13/02/2023
You can join this group to get weekly Islamic tasks, you will get an assignment. You will have to submit those assignments before deadline . Your assignments will be checked & returned before announcing next task .
Its for kids age 5-15
WEEKLY ISLAMIC TASKS
WhatsApp Group Invite
25/11/2022
قرآن کی بہترین دعائیں
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر صالح اولاد چاہتے ہو تو*
رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ تمہارا دل گمراہ ہو جائے گا*
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّاب
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر چاہتے ہو کہ تمہیں شہادت جیسی سعادت میسر ہو*
رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر کسی بڑی مشکل اور پریشانی میں گرفتار ہو تو*
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگرچاہتے ہو آپ اور آپ کی اولاد نماز کی پابند رہے تو*
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر چاہتے ہو کہ آپ کی بیوی اور اولاد آپ سے ہمیشہ وفادار رہیں تو*
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر اچھے گھر کی تلاش میں ہو تو*
رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِين
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر چاہتے ہو کہ شیطان تم سے ہمیشہ دور رہے تو*
رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَات«الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہو تو*
رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر اس بات کا خوف ہو کہ اللہ تعالی تمہارے اعمال قبول نہیں کرے گا تو*
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر پریشان حال ہو تو*:
إنما أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّه
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
اپنے دوستوں اور احباب کو ان قرآنی دعاؤں سے مطلع فرمائیں، شاید کسی کی مشکل کا حل انہی دعاؤں میں سے کسی ایک دعا میں ہو---🌾🌾
25/11/2022
🍀 *ہمیشہ سننے میں آتا ہے کہ بچے بدتمیز ہو گئے ہیں..!!کسی کی بات نہیں سنتے..!!!
🍂مگر کیا کبھی آپ نے انکی ایموشنل نیڈز یعنی جذباتی ضروریات کو سمجھنے کی یا ان کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے *؟؟؟*
🍀بیشتر لوگوں کو تو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے۔ چلیں کوئی بات نہیں ہم بتائے دیتے ہیں۔
🍀 *بنیادی طور پر بچے کی اچھی ذہنی نشونما کے لیے مندرجہ ذیل چھ باتیں بہت اہم ہیں۔-*
⭐ *1۔ خاندان سے غیر مشروط محبت*
⭐ *2۔ خود اعتمادی*
⭐ *3۔ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع*
⭐ *4۔ اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور مناسب رہنمائی*
⭐ *5۔ محفوظ ماحول*
⭐ *6۔ نظم و ضبط*
🍃ایک ایک کرکے ان سب پر بات کی جائے گی۔ آج کی یہ تحریر خاندان سے غیر مشروط محبت پر مبنی ہے۔
🍂گھر میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ نا صرف ماں باپ بلکہ دادا، دادی سمیت گھر بھر کا لاڈلا ہوتا ہے۔
🍃 *مگر یہ کیا!!!!* دوسرا بچہ آتے ہی بڑے بچے کو ایک دم سے الگ بلکہ اکیلا کر دیا جاتا ہے۔ جو بچہ سب کا پیار اور لاڈ اٹھوانے کا عادی ہوتا ہے۔ اسے سب ایکدم بھول جاتے ہیں۔
🍂 *جی ہاں!!!*
اور ایک نئے آنے والے بچے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں. اس کو اٹھاتے ہیں۔ ٹائم دیتے ہیں۔ ماں کی تو چلو مجبوری ہوتی ہے مگر باقی سب بھی نئے بچے کی طرف توجہ مبذول کر لیتے ہیں۔
🍃اس طرح بڑا بچہ خود کو اکیلا تصور کرنے لگتا ہے. ایک طرف تو ماں کو شیئر کرنا پڑتا ہے۔ اوپر سے باقی سب کی بھی نگاہوں کا مرکز آنے والا چھوٹا بچہ ہوتا ہے۔
🍂وہ بچہ ہونے کی وجہ سے اس ساری صورت حال کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ ضدی اور سخت چڑچڑا ہو جاتا ہے اور بات بات پر رونا شروع کر دیتا ہے۔
