Academy For Arts & Culture Maharastra-اکیڈمی فار آرٹس اینڈ کلچر مہاراشٹر

  • Home
  • India
  • Bhiwandi
  • Academy For Arts & Culture Maharastra-اکیڈمی فار آرٹس اینڈ کلچر مہاراشٹر

Academy For Arts & Culture Maharastra-اکیڈمی فار آرٹس اینڈ کلچر مہاراشٹر سخن روبرو
نسل نو شاعری

22/02/2025
22/02/2025
27/06/2023

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة
إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :
1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،
اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے
(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)
یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا
2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے
( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )
اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا
( يأيها النبي قل لأزواجك .... )
شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا
ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )
اور جب أولاد مل گئی تو بولا
( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )
اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں
اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر
( وامرءته حمالة الحطب )
كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا
3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو
اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے
(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)
اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا
( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )
كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا
اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا
ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے
اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا
‎( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )
"وأزواجنا"
زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو۔

01/01/2023

!!!
کالج کی محبت

رات شادی میں ایک آنٹی سے ملاقات ہوئی تقریباََ 35 40 سال تک کی ہوں گی
لیکن اتنی خوبصورت کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے 25 کی ہیں۔
اصل میں بات اس وقت شروع ہوئی جب میں نے شادی میں لڑکے اور لڑکیوں کے بارے مین بات کی کہ آج کل لڑکے صرف لڑکیوں سے محبت کے نام پر اپنا مقصد پورا کرتے ہیں
اور شاید لڑکیاں بھی سب کچھ جاننے کے باوجود
ایک جھوٹی خواہش لے کر خود کو لڑکے کے سامنے پیش کر دیتی بہیوہ یہ بھول جاتی ہیں کہ یہ محبت کا داغ انکی ساری زندگی نہیں دھلے گا۔
محبت تو پہلے ہوتی تھی جب لوگ کچے گھروں میں رہتے تھے موبائل فون نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا چل میں تجھے پرانے وقت کی محبت کی سچی داستان سناتی ہوں فیصلہ خود کر لینا۔
ہم دونوں اندر والے روم میں چلی گئیں۔
یہ بات آج سے لگ بھگ پندرہ سال پرانی ہے۔
ایک لڑکی تھی۔تمھاری ہی طرح کی جوان حوبصورت ہر ایک سے اچھے اخلاق سے پیش آتی تھی لیکن ہاں وہ تھوڑی مغرور تھی۔
میٹرک کے بعد کالج جانے کے لیے گھر والوں سے ضد شروع کر دی گھر والے تعلیم کے خلاف نہیں تھے لیکن اس ماحول کے خلاف تھے جو ہمارے ملک میں چل رہا ہے۔
خیر کافی ضد کے بعد گھر والے مان گئے۔ایک گاڑی والے کو سال کے لیے زمہ داری لگا دی صبح لے کر جانا اور شام واپس چھوڑنا۔۔۔۔
کالج میں جانے کے بعد وہ بہت خوش تھی کیونکہ کچھ پڑھنے کا شوق بھی تھا اور کچھ لطف اندوز ہونے کا بھی۔
وقت گزرتا گیا اور کالج جاتے ہوئے اسے ایک سال کا عرصہ گزر گیا
رزلٹ آیا تو وہ اچھے نمبروں سے پاس تھی
وہ بہت خوش ہوئی اور گھر والے بھی
اور کیوں نہ ہوتے وہ انکی اکلوتی اولاد جو تھی
دوسرا سال شروع ہوا تو وہ ایک لوکل گاڑی سے آنے جانے لگی۔
ایک دن گاڑی میں اسکے لیے جگہ نہیں بن سکی اسکی ساری فرینڈ اسی گاڑی میں تھی لہذا اسے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھنا پڑا
راستے میں جاتے ہوئے وہ بار بار ڈرائیور کو دیکھتی
نہ جانے کیا کشش تھی اس میں جو خود کو بار بار روکنے کے بعد بھی اسے دیکھے جا رہی تھی
وہ انتھائی خوبصورت اور ایک معصوم سی طبعیت کا مالک تھا
اس نے ایک بار بھی اسکی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا
شاہد وہ اس کو اس بات کا احساس دلانا چاہ رہا تھا کہ وہ عورت ذات کی بہت عزت اور احترام کرتا ہے۔یا پھر وہ نقاب میں اس بات کا اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کہ لڑکی کیسی ہو گی یا یہ کس گھرانے سے ہو گی۔
وہ اسکی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا جب اسے کوئی اتنا اچھا لگا تھا
اس لڑکی کی منگنی بچپن میں ہی ہو گئی تھی اسی لیے شاید اس نے کسی اور کہ بارے میں کبھی نہیں سوچا ۔
دن گزرتے گے اور لڑکا پہلے سے زیادہ اس میں دلچسپی لینے لگا۔ وہ سارے راستے میں باتیں کرتے رہتے ایک دوسرے کو پیار کی کہانیاں سناتے لڑکا اسے ہمیشہ یی کہتا کہ وہ بہت غریب اور دنیا میں اسکا کوئی نہیں ہے۔
ایک بہن تھی جس کی شادی کر آیا ہوں
ساتھ میں وہ یہ احساس بھی دلاتا کہ پیار مین لوگ کیا کیا قربانیاں دیتے ہیں۔ہمیشہ کسی فلم کی سٹوری سناتا اور اگر کسی بات سے ناراض ہوتی تو فورا منوا لیتا
اور یہ کہ اسکے گھر والے کبھی یہ بات نہیں مانے گے کہ تم ایک ڈرائور سے شادی کر لو
بات تو اسکی شاید ٹھیک تھی لیکن اسے خود پہ یقین بھی تھا۔کہ وہ گھر والوں کو منوا لے گی۔
اسنے گھر بات کی اور گھر والے صاف انکار کے ساتھ غصے مین بھی آ گئے۔
اسنے اپنی آج تک ہر بات منوائی تھی لیکن شاید وہ اس بات میں ناکام تھی کیونکہ یہ اسکی زندگی کا سوال تھا
آحر وہ ایک دن وہ محبت میں اپنی اس محبت کو بھول گئی جس نے اسے اس قابل کیا تھا کہ وہ آج اس محبت کونبھانے چلی تھی اب اسکو بھی یقین ہو گیا تھا کہ گھر والے کبھی نہیں مانیں گے چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر سے بھاگ جائے گی ایک رات اسنے موقع دیکھا اور گھر سے بھاگ گئی امیر گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے
لڑکی کے پاس کچھ پیسے اور زیور وغیرہ بھی تھے۔
خیر وہ دونوں کسی دوسرے شہر میں چلے گے۔اپنی ہنستی بستی دنیا کو اور گھر والوں کے منہ پہ بدنامی کا ایک دبا لگا کر وہ لڑکی اپنی نئی دنیا بسانے گئی تھی۔
شاید اس کے گھر والوں نے اسکا نام کرن اسی لیے رکھا تھا کہ وہ اپنے والدین کے لیے انکے بڑھاپے میں ایک امید کی کرن تھی۔
لیکن یہ کرن تو کچھ اور ہی کر بیٹھی تھی۔
خیر۔۔۔۔۔
وہ لڑکا اسے ایک چھوٹے سے گھر میں لے گیا
اور بتایا اس نے یہاں گھر لیا ہوا ہے اور کبھی کام سے چھٹی ہو تو ادھر آتا رہتا ہے
گھر چھوٹا تھا لیکن وہ اپنے پیار کے نشے میں اتنی مگن تھی کہ وہ گھر اسے جنت لگنے لگا۔
لڑکی کے پاس جتنے پیسے وغیرہ وہ اس نے لے لیے
ایک دن لڑکے کے بٹوہ سے اس کے گھر کا ایڈریس ملا جسے نہ جانے کیا سوچ کر اپنے پاس رکھ لیا
ایک دن
جب لڑکی صبح سو کر اٹھی تو دیکھا کہ
کہ لڑکا گھر میں نہیں تھا۔
وہ کچھ پریشان ہوئی لیکن اسے اس پر بے حد یقیں تھا۔
انتظار کرتے کرتے دوپہر اور پھر شام ہو گئی
اب وہ اکیلی ایک انجان شہر میں اس پہ ایک ایک منٹ سال بن کہ گزر رہا تھا۔
شام کے وقت دروازے پر دستک ہوئی
وہ بھاگتی ہوئی دروازے پہ پہنچی
لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہاں وہ لڑکا نہین بلکہ 4 5 عجیب سی شکل والے انسان کھڑے تھے
انھوں نے لڑکے کے لیے پوچھا
اس نے جواب دیا کہ گھر نہیں ہے کل آنا
تم کون ہو
لڑکی مین اسکی بیوی ہوں
جس پہ سب نہ قہقہ لگایا وہ
اس لڑکی پہ انتھائی گٹھیا باتیں کئے جا رہے تھے ۔
اخر پتا چلا کہ وہ ایک آوارہ لڑکا ہے
لڑکیوں سے پیار محبت کی باتیں کر کے انھین اپنے جال میں پھانس کہ
انھیں یا تو بیچ ڈالتا یا غلط کام پہ لگوا دیتا
اور اس نے کافی ماہ سے گھر کا کرایہ نہ دیا تھا۔
جسے وہ اپنا گھر بول رہا تھا
لڑکی خود کو ایک مچھلی کی طرح محسوس کر رہی تھی جسے پانی سے باہر نکال کہ چھوڑ دیا گیا ہو۔
اسے ایسے لگا جیسے قیامت شروع ہو گئ ہے کچھ دیر کے لیے وہ دوسری دنیا میں چلی گئ۔
جس کے لیے اسنے اپنے والدین کو چھوڑ دیا وہ درندہ صفت انسان ایسا نکلے گا۔
وہ رونے کے سوا کر بھی کیا سکتی تھی اسے تو یہ بھی پتا نہیں تھا کہ یہ شہر کونسا ہے
وہ ان لوگوں کے سامنے رونے لگی کہ اسے آج رات رہنے دیا جائے کل وہ یہاں سے چلی جائگی
جس پر ایک ایک حیوان کی شکل نما انسان نے اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ وہ رات کو پھر آیگا
پتا نہیں انکی کوئی ماں بہن نہیں تھی یا وہ لوگ عورت کو صرف طوائف کی نظر سے دیکتھے تھے
لیکن وہ صرف رو سکتی تھی
ان کے جانے کے ساتھ اس نے وہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا
جاتی بھی تو کہاں
اسے تو یہ بھی پتا نہیں تھا کہ یہ کون سی دنیا کونسا شہر ہے۔
لیکن پھر بھی گھر سے نکل پڑی اسے یاد آیا کہ اسکے پاس تو لڑکے کا گھر کا ایڈریس ہے۔
اسنے جلدی سے اسے نکالا اور لوگوں سے پوچھنے لگی
پتہ ملا لیکن وہاں تک جاتی کیسے۔
پیسہ تو تھے نہیں
اور جو پیسے اس پاس تھے وہ بہت کم تھے
رات ہونے والی تھی
لیکن اس سے زیادہ بھیانک رات اسکی زندگی میں آہ چکی تھی۔ اسنے ڈرائیور کو بولا کہ اتنے پیسے میں جہان تک لے جا سکتے ہو لے چلو
