https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3388649901293905&id=100004467840917&mibextid=Nif5oz
Madrasa Eshaatul Uloom Ghazipur
madrsas eshaatul uloom ghazipur
25/08/2025
کیا آپ نےنماز سیکھ لی ہے؟
14/08/2025
🇮🇳
١٥/اگست یوم آزادی
१५/अगस्त स्वतंत्रता दिवस
15/INDEPENDENCE DAY
مدرسہ اشاعت العلوم غازی پور
मदरसा इशाअतुल उलूम ग़ाज़ीपुर
Madrasa Eshaatul Uloom Gazipur
02/08/2025
محترم المقام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دام ظلکم العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ بخیر وعافیت ہوں گے۔
عرض خدمت یہ ہےکہ مدرسہ اشاعت العلوم شاہی مسجد غازی پور سے سالانہ مجلہ
*"الاعجاز"* بیادگار: عارف باللہ حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی نوراللہ مرقدہ چند سالوں سے شائع ہورہا یے،سال گزشتہ اس کا خصوصی شمارہ "حج نمبر"شائع ہوا تھا۔
امسال اس کا خاص شمارہ *"مسجد نمبر"* شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں مسجد سے متعلق تمام گوشوں کا احاطہ کرنے والے مضامین ومقالات جمع کئے جائیں گے،آنحضور والا سے بھی مؤدبانہ درخواست ہے کہ اپنا قیمتی مضمون درج ذیل عنوان پرحسب فرصت تحریر فرماکر اخیر اگست 2025ء تک ارسال کرنے کی زحمت فرمائیں، ہم آپ کے بے حد شکر گزار ہوں گے۔
امید ہے کہ اس درخواست کو شرف قبولیت سے نواز کر ممنون فرمائیں گے ۔
والسلام
مولانا محمد نعیم الدین غازی پوری
(نوٹ) منسلکہ عناوین میں سے جس عنوان پر مضمون قلم بند کریں،اس کی اطلاع ادارہ کو درج ذیل نمبر پر ضرور دیدیں۔جزاکم اللہ خیراً
--------------------------------------------------------------------
*سالانہ مجلہ الا عجاز کے مسجد نمبر کے عنوانات*
1- مساجد کی شرعی حیثیت اور مقام
*مولانا محمد عابد اعظمی*
2- مساجد کے آداب و فضائل
*مولانا محمد نعیم الدین غازی پوری*
3- اسلام میں مسجد کا نظام
*مفتی محمد ضیاء اللہ قاسمی*
4- مسجد کی تعمیر! فضائل و احکام
*مفتی عبد اللہ فاروق قاسمی*
5- تعلیم و تربیت میں مساجد کا کردار
*مولانا محمد عرفات اعجاز اعظمی*
6- دینی و سماجی بیداری میں مساجد کا کرداد
*مولانا عتیق الرحمٰن قاسمی*
7- هندوستان کی قدیم مساجد کی تعمیر میں وقف کا کرد
*مفتی سرف الدین عظیم الاعظمی*
نوٹ- آپ جس عنوان پر مضمون قلم بند کریں ادارہ کو پہلے ضرور خبر کردیں تاکہ ایک ہی عنوان پر کئی مضمون نہ ہوجائے۔
اس نمبر 8090509056پر نام وپتہ کے ساتھ تحریری اطلاع دیں۔
28/07/2025
نیم ملا خطرۂ ایمان
حضرت مولانا محمد نعیم الدین غازی پوری ناظم اعلیٰ مدرسہ اشاعت العلوم (شاہی مسجد غازی پور) فتح پور سکندر سٹی ریلوے اسٹیشن غازی پور
سال رواں۱۴۴۵ھ
۱۴۴۶ھ
