كلية أم المؤمنين سيده عائشه رضي الله تعالى عنها

  • Home
  • Egypt
  • Cairo
  • كلية أم المؤمنين سيده عائشه رضي الله تعالى عنها

كلية أم المؤمنين سيده عائشه رضي الله تعالى عنها Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from كلية أم المؤمنين سيده عائشه رضي الله تعالى عنها, Education Website, Cairo.

اعلان تحريرى انعامي مقابلہ 🌸 کلیۃ أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات 🌸بکمالِ فخر و شرف پیش کرتا ہے✨ عظیمُ...
01/11/2025

اعلان تحريرى انعامي مقابلہ
🌸 کلیۃ أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات 🌸
بکمالِ فخر و شرف پیش کرتا ہے
✨ عظیمُ الشّان تحریری انعامی مقابلہ ✨
📅 مقالہ جمع کرانے کی آخری تاریخ: 15 نومبر 2025ء

📖 موضوعِ مقابلہ:

"أمُّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا –کا علمی مقام و مرتبہ"

وہ ہستی جن کی زبانِ مبارک سے علم کے چشمے پھوٹے،
جن کے فہم و اجتہاد سے امت نے رہنمائی پائی،
جن کے علم سے آفاقِ شریعت منوّر ہوئے —
آئیے! قلم اُٹھائیں اور اپنی تحریر سے محبتِ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو امر کر دیں۔

✨ قلم وہی معتبر ہے جو صدیقہ کی سیرت سے تر ہو، اور دل وہی زندہ ہے جو اُن کی عظمت سے روشن ہو۔ ✨

🏆 انعاماتِ مقابلہ:

🥇 اوّل انعام: 2000 روپے + شیلڈ + سرٹیفیکیٹ
🥈 دوم انعام: 1500 روپے + شیلڈ + سرٹیفیکیٹ
🥉 سوم انعام: 1200 روپے + شیلڈ + سرٹیفیکیٹ

🪶 تمام شرکات کو سرٹیفیکیٹِ شرکت سے نوازا جائے گا۔

📚 شرائطِ شرکت:

درسِ نظامی میں زیرِ تعلیم تمام طالبات شرکت کی اہل ہیں۔

مقالہ خالص اپنی تحریر میں، صاف اور خوشخط لکھا جائے۔

مقالہ کے ساتھ نام، درجہ، اور رابطہ نمبر ضرور درج کیا جائے۔

آخری تاریخ: 15 نومبر 2025ء
📞 رابطہ برائے شرکت:
8126521270
8858199704
العلم ميراثُ الأنبياء، ومَن كتب في حبّ الصديقة نال من نور النبوة قبسًا."
علم و ادب کے چراغ جلائیے،
اور اپنی تحریر سے یہ پیغامِ صدیقہ رضی اللہ عنہا امت کے دلوں تک پہنچائیے —
کہ عورت کا وقار، اس کا علم، اور اس کی طہارت ہی اس کا حقیقی شرف ہے۔
شعبۂ نشر واشاعت: کلیہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا للبنات۔

📢 *اعلان برائے تحریری مقابلہ* 📢بموقعہ  ١٥٠٠ سالہ عید میلاد النبی ﷺ، تمام مدارس اسلامیہ کی طالباتِ کرام (اعدادیہ تا فضیلت...
04/09/2025

📢 *اعلان برائے تحریری مقابلہ* 📢
بموقعہ ١٥٠٠ سالہ عید میلاد النبی ﷺ، تمام مدارس اسلامیہ کی طالباتِ کرام (اعدادیہ تا فضیلت) کے درمیان ایک دینی تحریری مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے، کہ طالبات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کو زیب قرطاس کر کے انعام واکرام کی حق دار بنیں۔
✨ *موضوعات* :
١. میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کی حکمت وجواز اور فائدے۔
٢. حضور ﷺ کا بچوں اور خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک
٣. "میں اپنے آقا ﷺ سے محبت کیسے ظاہر کروں؟"
(آپ کسی ایک موضوع پر طبع آزمائی کر سکتی ہیں)
📚 *مقالات کے لیے مصادر و مراجع* :
تراجم قرآن و تفاسیر۔
احادیث کی کتب۔
شمائل محمدی للترمذی۔
مدارج النبوۃ لعبد الحق محدث دہلوی۔
سیرت مصطفی ﷺ لعبدالمصطفیٰ اعظمی۔
الوفاء بأحوال المصطفی ﷺ لابن جوزی۔
آپ کے پاس موجود سیرت کی کتب۔
📌 *بقیہ قواعد و ضوابط* :
١.ہاتھ سے لکھیں تو خوش خط، صاف لکھیں، غیر ضروری باتوں سے اجتناب کریں۔
٢.ججوں کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا جو اندازِ بیان، فکری پختگی اور مواد کی کثرت کو سامنے رکھ لیں گے۔
🏆 *انعامات* :
انعامات کی تفصیل پوسٹر میں دیکھیں۔
یاد رہے کہ اعلیٰ نمبر لانے والی طالبات کو بھی سرٹیفکیٹ سے نوازا جائے گا۔
👧✨ مقابلے کا مقصد دلوں میں محبتِ رسول ﷺ راسخ کرنا، اور آپ کی سیرت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈالنے کی ترغیب دینا ہے۔
صرف لڑکیوں کے لیے:
https://chat.whatsapp.com/KFiJN7Rq1iv82383zIKm46?mode=ems_copy_t
*انتظامیہ: کلیہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا للبنات*

