میں کسی مولانا سے شادی کروں گی
"اس کی مت ماری گئی ہے ، بے وقوف لڑکی ۔ اسی لیے اسے ایم ایس سی کرائی تھی کہ یہ اس قسم کی بات کرے گی" خیر النساء کا غصہ بھڑکا ہوا تھا ۔
"تعجب تو مجھے بھی ہو رہا ہے ، دنیا کی تلخ حقیقتوں سے ناواقف یہ نادان لڑکی ، آخر کسی مولوی کے ساتھ دشواریوں کو کس طرح جھیل پائے گی"
باپ امین الحسن کے چہرے پر فکر کی گہری لکیریں پھیلتی جارہی تھیں ۔
سنئیے سونو کے ابو ، میں تو سمجھا کر تھک چکی ہوں ، الٹے مجھے سمجھانے لگ جارہی ہے ، اللہ رسول کے کیا کیا حوالے پیش کرنے لگتی ہے ، ایسے میں بھلا اس سے کیا کوئی معقول بات کی جاسکتی ہے ؟ آپ ہی اسے سمجھائیے ۔
خیرو ، تو گھبرا مت ، میں اسے سمجھاتا ہوں ۔ وہ میری بیٹی ہے ، تعلیم یافتہ ہے ۔ سمجھ جائے گی۔
خیر النساء اور امین الحسن بستر پر دراز ہوگئے اور دونوں اسی فکر میں غرق تھے کہ آخر ان کی بیٹی ناعمہ کا کیا ہوگا ۔
رشتہ انجینئر لڑکے کا آیا تھا ، وہ خلیج میں کسی بین الاقوامی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا، اس کے پاس فیملی ویزا تھا ، تنخواہ بہت اچھی تھی اور معروف خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ ایک ایک فرد کو رشتہ پسند تھا ، امین الحسن تو اس رشتے سے زیادہ ہی خوش تھے ۔ خیرو، تیری بیٹی راج کرے گی راج ، لڑکے کے پاس فیملی ویزا ہے ، ارے ادھر اس کا نکاح ہوا اور ادھر اڑ جائے گی تیری ناعمہ ، شہر میں چار کمرے کا فلیٹ لے کر رہتا ہے وہ ، کمپنی کی طرف سے بہترین گاڑی ملی ہوئی ہے ، اس کے نیچے کتنے سو ملازم کام کرتے ہیں۔ خوش قسمت ہے تیری ناعمو ، دیکھ ماشاءاللہ کیا رشتہ آیا ہے ۔ تصویر دیکھی ہے تو نے لڑکے کی ؟ ارے پرنس لگتا ہے ماشاءاللہ ۔ عرب شہزادے سے کم نہیں ۔
خیر النساء بھی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی ، اس کی خوشیاں اس کی نگاہوں کی چمک سے ہویدا تھیں ، خوشی کا تو یہ عالم تھا کہ وہ ٹھیک سے الفاظ تک ادا نہیں کر پارہی تھی ۔ امین الحسن سے کہہ رہی تھی : بس جی ، اب اللہ کے لیے جلدی جلدی تیاری شروع کردیجیے اور اللہ سے دعا کیجیے کہ رشتے کو کسی کی بری نظر نہ لگے ۔ میں نے تو تصویر ناعمہ کے کمرے میں رکھ دی ہے ، کسی وقت دیکھ ہی لے گی وہ بھی ۔ بہت خوش نصیب ہے ہماری گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دوسرے دن ماں نے اس سے اس تصویر کے بارے میں پوچھا تھا اور اس کے جواب سے حیرت ہی میں پڑ گئی تھی ۔
ناعمہ : امی ، مجھے لڑکے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ میں کسی عالم دین مولانا لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔
خیرالنساء : یہ تو کیا بکواس کررہی ہے ۔ تیرے ابو اس رشتے سے کتنے خوش ہیں ، تمہیں کچھ پتہ ہے؟ مولانا سے شادی کرے گی ، بے وقوف لڑکی! پہلے یہ تو جاننا چاہیے تھا کہ یہ لڑکا کیا کرتا ہے ، انجینئر ہے ، خلیج میں نوکری کرتا ہے ، لاکھوں کا مہینہ کماتا ہے ، کتنے سو ملازمین اس کے اندر کام کرتے ہیں ، فیملی ویزا ہے اس کے پاس ۔ چار کمرے کا فلیٹ لے کر رہتا ہے ، بہترین گاڑی ہے اور ۔۔۔۔۔
ناعمہ : امی ، یہ سب ٹھیک ہے ، لیکن اس کے چہرے سے دینداری تو نہیں جھلک رہی؟ مجھے دیندار لڑکا چاہیے ۔
خیر النساء : تیرا دماغ کھسک گیا ہے کیا ؟ یہ کیا دینداری دینداری کی رٹ لگا رکھی ہے ، اس کو چھوڑ کے تو چار ہزار پانچ ہزار والے کسی مولوی سے بندھنا چاہتی ہے۔ کیا کرے گا کوئی مولوی تیرے لیے ۔ پاگل کہیں کی ۔ کس نے تمہیں الٹا سیدھا سمجھا دیا ہے ؟
ناعمہ : امی کسی نے کچھ نہیں سمجھایا ۔ میں کسی مولانا سے اس لیے شادی کرنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنا حق بھی جانتا ہے اور بیوی کا بھی ۔ وہ حقوق مانگتا ہے تو حقوق ادا بھی کرتا ہے ۔ وہ امانتدار ہوتا ہے ، وہ بدنظر نہیں ہوتا ، وہ محبت صرف مجھ سے کرے گا اور روزی تو بہرحال لکھی ہوئی ہے وہ تو جتنی ملنی ہوگی مل کر رہے گی ۔
خیر النساء : تیرے باپ کو کتنا صدمہ ہوگا جب وہ یہ سب سنیں گے ۔ کیسا اچھا بھلا رشتہ آیا تھا ، ارے ایسے رشتے اب ملتے کہاں ہیں ۔ بے وقوف لڑکی کہیں کی ۔۔۔۔۔
ناعمہ : امی یہ اچھا رشتہ کتنے پیسوں میں طے ہوگا ؟ لاکھوں کمانے والا کتنے لاکھ کی مانگ کرے گا ، یہ بھی معلوم ہے نا ؟
خیر النساء : یہ تیرا مسئلہ ہے یا تیرے والدین کا مسئلہ ہے ؟ شادی میں تو آج کے زمانے میں پیسے خرچ ہوتے ہی ہیں ۔ اس میں ایسی کون سی نئی بات ہے ؟ تو زيادہ دلیلیں مت بگھار سمجھی ۔
ناعمہ : امی آج کے زمانے میں بھی اچھے مولانا بغیر کچھ لیے شادی کرتے ہیں ۔ سنت کے مطابق شادی ہوتی ہے ۔ میرے لیے آپ لوگ کوئی مولانا لڑکا تلاش کیجیے۔ سوچیے نا ، یہ دنیا کتنے دنوں کی ہے ۔ آج نہ کل سب کو مرجانا ہے ، میں کسی خدا ترس انسان کے ساتھ جینا چاہتی ہوں تاکہ میری آخرت تباہ نہ ہو جو ہمیشہ کی زندگی ہے ۔
آگے ابھی جاری ہے
: دوسری قسط
امین الحسن نے صبح ناشتے کے بعد جب ناعمہ کو آواز دی تو ناعمہ نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنالیا کہ اسے کس طرح باپ کو قائل کرنا ہے ۔
امین الحسن : بیٹا ہم لوگوں نے آپ کے لیے ایک رشتہ دیکھا ہے ، ہم سب لوگوں کو لڑکا پسند ہے ،
آپ کی امی بتا رہی تھیں کہ آپ ۔۔۔۔۔
ناعمہ : ابو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر آپ میری خوشی چاہتے ہیں تو میرے لیے کوئی دیندار عالم دین لڑکا دیکھیے ۔ میں جانتی ہوں کہ یہ سن کر آپ کو اچھا نہ لگے گا لیکن میں آپ سے پھر بھی یہی گزارش کروں گی ۔
امین الحسن : لیکن بیٹا ، مولوی لوگوں میں بھی تو برے لوگ ہوتے ہيں ؟ اگر کوئی ناہنجار مولوی مل گیا تو ؟ نہ دنیا ملی اور نہ آخرت ۔ خسارہ ہی خسارہ ۔۔ہم آپ کا برا تو نہیں چاہ سکتے ہیں نا بیٹا !
ناعمہ : آپ صحیح کہہ رہے ہیں ابو ، لیکن ہر جگہ شرح دیکھی جاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ مولوی برے ہوں لیکن زيادہ تر تو اچھے ہوتے ہیں اور پھر کیا ضروری ہے کہ میری قسمت میں کوئی برا ہی ہو ۔ آپ اللہ پر بھروسہ تو کیجیے ۔ میری دنیا بنانے کے چکر میں میری آخرت تو کسی بے دین کے حوالے مت کیجیے ۔
امین الحسن لا جواب ہوگئے تھے ۔ انہیں اپنی بیٹی کی بات میں جان نظر آرہی تھی ، وہ کوئی کم سن اور گنوار لڑکی بھی نہیں تھی ۔ اعلیٰ تعلیم سے بہرہ ور تھی ، تئیس سال کی عمر کو پہنچ چکی تھی ۔ وہ اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرسکتی تھی لیکن انہیں سماج اور خاندان کے لوگوں کا طعنہ ستا رہا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ لوگ مذاق اڑائیں گے ، باتیں بنائیں گے اور انہیں سب کی باتیں سننی پڑیں گیں ۔
خیر النساء کو انہوں نے اب خود ہی قائل کرنا شروع کردیا اور اس تلاش و جستجو میں لگ گئے کہ کوئی اچھا عالم ملے تو اپنی بیٹی کی شادی کردیں ۔ اللہ کا کرنا دیکھیے کہ انہیں دنوں شہر میں دینی جلسہ ہورہا تھا ۔ ایک نوجوان عالم دین قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں دھواں دھار تقریریں کررہا تھا ۔ امین الحسن کی آنکھوں میں امید کی روشنی جھلملانے لگی ۔
چھ مہینے کے اندر شادی ہوگئی، مولانا ایک دینی ادارہ میں تدریسی فريضہ انجام دے رہے تھے ، وہی کوئی دس ہزار کی تنخواہ تھی ۔ شادی بڑے ہی سادہ انداز میں بغیر کسی سلامی کے ہوئی ۔ ناعمہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پاؤں زمین پر ہوں ہی نہیں ۔ ویسے بھی مولانا شیروانی میں بہت حسین لگ رہے تھے، لیکن دوسری طرف خاندان کے لوگ مزے ضرور لے رہے تھے ۔ چچازاد بھائی امین الحسن سے کہہ رہے تھے : چلیے امین صاحب ، پیسے بچانے کے لیے آپ نے اچھا قدم اٹھایا، دینداری کے پردے میں یہ حرکت آسانی سے چھپ جائے گی ۔ گاؤں کے مکھیا کا طنز تھا : مبارک ہو آمین بابو ، نہیں بھی تو پچیس تیس لاکھ کی بچت ہوگئی ویسے شادی کے بعد اسی پیسے سے مولانا کو کوئی بزنس کروا دیجیے گا ۔۔۔۔
دو مہینے بعد ناعمہ سسرال سے اپنے مائکے آئی تھی ، وہ ایسے خوش تھی جیسے اسے زندگی کا سب سے بڑا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو ، ماں کو اس بات کی خوشی تھی کہ بیٹی خوش ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندرون میں خلش اب بھی موجود تھی البتہ امین الحسن پوری طرح مطمئن تھے ۔ باپ بیٹی کے درمیان باتیں ہورہی تھیں تبھی ناعمہ کے فون کی گھنٹی بجی ۔ ادھر اس کے شوہر تھے ۔ وہ موبائل فون لے کر کمرے میں چلی گئی ۔ کچھ دیر بعد جب وہ باہر آئی تو اس کا چہرہ کھل رہا تھا ، اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں اور وہ کہہ رہی تھی : ابو وہ آپ کے داماد نے مدینہ منورہ کے ایک تحقیقی ادارے میں نوکری کےلیے عرضی دی تھی ، وہ منظور ہوگئی ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ کے ساتھ رہائش فری دی جائے گی اور فیملی ویزا بھی ہے، ہم لوگ اگلے چھ مہینے کے اندر ان شاءاللہ مدینہ شریف میں ہوں گے ۔
خیر النساء امیر الحسن کو دیکھ رہی تھی اور دونوں مارے خوشی کے روئے جارہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ختم شد
Qari Reyaz ka page
Dosto main Aap Logo Ko is page pe Naat E Nabi,Telawate Kalam Pak aur Deen ki Bate Bataunga Inshallah
غور سے سنیں اور شیر کریں بڑی قیمتی باتیں ہیں
18/01/2025
شیر کریں دوستوں
*📚ــــــــــــــــ@*
*رسول اللہﷺ نے فرمایا :*
*"ایک زمانہ آنے والا ہے کہ جو انسان صبر کرنے والا ہوگا وہ دین کے اوپر ایسے ہوگا جیسے اس نے جلتا ہوا کوئلا اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے ، دین پہ چلنا آسان نہیں ہوگا"ــــــــــــــ اور آج کتنا فتنہ ہے آج کے اس پُر فتن ماحـــــول میں اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا آســــان نہیں نہ جانے کتنے نوجوانوں کی نـــــــگاہیں ناپاکیوں میں ملـــــوث ہیں، کتنی مسلم لڑکیاں مرتد ہو رہی ہیں ـــــــــــ اور کتنی مســــلم لڑکیوں کےکام تو ایسے ہیں جو شرک میں شـــــــمار ہوتے ہیں لیکن انہیں ایسا لگتا ہےکہ ہمارا ایمان ســـــلامت ہے اللہ کے یہاں بڑے سے بڑے گناہ کی معافی ہے لیکن شرک کی کوئ معافی نہیں، مسلـــــمان ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے، محض زبان سے کلمۂ طیبہ پڑھ لینے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا ہے، دل سے اقرار کرنا ہوتا ہے اور دل سے اقرار کرنے کا مطلب ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے آگے اپنی خواہشات کو روک دیں اور ان کی مرضی کے آگے اپنی مرضی کو مقدم نہ بنائیں*
*اپنی آنکھوں کی اور اپنے دلوں کی حفاظت کریں اللہ کی سزا بہت سخت ہے اور وہ مہلت بھی بہت دیتا ہے*
18/10/2024
*اس دنیا کی سب سے بہترین پوسٹ*
اس تصویر کو پچھلے دس سالوں میں کی
بہترین تصویروں میں سے ایک تصویر سمجھا جاتا ہے۔...
کیونکہ اس نے (فوٹوگرافر) کو ڈپریشن کی حالت میں ڈال دیا تھا۔
کہانی کہتی ہے:یہ چیتے ایک ایسے وقت میں ہرن پر حملہ کرتے ہیں جب وہ اپنے کم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
ہرن کے پاس فرار ہونے کا موقع تھا اور اس کی زندگی کا فاصلہ اور بقا اس کے حق میں لیکن اس نے خود کو یوں چیتے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا.
جانتے ہو کیوں؟
اپنے بچوں کو فرار ہونے کا موقع دینے کے لیے.
تاکہ اس کے بچوں کو فرار ہونے کا موقع دیا جاسکے ۔
کیونکہ اگر وہ پہلے بچ جاتی تو اس کے چھوٹے بچوں کے بچنے کی نوبت ہی نہیں آتی ۔
یہ تصویر آخری لمحے کی ہے جب ماں نے چیتے کے منہ میں اس کا گلا گھونٹ دیا جب وہ ثابت قدمی سے دیکھ رہی تھی ماں دنیا کی واحد ہستی ہے جو مفت میں آپ پر جان وار دیتی ہے
اور وہ ثابت قدمی سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دیکھتی ہے کہ اس کا بچہ ان کا شکار ہونے سے پہلے ہی سکون سے فرار ہو جائے... دنیا میں ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو آپ کے لیے اپنی جان بلاوجہ قربان کر سکتی ہے۔
21/09/2024
اسے ضرور پڑھیں 👇🏻
ایک فوٹو کاپی کی دکان پر ایک لڑکا (22 سال)، ایک لڑکی (19 سال)، اور ایک شخص (35 سال) داخل ہوئے۔ وہ سب بہت جلدی میں تھے اور کچھ آدھار کارڈ اور میٹرک سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی کروانا چاہتے تھے۔ لڑکی پریشان اور اداس لگ رہی تھی۔ دکان کے مالک، جو تقریباً 45 سال کے تھے، نے پوچھا، "کتنی کاپیاں کرنی ہیں اور کس لیے؟" لڑکی نے اداسی سے کہا، "دس دس کر دیجیے، پتا نہیں پھر کرنے کا موقع ملے یا نہیں، پتا نہیں زندہ بھی چھوڑیں گے یا نہیں۔" ساتھ آئے شخص نے اسے تسلی دی، "ارے، تم لوگ فکر نہ کرو، میں ہوں نا تمہارے ساتھ، کچھ نہیں ہوگا۔"
دکان دار نے لڑکی سے محبت سے پوچھا، "بیٹا، تم کچھ اداس لگ رہی ہو، کوئی پریشانی ہو تو مجھے بتا سکتی ہو۔ میں تمہارے ابو جیسا ہوں۔" یہ سنتے ہی لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور بولی، "میں اس لڑکے سے محبت کرتی ہوں اور شادی کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے گھر والے راضی نہیں ہیں۔ ہم بھاگ کر آئے ہیں کیونکہ یہ دوسرے مذہب کا ہے۔ ساتھ آئے شخص اس کے چچا ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد سب مان جائیں گے۔"
دکان دار نے لڑکی کو تسلی دی اور پوچھا، "اگر تمہیں 100 روپے اور 1 روپے میں سے چننا ہو، تو کیا چنو گی؟" لڑکی نے کہا، "انکل جی، 100 ہی چنوں گی۔" دکان دار نے سمجھاتے ہوئے کہا، "یہی بات رشتوں پر بھی لاگو ہوتی ہے، تم ایک رشتے کے لیے سو رشتے چھوڑ آئی ہو۔" یہ سن کر لڑکی کو جھٹکا لگا اور اس نے لڑکے سے کہا، "مجھے اپنا فون دو، مجھے ابو سے بات کرنی ہے۔" لڑکے نے منع کر دیا، لیکن لڑکی نے دکان دار سے فون لے کر اپنے والد کو کال کی اور روتے ہوئے کہا، "ابو، آپ مجھے لینے آ سکتے ہیں؟" دکان دار نے والد سے بات کر کے انہیں دکان کا پتہ دے دیا اور کہا، "بیٹی محفوظ ہے۔"
جیسے ہی لڑکوں نے یہ سنا، وہ بھاگنے لگے۔ لڑکی نے چلّا کر کہا، "بھاگ کیوں رہے ہو، تم تو مجھ سے بہت محبت کرتے تھے؟" لڑکے نے کوئی جواب نہ دیا اور سامان لے کر بھاگنے لگا۔ لڑکی نے کہا، "پکڑو انہیں! میرے بیگ میں زیورات ہیں جو میں گھر سے لائی تھی۔" آس پاس کے لوگوں نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ شام تک لڑکی کے والد آئے اور اسے گھر لے گئے۔ لڑکی نے دکان دار سے کہا، "انکل، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ میں اب سو رشتے لے کر جا رہی ہوں۔"
یہ لڑکی تو بچ گئی، مگر نہ جانے کتنی لڑکیاں ہر روز ایک رشتے کے لیے سو رشتے چھوڑ دیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں۔ سوچیے، آپ کا ایک شیئر کتنی بیٹیوں کی زندگی بچا سکتاہے
مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:-
" میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ
آدھے عرب کے آپ نبی
آدھے عرب کا میں نبی" - - - معاذاللہ
اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :-
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-
جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے :-
" کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کذاب کے دربار میں" ۔۔
اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں - - - اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے - - ایک صحابی تھے چھابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - - - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کجھور کھا رہے تھے جلدی سے اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا :-
" حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا" - -
جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے:-
" اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے" - - - بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی " - - -
مسکرا کے کہنے لگے :-
"اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گٸی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ اکبر)
حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایا:-
" ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر" - -
وہ صحابی عقیدت سے نظریں جھکا کر کہنے لگے:-
" محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں" - - -
صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلے جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے,انکا انداز ہی بدل گیا ان کے طور طریقے بدل گٸے وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے - - وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گٸے، وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے:-
" وہ صحابی جن کا نام" حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا
مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے:-
" کون ہو "؟ - - -
آپ غراتے ہوئے فرمانے لگے:_
" تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہیں کہ نبیﷺ والے ہیں ، تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں" ۔
مسلمہ کہنے لگا:-
" کیسے آٸے ہو" ؟ - - -
بے نیازی سے فرمایا :-
" یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔
بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ - -" پڑھو " - - جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا :- " تو کذاب ہے" - - -
یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی - - وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں سامنے حضرت حبیبؓ بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا:-
" تیرے نبی نےمجھے" کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے" ۔؟؟
حبیب بن زید مسکرا کے فرمانے لگے:-
" خیال والی بات ہی کوٸی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے - - - تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا" - - -
مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :-
" تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار، تلواریں , نیزے , خنجر , تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں" ۔۔
حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے:-
" میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا - - - میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,جو جی میں آتا ہے کر جاتے ہیں
غلامان محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے " - -
مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :-
" اب بول اب تیرا کیا خیال ہے"؟؟؟
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا" - - -
مسلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا:-
" میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے" - -
مسلمہ کزاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:-
" میں تیری گردن کاٹ دونگا " - -
حبیب بن زید فرمانے لگے:-
" کاٹتا کیوں نہیں" - - -
روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپتے تھے - تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا :-
" یا رسول اللہ کیا ہوا " - - -
فرمایا :-
"میرا حبیب شہید ہو گیا ہے - - - اور رب کریم نے اس کے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دیئے ہیں" -
کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اللہ اکبر *براہِ کرم یہ تحریر کم از کم پانچ پلس گروپس میں سینڈ کریں جزاک اللّہ* *(سیرت ابن ہشام جز ٢ ص ٦٠١)*
*انوکھی طلاق*😉
دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک صاحب کا موبائل چوری ہوگیا ...
دن بھر کی مصروفیت کے بعد تھکے ہارے صاحب بہادر نے جونہی گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو اگلا منظر دیکھ کر چونکے بنا نہ رہ سکے ...
گھر میں ساس اور سسر ... اپنی بیٹی کا سامان پیک کئے ان کے منتظر تھے ... بیگم اور ساس کی آنکهیں رو رو کر سرخ ہوچکی تهیں ... جبکہ ان کے داخل ہونے پر سسر کے ماتھے پر نفرت کی لکیریں بهی عیاں ہونے لگی تهیں ...
"کہاں لیکر جارہے ہیں میری بیوی کو ؟؟ خیریت تو ہے ؟؟ "
انہوں نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دریافت کیا تو سسر نے آگے بڑھ کر ان کی بیوی کا موبائل ان کے سامنے کردیا ....
"میں تمہیں تین طلاق دیتا ہوں" ....
بیوی کو ان کے نمبر سے میسج آیا تھا ...
میسیج دیکھ کر صاحب نے ایک ٹهنڈی آہ بھری اور بتایا کہ ان کا موبائل تو صبح سے چوری ہوگیا تھا ....
انہوں نے اپنی جیبیں الٹ کر سب کو یقین دلایا ... تو ان کی بیگم اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگیں ... اور سسر صاحب نے اپنی ٹانگیں بیٹھے بیٹھے دراز کرلیں ....
"لیکن چور نے میری بیوی کو طلاق کا میسیج کیوں کیا ؟؟؟"
الجھن کے مارے انہوں نے اپنا نمبر ڈائل کیا تو چور نے فون اٹھایا ... صاحب چهوٹتے ہی پهٹ پڑے ... " کمینے انسان !! فون چرایا سو چرایا ... میری بیوی کو طلاق دینے کا حق تمہیں کس نے دیا ھے ؟؟
چور نے اطمینان سے ان کی بات سنی اور کہنے لگا ...
"دیکھئے صاحب ! صبح ... جب سے آپ کا فون چرایا ہے ... مجھے آپ کی بیوی کے چھتیس میسیج موصول ہو چکے ہیں ...
کہاں ہو ؟؟؟ .... کیا کر رہے ہو .؟؟ .... کب آؤ گے ؟؟ .... آتے ہوئے یہ لے آنا ... اور ہاں یہ بھی ... !! .... جلدی آنا !!! .... دیکھو فلاں چیز ختم ہوگئی ہے !!! ... میں پاگل ہوگیا تھا... تب میں نے طلاق بھیج دی اور میری جان چھوٹی,,,😅
مدرسےکےبچےجمعرات کےدن گھرآتےہیں،رات گھرگزارتےہیں اورجمعہ کےدن دوپہرکےبعد واپس مدرسےپہنچ جاتےہیں۔
آج جب میں کہیں جارہاتھاتو ایک سوزوکی میں بیٹھاجس میں زیادہ ترمدرسےکےبچے سوارتھے،ڈرائیورنےایک جگہ گاڑی روکی تاکہ وہ لوگوں سے کرایہ جمع کرسکےہرشخص اپنا کرایہ دےرہاتھالیکن ایک بچے کےپاس کرایہ کم تھاڈرائیور نے اس سےکہاکہ اگرتمہارےپاس پوراکرایہ نہیں ہےتونیچےاُتر جاؤ۔وہ بچہ تقریباًگیارہ بارہ سال کاہوگا۔میں خاموشی سے بیٹھاہواتھا،گاڑی میں اور بھی لوگ موجودتھےلیکن سب تماشا دیکھ رہےتھےکوئی بھی ایسا شخص نہیں تھاجوکہتاکہ"ارے بھائی کوئی بات نہیں یہ تو بچہ ہے" یا "یہ کچھ پیسےہیں، میں دےدیتاہوں"میں نے ڈرائیورسےکہاکہ فرض کریں اگر آپ اس بچےکونیچےاُتار بھی دیں تو آپکی گاڑی توویسے بھی چل رہی ہے،اگر یہ بچہ ساتھ جائےگاتوکیافرق پڑےگا؟
خیر،ڈرائیورکچھ ادھر اُدھر کی باتیں کرنےلگا۔گاڑی میں چھ بچےتھے،میں نےڈرائیورسےکہا کہ ان سب بچوں کاکرایہ واپس کرو۔میں نے اسےپانچ سوروپے کانوٹ دیا اورکہاکہ اس میں سےسب کاکرایہ کاٹ لو۔پھر میں نےاس بچےسےپوچھاکہ تمہارےوالدکیاکام کرتےہیں؟
اس نےکہاکہ میرےوالد دیہاڑی کرتےہیں لیکن کچھ دنوں سے بےروزگارہیں آج میرےمدرسےکا کرایہ میرےپاس نہیں تھا تو میری ماں نےگھر میں کچھ چیزیں ادھراُدھرکیں،کچھ چھوٹےموٹے برتن اکٹھےکیے، انہیں بیچ کرصرف تیس روپے حاصل ہوئے،وہ مجھےدیے اور میری ماں نےروتےہوئےمجھے رخصت کیااس پوسٹ کامقصد یہ ہےکہ مدارس کےبچوں کا بہت خیال رکھا جائے۔بہت سے لوگ اس لیےاپنے بچوں کو مدارس میں داخل کراتے ہیں کہ انہیں دینی علم حاصل ہوجائے اور وہاں کھانا بھی مل جائے۔ مدارس میں زیادہ تربچےغریب گھرانوں سےہوتےہیں،اگر آپ کو اللہ نے توفیق دی ہے تو مہینے میں ایک بار ان کو اپنے گھر بلاۂیں اچھا کھانا کھلاۂیں ان بچوں کابہت خیال رکھیں اور انکی مددکریں۔
شکریہ۔!
*شـــــکر کرنا اپنی خاص عادتـــــوں میں شامل کریں*
*شـــــکر ادا کرنے والـــــوں کے ہاتھ کبھی خـــــالی نہیں رہے*
*پریشانیاں ہر ایکـــــ کی زندگـی میں موجـود ہیں، کوئی بھـی ایکـــــ مکمـل پرفیکٹـــــ زندگی نہیـں گزار رہا۔۔۔،🤍*
️ *بس فرق وہـــاں پہ آتـا ہـــے جب انســـان اپنے معاملات اللہ کـــے حوالے کرتـــا ہے اور مطمئن ہوجاتـــا ہے اور کہتـــا ہے،🤍 حَسْبُنَــــا اللّٰهُ وَنِعْــــمَ الْوَكِيْلُ🍁
*فقیہ ابواللیثؒ* نے نقل کیا ہے کہ جب *حضرت لقمانؑ* کا انتقال ہونے لگا۔تو انہوں نے اپنے صاحبزادہ سے فرمایا کہ بیٹا:؛
میں نے تم کو اس مُدّت زندگی میں بہت سی نصیحتیں کیں اس وقت آخری وقت ہے چھ نصیحتیں تم کو کرتا ہوں-:-؛
♦️ (01) دنیا میں اپنے آپ کو فقط اُتنا ہی مشغول رکھنا جتنی زندگی باقی ہے ( اور وہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں )
♦️ (02) حق تعالی شانہ کی طرف جتنی تمہیں احتیاج ہے اتنی ہی اس کی عبادت کرنا ( اور ظاہر ہے کہ آدمی ہر چیز میں اس کا محتاج ہے )
♦️ (03) آخرت کے لیے اس مقدار کے موافق تیاری کرنا جتنی مقدار وہاں قیام کا ارادہ ہو ( اور ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد تو وہاں کے علاوہ کوئی مقام ہی نہیں )
♦️ (04) جب تک تمہیں جہنم سے خلاصی کا یقین نہ ہو جائے اس وقت تک اس سے خلاصی کی کوشش کرتے رہنا،( ظاہر ہے کہ جب کوئی کسی سنگین مقدمہ میں ماخوذ ہو تو جب تک اس کو مقدمہ کے خارج ہو جانے کا یقین نہ ہو ہر وقت کوشش میں لگا رہتا ہے)
♦️ (05) گناہوں پر اتنی جرأت کرنا جتنا جہنم کی آگ میں جلنے کا حوصلہ اور ہمت ہو،( کہ گناہوں کی سزا ضابطہ کی چیز ہے اور مَراحِم خُسروان کی خبر نہیں)
♦️ (06) جب کوئی گناہ کرنا چاہو ایسی جگہ تلاش کر لینا جہاں حق تعالی شانہ اور اس کے فرشتے نہ دیکھیں، ( کہ خد حاکم کے سامنے سی آئی ڈی کے عملہ کے سامنے بغاوت کا انجام معلوم ہے )
*{ تنبیہ الغافلین}*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Mumbai
400017