Usman Bin Affan Academy

Usman Bin Affan Academy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Usman Bin Affan Academy, Education Website, Mohalla Imambari, Darbhanga.

Offline & Online | Qur’an • Tajweed • Hifz | Hadees • Fiqh • Aqidah | Seerat-un-Nabi ﷺ | Arabic & Urdu language | BA Urdu Intrance for Jamia Millia Islamia Delhi & Aligarh Muslim University | Add: Imambari, laheria sarai, Darbhanga | 📞: +91 82288 59035

18/05/2026

Ilm hamari hifazat karta hai | Qurratul Ain Manzar Salafi |

17/05/2026

قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جب تم ذو الحجہ کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر 1977)

17/05/2026

‏جنگ عظیم دوم میں جاپان میں یہ بچہ اپنے چھوٹے بھائی کی لاش اٹھائے تدفین کا منتظر تھا۔
ایک سپاہی نے کہا یہ بوجھ بھاری لگ رہا ہے تو میں اُٹھا لوں؟
بچے نے جواب دیا۔۔۔
"یہ بوجھ نہیں، میرا بھائی ہے"
یہ تصویر آج بھی جاپان میں
ہمت، طاقت اور عزم کی علامت مانی جاتی ہے۔
رشتے بوجھ نہیں ہوتے، نبھانے کے لیے ہوتے ہیں۔

14/05/2026

Donon Aalam main Salle ala (Naat) by Hafiz Subhanur Rahman

15/04/2026

📚 Online & Offline Classes Available
✨ Learn Quran, Hadith, Tafseer & Islamic Studies
🎓 Join now and strengthen your Deen with authentic knowledge
📞 Interested? Contact: 082288 59035

06/04/2026

Admission Open
Online Also available

21/03/2026

*عیدالفطر کے آداب و سنن*

عیدالفطر مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور خوشی کا دن ہے، جو رمضان المبارک کی عبادات کے بعد بطور انعام ملتا ہے۔ یہ دن دراصل شکر، اطاعت اور سنت نبوی ﷺ کی پیروی کا عملی مظاہرہ ہے۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے ہمیں چند ایسے اعمال اور آداب سکھائے ہیں جن پر عمل کرکے ہم اپنی عید کو مزید بابرکت بنا سکتے ہیں۔

عید کا آغاز دراصل چاند نظر آنے کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے، اور اسی وقت سے *تکبیرات کہنا مشروع ہے۔* مسلمان اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:*اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ*
یہ عمل اللہ کی عظمت اور اس کی نعمتوں پر شکر کا اظہار ہے۔

عیدالفطر کی ایک اہم ترین فرض عمل *صدقۂ فطر ادا کرنا ہے*، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:*فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ...* (صحیح بخاری: 1503)
اس کا مقصد یہ ہے کہ روزہ دار کی کوتاہیوں کا ازالہ ہو جائے اور غریب مسلمان بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

عید کے دن ظاہری طہارت اور خوشی کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا ہے، چنانچہ *غسل کرنا، اچھا لباس پہننا اور خوشبو لگانا مستحب ہے۔* نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ اس دن بہترین لباس زیب تن فرماتے تھے، جو اس دن کی عظمت اور اجتماعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح، نبی کریم ﷺ کی سنت ہے کہ آپ ﷺ *نمازِ عیدالفطر سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے:* *كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا* (صحیح بخاری: 953)
یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب روزے ختم ہو چکے ہیں۔

نمازِ عید کے لیے *عیدگاہ جانا سنت ہے،* اور اگر ممکن ہو تو پیدل جانا بہتر ہے۔ نبی کریم ﷺ کا طریقہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے:*كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ خَالَفَ الطَّرِيقَ* (صحیح بخاری: 986)
اس میں اسلامی شعائر کے اظہار اور زیادہ لوگوں سے ملاقات کی حکمت پوشیدہ ہے۔

اسلام نے اس خوشی میں صرف مردوں کو نہیں بلکہ *خواتین کو بھی شریک ہونے کی ترغیب دی ہے،* یہاں تک کہ حائضہ خواتین کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا گیا:*أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ فِي الْعِيدَيْنِ* (صحیح بخاری: 324)
تاکہ وہ بھی دعا اور مسلمانوں کی اجتماعی خوشی میں شامل ہوں۔

عید کے دن *گھر سے نکلتے وقت اور نماز تک تکبیرات کہنا بھی سنت ہے،* اور ان الفاظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جاتی ہے، جیسے:*اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا* (صحیح مسلم: 1358)

یہ دن خوشی، مسرت اور محبت بانٹنے کا دن ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس دن خوشی کا اظہار فرمایا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو دعا دیتے تھے:*تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنكُمْ*
یعنی "اللہ ہم سے اور آپ سے (اعمال) قبول فرمائے۔"

آخر میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عیدالفطر محض رسم و رواج یا ظاہری خوشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے، جس کا ہر پہلو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر ہم ان آداب و سنن کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہماری عید نہ صرف خوشیوں سے بھرپور ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور قبولیت کا ذریعہ بھی بن جائے گی۔

✍🏻 قرۃالعین منظر سلفی
استاد: سلفیہ اسکول لہریا سرائے دربھنگہ

10/03/2026

لیلة القدر کی اہمیت و فضیلت

ویسے تو مـاہ رمضان پورا ہی اہم ہے لیکن رمضان المبارک کا آخری عشرہ خاص اہمیت کا حامل ہے اسکی خصوصیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس عشرے میں ایک مبارک رات ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا جسے "لیلة القدر" کہتے ہیں اس عشرے میں نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم عبادات کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے:
قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ
جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 2024)

اس کے علاوہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم خود بھی اس عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور آپ کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف کیا کرتی تھیں جیسا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے کہ:
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّی تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔
(صحیح بخاری: 2026)

اس مبارک رات میں قرآن مجيد کا نزول ہوا جس کا اعلان خود اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کرتا ہے:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةٍ مُّبٰرَکَةٍ-
یقیناً ہم نے اسے (قرآن کو) بابرکت رات میں اتارا ہے۔
(سورۃ الدخان: 3)

ایک دوسرے مقام پر اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِیۡ لَیۡلَةِ الۡقَدۡرِ
یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا۔
(سورۃ القدر: 1)

اس رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بہتر ہے اور اس رات تمام فرشتے حتیٰ کہ سردار ملائکہ جبرائیل علیہ السلام خود بھی زمین پر تشریف لاتے ہیں۔ کلام حمید میں خالق ارض و سماں اسکی نشاندہی فرماتے ہیں:
لَیۡلَةُ الۡقَدۡرِ ۬ ۙ خَیۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ۳﴾ تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓئِکَةُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡهَا بِاِذۡنِ رَبِّهِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمۡرٍ ۙ﴿ۛ۴﴾
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔
(سورۃ القدر: 3،4)

لیلة القدر کونسی رات ہے؟
قرآن مجید سے ہمیں پتہ چلا کہ جس مبارک رات میں قرآن مجید نازل ہوا اور وہ رات لیلة القدر ہے جو کہ رمضان المبارک میں ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡهِ الۡقُرۡاٰنُ۔
ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا۔
(سورۃ البقرہ: 185)

قرآن مجید کے ساتھ ساتھ اب ہم مزید احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں: رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَالَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ

شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں (اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں) میں تلاش کرو۔(بخاری: 2017)

بہت سے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اپنے خواب بیان کئے کہ شب قدر (رمضان کی) ستائیسویں رات ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ

میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب رمضان کے آخری عشرے میں (شب قدر کے ہونے پر) متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے شب قدر کی تلاش ہو وہ رمضان کے آخری عشرے (کی طاق راتوں) میں ڈھونڈے۔
(صحیح بخاری: 1158)

ان ساری چیزوں کا خلاصہ یہ ہے کہ لیلة القدر رمضان کے آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں میں سے ایک رات ہے ہمیں آخری عشرے میں صرف ایک طاق رات نہیں بلکہ پانچوں طاق راتوں میں جاگ کر عبادات کرنی چاہئیں۔ پانچ راتیں عبادت کریں گے تو ان میں سے کوئی ایک ضرور لیلتہ القدر ضرور ہو گی جس کا ہمیں 83 سال 4 ماہ کی عبادات سے بھی بہتر اجر ملے گا۔

لیلة القدر کی دعا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے ہمیں اس دعا کا اہتمام آخری عشرے کی پانچوں طاق راتوں میں کرنا ہے کیونکہ ہمیں نہیں علم کہ لیلة القدر کونسی رات ہے لہٰذا ہمیں لیلة القدر کی تلاش میں آخری پانچ طاق راتوں میں اس دعا کا کثرت سے اہتمام کرنا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا:
اللّٰہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دعا کرو:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّي
اے اللّٰہ بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف کر دے۔
(ابنِ ماجہ: 3850)

ترمذی میں ایک لفظ کے اضافے کے ساتھ یہ دعا موجود ہے دونوں دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں.
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنّي
(ترمذی: 3513)

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس رات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

قرةالعين منظر سلفى
استاد: سلفیہ اسکول لہریا سرائے دربھنگہ

02/03/2026

URDU WORD MEANING | NAYLA NAAZ | USMAN BIN AFFAN ISLAMIC COACHING CENTRE |

02/03/2026

رمضان المبارک: احتساب نفس، اصلاح اعمال اور حسن خاتمہ کا پیغام

رمضان المبارک محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایمان کی تجدید، دلوں کی اصلاح اور اعمال کی درستی کا عظیم موقع ہے۔ اس کے ابتدائی ایام گزر چکے اور ہم دوسرے عشرے میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ لمحہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ وقت کس تیزی سے گزر رہا ہے۔ جو حصہ بیت گیا وہ لوٹ کر نہیں آئے گا، اور جو باقی ہے وہ بھی جلد رخصت ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم رک کر سوچیں: ہم نے اس مہینے سے کتنا فائدہ اٹھایا؟

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ"
(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔)

یہ آیت ہمیں محاسبۂ نفس کی دعوت دیتی ہے۔ رمضان اسی احتساب کا نام ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ دل، زبان اور اعضاء کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم نے اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت اور بدکلامی سے محفوظ رکھا، اپنی نگاہوں کو حرام سے بچایا، اور اپنے دل کو حسد و کینہ سے پاک کیا تو ہمارا روزہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہے۔ ورنہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

رمضان کی سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ یہ ہمیں توبہ کا دروازہ کھلا ہونے کا یقین دلاتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ ہر رات ایک منادی پکارتا ہے:
"اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ، اور اے شر کے طلبگار! رک جا۔"

یہ اعلان دراصل ہماری روح کو بیدار کرنے کے لیے ہے۔ اگر ہم نیکی کے راستے پر ہیں تو ہمیں استقامت اختیار کرنی چاہیے اور اپنے اعمال کو احسان کے درجے تک پہنچانا چاہیے۔ اور اگر ہم غفلت یا کوتاہی کا شکار رہے ہیں تو ابھی وقت باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ سچی ندامت، استغفار اور آئندہ کے لیے پختہ ارادہ انسان کو بلندی عطا کرتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اعمال کا اعتبار انجام پر ہوتا ہے۔ اگر آخری لمحات میں انسان اخلاص اور خشوع کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تو اس کی سابقہ لغزشیں بھی معاف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے رمضان کے باقی ایام کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ قرآن کی تلاوت میں اضافہ، قیام اللیل کا اہتمام، صدقہ و خیرات کی کثرت، اور محتاجوں کی مدد یہ سب وہ اعمال ہیں جو اس مہینے کی روح ہیں۔

رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی زندگی محدود ہے۔ ہمارے اعمال محفوظ کیے جا رہے ہیں اور ایک دن ہمیں اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اس مہلت کو ضائع نہ کرے بلکہ اسے اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنائے۔

لہٰذا آئیے! ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں، گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی کریں اور باقی دنوں کو سنوارنے کا عزم کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص، استقامت اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے، ہمارے روزوں اور قیام کو قبول فرمائے اور ہمیں اس عظیم مہینے کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

قرۃالعین منظر سلفی
استاد: سلفیہ اسکول لہریا سرائے دربھنگہ

Want your school to be the top-listed School/college in Darbhanga?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Mohalla Imambari
Darbhanga