Jamia K.H Islamia

Jamia K.H Islamia Jamia only for girls

20/05/2022
लडकियों के लिये इस्पेशल Only for girls
05/05/2022

लडकियों के लिये इस्पेशल
Only for girls

01/09/2021

اپنی ایک پرانی تحریر نظر سے گزری ، سوچا شیئر کردوں ، اگرچہ یہ کچھ طویل ہے لیکن کام کی ہے ۔

فارسی زبان میں جوحروف استعمال ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:

ا ، ب ، پ ، ت ، ث ، ج ، چ ، ح ، خ ، د ، ذ ، ر ، ز ، ژ ، س ، ش ، ص ، ض ، ط ، ظ ، ع غ ، ف ، ق ، ک ،گ ، ل ، م ، ن ، و ، ہ ، ء ، ی -
ان میں 29 تووہی ہیں جو عربی زبان کے ہیں ، صرف یہ چار حروف زیادہ ہے:

پ ، چ ، ژ ، گ ۔

الف: فارسی کاپہلاحرف ہے ، یہ جب کسی دوحرفی لفظ سے پہلے آئے گا تو اِس پر ہمیشہ زبر آئے گا ، جیسے: اَبر ، اَبا ، اَبے وغیرہ - اور اگر دوسے زیادہ حروف پرمشتمل کسی لفظ پر آئے گا تو اُس لفظ کے پہلے والے حرف کی حرکت اِسے دیں گے ، مثلا:
لفظِ شُتر کے پہلے اگر الف لگایا تو اُشتر ہوجائے گا اور سِتم سے پہلے الف آئے گا تو اِستم ہو گا اور شِکم سے پہلے الف لائے تو اِشکم پڑھیں گے -

ب: اسے بائے موحدہ ( مُ وَ حِّ دَ ہ ) اور بائے تَازی کہتےہیں -

پ: اسے بائے فارسی اور بائے عجمی ( عَ جَ مِ ی ) کہتے ہیں ، فارسی والے اسے بہ وقتِ ضرورت ف سے بدل لیتے ہیں ، جیسے تَعریب میں پِیل کو فِیل کرلیا گیا ہے اور بغیر تعریب کے:
سپید کو سفید ، پرویش کو فرویش -
اسی طرح اسے ب سے بھی بدلاگیاہے ، جیسے پزدہ کوبزدہ کرلیا گیا -

ت: اس حرف کو مثنات فوقانی ( مُ ثَ نَّ ا تِ فَ وْ قَ ا نِ ی ) اور تائے قرشت ( قَ رْ شَ ت ) کہتے ہیں -

ث: اسےثائےمثلثہ ( مُ ثَ لَّ ثَ ہ ) کہتے ہیں ۔

ج: اسے جیم تَازی کہتے ہیں ۔

چ: اسے جیم فارسی کہتے ہیں ، اس کی تعریب ' ص ' سے کی جاتی ہے ، مثلاً: چرم سے صرم ، چنگ سے صنج وغیرہ ۔

ح: اسے حائے حطی ( حُ طِّ ی ) کہتے ہیں ، بعض فارسی الفاظ جو حائے حطی سے لکھے جاتے ہیں یہ اصل میں ہائے ہَوَّز ( ہ ) سے ہیں ، جیسے: حیز اورحال کی اصل ہیز اور ہال ہے ، یہ بعض لوگوں کی نا درست ادائگی نے مخلوط کردیے ہیں -

