03/06/2025
آج 03 جون
اردو تنقید کے بانیوں میں نمایاں، عظیم مورخ، عالم دین، سیاسی مفکر اور فارسی شاعر، اپنی تنقیدی کتاب’ شعرُ العجم‘ کے لئے مشہور” علّامہ شبلیؔ نعمانیؒ “ کا یومِ ولادت ہے
نام محمد شبلی تخلص شبلی وہ موضوع بنڈول ضلع اعظم گڑھ میں 3؍جون 1857ء کو پیدا ہوئے ۔مولانا شبلی نے بڑے بڑے فاضل استادوں سے تعلیم پائی کئی سال تک علی گڑھ کالج میں پروفیسر رہے ممالک اسلامیہ کی سیاحت کی اور اپنا سفرنامہ قلمبند کیا انگریزی گورنمنٹ سے شمس العلما کا خطاب پایا ندوۃ العلما کو قائم کیا " ندوۃ المصنفین“ انہی کی یادگار میں قائم کیاگیا ہے جس نے اسلامی تاریخ اور ثقافت کے متعلق نہایت اہم اور نہایت قابل قدر کتابیں شائع کی ہیں ، شعرالعجم پانچ جلدوں میں فارسی شاعروں کی مبسوط تاریخ ہے الماموں، سیرۃ النعمان ،سوانح مولانا روم الغزالی وغیرہ ، مولانا شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کےاصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سےانہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھا آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنےعہد کے اعلیٰ ترین درسگاہوں میں ہوئی 1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابرین کی صحبت میسر آئی ، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیاشبلی نسلا" راجپوت تھے ان کے والد اعظم گڑھ کے نامور وکیل ،بڑے زمیندار اور نیل شکر کے تاجر تھے شبلی کو انھوں نے دینی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا شبلی نے اپنے وقت کے جیّد علماء سے فارسی عربی حدیث فقہ اور دیگر اسلامی علوم حاصل کئے تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا نے کچھ دنوں قرق امین کے طور پر ملازمت کی پھر وکالت کا امتحان دیاجس میں وہ کامیاب ہوئے کچھ دنوں مختلف مقامات پر وکالت کرنے کے بعد مولانا کو علی گڑھ میں سرسید کے کالج میں عربی اور فارسی کے معلم کی نوکری مل گئی یہیں سے شبلی کی کامیابیوں کا سفر شروع ہوا علی گڑھ ملازمت کے دوران ہی مولانا نے ترکی شام اور مصر کا سفر کیا ترکی میں سر سید کے رفیق اور عربی و فارسی کے اسکالر کے طور پر ان کی بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ عطیہ فیضی کے والد حسن آفندی کی سفارش پر، کہ وہ وہ سلطان عبد الحمید کے دربار میں خاصا رسوخ رکھتے تھے، ان کو "تمغہ ء مجیدیہ" سے نوازا گیا واپسی پر انھوں نے المامون اور سیرت نعمان لکھیں 1890ء میں شبلی نے ایک بار پھر ترکی، لبنان اور فلسطین کا دورہ کیااور وہاں کے کتب خانے دیکھےاس سفر سے واپسی پر انھوں نے "الفاروق" لکھی 1898ء میں سر سید کے انتقال کے بعد شبلی نے علی گڑھ چھوڑ دیا اور اعظم گڑھ واپس آکر اپنے قائم کردہ "نیشنل اسکول" ( جو اب شبلی کالج ہے) کی ترقی میں مصروف ہو گئے بعد ازاں وہ حیدراباد دکن چلے گئے، جہاں چار سالہ قیام میں انھوں نے الغزالی، علم الکلام، الکلام، سوانح عمری مولانا روم، اور موازنہء انیس و دبیر لکھیں اس کے بعد وہ لکھنؤآگئے جہاں انھوں نے ندوہ العلماء کے تعلیمی معاملات سنبھالے ندوہ کی مصروفیا ت کے درمیان ہی انھوں نے شعر العجم لکھی 1907 میں گھر میں بھری بندوق اچانک چل جانے سے وہ اپنا اک پیر گنوا بیٹھے اور لکڑی کے پیر کے ساتھ باقی زندگی گزاری مولانا نے دو شادیاں کیں پہلی شادی کم عمری میں ہی ہو گئئ تھی پہلی بیوی کا 1895 میں انتقال ہو گیا 1900ء میں 43 سال کی عمر میں انھوں نے ایک کمسن لڑکی سے دوسری شادی کی، جس کا 1905ء میں انتقال ہو گیا شبلی کا خواب تھا کہ بڑے بڑے علماء کو جمع کر کے علمی تحقیق و اشاعت کا اک ادارہ "دار المصنفین" کے نام سے قائم کیا جاے انھوں نے اس کا انتظام پورا کر لیا تھا لیکن ادارہ کا افتتاح ان کی موت کے بعد ہی ہو سکا مولانا کی بعض سرگرمیوں کی وجہ سے ندوہ میں ان کی مخالفت بڑھ گئی تھی آخر ان کو اس ادارے سے، جس کی ترقی کے لئے انھوں نے بڑی محنت کی تھی، الگ ہونا پڑا اور وہ آعظم گڑھ آکر اسکول اور زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گئے یہاں اکر ان کی صحت گرنے لگی شبلی نعمانی اک فعّال اور محنتی شخصیت تھے جس کام میں ہاتھ ڈالتے پوری محنت اور لگن سے اسے پایہء تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتے اپنی علمیت و شہرت کی بدولت ان کی رسائی اس وقت کی بہت سی ریاستوں کے مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں تک تھی ، جن سے ان کو اپنے علمی وعملی منصوبوں کے لئے مدد ملتی رہتی تھی شبلی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروںمیں ہوتا ہے انھوں نے اپنے تنقیدی نظریات کو اپنی دو لاجواب کتابوں" شعرالعجم "اور" موازنہ ء انیس و دبیر "میں جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے شبلی نعمانی ان لوگوں میں تھے جو سر سیّد احمد خاں کےاثر اور فیضِ صحبت کی بدولت مولویت کے محدود اور تنگ دائرہ سے نکل کرادب کے وسیع میدان میں آئے سرسید کے بعض خیالات سے انہیں اختلاف بھی رہا انھوں نے اردو زبان میں اسلامی تاریخ کا صحیح ذوق پھیلایا تاریخ میں انھوں نے اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیتوں کے حالات زندگی قلم بند کرنے کا اک سلسلہ شروع کیا، جس میں متعدد نامور اسلاف نمایاں ہیں شبلی شاعر اوراعلیٰ درجہ کے سخن شناس و نقّاد تھے اور انھیں اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں شمار کیاجاتا ہے علی گڑھ کے قیام کےدوران شبلی نے پروفیسر آرنلڈ سے بھی فیض حاصل کیا اور ان کے توسط سے مغربی تہذیب اور اسکے معاشرتی آداب سے واقف ہوئے شبلی نے اس تہذیب و معاشرت کے محاسن کا اعتراف کیا اور مشرقی تہذیب کے ساتھ اس کی آمیزش بھی کی اس آمیزش نے قدامت پسندوں کو ان سے بدظن کردیاحتی کہ انھیں ندوہ سے بھی نکلنا پڑا وہ مغرب زدہ حلقوں میں بغیر کسی احساسِ کمتری کے شریک ہوتے تھے اونچے طبقہ کی سوسائٹی میں وہ کہیں سے بیگانے نہیں لگتے تھے ان اونچے خاندانوں کی بعض لیڈیاں نہائت شائستہ، قابل اور ادب کی دلدادہ تھیں،ان ہی میں ایک عظیہ فیضی تھیں جن پر مولانا ہزار جان سے لٹّو تھے ان کے اس یک طرفہ عشق نےان سے نہایت گرم شاعری کرائی مولانا کو اپنی نجی زندگی پر پردے ڈالنے اور پبلک لائف میں دنیاداری کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کا ہنر خوب آتا تھا اسے لئے ان کی گرما گرم عشقیہ شاعری فارسی میں ہے جو عوام کی نظر سے کم ہی گزرتی ہے اردو میں انھوں نے عموما قومی اور سیاسی شاعری کی ہےان کی فارسی شاعری کے بارے میں حالی نے کہا: کوئی کیونکر مان سکتا ہے کہ یہ اس شخص کا کلام ہے ،جس نے سیرت نعمان، الفاروق اور سوانح مولانا روم جیسی مقدس کتابیں لکھی ہیں، غزلیں کاہے کو ہیں، شراب دو آتشہ ہے، جس کے نشہ میں خمار چشم ساقی بھی ملا ہوا ہے غزلیات حافظ کا جو حصہ رندی اور بے باکی کے مضامین پر مشتمل ہے، ممکن ہے کہ اس کے الفاظ میں زیادہ دلربائی ہو مگر خیالات کے لحاظ سے یہ غزلیں بہت زیادہ گرم ہیں" مولانا صرف عطیہ فیضی پر ہی نہیں جان چھڑکتے تھے بلکہ ان کے کچھ اور بھی محبوب تھے۔ جن میں اس وقت اٹھارہ انیس سال کے مولانا ابو اکلام آزاد اور ایک نامعلوم مدراسی خاتون بھی شامل تھیں ڈاکٹر وحید قریشی اپنی کتاب "شبلی کی حیات ِ معاشقہ"میں لکھتے ہیں
"مولانا کی دوہری محبت بڑی مرکّب سی ہے ندوہ کی سرگرمیوں کے ساتھ ابو الکلام میں دلچسپی اور پھر عطیہ بیگم سے لگاؤ ایک طرف انھیں ندوہ عزیز ہے تو دوسری طرف عطیہ لیکن آپ دونوں کو ساتھ لے کر چلناچاہتے ہیں ایک طرف ان کے اشعار میں جنسیتت کی بُو آتی ہے تو دوسری طرف وہ عطیہ کے ساتھ جا نماز کا تعلق پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں" مولانا شبلی نعمانی کا بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے ان کی زندگی کا حاصل اور کارِ عظیم ان کی تصنیف "سیرت النبی" ہے اس معرکتہ الآرا کتاب کی تکمیل ان کے انتقال کے بعد ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے کی شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں "شعر العجم" ، "الفاروق" ، "سیرت النعمان" ، "موازنۂ انیس و ادبیر" اور "الغزالی" کے نام سرفہرست ہیں مولانا شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انگریز سرکار نے ان کو شمس العلماء کا خطاب دیا تھا ان کے قائم کردہ ادارے شبلی کالج اور دار المصنفین آج بھی علم و تحقیق کے کاموں میں مصروف ہیں اردوزبان شبلی کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی اسلامی تمدن و تہذیب کے متعلق جس قدر بلند پایہ مضامین انہوں نے لکھے وہ رہتی دنیا تک مولانا کے نام کو زندہ رکھیں گے نظم شبلی ان کی نظموں کا مختصر سا مجموعہ ہے ، سب سے آخری تصنیف سیرۃ النبیﷺ ہے جو ان کا شاہکار سمجھی جاتی ہے، آپکا 18؍نومبر 1914ء کو انتقال ہوا
***************************************
عظیم مورخ اردو تنقید کے بانیوں میں نمایاں، عالم دین، سیاسی مفکر اوراردو و فارسی کے شاعر، اپنی تنقیدی کتاب’ شعرُ العجم‘ کے لئے مشہور” علّامہ شبلیؔ نعمانیؒ صاحب “ کے یومِ ولادت پر انکا منتخب کلام بطور خراجِ عقیدت پیش ہے
آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
حال دل دیکھئے اظہار نہ ہونے پائے
میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا
عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے
تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو
جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے
فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا
آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے
تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو
جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے
عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے
فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا
میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا
دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
جادہ راہِ بیاباں رہ گیا.......!