05/06/2025
📍📚📍عصرِ حاضر کے فقہی مسائل: ایک جامع اور مختصر جائزہ📍📚📍عصرِ حاضر کے فقہی مسائل فقہ اسلامی کے سامنے نمایاں چیلنج کی حیثیت...
22/04/2025

📍📚📍عصرِ حاضر کے فقہی مسائل: ایک جامع اور مختصر جائزہ📍📚📍

عصرِ حاضر کے فقہی مسائل فقہ اسلامی کے سامنے نمایاں چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مسائل جدید سائنسی، سماجی اور تکنیکی ترقیات کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کرتے ہیں، ساتھ ہی شریعتِ اسلامی کے ثابت شدہ اصولوں کی پابندی بھی ضروری ہے۔ ان مسائل کا دائرہ کار طب، معیشت، ٹیکنالوجی، خاندان اور ماحولیات جیسے مختلف میدانوں پر محیط ہے۔ اس مضمون میں ہم ان اہم مسائل کا مختصر جائزہ اور ان کی وضاحت کے لیے مثالیں پیش کریں گے۔

🔵طبی مسائل:
یہ وہ مسائل ہیں جو طبی میدان میں ہونے والی ترقیات اور ان کے شرعی اطلاق سے متعلق ہیں:
مصنوعی بار آوری اور ٹیسٹ ٹیوب بے بی: شوہر اور بیوی کے درمیان مصنوعی بار آوری جائز ہے بشرطیکہ کسی تیسرے فریق کا نطفہ یا بیضہ استعمال نہ ہو۔
مثال: ایک بانجھ جوڑا اس طریقہ کار سے بچے کی نعمت حاصل کرتا ہے۔
اعضاء کی پیوندکاری: اعضاء کی پیوندکاری جائز ہے بشرطیکہ عطیہ دینے والے کی رضامندی ہو یا (موت کی صورت میں) اس کے وارثوں کی اجازت حاصل ہو، اور عطیہ دہندہ کو نقصان نہ پہنچے۔
مثال: ایک زندہ شخص اپنا (گردہ) کسی مریض کی جان بچانے کے لیے عطیہ کرتا ہے۔
کلوننگ اور جینیاتی ترمیم: انسانی کلوننگ حرام ہے کیونکہ یہ اللہ کی تخلیق میں تغیر اور اخلاقی خطرات پر مشتمل ہے، جب کہ بیماریوں کے علاج کے لیے جینیاتی ترمیم مخصوص شرائط کے ساتھ جائز ہو سکتی ہے۔
مثال: وراثتی بیماری جیسے سیکل سیل انیمیا کے علاج کے لیے جینیاتی تبدیلی۔

🔵اقتصادی مسائل:
یہ مسائل مالیاتی میدان میں پیدا ہونے والی نئی صورتوں سے متعلق ہیں:
بینکاری معاملات اور سود: روایتی بینکوں کے سودی لین دین حرام ہے، جبکہ اسلامی بینک مرابحہ اور شرکت جیسی متبادل صورتیں فراہم کرتے ہیں۔
مثال: ربوی قرض کے بجائے مرابحہ کے ذریعے مکان کی خریداری۔
ڈیجیٹل کرنسیاں: بٹ کوائن جیسی کرنسیاں بعض علماء کے نزدیک تبادلے کا جائز ذریعہ ہیں بشرطیکہ وہ استحکام اور دھوکہ دہی سے پاک ہوں، جبکہ بعض دیگر علماء ان کی حرمت کے قائل ہیں۔
مثال: آن لائن خریداری میں بٹ کوائن کا استعمال۔
تجارتی انشورنس: روایتی انشورنس میں غرر (غیر یقینی) ہونے کی وجہ سے اسے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، لہٰذا اسلامی تعاونی انشورنس کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مثال: گاڑیوں کے لیے تعاونی انشورنس سکیم۔

🔵سماجی اور خاندانی مسائل:
یہ مسائل عصرِ حاضر میں خاندان اور معاشرتی تعلقات سے متعلق ہیں:
الیکٹرانک طلاق: میسج یا ای میل کے ذریعے طلاق کا مسئلہ اختلافی ہے؛ بعض علماء زبانی طلاق یا مجلس کی موجودگی کو ضروری قرار دیتے ہیں۔
مثال: شوہر کا واٹس ایپ کے ذریعے طلاق بھیجنا۔
نکاحِ مسیار: ایسا نکاح جس میں میاں یا بیوی بعض حقوق (جیسے ایک ساتھ رہائش) سے دستبردار ہو جائیں، بعض علماء کی نظر میں شرعی شرائط کے ساتھ جائز ہے جبکہ بعض اسے خاندانی استحکام کے لیے مضر سمجھتے ہیں۔
مثال: عورت اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے مسیار نکاح کرتی ہے۔
خواتین کے کام کرنے کا حق: عورت کا کام کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرعی حدود، جیسے پردہ اور حرام اختلاط سے بچاؤ، کا خیال رکھا جائے۔
مثال: ایک خاتون انجینئر، پردے کی مکمل پابندی کے ساتھ مخلوط ماحول میں کام کر رہی ہے۔

🔵تکنیکی مسائل:
یہ مسائل ٹیکنالوجی کے جدید اثرات سے متعلق ہیں:
مصنوعی ذہانت: عدالتی یا طبی فیصلوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے انصاف اور غیر جانب داری کی شرعی ضمانت ضروری ہے۔
مثال: بیماریوں کی تشخیص میں معاونت کرنے والا ایک اے آئی سسٹم۔
ورچوئل رئیلٹی: تعلیم یا تفریح میں ورچوئل رئیلٹی کا جائز استعمال ممکن ہے، لیکن اس کے ذریعے حرام مناظر کی ترویج سے اجتناب ضروری ہے۔
مثال: تعلیمی مقاصد کے لیے حج کی ورچوئل تربیت۔
ڈیجیٹل پرائیویسی: دوسروں کے ذاتی ڈیٹا کی جاسوسی یا چوری ناجائز ہے، سوائے شرعی استثنائی ضرورتوں کے۔
مثال: کسی کمپنی کا صارفین کی معلومات بلا اجازت حاصل کرنا۔

🔵ماحولیاتی مسائل:
یہ مسائل قدرتی ماحول کے تحفظ اور وسائل کے استعمال سے متعلق ہیں:
ماحولیاتی آلودگی: ماحولیاتی نقصان شرعاً ممنوع ہے کیونکہ اس سے انسانوں اور مخلوقات کو ضرر پہنچتا ہے۔
مثال: کسی فیکٹری کا دریاؤں میں فضلہ ڈالنا۔
قدرتی وسائل کا استعمال: پانی اور توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری اور تحفظ کی ترغیب دی گئی ہے۔
مثال: زراعت میں پانی کے کم استعمال سے متعلق آگاہی مہم۔
ماحولیاتی تبدیلی: کاربن کے اخراج میں کمی کرنا معروف عمل ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے۔
مثال: ایندھن کے بجائے شمسی توانائی کا استعمال۔

🔵سیاسی اور قانونی مسائل:
یہ وہ مسائل ہیں جو حکومت، سیاست اور قانون سازی سے متعلق ہیں:
جمہوریت اور شوریٰ: بعض علماء کے نزدیک جمہوریت، اگر شریعت سے ہم آہنگ ہو، تو شوریٰ کا جدید انداز ہو سکتی ہے۔
مثال: اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے والے پارلیمانی انتخابات۔