خ: اسے خائے معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ )کہتے ہیں ۔

د: اسے دالِ مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں ۔

ذ: اس حرف کوذالِ معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) کہتے ہیں ، فارسی کلموں میں دال اورذال کی پہچان یہ ہے کہ جہاں دال سے پہلے حرفِ علت ہو وہاں ہمیشہ ذال معجمہ ہوتی ہے اورجہاں اس سے پہلے حرفِ صحیح ہوگا تو دیکھیں گے کہ وہ ساکن ہے یا متحرک ، اگر متحرک ہے تووہاں بھی ذالِ معجمہ ہی ہوگی اوراگر ساکن ہے تودالِ مہملہ -
بعض علماکاکہناہے کہ ذالِ معجمہ فارسی میں آتی ہے اور بعض کاکہناہے یہ حرف فارسی میں نہیں آتا ، اگر کہیں آیاہے تو دال مہملہ سے بدلاہوا آیاہے ، جیسے: آذر ( آگ ) اصل میں آدر تھا ، جسے ذال سے تبدیل کیاگیا -
نیز بعض اساتذہ نے جو سُود اور بُود کاقافیہ ماخُوذ اور اَعُوذ باندھا ہے ، باد کاقافیہ نَفاذ اور عید کاقافیہ تعویذ باندھا ہے اس کی یہی وجہ ہے ۔

ر: اسے رائے مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں ، یہ حرف کلمے کے آخرمیں نسبت کافائدہ بھی دیتاہے ، جیسے: انگشت انگلی کوکہتے ہیں تو انگشتر انگوٹھی کو ؛ ظاہر ہے کہ ' ر ' کے ملنے سے ہی یہ معنی پیدا ہوئے اسی لیے حروفِ نسبت میں اس کابھی شمار کیاجاتاہے ۔

ز: اسے زائے معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) اور زائے تازی کہتے ہیں ۔

ژ: اس حرف کوزائے فارسی کہاجاتاہے ، یہ صرف فارسی زُبان کے ساتھ مخصوص ہے اس کے علاوہ کسی زبان میں نہیں آتا ، جس لفظ میں یہ آئے سمجھ لیجیے کہ یہ فارسی ہی ہے ، جیسے: اژدھا ( سانپ ) ، ژولیدگی ( پریشانی ) ، ژَند ( گُدڑی ) ، مژدہ ( خوش خبری ) -
اِسے ' ی ' کی طرح نہیں ، ' ز ' کی آواز سے پڑھناچاہیے ، مثلاً: اَژدھا کو ایدھا نہیں ازدھا کہیں گے ، مژدہ کو میدہ نہیں مزدہ پڑھیں گے -

س: اسے سین مہملہ ( مُ ہْ مَ لَ ہ ) کہتے ہیں

ش: اسے شین معجمہ ( مُ عْ جَ مَ ہ ) کہتے ہیں ، تصریفِ افعال میں یہ حرف اکثر حاصلِ مصدرکی علامت ہوتاہے اور اس سے پہلے والے حرف کے نیچے ہمیشہ زیر آتاہے ، جیسے: خلِش ، دانِش ، بینِش ، کاہِش ، خارِش وغیرہ -

( کام کرنے والے پر کام کرتے وقت جوحالت طاری ہوتی ہے جوکلمہ اس پر دلالت کرے اُسے حاصل مصدر کہتے ہیں ، جیسے اُردو میں ملنا مصدر ہے اور میل ، ملاپ حاصل مصدر ہیں ۔ )

ص ، ض ، ط ، ظ ، ع:
ان حروف کو صاد مہملہ ، ضاد معجمہ ، طائے مہملہ ، ظائے معجمہ ، اور عین مہملہ کہتے ہیں ۔

غ: اسے غین معجمہ کہتے ہیں ، یہ فارسی میں آتا توہے لیکن بہت کم آتاہے -

ف: عربی اور فارسی میں اس کاتلفظ " فا " ہے اوراُردو میں فے پڑھاجاتاہے -

ق: محققین کاکہناہے کہ یہ حرف اصل فارسی میں تو نہیں آیا لیکن جہاں فارسی میں پایاجاتاہے دوحال سے خالی نہیں:

¹ وہ لفظ جس میں قاف آیاہے یا تووہ سرے سے فارسی ہی نہیں ہوگا ، جیسے لفظِ " قند " میں ق ہے تو سہی لیکن اس کی اصل ہندی " کھانڈ " ہے -

