Change The Lens Change The World

Change The Lens Change The World

Share

Follow us and Change Your Lens Change Your World.

20/05/2026

زمین کے گرد حفاظتی تہیں اور "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" — ایک متوازن سائنسی و قرآنی مطالعہ
تحقیق و مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

قرآنِ مجید جب کائنات کے مظاہر کا ذکر کرتا ہے تو اس کا مقصد محض سائنسی معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنا اور اسے اپنے خالق کی بے پناہ قدرت پر غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلامِ الٰہی بار بار انسانی عقل کو آسمان، زمین، سورج، چاند، ستاروں اور کائناتی نظم پر تدبر کا راستہ دکھاتا ہے۔ انہی الٰہی نشانات میں سے دو آیات ایسی ہیں جو آج کے مادی اور سائنسی دور میں بھی اہلِ علم کے لیے حیرت اور فکری بالیدگی کا باعث ہیں۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾
"اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا، اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔" > (سورہ الانبیاء: 32) [1]

اور ایک اور مقام پر کائنات کی تہہ دار ساخت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

﴿الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا...﴾
"جس نے سات آسمان تہہ در تہہ (پرت در پرت) پیدا کیے۔" > (سورہ الملک: 3) [2]

عربی زبان اور لغتِ قرآن میں لفظ "طِبَاقًا" کے معنی ایک دوسرے کے اوپر انتہائی نظم کے ساتھ جڑی ہوئی تہوں (Layer upon Layer) کے ہیں۔ آج جب جدید کائناتی سائنس زمین اور اس کے ارد گرد کے نظام کا مطالعہ کرتی ہے، تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک ایسے ہی منظم اور مربوط طبقاتی نظام (Layered Architecture) کا اعتراف کرتی ہے۔

ایک نہایت اہم علمی و تحقیقی توازن
یہاں ایک ایسی باریک اور اہم علمی وضاحت ضروری ہے جو اس پورے مضمون کے فکری توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ قرآنِ مجید میں بیان کردہ "سَبْعَ سَمَاوَات" (سات آسمان) کا تصور ایک انتہائی عظیم، وسیع اور ماورائے عقل غیبی حقیقت ہے۔ اسے صرف اور صرف زمین کی فضائی تہوں (Atmospheric Layers) تک محدود کر دینا علمی طور پر درست نہیں ہوگا؛ کیونکہ قرآنِ پاک خود یہ واضح کرتا ہے کہ تمام نظر آنے والے ستارے، سیارے اور کھربوں کہکشائیں ابھی صرف "آسمانِ دنیا" یعنی پہلے آسمان کی حدود میں واقع ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے:

﴿إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ﴾
"بے شک ہم نے پہلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔" > (سورہ الصافات: 6) [3]

لہٰذا، یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ زمین کے گرد موجود فضائی تہیں بذاتِ خود وہ "سات آسمان" نہیں ہیں، بلکہ یہ مادی غلاف اس عظیم آفاقی اور تہہ در تہہ کائناتی نظام کا ایک چھوٹا سا مادی حصہ اور زمین کی حد تک اس کا ایک مشاہداتی نمونہ ہے۔

زمین: ایک "محفوظ چھت" کے نیچے
جدید خلائی سائنس اور موسمیات (Meteorology) کے مطابق، ہماری زمین خلا کی ہلاکت خیزیوں کے درمیان بالکل ننگی نہیں ہے، بلکہ یہ کئی حفاظتی غلافوں اور مقناطیسی میدانوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ تہیں مل کر ایک ایسا الٰہی نظام بناتی ہیں جس کے بغیر زمین پر زندگی کا ایک لمحہ بھی باقی رہنا ممکن نہیں۔

ٹروپوسفیئر (Troposphere): یہ زمین کے سب سے قریب واقع پہلی فضائی تہہ ہے جہاں بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے اور تمام موسمی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ انسانی اور نباتیاتی زندگی کا براہِ راست تسلسل اسی تہہ سے جڑا ہے۔

سٹریٹوسفیئر (Stratosphere): اس دوسری تہہ میں "اوزون کی ڈھال" (Ozone Layer) موجود ہے جو سورج سے آنے والی مہلک بالائے بنفشی شعاعوں (UV Rays) کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ ناسا (NASA) کے مطابق، اگر اوزون کی یہ تہہ ختم ہو جائے تو زمین پر جلدی سرطان (Skin Cancer) اور جینیاتی بربادی کا طوفان آ جائے۔ [4]

میزوسفیئر (Mesosphere): یہ تیسری تہہ زمین کے لیے ایک مادی چٹان کا کام کرتی ہے۔ خلا سے روزانہ آنے والے لاکھوں شہابی پتھر (Meteors) زمین تک پہنچنے سے پہلے اسی تہہ کی رگڑ کی وجہ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، جس سے زمین مستقل بمباری سے بچی رہتی ہے۔

تھرموسفیئر (Thermosphere): یہ چوتھی تہہ سورج کی شدید تپش اور مہلک ایکس ریز (X-rays) کو روکنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اسی خطے میں قطبین پر خوبصورت آسمانی روشنیاں (Aurora phenomena) پیدا ہوتی ہیں۔

