Sahibzada Asim Maharvi

Sahibzada Asim Maharvi A Forum to Share and Discuss Sufi Wisdom...

"Sahibzada Muhammad Asim Maharvi Chishti's Official Page"
Mir Murabit Chishtiya Ribbat

Belongs to the family of great Sufi Saint the revivalist of later Chishti Order in the 18th century; Qibla Aalam Hazrat Khwaja Nur Muhammad Maharvi (R.A).

لاکھوں سلام لُطف کے اُس سائبان پر بے سایہ ہو کہ سایہ ہے جس کا جہان پر رحمت العالمین کی بشری آمد تمام عالمین کو مبارک ۔
25/08/2026

لاکھوں سلام لُطف کے اُس سائبان پر
بے سایہ ہو کہ سایہ ہے جس کا جہان پر
رحمت العالمین کی بشری آمد تمام عالمین کو مبارک ۔

بہکی باتیں ۔۔۔ صاحبو ! انسانی ذہن ہمیشہ نتیجوں کا شدید آرزومند رہتا ہے۔ آخر آپ کے اتنے لمبے سفر کا نتیجہ کیا رہا؟ یہ سوا...
22/08/2026

بہکی باتیں ۔۔۔
صاحبو ! انسانی ذہن ہمیشہ نتیجوں کا شدید آرزومند رہتا ہے۔ آخر آپ کے اتنے لمبے سفر کا نتیجہ کیا رہا؟ یہ سوال مجھ سے ہمیشہ پوچھا جاتا ہے۔
دراصل ذہن کھبی عمل میں دلچسپی نہیں لیتا، اس کی دلچسپی نتیجے میں ہوتی ہے۔ ذہن کا بنیادی سوال ہوتا ہے ، “ مجھے اس سے حاصل کیا ہو گا؟”
صاحبو درویش نتائج کے لیے سفر نہیں کرتے بلکہ سفر بہ ذات خود کسی اور عمل کے نتیجے کے طور پر بھی درپیش آ سکتا ہے۔ نتائج کو سامنے رکھنے والے ذہن کے حامل شخص کو روحانی تلاش کے سفر پر نہیں نکلنا چاہیے۔ کیونکہ اس راہ پر متلاشی کو وہ سب کچھ بُھلانا یا ترک کرنا پڑتا ہے جو وہ جانتا ہے۔ روحانی سفر آپ کو حیرت زدہ کر دیتا ہے۔لیکن مسافر اپنی حیرت کو سوالات میں نہیں ڈھال سکتا ۔
حیرت کی حالت سے دو راہیں نکلتی ہیں ۔ایک راہ ہے سوال پوچھنا جو جلد یا بدیر آپ کو علم کی طرف لے جاتی ہے۔ علم ، علم ہوتا ہے زندگی نہیں ۔ حتی کہ زندگی کا علم بھی زندگی نہیں ۔
دوسری راہ ہے حیرت سے لُطف اندوز ہونے کی۔ کیا ہے جو اس انسان میں حیران کُن نہیں ہے؟ بچے کی آنکھوں میں ہر وقت لُطف اندوز ہونے اور اُسے جینے کی چمک رہتی ہے۔ اس چمک کو زندگی سے بھرپور چمک کہتے ہیں۔ یہاں زیادہ تر معصوم بننا مقصود ہوتا ہے، عالم بننا مقصود نہیں ہوتا۔ معصوم بچہ حیرت میں رہتا ہے۔
کوئی بھید تلاش کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ ہمیشہ حیرت میں رہے۔ جو سوال کریں اُن ہر بھید نہیں کھُلتے ۔ سوال آپ کو لائبریریوں اور کتابوں تک پہنچاتے ہیں۔ اُن میں جواب ہوتے ہیں ۔ اور جواب خطرناک ہوتے ہیں۔ وہ حیرت کو ختم کرتے ہیں۔ جواب آپ کو احساس دیتے ہیں کہ آپ جواب جانتے ہیں۔ حالانکہ آپ جواب جانتے نہیں ہیں۔ آپ نے صرف وہ جواب پڑھے ہیں جو دوسروں کو ملے تھے۔ یہ جواب آپ کو غلط تاثر دیتے ہیں کہ اب آپ کا مسلۂ حل ہو چکا ہے۔ دوسروں کے جواب طوطے کی طرح رٹ لینے سے آپ صرف چیزوں کو دہراتے ہیں ، لیکن جانتے نہیں ہیں۔
پھر اتنی جلدی کاہے کی ہے صاحب ! لاوتزو کہتا ہے: “ تاؤ کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے بیان کر دیا جائے تو وہ تاؤ نہیں رہتا “۔
سچ کی تعریف متعین نہیں کی جا سکتی۔ البتہ اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم تجربہ بھی تعریف نہیں ہوتا۔ تعریف ذہن گھڑتا ہے۔ سچ کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اسے جیا جا سکتا ہے۔ سچ کو جانا نہیں جا سکتا اسے جیا جاتا ہے۔
معاشرہ مستقل مزاج ٹھہراؤ والے آدمی کا احترام کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے حوالے سے پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ اُسے آسانی سے قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ وہ ایک مشین کی مانند ہوتا ہے جس کو آن آف کرنے کے بٹن معاشرے کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کے مطابق عمل کرتا ہے۔ معاشرے کو ہمیشہ درویشوں کو سمجھنے میں پریشانی ہوتی ہے۔ درویش کو صرف ایک پرواہ ہوتی ہے اور وہ یہ کہ میں اپنی زندگی جی رہا ہوں یا نہیں۔۔۔
زندگی جینے کی ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے
دُعا گُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