عام طور پر بچے کے ضد کرنے پر اسے ڈانٹ ڈپٹ کر یا مار کر چپ کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
🍃پیار کا عادی بچہ آپ کا یہ روپ دیکھ کر پہلے تو پریشان ہو جاتا ہے اور پھر بدتمیزی سے اور لڑ جھگڑ کر اپنی بات منوانا شروع کر دیتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا یہ رویہ پختہ ہوتا جاتا ہے۔ کیوں کہ اسے اپنے احساسات کا اظہار کرنا نہیں آتا اور سب کچھ اس کے دماغ کے اندر ہی جمع ہوتا رہتا ہے۔
🍂آہستہ آہستہ یہ سب عادات اس کے اندر جڑیں مضبوط کرتی جاتی ہیں۔
*اور پھر یہی بچہ "ضدی، خود سر اور بدتمیز" کہلاتا ہے۔*
🍀بچوں کے مسائل کو سمجھے بغیر ڈانٹ دیا جائے، خاموش کروا دیا جائے تو وہ اپنی بات منوانے کے لیے اپنی طرح سے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
🍀یہاں ہی والدین غلطی کرتے ہیں۔ جب بچے ضد کریں، ان کو ڈانٹنے کی بجائے "پیار سے گلے لگائیں"۔
🍀وہ روئیں گے، غصہ بھی کریں گے عین ممکن ہے آگے سے ضد بھی جاری رکھیں
*مگر!!!!* آپ نے تحمل سے کام لینا ہے۔ ان کو آپ پیار کریں۔ گلے سے لگا کر آپ ان کو محبت کا احساس دلائیں۔ ان کو بتائیں کہ وہ آپ کے لئے کیا ہیں، کتنے اہم ہیں اور آپ ان سے کتنا پیار کرتے ہیں۔
🍀اب یہاں یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض بچے بے جا لاڈ پیار سے بدتمیز ہو جاتے ہیں مگر ہم ان بیشتر بچوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو کہ سب کے گھروں میں موجود ہیں۔ جن کو اگنور کیا جاتا ہے۔
🍀 *ایک بات یاد رکھیں بچوں کو گلے سے لگا کر پیار کرتے وقت فضول بحث اور نصیحتوں سے گریز کریں۔*
*"صرف ان کی اچھی باتیں کریں"۔*
🍂اس سے ایک تو آپ کا بچہ آپ کا دوست بن جائے گا، آپ کو اپنا ہمدرد سمجھے گا اور دوسرا آپ بھی بہت خوش ہوں گے کیونکہ ہر چیز دو طرفہ ہوتی ہے *احساسات بھی۔۔۔۔۔۔۔۔*
🍃 *اپنے بچوں کو وقت دیں!!!! خواہ وہ کسی عمر میں بھی ہوں۔ انہیں پیار کریں، گلے لگائیں*۔
🍀آپ خود سوچیں!!! کتنا عرصہ ہوا آپ نے اپنے بچے کو گلے سے لگایا پیار کیا؟؟؟
چھوٹے بچوں کو تو اس قدر پیار کیا جاتا ہے کہ وہ تنگ پڑ جاتے ہیں اور بڑے بچوں کے لیے یہ چیز ممنوع کیوں ہو جاتی ہے۔ بچے کے احساسات وہی ہوتے ہیں فرق صرف عمر کا پڑتا ہے۔ والدین کے لیے تو وہ بچہ ہی ہے ناں۔ اسے بچہ ہی رہنے دیں۔ رویے اسے بڑا بنا دیتے ہیں۔
بچہ چاہے کسی عمر میں پہنچ جائے ماں باپ کے لمس کو ترستا ہے۔ والدین کا صرف ایک تعریفی جملہ اس کی ہمت بندھا دیتا ہے اور وہ پرسکون ہو جاتا ہے۔
🍂آج آپ گن کر دن میں دو دفعہ اپنے بچے کو گلے سے لگا کر پیار کریں۔خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہے۔۔۔۔۔۔ پھر تعداد بڑھاتے جائیں!!!!
🍃ان کو اچھے کام پر صرف سراہنے کی بجائے گلے سے لگا کر پیار کریں۔
اور پھر جو بھی سمجھانا ہو سمجھائیں۔ آپ دیکھیے گا کیسے ان کے دل موم ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی بات سمجھنا شروع کر دیں گے۔
🍀وہ آپ کے بچے ہیں انہیں آپ نے ہی ٹھیک کرنا ہے۔ ورنہ وہ کوئی اور غم گسار ڈھونڈ لیں گے جو کہ ان کے لئے مناسب نہ ہو گا۔
🍂سائنس کے مطابق بھی جب آپ بچے کو پیار سے گلے لگاتے ہیں تو اس کے جسم میں خوشی کے مثبت احساسات جاگتے ہیں۔ جو کہ اس کی ساری منفی سوچوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
🍀 *بچہ تین اوقات میں سب سے زیادہ دھیان سے بات سنتا ہے۔ "کھانا کھاتے وقت، سوتے وقت اور سفر کے دوران"*
ان اوقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا موقف انھیں سمجھائیں۔ جو باتیں ذہن نشین کروانی ہوں انھیں بار بار دہرائیں۔
🍂بڑے بچوں کے ساتھ بھی ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے چند دن یہ عمل کر کے دیکھیں۔ وہ آپ کی تبدیلی پر حیران ضرور ہوں گے مگر اندر ہی اندر خوش بھی ہوں گے۔
اور ان کی اس تبدیلی پر آپ بھی پرسکون اور خوش ھونگے.....
24/11/2022
🍃🔴 *ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ 40 ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ ...... ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ...*
💠 *ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ*
❣ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ .
💠 *ﺍَﻟﺼّﻠٰﻮﺓ ﻧُﻮﺭُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ*
❣ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ*
❣ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ
💠 *ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ*
❣ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ*
❣ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ*
❣ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ
💠 *ﻃَﻠَﺐُ ﺍﻟﻌِﻠﻢِ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔٌ ﻋﻠﯽٰ ﮐُﻞِّ ﻣُﺴﻠِﻢٍ*
❣ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮬﮯ
💠 *ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﺤَﺪِﯾﺚِ ﮐِﺘَﺎﺏُ ﺍﻟﻠّٰﮧِ*
❣ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮬﮯ
💠 *ﻭَﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﮭَﺪﯼِ ﮬَﺪﯼُ ﻣُﺤَّﻤﺪٍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ*
❣ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﺤَﯿَﺎﺀُ ﻣِﻦَ ﺍﻻِﯾﻤﺎﻥِ*
❣ﺣﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﻌَﺠﻠَﺔُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴﻄَﺎﻥ*
❣ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﺒِﺮُّ ﺣُﺴﻦُ ﺍﻟﺨُﻠﻖِ*
❣ﻧﯿﮑﯽ ﺍﭼﮭّﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﻄّﮭﻮﺭ ﺷَﻄﺮُ ﺍﻻِﯾﻤَﺎﻥِ*
❣ﭘﺎﮐﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮬﮯ
💠 *ﻣَﻦ ﺻَﻤَﺖَ ﻧَﺠَﺎ*
❣ﺟﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﺉ
💠 *ﻻ ﺗَﺴُﺒُّﻮﺍ ﺍﻻﻣﻮَﺍﺕ*
❣ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑُﺮﺍﺉ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ
💠 *ﻻَ ﺗَﺴﺌَﻠُﻮﻥَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﺷَﯿﺌﺎً*
❣ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ
💠 *ﺳَﻢِّ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻭَ ﮐُﻞ ﺑِﯿَﻤِﯿﻨِﮏ*
❣ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮬﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ
💠 *ﮐُﻞ ﻣِﻤَّﺎ ﯾَﻠِﯿﮏ*
❣ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ
💠 *ﻻَ ﯾَﺸﺮِﺑَﻦَّ ﺍَﺣَﺪٌ ﻣِﻨﮑُﻢ ﻗَﺎﺋِﻤﺎً*
❣ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺉ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﮐﺮ ﮬﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﭘﯿﺌﮯ
💠 *ﺍَﻟﺴِّﻮَﺍﮎُ ﻣَﻄﻬَﺮﺓٌ ﻟِﻠﻔَﻢ ﻭِ ﻣَﺮﺿَﺎﺓٌ ﻟِﻠﺮّﺏِّ*
❣ ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﮫ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺉ ﺍﻭﺭ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻟﺴَّﻼﻡُ ﻗَﺒﻞَ ﺍﻟﮑَﻼﻡِ*
❣ ﺳﻼﻡ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻓﺸُﻮﺍ ﺍﻟﺴَﻼﻡَ ﺑَﯿﻨَﮑُﻢ*
❣ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﺩﻭ
💠 *ﻛُﻞُّ ﻣَﻌﺮُﻭﻑٍ ﺻَﺪﻗَﺔ*
❣ ﮬﺮ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﺻﺪﻗﮧ ﮬﮯ
💠 *ﺍِﻥَّ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺭَﻓِﯿﻖٌ ﯾُﺤِﺐُّ ﺍﻟﺮَّﻓِﯿﻖ*
❣ ﺑﯿﺸﮏ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﮭﺮﺑﺎﻥ ﮬﮯ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ
💠 *ﻻ ﺗُﻘﺒَﻞُ ﺻَﻠﻮٰﺓٌ ﺑِﻐَﻴﺮِﻃﻬُﻮﺭ*
❣ ﮐﻮﺉ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﺎﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ
💠 *ﺍَﺣَﺐُّ ﺍﻟﺒِﻼﺩِ ﺍِﻟﯽٰ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪُﮬَﺎ*
❣ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺟﮕﮭﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪﯾﮟ ﮬﯿﮟ
💠 *ﺍَﺑﻐَﺾُ ﺍﻟﺒِﻼﺩِ ﺍِﻟﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺍَﺳﻮَﺍﻗُﮭَﺎ*
