تیری محفل سے اٹھے تھے
کسی کو خبر تک نہ تھی ۔۔۔
بس تیرا مڑ مڑ کر دیکھنا ہمیں بدنام کر گیا۔۔۔۔ 💥💥
Fitna Exposed
tareekh gawah hai jab bhi kisi fitne ne deen me farq kerne ki koshish ki hai
tab alhumdulillah ahle Deoband ne uska muqabla kya
تیرے ہجر نے کیا ہے ایسا حشر ہمارا۔😓
کہ ہم نے اشکوں میں بہایا ہے کاجل کو۔💔
درد نے اس طرح سے سمیٹے ہیں فاصلے ۔🔥
کہ زنجیر سمجھتے ہیں ہم تیری پائل کو۔😥
تیری محفل سے اٹھے تھے کسی کو خبر تک نہ تھی ۔۔۔
بس تیرا مڑ مڑ کر دیکھنا ہمیں بدنام کر گیا۔۔۔۔ 🤍
بات ٹھہری جو عدل پر واعظ
پھر یہ منت ، یہ التجا کیا ہے
چاند سا کہا تو کہنے لگے
چاند کہیئے نہ یہ چاند سا کیا ہے
27/01/2023
आप और करते रहें, उधर आपके भविष्य के प्रकाश को महंगा किया जा रहा है, वैसे भी जब है ही तो किताबें पढ़ कर वामी बनना है क्या?
ज़ोर से बोलो *हम अशिक्षित रह कर विष गुरु बनेंगे*
08/01/2023
مرد کبھی اپنی محبت کا اظہار لفظوں میں نہیں کر سکتا ۔
اسے کرنا ہی نہیں آتا ۔
یا پھر سکھایا ہی نہیں جاتا
وہ کبھی اپنی ماں کو نہیں بتا پاتا
کہ اسے ان کے بغیر گھر بہت ادھورا سالگتا ہے ۔
وہ بھی اپنی بہن کو نہیں بول پاتا
کہ اسے اسکی شرارتیں اچھی لگتی ہیں ۔
اپنی بیوی کو نہیں کہ پاتا
کہ اس کی وجہ سے اسکا ایمان محفوظ ہے
اپنی بیٹی کو نہیں بتاتا
تاکہ اس نے کتنی دعائیں کی تھی
کہ رب اسکو رحمت سے نوازے
غرض ہیں کہ
مرد کو لفظی محبت کرنا آتی ہی نہیں
وہ ہمیشہ عملی اور مضبوط محبت کرتا ہے
اور اسی محبت کے اظہار کے لئے
وہ اپنی ذات پر ہر تکلیف سہتا ہے
کہ اس کی محبتیں محفوظ رہ سکیں
06/10/2022
Courtesy- Vikram Narayan Singh Chauhan
टाइम की खबर है कि ऑल्ट न्यूज़ के संस्थापक पत्रकार मोहम्मद जु़बैर और प्रतीक सिन्हा नोबेल शांति पुरस्कार 2022 के संभावित विजेताओं की सूची में हैं. इस सूची में नाम आना ही यह बताने के लिए पर्याप्त है कि ऑल्ट न्यूज़ के माध्यम से जुबैर और प्रतीक ने क्या किया है. उस दौर में जब हर एक अफवाह के बाद मॉब लिंचिंग हो जाती थी, दंगे हो जाते थे इन दोनों ने बीड़ा उठाया सच को सामने लाने के लिए. वैसे तो यह काम सरकार का होना चाहिए था, पर सरकार खुद उस अफवाह और झूठे न्यूज़ को बढ़ावा देती रही, ऑप इंडिया जैसे वेबसाइट, गोदी मीडिया के चैनल उदाहरण है.. उस दौर में हर एक न्यूज का फैक्ट चेक कर जुबैर और प्रतीक ने सही मायनों में इंसानियत का काम किया. अफवाहों के रुकने से हजारों जानें बची. ऑल्ट न्यूज़ की टीम सच के लिए जुनून की हद तक काम करती है. यही वजह है कि इंटरनेशनल फैक्ट चेकिंग नेटवर्क में ऑल्ट न्यूज़ भी जुड़ गया.. और अब नोबेल प्राइज की दहलीज पर.यहाँ कोई फिलिप कोटलर अवार्ड नहीं हैं. यहाँ है सच के लिए 24 घण्टे की मेहनत और लगन. जुबैर को पिछले दिनों सच के लिए जेल भी जाना पड़ा. और यही सच विश्व में एक बड़ा नाम बना दिया है ऑल्ट न्यूज़ को, जुबैर और प्रतीक को. नोबेल मिलना न मिलना अलग बात है, पर इस सूची में नाम आना ही गर्व की बात है. शुभकामनाएं सच के सिपाहियों.
20/08/2022
بصد شکریہ - .zeenat
اسلام، انڈیا اور مولانا
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں مسلمان ہوں، اسلام کی ۱۳۰۰ سال کی شاندار روایتیں میرے حصہ میں آئی ہیں۔ میں اس بات کے لیے تیار نہیں ہوں کہ اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع کروں۔ مجھے ایک ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ میں اس ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہوں۔ میرے بنا اسکا نقشہ نا مکمل ہے ۔ میرے بنا اسکی تعمیر نا ممکن ہے، میرا دعوی ہے کہ اسلام کا اس سرزمین پر ویسا ہی حق ہے جیسا ہندوازم کا ہے ۔ اگر ہندوازم ہزاروں سال سے یہاں کا مذہب ہے تو اسلام بھی ایک ہزار سال سے یہاں کا مذہب ہے ۔ جس طرح ایک ہندو فخر کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہے اور ہندوازم کی پیروی کرتا ہے اسی طرح ہم بھی فخر کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ہم ہندوستانی ہیں اور اسلام کی پیروی کرتے ہیں ۔
Maulana Abu Al Kalam Azad مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ علیہ
इसलाम इन्डिया और मौलाना
मुझे इस बात पर फ़ख्र है कि मैँ मुसलमान हूँ, इसलाम की 1300 साल की शानदार तारीख मेरे हिस्से में आई हैं. मैँ इस बात के लिए तैयार नहीं हूँ कि इस का छोटे से छोटा हिस्सा भी ज़ाया करूँ. मुझे एक हिन्दोस्तानी होने पर फ़ख्र है, मैँ इस हिंदोस्तान का अटूट अंग हूँ. मेरे बिना इसका नक्शा ना-मुकम्माल है, मेरे बिना इसकी तामीर नामुमकिन है. मेरा दावा है कि इसलाम का इस सरज़मीन पर वैसा ही हक़ है जैसा हिंदूइज़्म का है. अगर हिंदूइज़्म हजारों साल से यहां का मज़हब है तो इसलाम भी एक हज़ार साल से यहाँ का मज़हब है. जिस तरह एक हिंदू फ़ख्र के साथ ये बात कह सकता है कि वो हिन्दोस्तानी है और हिंदूइज़्म की पैरवी करता है उसी तरह हम भी फ़ख्र के साथ ये बात कह सकते हैं कि हम हिंदुस्तानी हैं और इसलाम की पैरवी करते हैं.
मौलाना अबुल कलाम आज़ाद
09/08/2022
میدان کربلا میں سیدنا علی کرّم اللّٰہ وجہہ کے ٩ بیٹوں کی شہادت ہوئی۔ ان میں (١)محمد الاوسط بن علی اور (٢) ابوبکر صدیق بن علی بھی تھے۔ ان کی ماں کا نام لیلیٰ تھا۔
ایدنا ابوبکر صدیق کے وفات کے بعد یہ پیدا ہوئے سیدنا علی رضی الله عنہ نے اپنے دوست سے محبت کی نسبت اے اپنے اس بیٹے کا نام اپنے دوست کے نام پر ابوبکرصدیق رکھا۔
ذرا غور کریں۔
علی کا بیٹا ۔ ابوبکر___________آپس میں خلفائے راشدین کو کتنی محبت تھی؟
31/05/2022
"میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔"
*آنکھوں کو نم کر دینے والی میاں بیوی کی محبت میں ایک لازوال داستان*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو العاص بعثت سے پہلے ایک دن رسول اللہﷺ کےپاس آئے اور کہا: میں اپنے لیےآپ کی بڑی بیٹی زینب کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا، گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے زینب سے کہا: تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے کیا تم اس پر راضی ہو؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی، رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینب کے لیے قبول کیا، یہاں سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے، ابو العاص سے زینب کا بیٹا "علی" اور بیٹی"امامۃ" پیدا ہوئے۔
پھر اس محبت کی آزمائش شروع ہوجاتی ہے کیونکہ نبیﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ اللہ کے رسول بن گئے، ابو العاص کہیں سفر میں تھے جب واپس آئے تو بیوی اسلام قبول کر چکی تھی، جب گھر میں داخل ہوئے بیوی نے کہا:
میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے، میرے ابو نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔
زینب بنت رسول اللہ ﷺ کے اسلام کی خبر سن کر ابوالعاص اٹھ کر باہر نکل جاتے ہیں، زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلتی ہے۔۔۔۔ اور اپنے شوہر کو اسلام کی دعوت دیتی ہے۔۔۔۔ جس کو ابوالعاص ٹھکرا دیتے ہیں ۔۔۔
اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوا جوکہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔
زینب رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، میں اپنے ابو کو جھٹلا نہیں سکتی اور نہ ہی میرے ابو کبھی جھوٹے تھے وہ تو صادق اور امین ہیں، میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، میرے چاچا زاد بھائی (علی بن ابی طالب) بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چاچا زاد (عثمان بن عفان) بھی مسلمان ہو چکے ہیں، تیرے دوست ابو بکر بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔
ابو العاص کہنے لگے، مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے آباء و اجداد کو جھٹلایا، تیرے ابو کو ملامت نہیں کرتا ہوں۔
بہرحال ابو العاص نے اسلام قبول نہیں کیا یہاں تک کہ ہجرت کا زمانہ آگیا اور زینب رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابو العاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔
زینب خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے ابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی: اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا اپنے ابو کو کھو دوں۔
ابو العاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدر میں لڑے، جنگ ختم ہوئی تو داماد سسر کی قید میں تھا، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنائے گئے، زینب پوچھتی رہی کہ میرے والد کا کیا بنا؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے، اس پر زینب نے سجدہ شکر ادا کیا۔