برطانیہ کے حالیہ دورہ کی چند عکسی یاداشتیں۔۔صاحبو ! شاید ہمارے پاس الفاظ کی کمی رہتی ہے یا شاید میں اُردو کی فصاحت و بلا...
21/08/2026

برطانیہ کے حالیہ دورہ کی چند عکسی یاداشتیں۔۔

صاحبو ! شاید ہمارے پاس الفاظ کی کمی رہتی ہے یا شاید میں اُردو کی فصاحت و بلاغت سے اتنا آشنا نہ ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید جب ہم لفظ “ بہکا “ یا بہک جانا استعمال کرتے ہیں تو اُس سے زیادہ تر ہم یا تو نشے میں دُھت اول فُول بکتے جھولتے جھومتے شخص؛ یا ایسے شخص کے متعلق جس کا ارتکاز توجہ focus of attention بار بار بدل جاتا ہو استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ہم یہی لفظ “ بہک” جانا اُن لوگوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جو دنیا کو ، اس زندگی کو رائج زاویہ نگاہ کی بجائے ایک الگ غیر روایتی زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں شاید ایسے سب بھی “ بہکے بہکے” لگتے ہیں۔
صاحبو ! درویش جس حالت سے اس سفر دوران گزر رہا ہے اگر لکھ ڈالوں تو یقین مانو کہ وہ “ بہکی بہکی” تحریر ہی لگے گی۔
یہ بہک جانا ہی تو ہے کہ آپ کی جلد چہرے پر پڑنے والی پھوار پر شکر ادا کرنے لگے اور آپ سُن رہے ہوں ۔
یہ بہک جانا ہی تو کہ اگر آپ کو لگے کہ جینے کے لیے لہو کی طرح محبت کا بے روک دوران و فشار ضروری ہے۔
یہ بہک جانا ہی تو ہو گا اگر یہ لکھ دوں کہ اپنے آپ سے محبت کیے بغیر کسی سے محبت ممکن نہیں ۔ یہ بہک جانا ہے کہ اگر مرد و عورت کی محبت کو محبت کا دھندلا سا سایہ لکھ دیا جائے اور ماں باپ کی اپنی اولاد کی محبت کو محبت کی عبادت گاہ کی پاک دہلیز لکھ دیا جائے۔
کوئی بھی “ بہک جانے” کے علاوہ کیا کہے گا اگر وہ درویش کو یہ کہتے سُنے کہ محبت کوئی “ نیکی” نہیں بلکہ محبت ضرورت ہے روٹی اور پانی سے ، روشنی اور ہوا سے بھی زیادہ ۔
صاحبو ! جاتے جاتے ایک اور بہکی بات بھی سُن لو۔ محبت کا کوئی صلہ تلاش نہ کرو ۔ محبت ہی محبت کا reward ہے اور سُنو “ محبت “ کو ضرورت نہیں کہ کوئی اُس کی شان بُلند کرے۔وہ جس کو اپنے شایان سمجھتی ہے اُس دل کا رُتبہ وہ خود بخود بُلند کر دیتی ہے۔
درویش نئی آنکھیں لے کر جو دیکھ رہا ہے وہ سب بہکا بہکا سا ہے۔۔۔
لگتے تو آپ بھی کچھ بہکے بہکے سے ہیں کہ اتنی بہکی تحریر کو آخر تک پڑھ رہے ہیں۔
اپنا “ بہکا پن” سنبھال کر رکھا کریں ۔ آپ سوبر sober رہ رہ کر تھک چکے ہیں۔
دُعاگُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

17/08/2026

بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رویہ
گفتگو :صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی
موضوع : بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت کا کردار
پانچویں انٹرنیشنل ادبی نعت کانفرنس ۔ زیر اہتمام حسان بن ثابت نعت ریسرچ سینٹر ۔ زیر انتظام منہاج یونورسٹی۔ بہ تعاون منہاج القرار انٹرنیشنل برطانیہ ۔

گزشتہ روز حسان بن ثابت سینٹر فار ریسرچ ان نعت لٹریچر، انٹرنیشنل نعت فورم اور منہاج القرآن یونیورسٹی کے اشتراک سے برطانیہ...
17/08/2026