❣ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺟﮕﮭﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮬﯿﮟ
💠 *ﺗُﺤﻔَﺔُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ ﺍﻟﻤَﻮﺕ*
❣ ﻣﻮﺕ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﮬﮯ
💠 *ﺍَﻧﺰَﻟُﻮﺍ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻣَﻨَﺎﺯِﻟَﮭُﻢ*
❣ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﻭ ﯾﻌﻨﯽ ﮬﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺐ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﻭ
💠 *ﻻ ﯾَﺮﺣَﻢ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻣَﻦ ﻻ ﯾَﺮﺣَﻢ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ*
❣ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ
💠 *ﻻ ﻳَﺪﺧُﻞُ ﺍﻟﺠَﻨَّﺔ ﻗﺎﻃِﻊٌ*
❣ ﻗﻄﻊ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ
💠 *ﻻ ﯾَﺤِﻞُّ ﻟِﻤُﺴﻠِﻢٍ ﺍَﻥ ﯾُﺮَﻭِّﻉَ ﻣُﺴﻠِﻤﺎُ*
❣ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﻭﮮ
💠 *ﻻ ﺗَﺤﻘِﺮَﻥَّ ﺷَﯿﺌﺎً ﻣِّﻦَ ﺍﻟﻤَﻌﺮُﻭﻑ*
❣ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﺮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﻮ
💠 *ﺑَﻠِّﻐُﻮﺍ ﻋَﻨِّﯽ ﻭَﻟَﻮﺁﯾﮧ*
❣ ﭘﮩﻨﭽﺎﺅ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﮬﻮ
💠 *ﻻ ﺍِﯾﻤَﺎﻥَ ﻟِﻤَﻦ ﻻ ﺍَﻣَﺎﻧَﺔَ ﻟَﻪ*
❣ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﻧﮧ ﮬﻮ
💠 *ﻭَﻻ ﺩِﯾﻦَ ﻟِﻤَﻦ ﻻ ﻋَﮭﺪَ ﻟَﮧ*
❣ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺩﯾﻦ ﻧﮭﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﻋﮭﺪ ﻭ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﻧﮭﯿﮟ
💠 *ﺍَﻟﺘّﺎﺋِﺐُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺬّﻧﺐِ ﮐَﻤَﻦ ﻻ ﺫﻧﺐَ ﻟَﮧ*
❣ ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯿﻄﺮﺡ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺌﮯ ﮬﯽ ﻧﮧ ﮬﻮ
💠 *ﻣَﻦ ﻟَﻢ ﯾَﺸﮑُﺮِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻟَﻢ ﯾَﺸﮑُﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ*
❣ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ
💠 *ﺯﯾِّﻨُﻮﺍ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥَ ﺑِﺎَﺻﻮَﺍﺗِﮑُﻢ*
❣ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﻣُﺰﯾﻦ ﮐﺮﻭ
💠 *ﺧَﯿﺮُﮐُﻢ ﻣَﻦ ﺗَﻌَﻠَّﻢَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥ ﻭ ﻋَﻠَّﻤَﮧ*
❣ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ
24/11/2022
قران کے 100 مختصر پیغام 💚
1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو
2 غصے کو قابو میں رکھو
3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘
4 تکبر نہ کرو‘
5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو
6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘
7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو
8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘
9 والدین کی خدمت کیا کرو‘
10 منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘
11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
12 حساب لکھ لیا کرو‘
13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘
14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
15 سود نہ کھاؤ‘
16 رشوت نہ لو‘
17 وعدہ نہ توڑو‘
18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘
19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘
20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘
21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو
23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں,
24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
25یتیموں کی حفاظت کرو‘
26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو,
27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘
28 بدگمانی سے بچو‘
29 غیبت نہ کرو‘
30 جاسوسی نہ کرو‘
31 خیرات کیا کرو‘
32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
34 فضول خرچی نہ کیا کرو‘
35 خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
36 مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
43 مذہب میں کوئی سختی نہیں
44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘
47 جنسی بدکاری سے بچو‘
48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو,
49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
50 نفاق سے بچو‘
51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے,
53 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو
54 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
55 بخیل نہ بنو‘
56 حسد نہ کرو,
57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
59 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘
60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
62 صحیح راستے پر رہو‘
63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
65 مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
67 جواء نہ کھیلو‘
68 ہیرا پھیری نہ کرو‘
69 چغلی نہ کھاؤ،
70 کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
73 طہارت قائم رکھو‘
74 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
79 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
80 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
83 زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
84 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو,
86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
87 صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘
88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘
89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
90 اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
91 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
95 مذہب میں رہبانیت نہیں‘
96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
98 خود کو لالچ سے بچاؤ‘
99 اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے
100 ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔
اللہﷻ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
24/11/2022
🎋
*🔥زبان کے چالیس گناہ 🔥*
۱. جھوٹ بولنا 🔥
2.غیبت کرنا🔥
3.جهوٹا وعدہ کرنا 🔥
4. زیادہ مذاق کرنا 🔥
5.بداخلاقی 🔥
6-دل توڑنا 🔥
7.دوسروں کی بےعزتی کرنا 🔥
8.تہمت لگانا🔥
9-طعنہ زنی 🔥
10.ناحق حکم دینا 🔥
11.بےجا ملامت کرنا 🔥
12-.مذاق اڑانا 🔥
13.ناامیدکرنا 🔥
14.گفتار میں ریاکاری 🔥
15.امربہ منکر 🔥
16.نہی از معروف 🔥
17.زخم زبان لگانا 🔥
18. ناحق گواہی دینا 🔥
19.گفتار میں تکبر 🔥
20- افواہ پهیلانا 🔥
21.مؤمن کو رنجیدہ کرنا 🔥
22.دین میں بدعت داخل کرنا 🔥
23.گالم گلوج کرنا 🔥
24.گفتار میں خشونت 🔥
25.سخن چینی کرنا 🔥
26.دوسروں کو برے نام سے پکارنا 🔥
27.نامحرم سے مذاق کرنا 🔥
28.چاپلوسی و تملق کرنا 🔥
29. بلاوجہ چیخ و پکار کرنا 🔥
30.لوگوں پر لعنت کرنا 🔥
31.حسد و بخل کا اظہار 🔥
32.مکروحیلہ سے گفتگو کرنا 🔥
33. مسائل دینی میں تحریف کرنا 🔥
34.لوگوں کے راز فاش کرنا 🔥
35. نہ جانتے ہو خبر دینا 🔥
36.دوسروں کی عیب جوئی🔥
37. کفروشرک کی تصدیق🔥
38. معاشرت کے وقت بدنام کرنا🔥
39.کسی کی آواز کی نقل اتارنا 🔥
40.قسم کهانا🔥
⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕⭕
مہربانی فرماکر آگے بهیجیں.... تاکہ دوسرنکو بھی ان گناہوں سے نجات ملے اور آپ اس کے ثواب میں شریک ہوجائیں- شکریہ!
24/11/2022
💞✨✨🎀✨✨💞
*والدین کو عزّت دینے کے 35 طریقے*
🎀 *ضرور پڑھئیے* 🎀
🌸🔅🔅💞🔅🔅🌸
💟 والدین کی موجودگی میں اپنے *فون کو دور* رکھئیے۔
💟 انُ کی *باتوں کو توجہ* سے سنئیے۔
💟 انُ کی *رائے کو مقدم* رکھئیے۔
💟 انُ کی *گفتگو میں شامل* رہئیے۔
💟 انُ کو *عزّت سے دیکھئے۔*
💟 انُ کو ہمیشہ *تعظیم دیجئیے۔*
💟 انُ کے ساتھ *اچھی خبر شیئر* کیجئے۔
💟 ان کو *بُری خبر* بتانے سے *پرہیز* کیجئے۔
💟 ان کے *دوستوں کے بارے میں اچھی باتیں* کیجئے،اور ان سے *محبت* رکھئیے۔
💟 انُکی کی گئی *اچھی چیزوں کو اکثر یاد* کرتے رہیں۔
💟 انُ کی *دہرائ ہوئ باتوں* کو اس طرح سنئیے کہ گویا *پہلی بار* سنُ رہے ہوں۔
💟 ماضی کی *تلخ یادوں* کو ان ساتھ *کبھی نہ کیجئے*
💟 ان کی موجودگی میں کسی *دوسری گفتگو سے پرہیز* کیجئے۔
💟 ان کے سامنے *ادب سے بیٹھنے*
💟 انُ کی *رائے اور سوچ* کے متعلق *معمولی سا اختلاف بھی نہ کیجئے۔*
💟 جب وہ گفتگو کریں تو *انُکی بات کو مت کاٹئیے*
💟 انُ کی *عمر کا احترام* کیجئے۔
💟 انُ کے موجودگی میں اپنے بچّوں کو *نہ ڈانٹئے نہ مارنے* سے گریز کیجئے۔
💟 انُ کے *حکم اور مشورے* کو قبول کیجئے۔
💟 انُ کی موجودگی میں *صرف ان سے ہی راہنمائ* لیجئے۔
💟 انُ کے سامنے *اپنی آواز کو ہرگز اونچا نہ* ہونے دیجئے۔
💟 انُ کے ساتھ چلتے ہوئے انُ سے *آگے بڑھنے یا ان کے سامنے چلنے* سے پرہیز کیجئیے۔
💟 ان سے پہلے *کھانا شروع* مت کیجئے۔
💟 انُ کے سامنے خود کو *نمایاں* مت کیجئے۔
💟 جب وہ خود کو کسی قابل نہ سمجھیں تو ان کو *بتائیے کےوہ آپکے لئے قیمتی اور قانلِ احترام ہیں*
💟 انُ کے سامنے بیٹھتے ہوئے *اپنے پیر انُ کے سامنے مت کیجئے* اور نہ ہی *انُ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھیں*
💟 انُ کے ساتھ *بداخلاقی سے بات مت کیجئے جب دوسرے بھی انُ سے ساتھ بداخلاقی سے بات کر رہے ہوں*
💟 کوشش کیجئے کہ *انُ کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں شامل رکھئیے*
💟 انُ کی موجودگی میں *خود کو ہرگز بوُر اور تھکا ہوا ظاہر نہ کیجئے*
💟 انُ کی *غلطیوں اور بھول پر کبھی مت مسکُرائیے*
💟 *انُ کی زیارت* برابر کرتے رہئیے۔
💟 انُ سے بات کرتے وقت *بہترین الفاظ کا چناؤ کیجئیے*
💟 انُ کو *محبت بھرے ناموں سے پکاریے* جو وہ پسند کرتے ہیں۔
💟 انُ کو *ہر چیز پر مقدّم رکھئیے اور ترجیح دیجئے*
💝✨✨💞✨✨💝
💞 *والدین اس کرۂ ارض پر خزانہ ہیں۔سوچئیے اس سے پہلے کے یہ خزانہ دفن ہو جائے۔اپنے والدین کو عزّت دیجئیے جب تک وہ ہمارے پاس ہیں*
💞 *آئیے آج ہی اپنے قابلِ احترام و محبت والدین کے لئے ڈھیروں دعائیں کرتے ہیں*
✨💫✨💞✨💫
24/11/2022
💞کنواروں اور نو شادی شدہ کیلئے 5 اصول💞
💞شادی سے قبل یا شادی کے فوری بعد اپنی بیگم سے مشاورت کرکے پانچ باتیں بطور اصول اختیار کرلیں۔💞
۔
1۔ میں تم سے کوئی ایسی بڑی توقع وابستہ نہیں کروں گا جو میں خود تمہارے لئے نا کرسکوں۔ گویا اگر میں چاہتا ہوں کہ تم میرے والدین کو اپنے والدین جیسی عزت دو تو میں خود پہلے آگے بڑھ کر تمہارے والدین کو بھرپور عزت و مقام دوں گا۔ اگر میری خواہش ہے کہ تم خود کو "ان-فٹ" نا ہونے دو تو خود میں بھی اپنی "فٹنس" کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔
۔
2۔ ہم دوسرے گھروں یا رشتہ داروں سے اچھی باتیں سیکھیں گے ضرور مگر کبھی بھی ان کے خاندانی ماحول کو مکمل اپنا ماحول بنانے کی حماقت نہیں کریں گے۔ پھر چاہے وہ میرے والدین بہن بھائیوں کا گھر ہو یا تمہارے والدین بہن بھائیوں کا گھر۔ گویا اپنے گھر کا ماحول و مزاج ہم خود منفرد انداز میں ترتیب دیں گے۔
۔
3۔ ہر انسان مختلف صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ ہم اپنی ممکنہ اولاد کی انفرادی صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر اس کی تربیت کریں گے۔ کسی اور کی اولاد کو مثال بنا کر اپنی اولاد کی جداگانہ شخصیت کو مسخ نہیں ہونے دیں گے۔ پھر چاہے میرے بھتیجے بھانجے ہوں یا تمہارے۔
۔
4۔ اگر جھگڑا ہوجائے تو بھلے ایک دوسرے پر سیخ پا ہوں مگر کبھی بھی غصے میں ایک دوسرے کے گھر والو بالخصوص والدین کو گالی نہیں دیں گے اور نا ہی کبھی ہاتھ اٹھائیں گے۔
۔
5۔ غلطی بھلے کسی کی بھی ہو۔ معافی مانگنے میں دونوں سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے۔ انا کو ایک روز سے زیادہ دیوار نہیں بننے دیں گے۔ اگر ایک معافی مانگ لے تو دوسرا کوئی جملہ کسے بغیر اسے معاف کردے۔ چاہے یہ عمل کروڑ مرتبہ ہو مگر ایسے جملے نا کہے کہ سوری سے کچھ نہیں ہوتا۔ بلکہ فوری معافی قبول کرے اور دل بڑا کرکے خود بھی جوابی معافی مانگ لے۔ ایسے جھگڑوں میں غلطی اکثر دونوں جانب سے ہوتی ہے، بس کسی کی زیادہ ہوتی ہے تو کسی کی کم۔
۔
عزیزان من، ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ اگر آپ یہ پانچ اصول فی الواقع اپنا لیتے ہیں تو خوشحال اور محبت بھری ازدواجی زندگی آپ کی منتظر ہے...