آئنوسفیئر (Ionosphere): یہ پانچویں فعال تہہ زمین کے مواصلاتی نظام (Communication System) کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ زمین سے بھیجی جانے والی ریڈیو لہریں اسی تہہ سے ٹکرا کر واپس دنیا بھر میں پھیلتی ہیں، جس سے ہمارا وائرلیس نظام چلتا ہے۔ [5]

ایگزوسفیئر (Exosphere): یہ کرۂ ہوائی کی چھٹی اور آخری مادی حد ہے جہاں ہوا انتہائی لطیف ہو جاتی ہے اور فضا بتدریج خلا کے لامتناہی سکوت میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔

میگنیٹو سفیئر (Magnetosphere): یہ زمین کی ساتویں اور سب سے بیرونی عظیم مقناطیسی ڈھال ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے مطابق، یہ مقناطیسی غلاف سورج سے نکلنے والے ہلاکت خیز تابکار ذرات کے طوفان (Solar Winds) کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی خلا میں موڑ دیتا ہے، ورنہ یہ تابکاری زمین کی پوری فضا کو جلا کر راکھ کر دیتی۔ [6]

سائنسی درجہ بندی اور قرآنی لفظ کا علمی تال میل
یہاں ایک سچے محقق کی حیثیت سے یہ ماننا ضروری ہے کہ جدید سائنسدان فضا کی تہوں کی تعداد اور ان کی درجہ بندی پر کسی ایک حتمی ماڈل پر متفق نہیں ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر بدلتے رہتے ہیں؛ کچھ ماڈلز فضا کو پانچ بنیادی حصوں میں بانٹتے ہیں، کچھ چھ، جبکہ کچھ ماہرین ان کے افعال اور مقناطیسی میدانوں کو شامل کر کے انہیں سات یا اس سے بھی زیادہ طبقات میں شمار کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر، بعض سائنسدان 'میگنیٹو سفیئر' کو فضا کا حصہ ماننے کے بجائے ایک الگ فورس فیلڈ کہتے ہیں، جبکہ دیگر اسے زمین کے مجموعی حفاظتی ڈھانچے کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔ اسی علمی تغیر کی وجہ سے یہ دعویٰ کرنا بالکل نامناسب ہوگا کہ "قرآن نے بعینہٖ انہی سات فضائی تہوں کا ذکر کیا تھا"۔ البتہ، یہ بات ایک دانشور کو ورطہِ حیرت میں ضرور ڈالتی ہے کہ زمین کے گرد حفاظتی تہوں کا یہ نظام جب اپنے افعال کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ سات سطحوں تک پہنچتا ہے، اور یہ پورا نمونہ انسان کو کلامِ الٰہی کے لفظ "طِبَاقًا" پر نئے زاویوں سے تدبر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

تہہ در تہہ کائنات — ایک آفاقی قانون
جدید مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا پورا فنِ تعمیر (Architecture) ہی اس "تہہ در تہہ" یعنی Layered Structure کے قانون پر قائم دکھائی دیتا ہے:

ایٹم کے اندر الیکٹرانز کے مدار (Electron Shells)۔

زمین کی اندرونی ساخت (Crust, Mantle, and Core)۔

سمندروں کی گہرائی کے مختلف طبقات۔

انسانی جلد کی مائکروسکوپک تہیں [7]۔

حتیٰ کہ کہکشاؤں اور کائناتی جال (Cosmic Web) کی بناوٹ۔

قرآنِ مجید نے چودہ سو سال پہلے "طِبَاقًا" جیسا فصیح لفظ استعمال کر کے دراصل انسان کو اسی عالمگیر تخلیقی توازن کو سمجھنے کی دعوت دی تھی۔

اصل پیغام اور حاصلِ مطالعہ
اس ریسرچ کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ ہر نئی سائنسی دریافت کو زبردستی کھینچ تان کر قرآن کی کسی آیت پر فٹ کیا جائے، بلکہ اصل مقصد اس حقیقت کا ادراک کرنا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں ہے۔ زمین کے گرد موجود یہ فولادی حفاظتی نظام، اوزون کی ڈھال، شہابی پتھروں سے تحفظ، مقناطیسی غلاف اور مواصلاتی لہروں کا توازن—یہ سب ایک علیم و قدیر ہستی کی عظیم انجینئرنگ اور حکمتِ بالغہ کی گواہی دیتے ہیں۔

انسان جتنا علم اور سائنس کی وادیوں میں آگے بڑھ رہا ہے، اسے اتنا ہی احساس ہو رہا ہے کہ ہماری بقا کے لیے کائنات کو کس قدر باریک بینی سے متوازن (Fine-Tuned) کیا گیا ہے۔ قرآن انسان کو اسی ابدی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے چیلنج کرتا ہے:

..مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ
ترجمہ: "...تم رحمان کی تخلیق میں کوئی بے قاعدگی اور ناہمواری نہیں دیکھو گے۔ پھر ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو، کیا تمہیں کوئی شگاف یا نقص نظر آتا ہے؟"
(سورہ الملک: 3)

حوالہ جات (References):
[1] قرآنِ مجید — سورہ الانبیاء، آیت: 32۔

[2] قرآنِ مجید — سورہ الملک، آیت: 3۔

[3] قرآنِ مجید — سورہ الصافات، آیت: 6۔

[4] NASA Science: "Earth's Atmosphere: Composition and Protective Layers".

[5] NOAA (National Oceanic and Atmospheric Administration): "The Ionosphere's Role in Modern Radio Communication".

[6] ESA (European Space Agency): "The Magnetosphere and Solar Radiation Protection".

[7] امام راغب اصفہانی — المفردات فی غریب القرآن (لفظ "طبق" اور "سماء" کی لغوی ابعاد)۔

20/05/2026

ایک بادشاہ کے دربار میں اگلے دن علما کا اجتماع ہونا تھا، ایسے میں بادشاہ کو اچانک خواہش ہوئی کہ اجتماع میں اس کا دس سالہ بیٹا بھی بطور ’عالم‘ شریک ہوجائے، بادشاہ نے شہر کے سب سے بڑے استاد کا بلاوا بھیجا جو مغرب سےپہلے محل پہنچ گئے، استاد نے نماز کی امامت کی، کھانا بھی کھالیا جب قہوہ آیا تو بادشاہ نے کہا کہ وہ شہزادے کو کل تک عالم بنادیں تاکہ وہ بھی بطور عالم دربار میں شریک ہوسکے، استاد کے پاس کوئی راستہ تو نہ تھا لیکن اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہامی بھرلی اور بادشاہ سے کہا کہ شہزادے کو ساتھ جانے کیلئے تیار کردیں۔
مدرسہ پہنچ کر استاد نے نماز عشاء پڑھائی، شہزادے کو بلاکر اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ دیکھو بیٹا ایک رات میں کوئی عالم نہیں بن سکتا لیکن کل کا معاملہ یہ ہے کہ تمہیں عالم ثابت کرنا ہے وہ میں ہر صورت کروں گا، تمہیں پوری رات کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں، تم میری بات دھیان سے سنو اور سکون سے سو جاؤ، کل کی محفل میں تم سے کوئی بھی سوال ہو ایک ہی جواب دینا کہ ’اس پر اختلاف ہے‘ اور ہربار تھوڑا سوچ کر تحمل سے دینا ہے، تمہارے باپ کی عزت اور میری آزادی دونوں تمہارے ہاتھ میں ہیں۔
شہزادے نے استاد کی بات سنی اورشکریہ بھی ادا کیا کیوں کہ وہ سوچ کر بیٹھا تھا کہ آج پوری رات کتابیں پڑھنا پڑیں گی، رات بھر سو نہیں سکوں گا، لہذا اس کے لیے اس وقت سب سے اہم چیز نیند تھی۔
اگلی صبح بادشاہ کا دربار لگا، کئی عالم پہنچ گئے، شہزادہ بھی جبہ پہن کر اسٹیج پرجاپہنچا، ایسے میں استاد محترم اپنے تیس چالیس شاگردوں کے ساتھ دربار میں جاپہنچے، بادشاہ نے علما اور شرکا کو تعارف کرایا کہ اس کا بیٹا بھی عالم بن چکا ہے، پہلے سب لوگ حیران ہوئے اور پھر بادشاہ کی ناراضی کے خوف سے خاموش ہوگئے، ایسے میں بادشاہ نے خود ہی بچے سے سوالات پوچھنے کی خواہش کردی۔
پہلے پہل شرکا نے خلفائے راشدین، مسواک کا سائز، نکاح اور طلاق کے مسائل سمیت کئی موٹے فقہی سوالات کئے جن پر شہزادہ جواب دیتا کہ ’اختلاف ہے‘ کیوں کہ مسلمانوں کا زیادہ تر چیزوں پر اختلاف ہے تو ہرچیز پر استاد وضاحت دے دیتے، ان کے باقی شاگرد فوری طور پر شہزادے کے حق میں شور مچاتے، نعرے لگاتے اور بادشاہ خوش ہوجاتا۔
ایسے میں ایک شخص نے پوچھ لیا عالم صاحب نمازیں کتنی ہیں، شہزادے نے رٹا رٹایا جواب داغ دیا کہ اختلاف ہے، جس پر استاد نے وضاحت دی کہ عالم صاحب فقہہ کا علم جانتے ہیں، امام ابوحنیفہ کے ماننے والے پانچ اور امام جعفر صادق کے پیروکار تین وقت نمازیں ادا کرتے ہیں، کیوں کہ شہزادہ عالم ہے تو اس نے عالم والا ہی جواب دیا ہے ورنہ ہر پانچ سات سال کے بچے کو یاد ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اکثریت پانچ وقت نماز ادا کرتی ہے۔
اگلا سوال عید کا تھا کہ کرنی چاہیے تو شہزادے کا جواب وہی ’اختلاف‘ تھا، جس پر استاد صاحب نے وضاحت دے دی کہ برصغیر میں زیادہ تر لوگ چاند دیکھ کر روزے رکھتے ہیں، جبکہ بوہری ایک دو دن پہلے روزہ شروع کرتے ہیں اور عید بھی ایک روز پہلے کرتے ہیں۔
محفل میں ایک ڈھائی ہوشیار شخص بھی موجود تھا، جو معاملے کو پوری طرح سمجھ چکا تھا لہذا اس نے سوال داغ دیا کہ یہ بتاؤ کے خدا کتنے ہیں؟
دس سالہ شہزادے کو صحیح جواب معلوم تھا لیکن اس کو استاد کی بات بھی یاد تھی کہ ایک ہی جواب دینا ہے لہذا اس نے جواب دیا کہ ’اس پر اختلاف ہے۔‘
اس بار محفل میں سناٹا چھا گیا تھا، خود مدرسے کے طلبہ کو بھی لگا تھا کہ استاد پھنس چکے ہیں، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا ہوگا اور استاد کی اگلا کھانا پانی اب جیل میں ہی ہوگا لیکن استاد نے ایک بار پھر لقمہ دیا انہوں نے کہا شہزادہ کوئی عام عالم یا عام ’بچہ‘ نہیں ہے ان کی شخصیت غیر معمولی ہے انہوں نے صرف اسلام کا علم حاصل نہیں کررکھا بلکہ وہ دیگر مذاہب کو بھی جانتے ہیں لہذا یہ جواب بھی درست ہے، مسلمان ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں، عیسائی تین ’خدا‘ مانتے ہیں جبکہ ہندو اور پرانے یورپی مذاہب میں بے شمار ’دیوتا اور دیویاں‘ ہیں۔
استاد کا جواب دینا تھا کہ شاگرد کھڑے ہوگئے اور خوب شور مچایا، شہزادے کے حق میں نعرے لگائے بادشاہ بے پناہ خوش ہوا اور حکم دیا کہ خدا کے بعد کوئی سوال نہیں بنتا، لہذا محفل برخاست کی جاتی ہے، بادشاہ کو اتنا خوش دیکھ کر مزید کسی کی ہمت بھی نہ ہوئی سوال کرے یا اعتراض اٹھائے۔
اس واقعے سے دو قسم کے علما پیدا ہوئے جو مدرسے کے طلبہ تھے، یعنی ’اختلافی علماء‘ اور ’اتفاقی علماء‘، اسی نوعیت کے بے شمار علما ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو بغیر علم، تحقیق اور دلیل اختلاف یا اتفاق کرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں۔

