Qutuf Dania

Qutuf Dania

Share

19/02/2026

اعضاء کی پیوندکاری
فتوی نمبر (٦٢٥)
قسط دوم
ذاکر عباس المدنی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
الا یہ کہ وہ شخص مضطر ہو یعنی اگر کوئ شخص قلبی امراض کی وجہ سے مررہا ہواور اس کی زندگی بچانے کے لۓ خنزیر کے ،،والو،،کے علاوہ اور کوئ چیز دستیاب نہ ہوتوخنزیر کے ،،والو،،سے استفادہ کرنا جائز ہے کیوںکہ مجبوری کی حالت میں خنزیر کا گوشت بھی جائز ہے،بشرطیکہ اس کا کوئ متبادل موجود نہ ہو اللہ تعالی کا ارشاد ہے:،،انما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل لغير الله به،،النحل (١١٥).
تم پر مردار خون،خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نا م لیا گیا ہو،حرام ہے،
ج:کتا:اس کے اعضاء سےپیوندکاری کے بارے میں اختلاف ہے کیوںکہ خود اس کی نجاست کے بارے میں اختلاف ہے،شوافع اور حنابلہ کے نزدیک کتا ایک نجس اور ناپاک جانور ہے،
جبکہ مالکیہ اور احناف کا کہنا ہیکہ کتا نجس نہیں ہے بلکہ صرف اس کاجھوٹا ناپاک ہے،امام بخاری کابھی یہی نقطہ نظر ہے۔
اب اگر کوئ شخص مجبور ہوتو اس کے اعضاء کا استعمال کرسکتا ہے البتہ عام حالات میں یعنی اگر مجبور نہ ہوتو اس کے استعمال میں فقھاۓ کرام کا اختلاف ہے۔
د:خنزیر اور کتے کے علاوہ دیگر حرام جانوروں کے اعضاء کا استعمال جائز ہے خواہ وہ مجبورہو یا مجبور نہ ہو۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا،،يا ثوبان اشترلفاطمة قلادة من عصب وسوارين من عاج،،ابوداؤد كتاب الترجل:باب فی الانتفاع بالعاج( ٤٢٠٩).
یہ حدیث سندا گرچہ ضعیف ہے لیکن سلف نےہاتھی جیسے غیر ماکول اللحم جانور کے اعضاء کا استعمال کیا ہے۔
ملاحظہ ہو بخاری کتاب الوضؤ :باب مایقع من النجاسات۔
واختار شيخ الاسلام ابن تيمية قول الحنفية وقال :عظام الميتةووقرنها وظفرها وما هو فمن جنس ذلك كالحافر ونحوه وشعرها وريشها ووبرها..الفتاوي الكبری(٢٧١- ١/٢٦٦).
*:انسانی اعضاء کی پیوند کاری۔
انسان خواہ زندہ ہویا مردہ وہ قابل احترام ہے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:(ولقد كرمنا بني ادم وحملناهم في البر والبحر ،،)(الاسراء:٧٠).
٢:،،لقد خلقنا الانسان في احسن تقويم،،(التين:٤).
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاش کو مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے:،،اغزوا باسم الله في سبيل الله قاتلوا من كفر بالله اغزوا فلا تغلوا ولا تغدروا ولاتمثلوا ولا تقتلوا وليدا،،مسلم كتاب الجهاد :باب تامیر الامام الامراء علی البعوث(١٧٣١).
اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر جھاد کرواور کافروں کے ساتھ لڑو۔جھاد کرولیکن خیانت نہ کرو ،دھوکہ بازی نہ کرو،مثلہ نہ کرواوربچوں کو قتل نہ کرو۔
٢:عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیکہ ،،نهي النبي عن النهبي والمثلة،،بخاري كتاب المظالم :باب النہبی بغیر اذن صاحبه( ٢٤٦٤).
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوٹ مار مچانے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا۔
یہ اور ان کے علاوہ دلائل سے معلوم ہوتا ہیکہ انسان محترم ہے ،لہذا اس کی لاش کو چیر پھاڑ کر استعمال نہ کیا جاۓ۔
اب سوال ہیکہ انسانی اعضاء کی پیوندکاری کرسکتے ہیں کہ نہیں تو اس بارے میں اہل علم کے دواقوال ہیں:
١:بوقت ضرورت درست ہے۔٢:درست نہیں ہے۔
جواز کے قائلین کے دلائل:
ان کے مندرجہ ذیل فقھی قواعد ہیں:
الف:الضرورت تبیح المحظورات۔
ب:المشقةتجلب التيسير.
واضح رہے کہ ان فقھی قواعد کو قرآن کریم کی ان آیتوں سے استدلال کرتے ہیں جن میں جان بچانے کے لۓ حالت اضطرار میں حرام چیزوں کے کھانے،یا حالت اکراہ میں کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے کی اجازت دی گئ ہے۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب۔۔۔

18/02/2026

اعضاء کی پیوندکاری
فتوی نمبر(٦٢٤)
قسط اول
ذاکر عباس المدنی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیکل سائنس کی ترقی سے بہت ایسی بیماریاں جو ناقابل علاج تصور کی جاتی تھیں ان کے طریقہا ۓ علاج دریافت ہوچکے ہیں،یہانتک کہ اگر جسم انسانی کا کوئ عضو (مثلا:دل، گردہ آنکھ وغیرہ ) ناکارہ ہوجاۓ یا ضائع ہوجائیں تو ان کی جگہ مصنوعی،حیوانی اور انسانی اعضاء کی پیوندکاری کرکے کام لینا ممکن ہوگیا ہے۔
اعضاء کی پیوندکاری کا مفہوم:اعضاء کی پیوندکاری (Organ Transplantation)ایک پیچیدہ طبی عمل ہے جس میں ناکارہ عضو کو صحت مند عضو سے بدلا جاتا ہے۔
اس کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا ،کامیاب گردے کی پہلی پیوندکاری (١٩٥٤)میں ہوئ۔جس کے بعد جگر،دل،پھیپھڑوں جیسے اعضاء کی پیوندکاری ممکن ہوئ۔
پیوندکاری کی شکلیں:
١:مصنوعی اعضاء سے پیوندکاری۔
٢:حیوانی اعضاء سے پیوندکاری
٣:انسانی اعضاء سے پیوندکاری۔
پیوندکاری کا حکم:
مصنوعی اورحیوانی اعضاء سے پیوندکاری سے علاج جائز ہونے میں کوئ کلام نہیں ہے،کیوںکہ اللہ تعالی نے پوری کائنات کو انسان ہی کے لۓ پیدا فرمایا ہے،
*:مصنوعی اعضاء سے پیوندکاری :
مصنوعی عضو لگانا بلاشک وشبہ جائز ہے،بشرطیکہ وہ عضو کسی ناپاک چیز سے نہ بنا ہو۔
اس کے استعمال کی کئ نظیریں عہد نبوی اورعہدصحابہ وتابعین میں ملتی ہیں۔
چنانچہ جب عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک ایک جنگ مین کٹ گئ تو انہوں نے اس کی جگہ چاندی کی ناک لگوالی مگر اس میں بدبو پیدا ہوگئ تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق انہوں نے سونے کی ناک لگوائ۔،ابوداؤد کتاب الخاتم :باب ماجاء فی ربط الآسنان۔بالذھب۔(٤٢٣٢)و ترمذی کتاب اللباس :باب ماجاء فی شد الاسنان بالذھب۔
(١٧٧٠).
اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے سونے کے دانت لگوانااور داڑھوں کی بھروائ بھی منقول ہے،
ملاحظہ ہو:المغنی (٤/٢٢٧)۔
اسی طرح سلف صالحین میں سے کئ حضرات سے دانتوں کی حفاظت کے لۓ سونے کی تار استعمال کرنا منقول ہے دیکھیں:مصنف ابن ابی شیبہ (٨/٣١١)طبقات ابن سعد (٥/١٦٣)شرح معانی الآثار (٤/٢٥٨)شرح مشکل الآثار (٤/٣٦).
*:جانوروں کے اعضاء کی پیوند کاری۔
مصنوعی اعضاء کے علاوہ جانوروں کے اعضاء کی پیوندکاری کرنا بھی جائز ہے کیونکہ جانوروں کو اللہ تعالی نے انسانوں کے لۓ پیدا کیا ہے،اللہ تعالی کا ارشاد ہے:،،وسخر لكم ما في السماوات وما في الارض جميعا منه،،الجاثية( ١٣)
*:وہ جانور جن کے اعضاء کی پیوندکاری کرنی ہے ان کی چند قسمیں ہیں،
الف:وہ جانور حلال ہو خواہ مذبوح ہوں یا غیر مذبوح دونوں طرح کے جانوروں کے اعضاء کی پیوندکاری درست ہے،کیوںکہ اگر وہ جانور مذبوح نہیں ہے تو بھی کوئ حرج نہیں کیوںکہ مردار کا کھانا حرام ہے استفادہ حرام نہیں ہے،جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ کا ارشاد ہے:،،انما حرم من المیتة اكلها،،مردار کا صرف کھانا حرام کیا گیا ہے۔سنن دار قطنی( ١/٤٣).
ب:خنزیر :خنزیر کے بالوں اور چمڑے وغیرہ کے علاوہ دیگر اندرونی اعضاء سے استفادہ جمہور فقھاء کے نزدیک حرام ہے۔۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب۔۔

