24/06/2026
مذہبی اکھاڑہ اور پہلوان عالم
صاحبو! انسان عموماً عقل کو ایک مستقل ( consistent )اور یکساں شے سمجھنے کا عادی ہے۔ وہ یہ تو مان لیتا ہے کہ فکر کی شدت میں فرق ہو سکتا ہے، مگر اس کے نزدیک فکر کی quality میں فرق نہیں ہوتا۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ خود عقل کے معیار، اس کی باریک بینی اور ادراک کی صلاحیت میں بے شمار درجے پائے جاتے ہیں۔
آج کا کتابی عالم scholastic کبھی کبھی عقل کے غیر فطری پھیلاؤ میں مبتلا ہو جاتا ہے, بالکل اس شخص کی طرح جو اپنے بازو کے عضلات biceps کو محض اس لیے ورزش دیتا رہتا ہے کہ وہ موجود ہیں، اور چونکہ اس نے دریافت کر لیا ہے کہ مسلسل مشق exercise/workoutسے انہیں حد سے زیادہ بڑھایا جا سکتا ہے، اس لیے وہ انہیں آخری حد تک بڑھانا ضروری سمجھتا ہے۔
حالاں کہ فکر اس سے کہیں زیادہ مؤثر، لطیف اور بلند شے ہے۔ صوفی وہ ہے جو فکر کے اندر موجود ہم آہنگی harmony ، توازن balance اور امکانات possibility سے آگاہ ہو چکا ہو, جیسے ایک حقیقی ایتھلیٹ جسم کی مجموعی ہم آہنگی اور کمال کو سمجھتا ہے، نہ کہ وہ شخص جو صرف بازو کے عضلات کی چند صلاحیتوں کو دریافت کر کے انہی کا دیوانہ ہو جائے۔
صوفی کی نگاہ میں محض کتابی عالم کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے بازو ورزش کے ذریعے حد سے زیادہ پھلا دیے گئے ہوں , وہ عام نگاہ کو جس قدر بے ڈھنگا اور غیر متوازن دکھائی دے گا، اسی طرح صوفی کی بصیرت میں صرف عقل کے ایک پہلو کو بڑھا لینے والا عالم غیر متوازن محسوس ہوتا ہے۔
صاحبو ! ہمارے برصغیر کا مذہبی / مسلکی بحث religious discourse ایسے ہی بظاہر پہلوان نظر آتے ( body builder) مگر حقیقت میں غیرمتوازن علماء کا اکھاڑہ بن چکا ہے جس میں ہر کوئی اپنے اپنے muscles کی نمائش کرتا ہے اور ان کے مداح ان کی پرفارمنس پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو جاتے ہیں۔ اور اگر آپ غور کریں گے تو کسی بھی دوسرے کھیل کی طرح اس کھیل کے اندر بھی league میچز ہوں گے، سیزن ہوں گے، اسپانسر ہوں گے، تشہیری مہم ہو گی، مال پانی کمایا جائے گا۔ مداح اپنی اپنی ٹیم کے پہلوانوں کو کندھوں پر اُٹھا کر نعرے لگاتی نظر آئے گی۔ ۔۔۔ سب پھنسے ہوئے ہیں تماشا کرنے والے بھی اور تماشائی بھی۔
آپ بھی اور میں بھی۔۔۔۔اور جو کوئی اس کھیل سے رغبت نہ رکھتا ہو اُس پر سب مل کر چڑھائی کر دیتے ہیں کہ اتنی کمال پرفارمنس پر یہ داد کیوں نہیں دیتا۔
ہمارے بہت ہی عزیز ماجد شاہ صاحب کی ایک نظم ہے
یہ سب خدا نے نہیں کہا ہے
آپ کو موقع ملے تو گوگل سرچ کر کے پڑھ لیجے گا۔ آپ کو لُطف آئے گا۔
دُعاگُو و دُعا جُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی
22/06/2026
صاحبو ! آپ بچے کو اکیلے سڑک پار نہیں کرنے دیتے، اور یہ یقین دہانی کرتے ھیں کہ وہ آپ کا ہاتھ تھامے۔ آپ اسے کوئی رسم ( ritual) بھی کہہ سکتے ھیں اور مشق ( exercise) بھی کہہ سکتے ھیں۔
مگر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ نے حفاظتی اقدام یا تدابیر کے نام پر اس پر جو پابندیاں عائد کی ہوتی ھیں وہ اٹھا دیتے ھیں اور اس پر اس سے بالکل متضاد پابندی عائد کر دیتے ھیں
“ اب سڑک اکیلے پار کرو”
کسی بھی روحانی خانقاہ کی تعلیم اور مشق بھی کچھ اسی انداز میں ہوتی ہے۔ اور اسکا الٹ کہ “ سڑک صرف ہاتھ تھام کر ہی پار کرنی ہے” یا تو روایات کا بنجر پن ہے یا پھر باپ صرف جسمانی طور پر بالغ ہوا ہے اور زہنی اور نفسیاتی اعتبار سے ابھی خود بچہ ہے۔ یا پھر وہ ایک ایسی مونٹیسوری ہے جو اپنی fees کی مستقل ترسیل کے لیے بچے کو بالغ نہیں ہونے دے رہی۔
حقیقی روحانی تعلیمات اس طرح سے محفوظ کر دی جاتی ھیں کہ انکے اطلاق کو ایک روایاتی اور رسوماتی سطحی شعور کھبی بھی باطن کی مشق کے طور پر پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ اور ظاہر پرست تو اس پر ہمیشہ سے شک کرتے ھیں ۔
اگر یہ کہا جائے کہ جھاڑو لگانے سے دل کی صفائی ہو جائے گی۔ تو یہ جملہ عمومی (generalisation )طور پر رائج نہیں کیا جا سکتا مگر اطلاقی طور ( applied) پر شاید مخاطب کا دل صاف کرنے کا یہی واحد نسخہ ہو۔
رائج روحانی تحریکوں کی اکثریت ایسے ہی گروہوں پر مبنی ہے۔ deformation and degradations of rituals and
traditions
التماس دعا
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی
16/06/2026
صاحبو !کبھی تم نے محسوس کیا کہ تم نے کسی سے کچھ کہا بھی نہیں،مگر دل میں یہ امید رکھی کہ وہ سمجھ جائے گا؟
اور جب اس نے ویسا نہیں کیا۔ تو تمہارا دل ٹوٹ گیا، تمہیں دکھ ہوا، تم نے خود سے کہا،
“میں نے تو صرف اتنی سی امید رکھی تھی…”
یہی امید، یہی ذہنی معاہدہ — توقع (Expectation) ہے۔
توقع وہ خاموش “contract” ہے جو ہم اپنے دل میں بناتے ہیں — بغیر دوسروں کو بتائے بغیر اُن کی رضا کے۔
ہم سوچتے ہیں، وہ ایسا کرے گا، وہ ایسے جواب دے گا،اور جب حقیقت ہماری مرضی سےمختلف نکلتی ہے،تو مایوسی، غصہ، اور دکھ جنم لیتا ہے۔
“توقع دل کے درد کی جڑ ہے۔”دراصل توقع کوئی غلط چیز نہیں،لیکن جب وہ بےقابو ہو جاتی ہے،تو وہ ہماری خوشی کو دوسروں کے ہاتھوں میں رکھ دیتی ہے۔
توقع، ایک ذہنی عادت ہے ۔جس کے زریعے ہم اپنے اندر کا سکون دوسروں کے رویے سے جوڑ دیتے ہیں۔یہ وابستگی (attachment) سے جنم لیتی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ ہماری مرضی کے مطابق ہو۔
کہ دوسرے ہمارے جذبات، الفاظ، یا خاموشی کو سمجھ جائیں۔
اکثر ہم یہ توقعات کہتے بھی نہیں،بس اپنے دل میں رکھتے ہیں ۔اور پھر ان کے پورا نہ ہونے پر زخمی ہو جاتے ہیں۔
“توقعات وہ رنج ہیں جو ابھی ہونے باقی ہیں۔”
یہ ہمیں اپنے اندر سے باہر لے جاتی ہیں۔ہم اپنی توانائی اس پر ضائع کرتے ہیں کہ دوسرے کیا کریں ،بجائے اس کے کہ خود کیا کر سکتے ہیں۔
جب یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے،تو محبت بھی شرطوں پر چلنے لگتی ہے،احسانات حساب میں بدل جاتے ہیں اور رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔
صاحبو!جب تم لوگوں سے کمال کی توقع چھوڑ دیتے ہو، تب تم انہیں ویسے کے ویسے پسند کرنے لگتے ہو جیسے وہ ہیں۔اگر تم غور کرو،تو زیادہ تر دکھ، ناراضگیاں، اور فاصلےکسی غلطی سے نہیں — بلکہ کسی پوری نہ ہونے والی توقع سے جنم لیتے ہیں۔مایوسی اور تکلیف تب ہوتی ہے جب کوئی تمہاری امید پر پورا نہیں اترتا،تو تم خود کو کمتر یا غیر اہم محسوس کرتے ہو۔حالانکہ شاید دوسرے کو علم ہی نہ ہوکہ تم اس سے کیا توقع رکھتے تھے۔
یہی بغیر بتائی توقعات رشتوں میں کشیدگی کا باعث بن جاتی ہیں ۔بار بار کی توقعات دباؤ اور خفگی پیدا کرتی ہیں پھر فاصلہ بڑھتا ہے ،محبت کم ہو جاتی ہے۔
صاحبو !جب ہم دوسروں کے رویے سے خوشی جوڑ دیتے ہیں،تو ہمارا سکون ان کے رویے پر منحصر ہو جاتا ہے۔
یہی اصل غلامی ہے۔امن وہاں شروع ہوتا ہے جہاں توقع ختم ہو جاتی ہے۔
صاحبو! توقعات دراصل انا کا جال ہیں۔انا چاہتی ہے کہ سب ہمیں پہچانے،ہماری مرضی چلے، سب ہمیں تسلیم کریں ۔
صاحبو !جب محبت میں توقع آتی ہے،تو وہ تجارت بن جاتی ہے ۔ کہ میں تمہیں چاہوں گا “اگر” تم یہ کرو۔
سچی محبت وہ ہے جو دیتی ہے بغیر کسی امید کے،بولتی ہے بغیر کسی ارادے کے،اور خیال رکھتی ہے بغیر کسی بدلے کے۔
توقعات کو چھوڑنا کیسے سیکھا جائے؟
صاحبو! یہی وہ مقام ہے جہاں حکمت شروع ہوتی ہے۔ہم توقع کو ختم نہیں کر سکتے،لیکن اسے بدل سکتے ہیں شکر،قبولیت، اور خود آگہی میں
نوٹ کرو کہ تم کس سے، کب، اور کیوں امید رکھتے ہو؟یہ آگہی تبدیلی کی پہلی سیڑھی ہے۔
صاحبو!اپنی خوشی کی ذمہ داری لو،یاد رکھو، تمہارا سکون تمہارا ہے۔کسی کے رویے یا الفاظ پر منحصر نہیں۔
خوش قسمت وہ ہے جو کسی سے کچھ توقع نہیں رکھت کیونکہ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔اپنی نیت اور محنت میں پورا دل لگاؤ،لیکن نتیجے کو چھوڑ دو،کامیابی تب ہی سکون دیتی ہے، ناکامی تب ہی سبق بن جاتی ہے۔
کھل کر بات کرو،اگر کوئی بات اہم ہےتو اس کہو،خاموش توقع بعد میں خفگی بن جاتی ہے۔
لوگوں کو جیسے وہ ہیں، قبول کرو۔انسان کامل نہیں،سب دراصل “عمل میں ہیں” ادھورے مگر بڑھتے ہوئے۔
صاحبو! نیت پر دھیان دو، نتیجے پر نہیں ،صحیح کام اس لیے کرو کہ وہ درست ہے۔نہ کہ کوئی تمہیں سراہے یا بدلہ دے۔
صاحبو !محبت، توجہ، اور خدمت
یہی روحانی آزادی ہے۔
صاحبو!طاقت اس میں نہیں کہ تم حالات بدل دو،
بلکہ اس میں ہے کہ تم خود بدل جاؤ۔
دُعاگُو و دُعا جُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی
14/06/2026
صاحبو !اگر ہم ذرا غور کریں تو کیا ایسا نہیں کہ آج کا انسان جاگتا کم ہے، چلتا زیادہ ہے؟ ایک خودکار پٹڑی پر، آٹو پائلٹ پر۔ آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، مگر نظر اپنی نہیں ہوتی۔ زبان بولتی ہے، مگر سوچ اکثر اپنی نہیں ہوتی۔ فیصلے ہوتے رہتے ہیں، مگر ان فیصلوں کے پیچھے اکثر وہی پرانے نقشے ہوتے( thought pattern )ہیں جو عادت، تربیت، ماحول، سیاست، نظریہ، کلچر اور اب تو کافی برسوں سے سوشل میڈیا ذہن پر ثبت کر دیتے ہیں۔
