Al Hadya International

Al Hadya International Quran : "The Ultimate Guidance For Mankind."

08/11/2025

*لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ*

*امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں امام لیث رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
*"رحمت کسی پر اتنی جلدی نہیں آتی جتنی قرآن سننے والے پر آتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 'اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اللہ کی طرف سے (لعل، یعنی شاید) وجوب کا مفہوم دیتا ہے۔"*
میں نے کہا: یہ سننے والا ہے؛ تو پڑھنے والے کا کیا مقام ہوگا؛ حافظ کا کیا مقام ہوگا؛
تدبر کرنے والے کا کیا مقام ہوگا؛ سکھانے والے کا کیا مقام ہوگا؛ عمل کرنے والے کا کیا مقام ہوگا۔

*"اللہ تعالیٰ کے پاس ان کے الگ الگ درجےہیں۔"۔

06/11/2025

ابن القيم رحمه الله نے فرمایا:

"دل میں کچھ ایسے امراض ہیں جن کا علاج صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے سے ہی ممکن ہے۔
دل میں ایک ایسی ویرانی ہے جسے صرف خلوت میں اللہ سے انس حاصل کر کے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔
دل میں ایک ایسی اداسی ہے جو صرف اللہ کی معرفت سے حاصل ہونے والی خوشی اور اس کے ساتھ سچی وابستگی سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔
دل میں ایک ایسی بے قراری ہے جو صرف اللہ کے لیے جمع ہونے اور اس کے عذاب سے اسی کی طرف بھاگنے سے ہی سکون پاتی ہے۔
دل میں ندامت کی ایک ایسی آگ ہے جسے صرف اللہ کے احکام، اس کی ممانعتوں اور اس کی تقدیروں پر راضی رہ کر، اور صبر و استقامت کے ساتھ اس وقت تک جب تک بندہ اپنے رب سے نہ ملے، بجھایا جا سکتا ہے۔
دل میں ایک ایسی شدید خواہش ہے جو اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک مطلوب صرف وہ (اللہ) نہ بن جائے۔
اور دل میں ایک ایسا خلا ہے جو صرف اللہ کی محبت، اس کی طرف رجوع، اس کا مسلسل ذکر اور اس کے لیے اخلاص کے ذریعے ہی پُر ہو سکتا ہے۔
اگر انسان کو پوری دنیا اور اس کے تمام خزانے بھی دے دیے جائیں، تو بھی یہ خلا کبھی پُر نہیں ہوگا۔"**

— مدارج السالكين، ج ۳، ص ۱۵۶

05/11/2025

*حسن بصری رحمہ اللہ علیہ کے زمانہ کا سبق آموز واقعہ*

حضرت حسن بصری سے مروی ایک قصہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ۔۔
ایک مرتبہ میاں بیوی کے درمیان اپنے بچے کی پرورش سے متعلق اختلاف ہوا، وہ دونوں قاضی کے پاس گئے، چونکہ بچہ سمجھدار تھا، لہذا قاضی نے بچے کو اختیار دیا اور پوچھا کہ وہ کس کے پاس جا کر رہنا چاہے گا؟
بچے نے اپنے والد کو چُنا ۔ اس پر ماں نے قاضی سے کہا کہ بچے سے یہ پوچھیے کہ اس نے والد کو کیوں چنا ہے؟
قاضی نے بچے سے سوال کیا تو اس نے کہا: ”میری ماں مجھے روزانہ تعلیم و کتابت سیکھنے کے لیے فقیہ کے پاس بھیجتی ہے، اور فقیہ غلطی پر مجھے مارتا ہے، جبکہ میرا والد مجھے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ۔

*بچے کا یہ جواب سن کر قاضی نے ماں کے حق میں فیصلہ کر دیا اور کہا کہ تم ہی اس کی زیادہ حقدار ہو ۔*

04/11/2025

🪷 *بہت عظیم بات!*

*شیخ ابن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
غور و فکر کے بعد میں نے یہ پایا کہ وہ اذکار، جن کے زیادہ کرنے کی سفارش کتاب و سنت میں کی گئی ہے، کل چھ ہیں۔
یہ اذکار تمہاری طویل جدوجہد میں تمہارے لیے ایک تیز ہتھیار اور کارگر نسخہ ہیں، جو کہ غم، درد، تکلیف، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف ہیں۔

▪️ *پہلا ذکر:*
*درود شریف* درود بھیجنا
سارا دن اس کا التزام کرو،
اور دن کے آخر میں دیکھو گے کہ تم نے کثرت سے درود بھیجا ہے۔

▪️ *دوسرا ذکر:*
*کثرت سے استغفار کرنا*
اگر اللہ تمہیں توفیق دے اور تمہیں خالی وقت میں "استغفر اللہ" کہنے کی توفیق عطا فرمائے،
تو یہ ذکر غموں کو دور کرتا ہے اور تمہارے لیے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔

▪️ *تیسرا ذکر:*
*یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ*
یہ ذکر ان سنتوں میں سے ہے جو لوگوں نے چھوڑ دی ہیں،
حالانکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اس کا التزام کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"ألِظّوا بـ يا ذا الجلال والإكرام"
أي: الزموا هذه الدعوة ، وأكثروا منها(ألِظّوا) کا مطلب ہے: کثرت سے کہنا اور پابندی سے کہنا۔
"یَا ذَا الْجَلَالِ" کا مطلب ہے: اے جمال، کمال اور عظمت والے۔
"وَالْإِكْرَامِ" کا مطلب ہے: اے عطا اور سخاوت والے۔
یہ ذکر دراصل ثناء اور دعا دونوں کو یکجا کرتا ہے۔سوچو! اگر تم دن بھر یہ کلمات سینکڑوں بار کہو، تو اللہ تم سے خوش ہوگا،اور تمہاری حاجت جانتے ہوئے تمہیں عطا فرمائے گا۔

▪️ *چوتھا ذکر:*
*لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ*
یہ وہ کلمہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے بہت زیادہ تاکید فرمائی اور فرمایا:"یہ *جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے* "اگر تم اس کلمہ کی کثرت کو اپنا معمول بنا لو،تو تم اللہ کے انتظام میں حیرت انگیز لطف و کرم اور نعمت دیکھو گے۔

▪️ *پانچواں ذکر*
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:*لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"*
یہ ذکر غموں کا قلع قمع کرنے والا اور خوشیوں کو لانے والا ہے۔

▪️چھٹا ذکر:
تسبیح، تحمید، تکبیر اور تہلیل:
*"سُبْحَانَ اللَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، اللَّهُ أَكْبَر"*

*سنہری اصول:*
اذکار، دعائیں اور رقیہ کی اصل تاثیر، نفع اور پھل کثرت، تکرار، اصرار اور غور و فکر میں ہے۔
▫️ *جتنا زیادہ اللہ کا ذکر کرو گے،* اللہ کی محبت حاصل کرو گے۔
▫️ *جتنا دعا میں الحاح (اصرار) کرو گے* ، اتنی جلدی قبولیت حاصل کرو گے۔
▫️ *جتنی زیادہ رقیہ کو دہراؤ گے،* اتنا ہی زیادہ شیطانوں کا قلع قمع ہوگا اور حسد کے زہر کا خاتمہ ہوگا۔

▪️ *حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
"جو چاہتا ہے کہ اس کا عمل موت کے بعد بھی ختم نہ ہو، تو وہ علم کو پھیلائے۔"
[التذکرۃ في الوعظ]

29/10/2025

🪷سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* فرمایا کرتے تھے
🌸 *اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجأة نقمتك وجميع سخطك*
” اے اللہ میں تیری نعمت کے زوال سے پناہ طلب کرتا ہوں۔ تیری عطا کردہ عافیت کے چلے جانے اور عذاب کے اچانک نازل ہونے اور ہر قسم کی ناراضگی و غصہ سے پناہ طلب کرتاہوں۔“ (مسلم)

🪷شيخ صالح العصيمي فرماتے ہیں ۔۔۔
*جب کوئی نعمت چھن جائے* تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی دیگر بہت سی نعمتیں تمہارے پاس موجود ہیں. *پس ان نعمتوں کو شمار کرو تاکہ اس نعمت کا فقدان ہلکا ہو جائے.* *یقیناً تم اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی نعمتوں میں گھرے ہوئے ہو* جن میں سے بعض ایسی ہیں جن کا احساس صرف اس وقت ہوتا ہے جب تم خود یا کوئی دوسرا ان سے محروم ہو جائے. چنانچہ ان نعمتوں کی جانب دھیان کرو، *اپنے رب کا شکر ادا کرو اور اس سے نعمتوں کی ہمیشگی کی دعا کرو.*
(تغريد_العصيمي*)

18/07/2025

بسا اوقات ہم کمزور پڑ جاتے ہیں
ایمان کی کمزوری کی وجہ سے نہیں
حیات کی تلخی کی وجہ سے!
طائف کے روز نبی کریم ﷺ کا ایمان ہرگز کم نہیں تھا
مگر ظلم کا ذائقہ کڑوا ہی بہت ہوتا ہے!!

اس بات کو سمجھو!
کہ انسان بسا اوقات ٹُوٹ پُھوٹ جاتا ہے
وہ بظاہر ہماری دنیا میں بھٹکتا پھر رہا ہوتا ہے
مگر وہ کسی اور ہی دنیا میں ہوتا ہے
جس کا ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا!

انسان پر بعض لمحات ایسے گزرتے ہیں
جب وہ ایک بھی کلمہ کہنے کی ہمت نہیں پاتا
کوئی نصیحت سننے کا متحمل نہیں ہوتا
کسی انسان کا منہ تک نہیں دیکھنا چاہتا
پس ایک دوسرے کے غموں کا احترام کیا کرو
اور کسی شخص کی اس خواہش کو اہمیت دیا کرو جب وہ کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہو ...

پھر جب حالات سازگار ہوں
تو اس کو سینے سے لگاؤ
اس کی دِلجوئی کرو
اس سے وہ بات کرو جو دِل کی دِل سے بات ہوتی ہے
روح کی روح سے بات ہوتی ہے
کچھ دیر کو اپنے فلسفے پرے رکھ دو
ٹوٹے ہوئے دل کو آغوش چاہیے ہوتی ہے، درس نہیں!
زخمیدہ روح کا مرہم معانقہ ہوتا ہے، نصیحت نہیں!

غم کے لمحات جینے میں کوئی برائی نہیں ہے
درد کے مارے تھوڑا سا رو لیا کرو
اپنے آنسوؤں کو دباؤ مت
کہ غم اگر دل میں رہ جائے
تو دل چیر دیتا ہے، اور ناسور بن جاتا ہے!

کچھ دور ہو جایا کرو
کہ کوئی تمہارے ٹوٹ گرنے کا تماشہ نہ دیکھے ...
تنہائی میں اللہ سے مناجات کرو
سجدے میں جا پڑو
اس غلام کی طرح گڑگڑاؤ جو ہر ایک سے مایوس ہو چکا ہو!!
اپنی انگلیوں سے اپنے دل کی طرف اشارہ کرو
اور کہو:
مولا! یہاں ایک زخم ہے
مرہم چاہیے!
پھر اپنے آنسو صاف کرو
اور لوگوں کے سامنے مضبوط بن کر نکلو
جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو
کوئی گزند پہنچا ہی نہ ہو!
کیونکہ لوگوں کی ترس کھاتی آنکھیں بجائے خود ایک زخم ہوا کرتی ہیں!!

اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص کا مددگار ہو
جسے سر رکھنے کو کندھا میسر نہیں ہے!

(الشيخ الحبيب محمد سعيد رسلان حفظه الله)

17/07/2025

مَا أَجْمَلَ هُمُومَ أَهْلِ الْقُرْآنِ:
قرآن والوں کے غم کتنے خوبصورت ہوتے ہیں!

يَبْكِي مِنْ أَجْلِ صُعُوبَةٍ فِي الْحِفْظِ.
وہ حفظ کی دشواری پر رو پڑتے ہیں۔

يَبْكِي مِنْ أَجْلِ صُعُوبَةٍ فِي نُطْقِ آيَةٍ.
کسی آیت کے تلفظ میں مشکل ہو تو رونے لگتے ہیں۔

يَبْكِي مِنْ أَجْلِ صُعُوبَةٍ وَاجَهَتْهُ فِي الْأَحْكَامِ.
احکامِ تجوید یا احکامِ شرعیہ میں پیش آنے والی دشواری پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔

يَبْكِي مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ بَطِيءُ الْحِفْظِ، سَرِيعُ النِّسْيَانِ.
وہ اس لیے روتے ہیں کہ وہ آہستہ حفظ کرتے ہیں، اور جلد بھول جاتے ہیں۔

يَبْكِي مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ قَرَأَ آيَةً فَخَشَعَتْ لَهَا جَوَارِحُهُ.
وہ اس لیے روتے ہیں کہ جب کوئی آیت پڑھتے ہیں تو اُس سے ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، دل جھک جاتا ہے۔

أَهْلُ الْقُرْآنِ حَتَّى هُمُومُهُمْ تُبْهِجُ الْفُؤَادَ
قرآن والے، اُن کے غم بھی دل کو خوشی دے جاتے ہیں

اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ الْقُرْآنِ، الَّذِينَ هُمْ أَهْلُكَ وَخَاصَّتُكَ ♥️
اے اللہ! ہمیں اپنے اُن بندوں میں شامل فرما جو تیرے قرآن والے، تیرے خاص اور تیرے اپنے ہیں
📜

17/07/2025

اے قرآن کے ساتھی!

اگر تمہارے معلم (استاد) تم سے کہیں: دوبارہ پڑھو، توجہ دو، تم نے غلطی کی، تم نے حرف چُرا لیا — تو دل شکستہ مت ہونا۔ یہ قیمتی رہنمائیاں ہیں جن کی قدر وہی جان سکتا ہے جو قرآن کو صحیح اور پختہ انداز میں پڑھنے کے لیے کسی رہبر سے محروم ہو چکا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بار دہرائی جانے والی تلاوت تمہارے لیے نیکیوں میں اضافہ ہے، اور ہر غلطی اگر تم اخلاص، سچائی اور محنت سے درست کرنے کی کوشش کرو تو تمہارے لیے باعثِ بلندی ہے۔ مایوس نہ ہو، کیونکہ مسلسل محنت اور دعا کے ساتھ کہ اللہ تمہارے لیے راستے کھول دے، یقینا بند دروازے بھی اللہ الفتّاح کے حکم سے کھل جائیں گے۔

▫️▫️▫️▫️▫️▫️▫️

شیخ احمد المُغَیِّری فرماتے ہیں: اگر وہ بلند درجات جو جنت میں اہلِ قرآن کے لیے تیار کیے گئے ہیں — بغیر کسی رکاوٹ، آزمائش یا مشکلات کے حاصل ہو سکتے — تو پھر " خالص اہلِ قرآن " ظاہر نہ ہوتے۔
قدم مضبوطی سے جمائے رکھو!
یہاں تک کہ دل روشن ہو جائے اُس روشن نور سے!

(عربی تحریر سے ترجمہ)

13/07/2025

=============

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مختلف قسم کے تحفے دیے ہیں۔
کچھ لوگ تہجد کے لیے بآسانی جاگ جاتے ہیں،
کچھ لوگ صدقہ و خیرات اور دوسروں کی مدد میں بہترین ہوتے ہیں،
کچھ قرآن پاک کو آسانی سے حفظ کر لیتے ہیں.
جبکہ کچھ یہ نہیں کر سکتے، مگر ان کے دل صبر، نرمی اور حوصلے سے بھرے ہوتے ہیں۔

یہ سب اللہ کی طرف سے دیے گئے تحفے ہیں۔

ہم اکثر اپنی عبادت کو دوسروں کی عبادت سے موازنہ کرتے ہیں:
"وہ تو بہت روزے رکھتا ہے"،
"اس نے تو پورا قرآن حفظ کر لیا"،
"وہ ہر دعا میں روتے ہیں..."
مگر ہو سکتا ہے کہ آپ کا تحفہ وہ نہ ہو۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کا تحفہ کسی اور قسم کی عبادت کی صورت میں چھپا ہو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
*"ہر شخص کو وہی کام آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اُسے پیدا کیا گیا ہے۔" (مفہوم)*
(بخاری و مسلم)

اللہ تعالیٰ مختلف دلوں کے لیے مختلف دروازے کھولتے ہیں۔
تمام راستے اللہ کی طرف ہی جاتے ہیں۔
بس اپنا راستہ چھوڑ کر کسی اور کے راستے کے پیچھے نہ بھاگو۔

*میرے استاد محترم نے کہا:*
"اللہ کا شکر اس طرح ادا کرو کہ جو صلاحیت اللہ نے دی ہے، اسے خوبصورتی سے انجام دو۔"

یہی اصل شکر ہے۔
نہ کہ یہ خواہش کرنا کہ کاش میرے پاس کسی اور جیسا راستہ ہوتا۔

بلکہ اللہ نے جو دیا ہے، اسے پہچاننا اور سنوارنا اصل شکرگزاری ہے۔

اگر اللہ نے تمہارے لیے نماز کو آسان بنا دیا ہے، تو اسے مضبوطی سے تھام لو۔

اگر تمہارا تحفہ سخاوت ہے، تو کھلے دل سے دو۔

اگر تمہارا دل اللہ کے ذکر میں سکون پاتا ہے، تو اسی میں لگے رہو۔

جو بھی تمہیں دیا گیا ہے۔
اس کی حفاظت کرو۔
کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ سب کو وہی چیز ملی ہو۔
عبادت کا تمہارا راستہ، تمہاری جنت کی دعوت ہے۔
اسے کبھی کم تر نہ سمجھو۔ صرف اس لیے کہ وہ سب سے نمایاں، طویل یا مشہور نہیں۔
اللہ دیکھتا ہے۔
اور وہ خوب جانتا ہے کہ اس نے تمہیں کیا دیا ہے۔

یا اللہ! مجھے وہ نعمتیں پہچاننے کی توفیق دے جو تو نے میرے اندر رکھی ہیں اور مجھے انہیں اخلاص، شکر اور احسان کے ساتھ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین

تمہارا تحفہ اتفاقاً نہیں ملا۔
یہ تمہارا راستہ ہے۔ اس کی قدر کرو۔

___________

22/12/2024

فقه القلوب
فقه المحبة
*و محبة الله و سوله من اعظم واجبات الایمان*
فجمیع الاعمال الصالحه المبنیة علی الایمان لا تصدر الا عن المحبة المحمودۃ و اصل المحبة المحمودۃ ھی محبة الله ورسوله۔ و دینه وشرعه واولیائه وعبادہ الصالحین ۔

الله سبحانہ وتعالیٰ اور رسول الله ﷺ کی محبت ایمان کے واجبات میں میں ہے۔۔

تمام نیک اعمال جن کی بنیاد ایمان پر ہے وہ قابل تعریف محبت کے بغیر جاری نہیں ہو سکتے اور قابل تعریف محبت ۔۔
الله اور اس کے رسول سے محبت ،اس کے دین اور شریعت سے محبت ،اور اس کے اولیاء اور نیک لوگوں سے محبت ہے۔
یعنی یہ محبت تمام نیک اعمال کی محرک ہے۔۔

ہم نیک اعمال کر نہیں سکتے جب تک الله کے لیے خالص نہ ہو جائیں سب سے زیادہ اللہ سے محبت نہ کریں۔۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کیے بغیر ہم سنتوں پر عمل نہیں کر سکتے ۔۔
دین سے محبت کیے بغیر دین کو اپنا نہیں سکتے ۔۔
شریعت سے محبت کیے بغیر اس کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتے۔۔
اولیاء الله اور نیک لوگوں سے محبت کیے بغیر ان کے نقش قدم پر نہیں چل سکتے ۔۔

*اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِدِ* اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس شخص کی محبت کا سوال کرتا ہوں، جو تجھ سے محبت کرتا ہےاور اس عمل کا بھی سوال کرتا ہوں، جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے۔
اے اللہ ! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہل خانہ اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔(جامع الترمذی)

*تَعَلَّمُوا التَّجْوِیْدِ*فَالْمَدُّ فِی الْقُرْآنِ کَأنَمَّا یُخْرِجَ الھَمَّ مِنَ الصَّدْرِوَالْاِدْغَامُ یَلُمُ شَتَ...
20/12/2024

*تَعَلَّمُوا التَّجْوِیْدِ*

فَالْمَدُّ فِی الْقُرْآنِ کَأنَمَّا
یُخْرِجَ الھَمَّ مِنَ الصَّدْرِ

وَالْاِدْغَامُ یَلُمُ شَتَاتَةْ

وَالْاِقْلَابُ یَقْلِبُ نُوْنَ
الْحُزْن لَمِیْمِ الرَّحْمَةِ

وَالْاِخْفَاءُ تَخْتَفِی معه
كُلُّ الْأوْجَاعِ وَ تَطیبُ

وَغُنَّةُ النُّوْنِ وَالْمِیْمِ یَحْلُقُ
بِھَا اَلْفُؤَادُ شَمْسٌ لَا تَغیبُ

اَلْقُرْآنُ حَیَاةٌ 🫀۔۔
فَكَيْفَ بِالتَّرْتِيْلِ بِهٖ؟

سَتَحْيَا مِنْ جَدِيْدٍ بِإذْنِ اللّٰهِ.

*تجوید سیکھو*

کیونکہ قرآن میں مد ایسے ہے
جیسے دل کے غم کو سینے سے نکال دینا۔

ادغام بکھرے جذبات کو جوڑ دیتا ہے،
اور اقلاب، غم کے نون کو
رحمت کے میم میں بدل دیتا ہے۔

اخفاء کے ساتھ
تمام دکھ چھپ جاتے ہیں،
اور دل سکون پاتا ہے۔

نون اور میم کی غنہ ایسی ہے
کہ اس سے دل ایک میں ایسی روشنی بکھرتی ہے جو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔

قرآن خود زندگی ہے🫀
تو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا کیا عالم ہوگا؟

یقیناً تم نئے سرے سے جیو گے،
اللہ کے حکم سے۔۔۔

30/11/2024

🌻 *اگر آپ کے پاس پوری دنیا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ آپ سے ناراض ہے تو آپ کے پاس کچھ نہیں ہے*

اور اگر آپ اکیلے ہیں کوئی آپ کے ساتھ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہے تو آپ کے پاس سب کچھ ہے
*اور اللہ تعالیٰ کا دوست ہونا کافی ہے*

Address

Hyderabad Shah Guda

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Hadya International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Al Hadya International:

Shortcuts

Share