Ibnikhateeb info com

Ibnikhateeb info com Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ibnikhateeb info com, j&k.

28/08/2021

یزید علماء ومحدثین کی نگاہ میں
حصه ؛؛؛؛ اول

دن بدن جیسے جیسے معلومات کا انفجار ہو رہا ہے ویسے ہی ویسے ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں جن سے ماضی قریب کے علماء ناواقف تھے۔

ان حضرات علماء کرام کے دور میں اس طرح کی کوئی بات سامنے نہ آئی تھی کہ یزید کو امیر یزید رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت امیرالمومنین یزید رضی اللہ عنہ سے گرانبار کیاجائے۔ اگر ان حضرات کے دورمیں ایسی کوئی تحریر سامنے آتی تو یہ علماء کرام اس طرزفکر کابھی رد کرتے۔ لیکن یہ طرز فکر جس کی ویسے تو جڑیں ماضی می٘ں کافی گہری ہیں اورجس کارشتہ ناصبیت سے جاملتاہے ۔ دورحاضر میں کافی نئی ہیں اوربیس تیس سال پرانی ہیں۔
ان حالات میں محسوس کیاگیاکہ یزید کے تعلق سے علماء کرام نے جوکچھ لکھاہے کہاہے اسے اختصارکے ساتھ پیش کردیاجائے اورمانعین کے دلائل کابھی جائزہ لیاجائے تاکہ واضح ہوسکے کہ اس بارے میں حق کیاہے اورباطل کیاہے۔
اللھم ارناالحق حقا وارزقنااتباعہ وارناالباطل باطلاًوارزقنااجتنابہ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے قریبی رشتہ تھا۔ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ جانے سے بہت روکابھی تھا اورسمجھایا بھی تھا۔ لیکن بہرحال تقدیر میں جو لکھا گیاتھا وہ پوراہوا۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اپنی خلافت کا اعلان کیاتو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی مکہ میں موجود تھے انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے انکار کردیا۔ یزید کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے انکار بیعت کی خبرپہنچی تو یہ سمجھ کر یہ میرے طرفدار ہیں ان کو اپنی حمایت میں کام کرنے کاایک خط لکھا۔ جس کا جواب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سخت تہدیدانہ انداز میں لکھااوراس میں صراحتاً قتل حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت یزید کی جانب کی۔
آپ بھی یہ خط پڑھئے۔
وقد ذكر ابن الأثير في كامله رسالة ابن عباس ليزيد بعد مقتل الحسين (), وطلب يزيد لمودته وقربه بعد امتناع ابن عباس عن بيعة ابن الزبير: ((أما بعد فقد جائني كتابك فأما تركي بيعة ابن الزبير فوالله ما أرجو بذلك برك ولا حمدك ولكن الله بالذي أنوي عليم وزعمت أنك لست بناس بري فأحبس أيّها الإنسان برك عني فإني حابس عنك بري وسألت أن أحبب الناس إليك وأبغضهم وأخذلهم لابن الزبير فلا ولا سرور ولا كرامة كيف وقد قتلت حسيناً وفتيان عبد المطلب مصابيح الهدى ونجوم الاعلام غادرتهم خيولك بأمرك في صعيد واحد مرحلين بالدماء مسلوبين بالعراء مقتولين بالظماء لا مكفنين ولا مسودين تسفي عليهم الرياح وينشي بهم عرج البطاح حتى أتاح الله بقوم لم يشركوا في دمائهم كفنوهم وأجنوهم وبي وبهم لو عززت وجلست مجلسك الذي جلست فما أنسى من الأشياء فلست بناس اطرادك حسيناً من حرم رسول الله إلى حرم الله وتسييرك الخيول إليه فما زلت بذلك حتى أشخصته إلى العراق فخرج خائفاً يترقب فنزلت به خيلك عداوة منك لله ولرسوله ولأهل بيته الذين أذهب الله عنهم الرجس وطهرهم تطهيراً فطلبت إليكم الموادعة وسألكم الرجعة فاغتنمتم قلة أنصاره واستئصال أهل بيته وتعاونتم عليه كأنكم قتلتم أهل بيت من الترك والكفر, فلا شيء أعجب عندي من طلبتك ودي وقد قتلت ولد أبي وسيفك يقطر من دمي وأنت أحد ثاري ولا يعجبك إن ظفرت بنا اليوم فلنظفرن بك يوماً والسلام)) انتهى. (الكامل في التاريخ : 3 / 466 و467)
اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صراحتاًیزید پر قتل حسین رضی اللہ عنہ کا الزام لگایاہے اورخط کا لب ولہجہ کس طرح طیش وغضب کا ہے اورہرہرلفظ سے یزید سے بیزاری ٹپک رہی ہے۔
قال ابن حجر المكي في (الصواعق المحرقة ص134): ثم قلد أبي الأمر وكان غير أهل له, ونازع ابن بنت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فقصف عمره وانبتر عقبه وصار في قبره رهيناً بذنوبه, ثم بكى وقال: إن من أعظم الأمور علينا علمنا بسوء مصرعه وبئس منقلبه, وقد قتل عترة رسول الله (صلى الله عليه وسلم), وأباح الخمر, وخرب الكعبة...).
جولوگ حضرت محمد بن حنیفہ کے قول سے استشہاد کرکے یزید کو معصوم قراردیتے ہیں وہ حضرات یزید کے اپنے بیٹے کے اس قول کو کس کھاتے میں رکھتے ہیں۔ یہ سمجھنے سے میں آج تک قاصر ہوں۔ اس میں دیکھاجاسکتاہے کہ کہ یزید کے بیٹے نے صراحتا اپنے والد کے بارے میں اقرارکیاہے کہ اس نے رسول پاک صلی الله علیه وآله وسلم کی اولاد مبارک کو شھید کیا، شراب کو جائز کیا(بمعنی شراب پیتاتھا) اورخانہ کعبہ کی حرمت وعظمت کو پامال کیا۔ اگرایساشخص فاسق نہ ہوتو پھر فسق کیلئے اورکیاچیز لازمی ہوتی ہے۔
ہم دلدادگان یزید سے اتناتوپوچھ ہی سکتے ہیں کہ جو بات وہ ابن حنفیہ کے تعلق سے دوسروں پر الزام دیتے ہیں وہ خود یزید کے بیٹے کے اس قول کی روشنی میں اپنے طرز عمل کا جائزہ کیوں نہیں لیتے۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو پانچواں خلیفہ راشد کہاجاتاہے۔انہوں نے اپنے بے مثل عدل وانصاف سے دوبارہ دورفاروقی رضی اللہ عنہ لوگوں کو یاد دلادیا ۔ حضرت عمربن عبدالعزیز جوخود اموی ہیں اوریہ سارے واقعات تقریباان کی نگاہوں یابچپن کے ہوں گے اورزمانہ ان کا یزید اورحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور واقعہ حرہ وغیرہ سے بالکل قریب ہے۔ ان کی مجلس میں کسی نے یزید کو امیر المومنین کہا انہوں نے یزید کوامیر المومنین کہنے والے کو 20کوڑے لگوائے۔
وَرَوَى: مُحَمَّدُ بنُ أَبِي السَّرِيِّ العَسْقَلاَنِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبْدِ المَلِكِ بنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ، قَالَ:
كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بنِ عَبْدِ العَزِيْزِ، فَقَالَ رَجُلٌ: قَالَ أَمِيْرُ المُؤْمِنِيْنَ يَزِيْدُ. فَأَمَرَ بِهِ، فَضُرِبَ عِشْرِيْنَ سَوْطاً. (سیراعلام النبلاء4/41)
اگریزید صالح اورنیک شخص تھااوراتنانیک تھاکہ اسے رضی اللہ عنہ کہاجاتاہے تو پھرمذکورہ شخص کو کوڑے لگوانے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز صحیح تھے یاغلط ۔ اگر غلط تھے توکسی کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ وہ کہتاکہ یزید تو بڑانیک اورپاک شخص ہے ۔ اس کو امیر المومنین کہنے والے کو کوڑے لگواکر آپ نے بڑاظلم کیاہے۔

امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے نام نامی سے ہرایک واقف ہیں۔ تاریخ دعوت وعزیمت کے وہ سالار قافلہ ہیں۔ انہوں نے خلق قرآن کے فتنہ میں جو بے نظیراستقامت دکھائی وہ انہی کا حصہ تھی۔ دیکھئے ۔ وہ یزید کے بارے میں صاف لفظوں میں کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیه وآله وسلم پر ایمان رکھتا ہے کیا وہ یزید سے محبت کر سکتا ہے؟
یہ نص حرب بن شداد کے سامنے ضرور ہوگی لیکن نقل نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ ان کے امیرالمومنین یزید کے خلاف جارہی ہے۔
امام احمدؒ بن حنبلؓ کے بیٹے صالح بن احمد روایت کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: کچھ لوگوں کا مذہب ہے کہ وہ یزید سے محبت رکھیں گے۔ والد صاحب (امام احمد) نے جواب دیا: بیٹے! کیا کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، یزید سے محبت کا روادار ہو سکتا ہے؟ میں نے عرض کی: ابا جان! تو پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟ والد صاحب (امام احمد) نے جواب دیا: بیٹے! تو نے اپنے باپ کو کسی کو بھی لعنت کرتے ہوئے کب دیکھا ہے؟ (مجموع فتاویٰ امام ابن تیمیہ جلد 4)
حضرت امام احمدبن حنبل سے ایک قول یزید پر لعنت کابھی ہے جس کی تصریح حافظ ابن جوزی نے الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید میں کی ہے۔
حافظ ابن حزم ظاہریؒ کا مقام علم حدیث اوردیگر علوم اسلامیہ میں جوکچھ ہے وہ معلوم ہے اس کے ساتھ اس کو بھی ذہن میں رکھیں کہ مورخین نے ان کو امویوں کا ہمدرد اورطرفدار لکھاہے ایسے میں حافظ ابن حزم ظاہری کی بات جتنی قابل توجہ ہوسکتی ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں ۔
دیکھاجائے تو پرانے دور کے اہل ظاہر اورآج کل کے سلفیوں میں سوائے قیاس کے انکار جلی وخفی کے کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ مکمل طابق النعل بالنعل کا معاملہ ہے۔ بہرحال ابن حزم کی ایک کتاب ہے مراتب الاجماع۔ اس میں وہ یزید کے ذکر میں لکھتے ہیں۔
وہتک(ای یزید)الاسلام ہتکا وانتہب المدینۃ ثلاثاًواستخف باصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومدت الیھم الایدی وانتہبت دورھم وحوصرت مکۃ ورمی البیت بحجارۃ المنجنیق واخذ اللہ یزید فمات بعد الحرۃ باقل من ثلاثۃ اشہر وازید من شہرین (بحوالہ الروض الباسم ص37)
یزید نے اسلام کی حرمت کو ختم کیااورمدینہ کو تین دن لوٹا اورصحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استخفاف کامعاملہ کیا۔ اور ان کی جانب اپنادست(ظلم)دراز کیا اوران کے گھروں کو لوٹا۔ اورمکہ کا محاصرہ کیااورخانہ کعبہ پر سنگباری کی ۔ اللہ نے یزید کو (اس کے ظلم کی وجہ سے) پکڑا ۔ یزید واقعہ حرہ کے بعد دوتین مہینہ سے زائد اورتین مہینہ سے کم زندہ رہا۔
اب ابن حزم کے اس بات پر ہم کیاتبصرہ کریں۔ مشتاقان ودلدادگان یزید ہی اس پر کچھ غورکریں اور سوچیں کہ ان کارخ کس جانب ہے
ترسم کہ نہ رسی بکعبہ اے اعرابی
کیں رہ کہ تومیروی ترکستان است
اس کے بعد آتے ہیں۔
مشہور شافعی فقیہہ علی بن محمد بن علی طبری ، جن کا لقب عمادالدین تھا اورجو کیاہراسی کی نسبت سے مشہور ہوئے۔ 405ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ سے یزید کے تعلق سے پوچھاگیاتو آپ نےجو جواب دیاہے ا س میں ائمہ اربعہ کا قول بھی ذکر کردیاہے ۔ جس سے اس استفتاء کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
سئل الکیاہراسی ایضاعن یزید بن معاویہ فقال: انہ لم یکن من الصحابۃ لانہ ولد فی ایام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ واماقول السلف ففیہ لاحمد قولان تلویح وتصریح،ولمالک قولان تلویح وتصریح ولابی حنیفۃ قولان تلویح وتصریح ولناقول واحد التصریح دون التلویح،وکیف لایکون کذلک وھواللاعب بالنرد،والمتصید بالفہود،ومدمن الخمر وشعرہ فی الخمر معلوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکتب فصلاًطویلا،ثم قلب الورقۃ وکتب:لومددت ببیاض لمددت العنان فی مخازی ھذاالرجل وکتب فلان بن فلاں
وفیات الاعیان وانباء ابناء الزمان 3/288
کیاہراسی سے یزید بن معاویہ کے تعلق سے پوچھاگیاتو انہوں نے جواب دیا۔ وہ صحابہ میں سے نہیں تھا۔ اس کی پیدائش حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دو رمیں ہوئی اورجہاں تک اس کے بارے میں سلف کے قول کی بات ہے تو اس بارے میں امام احمد سے دوقول منقول ہے ایک میں صراحت ہے(یزید پر لعنت کی) دوسرے میں اشارہ ہے۔ امام مالکؓ کا بھی دوقول ہے ایک میں صراحت ہے دوسرے میں اشارہ ہے۔ امام ابوحنیفہؓ کا بھی دوقول ہے ایک میں صراحت ہے اوردوسرے میں اشارہ ہے اورہمارا اس بارے میں صرف ایک قول ہے اور وہ صراحت و وضاحت ہے اورایساکیوں نہ ہو۔ وہ شطرنج کھیلتاتھا۔ چیتے سے شکار کرتاتھا۔ شراب میں ڈوبارہتاتھا اورشراب کے بارے میں اس کے اشعار مشہور ہیں۔۔
شیخ کیاہراسی نے یزید پر لعنت کرنے کو جائز قراردیاہے اس کی تصریح خود ابن تیمیہ نے اپنے فتویٰ میں کی ہے۔اس کاذکر آگے آئے گا۔
مشہور حنبلی فقیہہ محمد بن حسین الفراء جو قاضی ابویعلی کے نام سے مشہور ہیں وہ اپنی کتاب المعتمد فی الاصول میں امام احمد بن حنبل سے یزید پر لعنت کی تصریح نقل کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں حافظ ابن جوزی کے بیان کے مطابق ان کا ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جس میں انہوں نے ان لوگوں کا ذکر کیاہے جولعنت کے مستحق ہیں اس باب میں انہوں نے یزید کابھی ذکرکیاہے اوراس تعلق وہ لکھتے ہیں
الممتنع من ذلک اماان یکون غیرعالم بجواز ذلک اومنافقا یرید ان یوھم بذلک وربما استفزالجہال بقولہ المومن لایکون لعانا قال وھذا محمول علی من لایستحق اللعن
(بحوالہ الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید ص41)
یزید پر لعنت کرنے والے منع کرنے والایاتویزید پر لعنت کے جواز سے ناواقف ہوگا یاپھر وہ منافق ہوگا اوراس طرح سے لوگوں کو وہم میں مبتلاکرناچاہتاہوگا۔ بعض جاہلین ارشاد رسول پاک صلی الله علیه وسلم سے دلیل پکڑتے ہیں کہ مومن لعن طعن کرنے والانہیں ہوتاتواس پر محمول ہے کہ جو کہ لعنت کا مستحق نہ ہو(اورپھراس پر لعنت کی جائے)
آگے چلتے ہیں مشہور حنبلی فقیہہ اورمحدث ابن جوزی سے حدیث سے اشتغال رکھنے والے واقف ہیں اوران کے نام اورکام کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے تلبیس ابلیس میں فقہاء کے بارے اورصوفیاء کے بارے میں جوکچھ لکھاہے کچھ مہربان ہروقت ان کاورد کرتے رہتے ہیں اوراس طرح پیش کرتے ہیں کہ گویایہ صرف ابن جوزی کے اپنے خیالات نہیں بلکہ وحی منزل ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ انھی ابن جوزی کا یزید کے بارے میں کیاخیال ہے۔
ابن جوزی نے ایک کتاب لکھی ہے جس کانام ہے۔ الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم يزيد
محض کتاب کے نام سے ہی اس کتاب کا موضوع سمجھ میں آجاتاہے۔ یعنی جولوگ یزید کی مذمت سے روکتے ہیں اورمنع کرتے ہین وہ سرکش متعصب ہیں۔ اس چھوٹے سے رسالہ اورکتابچہ میں حافظ ابن جوزی نے مختصر طورپر یزید کے حالات بیان کئے ہیں۔ علماء حنابلہ کا یزید کے تعلق سے یہ موقف بیان کیاہے کہ وہ یزید پر لعنت کے قائل ہیں۔اوراس میں انہوں نے امام احمد بن حنبل ، ابوبکر خلال، عبدالعزیز، قاضی ابویعلی اوردیگر فقہاء حنابلہ کے نام دیئے ہیں۔ امام احمد بن حنبل سے جوروایت یزید کے بارے میں سکوت کی ہے اس کو انہوں نے اس پر محمول کیاہے کہ کسی پر لعنت کرنے سے بہتر ہے کہ آدمی کوئی نیک کام کرے تسبیح پڑھے۔اس کایہ مطلب نہیں ہوتا کہ مذکورہ شخص پر لعنت کرنادرست نہیں ہے۔
اس کے علاوہ حافظ ابن جوزی کی ایک کتاب اوربھی ہے جس کانام ہے۔السرالمصون۔
اس میں وہ لکھتے ہیں۔
من الاعتقادات العامۃ التی غلبت علی جماعۃ منتسبین الی السنۃ ان یقولوا:ان یزید کان علی صواب وان الحسین اخطافی الخروج علیہ ولونظروا فی السیر لعلموا کیف عقدت لہ البیعۃ والزم الناس بہاولقد فعل فی ذلک کل قبیح ثم لوقدرنا صحۃ عقد البیعۃ فقد بدت منہ مواد کلہا توجب فسخ العقد ولایمیل الی ذلک الاکل جاہل عامی المذہب یظن انہ یغیظ بذلک الرافضۃ(بحوالہ روح المعانی 26/73)
نام نہاد اہل سنت(یعنی غلط عقائد والے لوگ) کے عام اعتقاد میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یزید درست تھااورحسین رضی اللہ عنہ نے ان پر خروج کرنے میں غلطی کی۔ اگران کی نگاہ کتب سیر پر ہوتی تو وہ جان لیتے کہ کس طرح بیعت لی گئی اورلوگوں پر اس کو لازم کیاگیا اوراس سلسلے میں اس نے(یزید) ہربرائی کا ارتکاب کیا۔ پھر اگرہم مان لیں کہ عقد بیعت صحیح تھی باوجود اس کے اس کے بعد(یزید کے خلیفہ بننے کے) اس سے ایسے امور صادر ہوئے جن میں سے ہرایک کا تقاضہ یہ تھاکہ بیعت فسخ کردی جائے۔ اورمذکورہ عقائد(یعنی حضرت حسین رضی اللہ عنہ غلط اوریزید درست تھا) کی جانب وہی مائل ہوسکتاہے جو عامی ہو (علم دین سے ناواقف ہو) جاہل ہو اوراپنے طورپر یہ گمان کرتاہے کہ اس سے رافضہ کو غصہ دلائیں گے۔
حافظ ابن جوزی کی یہ بات بڑی قابل غور ہے۔ انہوں نے ایک لفظ استعمال کیاہے۔ منتسبین الی السنۃ، جس کاترجمہ ہم آج کل نام نہاد اہل حدیث ، وھابی ، دیوبند کرسکتے ہیں اوران کے بھی وہی عقائد ہیں جو حافظ ذہبی نے اپنی دور کے عامیوں اورجاہلوں کا بیان کیاہے ۔ پھر ان کی جہالت پر روشنی ڈالی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایساکرنے سے روافض کو غصہ دلائیں۔ یہی ذہنیت اورطرز فکر آجکل کے نام نہاد اہل حدیث ، وھابی ، دیوبند کی بھی ہے۔ اگرکوئی ان کی غلط روش پر ان کو ٹوکتاہے اوریزید کے تعلق سے تاریخ کی صحیح معلومات پیش کرتاہے تواس کو روافض کی ہنموائی کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔ بہرحال بڑی مشابہت ہے ابن جوزی کے دور کے منتسبین الی السنۃ اورآج کل کے نام نہاد اہل حدیث ، وھابی ، دیوبند کے درمیان۔