پھر پوچھا: میرے شوہر کو کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: اس کو اس کے سسر نے جنگی قیدی بنا لیا ہے۔
زینب نے کہا: میں اپنے شوہر کا فدیہ(دیت) بھیج دوں گی۔
شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہ تھی اس لیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ رضي الله عنها کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اور ابوالعاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔
رسول اللہ ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے ان کو آزاد کر رہے تھے اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ہار پر نظر پڑی تو پوچھا: یہ کس کا فدیہ ہے؟
لوگوں نے کہا: یہ ابوالعاص بن الربیع کا فدیہ ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ روپڑے اور فرمایا: یہ تو خدیجہ کا ہار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اے لوگو یہ شخص برا داماد نہیں، کیا میں اس کو رہا کر دوں؟ اگر تم اجازت دیتے ہو تو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟
لوگوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!
رسول اللہ ﷺ نے ہار ابوالعاص کو تھما دیا اور فرمایا: زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔
پھر فرمایا: اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟
ان کو ایک طرف لے جا کر فرمایا: اے ابوالعاص اللہ نے مجھے کافر شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟
ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔
دوسر طرف زینب شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی، جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فورا کہا: "آپ جا رہی ہو۔"
زینب نے کہا: کہاں ؟
ابو العاص: آپ اپنے باپ کے پاس جانے والی ہو ۔
زینب: کیوں؟
ابو العاص: میری اور تمہاری جدائی کے لیے، جاو اپنے باپ کے پاس چلی جاو۔
زینب: کیا تم میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟
ابو العاص: نہیں۔
زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئیں۔ جہاں 6 سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہیں کئے اور اسی امید سے انتظار کرنے لگی کہ شوہر شاید اسلام قبول کر کے آئے گا۔
6 سال کے بعد ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ہوا، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے ان کو گرفتار کر کے ساتھ مدینہ لے گئے، مدینہ جاتے ہوئے زینب اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا، فجر کی آذان کے وقت زینب کے دروازے پر پہنچا۔
زینب رضی اللہ عنہا نے ان پر نظر پڑتے ہی پوچھا کیا اسلام قبول کر چکے ہو؟
ابو العاص: نہیں۔
زینب: ڈرنے کی ضرورت نہیں خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید۔
رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ: میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہوں۔
نبی ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟
سب نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔
زینب نے کہا: اے اللہ کے رسول ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں ان کو پناہ دیتی ہوں۔
نبیﷺ نے قبول کر لی اور فرمایا: اے لوگو یہ برا داماد نہیں، اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چھوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مجھے پسند ہے۔ اگر نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔
لوگوں نے کہا: ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے زینب تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔
اس پر ابو العاص زینب کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا: اے زینب ان کا اکرام کرو یہ تیر ا خالہ زاد ہے اور تمھارے بچوں کا باپ ہے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے، کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔
زینب نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول۔
گھر جا کر ابو العاص بن ربیع سے کہا: اے ابو العاص جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے، کیا اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے؟
ابو العاص: نہیں۔
اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گئے، جبکہ مکہ پہنچے تو کہا: اے لوگو: یہ لو اپنے اپنے مال، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے؟
لوگوں نے کہا: اللہ تمہیں بدلہ دے؛ تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔
ابو العاص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا، سیدھا نبیﷺ کے پاس گئے اور کہا: کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
ابو العاص رضي اللّٰه عنه نے کہا: اے اللّٰہ کے رسول! کیا مجھے اپنی بیوی زینب کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟
نبی ﷺ ابوالعاص کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : آو میرے ساتھ، زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا: یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے، تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے، کیا تمہیں قبول ہے؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی۔۔۔۔
رجوع کے ایک سال بعد سیّدہ زینب رضی اللّٰہ عنہا اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئیں ۔۔۔۔
محترم قارئین!