Photos from Change The Lens Change The World's post 19/05/2026

Press release.

Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir Holds Important Meeting, Passes Key Resolutions on Social Reform and Environmental Protection

Srinagar/Jammu: An important meeting organized by the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir discussed in detail various issues concerning social reform, environmental protection, moral awareness, family stability, agricultural development, and public welfare. The meeting emphasized that collective awareness, practical measures, and moral responsibility are essential for building a healthy, dignified, self-reliant, balanced, and civilized society.

Several significant resolutions were unanimously passed during the meeting, including launching a mass “No to Plastic” campaign against the excessive use of plastic, promoting interest-free and ethical trade practices, encouraging self-reliance, taking strict action against food adulteration, protecting Dal Lake and other water bodies, promoting plantation drives, preventing illegal deforestation, safeguarding agricultural land, and encouraging natural and sustainable farming practices.

The meeting expressed serious concern over rising unemployment and described the agricultural sector as an effective means for employment generation and self-sufficiency among youth. Participants also stressed the need to reduce unnecessary use of vehicles in order to tackle pollution, traffic congestion, and environmental degradation by promoting shared transportation systems and a simpler lifestyle.

Concern was also expressed over moral decline, increasing divorce rates, and challenges facing the family system. The participants highlighted the importance of character building, patience, mutual respect, proper upbringing of children, and strengthening moral and religious values in society. The meeting further emphasized equipping the younger generation with the teachings of the Qur’an and Sunnah, modern education, technology, and intellectual awareness to help them face the challenges of the contemporary world.

The gathering appealed to the government, social organizations, educational institutions, religious leadership, media, and the general public to ensure serious implementation of these resolutions for the creation of a better, safer, and morally responsible society.

The meeting was chaired by Chairman of the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir and Grand M***i of Jammu & Kashmir Nasir ul islam Farooqi. The meeting was attended by Vice President MPL board Syed Mohammad Aslam Andrabi, General Secretary Prof. Mohammad Yaseen Kirmani, Advisor Er Danish Reshi, Secretary Peerzada Mohammad Amin Shah, Jammu Province President M***i Nazir Sahib Qadri, Qari Ali Hussain from Ramban, Haji Maulana Tariq Ali Batote, Syed Shabeer Geelani of Sadat International, Mifti Syed Naeemul Haq Kaazmi, Waris Ali Shah, Ghulam Nabi Bajad, Mohammad Shafi Kargili, Mohammad Ashraf Andrabi, Syed Lateef Beerwah, Mohammad Ibrahim Buda from Islamabad, Arshid Hussain Sanai from Budgam, Ghulam Hassan Rahmani from Kulgam, Showkat Ali Andrabi and Abdul Salam Mir from Pulwama, along with several prominent social, religious, and public personalities.

