امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات ایک نہایت اہم مگر پیچیدہ موضوع ہے، جس کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں میں، خاص طور پر پچھلے سات سالوں کے دوران، خطے میں جاری کشیدگی اور محدود نوعیت کی جھڑپوں نے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ اس دوران امریکہ کی دفاعی صنعت، خصوصاً اسلحہ سازی کے شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچا، کیونکہ جنگی حالات میں اسلحہ کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی و ہتھیاروں کے آرڈرز بھی بڑھتے ہیں۔
اسی تناظر میں یہ خیال سامنے آتا ہے کہ بعض اوقات جنگ یا کشیدگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے ایک مخصوص سطح پر برقرار رکھا جاتا ہے، تاکہ اس سے اسٹریٹجک اور معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ ایران کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات، خاص طور پر دفاعی اور صنعتی شعبوں میں، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسے دوبارہ اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وقت، سرمایہ اور استحکام درکار ہوگا۔
ایسے حالات میں اگر امریکہ مذاکرات کی طرف آتا ہے، تو یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ واقعی امن کے قیام کے لیے ہے یا ایک حکمت عملی کے تحت وقتی وقفہ لینے کے لیے، تاکہ ایران کو کمزور پوزیشن میں رکھا جا سکے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے مفادات کو مزید مستحکم کر سکیں۔ اگر جنگ بغیر کسی واضح اور ٹھوس نتیجے کے رک جاتی ہے، تو اس سے بظاہر زیادہ فائدہ امریکہ کو ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ اپنی اسٹریٹجک برتری کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کو بحالی کے طویل عمل میں مصروف دیکھے گا۔
مزید یہ کہ اگر ایران اس مرحلے پر واضح اور مضبوط موقف اختیار نہیں کرتا، تو یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ مستقبل میں ایسے حملے ایک معمول بن سکتے ہیں۔ یعنی اگر ایران دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن حاصل بھی کر لے، تو امریکہ اور اسرائیل اسی طرزِ عمل کو دہراتے ہوئے دوبارہ حملے کر سکتے ہیں، تاکہ ایران کو مسلسل کمزور رکھا جائے اور اسے آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔ اس طرح کی حکمت عملی سے ایک خطرناک رجحان پیدا ہو سکتا ہے، جہاں وقفے وقفے سے حملے کر کے ایران کو بار بار پیچھے دھکیلا جائے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق ایران کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کسی بھی دباؤ میں آ کر مذاکرات نہ کرے، بلکہ پہلے اپنے نقصانات کا ازالہ کرے، اپنی داخلی و دفاعی پوزیشن کو مستحکم بنائے، اور پھر کسی مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کی میز پر آئے۔ مذاکرات اسی وقت بامعنی ہو سکتے ہیں جب نقصانات کا ازالہ کیا جائے، واضح ضمانتیں دی جائیں، اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
نتیجتاً، پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات محض وقتی مفادات یا دباؤ کے تحت نہ ہوں، بلکہ انصاف، توازن اور باہمی ذمہ داری کی بنیاد پر کیے جائیں، تاکہ خطے میں دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔
Peshawar Gulona
1)entertainment
2)politics
3) Sports
4) Pashtoon voice
5) peace
6) Guidance https://www.facebook.com/112586743746501/posts/253879482950559/
جنگ پاکستان پہنچنے والی ہے ؟
جنگیں ہمیشہ ان ملکوں اور معاشروں کے لیے بربادی لاتی ہیں جو اس میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ قومیں اس کی بھاری جانی مالی قیمیت ادا کرتی ہیں جو دوسروں پر وہ جنگ مسلط کرتی ہیں یا جن پر کی جاتی ہے۔
ہم پاکستانی بھی جنگ کے بڑے شوقین ہیں لیکن وہی بات کہ جنگ دور سے ٹی وی سکرین سے اچھی لگتی ہے۔ اپنے گھر میں جنگ کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی رہی ہے کہ ایسی جنگیں یہاں نہیں لڑی گئیں جیسے ایران، افغانستان، لبنان، لبیا، شام، عراق میں لڑی گئی ہیں۔ لہذا ہمارے ہاں جنگ کا ابھی بھی رومانس باقی ہے۔
