*موبائل فون کے آداب*
♾️♾️🍃🌸🍃♾️♾️
(1) نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل فون کی گھنٹی بند کرنا ضروری ہے اس کا خاص اہتمام کرنا چاہئے ۔
(2) اگر دوران نماز عمل قلیل سے یعنی ایک ہاتھ سے موبائل کو جیب سے نکالے بغیر گھنٹی بند کرنا ممکن ہو تو ایسا کیا جائے ورنہ مسلسل گھنٹی بجتے رہنے سے نماز تو ہوجائے گی
(3) رنگ ٹون میں گانے اور میوزک وغیرہ لگانا ناجائز ہے۔
(4) گانے سننا بہر حال حرام ہے خواہ موبائل میں بلا تصاویر ہی کیوں نہ ہو۔
(5) جوابی رنگ ٹون میں گانا فیڈ کرنا جائز نہیں۔
(6) گر رابطہ کرنے والا بلا ارادہ مجبورا گانا سن لے تو گنہگار نہیں ہوگا۔
فلم دیکھنا جائز نہیں حرام ہے ، خواہ موبائل ہی پر دیکھے۔
(7) بذریعہ موبائل کرکٹ میچ دیکھنا لغو اور عبث کام ہے جس سے احتراز لازم ہے
(8) موبائل کے ذریعہ گیم کہیلنا وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے جس سے احتراز لازم ہے
(9) بذریعہ موبائل دینی بیانات اور نعتیہ حمدیہ نظمیں وغیرہ سننا اس شرط پرجائز ہے کہ تصاویر میوزک عورتوں کی آواز اور شرکیہ کلمات وغیرہ سے پاک ہوں۔
(10) موبائل اسکرین پر اللہ تعالی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ اور آیات وغیر ہ لکھنا جائز ہے۔
(11) موبائل میں قرآن وحدیث اور ادعیہ ماثورہ کو محفوظ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(12) بلا اجازت کسی کی گفتگو مو بائل میں ٹیپ کرنا جائز نہیں ۔
(13) موبائل کے ذریعہ اجنبی لوگوں سے دوستی کرنا اگر مرد مرد کی اور عورت عورت کی دوستی ہو تو وقت کی بربادی کا باعث ہے اور اگر عورت و مرد یا مرد و عورت کی دوستی ہوں تو حرام اور بدترین گناہ ہے۔
(14) موبائل میں فحش تصاویر، گانے اور موسیقی کی ڈاؤن لوڈنگ اور اسکی اجرت حرام ہے۔
Qari Usman Ullah
Assalamu alaikum! Certified Online Quran Teacher
Learn Quran, Arabic, and Islamic Studies with me!
*اپنا چراغ جلا لیں*
♾️♾️🍃🌸🍃♾️♾️
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ اگر قیامت آجائے اور کسی کے ہاتھ درخت کی ایک قلم ہو اور اسے مہلت ہو تو وہ ضرور یہ قلم لگا دے‘‘۔
( مسند احمد۔83:3)۔
یہ روایت ہمیں ایک تعمیری سوچ دیتی ہے۔ اس سوچ کا حامل انسان بدترین حالات میں بھی مایوسی اور بے عملی کا شکار نہیں ہوتا۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ قیامت ایک ایسی تباہی کا نام ہے جس میں درخت لگانا بظاہر بے فائدہ کام ہے۔ کیوں کہ درخت لگانا ایک ایسا عمل ہے جس کی نفع بخشی کے لیے کئی برس چاہییں۔ جبکہ قیامت کا زلزلہ لمحہ بھر میں ہر چیز کو تباہ کر دے گا۔ لیکن یہ روایت بتاتی ہے کہ انسان کو مثبت ذہن کے ساتھ کام کرنا چاہیے، چاہے اسے یقین ہو کہ اس کے کسی کام کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک بندہ مومن آخرت کے اجر کے لیے کام کرتا ہے اور یہ اجر اصلاً اس کی نیت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ جیسے ہی وہ کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے، اس کے لیے ایک اجر ثابت ہوجاتا ہے۔ وہ اس کام کو کر دیتا ہے تو دوسرا اجر ثابت ہوجاتا ہے۔ اس کام سے کوئی نفع ہونا شروع ہوتا ہے تو تیسرے اجر ک اآغاز ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ انسان کے کسی عمل کا نتیجہ اگر نہیں بھی نکلتا تب بھی تین میں سے دو اجر تو بہرحال انسان کو مل جاتے ہیں۔ وہ صرف ایک اجر سے محروم رہتا ہے۔
عام حالات میں لوگ معاشرے کے بگاڑ سے پریشان ہو کر مایوس ہوجاتے ہیں اور مایوسی کی بنا پر صرف منفی چیزوں کو دیکھتے ہیں اور پھر وہ ان چھوٹے چھوٹے اچھے کاموں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں جنہیں وہ باآسانی کرسکتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر معاشرے میں بگاڑ بڑھتا رہتا ہے۔ مگر جب لوگ حالات کی خرابی سے بے پرواہ ہو کر اپنے حصے کا اچھا کام کرتے رہتے ہیں تو آہستہ آہستہ برائی کم ہونا اور خیر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حصے کا درخت لگاتا ہے اور کچھ عرصے میں ایک چمنستان وجود میں آجاتا ہے۔
اس بات کو ایک اورمثال سے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جب رات آتی ہے تو سورج کی روشنی ختم ہوجاتی ہے۔ ہر طرف اندھیرا پھیل جاتا ہے۔ ایسے میں کسی ایک فرد کا چراغ جلانا سارے اندھیرے کو دور نہیں کرسکتا اور نہ اس کا چراغ ہی سورج کا نعم البدل ہوسکتا ہے۔ مگر لوگ ان چیزوں سے بے پرواہ ہوکر اپنا اپنا چراغ جلاتے ہیں۔ دنیا بھرسے قطع نظر ان کے اردگرد روشنی پھیلنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور جب سارے لوگ اپنے اپنے چراغ جلاتے ہیں تو ہر جگہ روشنی پھیل جاتی ہے۔ اندھیرے دور ہوجاتے ہیں۔
تو اب آئیے، ماحول کے اندھیرے سے بے پرواہ ہوکر ہم اپنا چراغ جلا لیں۔ ہم اپنا درخت لگا لیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Peshawar