اختلاف اور ہماری تنگ نظری
محمد اسحٰق عارف
آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا ہے، حالانکہ اختلاف تو فہم و تحقیق کی علامت ہے۔ اگر نیت خالص ہو اور مقصد نبی ﷺ کی سنت کی پیروی ہو، تو یہی اختلاف اُمت کے لیے رحمت بن جاتا ہے، کیونکہ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق رسولِ اکرم ﷺ کی سنت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر کوئی شخص اللہ، اُس کے رسول ﷺ اور اُن تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جن پر ایمان رکھنے کا حکم نبیِ کریم ﷺ نے دیا ہے، فرائض ادا کرتا ہے اور نبی ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کو سب سے بہتر طریقہ مانتا ہے، تو وہ راہِ حق پر ہے۔ اب وہ تراویح کی آٹھ رکعت کو سنت سمجھتا ہو یا بیس رکعت کو، رفع یدین کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ یہ اختلاف نہیں بلکہ وسعتِ رحمت ہے۔ اہم یہ ہے کہ نیت میں اخلاص ہو اور مقصد رسول ﷺ کی پیروی۔
اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اُن کا فرقہ، اُن کی جماعت، یا اُن جیسی سوچ رکھنے والے ہی جنت میں جائیں گے اور باقی سب کے لیے جہنم تیار ہے، تو ایسے لوگوں کو اپنی فکر پر نظرِ ثانی اور اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جنت کسی مکتبِ فکر کی جاگیر نہیں، بلکہ اُن لوگوں کا انعام ہے جن کے دل ایمان، اخلاص اور اتباعِ رسول ﷺ سے روشن ہوں۔ دین کی روح تنگ نظری نہیں، بلکہ وسعتِ رحمت ہے۔
ہاں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہو کہ سنت تو آٹھ رکعت ہیں مگر میں بیس پڑھوں گا، یا نبی ﷺ نے رفع یدین صرف شروع میں کیا ہے مگر میں رکوع سے پہلے اور بعد میں بھی کروں گا، یا نبی ﷺ نے نماز میں ہاتھ سینے پر باندھے ہیں مگر میں ناف پر باندھوں گا، یا نبی ﷺ نے داڑھی رکھی ہے مگر مجھے داڑھی منڈھوانے والوں کا عمل پسند ہے، تو بے شک ایسا شخص ایمان کے دائرے سے باہر ہے، کیونکہ وہ اتباعِ رسول ﷺ نہیں بلکہ خواہشِ نفس کی پیروی کر رہا ہے۔
مگر مشاہدے کے مطابق کوئی ایک بھی مسلمان، چاہے کسی بھی فرقے یا جماعت سے وابستہ ہو، ایسا نہیں ہے جو دانستہ نبی ﷺ کے طریقے کے خلاف عمل کرتا ہو۔ جب آپ کسی سے پوچھیں کہ یہ عمل کیوں کرتے ہو، تو وہ یہی کہتا ہے کہ میرے نبی ﷺ نے ایسا کیا تھا۔ یہی ایمان کا ثبوت ہے۔ کوئی بدبخت ہی ہوگا جو کہے کہ نبی ﷺ سے تو یہ ثابت ہے مگر مجھے پسند نہیں، اس لیے نہیں کرتا۔
اختلاف اُس وقت خطرناک بنتا ہے جب وہ دلوں میں نفرت پیدا کر دے یا جب ہم دوسروں کے اخلاص پر شک کرنے لگیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے ہر طبقے میں نبی ﷺ کی محبت موجود ہے، بس اندازِ فہم مختلف ہیں۔ اگر ہم نیت کو خالص رکھیں اور اپنی اصلاح میں لگے رہیں تو یہی اختلاف، امت کی زینت بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل معیار دل کی نیت ہے، وہ دل کو دیکھتا ہے جو جھکتا ہے، نہ کہ ظاہری انداز کو۔ ہم اگر اپنی نگاہ کو وسعت دیں تو سمجھ میں آئے گا کہ امت کے تمام طبقات، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث یا کوئی اور سب کا رخ ایک ہی سمت ہے اور وہ ہے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی طرف۔ اصل مسئلہ فرقہ نہیں، تعصب ہے۔ یہی تعصب ہمیں امت کی وحدت سے کاٹ دیتا ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے تعصب کی جڑیں کاٹیں، مسلک سے محبت رکھیں مگر نفرت کے بغیر، دلیل کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہیں مگر کسی کی تحقیر کے بغیر۔ ایمان کی بنیاد محبت ہے اور محبت کی اصل رسول اکرم ﷺ کی سنت سے وابستگی ہے۔
AARIF Bhalessi
I m a teacher, journalist and a writer. I like to share videos, pics and articles on social media.
27/12/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Doda?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bhatyas, Bhalessa
Doda
182203
Doda
182203