یا

² پھرمتاخرینِ عجم ، عرب سے مخلوط ہونے کی وجہ سے خ ، غ ، اور کاف کو قاف کے مخرج سے نکالتے تھے اس لیے اس کی رسمِ خط قاف کے ساتھ ٹھہر گئی ہے ، جیسے: تاخ کی تاق ، غالیچہ کی قالیچہ -

ک: اسے کافِ تازی کہتے ہیں ، یہ جب کلمے کے آخرمیں آتاہے ، تو اُس کلمے کا یا توجُزہوتاہے یا اِسے جُز ٹھہرا لیاجاتاہے ، جیسے: نمک میں جز ہے اور مامک ( ماں ) ، بابک ( باپ ) میں جُز ٹھہرا لیاگیاہے -

🌺 اگر کاف تازی سے پہلےحرفِ مدہ آئے تو وہ ساکن ہوتا ہے اور مدہ نہ ہو تو ہمیشہ مفتوح ( زبر والا) ہوتا ہے ، جیسے: ' نمَک ' کی میم مفتوح ہے اور ' خُوْک ' میں واو مدہ ہونے کی وجہ سے ساکن ہے -

🌺 کاف اگر کسی لفظ کے آخر میں لگایاجائے تواس کے کچھ مقاصد ہوتے ہیں ، جن میں سے یہ بھی ہیں:

۱ اس سے تصغیر مقصودہوتی ہے ، جیسے پانی کو آب کہتے ہیں تو پانی کے قطرے کوآبک -

۲ کبھی اس سے تحقیر مرادہوتی ہے ، جیسے ذلیل وحقیر مرد کو مَردک کہاجاتاہے ، امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں ؎

ذکر روکے ، فضل کاٹے ، نقص کا جُویاں رہے
پھر کہے مَردَک کہ ہوں اُمت رسول اللہ کی

۳ کبھی تعظیم کے لیے بھی آتا ہے ، جیسے: مام کو مامک ( یعنی عزت والی ماں ) اور باب کو بابک ( یعنی والد بزرگوار) کہا جاتاہے -

۴ کبھی اظہار شفقت مقصود ہوتاہے ، جیسے طفل لڑکے کوکہتے ہیں تو طفلک پیارا لڑکا ، فرزند بیٹا تو فرزندک پیارا بیٹا -
۵ کبھی تشبیہ کافائدہ دیتاہے ، جیسے چوشیدن کامعنی ہے چوسنا اورچوشک ٹونٹی دار کوزے کو کہتے ہیں -

۶ کبھی زائدہ بھی آتاہے ، جیسے کف اور کفک ( ہتھیلی ) ۔

گ: اسے کافِ فارسی اورکافِ عجمی کہتے ہیں ، بعض الفاظ جن کی اصل میں کافِ تازی ( ک) آتاہے ، ان کواہل فارس کاف فارسی ( گ ) پڑھتے ہیں اور اہل ماوراءالنہر کاف تازی ہی پڑھتے ہیں ، جیسے: کُشاد اور گشاد -

ل: اس حرف کو لام کہتے ہیں ، شعرا زلفِ محبوب کو لام سے تشبیہ بھی دیتے ہیں ، جیسے میرے امام نوراللہ مرقدہ کہتے ہیں؎

گیسو وقَد لام الف ، کردوبلامنصرف
لاکے تہِ تیغ لا تم پہ کروروں درود ۔

م : اسے میم کہتےہیں یہ حرف ناموں کے آخرمیں لگایاجائے تونسبت کے معنی بھی دیتا ہے ، جیسے نیلے رنگ کے ہیرے کو نیلم کہتے ہیں ، نیز دولفظوں میں دومیم اکٹھے آئیں تو ایک میم حذف بھی کردیاجاتاہے ، جیسے: نیم من کو نیمن پڑھا جاتاہے -