24/11/2022
دلوں کو ہلا دینے والا واقعہ😭😭👇👇👇
ایک بار ضرور پڑہیں آنسوں نہ نکل آئیں تو کہنا 😭 اس تحریر کو ہر جگہ شیئر کریں کم از کم 15 گروپس میں تو لازمی
کوئے پتھر دل ہوگا جو پڑہ کر شیئر نہی کریگ
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن نوجوان ہے۔ آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ قلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛ اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ قلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ قلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ قلب فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔ دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟ میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔ یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ قلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛ اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛ بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔ آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔ بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛ اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔ یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.
😥😥💔💔
تحریر اچے لگے تو 15 یا 20 گروپس میں شیئر ضرور کریں ثواب کی نیت سے
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے ۔ میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں۔“
جزاک اللہ خیرا۔..
24/11/2022
*رشتوں میں محبت کیسے پیدا کریں... ؟*
1. ایک دوسرے کو سلام کریں - (مسلم: 54)
2. ان سے ملاقات کرنے جائیں - (مسلم: 2567)
3. ان کے پاس بیٹھنے اٹھنے کا معمول بنائیں ۔ - (لقمان: 15)
4. ان سے بات چیت کریں - (مسلم: 2560)
5. ان کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آئیں - (سنن ترمذی: 1924، صحیح)
6. ایک دوسرے کو ہدیہ و تحفہ دیا کریں - (صحیح الجامع: 3004)
7. اگر وہ دعوت دیں تو قبول کریں - (مسلم: 2162)
8. اگر وہ مہمان بن کر آئیں تو ان کی ضیافت کریں - (ترمذی: 2485، صحیح)
9. انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں - (مسلم: 2733)
10. بڑے ہوں تو ان کی عزت کریں - (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)
11. چھوٹے ہوں تو ان پر شفقت کریں - (سنن ابو داؤد: 4943، سنن ترمذی: 1920، صحیح)
12. ان کی خوشی و غم میں شریک ہوں - (صحیح بخاری: 6951)
13. اگر ان کو کسی بات میں اعانت درکار ہو تو اس کا م میں ان کی مدد کریں - (صحیح بخاری: 6951)
14. ایک دوسرے کے خیر خواہ بنیں - (صحیح مسلم: 55)
15. اگر وہ نصیحت طلب کریں تو انہیں نصیحت کریں - (صحیح مسلم: 2162)
16. ایک دوسرے سے مشورہ کریں - (آل عمران: 159)
17. ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں - (الحجرات: 12)
18. ایک دوسرے پر طعن نہ کریں - (الھمزہ: 1)
19. پیٹھ پیچھے برائیاں نہ کریں - (الھمزہ: 1)
20. چغلی نہ کریں - (صحیح مسلم: 105)
21. آڑے نام نہ رکھیں - (الحجرات: 11)
22. عیب نہ نکالیں - (سنن ابو داؤد: 4875، صحیح)
23. ایک دوسرے کی تکلیفوں کو دور کریں - (سنن ابو داؤد: 4946، صحیح)
24. ایک دوسرے پر رحم کھائیں - (سنن ترمذی: 1924، صحیح)
25. دوسروں کو تکلیف دے کر مزے نہ اٹھائیں - (سورہ مطففین سے سبق)
26. ناجائز مسابقت نہ کریں۔ مسابقت کرکے کسی کو گرانا بری عادت ہے۔ اس سے ناشکری یا تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں - (صحیح مسلم: 2963)
27. نیکیوں میں سبقت اور تنافس جائز ہےجبکہ اس کی آڑ میں تکبر، ریاکاری اور تحقیر کارفرما نہ ہو -
28. طمع ، لالچ اور حرص سے بچیں - (التکاثر: 1)
29. ایثار و قربانی کا جذبہ رکھیں - (الحشر: 9)
30. اپنے سے زیادہ آگے والے کا خیال رکھیں - (الحشر: 9)
31. مذاق میں بھی کسی کو تکلیف نہ دیں - (الحجرات: 11)