اللہ کے فضل و کرم سے خیر وخوبی کے ساتھ گزرگیا ،لاک ڈاؤن کے بعد مدارس ومساجد پھرسےرونق ہوگئی ہےمگرجس کے مضر اثرات اب تک محسوس کئے جاسکتے ہیں،حفاظ و علماء مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ اور عوام کی بے رخی سے کثرت سے کاروبار یا دوسرے دنیاوی مشاغل میں لگ گئے ہیں، کچھ نے تلاش معاش کیلئے فارن کنٹریوں کا رخ کرلیا ہے، طلبہ اور ان کےسرپرست صحیح نیتوں سے مدارس کا رخ نہیں کر رہے ہیں ان کی نیتوں میں فتور دکھ رہا ہے، جس کے سبب مدرسہ کی صحیح تعلیم و تربیت اور نہ ہی مدارس کے آمدو مصارف کا بندوبست ہو پارہا ہے۔
ایک مشاہدہ شدہ حقیقت ہے کہ آج کل عمومی طور پر مساجد و مدارس کے نظم و نسق کی ذمہ داریاں اکثر ان حضرات کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جو اگرچہ نیک نیت، مخلص اور اہلِ خیر ہوتے ہیں، لیکن وہ خود عالمِ دین، حافظِ قرآن، قاری یا مفتی نہیں ہوتے۔ ایسے ذمہ داران میں زیادہ تر یا تو تجارت پیشہ افراد ہوتے ہیں، یا دنیاوی تعلیم یافتہ حضرات، یا مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد، یا پھر وہ لوگ جن کی بات سماج میں سنی جاتی ہے۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ غیر علماء حضرات مسجد و مدرسہ کے نظم و نسق سے دستبردار ہو جائیں یا انہیں ان عہدوں سے ہٹا دیا جائے، بلکہ عرض یہ ہے کہ جب وہ ان اہم ذمہ داریوں کو سنبھال رہے ہیں، تو انہیں چاہیے کہ ہر مرحلے پر، ہراہم فیصلے میں، کسی مستند، متبحر، متقی، پرہیز گار اور دین فہم عالمِ دین یا مفتی سے مشورہ ضرور کر لیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات مسجد یا مدرسہ کی تعمیر، اس کا استعمال، وہاں ہونے والے فیصلے، یا خرچ کیے جانے والے فنڈز، یا خرید و فروخت، یا دیگر انتظامی امور شریعت کے مزاج اور تقاضوں سے متصادم ہو جاتے ہیں اور چونکہ غیر عالم حضرات شرعی باریکیوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے، اس لیے دانستہ یا نادانستہ طور پر غلطیاں ہو جاتی ہیں۔
یہ تو رہی عوام کی بات ابھی چند ماہ پہلے اپنے یوپی میں سرکار کے جانب سے یہ فیصلہ آیا کہ مدرسوں کاآمد و مصارف کا حساب ہوگاپھر کیا تھا۔کئی مدارس کے نظماء حفاظ اور علماء کا فون آیاکہ ہم جلد ہی آپ کے مدرسہ کا آمد و مصارف کارجسٹر دیکھ کر اپنے مدرسہ کا بھی حساب درست کر لیں گے، کئی مدرسوں کے ذمہ دار و نظماء مدرسہ اشاعت العلوم ،شاہی مسجد غازی پور تشریف لائے ،آنےوالوں میں کئی حضرات کو حیرت ہوئی کہ ناظم کی حیثیت سے اپنی تنخواہ بھی تحریری شکل میں درج تھی، یہ دیکھ کر کئی اہل علم نے کہا ہمارے مدرسہ میں ناظم کی تنخواہ متعین نہیں ہے اور کئی ناظم صاحبان کا کہنا تھا کہ ہم کو تو صرف اپنے مدرس کی تنخواہ دینے کی فکر رہتی ہے تنخواہ کے بعد جوہے وہ اپناہے۔
مدرسہ میں انے والے اموال کو یوں ہی ڈھکار جانا عذاب الہی کو دعوت دینا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابر نے فرمایا ہے:نیم حکیم خطرۂ جان، نیم ملا خطرۂ ایمان یعنی جس طرح بغیر مکمل علم کے ڈاکٹر اگر علاج کرے تو جان کو خطرہ ہوتا ہے، اسی طرح دین کا ادھورا علم رکھنے والا شخص جب دین کے قلع کا ذمہ دار ہوجائے تو ایمان اور دین کو نقصان پہنچ سکتا ہے،جیسا کہ میں سمجھتاہوں کہ مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ اور اس کے ذمہ داروں کی نیت اور آمدو مصارف اگر صحیح نہیں ہے تو ان سب کا وبال ہم سب پر بھی ہے۔
ان ہی اسباب کی وجہ سے یہ ارادہ ہوا کہ کیوں نہ مدرسہ کا گوشوارہ آمد و مصارف کو بھی ہر سال رودادِ گلستاں میں شامل کر دیا جا ئے تا کہ مکمل تعلیم و آمد و مصارف ہر سال کا ایک جگہ مکمل محفوظ رہے۔
اسباق کا پروفارم مدرسہ ھٰذا میں ماہِ محرم الحرام ۱۴۳۹ھ تا اکتوبر ۲۰۱۸ءسے مسلسل جاری ہے اور اس کے بعد چھٹی کا فارم تیار کیاگیااور پھر ماہانا جائزہ کااور ساتھ ہی ششماہی امتحان و سالانہ امتحان کا فارم جاری کردیا گیا تھا۔
امسال سے زیر اہتمام (انجمن ہفتہ واری)بزم رشید (بیدارگار۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ)کے دعاؤںکا فارم جو امسال ۹۰/دعاؤں کا تین حصوں میں تیار کیا گیا ہے، جس میں بغیر متن کے صرف فہرست اور دعا یاد کرنے کی تاریخ ابتدا ،تاریخ تکمیل اور دستخط مدرس ہے۔
آپ اسی رودادِ گلستاں میں پڑھیں گیں کہ مدرسہ ھٰذا کے اساتذہ کرام کا خدمات اور آمد و رخصت مدرسہ کے قیام یعنی بروز جمعرات ۷/ رجب المرجب ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۰/ جولائی ۲۰۰۸ءسے لیکر ۳۰/رجب ۱۴۴۶ مطابق ۲۰۲۴ء کل اساتذہ۱۳/ کا مکمل آمد ورخصت کی تاریخیں موجود ہے ۔
آپ کو یہ پڑھ کر خوشی ہوگی کہ امسال ناظرہ و نورانی قاعدہ کے جن طلبہ نے تکمیل کیا ان کو سند دی گئی اور اس کا جرکس رنگین کا پی بھی رودادِ گلستاں کی زیب و زینت بنا ہے،آپ پڑھ کر مدرسہ کے حق میں دعاؤں سے نوازیں۔
(رودادِگلستاں،سالِ ششم۔ ۴۶ ۱۴۴۵ ھ مطابق ۲۵ ۲۰۲۴ء)
محمد نعیم الدین غازی پوری
28/07/2025
مقدمہ
حضرت مفتی محمد شکیل قاسمی دامت برکا تہم (امام و خطیب جامع مسجد تاجپورغازی پور)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو سچا سیدھا اور اچھا راستہ بتانے کے لیے ہر زمانے میں نبی اور رسول بھیجے سب سے آخر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کی حیثیت
سے بھیج کر نبوت کے سلسلے کو بند کر دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے معجزات دیے گئے جس میں سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے، جس کے بارے میں اسی قرآن مقدس میں اللہ رب
العزت کا فرمان ہے ہم نے ہی قران کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والاہے اوراس قرآن کو آسان کرنے کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لے لی ہے
