11/08/2026
رخصت : 11 اگست 2020
اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو ہم تھے
زمین آئنہ خانہ تھی چار سو ہم تھے
دنوں کے بعد اچانک تمہارا دھیان آیا
خدا کا شکر کہ اس وقت با وضو ہم تھے
وہ آئینہ تو نہیں تھا پر آئینے سا تھا
وہ ہم نہیں تھے مگر یار ہو بہ ہو ہم تھے
زمیں پہ لڑتے ہوئے آسماں کے نرغے میں
کبھی کبھی کوئی دشمن کبھو کبھو ہم تھے
ہمارا ذکر بھی اب جرم ہو گیا ہے وہاں
دنوں کی بات ہے محفل کی آبرو ہم تھے
خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر
جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے
راحت اندوری