کچھ اکیلی نہیں میری قسمت
غم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہے
پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا
رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا
ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کو
غم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کو
یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے
گل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائے
تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیا
جائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیا
تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں
واعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں
اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کا
گئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کا
پوچھتے کیا ہو جو حال شبِ تنہائی تھا
رُخصتِ صبر تھی یا ترکِ شکیبائی تھا
تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں
واعظِ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں
پھینک دینے کی کوئی چیز نہیں فضل و کمال
ورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں
اے نکیرین قیامت ہی پہ رکھو پرسش
میں ذرا عمرِ گذشتہ کی تلافی کر لوں
کچھ تو ہو چارۂ غم بات تو یک سُو ہو جائے
تم خفا ہو تو اجل ہی کو میں راضی کر لوں
اور پھر کس کو پسند آئے گا ویرانۂ دل
غم سے مانا بھی کہ اس گھر کو میں خالی کر لوں
جورِ گردوں سے جو مرنے کی بھی فرصت مل جائے
امتحانِ دمِ جاں پرورِ عیسیٰ کر لوں
دل ہی ملتا نہیں سفلوں سے وگرنہ شبلیؔ
خوب گذرے فلکِ دوں سے جو یاری کر لوں۔۔۔!!
پوچھتے کیا ہو جو حال شبِ تنہائی تھا
رُخصتِ صبر تھی یا ترکِ شکیبائی تھا
شب فرقت میں دل غمزدہ بھی پاس نہ تھا
وہ بھی کیا رات تھی کیا عالم تنہائی تھا
میں تھا یا دیدۂ خوننابہ فشانی شبِ ہجر
ان کو واں مشغلۂ انجمن آرائی تھا
پارہ ہائے دلِ خونیں کی طلب تھی پیہم
شب جو آنکھوں میں مری ذوقِ خود آرائی تھا
رحم تو ایک طرف پایہ شناسی دیکھو
قیس کو کہتے ہیں مجنون تھا صحرائی تھا
آنکھیں قاتل سہی پر زندہ جو کرنا ہوتا
لب پہ اے جان تو اعجازِ مسیحائی تھا
خون رو رو دیے بس دو ہی قدم میں چھالے
یاں وہی حوصلۂ بادیہ پیمائی تھا
دشمنِ جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج
اور ادھر ایک اکیلا ترا شیدائی تھا
انگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رُخِ پیہم
جس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا
کون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقشِ قدم
چشمِ عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا
خوب وقت آئے نکیرین جزا دے گا خدا
لحد تیرہ میں بھی کیا عالمِ تنہائی تھا
ہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی
یوں تو ظاہر میں مقدس تھا پہ شیدائی تھا
یار کو رغبتِ اغیار نہ ہونے پائے
گُلِ تر کو ہوسِ خار نہ ہونے پائے
اس میں در پردہ سمجھتے ہیں وہ اپنا ہی گلہ
شکوۂ چرخ بھی زنہار نہ ہونے پائے
فتنۂ حشر جو آنا تو دبے پاؤں ذرا
بخت خفتہ مرا بیدار نہ ہونے پائے
ہائے دل کھول کے کچھ کہہ نہ سکے سوز دروں
آبلے ہم سخن خار نہ ہونے پائے
باغ کی سیر کو جاتے تو ہو پر یاد رہے
سبزہ بیگانہ ہے دو چار نہ ہونے پائے
جمع کر لیجئے غمزوں کو مگر خوبئ بزم
بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے
بشکریہ ۔۔سید نوید جعفری
18/11/2023
07/11/2023
23/10/2023
29/09/2023
14/09/2023
24/08/2023
15/08/2023
15/08/2023
12/08/2023
07/08/2023
31/07/2023