04/07/2026
حیات و خدمات
خطیبِ یورپ و ایشیا، حافظِ احادیثِ کثیرہ
حضرت علامہ الحاج محمد حسین صدیقی رضوی ابو الحقانی علیہ الرحمہ
از : غلام سرور مصباحی
جامعۃ فاطمۃ الزہراء، دونار چوک، دربھنگہ (بہار)
علمائے ربانیین ہر دور میں امتِ مسلمہ کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ انہی نفوسِ قدسیہ کی بدولت دینِ اسلام کی تعلیمات ہر زمانے میں عام ہوتی رہیں اور عقائدِ اہلِ سنت کی شمع فروزاں رہی۔ برصغیر ہند میں بھی ایسی بے شمار شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنی علمی، عملی، تبلیغی اور اصلاحی خدمات کے ذریعے دینِ متین کی عظیم خدمت انجام دی۔ انہی درخشاں شخصیات میں ایک نام حضرت علامہ الحاج محمد حسین صدیقی رضوی، المعروف ابو الحقانی علیہ الرحمہ کا بھی ہے، جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ تک علم و عمل، دعوت و تبلیغ، تدریس و خطابت اور اصلاحِ امت کے میدان میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔
نام و نسب
آپ کا اسمِ گرامی محمد حسین صدیقی رضوی تھا، جبکہ علمی و عوامی حلقوں میں ابو الحقانی کے نام سے شہرتِ عام حاصل ہوئی۔ آپ شیخ عبدالجلیل بن شیخ کریم بخش بن شیخ ہمت میاں بن تاجد میاں کے فرزند تھے۔ آپ کا خانوادہ دینی غیرت، خدمتِ اسلام اور محبتِ اہلِ بیت و صحابہ سے آراستہ تھا، جس کے اثرات آپ کی پوری زندگی میں نمایاں رہے۔
ولادت
آپ کی ولادت ۲ دسمبر ۱۹۵۶ء کو مقام لوکہا بازار، ضلع مدھوبنی (بہار) میں ہوئی۔ بچپن ہی سے ذوقِ عبادت، شوقِ علم اور دینی مزاج آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جسے دیکھ کر اہلِ خانہ اور اساتذہ آپ کے روشن مستقبل کی بشارت دیا کرتے تھے۔
تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم مدرسہ تنظیم المسلمین لوکہا میں حاصل کی۔ بعد ازاں الجامعۃ الحنفیہ الغوثیہ، جنکپور (نیپال) میں زیرِ تعلیم رہے اور کچھ عرصہ بریلی شریف میں بھی اکتسابِ علم کا شرف حاصل کیا۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے آپ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور میں داخل ہوئے، جہاں چار سال تک جلیل القدر اساتذۂ کرام کی علمی صحبت سے فیض یاب ہوئے اور سند و دستارِ فضیلت سے سرفراز ہوئے۔
ممتاز اساتذہ
آپ نے جن اکابرین سے کسبِ فیض کیا، ان میں جلالۃ العلم حضرت حافظِ ملت علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ، حضرت مولانا زبیر احمد صاحب، شیرِ نیپال حضرت علامہ جیش محمد صدیقی علیہ الرحمہ، حضور محدثِ کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری صاحب قبلہ، بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ، صدرالعلماء حضرت علامہ تحسین رضا خان علیہ الرحمہ اور حضرت علامہ عبدالشکور علیہ الرحمہ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ انہی اکابر کی علمی تربیت نے آپ کی شخصیت کو علم، تحقیق، استدلال اور دعوت و تبلیغ کے اوصاف سے مزین کیا۔
تدریسی خدمات
فراغت کے بعد آپ نے ایک سال الجامعۃ الحنفیہ، جنکپور (نیپال) میں تدریسی خدمات انجام دیں اور طالبانِ علومِ نبویہ کو زیورِ علم سے آراستہ فرمایا۔ بعد ازاں چھ برس تک مدرسہ فیض الغربا، آرا میں مسندِ تدریس کو رونق بخشی، جہاں آپ صحیح بخاری شریف تک کا درس دیتے رہے۔
آپ کے حلقۂ درس سے بے شمار علماء، ائمہ، خطباء اور مدرسین تیار ہوئے، جن میں حضرت مولانا عبدالخالق (مرزاپور)، مولانا عبد المنان (صدرالمدرسین، مدرسہ خیریہ سہسرام)، حضرت مولانا محمد اشفاق (شیخ الحدیث، مدرسہ آرہ) اور مولانا صابر القادری (سراہی) خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔
تدریس کے دوران آپ صرف کتابیں نہیں پڑھاتے تھے بلکہ طلبہ کی کردار سازی، دینی غیرت، مسلکی پختگی اور اخلاصِ عمل پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے شاگرد آج مختلف علاقوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
تعمیری و تنظیمی خدمات
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ محض ایک عالم، مدرس اور خطیب ہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین منتظم، مخلص داعی اور عظیم معمارِ قوم بھی تھے۔ جہاں بھی دین کی ضرورت محسوس فرماتے، وہاں مسجد، مدرسہ یا رفاہی ادارے کے قیام کی فکر کرتے اور اپنی محنت، دعا اور جدوجہد سے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچاتے۔
آپ کی سرپرستی اور رہنمائی میں دارالعلوم رضائے مصطفیٰ، لوکہا بازار، جامعۃ فاطمۃ الزہراء، دونار چوک، دربھنگہ، آر۔ ایس۔ میموریل ہاسپیٹل، دربھنگہ، رضا جامع مسجد، لوکہا بازار اور نوری جامع مسجد، ساہر گھاٹ، مدھوبنی جیسے اہم ادارے قائم ہوئے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد مساجد، مدارس اور دینی مراکز کی بنیاد رکھنے اور ان کی تعمیر و ترقی میں آپ کا نمایاں کردار رہا۔ جب یہ ادارے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو جاتے تو آپ انہیں مقامی ذمہ داران کے سپرد فرما دیتے اور خود کسی نئے دینی منصوبے کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
آپ خدمتِ خلق کے جذبے سے بھی سرشار تھے۔ اپنی ذاتی حیثیت اور اہلِ خیر کے تعاون سے متعدد غریب و نادار بچیوں کی شادی کرائی، بے شمار مریضوں کے علاج کا انتظام کیا، اور کئی علماء کو مالی تعاون دے کر حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔ آپ کے نزدیک دین کی خدمت اور مخلوقِ خدا کی خدمت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھیں، بلکہ دونوں کو عبادت کا درجہ حاصل تھا۔
تبلیغی خدمات
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ نے اپنی پوری زندگی دعوت و تبلیغ اور اشاعتِ مسلکِ اہلِ سنت کے لیے وقف کر دی تھی۔ آپ نے ہندوستان کے تقریباً ہر صوبے میں اصلاحی، تبلیغی اور علمی اجتماعات سے خطاب فرمایا۔ اس کے علاوہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے تقریباً چالیس ممالک کا تبلیغی دورہ کیا اور جہاں بھی تشریف لے گئے، وہاں قرآن و سنت، محبتِ رسول ﷺ اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کا مؤثر اور مدلل پیغام عام کیا۔
آپ نے پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، ماریشس، زمبابوے، ہرارے اور دیگر افریقی ممالک کے متعدد تبلیغی اسفار فرمائے۔ خصوصاً نیپال میں آپ نے بے شمار بار سفر کیا اور وہاں کے مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح، مساجد و مدارس کی سرپرستی اور دینی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کی تقاریر نے ہزاروں افراد کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ صحابہ و اہلِ بیت، اتباعِ سنت اور مسلکِ اہلِ سنت کی محبت پیدا کی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں آپ کے معتقدین، مریدین اور چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
بیعت و خلافت
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے روحانی فیوض و برکات سے بھی خوب نوازا تھا۔ آپ مفتیِ اعظمِ ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ کے مرید تھے، جبکہ متعدد جلیل القدر مشائخِ کرام نے آپ کو اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔
آپ کو شیخ فضل الرحمٰن مہاجر مدنی، تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری، حضرت علامہ تحسین رضا خان، مفتیِ اعظم نیپال حضرت علامہ جیش محمد صدیقی، حضرت مفتی رجب علی، حضرت سید شاہ قائم قتیل داناپوری، حضرت علامہ ریحان رضا خان رحمانی، شیر بہارحضرت مفتی اسلم رضوی، حضرت علامہ مفتی محمد ایوب اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت علیہم الرحمۃ سے مختلف سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔
ہندوستان کے تقریباً تمام صوبوں کے علاوہ نیپال، پاکستان، بنگلہ دیش، ماریشس، زمبابوے اور دیگر ممالک میں ہزاروں افراد نے آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور آپ کی روحانی تربیت سے فیض یاب ہوئے۔
حج و زیارات
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے بار بار حرمین شریفین کی حاضری کا شرف عطا فرمایا۔ آپ نے تقریباً ۳۴ حج ادا کیے اور پچاس سے زائد عمرے کی سعادت حاصل کی۔ اس طرح مجموعی طور پر اسی سے زائد مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت نصیب ہوئی۔
تبلیغی اسفار کے دوران آپ کو مختلف ممالک میں انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور بے شمار اولیائے عظام کے مزاراتِ مقدسہ پر حاضری کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ یوں آپ کی پوری زندگی سفر، دعوت، تبلیغ، عبادت اور خدمتِ دین کا حسین امتزاج تھی۔
تصنیف و تالیف
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ خطابت کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ قلم مصنف بھی تھے۔ آپ نے عقائد، فقہ، حدیث، سیرت اور اصلاحِ امت سے متعلق متعدد علمی و تحقیقی کتابیں تصنیف فرمائیں، جن میں ضیائے حدیث، حق کی تلوار، خطباتِ ابو الحقانی، حاضر و ناظر، جنتی کون، دینے والا ہے سچا ہمارا نبی، صدقات، زیارات، غزوات، اربعینِ حقانی، اللہ ورسولہ أعلم، فداک أبی و أمی اور والذی نفسی بیدہ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کی تصانیف آج بھی اہلِ سنت کے لیے علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
