25/08/2026
احمد رضا خان کا مسلک
احمد رضا خان (1856–1921) نے اپنے آپ کو اہلِ سنت و جماعت سے منسوب کیا۔ بعد میں ان سے وابستہ علمی و مذہبی روایت کو عام طور پر بریلوی مکتبِ فکر کہا جانے لگا، کیونکہ ان کا تعلق بریلی سے تھا۔
ان کے نمایاں عقائد میں:
1. توحید: عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جائے اور اللہ کو واحد معبود مانا جائے۔
2. رسالت: حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں؛ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
3. تعظیمِ رسول ﷺ: احمد رضا خان کے ہاں نبی ﷺ کی عظمت، ادب اور محبت کو بہت بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
4. اولیاء اللہ: وہ اولیاء اور صالحین کے مقام و کرامات کے قائل تھے اور ان سے متعلق بعض روایتی تصورات کی حمایت کرتے تھے۔
5. توسل و شفاعت: وہ نبی ﷺ اور اولیاء کے وسیلے اور شفاعت کے بعض طریقوں کو جائز سمجھتے تھے، جبکہ مخالف مکاتبِ فکر ان میں سے بعض امور پر اعتراض کرتے ہیں۔
6. میلاد النبی ﷺ: وہ میلادِ رسول ﷺ کے انعقاد کے قائل تھے، البتہ اس میں ناجائز امور کو درست نہیں سمجھتے تھے۔
7. مذہبی نسبت: ان کی فقہی وابستگی حنفی تھی اور عقائد کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو ماتریدی روایت سے وابستہ سمجھتے تھے۔
8. بدعت: وہ بدعت کو ایک ہی حکم میں نہیں رکھتے تھے بلکہ بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ کی تفریق کرتے تھے۔
اہم بات: "بریلوی" نام احمد رضا خان نے بطور الگ نیا مذہبی فرقہ قائم کرنے کے لیے اختیار نہیں کیا تھا؛ ان کے پیروکاروں کی نسبت بعد میں بریلوی مکتبِ فکر کے نام سے مشہور ہوئی۔
۔