our_imaan

our_imaan

Teilen

Knowledge of islam in the light of quran & hadith

13/04/2025

02/04/2025

7047
Chapter 93 The Book Of The Interpretation Of Dreams
Book Sahih Bukhari
Hadith No 7047
Baab Khuwab Ki Tabeer Ka Bayan Mein
URDU
مجھ سے ابوہشام مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے، ان سے ابورجاء نے، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور

🌸نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟

فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو، آگے بڑھو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا۔ ( عوف نے ) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء ( راوی حدیث ) نے «فيشق» کہا، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ ( اس طرح برابر ہو رہا ہے )

فرمایا کہ میں نے کہا سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو، ( ابھی کچھ نہ پوچھو ) چنانچہ ہم آگے چلے پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی۔ کہا کہ پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟

فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟
فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا چلو آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے یہ بچے کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو آگے چلو فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھئیے ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا۔ وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی اس کا پانی انتہائی سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میری نظر اوپر کی طرف اٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی منزل ہے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ مجھے اس میں داخل ہونے دو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے۔

فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں۔ یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو بتائیں گے۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا، جو دنیا میں پھیل جاتی اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہے اور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو ( بچپن ہی میں ) فطرت پر مر گئے ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مشرکین کے بچے بھی ( ان میں داخل ہیں ) اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔

12/03/2025

02/03/2025

02/03/2025
29/09/2024

📿📖

قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ(4)النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ
(5)اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌ(6)وَّ هُمْ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُهُوْدٌﭤ

کھائی والوں پر لعنت ہو۔وہ اس بھڑکتی آ گ والے🔥۔جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے ۔ اور وہ خود گواہ ہیں جو کچھ مسلما نوں کے ساتھ کر رہے تھے ۔

بھڑکتی آ گ والی کھائی والوں پر اس وقت لعنت کی گئی جب وہ اس کھائی کے کناروں پر کرسیاں بچھائے بیٹھے ہوئے تھے اور مسلمانوں کو آگ میں ڈال رہے تھے اورشاہی لوگ بادشاہ کے پاس آکر ایک دوسرے کے لئے گواہی دیتے تھے کہ انہوں نے حکم کی تعمیل کرنے میں کوتاہی نہیں کی اورایمانداروں کو آگ میں ڈال دیا

🌹🌹🌹🌹🌹🌹کھائی والوں کا واقعہ:ـ🌹🌹🌹🌹🌹🌹

یہاں کھائی والوں کاجو واقعہ ذکر کیا گیا ا س کے بارے میں حضرت صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھادوں ۔بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سننے لگا اوراُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے آنے پر) جادو گر اسے مارتا لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں جا دو گر سے خوف ہو تو کہہ دینا:گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے خوف ہو تو ان سے کہہ دینا کہ جادو گر نے مجھے روک لیا تھا۔ یہ سلسلہ یونہی جاری تھا کہ اسی دوران ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا،

لڑکے نے سوچا :آج میں آزماؤں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، اگر تجھے راہب کے کام جادو گر سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں ۔ چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس کے پتھر سے مر گیا۔پھر اس نے راہب کے پاس جا کراسے اس واقعے کی خبر دی تو اس نے کہا:اے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو گئےہو،تمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہو گے اور جب تم مصیبت میں گرفتار ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا۔ (اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں قبول ہونے لگیں ) اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں کا علاج کرنے لگا ۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہوگیا تھا ،اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیااور اس سے کہا:اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تمہیں دے دوں گا۔لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفاتو اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے،اگر تم اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعاکروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا کرد ے گا۔چنانچہ وہ اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لے آیاتو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔

جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح ا س کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا:تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟اس نے کہا: میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ۔بادشاہ نے کہا:کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا :ہاں ! میرا اور تمہارا رب اللّٰہ تعالیٰ ہے۔یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک ا س نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے!تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہو،برص کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔اس لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو میرا اللّٰہ تعالیٰ دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک ا س نے راہب کا پتا نہ بتا دیا۔

راہب کو لایا گیا اورا س سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔راہب نے انکار کیا تو بادشاہ نے آرا منگوا کر ا س کے سر کے درمیان رکھا اور اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ پھراس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔ اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے بھی آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔پھر اس لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔اس لڑکے نے انکار کیا تو بادشاہ نے اپنے چند ساتھیوں سے کہا:اس لڑکے کو فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ،اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ورنہ اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔وہ لوگ اس لڑکے کو لے کر گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔اس لڑکے نے دعا کی! اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔اسی وقت ایک زلزلہ آیا اور وہ سب لوگ پہاڑ سے نیچے گر گئے۔اس کے بعد وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا! جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟لڑکے نے جواب دیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا

بادشاہ نے پھر اسے اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اسے ایک کشتی میں سوار کر کے سمندر کے وسط میں لے جاؤ،اگر یہ اپنا دین چھوڑ دے تو ٹھیک ورنہ اسے سمندر میں پھینک دینا۔وہ لوگ اسے سمندر میں لے گئے تو ا س نے دعا کی:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔وہ کشتی فوراً الٹ گئی اور اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہو گئے۔وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے پوچھا:جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟اس نے کہا:اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا

۔پھر اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا: تم ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو اورمجھے کھجور کے تنے پر سولی دو، پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر نکال کر بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلَامْ کہہ کر مجھے مارو،اگر تم نے ایساکیا تووہ تیرمجھے قتل کر دے گا۔چنانچہ بادشاہ نے تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اس لڑکے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کر کے تیر چھوڑدیا، وہ تیر لڑکے کی کنپٹی میں پَیْوَسْت ہو گیا،لڑکے نے تیر لگنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا اورانتقال کرگیا۔

یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے کہا کہ ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو اس واقعے کی خبردی گئی اور ا س سے کہا گیا کہ کیا تم نے دیکھا کہ جس سے تم ڈرتے تھے اللّٰہ تعالیٰ نے وہی کچھ تمہارے ساتھ کر دیا اور تمام لوگ ایمان لے آئے۔ اس نے گلیوں کے دہانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا،جب ان کی کھدائی مکمل ہوئی تو ان میں آگ جلوائی گئی،پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں ڈال دو۔چنانچہ لوگ اس آگ میں ڈالے جانے لگے یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کی گود میں بچہ تھا ،وہ ذرا جھجکی توبچے نے کہا: اے ماں صبر کر! اور جھجک نہیں تو سچے دین پر ہے (اوروہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے)۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود... الخ، ص۱۶۰۰، الحدیث: ۷۳(۳۰۰۵))


اور حضرت ربیع بن انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جو مومن آگ میں ڈالے گئے اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کے آگ میں پڑنے سے پہلے ہی اُن کی رُوحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔( خازن، البروج، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۳۶۶)

16/05/2024

📿🌴🕋🌙

28/03/2024



ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
" ابا جان اسلام وعلیکم"
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے..
آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارا نبی اتنا شفیق اور غم محسوس کرنے والا ہے اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا..؟؟
آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑه کہ راہ راست پہ آجائے۔

Wollen Sie Ihr Schule/Universität zum Top-Schule/Universität in Geneva machen?

Klicken Sie hier, um Ihren Gesponserten Eintrag zu erhalten.

Lage

Kategorie

Webseite

Adresse

Geneva