🔵انسانی حقوق:
شریعت انسانی حقوق جیسے عدل، آزادی اور جان کے تحفظ کی تاکید کرتی ہے، البتہ جنس اور مذہب کی بنیاد پر بعض فرق روا رکھتی ہے۔
مثال: اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ۔
جہاد اور دہشت گردی: جہاد دفاع یا دین کی حفاظت کے لیے مشروع ہے، لیکن دہشت گردی جس میں معصوم جانیں ضائع ہوں، سختی سے حرام ہے۔
مثال: قبضے کے خلاف جائز مزاحمت اور شہریوں کے قتل میں فرق۔
عصرِ حاضر کے فقہی مسائل، فقہ اسلامی کی جدید چیلنجز سے ہم آہنگی کی عملی تصویر ہیں۔ یہ تقاضا کرتے ہیں کہ علماء اجتماعی اجتہاد کے ذریعے ایسے متوازن حل پیش کریں جو شریعت کی اساس کو برقرار رکھتے ہوئے زمانے کی تبدیلیوں کا مؤثر جواب دیں۔ ان مسائل سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے، اور امت کی بھلائی کے لیے اس میدان میں کام جاری رہنا چاہیے۔ فقہی ادارے اور دینی تنظیمیں اس حوالے سے راہنمائی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں تاکہ شریعت کا عادلانہ اور رحمدلانہ نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا: فقہ و اجتہاد میں بلند علمی مقامحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی زوجۂ مطہرہ ہو...
07/04/2025

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا: فقہ و اجتہاد میں بلند علمی مقام

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی زوجۂ مطہرہ ہونے کا شرف حاصل تھا، بلکہ وہ علم، فہم، اور اجتہاد میں بھی ایک ممتاز ترین مقام رکھتی تھیں۔ ان کی فقہی بصیرت اور مسائلِ شریعت میں مہارت نے انہیں عصرِ اولیٰ کی عظیم فقیہہ بنا دیا۔

علمی مقام و رجوعِ صحابہ

حضرت عائشہؓ نے تقریباً 2210 احادیث روایت کیں، جن میں بہت سی احادیث فقہی نوعیت کی ہیں۔ مشہور تابعی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

> "ما أشكل علينا أصحاب رسول الله ﷺ حديث قط، فسألنا عائشة إلا وجدنا عندها منه علماً"
(سنن الترمذی، حدیث: 3883)

ترجمہ: "ہمیں جب کبھی کوئی حدیث یا مسئلہ سمجھ نہ آتا تو ہم حضرت عائشہؓ سے رجوع کرتے اور ان کے پاس اس کا علم پاتے۔"

اجتہاد اور مثالیں

1. غسلِ جنابت کے مسئلہ میں اجتہاد

جب ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا عورت کو بھی اح**ام ہو سکتا ہے؟ تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا:

> "نعم، فلتغتسل إذا رأت الماء"
(صحیح مسلم، کتاب الحیض، حدیث: 313)

"ہاں، جب وہ (مادہ) دیکھے تو غسل کرے۔"

یہ اجتہاد نہ صرف عورتوں کے فقہی مسائل میں رہنمائی ہے بلکہ اس دور میں ایسے سوال کو قبول کرنا بھی ایک عظیم دینی بصیرت کی علامت ہے۔

2. روزے میں بوسہ دینا جائز ہے؟

حضرت عائشہؓ نے فرمایا:

> "كان النبي ﷺ يُقبّل وهو صائم، وكان أملكَكم لإربه"
(صحیح بخاری، حدیث: 1927)

ترجمہ: "نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے، اور وہ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔"

اس سے فقہاء نے اجتہادی اصول اخذ کیا کہ اگر شہوت کا اندیشہ نہ ہو تو روزے میں بوسہ دینا جائز ہے۔

اصلاحِ فتاویٰ اور علمی جرأت

کئی مواقع پر حضرت عائشہؓ نے بعض صحابہ کے فتوے یا فہم کی اصلاح بھی کی۔
مثلاً، حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: "میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔"
حضرت عائشہؓ نے فرمایا:

> "رحم الله عمر، والله ما قال رسول الله ما يقولون، وإنما قال..."
(صحیح بخاری، حدیث: 1288)

ترجمہ: "اللہ عمر پر رحم کرے، نبی ﷺ نے یہ نہیں کہا جو تم لوگ کہتے ہو..."

اس کے بعد انہوں نے حدیث کا صحیح مطلب واضح کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فقہ میں مہارت، حدیث فہمی، اور اجتہادی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہیں کہ عورت بھی دینی علم میں اعلیٰ مقام پا سکتی ہے۔ آپ کی علمی خدمات آج بھی اسلامی فقہ کی بنیادوں میں شامل ہیں، اور اہلِ علم ان کے اقوال کو دلیل کے طور پر قبول کرتے ہیں۔

06/04/2025

"موجودہ دور میں دینی تعلیم کی اہمیت و ضرورت: ہندوستان کے حالات کے پس منظر میں"
موجودہ دور میں دینی تعلیم کی اہمیت و ضرورت: ہندوستان کے حالات کے پس منظر میں

دینی تعلیم ہر دور میں انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بالخصوص جب ہم موجودہ دور کی بات کرتے ہیں، جہاں مادّی ترقی، اخلاقی انحطاط، اور فکری انتشار عام ہو چکا ہے، وہاں دینی تعلیم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب، کثیرالسان اور متنوع ثقافتوں والے ملک میں دینی تعلیم کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے، تاکہ مسلمان اپنی شناخت، اقدار اور تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھ سکیں۔

موجودہ دور کے چیلنجز

موجودہ زمانہ مادیت پرستی، سوشل میڈیا کی یلغار، اور فکری انتشار کا دور ہے۔ نئی نسل خاص طور پر ایسے نظریاتی خلفشار کا شکار ہے جہاں دینی شعور اور اسلامی طرزِ زندگی کو دقیانوسی سمجھا جا رہا ہے۔ تعلیم کا مقصد محض دنیاوی کامیابی اور معاشی ترقی بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں اخلاقیات، روحانیت اور انسان دوستی کے عناصر کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کا مخصوص پس منظر

ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی اقلیت ہیں، جنہیں مختلف سیاسی، سماجی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسلاموفوبیا، فرقہ واریت، اور تعلیمی پسماندگی جیسے مسائل نے مسلمانوں کو کمزور کیا ہے۔ ایسے حالات میں دینی تعلیم نہ صرف مذہبی شعور بیدار کرتی ہے بلکہ ایک مسلمان کو اپنے دین، تہذیب اور اقدار سے جوڑتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ معاشرے میں باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔

دینی تعلیم کی افادیت

1. اخلاقی تربیت: دینی تعلیم انسان کے کردار کو سنوارتی ہے۔ ایمانداری، صبر، عفو، عدل، مساوات اور احسان جیسے اوصاف اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں، جو معاشرتی امن و بھائی چارے کے لیے ضروری ہیں۔

2. تشخص کی حفاظت: دینی تعلیم مسلمان نوجوانوں کو اپنی شناخت اور اسلامی تہذیب کا شعور دیتی ہے، جس سے وہ مغربی ثقافت کی اندھی تقلید سے بچتے ہیں۔

3. سماجی ہم آہنگی: دین اسلام عدل، رواداری اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ دینی تعلیم دیگر مذاہب کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصول سکھاتی ہے، جو ہندوستان جیسے ملک کے لیے ناگزیر ہیں۔

4. مذہبی آزادی کا تحفظ: جب مسلمان دینی لحاظ سے باشعور ہوتے ہیں تو وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کرنا جانتے ہیں۔ یہ دینی شعور ہی ہے جو آئینی حدود میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی کے دفاع کا جذبہ فراہم کرتا ہے۔

مدارس کی خدمات:

ہندوستان میں ہزاروں مدارس دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف اسلامی علوم کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ بہت سے مدارس نے عصری علوم کو بھی اپنے نصاب کا حصہ بنا لیا ہے، تاکہ طلبہ دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ ان مدارس نے قوم کو ایسے علماء، قاضی، خطباء اور دینی رہنما دیے ہیں جو ملت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

عصری تعلیم کے ساتھ توازن:

دینی تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے تعلیمی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا جو دین و دنیا کا حسین امتزاج ہو، تاکہ ہمارے نوجوان نہ صرف دینی طور پر مضبوط ہوں بلکہ موجودہ دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ بھی کر سکیں۔
خلاصہ یہ ہے، موجودہ دور میں، خصوصاً ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی ملک میں، دینی تعلیم محض مذہبی فریضہ نہیں بلکہ قومی اور معاشرتی ضرورت بھی ہے۔ یہ تعلیم نئی نسل کو فکری استحکام، اخلاقی بلندی اور روحانی تسکین فراہم کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دینی تعلیم کو فروغ دیں، اس کے اداروں کی قدر کریں، اور ایسے تعلیمی ماڈل اپنائیں جو ہمارے بچوں کو صالح، باعمل اور بااخلاق شہری بنا سکیں۔

Address

Cairo

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when كلية أم المؤمنين سيده عائشه رضي الله تعالى عنها posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share