03/07/2025
This is reality of life
i am student of b.Ed
03/07/2025
This is reality of life
03/07/2025
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے
رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سوجاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور
کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے
دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے
کبھی اُس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے
اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے
ناصر کاظمی
Top Fans
*ہر دفعہ آپ کو اپنا غم بانٹنے کے لیے کاندھا میسر نہیں ہوتا*
*۔ لیکن سجدہ کرنے کے لیے زمین ہر وقت میّسر ہے۔*
*اور آپ اپنا دُکھ اپنے رَبِ کریم سے ہر وقت بانٹ سکتے ہیں۔ یہ سہارا سب سہاروں سے بڑا سہارا ہے*✨♥️
جو لوگ زندگی میں خسارے برداشت کرنے کے عادی ہو جائیں 💔 نا اُن کے لیئے اپنی قیمتی چیزوں اور بےپناہ محبت سے بنائے گئے رشتوں سے دستبردار ہونا بہت آسان ہو جاتا ہے 💔🫣
اور یہ ہنر بہت دُکھ درد سہنے کے بعد آتا ہے... 💔😛
" تُجھ کو اے شخص! کبھی زیست کی تنہائی میں🥀🙂
یاد آئیں گے ہم عجلت میں گنوائے ہُوئے لوگ ۔ 🙂🥀
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں
صبح بخیر
قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے اپنی مصروفیات کے ختم ہونے کا انتظار مت کریں۔۔ یاد رکھیں! یہ مصروفیات آخری سانس تک آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گی۔ابھی قرآن کی طرف پلٹیے...! 🌸
*O Allah*, *O Most Compassionate, O Most Merciful, O Most Generous*, These are Your blessings that You have bestowed upon me, though I am heedless of Your remembrance. And Your trials, which are also Your blessings. Do not deprive me of Your mercy. My footsteps are bound by Your will. *The Creator and the Sovereign*, If You were to ask me about the state of my life, I would say that I am at the mercy of Your will, experiencing every hardship, anxiety, and illness, and every distress and need, yet securing and protecting myself and my affairs. Protect and preserve. *Amen, O Lord of the Universe*
*دلوں کو نرم کرنا!*
Softening the hearts
"سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰهﷺ نے فرمایا:
اللّٰه تعالٰی جب کسی بندے کے لیے خیر چاہتے ہیں اس سے کام لیتے ہیں،پوچھا گیا کس طرح کام لیتے ہیں؟
آپﷺ نے فرمایا: موت سے پہلے اسکو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں۔"
رواہ ابن حبان،کتاب البرو الاحسان:341
🥀 *اتنی مصروف زندگی میں کبھی رک کر اپنی موت کو یاد کیا؟* ارد گرد لوگوں کی وفات کے موقع پر تو ہمیں اپنے وقت کو یاد کر ہی لینا چاہئے۔
👈🏻اچھے اعمال کرنے کیلئے کسی اچھے وقتوں کے انتظار میں نہ رہیں۔ نہ جانے کب میری مہلت بھی ختم ہو جائے۔ *اللہ سے اپنا معاملہ ایسے صاف رکھئے کہ اسکے ہاں جوابدہی کر سکیں۔*
🌷🌷🌷
صبح بخیر
05/10/2024
Kiya opinion hai
*اچھے لوگوں کی صحبت میں رہ کر ایک عام انسان بھی خاص بن جاتا ہے جیسے کہ پھولوں کی مالا میں رہ کر دھاگا بھی خوشبوں دینے لگتا ہے♥︎*
_خوش رہیں خوشیاں بانٹیں 🥰_
اللہ کے سواد نیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں جو انسان سے کچھ چھین لے یا عطاء کر دے، تم جو چاہتے ہو اللہ سے مانگو اللہ ہی دے گا اور ضرور دے گا۔ ان شا اللہ
خوشیاں بانٹیں خوش رہیں
شب بخیر
*سوال کا جواب دینا سیکھے*
*ضرور پڑھے*👇🏻
*بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سےپوچھا شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ہیں؟*
کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا، لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ہاتھ سے کھانا، خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا، اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ہاتھ دھونا۔
بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ہو اور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وہا ں سے اٹھ کر آگے چل دیئے۔
شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا، سرکار وہ دیوانہ ہے لیکن شیخ صاحب پھر وہاں پہنچے پھر سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ہو؟ کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ہوں گے۔
جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔ بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن" جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔
شیخ صاحب پھر وہاں جا پہنچے سلام کیا۔
بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وہی سوال کیا کون ہو؟
شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ہی بتا دیں؟
کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ہوئے ہیں۔ بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ہی چاہتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ہے۔
بہلول نے کہا جو آداب آپ بتا رہے ہيں وہ فرع ہیں اور اصل کچھ اور ہے، اصل یہ ہے کہ جو کھا رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ہی لائےگا نور و ہدایت نہیں، شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ۔
بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ہے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیھودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا۔
سونے میں اصل یہ ہے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رہے، دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رہے،کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رہے...!