اس بابرکت کتاب کو پڑھنا پڑھانا سیکھنا سکھانا اور اس پر عمل کرنا دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے، اسی لیے مدارس اسلامیہ میں قرآن مجید کی تعلیم اور تجوید پر خصوصی
توجہ دی جاتی ہے
عزیز م مولانا محمد نعیم الدین غازی پوری ناظم اعلیٰ مدرسہ اشاعت العلوم فتح پور سکندر،سٹی ریلوے اسٹیشن، ضلع غازی پور ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ قرآن کریم کے
حفظ و ناظرہ کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے طلبہ کے لیے حفظ اور ناظرہ میں پختگی کے ساتھ ساتھ آسانی بھی ہو اس کے لیے انہوں نے اچھا طریقہ ایجاد کیا ہے اور ایک نقشہ تیار کیا ہے
جس کا نتیجہ بہت مفید ثابت ہو رہا ہے، یہ مولانا محمدنعیم الدین غازی پوری صاحب کی انتھک محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے ،دعا ہے اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور مدرسہ کو
تعلیمی تعمیری اورہراعتبار سے دن دونی رات چوگنی ترقیات سے نوازے اور ہر طرح کے شرور و فتن سے اس کی حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین۔
(رودادِگلستاں،سالِ ششم۔ ۴۶ ۱۴۴۵ ھ مطابق ۲۵ ۲۰۲۴ء)
(محمد شکیل )
22/06/2025
روزنامہ انقلاب نے 22/جون 2025ء بروز اتوار کو اپنے مشہور و معروف کالم "ادب و ثقافت" کے صفحہ نمبر 18کے "تعارف کتب"میں میری مرتب کردہ کتاب "معارف اعجاز" پر مختصر مگر جامع تبصرہ شائع کیا ہے۔ اس کے لئے ہم تبصرہ نگار محترم جناب مظہر حسین صاحب اورانقلاب ٹیم کے تمام ممبران کےبے حد شکر گزار ہیں۔
محمد نعیم الدین غازی پوری
08/06/2025
یہ قصائی نہیں... مدرسے کا وہ طالبعلم ہے! جس نے عید کی خوشبوئیں چھوڑ دیں... ماں باپ کے سنگ ناشتہ نہ کیا... نیا لباس نہیں پہنا... بس ایک ٹوکری اٹھائی اور نکل پڑا — آپ کے دین کی حفاظت کے لئے!
📚 یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے قرآن کو سینے سے لگایا ہے، آج وہی ہاتھ آپ کی قربانی کی کھال سنبھال رہے ہیں — تاکہ علم کی مشعل کبھی بجھ نہ پائے!
یہ مانگنے نہیں آتے... یہ آپ کو موقع دیتے ہیں کہ آپ بھی دین کی خدمت میں شریک ہو جائیں — کھال دے کر نہیں، قربانی کا حصہ بن کر!
🔥 یاد رکھو! مدارس اور ان کے طلبہ کو حقیر مت سمجھو، یہ وہ دروازے ہیں جہاں آپ کا مال دنیا و آخرت کی سب سے قیمتی جگہ پر خرچ ہوتا ہے — آپ کی کھال کو سب سے محفوظ اور با مقصد مصرف ملتا ہے!
📢 مدرسہ کوئی محتاج ادارہ نہیں، یہ امت کا قلب ہے! اور جو اس دل کی دھڑکن بنے، وہی اصل میں زندہ ہے۔
🐄 اس بار جب کھال دیں — تو صرف گائے یا بکرے کی نہ دیں... اپنا دل بھی ساتھ دیں!
📢 دین کا چراغ جل رہا ہے... سوال یہ نہیں کہ مدرسہ مانگ رہا ہے، سوال یہ ہے: آپ کیا دے رہے ہیں؟
👇 پوسٹ شیئر کریں — یہ پیغام پہنچے ہر اُس دروازے تک، جہاں دین کا درد ابھی زندہ ہے!
27/05/2025
23/05/2025
سند برائے تکمیل ناظرہ قرآن الکریم
سند برائے تکمیل نورانی قاعدہ
سندبرائے تکمیل ناظرہ قرآن الکریم
سند@*
10/05/2025
مولانا اسرارؒ نے اپنی زمین پر مدرسہ تعلیم القرآن قائم کرکے ایک بڑی مثال قائم کی۔ حافظ محفوظ عالم
غازی پور: فتح پور سکندر واقع سٹی ریلوے اسٹیشن کے نزد مدرسہ اشاعت العلوم میں بعد نماز مغرب مولانا حافظ اسرار مرحوم کی وفات پر ایک تعزیتی دعائیہ مجلس کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغازمحمدشعیب انصاری کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، اور محمد ساجد راعین نے نعت النبی ﷺ پیش کی،اس کے بعد دعاء خوانی کرکے مرحوم کے لئے ایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کی گئی ۔
تعزیتی مجلس کی صدارت مفتی عبد اللہ فاروق قاسمی صدر جمعیۃ علماء شہر غازی پور نے کی، اس موقع پر مدرسہ ھٰذا کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم الدین غازی پوری نے بیان کرتے ہوے کہاکہ نند گنج موضع اترول(پہاڑ پور) میں قائم مدرسہ تعلیم القرآن کے بانی و مہتمم حافظ و مولانا اسرار صاحبؒ کے انتقال کی خبر ملتے ہی سکتے میں پڑگیا۔مولانا کا انتقال قوم و ملت کا بڑا خسارہ ہے۔مولانا اسرار ؒ موضع اترول کے ہی رہنے والے تھے، انھوں نے حفط قرآن غازی پور کے مشہور و معروف قاری محمد اسلام صاحب سے مکمل کر کے عربی درجات کی ابتدائی تعلیم درجہ عربی چہارم تک پڑھ کر اگے کی تعلیم کے لئے جامعہ اسلامیہ ریوڑی تالاب بنارس گئے اور پھر وہاں سے دارالعلوم مئو گئے اور سنہ ۱۹۹۳ء میں فراغت حاصل کی۔
ناظم اعلیٰ نے مزید کہا کہ مولانا اپنی تعلیم سے رسمی فراغت کے بعد ہی سے مختلف مکاتب و مدارس میں خدمات انجام دیتے رہے ، پھر عارف باللہ حضرت مولانا اعجاز احمد اعظمی نوراللہ مرقدہ نے مولانا ؒ کو مشورہ دیا کہ اپنی زمین پر مدرسہ قائم کرو،چنانچہ خود ہی حضرتؒ نے ۲۰۰۷ء میں تشریف لاکر مدرسہ کی بنیاد رکھی۔
حافظ و قاری محفوظ عالم نے اپنے مختصر بیان میں کہا کہ مولانا اسرار صاحبؒ نے اپنی زمین مدرسہ کے نام وقف کر کے مدرسہ تعلیم القرآن کے نام سے مدرسہ قائم کرکے ایک بڑی مثال قائم کی اور پوری زندگی قرآن مجید کی ترویج میں مصروف رہے۔
مدرسہ ھٰذا کے صدر مدرس حافظ وقاری احمد حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ غازی پور شہرکے ایم اے ایچ انٹر کالج کی مسجد حیاتی چک میں تراویح میں قرن کریم تقریباً ۲۵سالوں تک سناتے رہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم حافظ صاحبؒ کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ سمیت تمام متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
مفتی عبد اللہ فاروق قاسمی صدر جمعیۃ علماء شہر غازی پور نے اپنے صدارت کلمات میں کہا کہ مولانااسرار۵۳/سال کی عمر میں اس دینا سے رخصت! ہوگئے ،ان کا بیعت وسلوک کا تعلق مولانا عبدالرشید صاحب شیخ الحدیث مدرسہ بیت العلوم سرائمیر سے تھا۔مولانا مرحوم کی دینی ،علمی ،اصلاحی اور روحانی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔مفتی عبد اللہ فاروق قاسمی نے مزید بتایاکہ مولانا کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے مفتی محمد امن صدیقی ،محمد انس صدیقی، محمد اسعد صدیقی اور ایک بیٹی ہیں۔
آخرمیں مفتی عبد اللہ فاروق قاسمی کی دعا پر نشست اختتام پزیر ہوئی ۔اس تعزیتی نشست میں اراکین و اساتذہ مدرسہ نیز شیر علی راعین،محمد کبیر عالم، ذبیح اللہ ، محمد معراج ، سلمان ، ٘محمد آصف ، محمد عاقب انصاری،کے علاوہ شہر کے علماء و دانشورا ن بھی شریک رہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Ghazipur
233001
27/05/2025