Tafseer e Quran

Tafseer e Quran Siddique momin Tawheedi Noori

26/10/2022

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْبَحْرِ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ)

*ترجمہ:* حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے (پانی کے) متعلق (ایک شخص کے استفسار کے جواب میں) فرمایا: ’’اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔‘‘

*راوی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں:* آپ وہ جلیل القدر صحابی ٔ رسول ہیں جن سے سب سے زیادہ احادیث نبویہ ہم تک پہنچی ہیں۔ صاحب ’’الاستیعاب‘‘ کی رائے کے مطابق ان کا نام عبداللہ یا عبدالرحمن تھا۔ قبیلہ ٔدوس سے تھے۔ خیبر والے سال ۶ ہجری میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ ۷۸ سال کی عمر پائی اور ۵۹ ہجری میں اس دنیائے فانی سے کوچ کیا اور مدینہ منورہ کے بقیع الغرقد (جنت البقیع) نامی قبرستان میں دفن کیے گئے۔ حضرتعمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں مفتی کے فرائض انجام دیتے رہے اور مروان کی جانب سے مدینے کے گورنر بھی رہے۔ ان سے کم و بیش (۵۳۸۴) احادیث مروی ہیں اور ان سے احادیث بیان کرنے والوں کی تعداد (۸۰۰) سے زائد ہے۔

25/10/2022

*کتَابُ الطَّھَارَۃِ*
طہارت (پاکیزگی) کی کتاب
*بَابُ الْمِيَاهِ*
پانی کا باب
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي الْبَحْرِ: ((هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ)

*کتاب کا لغوی معنی:* جمع ہونا۔
*کتاب کی اصطلاحی تعریف:* اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں ایک ہی قسم کے مسائل کو ذکر کیا گیا ہو۔

*طہارت کا لغوی معنی:* پاکیزگی
*طہارت کی شرعی تعریف* : گندگی سے پاک و صاف رہنا۔
*طہارت کی قسمیں:* طہارت کی دو قسمیں ہیں: 1) طہارت صغری جیسے وضو 2) طہارت کبری جیسے غسل

*باب کا لغوی معنی:* دروازہ
*باب کی اصطلاحی تعریف:* اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے مسائل کو ذکر کیا گیا ہو۔

*الْمِيَاهِ* یہ مَاءٌ کی جمع ہے جس کا معنی پانی ہے۔ پانی گندہ بھی ہوتا ہے اور صاف بھی ہوتا ہے اس لئےالْمِيَاهِ جمع لایا گیا ہے۔

25/10/2022

اَلزَّانِىۡ لَا يَنۡكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوۡ مُشۡرِكَةً وَّ الزَّانِيَةُ لَا يَنۡكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوۡ مُشۡرِكٌ‌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰ لِكَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞
ترجمہ:
زانی نکاح نہیں کرتا مگر کسی زانی عورت سے، یا کسی مشرک عورت سے، اور زانی عورت، اس سے نکاح نہیں کرتا مگر کوئی زانی یا مشرک۔ اور یہ کام ایمان والوں پر حرام کردیا گیا ہے۔
اَلزَّانِیۡ-زانی مرد
لَایَنۡکِحُ-نہیں نکاح کرتا
اِلَّا-مگر
زَانِیَۃً-زانیہ عورت سے
اَوۡ-یا
مُشۡرِکَۃً-مشرکہ عورت سے
وَّالزَّانِیَۃُ-اور زانیہ عورت
لَایَنۡکِحُہَاۤ-نہیں نکاح کرتا اس سے
اِلَّا-مگر
زَانٍ-زانی مرد
اَوۡ-یا
مُشۡرِکٌ-مشرک مرد
وَحُرِّمَ- اور حرام کردیا گیا
ذٰلِکَ-یہ
عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ-مومنوں پر
تشریح:
1- اکثر یہ ہی ہوتا ہے کہ زانی مرد اپنے ہی جیسی زانیہ عورت سے نکاح کی رغبت رکھتا ہے اسی طرح زانیہ عورت اپنے ہی جیسے زانی مرد سے نکاح کی رغبت رکھتی ہے
2- زنا جیسے قبیح فعل میں ملوث لوگوں سے نکاح یا تو انھی جیسا بدکار کرتا ہے یا تو مشرک یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس ایت میں زانی(Raper) اور مشرک کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے اس لیے کہ زانی اور مشرک میں ایک چیز مشترک ہے زانی حلال اور صحیح جگہ اپنی خواہشات پوری کرنے کی بجائے ہر ایک چوکھٹ پر منہ مارتا پھرتا ہے اسی طرح مشرک بھی ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کے در کو چھوڑ کر ہر ایک در پر پیشانی خم کرتا رہتا ہے۔
3-آیت کے آخر میں رب ذوالجلال نے فرمایا: یہ مومنوں پر حرام ہے یعنی کوئی مومن شخص اس عورت سے نکاح نا کرے جس کے بارے میں اسے علم ہو کہ یہ فاحشہ و بدکار عورت ہے
اسی طرح کسی شخص کے تعلق سے یہ علم ہو کہ وہ بدکردار ہے تو لڑکی کے سرپرستوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کریں
4- مومنین اور مشرکین و کافرین کے درمیان نکاح حرام ہے

Address

Bhiwandi
Bhiwandi
BHIWANDI

Telephone

+917276532725

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tafseer e Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Tafseer e Quran:

Shortcuts

Share