اس واقعہ کا اہم اور درد ناک پہلو یہ رہا کہ حضرت أبوالعاص زینب رضي اللّٰه عنها کی وفات کے بعد کہنے لگے: يارسول اللّٰه "إني لا أطيق العيش بدون زينب."
اے اللّٰہ کے رسول! میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، رسول اللہﷺ آپؓ کے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے اور ڈھارس بندھاتے۔
ومات بعدها بسنة ... !
زینب رضی اللّٰہ عنھا کی وفات کے ٹھیک ایک سال بعد سیدنا ابوالعاص رضی اللّٰہ عنہ اسی غم میں اپنے رب کو جاملے۔
محبت ہر دور میں قاتل رہی ہے ۔۔۔۔😢
قابل احترام والدین
مذکورہ بالا واقعہ میں ہمارے لیے بھی کئی اسباق ہیں؛
پہلا یہ کہ بیٹی کے لیے رشتہ آنے پر بیٹی سے اس کی رضا مندی طلب کرنا نہایت ہی اہم ہے۔
دوسرا یہ کہ سسرال والوں پر داماد کی عزت و احترام از حد ضروری ہے بھلے ہی ہزاروں اختلافات کیوں نہ ہوں ۔۔۔
تیسرا یہ کہ بیوی ہر صورت میں اپنے خاوند کا دفاع اور اکرام کرے، شاید کہ اللّٰہ اس کے حسن سلوک کی وجہ سے شوہر کے دل میں اس کی محبت بھر دے۔۔۔ جیسے زینب رضی اللّٰہ عنہا کے حسن سلوک نے ابوالعاص رضی اللّٰہ عنہ کو کافر سے مسلمان بننے پر مجبور کر دیا۔
میاں بیوی کی محبت کا ایک پہلو یہ بھی اس واقعے سے عیاں ہو رہا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے زیب و زینت کی اشیاء یعنی زیورات وغیرہ کا خاص خیال رکھے۔ بیوی کو دیے گئے ہدایا و تحائف کو کبھی بھی اس سے لینے کی کوشش نہ کرے، جیسا کہ رسول اللّٰہ ﷺ سیّدہ خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کے ہار کو دیکھتے ہی ان کی محبت میں رو پڑے ۔۔۔ اور بیٹی کو نصیحت فرمائی کہ خدیجہ کے ہار کا خاص خیال رکھے ۔۔۔🌹
محترم برادران
اچھا داماد بنیں، اچھا شوہر بنیں، سسرال سے ہمیشہ سچی بات کریں، ان سے کیا گیا وعدہ پورا کریں، تاکہ آپ کا سسر بھی لوگوں میں آپ کے اچھا داماد ہونے کی گواہی دے، جیسے رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم نے سیّدنا ابوالعاص رضی اللّٰہ عنہ کی لوگوں کے سامنے گواہی دی۔۔۔
اللہ آپ کے محبت کے سائے کو بیوی بچوں کے لیے لمبا اور سلامت رکھے،
آمین۔ یا ربّ العالمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
03/05/2022
عیدالفطر کی سنّتیں اور احکام