ن: اسے نون کہتے ہیں ، اگر کسی لفظ میں ن اور ب اکٹھے آئیں توانھیں میم سے بدل دیتے ہیں ، جیسے: انبرود کو امرود پڑھتے ہیں ، دُنب کو دُم اورخُنب کو خُم -

و: اسے واو کہتے ہیں ، اس کی چارقسمیں ہیں:

¹ واوِمعروف :
وہ ساکن واوجس سے پہلے پیش ہواورخوب ظاہر ہوکر پڑھاجائے ، جیسے: نُوْر اور حُوْر کاواو -

² واوِ مجہول:
وہ ساکن واوجس سے پہلے پیش توہو لیکن خوب ظاہر کرکے نہ پڑھاجائے ، جیسے: ہوش اور جوش کاواو ہے -

³ واوِ لین:
وہ واو جس کے پہلے حرف پرزبر ہو اور آواز کو نرم اورترچھی کرکے تلفظ کیاجائے ، جیسے: قَوم ، شَوق وغیرہ ۔

⁴ واو معدولہ:
وہ واو جولکھی توجاتی ہے لیکن پڑھنے میں نہیں آتی ، جیسے: خود اور خوش کاواو ہے -
ایسا واو فارسی میں عام طورپر خ کے بعد آتاہے اور اس کے نیچے بہ طور علامت سیدھی لکیر (-) بھی لگادیتے ہیں -

( یہ لکیر زیر نہیں ہوتی ، صرف تمیز کے لیے لگائی جاتی ہے اسے خُوِد یاخُوِش نہیں پڑھیں گے بلکہ خوش ( خُش ) اور خود ( خُد ) ہی پڑھاجائے گا ) ۔
اگر واوِ معدولہ کے بعد: ا ، پ ، ہ آئے تواس کا ماقبل ( پہلے والاحرف ) مفتوح ( یعنی زبروالا) ہوگا ، جیسے:خواب ، خوپلہ ، خوہلہ -

ہ: اسے ہائے ہوز ( ہَ وَّ ز) کہتے ہیں ، فارسی میں اس کی دوقسمیں ہیں:

¹ ہائے ملفوظ ( مَ لْ فُ وْ ظ )
² ہائے مختفی ( مُ خْ تَ فِ ی )

ہائے ملفوظ: اس ' ہ ' کو کہتے ہیں جسےمستقل حرف کی طرح استعمال کیاجائے اور واضح طور پر تلفظ میں آئے ، جیسے: ہوا ، ماہ ، راہ ۔

ہاے مختفی: وہ ' ہ ' جوظاہر کرکے نہ پڑھی جائے -
درحقیقت یہ مستقل حرف کی حیثیت نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کی اپنی کوئی آواز ہے ، یہ اپنے سے پہلے والے حرف کو اِس طرح سہارا دیتی ہے کہ اُس کی حرکت قائم رہ سکے -
اِس طرح اس کی حیثیت علامت کی سی ہے ، جیسے: خانہ ، وقفہ ، دیوانہ -

🌺 لفظ کے آخر میں آنے والی ہائے ملفوظ ، جمع کی حالت میں اپنے حال پرہی رہتی ہے تبدیل نہیں ہوتی ، جیسے: مہ کی جمع مہان ہے -
(مہ( مِ ہْ ) قوم کے سردار کوکہتے ہیں ، جس کی جمع مہان ( مِ ہَ ان ) ہے )

🌺 ہائے مختفی ہمیشہ الفاظ کے آخر میں آتی ہے ، جمع میں اسے کافِ فارسی سے بھی بدلتے ہیں ، جیسے: خواجہ سے خواجگان ، بندہ سے بندگان -

ء: ہمزہ اور الف کو فارسی والے ایک ہی لفظ قراردیتے ہیں -

ی: اسے مثناۃ تحتانی ( مُ ثَ نَّ ا تِ تَ حْ تَ ا نِ ی ) کہتے ہیں ، اس کی دوقسمیں ہیں: یائے معروف اور یائے مجہول -
یائے معروف:
اُس ' ی ' کو کہتے ہیں جس سے پہلے زیرہو اور خوب ظاہر ہوکرپڑھی جائے ، جیسے: عِید ، فقِیر ، امیر ۔

یائے مجہول:
وہ ' ی ' ہے جس سے پہلے زیرہو ( لیکن خالص زیر نہ ہو ) اور وہ خوب ظاہر کرکے نہ پڑھی جائے ، جیسے: بڑے ، کرے ، کسے -
🌺 جس طرح عربی میں " ی " نسبت کے معنی دیتی ہے ، اسی طرح فارسی میں بھی یاے معروف نسبت کے لیے آتی ہے ، البتہ عربی میں مُشدَّد ہوتی ہے اور فارسی میں ساکن ، جیسے: رومی ، ایرانی ، ہندی وغیرہ ۔

🌺 یائے نسبت فارسی میں اکثر اُسی طرح آتی ہے جیسے عربی میں آتی ہے ، مثلاً: " ہرا " ایک شہر کانام ہے ، ( جوکہ ہرات کا مخفف ہے ) جب اس میں یائے نسبت ملائیں گے تواس کا الف واو سے بدل جائے گا اوریہ ہروی ( ہَ رَ وِ ی ) ہوجائے گا ، یہی قاعدہ عربی زبان کاہے ؛ ہاں کہیں کہیں فارسی اصول عربی اصولوں کے برعکس بھی ہیں ۔

✍️لقمان شاہد
1-9-2021 ء

بس بات اتنی ہےیزید تھاحسین ہیں
19/08/2021

بس بات اتنی ہے
یزید تھا
حسین ہیں

ملتِ اسلامیہ کے تمام مسلمانوں کو حج اور عیدِ قرباں کی مبارکباد۔قربانی کا عظیم فریضہ ادا کیجئے تو ان کا خیال رکھیئے جن کی...
21/07/2021

ملتِ اسلامیہ کے تمام مسلمانوں کو حج اور عیدِ قرباں کی مبارکباد۔
قربانی کا عظیم فریضہ ادا کیجئے تو ان کا خیال رکھیئے جن کیلئے آنکھوں میں آنسو امنڈ آتے ہیں۔
انہیں یاد رکھیئے

جو ہاتھ نہیں پھیلاتے گھٹ گھٹ کے مرجاتے ہیں انہیں یاد رکھیئے جن کے سروں سےسایہ اٹھ گیا ہے

ان کا خیال رکھیئے۔۔
جن کے چیتھڑے ملبوس، پھٹی ایڑیاں اور ہونٹوں کی پپڑیاں سسکیاں اور آہیں ہمیں کچھ یاد دلاتی ہیں۔۔
ان کا خیال کیجئے کوئی آپ کا خیال بھی تو رکھتا ہے۔۔
ورنہ اس رندگی کا کیا فائدہ

🌺تُو ہے سایہ نور کا ہر عُضْو ٹکڑا نور کا        سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا🌺🔷 :- سایہ: عکس، روشنی کے سامنے کس...
07/07/2021

🌺تُو ہے سایہ نور کا ہر عُضْو ٹکڑا نور کا
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا🌺

🔷 :- سایہ: عکس، روشنی کے سامنے کسی شے کے حائل ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تاریکی۔
عُضْو: بدن کا کوئی حصّہ یا جُز۔ ٹکڑا: حصّہ۔

