Noor-e-Hedayat

Website

Noor-e-Hedayat Noor-e-Hidayat ek platform hai jo roshni, hidayat aur positivity ko phailane ka irada rakhta hai.

Yahan aapko Islamic knowledge, motivational quotes aur roohani posts milengi jo zindagi ko behtareen banane mein madadgar sabit hong

21/07/2026

28/06/2026
28/06/2026

Sometimes silence speaks louder than words. ✍️ What's one thing you're keeping to yourself today?

کیا شوہر کو گھر کا ہر کام کرنا چاہئے ؟(تحریر : کفایت اللہ سنابلی)✿ ✿ ✿ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ اللہ کے رس...
04/05/2026

کیا شوہر کو گھر کا ہر کام کرنا چاہئے ؟
(تحریر : کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿
اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم «كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ» ، (اپنے گھر والوں کے کام وکاج میں لگے رہتے تھے ) [صحيح البخاري رقم 6039]
اس سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ گھر کے تمام کاموں میں شوہر کو بیوی کا تعاون کرنا چاہئے حتی کہ کھانا بنانے ،برتن دھونے اور جھاڑو لگانے میں بھی بیوی کا ہاتھ بٹانا چاہئے۔
عرض ہے کہ :
یہ حدیث مجمل ہے اور دوسری حدیث میں خود اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس اجمال کی تفصیل یوں پیش کی ہے:
”كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، قَالَتْ: وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ“
”آپ ﷺ خود اپنے کپڑے سی لیتے تھے، اپنے جوتے خود مرمت کر لیتے تھے، اور آپ ﷺ وہ تمام کام کرتے تھے جو مرد اپنے گھروں میں کیا کرتے ہیں۔“ [مسند أحمد رقم 26239 وإسناده صحيح]
اس حدیث کے اخیر میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوری صراحت کے یہ اصولی بات کہہ دی کہ « وَكَانَ يَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں مردوں والے کام کیا کرتے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کے صرف وہی کام کرتے تھے جو مردوں کے کام ہوتے تھے ۔
اس کا یہ مطلب لینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں والے کام بھی کرتے تھے یہ انتہائی گمراہ کن استدلال ہے ۔
● ابوزرعہ ، ابن العراقی (ت 826هـ) فرماتے ہیں:
« أَمَّا خِدْمَةُ أَهْلِهِ فِي الْحَاجَاتِ الْمُخْتَصَّةِ بِهِنَّ فَهُوَ غَيْرُ مُرَادٍ فِي الْحَدِيثِ فِيمَا يَظْهَرُ وَلَا يُمْكِنُ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رضي الله عنهن السُّكُوتُ عَنْ ذَلِكَ وَالْمُوَافَقَةُ عَلَيْهِ »
”اہلِ خانہ کی ان ضروریات میں خدمت کرنا جو خاص طور پر عورتوں سے متعلق ہوں، ظاہر ہے کہ حدیث میں یہ مراد نہیں ہے، اور نہ ہی امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے لیے ممکن تھا کہ وہ ایسی کسی بات پر خاموش رہتیں یا اس کی موافقت کرتیں۔“ [ طرح التثريب في شرح التقريب 8/ 181]
● امام ابن القيم رحمه الله (المتوفى751) فرماتے ہیں:
«وأما ترفيه المرأة وخدمة الزوج وكنسه وطحنه وعجنه وغسيله وفرشه وقيامه بخدمة البيت فمن المنكر»
”اور رہا شوہا کا بیوی کی خدمت کرنا، گھر میں جھاڑو دینا، آٹا پیسنا، آٹا گوندھنا، کپڑے دھونا، بستر بچھانا، اور گھر کی دیکھ بھال کرنا تویہ شوہر کے لئے نامناسب عمل ہے۔“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 171]
معلوم ہوا کہ شوہر کے لئے ہر طرح کے گھریلو کام کرنے کو سنت رسول بتانا غلط ہے ۔
(کفایت اللہ سنابلی)

03/05/2026

Address

Katihar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor-e-Hedayat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category