Irshad Ahmad Rabbani Alig

Call Website Contact the school

Irshad Ahmad Rabbani Alig Education, management, polisoci health, Environment, and all related topics to human being

Happy independence day
15/08/2026

Happy independence day


27/05/2026
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،        🌹 في هذه الساعات المقدسة والمبهجة من عيد الأضحى، أتقدم إليكم وإلى عائلتكم بأصدق ...
27/05/2026

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،
🌹 في هذه الساعات المقدسة والمبهجة من عيد الأضحى، أتقدم إليكم وإلى عائلتكم بأصدق التهاني من أعماق قلبي.
🌹 نسأل الله أن يبعث هذا اليوم المبارك برسالة فرح وبركة ومحبة ورحمة وأمن وسلام في حياتكم. أن يمنح الله قلبكم الطمأنينة، ويملأ حياتكم بالراحة، ويجعل كل لحظة مشرقة بالسعادة والنجاح. كما نسأل الله أن يتقبل أضحيتكم في هذا اليوم المقدس، وكل دعاء، وكل عمل صالح، وأن يأجركم الله خير الجزاء.
🌹 عيد الأضحى لكم يوم سعيد و مبارك 🌹. أخوكم في الله.
#عيدالأضحى #عيد

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!   🌹 في هذه الساعات المقدسة والمبهجة من عيد الأضحى، أتقدم إليكم وإلى عائلتكم بأصدق التها...
27/05/2026

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!
🌹 في هذه الساعات المقدسة والمبهجة من عيد الأضحى، أتقدم إليكم وإلى عائلتكم بأصدق التهاني من أعماق قلبي.
🌹 نسأل الله أن يبعث هذا اليوم المبارك برسالة فرح وبركة ومحبة ورحمة وأمن وسلام في حياتكم. أن يمنح الله قلبكم الطمأنينة، ويملأ حياتكم بالراحة، ويجعل كل لحظة مشرقة بالسعادة والنجاح. كما نسأل الله أن يتقبل أضحيتكم في هذا اليوم المقدس، وكل دعاء، وكل عمل صالح، وأن يأجركم الله خير الجزاء. 🌹 يوم عيدالأضحى لكم يوم سعيد ومبارك.
🌹أخوكم في الله!
أبُو مُحَمَّدَیْن اِرشادْ اَحمدْ رَبَّانِی عَلِیْگ،
نئی دِهلِيْ۔

السلام عليكم ورحمة اللّٰه و بركاته!      🌹 On the sacred and joyful occasion of Eid al-Adha, I extend my heartfelt congr...
27/05/2026

السلام عليكم ورحمة اللّٰه و بركاته!
🌹 On the sacred and joyful occasion of Eid al-Adha, I extend my heartfelt congratulations to you and your family from the bottom of my heart.
🌹 I pray that this blessed day brings a message of joy, blessings, love, mercy, peace, and security into your life. May Allah grant peace to your heart, fill your life with comfort, and let every moment shine with happiness and success. Furthermore, may your sacrifice on this holy day and every prayer of yours be accepted, every good deed be approved, and may you be rewarded by Allah.
🌹 Eid al-Adha Mubarak
🌹 Your brother in faith of Allah.

Abu Mohmmadain Irshad Ahmad Rabbani Alig, New Delhi.

السلام عليكم ورحمة اللّٰه و بركاته!   🌹 ईद-उल-अज़हा की इस पवित्र और खुशी भरी घड़ी में, मैं आपको और आपके परिवार को तहे दि...
27/05/2026

السلام عليكم ورحمة اللّٰه و بركاته!
🌹 ईद-उल-अज़हा की इस पवित्र और खुशी भरी घड़ी में, मैं आपको और आपके परिवार को तहे दिल से मुबारकबाद पेश करता हूँ।
🌹 दुआ है कि यह मुबारक दिन आपके जीवन में खुशियों, बरकतों, मुहब्बत, रहमत और अमन व सलामती का पैगाम लेकर आए। अल्लाह आपके दिल को सुकून अता फरमाए, ज़िंदगी को राहतों से भर दे और हर लम्हा खुशियों और कामयाबी से जगमगाता रहे। साथ ही इस मुकद्दस दिन में की जाने वाली आपकी कुर्बानी और आपकी हर दुआ कबूल हो, हर नेकी मक़बूल हो, और आपको अल्लाह की तरफ से अज्र मिले।
🌹 ईद-उल-अज़हा मुबारक
🌹 अल्लाह की राह में आपका भाई, अ
अबु मुह़म्मदैन इरशाद अहमद रब्बानी अलीग, नई दिल्ली

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،     🌹عید الأضحى کی مقدس اور پرمسرت گھڑیوں میں، دل کی گہرائیوں سے آپ کو اور آپ کے اہل خا...
27/05/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
🌹عید الأضحى کی مقدس اور پرمسرت گھڑیوں میں، دل کی گہرائیوں سے آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔🌹
🌹 دعا ہے کہ یہ مبارک دن آپ کی زندگی میں خوشیوں، برکتوں، محبتوں، رحمتوں اور امن و سلامتی کا پیغام لے کر آئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو سکون عطا فرمائے، زندگی کو راحتوں سے بھر دے اور ہر لمحہ مسرتوں اور کامیابیوں سے جگمگاتا رہے، نیز اس مقدس دن میں کی جانے والی آپ کی قربانی، اور آپ کی ہر دعا قبول ہو، ہر نیکی مقبول ہو، اور آپ عند اللہ ماجور ہوں۔🌹
🌹عید الاضحی مبارک ہو🌹
آپ کا دینی بھائی
ابو مُحَمَّدَیْن اِرشادْ اَحمدْ رَبَّانِی عَلِیْگ، نئی دِلِّی۔

ہم اسلامی تہذیب کے علمبردار ہیں، یہ تہذیبی انحراف ہمیں زیبا نہیں دیتیں۔
26/05/2026

ہم اسلامی تہذیب کے علمبردار ہیں، یہ تہذیبی انحراف ہمیں زیبا نہیں دیتیں۔

صوفی نائٹ یا تہذیب علی گڑھ کا نوحہ

از : ڈاکٹر محمد طارق ایوبی
یکے از ابنائے قدیم
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی،علیگڑھ

زمانہ کروٹیں بدلتا ہے، تاریخ بدلتی ہے، عروج و زوال کی داستان رقم ہوتی ہیں، جس طرح شاہی قلعے کھنڈرات میں بدل جاتے ہیں اسی طرح تہذیبی قلعے بھی ڈھا جاتے ہیں، پاکیزگی مغرب زدگی کا روپ دھار لیتی ہے، حیا کی چادر اتار کر بے حیائی کا غازہ مل لیا جاتا ہے، بے شرمی کو بے شرمی کہنے میں بھی شرم آتی ہے، برہنگی کو ترقی کی علامت تصور کیا جاتا ہے، دراصل مغلوب و مفتوح اور مرعوب قوم نقالی کو ہی اپنی معراج سمجھتی ہے، وہ نہ صرف غالب قوم کا فیشن اختیار کرتی ہے بلکہ اس کے فیشن کو پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ قبول کرتی ہے، رفتہ رفتہ نتائج بھی وہی برآمد ہوتے ہیں جو مغربی معاشروں میں برآمد ہو چکے،واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی تہذیبی شناخت، تہذیبی اقدار و روایات کو چھوڑتی ہے تو رفتہ رفتہ اپنی تاریخ سے بھی نابلد ہو جاتی ہے، ایک وقت وہ آتا ہے جب وہ اپنے ماضی،اپنی شناخت، اپنے مذہب، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ پر معذرت خواہانہ رویّہ اختیار کر لیتی ہے، بلکہ اپنی اقدار و روایات کو برتنےPractice میں عار محسوس کرتی ہے۔
نامور علیگ قاضی عدیل عباسی نے علامہ اقبال سہیل کے ساتھ اپنا ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ امین آباد میں ایک ہوٹل میں تھے، ایک نو فارغ علیگیرین آگئے، انہوں نے اس وقت جا کر بل پیمنٹ کر دیا، قاضی صاحب نے سرزنش کی، لیکن محض ایک چھوٹی سی روایت کے ٹوٹنے پر علامہ اقبال سہیل نے فرمایا "علی گڑھ مر گیا"، اس کے بعد ان کی طبیعت پر بڑا اثر رہا،دراصل کوئی دانشگاہ تربیت گاہ تبھی بنتی ہیں جب وہاں صالح روایات قائم ہوتی ہیں، یہی تہذیبی روایات اس ادارے کی انفرادیت اور اس کی شان و شوکت بن جایا کرتی ہیں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس سلسلے میں پورے بر صغیر میں ممتاز شناخت رکھتی تھی، اس کی جامع مسجد کے عظیم منارے اس کی اسلامی شناخت کی علامت تھے، مسجد کے پرشکوہ گنبد اس کی مذہبی فکر کے محافظ تھے، عصری تعلیم کے اس ادارے میں تین درجن سے زائد مسجدیں ملحدین اور باطل پرستوں کے لیے ہمیشہ ہی چیلنج بنی رہیں، مجاز جیسے جدیدیت کے علمبردار مےنوش کو بھی یہ کہنا پڑا کہ "جو طاق حرم میں روشن ہے، وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے" اور "خود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہے باطل کی شکست فاش یہاں"،علی گڑھ اسلامی روایات کا پاسدار تھا، یہاں کے شعبہ دینیات نے ہمیشہ علیگڑھ کو مسلم الثبوت عقائد کا پابند رکھا، مذہب کو ہمیشہ یہاں پاکیزگی کی علامت سمجھا گیا، اِکّا دُکّا دیوانے تو ہر جگہ پیدا ہو جاتے ہیں، من حیث المجموع اس یونیورسٹی نے نہ جانے کتنے لاکھ طلبہ کو اب تک قرآن پڑھنا سکھایا، خدا کے سامنے جھکنے کا شعور عطا کیا،ایسے طلبہ کو اسلامی شناخت دی جو دور افتادہ علاقوں سے آئے، انہوں نے کبھی قرآن نہ کھولا ہوتا اور کبھی مسجد نہ گئے ہوتے، لیکن یہاں Religious Proctorial Monitor جیسی روایت کا وجود اور ائمہ کے ذریعہ ناظرہ خوانی کے نظام نے انہیں نہ صرف مسلمان بنایا بلکہ نظریاتی مسلمان بنا دیا، یہاں کبھی مذہب کا تمسخر نہ اڑایا گیا، بلکہ باہر کی دنیا میں کہیں کوئی واقعہ پیش آیا تو علیگڑھ تڑپ اٹھا اور سب سے اسی کے سپوتوں نےپہلا احتجاج درج کرایا۔
علیگڑھ کو ہمیشہ اسلامی روایات کے احترام اور مشرقی اقدار کی پاسداری کے لیے جانا گیا، شائستگی، سنجیدگی، متانت، ظرافت، لیاقت، شرافت، باہمی احترام و تعاون، ملی شعور، تہذیب و ثقافت، مذہب کے احترام اور روایات کی پابندی کے لیے اس کی مثال دی گئی، علی گڑھ کا عبداللہ کالج اور اس کا تحفظاتی نظام، لڑکیوں کے ہاسٹل خود علی گڑھ کے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں، ورنہ عبداللہ کالج کو انٹر کالج سے ڈگری کالج میں تبدیل کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی، ایک دیوار حائل رہے، اس لیے اسے کالج کا درجہ دیا گیا تھا۔اب سے کچھ سال پہلے تک یہاں کا ہر پروگرام شائستگی کی دلیل ہوا کرتا تھا، طلبہ و طالبات کی علیحدہ نشستیں اس کی مشرقیت کی عکاسی کرتی تھیں، ہر جگہ طالبات کےلیے الگ انتظام اس کی صالح روایات کا مظہر ہوتا تھا، کسی بھی پروگرام میں ناظرین کے درمیان طالبات کو کسی عمومی خدمت پر مامور نہیں کیا جاتا تھا۔ یہاں پردہ کا اہتمام ہمیشہ کیا گیا اور لبرلز نے اس کے خلاف ہمیشہ زور لگایا، ہر طرح کی تحریک ہر زمانے میں اٹھتی رہیں، لیکن چلی کسی کی نہیں، لبرل بھی نقاب و برقع کا احترام کرنے پر مجبور رہے، وقت کے ساتھ حالات بدلتے رہے، مزاج بدلتا رہا، قاضی صاحب نے صالح روایات کے ضمن میں ایک مضمون بعنوان "لڑکیاں،عورتیں، پردہ" قلم بند کیا ہے، پورا مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، اپنے زمانے کے ماحول اور پھر کچھ تغیرات کے سبب لکھتے ہیں کہ "علی گڑھ کی روایات اس معاملہ میں بڑی واضح رہی ہیں اور چونکہ اب رفتہ رفتہ ان میں تغیر پیدا ہو رہا ہے اور وہ اندیشہ ناک حد تک پہنچ گیا ہے اس لیے ضرورت ہے کہ ذرا تفصیل سے اس پر بحث کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" آگے لکھتے ہیں "یہی حال عورتوں اور لڑکیوں کا ہے، مسلم معاشرہ سختی سے پردے کا پابند ہے یا کم سے کم پردے کو اچھی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور علی گڑھ پر لازم ہے کہ وہ بلا بحث اس کو تسلیم کرے۔۔۔۔۔۔" ۔
یہ تمہید ہم نے اس لیے لکھی کہ "علی گڑھ مر گیا ہے" علی گڑھ مر رہا ہے، علی گڑھ خودکشی کر رہا ہے، علی گڑھ اپنی شناخت کو بہت تیزی سے قتل کر رہا ہے، گزشتہ دنوں علی گڑھ میں کچھ ایسے پروگرام ہوئے جس میں لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ اچھلتے کودتے، رقص کرتے نظر آئے، کہیں صوفی نائٹ کے نام پر، کہیں کلچرل پروگرام کے نام پر، کہیں فزیکل ایجوکیشن کے نام پر تہذیب علی گڑھ کا نوحہ کیا گیا،لڑکیاں ایسے لباس میں رونق اسٹیج ہوئیں کہ بے لباسی بھی شرمائے، اس پر مستزاد ان کا رقص، اس سے بھی خطرناک بعض اساتذہ کی ان پروگراموں میں موجودگی اور بے حسی کا یہ عالم کی بعض ویڈیو میں بعض لوگ پیسے لٹاتے نظر آئے، آخر علی گڑھ کو کس کی نظر لگ گئی، کہ دختران ملت کو ناچنے تھرکنے کی مشق کرائی جانے لگی، ان کے جسموں کی نمائش لڑکوں اور مردوں کی موجودگی میں ہوئی، یہ مسلم یونیورسٹی کی روایت تو نہ تھی، سر سید نے اس لیے تو قربانیاں نہ دی تھیں، یہ مذہب کا بھی حصہ نہیں، سائنسی ترقی کو بھی اس رقص و سرود سے کسی قسم کا سروکار نہیں، بانی درسگاہ سر سید احمد خان نے تو اپنا نظریہ واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ طلبہ کے ایک ہاتھ میں جدید سائنس، دوسرے ہاتھ میں فلسفہ اور سر پر لا الہ الا اللہ کا تاج ہو،گویا انہوں نے نہ صرف اپنا تعلیمی نظریہ واضح کیا بلکہ مسلم یونیورسٹی کے لیے مذہب کی پاسداری اور بالادستی کو اس کا ہدف و مقصد قرار دے دیا اور اس کی شناخت طے کر دی، اس نظریہ کی تطبیق کے لیے انہوں نے کالج کی عمارت کے ساتھ ساتھ ایک وسیع و عریض عظیم الشان جامع مسجد کی بنیاد رکھ دی جس کے بلند منارے اور پرشکوہ دروازہ آج بھی سرسید کے ایمان و نظریہ اور نونہالان قوم کے مستقبل کے تئیں ان کی سوچ کی گواہی دے رہے ہیں، بلاشبہ ان سے انحرافات بھی سرزد ہوئے، لیکن یہ بھی ان کی عظمت و دیانت کی دلیل ہے کہ انہوں نے شعبہ دینیات کا ناظم وہاں سے طلب کیا جہاں پر قوم کو مذہبی اعتماد تھا، نہ کبھی انہوں نے کالج میں طلبہ کے درمیان اپنے نظریات کی ترویج کی، نہ کبھی شعبہ دینیات میں انہیں پڑھایا گیا اور نہ یونیورسٹی میں کبھی ان کا چرچا ہوا، اس کے باوجود اب ہر کہہ و مہ اپنے نظریات کی ترویج کے لیے مسلم یونیورسٹی کو تختہ مشق بناتا ہے، ملت کی اس امانت میں خیانت کرتا ہے، اپنے خون جگر سے اتنا بڑا ادارہ تعمیر کرنے والے پُرکھوں اور بالخصوص بانی درسگاہ کی قربانیوں کا مذاق اڑاتا ہے،سوال یہ ہے کہ جس طرح کے رقص و سرودکے پروگرام منعقد کیے گئے، ان کا یونیورسٹی کے مقاصد، سر سید کے بلند افکار، پاکیزہ اسلامی روایات، مشرقی اقدار اور مسلم یونیورسٹی کی تہذیب سے کیا تعلق؟ سرسید تو قوم کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچانا چاہتے تھے، مگر یہ کیسے لوگ پیدا ہو گئے جو قوم کے نو نہالوں کو ڈانس کی پستیوں میں گرانا چاہتے ہیں، سر سید تو سائنسی ترقی یافتہ قوم کے برابر پہنچانا چاہتے تھے، لیکن یہ کون سی سائنسی اپروچ کے لوگ آگئے جو ٹھمکوں اور ناچ گانوں میں سائنسی ترقی دیکھنے لگے۔
دراصل روایات کا قیام اور پاسداری ہمیشہ اساتذہ، مربیوں اور انتظامیہ کی مرہون منت ہوتی ہے، وہی تہذیب و شائستگی اور کلچر کو فروغ دیتے ہیں، وہی تاریخ رقم کرتے ہیں، وہی تاریخ و نظریہ تعمیر کرتے ہیں اور وہی تہذیبی زوال کے اصل ذمہ دار ہوتے ہیں، اگر کمال کا کریڈٹ استاد کو دیا جاتا ہے تو زوال کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد کی جائے گی،یہ علیگڑھ کی تہذیب ہی تو تھی جہاں السلام علیکم کا ایسا شور بپا ہوتا کہ غیر مسلم طلبہ بھی اس کے عادی ہو جاتے، ہم نے خود انہیں سلام کرتے پایا، ڈائننگ ہال میں کھانے پر مدعو کیا تو جواب میں بارک اللہ کہتے پایا، خیریت دریافت کرنے پر جواب میں الحمدللہ کہتے پایا، علی گڑھ کے طالب علم کو ہمیشہ بڑوں کا احترام کرتے اور نسوانیت کو عزت دیتے پایا، ابھی دس پندرہ سال پہلے تک مجال تھی کہ کوئی بے ہنگم لباس میں نظر آ جاتا، حتی کہ کوئی بالوں میں کنگھی کیے بغیر کمرے سے نکل آتا، علی گڑھ کے طلبہ اپنے رکھ رکھاؤ، آن بان، نشست و برخاست اور گفتگو کے آداب کے لیے جانے جاتے تھے، اگر ان سب چیزوں میں زوال آیا تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟علی گڑھ کی عظمت محض سر سید ہال ویکٹو ریا گیٹ اور اسٹریچی ہال کی تاریخی عمارتوں اور ان کے پس منظر سے نہیں تھی بلکہ علی گڑھ کی عظمت اس کی تہذیب و تربیت سے قائم تھی، حیا سوزی، حیا باختگی، پراگندگی، بے شرمی، الہڑپن اور بد تہذیبی اور بد کلامی کا یہاں گزر نہ تھا،علی گڑھ کے طلبہ میں جرأت و ہمت اور مذہب و ملت کے معاملہ میں حساسیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی، الہ آباد میں علی گڑھ کے طلباء بی اے کا امتحان دینے گئے، پرچہ تقسیم ہوا، سوالات میں ولیم میور کی کتاب لائف آف محمد سے نہایت نا معقول اور بدبختانہ عبارت نقل کی گئی تھی، عربی کے اور بھی طلبہ وہاں تھے، مگر علی گڑھ کالج کے طلبہ نے کاپیاں پھینک دیں، اپنے مستقبل سے بے پروا ہو کر امتحانی پرچہ کو تار تار کر دیا اور امتحان چھوڑ کر احتجاجاً ہال چھوڑ کر نکل گئے، ہنگامہ برپا ہوا اور نتیجے میں حکومت نے ان طلبہ کو پاس بھی کیا، یہ بانی درسگاہ اور یہاں کے مثالی کردار رکھنے والے منتظمین کی فکر و تربیت کا نتیجہ تھا، سر سید مرحوم نے ولیم میور کو جواب دیا تھا تو ان کے کالج کے طلبہ نے اس طرح ولیم میور کا ملغوبہ چاٹنے والوں کو جواب دیا۔ ڈاکٹر سر سید ضیاء الدین احمد نے علی گڑھ کو میڈیکل کالج دیا، قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ "وہ گورکھپور آئے، جلسہ عام میں ان کی تقریر ہو رہی تھی، مغرب کی اذان شروع ہوئی، ڈاکٹر صاحب کا سر جھک گیا، خاموش کھڑے ہو گئے، اذان ختم ہوئی، ڈاکٹر صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے، پھر وہاں سے سیدھے مسجد کی طرف رخ کیا،ان کے پیچھے مسلمانوں کا مجمع بھی مسجد کی طرف چل پڑا"۔ اسی طرح قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ "نواب محمد اسحاق جب علی گڑھ کے سکریٹری تھے تو میز پردو کاغذ اور دو قلم دوات رکھتے تھے ایک ذاتی ہوتا اور ذاتی کام کے لیے استعمال ہوتا، دوسرا کالج کا کالج کے کاموں کے لیے، آج کسی کو عہدہ دے دیجیے، تو کیا پائے کیا بیچ دے، اور کہاں سے پائے کتنا فائدہ اٹھا لے، چھوٹا سا عہدے دار بھی یونیورسٹی سے دی گئی آفیشیل اشیا کو ذاتی ملکیت کی طرح استعمال کرتا ہے، اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے یونیورسٹی کی گاڑیوں کو گھر کے کام کاج میں استعمال کرتا ہے، جب تک کرسی پر رہتا ہے گھر سے یونیورسٹی بھی اپنی گاڑی سے نہیں آتا، رعونت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اللہ دے اور بندہ لے، سب بھول جاتے ہیں کہ کس علاقے سے آئے، کس پس منظر سے آئے، علی گڑھ نے کیسے پیٹ پالا اور کیسےکسی لائق بنا دیا، علی گڑھ کے احسانات کو فراموش کرنا یا بھول پانا انتہائی بے غیرت انسان کے ہی بس کی بات ہے۔ قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ"صاحبزادہ آفتاب احمد خان جب وائس چانسلر مقرر ہوئے تو اگلی صبح مسجد جا کر اذان دی اور بازار جا کر ڈائننگ کا سامان بطریق سنت خود خریدا" ۔ یہ تھا علی گڑھ کی تہذیبی بنیادیں مضبوط کرنے والوں کا کردار، اس طرح ملت کو یہ سرمایہ نصیب ہوا، جہاں اکثریت دور افتادہ پسماندہ علاقوں کے معاشی اعتبار سے کمزور طلبہ کی ہوتی ہے اور جو آج بھی بہت کم پیسوں میں اعلی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں ،جبکہ اب تعلیم پوری طرح کمرشیل بن چکی ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ اب اسکول، رستوران اور کرانہ کی دکان سے اچھی کوئی تجارت نہیں۔
جہاں تک تعلق ہے تصوف، روحانیت اور صوفی نائٹ کا تو خوب یاد رکھا جائے کہ اسلام کسی ایسے تصوف اور روحانیت کو نہیں جانتا جس میں مرد و زن کا اختلاط ہو، نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ جھومیں اور جہاں رقص و سرود کی محفلیں گرم ہوں، اسلام جس تصوف و تزکیہ و احسان کی تلقین کرتا ہے وہ نہایت پاکیزہ اور انقلاب آفریں روایت ہے،اسی تزکیہ و احسان کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا، اسی تزکیہ نے ابوبکر کو صدیق، عمر کو فاروق، عثمان کو غنی اور علی کو اسد اللہ، خالد کو سیف اللہ اور ابو عبیدہ کو امینِ امت بنا دیا رضی اللہ عنھم اجمعین، وہ تزکیہ و احسان مخلوق و خالق کے درمیان حائل پردے چاک کر دیتا ہے، مالک کی معرفت عطا کرتا ہے، صدق و صفا اور عہد و وفا کے معانی سمجھاتا ہے، امانت و دیانت، صداقت و امامت کے رموز و اسرار سے واقف کراتا ہے، وہ تزکیہ روحانیت Sprituality کی ایسی معراج تک پہنچاتا ہے جہاں قوت بہیمہ کمزور پڑ جاتی ہے، عالم بالا سے تعلق قائم ہوتا ہے، اللہ کا استحضار حاصل ہوتا ہے، عبادت کا شوق بڑھتا ہے، اس روحانی ترقی کے نتیجے میں جب بندہ قلبی سکون چاہتا ہے تو خدا کے ذکر میں مشغول ہو جاتا ہے،جب خدا سے مناجات چاہتا ہے تو عبادت میں مصروف ہو جاتا ہے اور پھر اس طرح عبادت کرتا ہے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہوتا ہے یا خدا اسے دیکھ رہا ہوتا ہے، جب وہ خدا سے ملاقات چاہتا ہے تو حق کا حامی بن کر محاذ پر ڈٹ جاتا ہے، ہر ممکن وسیلے سے حق کا دفاع کرتا ہے، بدقسمتی سے آج کل محافل سماع کے نام پر جس طرح کی روحانیت کو فروغPromote کیا جا رہا ہے اور صوفی نائٹ کے جو ہنگامے برپا ہیں وہ دراصل مغربی طاقتوں بلکہ یوں کہیے عالمی استعماری فاشست طاقتوں کی پسندیدہ روحانیت ہے، ابراہیمی منصوبہ امنAbraham Accord کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایسی روحانیت کو فروغ دینا ہے جو لوگوں کو ہر طرح کے ظلم و استبداد سے آنکھیں بند کر کے گوشہ عافیت میں رقص و سرود پر قانع کر دے،مذہب کو اس کی احتجاجی قوت اور مزاحمتی روح سےعاری و بے گانہ کر دے، حاکم کی اطاعت کا ایسا نشہ پلائے کہ اس کے مظالم پر جائز غصہ بھی نہ آئے، عالمی طاقتیں اس روحانیت کو مذہبی علامت کے طور پر اپنے منصوبوں کے فروغ کے لیے استعمال کرتی ہیں، اس روحانیت کے ذریعہ وہ طاقتیں ہماری نسلوں سے ایمانی قوت، اعتقادی شناخت و خصوصیات اور ظالم کو ظالم کہنے کی اسلامی روایت کو چھین لینا چاہتی ہیں، نوجوانوں کو عیش پرست، عیش کوش اور اپنی دنیا میں مست رکھ کر ناکارہ بنا دینا چاہتی ہیں، یہ در اصل ایک پوری سازش اور بڑا جالScame ہے جس کو سمجھنے کے لیے اس کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے، یہی وہ روحانیت ہے جس کے فروغ کے لیے "خاندان ابراہیمی" کا "ابراہیمی گھر" ابوظبی میں قائم ہوا، وہاں ایسی مشترک محفلیں سجائی جاتی ہیں، مختلف قسم کے نغمے، ترانے گائے جاتے ہیں اور صوفی رقص ہوتے ہیں، عالمی طاقتیں ایسے صوفی رقص اور ایسی روحانیت کو ہر طرح کا تعاون فراہم کرتی ہیں، اس لیے کہ انہیں اس قسم کے لوگوں سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ اس طرح کے صوفیوں کی کانفرنسیں بھی منعقد کرتی ہیں اور ان کا مالی تعاون بھی کرتی ہیں۔
علی گڑھ کے تناظر میں ایسے حیا سوز اور حیا باختہ پروگراموں کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی، یہ نہ تو سر سید کے مشن سے مطابقت رکھتے ہیں اور نہ ہی اس اسلامی اور قومی روح سے جس کو علی گڑھ نے ہمیشہ سنبھال کر رکھا ہے، اس سلسلے میں انتظامیہ کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر علی گڑھ تہذیب کے تحفظ و احیا کے لیے اساتذہ کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے، کیا خوب ہو کہ اساتذہ ڈیوٹی اور پروفیشنلزم سے آگے بڑھ کر طلبہ کو قیام علی گڑھ کے مقاصد، سر سید کے جذبات، یہاں کی مثالی شخصیات کے مثالی کردار سے واقف کرائیں، اس ملی شعور سے واقف کرائیں جو علی گڑھ کی شناخت ہوا کرتا تھا، اس سلسلے میں ایک کام یہ کیا جا سکتا ہے کہ علی گڑھ کی روایات سے متعلق لٹریچر کو نئے وابستگان علی گڑھ اور طلبہ کے درمیان خوب عام کیا جائے، قاضی عدیل عباسی نے اس حوالے سے 13 قسطیں لکھی تھیں، انہیں مختلف زبانوں میں عام کیا جائے، علی گڑھ کے وہ اولڈ بوائز بھی بڑا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جن کے پاس احساس کی دولت ہے، جو علی گڑھ کے لیے بڑا جذبہ رکھتے ہیں، جو علی گڑھ کے احسان مند رہتے ہیں، انہیں بس یہ کرنا ہے کہ نئے طلبہ سے باہمی تعارف اور گفت و شنید کی شکلیں پیدا کرنا ہے، ان کا رابطہ اگر بڑھا تو بڑی آسانی سے مرتا ہوا علی گڑھ دوبارہ پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہو جائے گا۔ اس مضمون کو میں قاضی صاحب کی ان دو سطروں پر ختم کرنا چاہتا ہوں جو بڑی معنی خیز اور آج بھی سراپا سوال ہیں۔ "علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ان صالح روایات کا میں تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن پر یہ یونیورسٹی اپنے اساس و بنیاد کو قائم کیے ہوئے تھی اور جن کا قائم رہنا اشد ضروری ہے اور جن کے بغیر علی گڑھ کا تخیل ہی باقی نہ رہ جائے گا، روایات کا مذاق اڑا دینا آسان ہے مگر اس کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو علی گڑھ کے ظاہری و باطنی دونوں شکلوں کو بدلنے کے آرزومند ہوں اور اسے عام یونیورسٹیوں کی سطح پر لا کر اس کی امتیازی خصوصیات کو مٹا دینا چاہتے ہوں، میں پوچھتا ہوں کہ کون سا دستور، کون سا قانون ساز ایوان، دنیا کا کون انسٹی ٹیوشن روایات کے بغیر زندہ ہے یا زندہ رہ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

Address

Idara Darul Hadees, Phool Chawk Street, Aligarh. U. P.
Aligarh
202001

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm

Telephone

+917599324896

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irshad Ahmad Rabbani Alig posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Irshad Ahmad Rabbani Alig:

Shortcuts

Share