یہ ذہن کی وہ مشروط حالت ( conditioned)جس میں انسان بظاہر بیدار ہوتا ہے، مگر اندر سے ایک طرح کی غنودگی میں رہتا ہے۔ اس حالت کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ بات سنی نہیں جاتی، فوراً “فیصلہ” صادر ہو جاتا ہے۔ فوراً لیبل لگ جاتا ہے, judgments آ جاتی ہیں ۔یہ اپنا ہے، یہ پرایا؛ یہ صحیح ہے، یہ غلط؛ یہ محبِ وطن، یہ غدار؛ یہ حق، یہ باطل۔ گویا ذہن کو ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کہ وہ ٹھہر کر دیکھے، بات کو پرکھے ، سمجھ کر بولے، یا سوال اٹھا کر آگے بڑھے۔
صاحبو ! ردِعمل، غور کی جگہ لے لیتا ہے۔
اور اگر جدید مثالیں سامنے رکھ دی جائیں تو یہ بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ آج فیڈ (feed) اکثر وہی دکھاتی ہے جو جذبات کو بھڑکائے، تعصب کو مضبوط کرے، یا آدمی کو زیادہ دیر روکے۔ ایک وڈیو کے بعد اسی جیسی کئی suggested وڈیوز، ایک خبر کے بعد اسی مزاج کی کئی خبریں؛ پھر انسان کے ذہن میں یہ گمان بیٹھ جاتا ہے کہ “سب یہی کہہ رہے ہیں”، حالانکہ “سب” نہیں—اکثر صرف ہماری اپنی فیڈ ہوتی ہے۔ اس کو جدید نفسیات میں confirmation bias کہتے ہیں ۔ اسی طرح thumbnail کی سرخیاں نگل لی جاتی ہیں، پھر پوری بات جانے بغیر رائے قائم ہو جاتی ہے۔ ایک کلپ سے ایک پورے انسان کا فیصلہ، ایک جملے سے ایک پورے طبقے کا تعارف، اور پھر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم حقیقت کے ساتھ کھڑے ہیں—حالانکہ ہم اپنی conditioned عادتوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اس ذہنی کیفیت کا نقصان یہ ہے کہ انسان تحقیق تو کر لیتا ہے—یعنی معلومات کا مواد جمع کر لیتا ہے—مگر نئی زاویہ نگاہ کم بنتا ہے۔ تخلیق کم پیدا ہوتی ہے۔ ذہن نئی حقیقت دیکھنے کے بجائے پرانی رائے کے حق میں دلیلیں ڈھونڈنے لگتا ہے۔ سچ کی تلاش کم رہ جاتی ہے، خود کو درست ثابت کرنے کی خواہش زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور پھر تعلقات میں بھی یہی خودکاری اتر آتی ہے۔
صاحبو ! بات سننے سے پہلے جواب تیار، سمجھنے سے پہلے فیصلہ حاضر، اور پھر رشتوں میں وہ نرم خاموشی مرنے لگتی ہے جو زندگی بناتی ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس حالت میں قید نظر نہیں آتی۔ آدمی خود کو آزاد سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہر روز ایک ہی ردِعمل، ایک ہی غصہ، ایک ہی تعصب، ایک ہی دفاع دہراتا رہتا ہے۔ گویا زندگی جینے کے بجائے زندگی پر صرف ردِعمل دیا جا رہا ہے۔
صاحبو ! جینا عمل کا نام ہے رد عمل کا نہیں ۔
دُعاگُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی
12/06/2026
صاحبو ! آپ کے پاس وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جو آپ چاہتے ہیں، مگر سب کچھ ایک ہی وقت میں نہیں، اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے، تو غور کریں کہ اگر آپ کے پاس وہ سب کچھ جو آپ چاہتے ہیں ایک ہی وقت میں ہوتا تو کیا آپ واقعی اس سب کا تجربہ یا اُس سب سے ایک ہی وقت میں لطف اندوز ہو سکتے ۔ آپ نے دنیا کی سیاحت بھی مانگ رکھی ہے اور ایک بڑی سی فیکٹری بھی آپ کی چاہت ہے ۔ تو یہ دونوں چاہتیں اگر ایک ہی وقت میں مل جائیں تو آپ کا تو حشر ہو جائے گا۔ تو آپ اپنی wish list نکال کر دیکھیں گے تو علم ہو گا کہ اس میں تو paradox ہے contradiction ہے اور یہ سب کچھ ایک ہی وقت میں اگر مل جائے تو disastrous ہو جائے گا۔ بیوی بھی اور محبوبہ بھی ایک ہی وقت میں مل جائیں تو catastrophes تو ہو گیا۔
آپ کی زندگی آپ کو define کر رہی ہے جبکہ آپ کو اپنی زندگی کو define کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کو بدلنا ہے تو آپ کو خود کو بدلنا ہو گا۔
آپ کو انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ آپ کس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کثیف سوچیں ( gross thoughts) مادہ، دنیا، لالچ, شہرت ، طاقت ، غصب ، غضب، دھوکا اور لطیف سوچیں ( subtle thoughts) سچ ، خوبصورتی، ہمدردی، اُنس، پیار، ایثار ۔۔۔۔ آپ نے خود انتخاب کرنا ہوتا ہے کہ آپ کن چیزوں کے بارے میں اپنی سوچ کو متحرک رکھتے ہیں، کس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آپ کو اپنے دوستوں کا انتخاب کرنا ہوتا ہے ، اپنی صحبت تلاش کرنا ہوتی ہے۔ انسان سے زیادہ کچھ قیمتی نہیں ۔۔۔۔ قیمتی انسانوں کی تلاش کریں ان کے ساتھ ربط میں رہیں صحبت میں رہیں ۔
کسی سے فکری اختلاف ہونے پر آپ کو نہ تو شرمندہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی معذرت خواہ ہونے کی۔ بس اختلاف ہوتا ہے زاویہ نگاہ کا۔۔۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ کو جو معلومات سب سے پہلے ملتی ہیں آپ زندگی بھر انہی پر نہ صرف اکتفا کر لیتے ہیں بلکہ اسے پوری ایمانداری سے اپنا علم بھی سمجھنے لگتے ہیں ۔
دُعا گُو و دُعاجُو
محمد عاصم
10/06/2026
خالی خوُلی بات
صاحبو ! جو خود خالی ہے وہ مجھے کیا بھرے گا۔۔۔
بھرا ہوا بے نیاز
اور
خالی نیازمند ہوتا ہے
خود آپ کے اور میرے سمیت ہمارے اردگرد تمام دکھائی دینے والی اور چھوئی جانے والی مخلوقات سب ایٹم سے بنے ہیں۔ وہی ایٹم جس کے متعلق سائنس اب تک اپنی تحقیق میں اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ایٹم 99.99% فیصد خالی ہوتا ہے، empty ہوتا ہے۔ کھوکھلا ہوتا ہے۔
آپ کے اندر اتنا خالی پن ہے میری جان۔۔۔
آپ کے اردگرد بھی جو ہے وہ بھی اتنا ہی خالی ہے۔ جتنے آپ خود خالی ہیں۔