📚 #شرح:- شعر کے پہلے مِصرعے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰه علیہ نے اللّٰه کے پیارے رسول صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ اَقدس کی دو جہتوں (Dimensions) کا ذکر فرمایا ہے کہ یا رسولَ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ایک جانب تو آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم ساری مخلوق پر نورِ الٰہی و رحمتِ خُداوندی کا سایہ ہیں اور دوسری طرف آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ اَقدس کا ہر ہر عُضْو نور کا ٹکڑا ہے۔ پھر دوسرے مِصرعے میں آپ رحمۃ اللّٰه علیہ نے انتہائی شاندار منطقی (Logical) انداز میں دو عقلی دلیلوں کے ذریعے اس بات کو ثابت فرمایا ہے کہ حضور پُر نور صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ منوَّر کا سایہ نہ تھا۔ چنانچہ اُن دو دَلائل کی تفصیل کچھ یوں ہے:

🔷(1) جب کوئی مجسَّم (Solid) شے روشنی کے سامنے آتی ہے تو روشنی کے مقابِل اُس شے کا سایہ و عکس بنتا ہے لیکن اُس سائے کا مزید آگے سایہ نہیں بنتا۔ بِلاتشبیہ جب نبی کریم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللّٰه پاک کے نُور کا سایہ ہیں تو پھر اِس سایۂ نورِ خُدا (یعنی بدنِ مصطفےٰ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا سایہ کیسے بن سکتا ہے!

🔷(2) نور (Light) کی وجہ سے اِس کے سامنے آنے والی مُجسَّم (Solid) شے کا سایہ تو بنتا ہے مگر نُور اور روشنی کی اپنی ذات کا سایہ نہیں ہوتا کیونکہ روشنی اور سایہ (تاریکی) ایک دوسرے کی ضد (یعنی اُلٹ) ہونے کی وجہ سے باہم جمع نہیں ہو سکتے۔ بِلاتمثیل حضور پُرنور صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نورِ الٰہی کا ایسا چمکتا دَمکتا سورج ہیں کہ جس کی روشنی سے تمام جہاں ہے لیکن اس نورِ الٰہی کے سورج کا اپنا سایہ نہیں ہے۔

🌺چنانچہ امام جلالُ الدّین سُیوطی رحمۃ اللّٰه علیہ حضرت سیدنا ذَکْوان رضی اللّٰه عنہ کی روایت نَقْل فرماتے ہیں کہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ وسلَّم لَمْ یَکُنْ یُریٰ لَہٗ ظِلٌّ فِیْ شَمْسٍ وَ لَا قَمَرٍ یعنی سُورج اور چاند کی روشنی میں سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سایہ نظر نہیں آتا تھا۔

📚(الخصائص الکبریٰ، ج1، ص116)

🌺نیز سایہ نہ ہونے کے متعلّق نقل فرماتے ہیں کہ قَالَ ابنُ سبع: مِنْ خَصَائِصِہٖ اَنَّ ظِلَّہُ کَانَ لَا یَقَعُ عَلَی الْاَرْضِ وَاَنَّہُ کَانَ نُوْراً فَکَانَ اِذَا مَشیٰ فِی الشَمْسِ اَوِ الْقَمَرِ لَا یُنْظَرُ لَہُ ظِلٌّ یعنی ابنِ سبع رحمۃ اللّٰه علیہ نے کہا: رسولِ خدا صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا کیونکہ آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نُور ہیں، آپ علیہ السَّلام جب سورج یا چاند کی روشنی میں چلتے تو سایہ دِکھائی نہ دیتا تھا۔

📚(الخصائص الکبری، ج1، ص116)

🌺اسی طرح امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں کہ مِنْ اَنَّہُ کَانَ لَاظِلَّ لِشَخْصِہٖ فِیْ شَمْسٍ وَلَا قَمَرٍ لِاَنَّہُ کَانَ نُوْراً یعنی حضور پُرنُور صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ اقدس کا سایہ نہ دُھوپ میں ہوتا اور نہ چاندنی میں، اس لئے کہ آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نُور ہیں۔
📚(الشفاء، ج1، ص368)