32. نفع بخش بننے کی کوشش کریں - (صحیح الجامع: 3289، حسن)
33. احترام سے بات کریں۔بات کرتے وقت سخت لہجے سے بچیں - (آل عمران: 159)
34. غائبانہ اچھا ذکر کریں - (ترمذی: 2737، صحیح)
35. غصہ کو کنٹرول میں رکھیں - (صحیح بخاری: 6116)
36. انتقام لینے کی عادت سے بچیں - (صحیح بخاری: 6853)
37. کسی کو حقیر نہ سمجھیں - (صحیح مسلم: 91)
38. الله کے بعد ایک دوسرے کا بھی شکر ادا کریں - (سنن ابو داؤد: 4811، صحیح)
39. اگر بیمار ہوں تو عیادت کو جائیں - (ترمذی: 969، صحیح)
40. اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو جنازے میں شرکت کریں - (مسلم: 2162)
اگر کوئی بھی تحریر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس سے فاںٔدہ اٹھا پائیں
جزاك اللهُ
24/11/2022
میدان عرفات میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے 9 ذی الجہ ، 10 ہجری (7 مارچ 632 عیسوی) کو آخری خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں،
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔ برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
*نوٹ*: اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں، عمل کریں اور اس پیغام کو سمجھنے والے بنیں ۔ اور اس کو آگے پھیلا کر اللہ کی رحمت و محبت کے حقدار بنیں، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی اکرم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اکٹھا کرے، آمين_.*
23/11/2022
میری پیاری بہنوں کے نام
☝🏼
مقبل بن هادی الوادعيؒ فرماتے ہیں کہ:
کیا آپ جانتے ہیں؟
حضرت عائشہؓ کی کوئی اولاد نہیں تھی اس کے باوجود بھی کتب السنة النبوية میں ایسا کوئی اثر نہیں ملتا کہ عائشہؓ نے کبھی رسول اکرم ﷺ سے یہ کہا ہو کہ آپ میرے لئے اولاد کی دُعا کریں !!
کیا آپ جانتے ہیں؟
نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت ام المؤمنین عائشہؓ کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی، یعنی آپؓ نبی اکرمﷺ کے بعد 47 سال زندہ رہیں، رسول اکرمﷺ آپؓ سے بے انتہا، بے لوث محبت کرتے تھے، اور آپ انتہائی غیرت والی تھیں،ان سب کے باوجود آپؓ نے اپنی زندگی اسی رنج وغم میں یوں ہی نہیں گُزار دی بلکہ خُود کو علم وعبادت میں مشغول رکھا اور کبار صحابہ کرام کی معلمہ، مثقفہ اور مفتیہ بنی رہیں۔
یاد رکھیں۔۔۔☝🏼
زندگی کا انحصار صرف ان ہی چیزوں پر ہرگز نہیں ہے ؛
🥀نہ اولاد پر
🥀نہ شادی پر
🥀نہ گھر پر
🥀نہ مال پر
اور نہ ہی ان چیزوں سے زندگی رُک سکتی ہے
نہ ہی والدین کے گزر جانے سے اور نہ ہی اولاد کے نہ ہونے سے زندگی رک سکتی ہے۔
ﷲ رب العزت جو کچھ واپس لیتا ہے اسکے بدلے اس سے بہتر چیزوں سے نوازتا ہے(نعم البدل عطاء کرتا ہے)۔
اور یہ دُنیا مکمل طور پر کسی کو بھی نہیں ملتی ہے بلکہ یہ تو ایک آزمائش گاہ ہے۔
لہٰذا اپنے دِلوں کو ایمان سے،
ﷲ رب العزت کی رضا سے،
اور اسکے ساتھ حُسنِ ظن سے معمور کریں،
اور اپنے وقت کو طلبِ علم اور ان کاموں میں لگائیں جو آپکے لئے اور آپکے معاشرے کے لئے دُنیوی اور اخروی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہوں۔
صبر کو اپنا توشہ اور قرآن کو اپنا ساتھی بنالیں۔۔۔☝🏼
فرمان باری تعالیٰ ہے:
{مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} ہم نے قرآن کو آپکے لئے بطورِ تکلیف نہیں اُتارا. [طه:2]
کسی بھی انسان کے لئے قطعاً یہ مناسب نہیں کہ وہ فارغ رہے،
اس لئے کہ شیطان ایسے انسان پر بُرے خیالات کے ذریعے مُسلط ہوتا ہے جو فارغ ہو۔
پس اسکے لئے ضروری ہے کہ وہ خُود کو خیر کے کاموں میں مشغول رکھے تاکہ اس کا نفس اسے ضرر میں مبتلا نہ کر سکے۔
آخر میں ایک ۔۔۔
"قابل عمل اور اہم بات "
ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم نیکوکاروں کی صحبت اور مجالس کو لازم پکڑیں،
کیونکہ اس سے ایمان میں،
علم میں ،
اور بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔۔۔☝🏼
جو کہ یقیناً خاتمہ بالخیر کا ضامن ہے☝🏼
مثبت اعمال اپنائیں۔۔۔
منقول