علامہ ابوشامہ کا فقہ شافعی میں جو مقام ہے وہ محتاج تعارف نہیں ہے ۔ وہ یزید پر حافظ ابن جوزی کے ایک رائے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
قد اجاز احمد بن حنبل لعنتہ ونحن نقول مانحبہ لمافعل بابن بنت نبینا(الذیل علی الروضتین23)
امام احمد بن حنبل نے یزید پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے اورہم کہتے ہیں یزید نے جوکچھ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیاہے اس کے بعد ہم یزید کے ساتھ محبت کے روادار نہیں ہوسکتے۔
ایک مشہور مفسر اورمحدث گزرے ہیں علامہ قرطبی یہ مالکی ہیں اوران کی تفسیر احکام القرآن بہت مشہور اوررائج ہے۔ ان کی ایک کتاب احوال موتی اورقبر میں پیش آنے والے حالات اوربعد میں حشر کے واقعات اورجنت وجہنم کے تذکرہ پر مشتمل ہے جس کانام التذکرہ ہے اس میں وہ یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد کہ اس امت کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی وہ اپناخیال اوراپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
اوریہ لوگ اللہ بہتر جانتا ہے یزید عبیداللہ بن زیاد اوران جیسے بنوامیہ کے نوجوان تھے۔ جنہوں نے اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شھید کیا۔ اورنیک مہاجرین وانصار کو مکہ اورمدینہ اوردوسرے مقامات پر شھید کیا۔
(التذکرۃ للقرطبی2/643)
علامہ ابن خلدون کا تاریخ میں جومقام ہے وہ محتاج تعارف نہیں ہے۔ انہوں نے فن تاریخ کو ایک نئی سمت اورپہچان عطاکی اورعمرانیات کے بانی کہلائے۔ علامہ ابن خلدون مالکی ہیں اوران پر بھی امویوں کی ہمدردی اورطرفداری کاالزام ہے۔ اس کے باوجود دیکھتے ہیں کہ وہ اس تعلق سے کیاکہتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے شہرہ آفاق مقدمہ میں لکھتے ہیں۔
ابن خلدون کہتے ہیں
واماالحسین فانہ لماظہر فسق یزید عندالکافۃ من اہل عصرہ
اورحسین رضی اللہ عنہ ،توجب یزیدکافسق وفجور اس کے دور کے سب لوگوں کے نزدیک نمایاں ہوگیا۔ مقدمہ ابن خلدون ص216،تحت الفصل التاسع والعشرون فی معنی البیعۃ
وبعد اتفاقہم علی فسقہ اختلفوا فی جواز لعنہ بخصوص اسمہ
اوریزید کے فسق پر متفق ہونے کے بعد اختلاف ہوا اس پر نام لے کر لعنت کرنے میں۔ الصواعق المحرقہ صفحہ 222مطبوعہ ملتان
فالأول منها ما حدث في يزيد من الفسق أيام خلافته(مقدمہ ابن خلدون 210الفصل الثلاثون فی ولایۃ العہد)
اس میں سے پہلی بات وہ ہے جویزید کے دور اقتدار میں اس سے فسق کا ظہور ہوا۔
و لما حدث في يزيد ما حدث من الفسق اختلف الصحابة حينئذ في شأنه فمنهم من رأى الخروج عليه و نقض بيعته من أجل ذلك كما فعل الحسين و عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما و من اتبعهما في ذلك و منهم من أباه لما فيه من إثارة الفتنة و كثرة القتل مع العجز عن الوفاء به
(المصدرالسابق)
اورجب یزید سے فسق کا ظہور ہوا تواس کے بارے میں صحابہ کرام کی آراء مختلف ہوگئیں۔ بعض کی رائے اس کے خلاف خروج کی ہوئی اورانہوں نے اسی وجہ سے اس کی بیعت توڑدی جیساکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اورعبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اوران کی پیروی کرنے والوں نے کیا اورصحابہ کرام رضی الله عنھم میں سے بعض نے اس سے انکار کیااور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ فتنہ برپاہوگاخونریزی ہوگی اوراس کے باوجود بھی شاید مقصود حاصل نہ ہو۔
کیاابن خلدون کی یہ تصریحات بھی اس لائق نہیں ہیں کہ ہم ذراٹھٹھک کر دیکھیں اورسوچیں کہ اس عالی مرتبت مورخ نے کیالکھاہے اورکیاکہاہے۔ اورکیااس کی بات دور حاضر کے چند نام نہاد دکتوراہ کرنے والوں سے بھی گئی گزری ہے۔ ہماراحال یہ ہے کہ آج کل کے چند نام نہاد کتوراہ کرنے والوں پر توایمان لے آتے ہیں لیکن گزشتہ ادوار کے عالی قدر مورخین کے بیانات کو نظرانداز کردیتے ہیں اوراس کی وجہ سوائے نفس اورخواہش کی غلامی کے کچھ نہیں ہے۔
ابن تیمیہ کانام بہت مشہور ومعروف ہے۔ اورکچھ لوگوں کیلئے تو بس ابن تیمیہ کانام ہی کافی ہے اور اسی کو سن کر وہ سرنگوں ہوجاتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایسے لوگ ائمہ اربعہ کے مقلدین پر اعتراض کی بوچھار کرتے ہیں اورخود ان کاحال اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔
بہرحال دیکھتے ہیں کہ یزید اوراس کے اعمال کے تعلق سے ابن تیمیہ کیا کہتے ہیں۔
۔ ومن آمن باللہ والیوم الآخر لایختار ان یکون مع یزید ولامع امثالہ من الملوک الذین لیسوا بعادلین اورجواللہ اورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ یزید یااس جیسے غیرعادل بادشاہ کے ساتھ بھی ہوسکے۔سوال فی یزید بن معاویہ ص28
اب جولوگ یزید کوعادل بادشاہ قراردیتے نہیں تھکتے انہیں تو کم ازکم اب تو شرم آنی چاہئے ۔ابن تیمیہ پوری وضاحت اورصراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو شخص بھی اللہ اوراس کے رسول صلی الله علیه وسلم پر ایمان رکھتاہے وہ اس کوپسند نہیں کرے گا کہ اس کاشمار یاحشر یزید اوراس جیسے غیرعادل بادشاہوں کے ساتھ ہو۔ ظاہر ہے جو بادشاہ عادل نہ ہو ظالم ہوگا۔ عدل اورظلم کے بیچ کوئی درمیانی راہ توہے نہیں معتزلہ کی طرح منزلۃ بین المنزلتین کی۔
اتنے پر بس نہیں کچھ اوربھی تصریحات ہم دیکھتے چلیں۔ وہ اپنے فتویٰ میں یزید کے تعلق سے یہ موقف کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی اس پر لکھتے ہیں۔
اہل علم کا یہ موقف کہ یزید کے ساتھ محبت نہیں رکھی جائے گی، دو بنیادوں پر قائم ہے
پہلی یہ کہ: یزید سے کوئی ایسے صالح اعمال صادر نہیں ہوئے جو اس کے ساتھ محبت کا موجب ہوں۔ لہٰذا وہ جبراً مسلط کئے گئے بادشاہوں ایسا ایک بادشاہ رہ جاتا ہے۔ اِس نوع کے اشخاص سے محبت کرنا شریعت کا تقاضا نہیں ہے۔
دوسری یہ کہ: یزید سے ایسے اعمال سرزد ہوئے جو اس کو ظالم اور فاسق ٹھہرانے والے ہیں، خصوصاً قتل حسین رضی اللہ عنہ اور واقعۂ اہل حرہ۔
کیا ابن تیمیہ کے اس صاف اور واضح بیان کے بعد کہ یزید سے ایسے اعمال صادر ہوئے جواس کو ظالم اورفاسق ٹھہراتے ہیں ۔ اب بھی کچھ اگرمگر کی گنجائش ہے ؟
واقعہ حرہ میں یزید کے حکم سے اوریزید کی رضا سے یزید کی فوج نے اہل مدینہ کے ساتھ جوکچھ کیااس کانقشہ ہم ابن تیمیہ کی ہی زبانی دکھادیں تاکہ ابن تیمیہ کی عقیدت کا دم بھرنے والے کم ازکم ان کی بات تومان لیں۔
فتاوى ابن تیمیہ(3/412):وجرت في إمارته ( أي يزيد )أمور عظيمة:
أحدها: مقتل الحسين رضي الله عن وأما الأمر الثاني:فإن أهل المدينة النبوية نقضوا بيعته وأخرجوا نوابه وأهله ، فبعث إليهم جيشاً ، وأمره إذا لم يطيعوه بعد ثلاث أن يدخلها بالسيف ويبيحها ثلاثاً، فصار عسكره في المدينة النبوية ثلاثا يقتلون وينهبون ، ويفتضون الفروج المحرمة. ثم أرسل جيشاً إلى مكة ، وتوفى يزيد وهم محاصرون مكة، وهذا من العدوان والظلم الذي فُعِل بأمره.اهـ
یزید کے دوراقتدار میں بڑے امور (منفی اعتبارسے) صادر ہوئے۔ ان میں ایک حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ہے۔ اوردوسرا جب اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑدی اوران کے کارندوں اورعمال کونکال دیا تواس نے مدینہ کی جانب لشکر بھیجا اوراس کو حکم دیاکہ اگر وہ تین دن کے اندر اطاعت قبول نہ کریں تو بزورطاقت مدینہ میں داخل ہو اورتین دن کیلئے اس میں قتل وغارت گری کو جائز سمجھے۔ لہذا تین دنوں تک اس کی فوج نے شہر نبوی صلی الله علیه وسلم میں قتل وقتال کا بازارگرم کیا ۔ لوگوں کے اموال لوٹے اورعصمت دریاں کیں۔ پھر مکہ کی جانب فوج بھیجی اوریزید کی موت اس حالت میں ہوئی کہ اس کی فوج مکہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھی اوریہ زیادتی اورظلم یزید کے حکم سے انجام دیاگیا۔
ابن تیمیہ نے منہاج السنۃ میں جو ایک شیعہ عالم کے رد میں لکھی گئی ہے اس میں وہ لکھتے ہیں۔
وأما مافعله ـ يزيد ـ بأهل الحرة،فإنهم لما خلعوه وأخرجوا نوابه وعشيرته أرسل إليهم مرة بعد مرة يطلب الطاعة فامتنعوا ،فأرسل إليهم مسلم بن عقبة المري ، وأمره إذا ظهر عليهم أن يبيح المدينة ثلاثة أيام ، وهذا هو الذي عظم إنكار الناس له من فعل يزيد.اهـ(المنهاج2/365)
اس میں دیکھ لیں سابقہ موقف کو دہرایا گیا ہے اوراس میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ یزید سے کراہیت رفض اورشیعت کا تاثر نہیں بلکہ اس کی وجہ یزید کے اپنے اعمال وافعال ہیں۔

اب آتے ہیں مورخ اسلام وامام جرح وتعدیل فی الزمن الاخیرحافظ ذہبی کی جانب ۔ حافظ ذہبی کا تاریخ ، علم حدیث اورعلم جرح وتعدیل میں جو مقام ہے وہ اہل فکر ونظر سے پوشیدہ نہیں۔ حافظ ابن حجر نے زمزم پی کر ذہبی جیسے حافظہ کی خدا سے دعامانگی تھی۔ ان کی ایک مشہور کتاب ہے۔ سیر اعلام النبلاء، اس میں انہوں نے ہرمشہور شخصیت کا خواہ اس کا تعلق کسی بھی میدان سے ہو ذکر کیاہے۔ یزید کابھی ذکر ہے۔ دیکھئے چلیں وہ کیاکہتے ہیں یزید کے بارے میں۔
قُلْتُ: كَانَ قَوِيّاً، شُجَاعاً، ذَا رَأْيٍ، وَحَزْمٍ، وَفِطْنَةٍ، وَفَصَاحَةٍ، وَلَهُ شِعْرٌ جَيِّدٌ، وَكَانَ نَاصِبِيّاً، فَظّاً، غَلِيْظاً، جَلْفاً، يَتَنَاوَلُ المُسْكِرَ، وَيَفْعَلُ المُنْكَرَ. (4/38) افْتَتَحَ دَوْلَتَهُ بِمَقْتَلِ الشَّهِيْدِ الحُسَيْنِ، وَاخْتَتَمَهَا بِوَاقِعَةِ الحَرَّةِ، فَمَقَتَهُ النَّاسُ، وَلَمْ يُبَارَكْ فِي عُمُرِه.
میں(ذہبی)کہتاہوں یزید طاقتور بہادر عقل مند، پختہ کار ذہین تھا۔ بولنے میں فصیح تھا اس کے اشعار عمدہ ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ ناصبی، درشت اور اکھڑمزاج تھا۔ شراب پیتاتھا اورمنکرات کا ارتکاب کرتا تھا۔ اس کی حکمرانی کی ابتداء امام حسین شہید رضی اللہ عنہ کے قتل سے ہوئی اوراختتام حرہ کے واقعہ سے ہوا۔ اس سے وہ لوگوں کی نگاہ میں مبغوض ہوگیا اوراس کی عمر میں برکت نہیں ہوئی۔
حافظ ذہبی جن کے سامنے یزید کے تعلق سے تمام اور ہرطرح کی روایات موجود ہیں وہ تمام روایات کی چھان پھٹک کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ھیں کہ یزید منکرات کاارتکاب کرتاتھا اورشراب پیتا تھا اور وہ ناصبی اوراکھڑ مزاج تھا۔ کیاآج کے جید جاہلین حافظ ذہبی سے زیادہ تاریخی روایات کے چھان پھٹک کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر یقیناًنہیں توپھر کیوں وہ صرف ایسی ہی روایات کولکھتے اورپھیلاتے ہیں جس سے یزید کی علوشان نمایاں ہوتی ہو اورتصویر کا دوسرا رخ دکھانے والی تمام روایات کو کیوں وہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ علم وتحقیق کی دنیا میں اس کا کیامقام ہوتاہے وہ خود وضاحت کریں۔
حافظ ذہبی اسی کتاب میں یزید کے ذکر میں اپناموقف ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں
ویزید ممن لانسبہ ولانحبہ ولہ نظراء من خلفاء الدولتین۔(سیراعلام النبلاء 3/36)
اوریزید ان لوگوں مین سے ہے جن کو ہم برا بھلا کہتے ہیں اورنہ محبت رکھتے ہیں اوریزید جیسے کئی بادشاہ دونوں سلطنتوں اموی اورعباسی میں گزرے ہیں ۔
اس سے بھی حافظ ذہبی کا موقف صاف ہوجاتاہے کہ یزید پر لعن طعن میں نہ اپناوقت ضائع کیاجائے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ اس سے کوئی مسلمان محبت رکھے۔ لیکن کیاکیجئے کچھ لوگ اب حب یزید میں اتنے مست اور بے خود ہیں کہ ان ائمہ اعلام کی تصریحات کو اپنے قدموں میں روند ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔
اب چلتے ہیں اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ حافظ ابن کثیر جومشہور مورخ ہیں۔ ان کی تاریخ پر ایک مشہور کتاب ہے البدایہ والنہایہ ۔ وہ یزید کے بارے میں کیاکہتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر یزید کو "امام فاسق"کالقب دیتے ہیں اوراس کے بارے میں لکھتے ہیں۔
قد کان یزید فیہ خصال محمودۃ من الکرم والحلم والفصاحۃ والشعروالشجاعۃ وحسن الرائی فی الملک وکان ذاجمال حسن المعاشرہ
وکان فیہ ایضااقبال علی الشھوات وترک بعض الصلوات فی بعض الاوقات واماتتھافی غالب الاوقات(البدایہ والنہایہ8/223)
یزید میں کچھ اچھی عادتیں بھی تھیں مثلاً مہربانی اور بردباری، فصاحت ، شعر گوئی، بہاردی ، انتظام ملک سے واقفیت، خوبصورتی اور نیک سلوک کرنا لیکن اسی کے ساتھ اس میں شہوات (نفس) پر بھی اقدام تھا اوربعض اوقات نماز چھوڑ دیاکرتا تھا اوراکثر وبیشتر وقت کے ختم ہونے کے بعد نماز پڑھتا تھا۔
اس کی روشنی میں بھی یزید کی محبت کے فریب خوردگان اپنی تصیحح کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ خلوص نیت اورغیرجانبداری کے ساتھ تاریخ سے یز ید کا حال معلوم کریں۔
اوریہ رہی ابن عماد حنبلی مشہور مورخ کی رائے یزید اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے یزید کے خلاف خروج کرنے کے تعلق سے !
والعلماء مجمعون علی تصویب قتال علی لمخالفیہ لانہ امام الحق ونقل الاتفاق ایضا علی تحسین خروج الحسینؓ علی یزید ،وخروج ابن الزبیر واھل الحرمین علی بنی امیہ ،وخروج ابن الاشعث ومن معہ من کبارالتابعین وخیارالمسلمین علی الحجاج ثم ان الجمہور راوا جواز الخروج علی من کان مثل یزید والحجاج ومنھم من جوز الخروج علی کل ظالم وعد ابن حزم خروم الاسلام اربعۃ ،قتل عثمانؓ،وقتل الحسینؓ ویوم الحرۃ وقتل ابن الزبیر ولعلماء السلف فی یزید وقتلۃ الحسین خلاف فی اللعن والتوقف(شذرات الذہب1/276)
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے مخالفوں سے لڑنے میں حق پر تھے۔ اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یزید پر خروج کرنے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور اہل حرمین کے بنی امیہ پر خروج کرنے اور ابن اشعث کےحجاج پر خروج کرنے جن کا ساتھ کبار تابعین نے دیا تھا علماء کا اتفاق ہےکہ یہ بہتر اوردرست تھا۔
جمہور علماء یزید ،حجاج اوران جیسے(ظالمین وفاسقین)کے خلاف خروج کرنے کو جائز سمجھا ہے۔ اوربعض علماء نے ہر ظالم کے خلاف خروج کرنے کو جائز سمجھاہے اورابن حزم کے بیان کے مطابق اسلام کی شوکت کی تباہی چار مرتبہ ہوئی ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل،واقعہ حرہ اورحضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کا قتل۔

مشہور مورخ مسعودی کے یہاں دیکھ لیتے ہیں کہ ان کا اس تعلق سے کیانقطہ نظر ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
وقال المسعودي: (ولمّا شمل الناس جور يزيد وعماله وعمّهم ظلمه وما ظهر من فسقه ومن قتله ابن بنت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وأنصاره وما أظهر من شرب الخمر, سيره سيرة فرعون, بل كان فرعون أعدل منه في رعيّته, وأنصف منه لخاصّته وعامّته أخرج أهل المدينة عامله عليهم, وهو عثمان بن محمّد بن أبي سفيان)(مروج الذهب: 3/82).
اورجب یزید اوراس کے کارندوں کا ظلم لوگوں پر بڑھ گیا اورعام ہوگیا اورجوکچھ یزید سے فسق اورنواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل اوران کے معاونین کاقتل صادر ہوا ۔ علاوہ ازیں اس کے وہ شراب بھی پیتا تھا۔ اس کی سیرت فرعون کی طرح تھی بلکہ فرعون اپنی رعایاکے مقابلہ میں اس سے کہیں زیادہ عادل تھا۔ اورخاص وعام کیلئے اس سے (یزید)زیادہ انصاف پرور تھا۔ ان تمام وجوہات کی بناء پر اہل مدینہ نے اس کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو مدینہ سے نکال دیا۔
کیا ان تصریحات اورمورخین کے بیانات کے بعد بھی محبان یزید کو کچھ شرم آئے گی اوراپنے موقف سے وہ ہٹیں گے شاید نہیں کیونکہ محبت اتنی عقل باقی ہی رہنے کہاں دیتی ہے کہ سچ اورجھوٹ اورحق وباطل کا امتیاز کیاجاسکے۔ خیر ہماری دعاہے اورجیساکہ ارشاد رسول صلی الله علیه وسلم ہے ۔ المرء مع من احب.. ان کا حشر بھی یزید کے ساتھ ہو۔

علامہ آلوسی کا تفسیر اوردیگر علوم اسلامیہ میں بڑا مقام ہے اوران کی تفسیر روح المعانی تفاسیر قرآن کے ذخیرہ میں اپناامتیازی شان رکھتی ہے۔ حضرت علامہ آؒلوسی حنفی کا یزید کے تعلق سے کیاخیال ہے چلئے اسے بھی جان لیتے ہیں۔ وہ یزید کے تعلق سے لکھتے ہیں۔
الذی یغلب علی ظنی ان الخبیث لم یکن مصدقا برسالٰۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وان مجموع مافعل مع اھل حرم اللہ تعالیٰ،واھل حرم نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم وعترتہ الطیبین الطاہرین فی الحیاۃ وبعد الممات وماصدر منہ المخازی لیس باضعف دلالۃ علی عدم تصدیقہ من القاء ورقۃ من المصحف الشریف فی قذر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوسلم ان الخبیث کان مسلمافھو مسلم جمع من الکبائرمالایحیظ بہ نطاق البیان وانااذھب الی جواز لعن مثلہ علی التعیین
(تفسیر روح المعانی 26/73)
میراگمان غالب یہ ہے کہ وہ خبیث(یزید) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر یقین نہیں رکھتاتھا اوراس کے وہ تمام کرتوت جو اس نے حرمین والوں اوراہل بیت رضی اللہ عنہم کے ساتھ زندگی میں ان کے وصال کے بعد کیا اورجوکچھ اس کے شرمناک افعال اس سے صادر ہوئے وہ اس سے کمتر نہیں ہے جیساکہ ایک شخص اگر قرآن پاک کاورق گندگی میں پھینک دے تو یہ اس کے عدم ایمان کی علامت ہوگی۔ (کہنایہ چاہتے ہیں کہ جس طرح کوئی شخص قرآن پاک یااس کا کوئی ورق گندگی میں پھینک دے تو ہرشخص سمجھ جاتاہے کہ یہ مومن نہیں ہے اگرصاحب ایمان ہوتاتوایسانہ کرتا تویزید نے جوکچھ اہل حرمین مکہ اورمدینہ والوں کے ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے ساتھ کیا اس سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا قائل نہیں تھا ، اگرہوتا تواس سے ایسے افعال کاصدور نہ ہوتا۔)
اوراگرتسلیم کرلیاجائے کہ وہ خبیث(یزید) مسلمان تھا تو وہ ایسامسلمان ہے جس نے کبائر میں سے ہر کبیرہ کوجمع کرلیاہے اورجس کے بیان کرنے سے زبان عاجز ہے۔ اورمیری رائے ہے کہ ایسوں پر نام کے تعیین کے ساتھ لعنت کرناجائز ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی نے اسلام کی ہندوستان میں جوعظیم خدمات انجام دی ہیں اورجس کا اعتراف سبھوں نے کیاہے حضرت مجدد کے تذکرہ کیلئے غیرمقلدین حضرات اپنے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان کی ابجد العلوم بھی پڑھ سکتے ہیں۔ یامولانا ابوالکلام آزاد کی تذکرہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ حضرت مجدد کی رائے یزید کے بارے میں کیاہے اورحضرت مجدد کیافرماتے ہیں ۔
ویزید بے دولت از اصحاب نیست ودربدبختی اوکراسخن کارے کہ آن بدبخت کرد ہیچ کافر فرنگ نکند ۔بعضی از علماء اہل سنت کہ درالعن او توقف کردہ اند نہ آنکہ ازوے راضی اند بلکہ رعایت احتمال رجوع وتوبہ کردہ اند ۔مکتوبات ربانی ص133،دفتر اول مطبوعہ ترکی
جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یزید بدبخت صحابی نہیں ہے اوراس کے بدبخت ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے اس بدبخت نے ایسے کام کئے جوفرنگی کافروں نے بھی نہیں کئے بعض علماء اہل سنت نے (مثل امام غزالی وغیرہ) جو اس پر لعنت کرنے میں توقف کیاہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس کو پسند کرتے ہیں اوراس سے راضی ہیں بلکہ محض اس احتجام پر کہ شاید اس نے آخر وقت میں توبہ کرلی ہو، اس بناء پر لعنت نہیں کرتے۔
دیکھ رہے ہیں کہ حضرت مجدد رحمتہ اللہ نے کس طرح صاف اور وضاحت سے لکھاہے کہ اس کے بدبخت ہونے میں کوئی کلام نہیں اوراس سے ایسااعمال وافعال صادر ہوئے که کفار اوروہ بھی فرنگی کفار سے بھی صادر نہ ہوئے تھے۔ اورحضرت مجدد نے یہ بھی بتادیاکہ امام غزالی اوردوسرے علماء جو یزید کی لعنت سے توقف کرتے ہیں تواس لئے نہیں کہ یزید اچھاتھا بلکہ اس احتمال پر کہ شاید اس نے توبہ کرلی ہو ۔ یعنی برے کام تو اس نے کئے ہیں لیکن توبہ اوررجوع کے احتمال کی وجہ سے لعنت کرنا درست نہیں سمجھتے۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے علم وفضل کے تعلق سے کچھ کہنا تضییع اوقات کے سواکچھ نہیں اوران کی تفسیر مظہری ان کے علم وفضل پر شاہد عدل ہے اورہندوستان میں لکھی گئی تفسیروں میں اگر اس کو پہلے نمبر پر بھی رکھاجائے تو بجا ہے۔ توکیوں نہ ہم

جاری ھے......

21/07/2019

”بدخو کسی کو تکلیف میں ڈالے نہ ڈالے مگر خود کو تکلیف میں یقینا ڈالتا ہے۔۔۔۔“

20/07/2019

"حرس انسان کو نہ صرف اپنے اصل مقصد سے دور کر دیتا ہے بلکہ جس کی خاطر حریس بنتا ہے اس سے بھی محروم ہی رہ جاتا ہے۔وقتی لزت اور آرام اگر مل بھی جائے مگر آخر اپنے انجام کو پہنچ ہی جاتا۔یعنی محرومی اور رسوائی کے بجز کچھ ہاتھ نہیں آتا۔۔۔۔۔!!!
لہزا انسان کو لالچی اور حریس ہرگز نہیں ہونا چاہئے ۔محنت لگن اور کوشش سے کام لیکر بلے ہی کم میسر آئے مگر اسی میں لزت آرام اور رضائے خداوند شامل حال رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

Address

J&K

Telephone

+917051417556

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ibnikhateeb info com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Ibnikhateeb info com:

Shortcuts

Share