12/09/2021
مولانا گنگوی فرماتے تھے کہ شاہ اسحق صاحب کے شاگردوں میں سے تین شخص نهایت متقی تھے ۔ اول درجے کے مولوی مظفر حسین صاحب ، دوسرے درجہ کے شاہ عبدالغنی صاحب ، تیسرے درجہ کے نواب قطب الدین خان صاحب ۔ ایک مرتبہ نواب قطب الدین خان صاحب نے شاہ اسحاق صاحب ، مولوی یعقوب صاحب اور مولوی مظفر الدین حسین صاحب اور چند دوسرے احباب کی دعوت کی ۔ شاه اسحاق صاحب نے منظور فرما لی اور مولوی محمد یعقوب صاحب نے بھی مگر مولوی مظفر حسین صاحب نے منظور نہ فرمائی ۔ اس سے نواب قطب الدین خان کو ملال ہوا اور انہوں نے شاء اسحاق صاحب سے شکایت کی کہ میں نے مولوی مظفر حسین صاحب کو بھی دعوت دی تھی مگر انہوں نے انکار فرمایا ۔ شاہ صاحب نے مولوی مظفر حسین پرعتاب فرمایا اور فرمایا ، ارے مظفر حسین تجھے تقوی کی بدہضمی ہوگئی ہے ۔ کیا نواب قطب الدین کا کھانا حرام ہے ۔ انہوں نے فرمایا حاشا و کلا مجھے نواب صاحب پراس قسم کی بدگمانی نہیں ہے ۔ شاہ صاحب نے فرمایا ، پھر تو انکار کیوں کرتا ہے ۔ انہوں نے عرض کیا ، حضرت نواب صاحب نے آپ کی بھی دعوت کی ہے اور مولوی محمد یعقوب صاحب کی بھی اور ان کے علاوہ اتنے اور آدمیوں کی اور آپ کو پالکی میں لے جائیں گے ، اس میں بھی وہ ضرور صرف ہو گا اور نواب صاحب اگرچہ بگڑ گئے ہیں مگر پھر نواب زادہ ہیں ، وہ دعوت میں ضرور نوابانہ تکلف بھی کریں گے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواب صاحب مقروض بھی ہیں ۔ پس یہ مقروض ہیں اور جتنا روپیہ وہ دعوت میں صرف کریں گے وہ ان کی حاجت سے زائد بھی ہے ۔ تو یہ رو پیہ اپنے قرض میں کیوں نہیں دیتے ۔ ایسی حالت میں ان کا کھانا کراہت سے خالی نہیں ۔ یہ بات شاہ صاحب کے ذہن میں بھی آگئی اور شاہ صاحب نے فرمایا کہ میاں قطب الدین اب ہم بھی تمہارے یہاں کھانا نہ کھائیں گے ۔