Change The Lens Change The World

Change The Lens Change The World Follow us and Change Your Lens Change Your World.

 سید نعیم الحق Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABAD
21/06/2026

سید نعیم الحق Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABAD

[رسالة التنزيه لأعمال الشبيه]یہ رسالہ آیت اللہ العظمی السید محسن الامین (1868-1952) نے 1927 میں لکھا تھا۔ جس میں انہوں ن...
21/06/2026

[رسالة التنزيه لأعمال الشبيه]
یہ رسالہ آیت اللہ العظمی السید محسن الامین (1868-1952) نے 1927 میں لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے عزاداری میں شامل ہونے والی بعض رسومات کی مذمت کی اور انہیں اسلام کی روح کے خلاف قرار دیا۔

اس کتاب کا فارسی میں ترجمہ ایران کے ایک 20 سالہ طالب علم جلال آلِ احمد نے کیا۔ انہوں نے 1943 میں اپنی پہلی تحریر ایک چھوٹے سے کتابچے کی صورت میں شائع کی جس کا عنوان تھا "عزاداری ہائے نامشروع" (ناجائز عزاداری)۔ دو دنوں کے اندر کتابچے کی تمام کاپیاں بک گئیں، لیکن مصنف کی یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی کیونکہ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے والد (جو ایک عالم دین تھے) کے دوستوں نے پورا اسٹاک جلانے کے لیے خرید لیا تھا۔

رسالے کے اہم نکات کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار محمد ﷺ اور ان کی آل پر درود و سلام بھیجے۔ (حمد و ثنا کے بعد) بیشک اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے برائی کو روکنا (انکارِ منکر) بقدرِ امکان دل، ہاتھ یا زبان سے واجب کیا ہے۔ اور سب سے بڑی برائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بدعت کو سنت اور سنت کو بدعت بنا دیا جائے، اس کی طرف دعوت دی جائے اور اسے فروغ دیا جائے۔

(اور چونکہ) ابلیس اور اس کے چیلے لوگوں کو اسی طریقے سے گمراہ کرتے ہیں جو ان کے ہاں رائج اور پسندیدہ ہوتا ہے، اس لیے وہ اکثر دیندار لوگوں کو دین ہی کے راستے سے گمراہ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ گمراہی کا سب سے زیادہ نقصان دہ راستہ ہے۔ اور بہت ہی کم کوئی ایسی عبادت یا سنت ہوگی جس میں ابلیس اور اس کے چیلوں نے اسے فاسد کرنے والی چیزیں شامل نہ کر دی ہوں۔

انہیں میں سے سید الشہداء ابی عبداللہ الحسین بن علی (علیہما السلام) پر شعائرِ غم (عزاداری) قائم کرنا ہے، جس کا مستحب ہونا اور سنت ہونا نبی کریم ﷺ اور ائمہ اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے ثابت ہے، اور تمام ادیان کے تمام محققین نے اس کا اعتراف کیا ہے، جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب **"اقناع اللائم على إقامة المآتم"** میں اس حد تک واضح اور بیان کیا ہے جس پر مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں، اس موضوع پر اس جیسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ شیعہ کا طریقہ کار عصرِ حسین (ع) سے لے کر آج تک اسی پر جاری رہا، بلکہ خود نبی کریم (ص) کے زمانے میں بھی، جنہوں نے اپنے بیٹے حسین (ع) کی شہادت سے پہلے ان پر آنسو بہائے اور اسی طرح امیر المؤمنین علیہ السلام اور باقی ائمہ اہل بیت طاہرین علیہم السلام نے بھی کیا، جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر اور تفصیل مذکورہ بالا کتاب میں بیان کی ہے۔

جب ابلیس اور اس کے چیلوں نے اس (عزاداری) کے فوائد اور منافع کو دیکھا، اور یہ کہ وہ اپنی تمام تر چالوں اور مکہاریوں کے باوجود اسے باطل کرنے پر قادر نہیں ہیں، تو انہوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے یہ حیلہ اپنایا کہ انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس میں بدعات، منکرات اور ایسی چیزیں شامل کر دیں جو دوسروں کے سامنے اسے عیب دار بنا دیں، تاکہ اس کے فوائد کو فاسد اور اس کے ثواب کو باطل کر سکیں۔

چنانچہ انہوں نے اس میں ایسی چیزیں شامل کر دیں جن میں سے اکثر کی تحریم (حرام ہونے) پر مسلمانوں کا اجماع ہے، وہ منکرات میں سے ہیں اور بعض گناہِ کبیرہ ہیں جن کے کرنے والے کو اللہ نے دھمکی دی ہے اور اپنی عزیز کتاب میں اس کی مذمت کی ہے۔

۱۔ جھوٹ (الكذب)

ایسی جھوٹی باتوں کا ذکر کرنا جن کا جھوٹ ہونا معلوم ہو، وہ نہ کسی روایت میں ہوں اور نہ ہی کسی کتاب میں نقل کی گئی ہوں، وہ منبروں پر اور محافل میں صبح و شام پڑھی جاتی ہیں نہ کوئی ٹوکنے والا ہے اور نہ روکنے والا۔ ہم ان کا ایک حصہ اپنی آنے والی گفتگو میں ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔ اور یہ بالاتفاق کبیرہ گناہوں میں سے ہے، خاص طور پر جب اللہ، اس کے رسول (ص) یا ائمہ (ع) میں سے کسی پر جھوٹ باندھا جائے۔

۲۔ غنا کے انداز میں پڑھنا (التلحين بالغناء)

جس کی تحریم پر اجماع قائم ہے، خواہ وہ خوشی پیدا کرنے کے لیے ہو یا غم کے لیے۔ اور اسے پڑھنے والوں کی ایک بڑی جماعت بغیر کسی جھجھک کے استعمال کرتی ہے۔ فقہاء نے اس میں سے سوائے شادیوں میں عورت کے گانے کے کسی چیز کا استثنا نہیں کیا، بشرطیکہ وہ کوئی باطل بات نہ کہے اور اجنبی مرد اس کی آواز نہ سنیں۔ اور علامہ طباطبائی نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے جیسا کہ صاحبِ جواہر نے ان سے نقل کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: *"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں اور اس کا مذاق اڑائیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے"*۔

۳۔ اپنے نفس کو اذیت دینا اور اسے نقصان پہنچانا (إيذاء النفس وإدخال الضرر عليها)

چھریوں اور تلواروں سے سروں پر مارنا اور انہیں زخمی کرنا یہاں تک کہ خون بہنے لگے، اکثر یہ بات بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے بے ہوشی، بیماری یا موت، اور زخم کے دیر سے ٹھیک ہونے کا سبب بنتی ہے، اور لوہے کی زنجیروں وغیرہ سے پیٹھ پر مارنا۔اس کی تحریم عقل اور نقل (روایات) دونوں سے ثابت ہے، اور یہ شریعت کی اس آسانی اور نرمی سے معلوم ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرما کر فخر کیا تھا: *"میں تمہارے پاس ایک آسان اور نرم شریعت لے کر آیا ہوں"*۔ اور دین میں حرج اور مشقت کو اٹھا دینے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: *"اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی"*۔

۴۔ آلاتِ لہو و لعب کا استعمال (استعمال آلات اللهو)

جیسے ڈھول، بانسری، دمام اور تانبے کے جھانج (صنوج) وغیرہ، جن کی تحریم شریعت میں ثابت ہے، فقہاء نے اس میں سے سوائے جنگی ڈھول اور شادی میں بغیر جھانج کے دف کے کسی چیز کا استثنا نہیں کیا۔

۵۔ مردوں کا عورتوں کا روپ دھارنا (تشبه الرجال بالنساء)

شبیہ (تمثیل/ڈرامہ) بنانے کے وقت، اور اس کی تحریم شریعت میں ثابت ہے۔

۶۔ عورتوں کو بے پردہ چہروں کے ساتھ کجاووں پر سوار کرنا (اركاب النساء الهوادج مكشفات الوجوه)

اور ان کی تشبیہ رسول اللہ (ص) کی بیٹیوں سے دینا۔ یہ عمل بذاتِ خود حرام ہے کیونکہ اس میں بے حرمتی اور مثلہ (مسخ کرنا) شامل ہے، چہ جائیکہ جب اس میں کوئی اور قبیح اور گھناؤنی چیز شامل ہو جائے، جیسا کہ پچھلے سال بصرہ میں ہوا کہ ایک گناہگار عورت کو جنابِ زینب (ع) سے تشبیہ دی گئی اور اسے لوگوں کے مجمعے میں ننگے سر ہودج پر سوار کیا گیا۔

۷۔ اجنبی مردوں کے سننے کی جگہ پر عورتوں کا چیخنا چلانا (صياح النساء بمسمع من الرجال الأجانب)

عورت کی آواز کا پردہ ہے۔ اگر بالفرض اسے حرام نہ بھی مانا جائے، تب بھی یہ ایک عیب دار، بدنما اور مروت و آداب کے منافی چیز ہے، جس سے عزاداری کو پاک رکھنا واجب ہے۔

۸۔ بدصورت آوازوں کے ساتھ چیخنا اور چنگھاڑنا (الصياح والزعيق بالأصوات القبيحة)

۹۔ ہر وہ چیز جو بے حرمتی اور رسوائی کا باعث بنے (كل ما يوجب الهتك والشناعة)
جو شمار سے باہر ہے، اور اس کا حال مختلف شہروں اور علاقوں کے حساب سے بدلتا رہتا ہے۔