لگتا ہے اگر ایران امریکہ جنگ فوری طور پر بند نہ ہوئی تو یہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس کا پہلا عندیہ سامنے آگیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیردفاع کی پاکستان کے فیلڈ مارشل سے ملاقات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ سعودی عرب اب آپ سے اس معاہدے کے تحت آپ سے اپنا دفاع مانگ رہا ہے جو ہم نے پچھلے سال کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر تصور ہوگا۔
اب اس معاہدے کے تحت پاکستان کو اگر سعودی عرب ریکوسٹ کرتا ہے تو آپ کو شامل ہونا پڑے گا۔ انکار کی شکل میں آپ جنگ سے تو بچ جائیں گے اور اپنے شہریوں کو بچا لیں گے لیکن سعودی عرب جیسے قابل بھروسہ ملک، پرانی دوستی اور تعلق کو کھو بیٹھیں گے۔
اور اگر آپ جنگ کو جوائن کرتے ہیں تو ایران پاکستان پر بھی وہی حملے شروع کرسکتا ہے جو مڈل ایسٹ کی دیگر ریاستوں پر کررہا ہے۔ جوابا پاکستان بھی ایران پر حملے کرسکتا ہے اور یوں جہاں دونوں ملک براہ راست جنگ میں ہوں گے وہاں ان کے سویلین بھی خطرے میں ہوں گے۔
پاکستان کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ ایران کو روکے کہ وہ سعودی عرب پر حملے نہ کرے لیکن ایرانی اس بات پر غصے میں ہیں کہ امریکی اخبار کی رپورٹ مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے لیے اکسانے والے سعودی تھے جس میں ان کی ٹاپ لیڈرشپ ختم ہوگئی۔
سعودی اس کی تردید کرچکے ہیں۔
دوسرے ایران کی وہ سب اعلی قیادت جس کے پاکستان سے تعلق تھے یا جن سے ہم بات کرسکتے تھے وہ ختم ہوچکی ہے۔ وہاں اب شاید یونٹی آف کمانڈ بھی نہیں ہے جو ایسے بڑے فیصلے کر سکے۔ وہاں لگتا ہے کئی مزاحمتی گروپس اب اپنے اپنے فیصلے کر رہے ہیں ۔
بہرحال پاکستان ایک بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ ہم ہمیشہ سے عرب عجم کی اس صدیوں پرانی لڑائی میں توازن قائم کرنے کی کوششوں میں ہی لگے رہے اور دونوں ہی ہم سے خوش نہ ہوئے۔
سعودی عرب پاکستان کے لیے بہت بڑی معاشی لائف لائن ہے تو ایران بھی بہت اہم ہے کہ ان کے سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھنے والے تین چار کروڑ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہوگا ورنہ ہمارے ہاں داخلی طور پر خطرناک صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔
ایران اس وقت اس موڈ میں نہیں لگ رہا کہ وہ کسی کی بات سنے گا کہ اس کے اپنے ہاں بہت لیڈرشپ اور جانی نقصان ہوچکا ہے۔ ایران اس وقت اس موڈ میں ہے کہ صنم ہم تو ڈوبے ہیں تجھے بھی لے ڈوبیں گے۔
ایران کو شاید یہ بھی لگتا ہے یہ اچھا موقع ملا ہے عربوں عجموں کی پرانی جنگوں کے سکور سیٹل کیے جائیں۔ عرب/ ایران یا سعودی ایران نفرت بہت پرانی ہے۔
ایران اور سعودی عرب چالیس پچاس سال سے اس خطے کے ممالک میں مسلک کے نام پر پراکسی جنگیں لڑتے آئے ہیں لہذا خطرہ ہے وہ پہلی دفعہ یہ پراکسی کا تکلف ختم کر کے براہ راست جنگ لڑیں۔
اب اگر فیلڈ مارشل ایران کو سعودی عرب پر حملوں سے نہ روک سکے تو ہمیں جنگ جوائن کرنی ہوگی یا سعودی عرب کو کھونا ہوگا۔
ہمارا وہی حال ہے اس وقت آگے سمندر تو پیچھے کھائی ہے۔۔
(تحریر/رئوف کلاسرا)
بھارت پاکستان کی سرحد کے ساتھ 5 مارچ سے ھوایی مشق کیوں شروع کر رھے ھیں ۔؟ کیا اسرائیل کی معاونت ھے کہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ ایران پر بمباری کرکے پاکستان کو مشرقی سائیڈ پر انگیج کیا جایے ؟
کتنا اچھا ھو تا آج مسلم ایک صف پہ کھڑے ہو تے
Iran’s Larijani refutes claims Tehran pushed to resume US talks
سوال یہ نہیں کہ ایران نے مشرق وسطی میں دشمن کے اڈوں پر حملہ کیا۔
سوال یہ ہے کہ دشمن کے اڈے مشرق وسطٰی میں کیوں ہیں؟؟
Breaking News;🚨
Iranian missile strike on Israel’s Beit Shemesh kills nine people
🚨🚨🚨Alert..
Pakistan news channel were hacked by hackers.
🚨 Breaking News...
Iran fired 4 ballistic missile on Ibrahim Lincoln
Iranian supreme leader martyard but can't bow down.
Resistant always win .
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Opening Hours
| Monday | 10:00 - 12:30 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |