22/12/2025
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر
جناب سید شاہد مہدی
کا انتقال پُرملال
انا للہ وانا الیہ راجعون
ADAB NUMA STUDIO a YouTube channel. (Promotion of Urdu language)
22/12/2025
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر
جناب سید شاہد مہدی
کا انتقال پُرملال
انا للہ وانا الیہ راجعون
16/12/2025
15 December, Resistance Day
پندرہ دسمبر 2019 کے دن جامعہ کے طلباء پر جو ظلم و جبر ہوا، وہ ہندوستانی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ہم تو نہیں بھولیں گے نہ ہی اپنی نسل کو بھولنے دیں گے۔ سب یاد رکھا جائے گا۔ دسمبر ۱۵ تم داغ ہو سینے پہ میرے
۔
۔
۔
۔
۔
#جامعہ #ملیہ #اسلامیہ
لائبریری کی موت از ڈاکٹر حبیب الرحمن
#جامعہ #ملیہ #اسلامیہ
15/12/2025
🧮 دسمبر پندرہ
🖊️ شعیب سراج
تاریخ کے کچھ دن محض دن نہیں ہوتے، وہ قوموں کے حافظے میں عزم و استقلال کی علامت بن کر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ سال گزرتے رہتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، مگر وہ ذہن پر اس طرح نقش ہو جاتے ہیں کہ یادداشت سے وہ محو ہوتے ہیں اور نہ ہی وقت کا مرہم ان کے زخم مندمل کر پاتا ہے۔ پندرہ دسمبر 2019 بھی ایک ایسا ہی دن تھا جو چھ برس بیت جانے کے باوجود آج بھی ہمارے شعور اور احساسات پر اسی شدت سے ثبت ہے، جیسے یہ سانحہ کل ہی پیش آیا ہو آج کی کے روز حکومت وقت کے اشارے پر دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گھس کر معصوم طلبہ پر ظلم و ستم کی انتہا کی تھی، اس دن کسی نے ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں گنوا دی تھی تو کسی نے اپنا ہاتھ پیر۔
ان چھ برسوں میں زندگی نے کئی کروٹیں بدلیں۔ خوشی اور غم کے بے شمار لمحے آئے اور گزر گئے، مگر پندرہ دسمبر کا کرب وقت کی گرد میں چھپ سکا اور نہ ہی ہمارے دل دماغ اسے بھول پائے۔ آج بھی ہماری آنکھیں دہلی پولیس کے آنسو گیس کی جلن محسوس کرتی ہیں، ہمارے کانوں میں گولیوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور ہمارے جسم دہلی پولیس کی لاٹھیوں کے درد سے آج بھی لرز اٹھتے ہیں۔ ریڈنگ ہال میں بکھری شیشے کی کرچیاں آج بھی ہمارے دلوں میں پیوست ہیں۔ واش روم میں نیم جان، بے سدھ پڑے طالب علموں کی آہیں آج بھی قوم کو دعوتِ فکر دے رہی ہیں۔ طالبات کے واش روم میں گھس کر پولیس کی جانب سے کی گئی بے حرمتی آج بھی ہماری غیرت کو جھنجھوڑتی ہے۔ لائبریری سے معصوم طلبہ کے خون کی سرخی دھو کر مٹانے کی بہت کوشش کی گئی، مگر وہ سرخی مٹ نہ سکی، کیونکہ اس نے زمین کو نہیں بلکہ تاریخ کے صفحات کو سرخ کیا تھا۔
اس ظلم و بربریت کی ابتداء تیرہ دسمبر 2019 سے ہوئی تھی۔ اس وقت ہم جامعہ اسلامیہ سنابل میں متوسطہ کے طالب علم تھے۔ اگرچہ ہم عمر میں چھوٹے تھے، مگر اتنے باشعور ضرور تھے کہ اپنے طلبہ ساتھیوں پر ہونے والے ظلم کو سمجھ سکیں۔ ہم نے اسے محسوس بھی کیا اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی جسارت بھی کی۔
جمعہ کے دن ہمیں چھٹی ملا کرتی تھی، مگر اس چھٹی کو ہم نے احتجاج کے لیے مختص کر لیا تھا۔ سنابل کے کئی ساتھی صبح سویرے جامعہ ملیہ اسلامیہ پہنچتے اور نم آنکھوں، رندھی ہوئی آوازوں کے ساتھ حکومتِ وقت کے خلاف نعرے بلند کرتے۔ آج پلٹ کر دیکھتے ہیں تو خود پر حیرت ہوتی ہے کہ چودہ پندرہ برس کے بچوں میں اتنی جرأت کہاں سے آ گئی تھی کہ پولیس کی لاٹھیوں کے سائے میں، ان کے اور ان کے آقاؤں کے خلاف آواز بلند کر سکیں۔ شاید یہ حوصلہ ہمیں جامعہ کے ان دلیر طلبہ سے ملا تھا جو ظلم کے سامنے سینہ سپر تھے۔ ان کی استقامت نے ہمیں بھی بے خوف بنا دیا تھا اور ہمیں یہ سکھا دیا تھا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا اور لڑنا کتنا اہم ہے۔
جب یہ سانحہ پیش آیا، اس وقت ہم باضابطہ طور پر جامعہ کا حصہ نہیں تھے، اور آج ہم جامعہ کا حصہ ہیں۔ مگر ان دونوں حالتوں میں ایک حقیقت مشترک رہی ہے: اس وقت بھی ہمارا دل جامعہ کے ساتھ دھڑکتا تھا اور آج بھی جامعہ ہمارے دل کی دھڑکن ہے۔ کل ہم جامعہ کے درد کو باہر سے محسوس کرتے تھے، آج ہم اس درد کے امین ہیں۔ تب جامعہ ہمارے خواب میں تھی، آج ہماری شناخت ہے۔ وقت نے ہمارے رشتے کی صورت بدل دی ہے، مگر اس کی شدت نہیں بدلی۔ آج بھی دل میں یہ جذبہ ہے کہ اگر کبھی وقت پھر سے ہمارا امتحان لے، تو ہم جامعہ کے نام، اس کی حرمت اور اس کی روایت پر خود کو بے دریغ نثار کر دیں گے۔
Shuaib Siraj 🖊
26/11/2025
پروفیسر دیوان حنان خان صاحب این سی ای آر ٹی، نئی دہلی اس دار فانی سے کوچ کر گئے. انا للہ وانا الیہ راجعون.. اللہ مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
۔
۔
۔
ّٰہ___وانا__الیہ__راجعون
۔
۔
۔
ڈاکٹر امتیاز علیمی کی وال
25/11/2025
شعبہء اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام
ایک شام شکیل اعظمی کے نام
۲۵/۱۱/۲۰۲۵
Shakeel azmi poetry
Khalid Mubashshir Adab Numa Studio Jamia Urdu Forum Jamia Millia Islamia, New Delhi Rehman Musawwir
سفیر صدیقی
۔
۔
۔
۔
فوٹو کریڈٹ: عطاءالمصطفی (شعبہء اردو)
20/11/2025
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تربیتی نظام اس کو دیگر دانش گاہوں سے ممیز کرتا ہے: پروفیسر کوثر مظہری
بزمِ جامعہ، شعبۂ اردو کے زیر اہتما دو روزہ انٹر فیکلٹی مقابلوں کا انعقاد
نئی دہلی (۲۰؍ نومبر): جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تربیتی نظام اس کو دیگر دانش گاہوں سے ممیز کرتا ہے۔ اس معنی میں جامعہ محض ایک تعلیم گاہ نہیں، بلکہ ہمہ جہت شخصیت کے ارتقا کا ایک تربیتی گہوارہ ہے۔ شعبۂ اردو میں زبان کی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور اسی کے پیش نظر بلند خوانی، سمعی و صوتی تربیت، تقریر و تحریر اور تخلیقی استعداد کو فروغ دینے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار بزمِ جامعہ، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام دو روزہ انٹرفیکلٹی مقابلوں کے حوالے سے صدرِ شعبہ پروفیسر کوثر مظہری نے کیا۔ بزمِ جامعہ کے ایڈوائزر ڈاکٹر خالد مبشر نے بتایا کہ ان دو دنوں میں آن اسپاٹ مضمون نگاری بعنوان ’’مصنوعی ذہانت: رحمت یا زحمت‘‘، آن اسپاٹ کہانی نویسی بہ موضوع ’’گھریلو تشدد‘‘، فی البدیہہ شاعری، کلاسیکی متون کی بلند خوانی، غزل خوانی اور بیت بازی جیسے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں تقریباً 100 طلبہ نے حصہ لیا۔
مقابلۂ غزل خوانی میں ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی اور پروفیسر احمد محفوظ نے جج کے فرائض انجام دیے، جب کہ مقابلۂ بلند خوانی میں ڈاکٹر اسجد انصاری اور ڈاکٹر جاوید حسن نے فیصل کا فریضہ ادا کیا۔ وہیں بیت بازی میں حکم کی حیثیت سے ڈاکٹر واحد نظیر اور ڈاکٹر یاسر عباس نے شرکت کی۔ ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر خان محمد رضوان اور ڈاکٹر راحت افزا نے مختلف آن اسپاٹ مقابلوں کی نگرانی کی۔ بزمِ جامعہ کے عہدے داران اور اراکین عشرت، عبدالمطلب، محمد عابد، محمد عظیم، عطاء المصطفیٰ، عبدالقادر، ظہیر اختر، ابوامامہ اور محمد معاذ نے مختلف مقابلوں کے آرگنائزر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیں۔ ان تمام مقابلوں کے فاتحین کو فروری میں 2026 میں منعقد ہونے والے انٹریونیورسٹی پروگرام آبشار کے موقع پر انعامات سے نوازا جائے گا۔
ڈاکٹر نوشاد منظر کی وال سے
مخدوم محی الدین کی مشہور زمانہ غزل جسے دیپالی سہائے نے اپنی خوبصورت آواز میں گایا ہے۔ درمیان ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب دیپالی سہائے کا ضبط ٹوٹ جاتا ہے اور جذبات آنسو بن کر بہنے لگتے ہیں۔
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر
بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر
یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر
مخدوم محی الدین
۔
Page: Adab Numa Studio
Like and share
۔
۔
Hashtags:
゚viralシfypシ゚viralシalシ ゚viralシfypシ゚ ゚viralシ ゚viralシ
عبارت پبلیکیشن کی جانب سے منعقد مشاعرے میں نوجوان شاعر عباس قمر اپنا کلام سنا رہے ہیں۔ پارٹ 2
Hashtags:
, , , , , , , , , , , , ,