اب اتناشدید خالی پن جو ہے یہی “مکمل” ہونے اور “بھرنے” کی شدید خواہش بن کر آپ کو تلاش میں لگا دیتا ہے۔ اور ہم اپنے آپ کو بھرنے کے لیے جس بھی چیز کو تلاش کرتے ہیں تو ہم خالی پن تک ہی پہنچتے ہیں۔ اس دنیا کی کوئی چیز ہمیں نہیں بھر سکتی کیونکہ اس وجود کی بُنت بھی انہی ایٹموں سے بنی ہے جو خالی ہیں۔
صاحبو ! آپ صرف اسی صورت میں معمور و مکمل اور بھرے ہوتے ہیں جب آپ “ الصمد “ کے قریب ہوتے ہیں۔
اللہ الصمد ہے۔ جس کا مطلب صرف بے نیاز ہونا، اور خود کفیل ہونا ہی نہیں ہے۔ “الصمد” کا مادہ اشتقاق یا root word کا مطلب “ ٹھوس”، “ غیر کھوکھلا ، مظبوط، بھرا ہوا جس میں کچھ خالی پن نہ ہو۔۔۔
تو صاحبو اندر کا خالی پن تو اس “ الصمد” کی قُربت سے ہی بھرا جائے گا۔
اور جوں جوں آپ بھرتے جاتے ہیں توں توں آپ بے نیاز ہونے لگتے ہیں۔
اسی لیے ہر چشتی سالک کو “ الصمد” کا ورد اور شغل دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر کے خالی پن کو بھر سکے۔
التماس دُعا
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی
09/06/2026
وہ مجھے امامت کرانے کے لیے اصرار کرتا تھا اور میرا دل تھا کہ میں اس بخشی روح کی امامت میں نماز ادا کروں۔ رحیم کی پیدائش ایک یہودی خاندان میں ہوئی ۔ جوانی میں ہی وہ روحانیت کے سفر پر نکل کھڑا ہوا اور جس طرح حق کی راہ میں نکلا ہر مخلص سالک حق کو پہنچتا ہے وہ بھی دین حق اسلام کو آنُ پہنچا۔ اور امت محمدی میں داخل ہونے کے بعد اسکا نام رحیم رکھا گیا۔
اپنے مخصوص روسی لہجے میں وہ عربی میں سورۂ اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا۔ ایک ایک حرف کانوں کو چیرتا، سینے کو پھاڈتا، دل کو اس حد تک گرماتا تھا کہ آنکھوں سے ابلتے آنسو رخساروں کو سلگاتے تھے۔ زمان اور مکان اپنی وقعت و حثیت ہار بیٹھے اور مجھے لگا کہ میں کملی والے کے حبشہ کے غلام بلال کی قرات سنتا ہوں۔ اسکی موجودگی اس حد تک تھی کہ میری ہچکیاں بندھ گئی شریعت روکتی تھی ورنہ دل یہی کہتا تھا کہ میں سجدہ میں رہوں اور بلال یونہی قیام میں کھڑا تلاوت کرتا رہے۔
ہم درویش ہمیشہ سے اہل علم اور اہل دنیا کے لیے سامان تنقید رہتے ہیں ۔ اب کیسے سمجھائیں اور کیسے دکھائیں کہ حُسن یوسف بے مثل سہی مگر اس حُسن سے خیرہ ہونے والے صرف اپنی انگلیوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے کٹ جانے پر ہوش میں آ جاتے ہیں۔ کملی والے کے اس حبشی غلام کا حُسن وہ تحیر رکھتا ہے کہ دل کٹ جائے تو قطرہ خون دل سے نہیں بلکہ آنکھ سے نکلے۔
میرے کریم سرکار گنج شکر نے خوب کہا
ٹُریا ٹُریا جا فریدا ، ٹُریا ٹُریا جا
جے کوئی ملے بخشیا، توں وی بخشا جا
میں حقیقت لکھتا ہوں مگر آپ کو افسانہ لگے گا۔ میری دعا ہے کہ آپ سب کی سماعتوں کو بلال کی تلاوت سننا نصیب ہو۔ تب ہی آپ جانو گے کہ درویش نہ لفظوں سے کھیلتا ہے اور نہ ہی افسانہ لکھتا ہے۔ وہ حقیقت بیان کرتا ہے۔ بلال کا کوئی رنگ نہیں ہے، بلال پر رنگ ہے۔ محمد کی محبت کا رنگ۔۔۔۔
ادھوری کتاب کی چند سطریں ۔۔۔
التماس دعا
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی