22/08/2026
بہکی باتیں ۔۔۔
صاحبو ! انسانی ذہن ہمیشہ نتیجوں کا شدید آرزومند رہتا ہے۔ آخر آپ کے اتنے لمبے سفر کا نتیجہ کیا رہا؟ یہ سوال مجھ سے ہمیشہ پوچھا جاتا ہے۔
دراصل ذہن کھبی عمل میں دلچسپی نہیں لیتا، اس کی دلچسپی نتیجے میں ہوتی ہے۔ ذہن کا بنیادی سوال ہوتا ہے ، “ مجھے اس سے حاصل کیا ہو گا؟”
صاحبو درویش نتائج کے لیے سفر نہیں کرتے بلکہ سفر بہ ذات خود کسی اور عمل کے نتیجے کے طور پر بھی درپیش آ سکتا ہے۔ نتائج کو سامنے رکھنے والے ذہن کے حامل شخص کو روحانی تلاش کے سفر پر نہیں نکلنا چاہیے۔ کیونکہ اس راہ پر متلاشی کو وہ سب کچھ بُھلانا یا ترک کرنا پڑتا ہے جو وہ جانتا ہے۔ روحانی سفر آپ کو حیرت زدہ کر دیتا ہے۔لیکن مسافر اپنی حیرت کو سوالات میں نہیں ڈھال سکتا ۔
حیرت کی حالت سے دو راہیں نکلتی ہیں ۔ایک راہ ہے سوال پوچھنا جو جلد یا بدیر آپ کو علم کی طرف لے جاتی ہے۔ علم ، علم ہوتا ہے زندگی نہیں ۔ حتی کہ زندگی کا علم بھی زندگی نہیں ۔
دوسری راہ ہے حیرت سے لُطف اندوز ہونے کی۔ کیا ہے جو اس انسان میں حیران کُن نہیں ہے؟ بچے کی آنکھوں میں ہر وقت لُطف اندوز ہونے اور اُسے جینے کی چمک رہتی ہے۔ اس چمک کو زندگی سے بھرپور چمک کہتے ہیں۔ یہاں زیادہ تر معصوم بننا مقصود ہوتا ہے، عالم بننا مقصود نہیں ہوتا۔ معصوم بچہ حیرت میں رہتا ہے۔
کوئی بھید تلاش کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ ہمیشہ حیرت میں رہے۔ جو سوال کریں اُن ہر بھید نہیں کھُلتے ۔ سوال آپ کو لائبریریوں اور کتابوں تک پہنچاتے ہیں۔ اُن میں جواب ہوتے ہیں ۔ اور جواب خطرناک ہوتے ہیں۔ وہ حیرت کو ختم کرتے ہیں۔ جواب آپ کو احساس دیتے ہیں کہ آپ جواب جانتے ہیں۔ حالانکہ آپ جواب جانتے نہیں ہیں۔ آپ نے صرف وہ جواب پڑھے ہیں جو دوسروں کو ملے تھے۔ یہ جواب آپ کو غلط تاثر دیتے ہیں کہ اب آپ کا مسلۂ حل ہو چکا ہے۔ دوسروں کے جواب طوطے کی طرح رٹ لینے سے آپ صرف چیزوں کو دہراتے ہیں ، لیکن جانتے نہیں ہیں۔
پھر اتنی جلدی کاہے کی ہے صاحب ! لاوتزو کہتا ہے: “ تاؤ کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے بیان کر دیا جائے تو وہ تاؤ نہیں رہتا “۔
سچ کی تعریف متعین نہیں کی جا سکتی۔ البتہ اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تجربہ بھی تعریف نہیں ہوتا۔ تعریف ذہن گھڑتا ہے۔ سچ کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اسے جیا جا سکتا ہے۔ سچ کو جانا نہیں جا سکتا اسے جیا جاتا ہے۔
معاشرہ مستقل مزاج ٹھہراؤ والے آدمی کا احترام کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے حوالے سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ اُسے آسانی سے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک مشین کی مانند ہوتا ہے جس کو آن آف کرنے کے بٹن معاشرے کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کے مطابق عمل کرتا ہے۔ معاشرے کو ہمیشہ درویشوں کو سمجھنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ درویش کو صرف ایک پرواہ ہوتی ہے اور وہ یہ کہ میں اپنی زندگی جی رہا ہوں یا نہیں۔۔۔
زندگی جینے کی ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے
دُعا گُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی