20/05/2026
زمین کے گرد حفاظتی تہیں اور "سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا" — ایک متوازن سائنسی و قرآنی مطالعہ
تحقیق و مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
قرآنِ مجید جب کائنات کے مظاہر کا ذکر کرتا ہے تو اس کا مقصد محض سائنسی معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنا اور اسے اپنے خالق کی بے پناہ قدرت پر غور و فکر کی دعوت دینا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلامِ الٰہی بار بار انسانی عقل کو آسمان، زمین، سورج، چاند، ستاروں اور کائناتی نظم پر تدبر کا راستہ دکھاتا ہے۔ انہی الٰہی نشانات میں سے دو آیات ایسی ہیں جو آج کے مادی اور سائنسی دور میں بھی اہلِ علم کے لیے حیرت اور فکری بالیدگی کا باعث ہیں۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
﴿وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ﴾
"اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا، اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔" > (سورہ الانبیاء: 32) [1]
اور ایک اور مقام پر کائنات کی تہہ دار ساخت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
﴿الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا...﴾
"جس نے سات آسمان تہہ در تہہ (پرت در پرت) پیدا کیے۔" > (سورہ الملک: 3) [2]
عربی زبان اور لغتِ قرآن میں لفظ "طِبَاقًا" کے معنی ایک دوسرے کے اوپر انتہائی نظم کے ساتھ جڑی ہوئی تہوں (Layer upon Layer) کے ہیں۔ آج جب جدید کائناتی سائنس زمین اور اس کے ارد گرد کے نظام کا مطالعہ کرتی ہے، تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک ایسے ہی منظم اور مربوط طبقاتی نظام (Layered Architecture) کا اعتراف کرتی ہے۔
ایک نہایت اہم علمی و تحقیقی توازن
یہاں ایک ایسی باریک اور اہم علمی وضاحت ضروری ہے جو اس پورے مضمون کے فکری توازن کو برقرار رکھتی ہے۔ قرآنِ مجید میں بیان کردہ "سَبْعَ سَمَاوَات" (سات آسمان) کا تصور ایک انتہائی عظیم، وسیع اور ماورائے عقل غیبی حقیقت ہے۔ اسے صرف اور صرف زمین کی فضائی تہوں (Atmospheric Layers) تک محدود کر دینا علمی طور پر درست نہیں ہوگا؛ کیونکہ قرآنِ پاک خود یہ واضح کرتا ہے کہ تمام نظر آنے والے ستارے، سیارے اور کھربوں کہکشائیں ابھی صرف "آسمانِ دنیا" یعنی پہلے آسمان کی حدود میں واقع ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے:
﴿إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ﴾
"بے شک ہم نے پہلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا۔" > (سورہ الصافات: 6) [3]
لہٰذا، یہ بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ زمین کے گرد موجود فضائی تہیں بذاتِ خود وہ "سات آسمان" نہیں ہیں، بلکہ یہ مادی غلاف اس عظیم آفاقی اور تہہ در تہہ کائناتی نظام کا ایک چھوٹا سا مادی حصہ اور زمین کی حد تک اس کا ایک مشاہداتی نمونہ ہے۔
زمین: ایک "محفوظ چھت" کے نیچے
جدید خلائی سائنس اور موسمیات (Meteorology) کے مطابق، ہماری زمین خلا کی ہلاکت خیزیوں کے درمیان بالکل ننگی نہیں ہے، بلکہ یہ کئی حفاظتی غلافوں اور مقناطیسی میدانوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ یہ تہیں مل کر ایک ایسا الٰہی نظام بناتی ہیں جس کے بغیر زمین پر زندگی کا ایک لمحہ بھی باقی رہنا ممکن نہیں۔
ٹروپوسفیئر (Troposphere): یہ زمین کے سب سے قریب واقع پہلی فضائی تہہ ہے جہاں بادل بنتے ہیں، بارش ہوتی ہے اور تمام موسمی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ انسانی اور نباتیاتی زندگی کا براہِ راست تسلسل اسی تہہ سے جڑا ہے۔
سٹریٹوسفیئر (Stratosphere): اس دوسری تہہ میں "اوزون کی ڈھال" (Ozone Layer) موجود ہے جو سورج سے آنے والی مہلک بالائے بنفشی شعاعوں (UV Rays) کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ ناسا (NASA) کے مطابق، اگر اوزون کی یہ تہہ ختم ہو جائے تو زمین پر جلدی سرطان (Skin Cancer) اور جینیاتی بربادی کا طوفان آ جائے۔ [4]
میزوسفیئر (Mesosphere): یہ تیسری تہہ زمین کے لیے ایک مادی چٹان کا کام کرتی ہے۔ خلا سے روزانہ آنے والے لاکھوں شہابی پتھر (Meteors) زمین تک پہنچنے سے پہلے اسی تہہ کی رگڑ کی وجہ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، جس سے زمین مستقل بمباری سے بچی رہتی ہے۔
تھرموسفیئر (Thermosphere): یہ چوتھی تہہ سورج کی شدید تپش اور مہلک ایکس ریز (X-rays) کو روکنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اسی خطے میں قطبین پر خوبصورت آسمانی روشنیاں (Aurora phenomena) پیدا ہوتی ہیں۔
