27/06/2025
۔محمد مدثر رضامصباحی ،چھیتے مئوجامع مسجد ،پریاگ راج
بد گمانی شیطان کی ایک چال ہے۔۔
بد گمانی انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے جو نہ صرف اس کی ذاتی زندگی کو متاثر کر تی ہے بلکہ معاشرتی تعلقات کو بھی خراب کر تی ہے،نیز رشتوں میں دراڑ،معاشرے میں جھگڑے،اور بد اعتمادی کو جنم دیتی ہے۔یہ دراصل شیطان کی ایک چال ہےجو انسان کے دل میں وسوسے ڈال کر دوسروں سے بد ظن کر دیتا ہے۔بد گمانی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے بارے میں بغیر تحقیق یا ثبوت کے برا گمان رکھنایاشک کرنا،اور کسی کے قول و فعل کو غلط رخ دے دینا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"یاایھا الذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض االظن اثم" ترجمہ:اے ایمان والوں!بہت زیادہ بد گمانیوں سے بچو،یقین جانو کہ بعض بد گمانی گناہ ہے۔ (الحجرات )
مفسر قرآن قاضی ثناءاللہ پانی پتی قدس سرہ تشریح کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ ظن کی چند قسمیں ہیں:(١)وہ ظن جس کی اتباع واجب ہے جیسے اللہ اور مسلمان مردوں،عورتوں کے متعلق اچھا گمان رکھنا ۔(٢)وہ ظن جس کی اتباع حرام ہے جیسے مومن مردوں،عورتوں کے متعلق برا گمان رکھنا۔(٣)ان دونوں ظنون کے علاوہ بعض امور کے متعلق گمان کرنا۔
اسی لیے اللہ تعالٰی نے بہت زیادہ گمان کرنے سے احتیاطا اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔چنانچہ مومن بندوں کو بد گمانیوں سے بچنا چاہیے،کیونکہ کبھی کبھی اس طرح کا گمان گناہ میں شمار ہو تے ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے۔ ترجمہ: بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اب رسول اور مو منین کبھی بھی اپنے گھروں کی طرف نہیں لو ٹیں گے یہی گمان تمہارے دلوں میں خوش نما بن گیا تھا،حالانکہ تم نے بہت برا گمان کیا تھااور تم ہلاک ہونے والے ہو۔(فتح)٢١)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کا بیان فرمایا ہے جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے بارے میں ہتھیاروں کے بغیر جانے کی وجہ سے برا گمان کیا تھاکہ یہ لوگ اپنے گھروں کی جانب کبھی بھی لوٹ نہ آسکیں گے ،لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے برے گمان کی تردید کی اور انہیں ہلاک ہونے والی قوم قرار دیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ترجمہ:ایسا کیوں نہ ہواکہ جب تم نے اس بات کو سناتو مومن مردوخاتون اپنوں پر نیک گمان کرتےاور یہ کہتے کہ وہ تو صاف صاف بہتان ہے(النور ١٢)
جب منافقوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پرجھوٹی تہمت لگائی تھی تب اللہ نے پھٹکار لگاتے ہوے فرمایا:ایمان کا تقاضا تو یہ تھاکہ ان پر لعن، طعن کے بجاۓاچھا گمان کرتےاور کہتے کہ یہ تو واضح بہتا ن ہے۔بدگمانی سے پرہیز کی تلقین اور حسن ظن رکھنے کی ترغیب دیتے ہوے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ترجمہ:تم لوگ برے گمان سے بچو! کیونکہ بد گمانی نہایت جھوٹی بات ہے۔ایک دوسری روایت میں ہے۔ ترجمہ:بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بد گمانی کو نا پسند فرمایاہے۔
امام محمدغزالی قدس سرہ لکھتے ہیں: شیطان آدمی کے دل میں بدگمانی ڈالتاہے،چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اور اس کو خوش نہ کرے حتی کہ اگر کسی کے منھ سے شراب کی بو آرہی ہوتوبھی اس پرحد لگانا جائز نہیں،کیونکہ ایسا احتمال ممکن ہے کہ اس نے شراب کا ایک گھونٹ پی کر کلی کر دیا ہو،یا کسی نے اس کو جبرا شراب پلا دی ہوتو وہ دل سے بد گمانی کی تصدیق کرکے شیطان کو خوش نہ کرے۔رسول اللہ صلّی علیہ وسلم نے فرمایاکہ : اللہ تعالیٰ نے مسلمان پر مسلمان کے خون اس کے مال اور اس کے متعلق بد گمانی کو حرام کر دیاہے،اسی لیے جب تک وہ خود مشاہدہ نہ کر لے یا اس پر دو نیک گواہ قائم نہ ہو جائے اس وقت تک کسی بھی مسلمان کے متعلق بدگمانی جائز نہیں ہے۔پھرجب اس طر ح نہ ہواور شیطان تمہارے دل میں کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی کا وسوسہ ڈالے تو تم اس وسوسہ کو دورکرو!اور اس بات پر قائم رہوکہ اس کا حال تم پر پوشیدہ ہےاور اس شخص کے متعلق نیکی پر قائم رہنےاور گناہ سے باز رہنے کی دعا کرو اور شیطان کو ناکام ونامراد کر کے اس کو غضب میں لاؤ!(احیاء العلوم ج:٣ص:١٣٥)
حافظ یوسف بن عبداللہ مالکی لکھتے ہیں:بےشک اللہ تعالی نے مسلمانوں کے خون،عزت ،جان کو حرام قرار دیا ہے اور فرمایا: مسلمانوں کے متعلق خیر کے سوااور کوئی گمان نہ کیا جائے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
کسی مسلمان شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات سن کر اس کے متعلق بدگمانی کرے ،جب کہ ان کی بات کا کوئی نیک معنی نکل سکتا ہو۔ حضرت سفیان نے کہا کہ ظن کی دو قسمیں ہیں(١) وہ جس میں گناہ ہے(٢) وہ ظن جس میں گناہ نہیں ہے،جس ظن میں گناہ ہے وہ یہ ہے جس کے بارے میں یہ کلام کیا جائے کہ فلاں عمل گناہ ہے جس ظن میں گناہ نہیں ہے،یہ وہ ظن ہے جس کے بارے میں یہ کلام نہ کیا جائے۔
ان آیات قرانیہ، احادیث کریمہ اور علماء اسلام کے اقوال سے یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو گئی کہ بدظنی کی ہی وجہ سے سماج میں نفرت، دشمنی،فتنہ و فساد جیسی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جب کہ حسن ظن کی وجہ سے معاشرے میں اخوت و محبت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