پس ان چیزوں کو امام حسین (ع) کے شعائرِ غم کے قیام میں شامل کرنا ابلیس کے وسوسوں میں سے ہے اور ان برائیوں (منکرات) میں سے ہے جو اللہ اور اس کے رسول (ص) کو ناراض کرتی ہیں، اور امام حسین (ع) کو ناراض کرتی ہیں۔ کیونکہ وہ تو اپنے نانا (ص) کے دین کو زندہ کرنے اور برائیوں کو مٹانے کے لیے شہید ہوئے تھے، تو وہ ان برائیوں کے کیے جانے پر کیسے راضی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں یہ سمجھ کر کیا جائے کہ یہ اطاعت اور عبادت ہے۔

✍️ناقل: سید تراب علی

16/06/2026

 سید نعیم الحق Kupwara Times Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABA...
15/06/2026

سید نعیم الحق Kupwara Times Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed ABABEEL YOUTH CLUB QAZIABAD قناة فلسطين الإخبارية

الحمد للہ ہر سال کی طرح امسال  یہ دوسری مرتبہ شعبہ تحفظ شعائر اسلام دارالعلوم مجددیہ میلیال کی زیر نگرانی ضلع کپواڑہ کے ...
11/06/2026

الحمد للہ ہر سال کی طرح امسال یہ دوسری مرتبہ شعبہ تحفظ شعائر اسلام دارالعلوم مجددیہ میلیال کی زیر نگرانی ضلع کپواڑہ کے علاقہ جات سے موصول ہوۓ قرآن پاک اور اسلامی کتب کے بوسیدہ اوراق آج اللہ کے فضل سے ایک محفوظ و پاک و صاف جگہ دفن کردۓ گیۓ، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ شعبہ پچھلے 4 سالوں سے فعال ہے اور ہر سال ایک سال میں دو سے تین مرتبہ قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو محفوظ کرنے کا کام انجام دے رہا ہے۔

پوری امت مسلمہ سے گذارش ہے کہ آپ ان مقدس بوسیدہ اوراق کو ہمارے مندرجہ ذیل پتہ پر بھیج دیں۔
دارالعلوم مجددیہ میلیال، کرالپورہ، کپواڑہ، کشمیر۔ (193224)
المفتی السید نعیم الحق المشھدی الکاظمی
رابطہ نمبر:- 917006374148+




سید نعیم الحق Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Kupwara Times Kupwara News

11/06/2026

الحمد للہ ہر سال کی طرح امسال یہ دوسری مرتبہ شعبہ تحفظ شعائر اسلام دارالعلوم مجددیہ میلیال کی زیر نگرانی ضلع کپواڑہ کے علاقہ جات سے موصول ہوۓ قرآن پاک اور اسلامی کتب کے بوسیدہ اوراق آج اللہ کے فضل سے ایک محفوظ و پاک و صاف جگہ دفن کردۓ گیۓ، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ شعبہ پچھلے 4 سالوں سے فعال ہے اور ہر سال ایک سال میں دو سے تین مرتبہ قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو محفوظ کرنے کا کام انجام دے رہا ہے۔

پوری امت مسلمہ سے گذارش ہے کہ آپ ان مقدس بوسیدہ اوراق کو ہمارے مندرجہ ذیل پتہ پر بھیج دیں۔
دارالعلوم مجددیہ میلیال، کرالپورہ، کپواڑہ، کشمیر۔ (193224)
المفتی السید نعیم الحق المشھدی الکاظمی
رابطہ نمبر:- 917006374148+



11/06/2026

الحمد للہ ہر سال کی طرح امسال 2026 یہ دوسری مرتبہ شعبہ تحفظ شعائر اسلام دارالعلوم مجددیہ میلیال کی زیر نگرانی ضلع کپواڑہ کے علاقہ جات سے موصول ہوۓ قرآن پاک اور اسلامی کتب کے بوسیدہ اوراق آج اللہ کے فضل سے ایک محفوظ و پاک و صاف جگہ دفن کردۓ گیۓ، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ شعبہ پچھلے 4 سالوں سے فعال ہے اور ہر سال ایک سال میں دو سے تین مرتبہ قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق کو محفوظ کرنے کا کام انجام دے رہا ہے۔

پوری امت مسلمہ سے گذارش ہے کہ آپ ان مقدس بوسیدہ اوراق کو ہمارے مندرجہ ذیل پتہ پر بھیج دیں۔
دارالعلوم مجددیہ میلیال، کرالپورہ، کپواڑہ، کشمیر۔ (193224)
المفتی السید نعیم الحق المشھدی الکاظمی
رابطہ نمبر:- 917006374148+



 Kupwara Times سید نعیم الحق Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed Kupwara News
07/06/2026

Kupwara Times سید نعیم الحق Hafiz Syed Abid Al-Hilal Public School Meelyal Kupwara Ab Majeed Kupwara News

@top fansKupwara TimesHafiz Syed Abid
03/06/2026

@top fansKupwara TimesHafiz Syed Abid

سید نعیم الحق Kupwara Times
02/06/2026

سید نعیم الحق Kupwara Times

Address

Meelyal
Kupwara
193224

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Change The Lens Change The World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Change The Lens Change The World:

Shortcuts

Share