Iqbal Research Institute-Kabul

Iqbal Research Institute-Kabul

Share

This is an academic organization

13/04/2025

به برگ لاله رنگ آمیزی عشق
به جان ما بلا انگیزی عشق
اگر این خاکدان را واشگافی
درونش بنگری خونریزی عشق

13/04/2025

نقطه نوری که نام او خودی است
زیر خاک ما شرار زندگی است
از محبت می شود پاینده تر
زنده تر سوزنده تر تابنده تر
از محبت اشتعال جوهرش
ارتقای ممکنات مضمرش
فطرت او آتش اندوزد ز عشق
عالم افروزی بیاموزد ز عشق
عشق را از تیغ و خنجر باک نیست
اصل عشق از آب و باد و خاک نیست

05/11/2024
04/11/2024

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Allama Mohammad Iqbal r.a

25/08/2024

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں

Ahmad Faraz

25/06/2024

Alhamdullillah

20/03/2024

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

راحت اندوری

16/01/2024

کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسے
جہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسے

مجھے وہ چھوڑ گیا یہ کمال ہے اس کا
ارادہ میں نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے

بدن چرا کے وہ چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدن
اسے یہ ڈر ہے کہ میں توڑ پھوڑ دوں گا اسے

پسینے بانٹتا پھرتا ہے ہر طرف سورج
کبھی جو ہاتھ لگا تو نچوڑ دوں گا اسے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو
سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

راحت الله اندهوری

22/12/2023

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
Josh Malihabadi

18/08/2023

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
شیخ ابراهیم ذوق

Want your school to be the top-listed School/college in Kabul?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Shahrinaw, Charahi Haji Yaqoob
Kabul