خطابت
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوتِ خطابت سے نوازا تھا۔ آپ کی تقریر علم و تحقیق، سلاستِ زبان، برجستگی، دلائل کی فراوانی اور عشقِ رسول ﷺ سے لبریز ہوتی تھی۔ آپ کی آواز میں ایسی تاثیر، اندازِ بیان میں ایسی کشش اور استدلال میں ایسی مضبوطی تھی کہ سامعین آغازِ تقریر سے اختتام تک ہمہ تن گوش رہتے۔
آپ جس موضوع پر گفتگو فرماتے، قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ، اقوالِ ائمہ، اکابرِ اہلِ سنت اور معتبر کتب کے دلائل سے اس کا حق ادا کرتے۔ آپ صرف حوالہ ہی پیش نہیں فرماتے تھے بلکہ دلائل کی صحت پر اعتماد کے ساتھ علمی چیلنج بھی پیش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کو عوام و خواص، علماء و طلبہ، اساتذہ، دانشوروں، تاجروں اور کسانوں، سبھی طبقات میں یکساں مقبولیت حاصل تھی۔
حدیثِ پاک کی تشریح کے ساتھ جب آپ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے ایمان افروز اشعار پڑھتے تو مجمع پر ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی اور حاضرین بے اختیار داد و تحسین پیش کرتے۔
آپ کو شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتیِ اعظمِ ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا خان، مجاہدِ ملت حضرت علامہ حبیب الرحمن عثمانی، حافظِ ملت حضرت علامہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی، رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری، شارحِ بخاری حضرت علامہ شریف الحق امجدی، تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری، مدنی میاں اشرفی مد ظلہ العالی اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت علیہم الرحمۃ والرضوان کی موجودگی میں خطاب کرنے کا شرف حاصل ہوا، جو آپ کی علمی و خطیبانہ عظمت کا روشن ثبوت ہے۔
عادات و خصائل
حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ نہایت سادہ مزاج، متواضع، باعمل، حق گو اور بے باک عالمِ دین تھے۔ آپ ہمیشہ مریدین اور متعلقین کو عقیدۂ اہلِ سنت پر ثابت قدم رہنے، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرنے، ایمان کی حفاظت کرنے اور بدعقیدگی و گمراہی سے مکمل اجتناب کی تلقین فرماتے تھے۔
آپ حق و باطل کے معاملے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ مسلکِ اہلِ سنت کی حفاظت، اکابرین کی تعلیمات کی اشاعت، علماء کی عزت، غریبوں کی مدد، یتیموں کی کفالت اور دینی اداروں کی سرپرستی آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ آپ کی پوری زندگی خدمتِ دین، خدمتِ خلق اور اتباعِ سنت کا حسین نمونہ تھی۔
ہم عصر علماء و رفقاء
آپ کے معاصر علماء اور خصوصی احباب میں حضرت علامہ مفتی شمس الدین ، حضرت مولانا سید اقبال حسنی، حضرت مولانا ظفر الدین گھوسی، حضرت مولانا اقبال صاحب گورکھپوری، حضرت مولانا جابر صاحب، حضرت مولانا قیس رضا، حضرت مولانا سلیم اختر بلالی، حضرت مولانا عبدالشکور جمالی اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت علیہم الرحمۃ شامل ہیں، جن سے آپ کے نہایت خوشگوار علمی و دینی تعلقات تھے۔
ازدواجی زندگی
آپ کا پہلا نکاح باڑا ٹولہ، ضلع مدھوبنی میں ہوا، جس سے اللہ تعالیٰ نے پانچ صاحبزادوں اور ایک صاحبزادی عطا فرمائی۔ پہلی اہلیہ کے وصال (۲۰۰۷ء) کے بعد آپ نے کولکاتا میں دوسری شادی فرمائی، اس نکاح سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
وصال
۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء، مطابق ۲۳ محرم الحرام ۱۴۴۲ھ، بروز سنیچر، شب ۸ بجکر ۴۵ منٹ پر یہ آفتابِ علم و عرفان غروب ہو گیا اور حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے جانشین حضرت علامہ تحسین رضا مصباحی نے پڑھائی، جس میں ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے علما، مشائخ، حفاظ، ائمہ، مریدین اور ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں آپ کو آبائی وطن لوکہا بازار، ضلع مدھوبنی (بہار) میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آپ کی رحلت سے دعوت و تبلیغ، خطابت، تدریس اور مسلکِ اہلِ سنت کا ایک عظیم باب اختتام پذیر ہوا، لیکن آپ کی دینی، علمی، روحانی اور رفاہی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ حضرت علامہ ابو الحقانی علیہ الرحمہ کی قبرِ انور کو نور سے بھر دے، درجاتِ عالیہ عطا فرمائے، ان کے فیوض و برکات کو تا قیامت جاری رکھے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