٹ ۔ عاقب چشتی
اردو زبان و ادب سے آشنائی وقت کی اہم ترین ضرورت ۔ مولانا شہاب الدین علائی
خانقاہ علائیہ چکنا شریف میں بموقع عرس منعقد ہوا دوسرا سالانہ طرحی مشاعرہ
خانقاہ تیغیہ علائیہ چکنا شریف سریاں مظفرپور کے زیر اہتمام حضرت مولانا صوفی علاءالدین الدین شاہ طالب القادری علیہ الرحمہ کے عرس کے موقع سے دوسرا سالانہ طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی سرپرستی خانقاہ علائیہ کے سجادہ نشیں پیر طریقت حضرت علامہ شہاب الدین قادری تیغی علائی نے فرمائی اور صدارت فاتح شعر و سخن استاذ الشعراء حضرت علامہ غلام غوث فاتح چشتی نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض نقیب اہل سنت حضرت غلام مصطفٰی جامی الہ آبادی نے انجام دیے۔ اس موقع سے پیر طریقت حضرت علامہ شہاب الدین فاخر القادری نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے اردو زبان کو گھر گھر پہونچایا اور اپنی روحانی محافل کی اس کو زینت بناکر رکھا۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کی تعلیم کو عام کریں اور ہم اپنے بچوں کو اس پیاری زبان کی تعلیم دلائیں تاکہ اپنی تاریخ کی حفاظت کرنے کا سلیقہ ہمارے بچوں کو آجائے اور اس کو عام بول چال کی زبان بنالیں۔ ڈاکٹر منصور فریدی نے کہا کہ اولیائے کاملین نے دین و ملت کے ساتھ ساتھ یہاں کی زبانوں کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے آستانے مرجع خلائق بنے ہوئے ہیں۔ مفتی کلیم احمد رضوی نے کہا کہ اردو زبان و ادب اب بین الاقوامی شناخت حاصل کر چکی ہے۔ اپنے آباء و اجداد کی تاریخ کو جاننے اور اس کی حفاظت کے لیے اردو زبان کی تعلیم نہایت ضروری ہے۔ مفتی غلام غوث فاتح چشتی نے کہا کہ حضرت طالب القادری علیہ الرحمہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم دین، بہت بڑے شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت و طریقت کے تاجدار تھے۔ آپ نے نہایت سادگی و سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی گذاری اور دین کی تبلیغ و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس موقع سے طرحی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں ریاست کے نامور شعراء نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین خوب خوب محظوظ کیا۔ کچھ شعراء کے منتخب اشعار قارئین کی نذر ہے۔
نہ جانے کون سے رستے سے آپ آجائیں
ہر ایک راہ میں پلکیں بچھا رہا ہوں میں
فاتح چشتی
یقیں ہے چشم کرم ہوگی آج طالب کی
جگر کے داغ انھیں کو دکھا رہا ہوں میں
انجم کمالی
سراپا نقش ہے مرشد کا اس قدر دل میں
برائے دید فقط سر جھکا رہا ہوں میں
راجی مصباحی
نگاہِ خضر کی تاثیر مل گئی ہے مجھے
چراغ آبِ رواں پر جلا رہا ہوں میں
ڈاکٹر منصور فریدی
نقش نعل محمد سجا کے ماتھے کو
توجہات کا مرکز بنا رہا ہوں میں
فارح مظفرپوری
کیا ہے موم مجھے ان کے عشق نے ورنہ
غرور سنگ! ترا آئنہ رہا ہوں میں
کلیم احمد مصباحی
سخنوری سے ہوں ناآشنا مگرنانا
تری عطا سے یہ ہمت دکھا رہا ہوں میں
وقار اعظم بہاری
تخیلات میں روضے کی جالیاں لا کر
تصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میں
نادم علائی
مِری حیات بھی کندن ہی بن کے گزرے گی
علائی بھٹّی میں خود کو تٙپا رہا ہوں میں
غلام رسول احمد ضیا
وصال طیبہ کی لذت میں شادماں ہے کوئی
فراق طیبہ میں آنسو بہا رہا ہوں میں
سید نورانی میاں حلیمی
سراپا عشق میں ڈھل کر درود پڑھ پڑھ کر
در حضور سے قربت بڑھا رہا ہوں میں
محبوب شبنم مہسوی
پریم، پیار کا سرمہ لگا رہا ہوں میں
پوتر چرنوں میں سر کو جھکا رہا ہوں میں
عاقب چشتی
اس موقع سے مولانا غلام جیلانی مصباحی، مولانا کمال الدین رضوی، مولانا معین الدین نوری، مولانا صلاح الدین رضوی، الحاج محمد ادریس، محمد شبیر، غلام سرور، محمد اجمل، محمد حشمت، فیروز عالم، محمد ریاض، محمد سراج سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔
25/11/2025
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Muzaffarpur
26/11/2025