آئنوسفیئر (Ionosphere): یہ پانچویں فعال تہہ زمین کے مواصلاتی نظام (Communication System) کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہے۔ زمین سے بھیجی جانے والی ریڈیو لہریں اسی تہہ سے ٹکرا کر واپس دنیا بھر میں پھیلتی ہیں، جس سے ہمارا وائرلیس نظام چلتا ہے۔ [5]
ایگزوسفیئر (Exosphere): یہ کرۂ ہوائی کی چھٹی اور آخری مادی حد ہے جہاں ہوا انتہائی لطیف ہو جاتی ہے اور فضا بتدریج خلا کے لامتناہی سکوت میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
میگنیٹو سفیئر (Magnetosphere): یہ زمین کی ساتویں اور سب سے بیرونی عظیم مقناطیسی ڈھال ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی (ESA) کے مطابق، یہ مقناطیسی غلاف سورج سے نکلنے والے ہلاکت خیز تابکار ذرات کے طوفان (Solar Winds) کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی خلا میں موڑ دیتا ہے، ورنہ یہ تابکاری زمین کی پوری فضا کو جلا کر راکھ کر دیتی۔ [6]
سائنسی درجہ بندی اور قرآنی لفظ کا علمی تال میل
یہاں ایک سچے محقق کی حیثیت سے یہ ماننا ضروری ہے کہ جدید سائنسدان فضا کی تہوں کی تعداد اور ان کی درجہ بندی پر کسی ایک حتمی ماڈل پر متفق نہیں ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر بدلتے رہتے ہیں؛ کچھ ماڈلز فضا کو پانچ بنیادی حصوں میں بانٹتے ہیں، کچھ چھ، جبکہ کچھ ماہرین ان کے افعال اور مقناطیسی میدانوں کو شامل کر کے انہیں سات یا اس سے بھی زیادہ طبقات میں شمار کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، بعض سائنسدان 'میگنیٹو سفیئر' کو فضا کا حصہ ماننے کے بجائے ایک الگ فورس فیلڈ کہتے ہیں، جبکہ دیگر اسے زمین کے مجموعی حفاظتی ڈھانچے کا لازمی جزو قرار دیتے ہیں۔ اسی علمی تغیر کی وجہ سے یہ دعویٰ کرنا بالکل نامناسب ہوگا کہ "قرآن نے بعینہٖ انہی سات فضائی تہوں کا ذکر کیا تھا"۔ البتہ، یہ بات ایک دانشور کو ورطہِ حیرت میں ضرور ڈالتی ہے کہ زمین کے گرد حفاظتی تہوں کا یہ نظام جب اپنے افعال کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ سات سطحوں تک پہنچتا ہے، اور یہ پورا نمونہ انسان کو کلامِ الٰہی کے لفظ "طِبَاقًا" پر نئے زاویوں سے تدبر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
تہہ در تہہ کائنات — ایک آفاقی قانون
جدید مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا پورا فنِ تعمیر (Architecture) ہی اس "تہہ در تہہ" یعنی Layered Structure کے قانون پر قائم دکھائی دیتا ہے:
ایٹم کے اندر الیکٹرانز کے مدار (Electron Shells)۔
زمین کی اندرونی ساخت (Crust, Mantle, and Core)۔
سمندروں کی گہرائی کے مختلف طبقات۔
انسانی جلد کی مائکروسکوپک تہیں [7]۔
حتیٰ کہ کہکشاؤں اور کائناتی جال (Cosmic Web) کی بناوٹ۔
قرآنِ مجید نے چودہ سو سال پہلے "طِبَاقًا" جیسا فصیح لفظ استعمال کر کے دراصل انسان کو اسی عالمگیر تخلیقی توازن کو سمجھنے کی دعوت دی تھی۔
اصل پیغام اور حاصلِ مطالعہ
اس ریسرچ کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ ہر نئی سائنسی دریافت کو زبردستی کھینچ تان کر قرآن کی کسی آیت پر فٹ کیا جائے، بلکہ اصل مقصد اس حقیقت کا ادراک کرنا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں ہے۔ زمین کے گرد موجود یہ فولادی حفاظتی نظام، اوزون کی ڈھال، شہابی پتھروں سے تحفظ، مقناطیسی غلاف اور مواصلاتی لہروں کا توازن—یہ سب ایک علیم و قدیر ہستی کی عظیم انجینئرنگ اور حکمتِ بالغہ کی گواہی دیتے ہیں۔
انسان جتنا علم اور سائنس کی وادیوں میں آگے بڑھ رہا ہے، اسے اتنا ہی احساس ہو رہا ہے کہ ہماری بقا کے لیے کائنات کو کس قدر باریک بینی سے متوازن (Fine-Tuned) کیا گیا ہے۔ قرآن انسان کو اسی ابدی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے چیلنج کرتا ہے:
..مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ
ترجمہ: "...تم رحمان کی تخلیق میں کوئی بے قاعدگی اور ناہمواری نہیں دیکھو گے۔ پھر ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھو، کیا تمہیں کوئی شگاف یا نقص نظر آتا ہے؟"
(سورہ الملک: 3)
حوالہ جات (References):
[1] قرآنِ مجید — سورہ الانبیاء، آیت: 32۔
[2] قرآنِ مجید — سورہ الملک، آیت: 3۔
[3] قرآنِ مجید — سورہ الصافات، آیت: 6۔
[4] NASA Science: "Earth's Atmosphere: Composition and Protective Layers".
[5] NOAA (National Oceanic and Atmospheric Administration): "The Ionosphere's Role in Modern Radio Communication".
[6] ESA (European Space Agency): "The Magnetosphere and Solar Radiation Protection".
[7] امام راغب اصفہانی — المفردات فی غریب القرآن (لفظ "طبق" اور "سماء" کی لغوی ابعاد)۔
20/05/2026
19/05/2026
05/05/2026
05/05/2026
02/05/2026
30/04/2026