گزشتہ روز حسان بن ثابت سینٹر فار ریسرچ ان نعت لٹریچر، انٹرنیشنل نعت فورم اور منہاج القرآن یونیورسٹی کے اشتراک سے برطانیہ میں منعقدہ "پہلی انٹرنیشنل ادبی نعت کانفرنس" میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ کانفرنس کا اچھوتا موضوع "بین المذاہب ہم آہنگی میں نعت کا کردار" علم و شعور کے نئے دریچے وا کر گیا۔یہ درویش دل کی گہرائیوں سے سپاس گزار ہے پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری صاحب (چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل) اور محترم ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی صاحب (ڈائریکٹر حسان بن ثابت ریسرچ سینٹر) کا، جنہوں نے اس علمی و ادبی کہکشاں میں مجھے اپنے معروضات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔دورانِ کانفرنس، محترم ڈاکٹر حسن محی الدین صاحب اور انتہائی مشفق و مہربان شخصیت، محترم سید لختِ حسنین شاہ صاحب (چیئرمین مسلم ہینڈز) کے فکر انگیز اور پرمغز مقالہ جات نے نعتِ پاک کی ہمہ جہت معنویت سے روشناس کرایا۔ مزید برآں، حسان بن ثابت سینٹر کی مدحتِ رسول ﷺ کے حوالے سے گراں قدر اور بے مثال خدمات کو بھی قریب سے جاننے کا موقع ملا۔دعا ہے کہ اللہ کریم ان تمام بزرگوں اور منتظمین کو دارین کی آسانیاں اور برکتیں عطا فرمائے۔ آمین۔
دُعاگُو و دُعاجُو
صاحب زادہ محمد عاصم مہاروی

15/08/2026

ماہ نور ربیع الاول مبارک۔

15/08/2026

ماہ نور ربیع الاول مبارک

اچھا یہ بتائیں  آپ جو دنیا میں اتنے گھومے ھیں تو کونسا ملک آپ کو سب سے اچھا لگا؟ یہ وہ سوال ہے جو مجھ خانہ بر دوش سے اکث...
14/08/2026

اچھا یہ بتائیں آپ جو دنیا میں اتنے گھومے ھیں تو کونسا ملک آپ کو سب سے اچھا لگا؟
یہ وہ سوال ہے جو مجھ خانہ بر دوش سے اکثر پوچھا جاتا ہے۔
جواب میں “ پاکستان” کا نام سن کر اکثر کہتے ھیں
وہ تو اپنا جو ہوا اسکے علاوہ بتائیں کوئی تو ایسی جگہ ہو گی جہاں آپ شفٹ ہونا چاہتے ہوں گے؟
اسکا جواب بھی انہیں پاکستان ملتا ہے تو بہت سے لوگ مایوس ہو جاتے ھیں کہ جیسے میں جھوٹ بول رہا ہوں اور دکھانے کو وطن سے محبت کا اظہار کر رہا ہوں ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دنیا میں رہنے کے لیے پاکستان اچھی جگہ ہو۔
پاکستان میرے لیے جبری نہیں اختیاری ہے۔ میں نے اپنی نوجوانی اور جوانی ترقی یافتہ ممالک میں گزاری اور اس کے بعد پاکستان کو اختیار کیا۔
کوئی بھی خطہ ارضی ملک اس وقت کہلاتا ہے جب انسان وہاں بسنا شروع کرتے ھیں اور معاشرتی و سماجی حدود کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حدود کا بھی تعین کرتے ھیں۔
پاکستان سے وابستگی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ھیں۔اس ملک میں پیدا ہونا، اس تہذیب و ثقافت و ادب میں پروان چڑھنے کے باعث اسکا عادی ہو جانا۔
نیشنل ازم اور پیٹریاٹ ازم کی تھیوریاں بھی زیر بحث آ سکتی ہیں۔
ھم درویش لوگ انسانوں کو عیال اللہ اور اس زمین کو ملک خدا است ماننے والے لوگ ہوتے ھیں اور جغرافیائی اور ثقافتی و لسانی تعصبات میں نہ الجھتے ھیں اور نہ ان میں یقین رکھتے ھیں۔
پاکستان کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آنے والے وقت میں یہ دنیا کہ چند ان خطوں میں سے ایک ہو گا جہاں “انسان” اور “انسانیت” زندہ رھیں گے۔ نور اور ظلمات کے دور میں یہ خطہ نور کی حکمرانی اور اسکی ذیل ہوگا۔
میں آپ کو آنکھن دیکھی بتا رہا ہوں، کاگد پر اسکے الٹ لکھا ہو گا۔۔
جنم لینا آزاد ہونا نہیں ہوتا......
اقوامِ عالم میں پاکستان ایک ایسا ہی کچرہ اُٹھائے بچہ ہے...... اسے آزادی کی مبارک دے کر اسکی تضحیک مت کرو. آزاد یہ تب ہو گا جب تم اپنا اپنا کچرہ اس میں سے آٹھا لو گے....
پاکستان کو جنم دن مبارک ہو..... اب ہمیں اسے آزاد کرنا ہے.
پاکستان پائندہ باد
التماس دعا صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی

13/08/2026

Cambridge Central mosque . UK Diaries

Address

Purani Chishtian
Dubai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahibzada Asim Maharvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Sahibzada Asim Maharvi:

Shortcuts

Share