💚وہی نورِحق وہی ظل رب
ہے انہیں سے سب ہے انہیں کا سب
نہیں ان کی مِلک میں آسماں
کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں

♥مـدیـنہ کــی خـواہــش کـرنــا بـھی نـــصیب کــی بـات ہـے، مــدینـہ ♥ مـیں رہـنا بلــند بخـتی ہـے اور مـــدینـہ♥ ســـے د...
06/07/2021

♥مـدیـنہ کــی خـواہــش کـرنــا بـھی نـــصیب کــی بـات ہـے، مــدینـہ ♥ مـیں رہـنا بلــند بخـتی ہـے اور مـــدینـہ♥ ســـے دور رہ کـر بـھی مــدیـنـے ♥ مـیـں رہــنا صــرف اللّٰــہ 🌺 کـی تـوفـیق ہــے،

🌺─┄┅━━━━▣✾♥✾▣━━━━┅┅─┄🌺

♥اَلصَّـــلٰوةُ وَالسَّـــلَامُ عَلَیــْـكَ یَا رَسُـــوْلَ اللّٰه

🌺صَــلَّــی اللّٰـهُ تَـعَالٰـی عَـلَـیْـہِ وَاٰلِــہ وَسَــــلَّم

🌺─┄┅━━━━▣✾♥✾▣━━━━┅┅─🌺

‏حیا کا جب بھی ذکر ہو تو ہمارے معاشرے میں اکثریت کی سوچ کا محور صرف عورت کی ذات بن جاتی ہے جبکہ حیا دار ہونا مرد پہ بھی ...
06/07/2021

‏حیا کا جب بھی ذکر ہو تو ہمارے معاشرے میں اکثریت کی سوچ کا محور صرف عورت کی ذات بن جاتی ہے جبکہ حیا دار ہونا مرد پہ بھی اتنا ہی لازم ہے جتنا کہ عورت پر... ✨

🌺اے اللّٰـہ جنت عدن میں ان کو کشادہ جگہ عنایت فرما۔ اور اپنے فضل سے آپ کے اعمال خیر کی جزا کو دوگنا فرما دے جو آپ ﷺ کے ل...
05/07/2021

🌺اے اللّٰـہ جنت عدن میں ان کو کشادہ جگہ عنایت فرما۔ اور اپنے فضل سے آپ کے اعمال خیر کی جزا کو دوگنا فرما دے جو آپ ﷺ کے لیئے سبب و مسرت و خوشگواری ہوں اور کدورت سے پاک ہوں جوپے درپے تیری طرف سے آنے والی بخششوں اور نعمتوں کے ثواب سے بہرہ مند ہوں اور تیری نوازشوں سے حصہ حاصل فرمائیں جوپے درپے تیری طرف سے ملتی ہیں۔ 🌺اے اللّٰـہ دوسروں کے مقابلے میں آپ کے اعزاز کو بلند فرما اور اپنی بارگاہ میں ان کے مقام کو بلند فرما اور آپ کی آرام گاہ اور مہمانی کو باعزت بنا۔ اور آپ کے لئے آپ کے نور کو مکمل فرما دے۔ اور ان کی بعثت کے سبب انہیں (بہترین) جزا عطا فرما۔ کیونکہ ان کی گواہی مقبول انکا فرمایا پسندیدہ اور ان کی گفتگو صداقت پر مبنی ہو گی جو سراپا عدل پر مبنی ہو گی اور وہ ایسے صاحب دلیل، بزرگ و برتر ان کی شان ایسی کہ حق و باطل میں امتیاز پیدا کرے۔ 💞بےشک اللّٰـہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی ان کی بارگاہ میں خوب درود و سلام کا نذرانہ پیش (کیا) کرو۔
(📚 )

♥صَــلَّــی اللّٰـهُ تَـعَالٰـی عَـلَـیْـہِ وَاٰلِــہ وَسَــــلَّم

Address

Kashipur

Telephone

+919557921897

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia K.H Islamia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category