18/02/2026

With Amanullah Naik – I'm on a streak! I've been a top fan for 7 months in a row. 🎉

18/02/2026

*سلفِ میں سے ایک نے فرمایا:*

*"رجب كالريح، وشعبان كالغيم، ورمضان كالمطر،*
*فمن لم يزرع في رجب، ولم يسقِ في شعبان، فكيف يريد أن يحصد في رمضان؟"*

"رجب ہوا کی مانند ہے، شعبان بادل کی طرح ہے، اور رمضان بارش کی طرح ہے۔
جو شخص رجب میں بیج نہ بوئے اور شعبان میں اسے سیراب نہ کرے، وہ رمضان میں فصل کیسے کاٹنا چاہتا ہے؟"

يا باغي الخير أقبل

اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھو۔

🖊️:رئيس الإسلام الزيات

18/02/2026

امام تابعی حسن بصریؒ نے فرمایا:
​"جو شخص رمضان میں لوگوں کی امامت کرے، اسے چاہیے کہ وہ ان کے لیے آسانی کا راستہ اختیار کرے۔ اگر وہ ٹھہر ٹھہر کر (آہستہ) تلاوت کرنے والا ہے تو پورے مہینے میں ایک ختمِ قرآن کرے۔ اگر اس کی قراءت درمیانی ہے تو ڈیڑھ ختم، اور اگر وہ تیزی سے قراءت کرنے والا ہے تو دو بار قرآن ختم کرے۔"
​(غور کریں کہ حسن بصریؒ کے نزدیک سب سے بڑی 'آسانی' یہ تھی کہ کم از کم ایک بار قرآن ضرور ختم کیا جائے)۔
— [مصنف ابن ابی شیبہ، 7761]

05/02/2026

With حافظ عمر السلفی – I'm on a streak! I've been a top fan for 6 months in a row. 🎉

05/02/2026

With حافظ جلال الدین القاسمی – I'm on a streak! I've been a top fan for 5 months in a row. 🎉

05/02/2026

With Kamaal Uddin Sanabili – I'm on a streak! I've been a top fan for 15 months in a row. 🎉

05/02/2026

With Hafiz Abu Yahya Noorpuri – I'm on a streak! I've been a top fan for 15 months in a row. 🎉

05/02/2026

With Jamiat Ahli Hadees-JK – I'm on a streak! I've been a top fan for 5 months in a row. 🎉

05/02/2026

اللہ تعالٰی تمام کنواروں کے لیے اس رمضان سے پہلے بہترین اسباب پیدا فرمائے تاکہ وہ اپنی عبادات ایک خوبصورت رشتے اور دلی سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔ آمین!

سلف میں سے کسی نے کہا ہے:

خوشخبری ہو اس کے لیے جس نے رمضان سے پہلے نکاح (شادی) کرلیا۔

22/01/2026

🖼️سید قطب وحدت الوجود، حلول اور جبر کا عقیدہ رکھتے تھے اور ہندو بدھسٹ عقیدہ نروان کا دفاع کرتے تھے {1}

* عقیدہ وحدت الوجود کے تئیں سید قطب کے مراحل :
پہلا:
سید قطب نے ان باطل عقائد کی تائید جوانی کے عمر ہی میں تقریبا 1935 عیسوی اور 1355 ہجری کے آس پاس اپنے ایک شعری دیوان میں کی ہے چنانچہ وہ الشاطی المجہول (نا معلوم ساحل) کے نام سے اپنے ایک قصیدے میں کہتے ہیں جس سے چند اشعار درج ذیل ہیں:
إلى الشاطئ المجهول والعالم الذي
حننتُ لمرآهُ ؛ إلى الضفة الأخرى
إلى حيث لا تدري .. إلى حيثُ لا ترى
معالم للأزمان والكون تُستقری
إلى حيث (لا حيث) تميز حدوده!
إلى حيث تنسى الناسَ والكونَ والدهرا
وتشعر أن الجزء والكل واحد
وتمزج في الحس البداهة والفكرا
فليس هنا أمس وليس هنا غد
ولا اليوم فالأزمان كالحلقة الكبرى
وليس هنا غير وليس هنا أنا
هنا الوحدة الكبرى التي احتجبت سرا
دیوان سید قطب، ص 123
ترجمہ : اس نامعلوم ساحل کی طرف اور اس عالم کی طرف جس کے دیکھنے کی خواہش ہے جو دوسرے کنارے پر واقع ہے۔
وہاں جانے کی تمنا ہے جہاں کے بارے میں تمہیں نہیں معلوم، جہاں پر زمانے کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی ہے اور جہاں پر کائنات ٹھہری نظر آتی ہے۔
وہ جگہ جہاں پر کوئی مکان نہیں ہے جس سے حدود کی تمیز ہو! جہاں جا کے تم لوگوں کو، کائنات کو بلکہ پورے زمانے کو بھول جاتے ہو!
اور تمہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ جزء اور کل سب ایک ہیں اور احساس میں یقین و فکر سب مل جاتے ہیں!
جہاں پر نہ کوئی گزرا ہوا کل ہے اور نہ ہی کوئی آنے والا کل ہے اور نہ ہی آج کا دن ہے وہاں تو زمانہ ایک بڑے دائرے جیسا ہے!
وہاں نہ کوئی غیر ہے اور نہ کوئی انا ہے، وہاں صرف وحدت کبری ہے جس نے سارے بھید کو چھپا رکھا ہے۔

سید قطب اپنی اسی کتاب دیوان سید قطب کے مقدمے کے اندر صفحہ 30 پر مذکورہ اشعار کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
جسم، زمانہ اور وحدت:
ایک شاعر کے نزدیک روحانی قوتیں ہی اسے وحدت کونییہ کبری سے جوڑ کر رکھتی ہیں جیسا کہ گزر چکا ہے جبکہ عقلی قوتیں اس سے قاصر ہوتی ہیں حالانکہ وہ سمجھتا ہے کہ زمانے کا احساس جسم اور باشعور قوتوں کے وجود کا نتیجہ ہے اور یہ کہ روح وجود مطلق کا احساس رکھتی ہے اسے زمانہ مقید نہیں کر سکتا اس طرح یقینی طور پر اسے کوئی مکان بھی مقید نہیں کر سکتا۔
اور اسی لیے جب اس نے نامعلوم وادی پر جسم وعقل کو اتار دیا تو اس نے دیکھا کہ وہاں پر کوئی زمان و مکان نہیں ہے، کوئی گزرا ہوا (کل) اور (آج) اور آنے والا (کل) یا کوئی (غیر) یا کسی (انا) وغیرہ کا وجود نہیں ہے۔ الخ۔
بلکہ اس نے وہاں پر زمانے کو دائرہ کبری کی طرح دیکھا اور وحدت کو دیکھا کہ اس نے سارے بھید کو چھپا رکھا ہے۔
* ملاحظہ :
وحدت کبری وحدت الوجود کو کہتے ہیں۔
سویہ اور غیریہ دونوں تصوف کے اصطلاح ہیں جو سوی اور غیر سے ماخوذ ہیں، ان کے یہاں صوفیوں کے دین میں حقیقی صوفی وہی ہے جو اس بات کا یقین رکھے کہ کوئی سوا اور کوئی غیر نہیں ہے، وہ سب یعنی کل کائنات کو ایک ہی آنکھ کی طرح دیکھتا ہے۔ (اس کے لیے تفصیل دیکھیں : ھذہ ھی الصوفیہ، صفحہ 15)۔
یہاں پر قارئین یہ ملاحظہ کر رہے ہوں گے کہ سید قطب نے بہت ساری دیگر متصوفانہ اصطلاحات اپنی طرف سے بھی گڑھ رکھی ہیں کہ وہاں نہ کوئی گزرا ہوا کل ہے نہ وہاں کوئی معیت ہے نہ کوئی آنے والا کل ہے نہ (انا) ہے، جز اور کل سب ایک ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کی عبارتیں وحدت الوجود کے قائلین ہی عموما کہتے اور استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح سید قطب کا ایک قصیدہ (اللیلات المبعوثۃ) کے نام سے ہے، جس کے اندر واضح طور پر انہوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ انسان جب تجرد اختیار کر لیتا ہے تو وہ زمانے میں نہ تو کوئی نشانی دیکھتا ہے نہ کوئی علامت، وہ ہر چیز کو (دوام) یعنی تسلسل کی ایک نشانی سمجھتا ہے۔
ملاحظہ :
مجھے نہیں معلوم یہ قصیدہ سید قطب نے کس وقت کہا تھا مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ بھی اس بات پر واضح دلیل ہے کہ سید قطب وحدت الوجود جیسے کفریہ عقیدے کو اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ سمجھ کر اسے گنگناتے رہتے تھے۔

اسی طرح سید قطب کے شعری دیوان کے اندر صفحہ 91 پر (عبادۃ جدیدۃ) کے نام سے کچھ اشعار موجود ہیں جسے انہوں نے 1937م میں لک مارا تھا، اس میں سے چند اشعار درج ذیل ہیں:
لك يا جمال عبادتي
لك أنت وحدك يا جمال
وأرى الألوهة فيك تو...
حي بالعبادة في جلال
ما أنت إلا مظهر
منها تُوشِّيهِ الظلال
فإذا عبدتك لم أكن
يا حسن من أهل الضلال
بل كنت محمود العقي..
دة في الحقيقة والخيال
أعنو لمن تعنو له ...
كل النفوس بلا مثال
متفرقاً في الكون في
شتى المرائي والخلال
فإذا تركز هاهنا
بَطَلَ التمحل والجدال
ترجمہ : اے جمال وخوبصورتی! میری عبادت تیرے لیے ہے، اے جمال و خوبصورتی! صرف تیرے لیے ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ الوہیت تیرے اندر ہے جو جاہ و جلال کے ساتھ عبادت کا اشارہ کرتی ہے۔
تو تو صرف اس کا ایک مظہر ہے جو جاہ و جلال کے ساتھ عبادت میں رنگ بھرتی ہے۔
جب میں تیری پرستش کرتا ہوں اے حسن و جمال! تو میں گمراہوں میں سے نہیں ہوتا ہوں۔
بلکہ میں اس وقت عقیدہ، حقیقت اور خیال میں لائق تعریف ہوتا ہوں۔
میں تابع وفرمانبردار ہوں اس ذات کے لیے جس کے لیے سارے نفوس بغیر کسی مثال کے فرمانبردار ہیں۔
اس حال میں کہ وہ کائنات کے اندر مختلف شکلوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔
جب یہاں پر یہ چیز مرکوز ہو گئی تو اب دیگر بہانے اور جدل و مناظرہ باطل ہو گیا۔

آگے چل کر اپنی عمر کے آخری مرحلے میں تقریبا 1946 یا 1947 میں عقیدہ نروان کے دفاع میں بڑی سرگرمی دکھائی؛ چنانچہ اس فاسد عقیدے کی تعریف کی اس کا دفاع کیا اور اس عقیدے کے حاملین کا دفاع کیا جبکہ یہ ہندوؤں اور بدھسٹوں کے نزدیک وحدت الوجود اور عقیدہ تناسخ سے بھی زیادہ بدترین اور خبیث عقیدہ ہے۔
* نروان Nirvana کسے کہتے ہیں ؟!
ہندی میں اسے مکتی کہتے ہیں یعنی نجات اور سعادت، اس طرح اس عقیدے کے مطابق روح اب بار بار دنیا میں واپس نہ آکر یعنی اب تناسخ کا سلسلہ ختم ہو جانے کے بعد وہ اس سے نجات پا جاتی ہے اور خالق میں جا کر متحد ہوکر اسی میں فنا ہو جاتی ہے۔
نروان یعنی مکتی پراپت کرنا یعنی نجات حاصل کرنا یہ ہندوؤں اور بدھسٹوں کے یہاں زندگی کا سب سے بڑا ہدف اور مقصد ہے؛ دکتور محمد ضیاء اعظمی اپنی کتاب فصول من ادیان الھند کے اندر نروان کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے فوائد میں سے شخصیت کا فنا ہو جانا اور جوہر ذاتی یعنی برم آتما کے ساتھ متحد ہو جانا ہے، یہیں سے ان کے یہاں مردوں کو جلانے کے عقیدے نے جنم لیا ہے تاکہ مادی جسم سے سے پاک ہو کر روح عالم علوی کی طرف اوپر جا سکے، اور آگ ان کے یہاں الوہیت کا ایک مظہر ہے جسے یہ اگنی کے نام سے جانتے ہیں جو کہ پرمیشور یعنی ذات علیا سے قریب کرتی ہے، اور بدھسٹوں کے یہاں انسان نروان اسی وقت حاصل کر سکتا ہے جب وہ اپنے اندر سے انسانی شہوت کو پورے طور پر ختم کر دے۔
جہاں تک جین دھرم کا تعلق ہے تو ان کا عقیدہ ہے کہ جب روحیں نروان حاصل کر لیتی ہیں تو وہ معبود کے درجے پر فائز ہو جاتی ہیں۔ اس طرح کے عقائد ان ادیان میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے ہیں، غالی صوفیا بھی اسی عقیدے سے متاثر ہوئے جیسے کہ حلاج، ابن عربی اور انہی کے نقش قدم پر چلنے والے دیگر صوفیاء جو اس باطل وثنی عقیدے کو مانتے ہیں جس سے یوم آخرت، ثواب، توحید باری تعالی جیسے عقائد مضمحل اور ملغی نظر آتے ہیں، اسی طرح انہوں نے فنا اتحاد حلول اور وحدت الوجود جیسے کفریہ عقائد کا ایجاد کیا اسی نروان جیسے باطل کفریہ عقیدے سے متاثر ہو کر۔

🖋️شیخ ربیع بن ہادی مدخلی حفظہ اللہ
📖العواصم مما فی کتب سید قطب من القواصم، ص 51

Want your school to be the top-listed School/college in Delhi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Delhi
110005