وہ سارے راستے میں روتی رہی اور دعا کرتی رہی کہ وہ گھر مل جائے۔
ڈرائیور نے اسے راستے میں اتار دیا۔
کسی سے پوچھنے پر پتا چلا کہ یہ روڈ اسی طرف جاتی ہے
سارا دن کی بھوکی اور ایک عورت
کتنی برداشت کر سکتی تھی
رو رو کہ اسکا برا حال ہو چکا تھا
چلتے چلتے وہ گر جاتی اور پھر حود ہی اٹھ کر چلنے لگتی
اخر ایک جگہ آہ کہ وہ ہمت ہار گئی
وہ وہیں پر گر پڑی
اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہ جہاں پہنچی تھی وہ کسی انسان کا در نہیں تھا بلکہ اللہ کا گھر تھا
مسجد کے امام صاحب باھر نکلے اور غصہ میں بولے کون ہو تم
یہ مسجد ہے
اور اس وقت کوئی نہیں ہے جو یہاں تمیھں کچھ خیرات دے
اسنے سر اوپر کیا
مولوی صاحب بھی شکل سے دیکھ کر پہچان گئے کہ کوئی مجبور ہے۔
مولوی صاحب نے پوچھا کہ کون ہو بیٹی
وہ کوئی جواب نہ دے سکی
پانی وغیرہ پینے کے بعد
اسکے منہ میں زبان آئی اور بتایا کہ فلاں جگہ جانا ہے
مولوی صاحب اسکی ایسی حالت دیکنھے کے بعد اسے اپنے گھر لے گئے
جہاں انکی بیوی اور بچے بھی تھے
رات گزرنے کے بعد
صبح کچھ پیسے بھی دیا اور گاڈی والے کو اس جگہ تک پہنچانے کو کہا
گاڑی والا اسی علاقے کا تھا شاید اسی لیے
وہ اسے اس گھر تک لے گیا
گھر کے اندر جاتے ہی اس نے ایک بزرگ کو دیکھا
اور جاتے ہی انکے پاؤں میں گر گئ
رو رو کہ صرف اسی کے بارے میں پوچھتی رہی
بابا جی اندر گے اور ایک احبار کا ٹکڑا لے آئے
جس پہ کچھ سال پہلے انھوں نے اسے عاق کر دیا تھا
اس کا ان سے اب کوئی تعلق نہیں تھا
نہ جانے کتنی دیر تک وہاں کھڑی روتی رہی
اس کو اپنی ماں یاد آ رہی تھی
جو اس کے ایک آنسوں پہ پاگل یو جاتی تھی
اپنا باپ یاد آ رہا تھا
جس کو یہ بول کر کہ وہ رو دے گی ہر بات منوا لیتی تھی
آج کسی کو اس کے رونے سے غرض نہیں تھی
وہ روتی چیحتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی
واپسی کا سفر کیا لیکن اسی امام مسجد کے گھر کا
وہاں سے ایک درگاہ پر چلی گئی جہاں اسنے اپنی ساری زندگی گزارنی تھی۔
ایک شہزادی کی طرح اپنے گھر میں رہنے والی لڑکی وہاں دو دو دن کا بچا کھانا کھانے پر مجبور تھی
لیکن کرتی بھی تو کیا کرتی
غلطی بھی تو اسکی اپنی تھی
نہ جانے ایسے ہی کتنا عرصہ بیت گیا
ایک دن اچانک اس سے کوئی ملنے آیا
وہ حیران تھی کہ اب اسکا کون ہے
اسنے باہر جا کہ دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں اسکا اپنا باپ تھا
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پاگلوں کی طرح اس سے لپٹ گئی
نہ جانے کتنی دیر تک اس سے لیپٹ کر روتی رہی۔
نہ کوئی شکوہ نہ گلہ دونوں طرف صرف آنسو تھے
کچھ دیر کہ لیے وہ بھول گئی تھی کہ اس کہ ساتھ کیا کیا ہوا
اس کے بوڑھے باپ کی داڑھی آنسو سے تر ہو گئ تھی۔
چلو بیٹی گھر چلو تمھاری ماں بہت روتی ہے تمھارے لیے۔
۔
۔
۔
یہ سب کچھ سناتے ہوئے آنٹی کی آنکھوں سے انسوں کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا
انھوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جاؤ یہاں سے جاؤ
اور میں باہر بیٹھ کر روتی اور سوچتی رہی کہ
یہ پیار کہ قصے آج سے نہیں ہمیشہ سے ایسے ہی رہے ہیں
نہ جانے اب وہ لڑکی کہاں اور کس حال میں ہو گی-

ایسے ہی کچھ حالات بھاگے ہوئے لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں بھگانے والے کا جب دل بھر جاتا ہے یا کوئی اور مل جاتا ہے تو پہلی کو چھٹی اب اگلی کی باری خا انتظار کرتے ہیں ۔

آجکل ایسے دردندہ صفت بھیڑیے ہر ملک شہر اور محلہ میں دستیاب ہیں جن کا صرف یہی مشن ہے..!!
!!!

مینا کماری ناز1933 - 1972 | ممبئی, ہندوستانفلم اداکارہ جنہیں ’ملکہ غم ‘ کہا جاتا ہے ۔ ’ تنہا چاند ‘ ان کا شعری مجموعہ ہے...
03/04/2021

مینا کماری ناز
1933 - 1972 | ممبئی, ہندوستان

فلم اداکارہ جنہیں ’ملکہ غم ‘ کہا جاتا ہے ۔ ’ تنہا چاند ‘ ان کا شعری مجموعہ ہے

خدا کے واسطے غم کو بھی تم نہ بہلاؤ
اسے تو رہنے دو میرا یہی تو میرا ہے

تاریخ پیدائش : 1۔ اگست 1932ء
تاریخ وفات : 31 مارچ 1972ء

مینا کماری کا اصل نام تو مہ جبیں تھا۔ اس کی پہلی فلم لیدر فیس کے بعد وجے بھٹ نے اس کا نام تبدیل کر دیا تھا اور اس کے لیے تین نام پربھا، کملا اور مینا چنے گئے اور آخر اسے مینا کا نام مل گیا۔ اور آٹھ سال بعد اپنی پہلی فلم میں وہ مینا کماری بن گئی۔ ویسے اس کا نک نیم منجو تھا۔ وہ تین بہنیں تھیں۔ اس کی ایک بہن کی شادی مشہور کامیڈین اداکار محمود سے ہوئی تھی۔ مینا نے چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے فلموں میں کام کرنا شروع کیا تھا اور یہ فنی سفر طے کرتے ہوئے اپنے آخری لمحات تک انڈین فلم انڈسٹری کو دئیے۔ اس کو چالیس سال میں وہ بے پناہ کامیابی، عزت اور شہرت ملی جسں تک پہنچنا کسی اداکارہ کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ یہ پہلی اداکارہ تھی جس نے پہلا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیا۔ اور یہ ایوارڈ اسے فلم بیجو باوارا پر ملا تھا۔ بیجو باورا ہی وہ پہلی فلم تھی جس نے مینا کو شہرت اور پہچان دی-
مینا کماری کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ مرزا غالب کی شاعری کی بہت بڑی فین تھیں۔ اور اس کے پاس غالب کا سارا کلام موجود تھا۔ اس کی اپنی ایک اچھی خاصی لائبریری اور کولیکشن موجود تھی۔ فلم بے نظیر کے سیٹ پر مشہور ڈائریکٹر بمل رائے کے اسسٹنٹ نے مینا کماری کو رائٹر اور شاعرگلزار سے ملایا اور یہاں سے اس کی زندگی میں اک نیا باب شروع ہوا شاعری کا، اور وہ خود بھی شعر کہنے لگی۔ ناز اس کا تخلص تھا۔ زندگی میں عزت، دولت، شہرت سب کچھ اسکے پاس تھا۔ لیکن بعض دفعہ انسان پھر بھی تشنہ رہ جاتا ہے۔ یہ بات مینا کماری پر صادق آئی۔ جہاں اس کی پروفیشنل زندگی میں سب کچھ اچھا چل رہا تھا وہیں اس کی ذاتی زندگی اتنی ہی ڈسٹرب تھی۔ پہلے وہ کمال امروہی کی دوسری بیوی بنی۔ پھر وہ چاہتے ہوئے بھی ماں نہ بن پائی۔ ان دنوں وہ عروج پر تھی۔ جب میاں بیوی میں کچھ ان بن ہوئی۔ جسے بد خواہوں نے ہوا دی اور میاں بیوی میں دوری ہوئی۔ یہ جدائی اور زخم اس نے اپنے دل پر لیے۔ میں جب بھی مینا جی کی لکھی شاعری پڑھتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے یہ ان کے ٹوٹے دل کی کرچیاں ہیں۔ جو غزل اور نظم کی صورت کاغذ پر پھیلی ہیں۔ دکھ اور غموں نے جیسے اسے مات دے دی ۔ اور اس کے اندر کی شاعرہ بیدار ہو گئی تھی۔
ہم سے کہاں بھول ہوئی
اے وقت سنبھال مجھے
اوراک بدن نے اپنی روح کو تیاگ دیا
یہ بھی نہ سوچا بدن تڑپتا رہے گا
اور
ٹکڑے ٹکڑے دن بیتا دھجی دھجی رات ملی
جس کا جتنا دامن تھا اتنی ہی سوغات ملی
جب چاہا دل کو سمجھانا ہنسنے کی آواز ملی
جیسے کوئی کہتا ہو لو پھر تم کو مات ملی
دل سا جب ساتھی پایا بے چینی بھی ساتھ ملی

۔ اداکار پردیپ کمار نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ موتی برستے تھے جب وہ بولتی تھی۔ الفاظ ترستے تھے کہ مینا کماری انھیں اپنے ہونٹوں سے ادا کرے۔مینا کماری کے بعد بہت سی اداکارئیں آئیں اور انھوں نے اس جیسا بننا چاہا لیکن بن نہ پائیں۔ سو وہ ایک ہی مینا کماری تھی اور اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکے گا۔ زندگی سے کافی کچھ پا کر بھی وہ اس بات کی تفسیر بن گئی۔
عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم
یہ منزلیں ہیں کونسی نہ وہ سمجھ سکے نہ ہم
وہ ایک بہت بڑی اداکارہ تھی فلمی صنعت کے آکاش پر ایک چاند کی طرح اس کی جگمگاہٹ محسوس ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ایک ایسی شاعرہ ، جس کے درد بھرے ٹوٹے دل سے صدائیں نکلتی تھیں

بحوالہ ریختہ-کام
منتخب کلام

عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے
..................

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا

24/07/2020

پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا
پردیسیوں کو ہے اک دن جانا

آتی ہے جب یہ رت مستانی
بنتی ہے کوئی نہ کوئی کہانی
اب کے برس دیکھیں بنے کیا فسانہ
سچ ہی کہہ رہا ہے پنچھی ان کو
رات کو ٹھہریں تو اڑ جائیں دن کو
آج یہاں کل وہاں ہے ٹھکانہ

باغوں میں جب جب پھول کھلیں گے
تب تب یہ ہرجائی ملیں گے
گزرے گا کیسے پت جھڑ کا زمانہ
پردیسیوں سے نہ انکھیاں ملانا
پردیسیوں کو ہے ایک دن جانا

نغمہ نگار:آنند بخشی

21/07/2020

دل کےارماں آنسوؤں میں بہہ گئے،
ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے
زندگی ایک پیاس بن کر رہ گئی
پیار کے قصے ادھورے رہ گئے
شاید ان کا آخری ہو یہ ستم
ہرستم ہم سوچ کے یہ سہہ گئے
دل کےارماں آنسوؤں میں بہہ گئے،
ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے

19/07/2020

اگر مجھ سے محبت ہے مجھے سب اپنے غم دے دو
ان آنکھوں کا ہر ایک آنسو مجھے میری قسم دے دو
تمہارے غم کو اپنا غم بنا لوں تو قرار آئے
تمہارا درد سینے میں چھپا لوں تو قرار آئے

شریک زندگی کو کیوں شریک غم نہیں کرتے
دکھوں کو بانٹ کر کیوں ان دکھوں کو کم نہیں کرتے
تڑپ اس دل کی تھوڑی سی مجھے میرے صنم دے دو

ان آنکھوں میں نہ اب مجھ کو کبھی آنسو نظر آئیں
اے سدا ہنستی رہیں آنکھیں سدا یہ ہونٹ مسکائیں
مجھے اپنی سبھی آہیں سبھی درد و الم دے دو
اگر مجھ سے محبت ہے مجھے سب اپنے غم دے دو

11/07/2020

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو
لگ جا گلے کہ پھر حسیں رات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو

ہم کو ملی ہیں آج یہ گھڑیاں نصیب سے
جی بھر کے دیکھ لیجیے ہم کو قریب سے
پھر آپ کے نصیب میں یہ بات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو

پاس آئیے کہ ہم نہیں آئیں گے بار بار
باہیں گلے میں ڈال کے ہم رولیں زار زار
آنکھوں سے پھر یہ پیار کی برسات ہو نہ ہو
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات ہو نہ
شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو

06/07/2020

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

پتھروں آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے تو تم کو کبھی اپنا خدا رکھا ہے

اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

اب میری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے

غم نہیں گل جو کئے گھر کے ہواؤں نے چراغ
ہم نے دل کا بھی دیا ایک جلا رکھا ہے

پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کے ناصر
غم کے سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے

Address

Mumbai. . . Thane. . Bhiwandi
Bhiwandi

Telephone

+919923079786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Academy For Arts & Culture Maharastra-اکیڈمی فار آرٹس اینڈ کلچر مہاراشٹر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Academy For Arts & Culture Maharastra-اکیڈمی فار آرٹس اینڈ کلچر مہاراشٹر:

Shortcuts

Share

Category