Members from all 20 districts, including Leh-Ladakh, actively participated in the meeting of the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir. Prominent participants included Lone Abdul Khaliq Shumnagi, Imam I khateeb Jamiaa masjid Drass Maulana Mohammad Abdullah, Dr Abdul Wahid Kargil, Shahawaz Qayoom, Syed Waris Shah Bukhari, M***i Syed Naeem-ul-Haq Kazmi, Syed Shahid Shafi, Syed Ilyas Abidi, Molvi Abdul Rasheed, Ghulam Nabi Bajad, Advocate Syed Mir Ghulam Nabi, Peerzada Mohammad Amin Shah, Sanai Yamin Arshad, Arshid Hussain Sanai, Er Abdul Rehman Wani, Syed Ahmed Reshi, Syed Jafar Geelani, Mir Shahid Saleem, syed iftikhar qadri, Dr Shamaswari-ur-Rehman, Syed Showkat Andrabi Pulwama, Abdul Wahid Tak, Mohammad Shaban, Mohammad Shafi Kakroo, Bilal Ahmed, Arshid Ahmed Dar, Syed Mohammad Ashraf Pampore, Sofi Abdul Majeed, Syed Shabir Geelani, Syed Javid Ahmed, Haji Abdul Gani Khan, Firdous Ahmed Raja, Molvi Bashir Ahmed Baba, Dr Adil, Bashir ahmed rather, Shakeel Ahmed Lone and several others.

19/05/2026

Press release.

Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir Holds Important Meeting, Passes Key Resolutions on Social Reform and Environmental Protection

Srinagar/Jammu: An important meeting organized by the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir discussed in detail various issues concerning social reform, environmental protection, moral awareness, family stability, agricultural development, and public welfare. The meeting emphasized that collective awareness, practical measures, and moral responsibility are essential for building a healthy, dignified, self-reliant, balanced, and civilized society.

Several significant resolutions were unanimously passed during the meeting, including launching a mass “No to Plastic” campaign against the excessive use of plastic, promoting interest-free and ethical trade practices, encouraging self-reliance, taking strict action against food adulteration, protecting Dal Lake and other water bodies, promoting plantation drives, preventing illegal deforestation, safeguarding agricultural land, and encouraging natural and sustainable farming practices.

The meeting expressed serious concern over rising unemployment and described the agricultural sector as an effective means for employment generation and self-sufficiency among youth. Participants also stressed the need to reduce unnecessary use of vehicles in order to tackle pollution, traffic congestion, and environmental degradation by promoting shared transportation systems and a simpler lifestyle.

Concern was also expressed over moral decline, increasing divorce rates, and challenges facing the family system. The participants highlighted the importance of character building, patience, mutual respect, proper upbringing of children, and strengthening moral and religious values in society. The meeting further emphasized equipping the younger generation with the teachings of the Qur’an and Sunnah, modern education, technology, and intellectual awareness to help them face the challenges of the contemporary world.

The gathering appealed to the government, social organizations, educational institutions, religious leadership, media, and the general public to ensure serious implementation of these resolutions for the creation of a better, safer, and morally responsible society.

The meeting was chaired by Chairman of the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir and Grand M***i of Jammu & Kashmir Nasir ul islam Farooqi. The meeting was attended by Vice President MPL board Syed Mohammad Aslam Andrabi, General Secretary Prof. Mohammad Yaseen Kirmani, Advisor Er Danish Reshi, Secretary Peerzada Mohammad Amin Shah, Jammu Province President M***i Nazir Sahib Qadri, Qari Ali Hussain from Ramban, Haji Maulana Tariq Ali Batote, Syed Shabeer Geelani of Sadat International, Waris Ali Shah, Ghulam Nabi Bajad, Mohammad Shafi Kargili, Mohammad Ashraf Andrabi, Syed Lateef Beerwah, Mohammad Ibrahim Buda from Islamabad, Arshid Hussain Sanai from Budgam, Ghulam Hassan Rahmani from Kulgam, Showkat Ali Andrabi and Abdul Salam Mir from Pulwama, along with several prominent social, religious, and public personalities.

Members from all 20 districts, including Leh-Ladakh, actively participated in the meeting of the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir. Prominent participants included Lone Abdul Khaliq Shumnagi, Imam I khateeb Jamiaa masjid Drass Maulana Mohammad Abdullah, Dr Abdul Wahid Kargil, Shahawaz Qayoom, Syed Waris Shah Bukhari, M***i Naaem-ul-Haq Kazmi, Syed Shahid Shafi, Syed Ilyas Abidi, Molvi Abdul Rasheed, Ghulam Nabi Bajad, Advocate Syed Mir Ghulam Nabi, Peerzada Mohammad Amin Shah, Sanai Yamin Arshad, Arshid Hussain Sanai, Er Abdul Rehman Wani, Syed Ahmed Reshi, Syed Jafar Geelani, Mir Shahid Saleem, syed iftikhar qadri, Dr Shamaswari-ur-Rehman, Syed Showkat Andrabi Pulwama, Abdul Wahid Tak, Mohammad Shaban, Mohammad Shafi Kakroo, Bilal Ahmed, Arshid Ahmed Dar, Syed Mohammad Ashraf Pampore, Sofi Abdul Majeed, Syed Shabir Geelani, Syed Javid Ahmed, Haji Abdul Gani Khan, Firdous Ahmed Raja, Molvi Bashir Ahmed Baba, Dr Adil, Bashir ahmed rather, Shakeel Ahmed Lone and several others.

19/05/2026

Press release.

Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir Holds Important Meeting, Passes Key Resolutions on Social Reform and Environmental Protection

Srinagar/Jammu: An important meeting organized by the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir discussed in detail various issues concerning social reform, environmental protection, moral awareness, family stability, agricultural development, and public welfare. The meeting emphasized that collective awareness, practical measures, and moral responsibility are essential for building a healthy, dignified, self-reliant, balanced, and civilized society.

Several significant resolutions were unanimously passed during the meeting, including launching a mass “No to Plastic” campaign against the excessive use of plastic, promoting interest-free and ethical trade practices, encouraging self-reliance, taking strict action against food adulteration, protecting Dal Lake and other water bodies, promoting plantation drives, preventing illegal deforestation, safeguarding agricultural land, and encouraging natural and sustainable farming practices.

The meeting expressed serious concern over rising unemployment and described the agricultural sector as an effective means for employment generation and self-sufficiency among youth. Participants also stressed the need to reduce unnecessary use of vehicles in order to tackle pollution, traffic congestion, and environmental degradation by promoting shared transportation systems and a simpler lifestyle.

Concern was also expressed over moral decline, increasing divorce rates, and challenges facing the family system. The participants highlighted the importance of character building, patience, mutual respect, proper upbringing of children, and strengthening moral and religious values in society. The meeting further emphasized equipping the younger generation with the teachings of the Qur’an and Sunnah, modern education, technology, and intellectual awareness to help them face the challenges of the contemporary world.

The gathering appealed to the government, social organizations, educational institutions, religious leadership, media, and the general public to ensure serious implementation of these resolutions for the creation of a better, safer, and morally responsible society.

The meeting was chaired by Chairman of the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir and Grand M***i of Jammu & Kashmir Nasir ul islam Farooqi. The meeting was attended by Vice President MPL board Syed Mohammad Aslam Andrabi, General Secretary Prof. Mohammad Yaseen Kirmani, Advisor Er Danish Reshi, Secretary Peerzada Mohammad Amin Shah, Jammu Province President M***i Nazir Sahib Qadri, Qari Ali Hussain from Ramban, Haji Maulana Tariq Ali Batote, Syed Shabeer Geelani of Sadat International, M***i Syed Naeemul Haq, Waris Ali Shah, Ghulam Nabi Bajad, Mohammad Shafi Kargili, Mohammad Ashraf Andrabi, Syed Lateef Beerwah, Mohammad Ibrahim Buda from Islamabad, Arshid Hussain Sanai from Budgam, Ghulam Hassan Rahmani from Kulgam, Showkat Ali Andrabi and Abdul Salam Mir from Pulwama, along with several prominent social, religious, and public personalities.

Members from all 20 districts, including Leh-Ladakh, actively participated in the meeting of the Muslim Personal Law Board Jammu & Kashmir. Prominent participants included Lone Abdul Khaliq Shumnagi, Imam I khateeb Jamiaa masjid Drass Maulana Mohammad Abdullah, Dr Abdul Wahid Kargil, Shahawaz Qayoom, Syed Waris Shah Bukhari, M***i Naaem-ul-Haq Kazmi, Syed Shahid Shafi, Syed Ilyas Abidi, Molvi Abdul Rasheed, Ghulam Nabi Bajad, Advocate Syed Mir Ghulam Nabi, Peerzada Mohammad Amin Shah, Sanai Yamin Arshad, Arshid Hussain Sanai, Er Abdul Rehman Wani, Syed Ahmed Reshi, Syed Jafar Geelani, Mir Shahid Saleem, syed iftikhar qadri, Dr Shamaswari-ur-Rehman, Syed Showkat Andrabi Pulwama, Abdul Wahid Tak, Mohammad Shaban, Mohammad Shafi Kakroo, Bilal Ahmed, Arshid Ahmed Dar, Syed Mohammad Ashraf Pampore, Sofi Abdul Majeed, Syed Shabir Geelani, Syed Javid Ahmed, Haji Abdul Gani Khan, Firdous Ahmed Raja, Molvi Bashir Ahmed Baba, Dr Adil, Bashir ahmed rather, Shakeel Ahmed Lone and several others.

15/05/2026

05/05/2026

سید نعیم الحق Kupwara Times Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed Kupwara News ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABAD AIP Kralpora قناة فلسطين الإخبارية #اصلاح

05/05/2026

#اصلاح سید نعیم الحق Kupwara Times Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed Kupwara News ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABAD AIP Kralpora قناة فلسطين الإخبارية

Photos from Change The Lens Change The World's post 02/05/2026

میں نے اپنی زندگی میں اہلِ تشیع کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارا، البتہ کویت میں کچھ شیعہ طلبہ کو آن لائن پڑھانے کا موقع ملا۔ ان بچوں میں میں نے بڑی محبت، ادب اور اخلاص دیکھا۔ ان کے بڑوں کے نظریات سے تو میں واقف نہ تھا، لیکن بچوں کے دل صاف اور نیتیں خالص محسوس ہوئیں۔

اسی طرح پچھلے تین دنوں سے یہ ایک اہلِ تشیع گروپ کی خدمت کا موقع ملا، جن میں ایک بھائی" فدا حسین" ایسے تھے جنہوں نے اپنے اخلاق سے میرا دل جیت لیا۔ ان کے گروپ کے اکثر افراد کو میں نے ریاض الجنہ میں فرض نمازوں کے لیے پرمٹ دلوانے میں مدد کی ، اور آج بھی ریاض الجنہ میں نمازِ جمعہ کے لیے سب سے زیادہ میری طرف سے ان کے لوگ تھے ۔

میری جستجو یہی تھی کہ میں حقیقت کو سمجھوں، اس لیے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ نماز کے اوقات میں الگ نماز ادا کرتے ہیں یا مسجد نبوی کے امام کے پیچھے باجماعت نماز پڑھتے ہیں؟ ان کا جواب نہایت خوش آئند تھا کہ ہمارا پورا گروپ باجماعت نماز ادا کرتا ہے۔ پھر میں نے ایک حساس سوال کیا کہ جب آپ روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیتے ہیں تو ساتھ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے مزارات بھی ہیں، کیا آپ لوگ ان کے بارے میں کوئی نامناسب بات کہتے ہیں؟ اس پر انہوں نے نہایت وقار سے جواب دیا کہ ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی صحابیِ رسولؓ کے بارے میں کوئی غلط بات کریں، بلکہ تمام صحابہؓ اور مقدس ہستیاں ہمارے سر کا تاج ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بڑے علماء، حتیٰ کہ آیت اللہ خامنہ ای کا واضح فتویٰ ہے کہ کسی بھی صحابیِ رسولؓ کی گستاخی تو درکنار، ان کے بارے میں غلط سوچنا بھی حرام ہے۔ یہ بات سن کر دل کو سکون ملا کہ امت میں ایسے معتدل اور محبت بانٹنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔
میری نظر میں اصل خوبصورتی یہی ہے کہ انسان اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کا احترام کرے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ—چاہے کسی بھی مسلک سے ہوں—نفرت اور گستاخی کو ہوا دیتے ہیں۔ جیسے کچھ اہلِ تشیع سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کے بارے میں نازیبا کلمات استعمال کرتے ہیں، ویسے ہی بعض سنی حلقوں میں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو امام حرمین کے پیچھے نماز کو درست نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اعتدال، ادب اور اتحاد ہی دین کی اصل روح ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی سنی کو اہلِ بیتؓ کی شان میں گستاخی کرتے نہیں دیکھا، اور نہ ہی یہ کسی سچے مسلمان کا طریقہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جو شیعہ حضرات صحابہؓ کا احترام کرتے ہیں، وہ یقیناً قابلِ قدر ہیں اور امت کے لیے ایک مثال ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے عقائد کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے ایمان کی فکر کریں۔ کیا ہمارا تعلق اللہ سے مضبوط ہے؟ کیا ہم واقعی اس کی رضا کے لیے زندگی گزار رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی آخرت کی تیاری کی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو ہر وقت ہمارے سامنے ہونے چاہئیں۔
میں دل سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرے اندر کسی بھی فرقے کے لیے کوئی بغض نہیں۔ جس نے بھی مجھ سے ریاض الجنہ کے پرمٹ کی درخواست کی—چاہے وہ بریلوی ہو، اہلِ حدیث ہو یا اہلِ تشیع—میں نے سب کی یکساں خدمت کی۔ کیونکہ میرے نزدیک سب سے بڑی پہچان “مسلمان” ہونا ہے۔
آخر میں بس یہی عرض ہے کہ ہمیں نفرت نہیں، محبت کو عام کرنا ہے؛ اختلاف نہیں، احترام کو فروغ دینا ہے۔ اور شاید یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں بھی سکون دے گا اور آخرت میں بھی کامیابی۔ باقی سنیوں سے مخاطب ہوں کیا آپ نے بھی اپنی لائف میں ایسے معتدل اہل تشیع حضرات کو دیکھا ہے ؟ اور کیا اپ نے سنیوں میں سے ایسے سنیوں کو دیکھا ہے جو امام حرمین کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ؟ میں نے تو باقاعدہ اپنی انکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک مخصوص فرقے کے متشدد لوگ امام حرمین کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ وہ اپنی الگ سے نماز پڑھتے ہیں ۔

محمد ارسلان

30/04/2026

بریانی + تربوز = موت؟ نہیں۔ اصل قاتل کچھ اور تھا۔

عبداللہ، نسرین، عائشہ، زینب — ایک پوری فیملی کا فوڈ پائزننگ سے چلے جانا دل دہلا دینے والا ہے۔ مگر *"بریانی کے بعد تربوز"* کو الزام دینا ایسے ہی ہے جیسے *"چھینک کے بعد زلزلہ آیا"* کہہ دینا۔

1. کیا بریانی کے بعد تربوز زہر بن جاتا ہے؟
*سیدھا جواب: نہیں۔*
یہ پرانی دیسی کہاوت ہے: "مچھلی کے بعد دودھ"، "بریانی کے بعد تربوز"۔ میڈیکل سائنس میں اس کی *کوئی بنیاد نہیں.

آپ کا معدہ تیزاب کا تالاب ہے۔ بریانی، تربوز، دودھ، سب وہاں جا کر ایک ہی طرح ہضم ہوتے ہیں۔ ہزاروں لوگ روز بریانی کے بعد تربوز، کھیر، کسٹرڈ کھاتے ہیں۔ اگر یہ زہریلا ہوتا تو *آدھا پاکستان اور انڈیا کی آبادی ختم ہو چکی ہوتی۔

تو پھر موت کیوں ہوئی؟ وجہ تربوز نہیں، "زہریلا تربوز" تھا۔

2. اصل قاتل: تربوز میں کیا ہو سکتا ہے؟

کیس 1: نائٹریٹ/کیڑے مار دوا کا زہر
کسان جلدی پھل پکانے کے لیے *کیلشیم کاربائیڈ، آکسیٹوسن، یا زیادہ نائٹریٹ کھاد* انجیکٹ کر دیتے ہیں۔ یا کیڑے مار دوا کا سپرے زیادہ ہو اور بغیر دھوئے کاٹ دیا جائے۔
علامت: 1-3 گھنٹے میں قے، دست، پیٹ درد، گردے فیل۔ یہی پوسٹ مارٹم میں نکلا — *گردے بری طرح متاثر*۔

کیس 2: بیکٹیریا — سالمونیلا، ای کولائی
تربوز زمین پر اگتا ہے۔ کٹا ہوا تربوز اگر *4 گھنٹے سے زیادہ گرمی میں* پڑا رہے تو بیکٹیریا طوفان کی طرح بڑھتے ہیں۔
فروٹ والے اکثر *ایک ہی چھری، ایک ہی گندے کپڑے* سے سارا دن تربوز کاٹتے ہیں۔ ایک خراب تربوز کا رس سب کو لگ جاتا ہے۔
نتیجہ: شدید فوڈ پائزننگ → پانی کی کمی → گردے فیل → موت۔

کیس 3: لیسٹیریا
کٹے ہوئے خربوزے/تربوز میں *Listeria* بیکٹیریا بہت تیزی سے پھیلتا ہے، خاص کر فریج سے باہر۔ یہ بیکٹیریا گردے، دماغ پر حملہ کرتا ہے۔ حاملہ عورت، بچوں کے لیے جان لیوا۔

کیس 4: پھپھوندی/Toxin
اگر تربوز اندر سے *گلنا شروع ہو گیا ہو* اور اوپر سے ٹھیک لگے، تو اس میں *Myco-toxin* بن جاتا ہے۔ یہ سیدھا جگر-گردے تباہ کرتا ہے۔

3. بریانی کا رول کیا تھا؟
بریانی بے قصور ہے۔ ہاں، اگر بریانی *باسی* تھی یا *گرمی میں 5-6 گھنٹے پڑی رہی* تو وہ بھی فوڈ پائزننگ کر سکتی تھی۔

مگر یہاں 4 لوگوں نے ایک ہی تربوز کھایا اور 4 ہی مرے۔ مہمانوں نے صرف بریانی کھائی، وہ ٹھیک ہیں۔ کامن فیکٹر = تربوز.

4. گردے کیوں فیل ہوئے؟
فوڈ پائزننگ میں *شدید الٹی-دست* سے جسم کا سارا پانی نکل جاتا ہے۔ بلڈ پریشر گر جاتا ہے۔ گردوں کو خون ملنا بند → *Acute Kidney Injury*۔ 24-48 گھنٹے میں موت۔

بچوں عائشہ، زینب میں پانی کی کمی بہت جلدی جان لیوا بن جاتی ہے۔

5. بچاؤ کیسے ممکن تھا؟ 3 اصول

1. تربوز کا ٹیسٹ: کاٹنے سے پہلے سونگھیں۔ کھٹی، شراب جیسی بو = پھینک دو۔ اندر سے *سفید، پیلا، یا زیادہ نرم گودا = زہر۔
2. گھر لا کر دھوئیں: ثابت تربوز کو صابن پانی سے دھوئیں۔ چھری، پلیٹ صاف۔ کاٹ کر *فوراً کھائیں یا فریج میں ڈھک کر رکھیں۔ 2 گھنٹے سے زیادہ باہر نہ پڑا رہے۔
3. ریڑھی سے کٹا ہوا نہ لیں: گرمی میں مکھی، گرد، گندا پانی، گندی چھری = موت کا سامان۔

آخری بات: الزام تربوز پر نہیں، لالچ پر دیں
وہ لالچ جو کسان کو "جلدی پکانے" پر مجبور کرتا ہے۔
وہ لالچ جو ریڑھی والے کو "گلا سڑا مال" بیچنے پر مجبور کرتا ہے۔
وہ بے خبری جو ہمیں "سستا اور کٹا ہوا" لینے پر مجبور کرتی ہے۔

اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ اور ہمیں توفیق دے کہ پھل کھانے سے پہلے 10 سیکنڈ لگا کر سوچیں، دھوئیں، چیک کریں۔ کیونکہ 10 سیکنڈ کی احتیاط، پوری زندگی بچا لیتی ہے.

Follow Us...
سید نعیم الحق Kupwara Times Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed Kupwara News ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABAD AIP Kralpora

Want your school to be the top-listed School/college in Kupwara?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Meelyal
Kupwara
193224