Hussaini Knowledge

Hussaini Knowledge

Share

حسینی نالیج پیج کا مقصد تعلیماتِ اہلبیتؑ کا فروغ ہے۔اس مقصد میں آپکا تعاون ہماری خوش نصیبی ہوگی۔

05/10/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی علیہ السلام تاقیامت

قسط نمبر 24 تا 25

آخری اقساط

قیامت کا آغاز، صور کا پھونکا جانا اور ہولناک تباہیاں
قیامت کا دن ایک عظیم اور خوفناک دن ہوگا، جس کے آغاز کو قرآن نے "یوم القیامہ، یوم الحسرة، یوم الفصل" جیسے مختلف ناموں سے بیان کیا ہے۔ اس دن کی ابتدا صور پھونکے جانے سے ہوگی۔

صور کا پھونکا جانا
قرآن میں ہے:
"وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ"
(الزمر: 68)

یعنی جب صور میں پہلی بار پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کے سب لوگ مرجائیں گے، سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ پھر دوسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔

ہولناک تباہیاں
قرآن میں قیامت کے وقت کی کائناتی تبدیلیوں کا ذکر ہے:
زمین کا لرزنا اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونا:
"إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا" (الزلزال: 1)
"وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا" (النبأ: 20)

سمندروں کا بھڑک اٹھنا:

"وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ" (التکویر: 6)
آسمان کا پھٹ جانا اور ستاروں کا جھڑ جانا:
"إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ" (الانشقاق: 1)
"وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ" (الانفطار: 2)
سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے:
"وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ" (القیامہ: 9)

یہ سب نشانیاں انسان کو بے انتہا خوف میں مبتلا کریں گی۔

انسانوں کی کیفیت
اس دن انسان اپنی سب سے قریبی ہستیوں کو بھول جائے گا:
"يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ، وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ"
(عبس: 34-37)

یعنی ہر شخص اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگا اور قریبی رشتے بھی بھلا دیے جائیں گے۔

میدانِ حشر
صور کے بعد سب انسان میدانِ محشر میں جمع ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"يُحشَرُ الناسُ يومَ القيامةِ على أرضٍ بيضاءَ عَفْراءَ كقُرْصَةِ نَقِيٍّ ليس فيها عَلَمٌ لأحدٍ"
(صحیح بخاری، حدیث 6521)

یعنی قیامت کے دن لوگوں کو ایک سفید چمکدار زمین پر جمع کیا جائے گا جس پر کوئی نشان یا بلندی نہ ہوگی۔
صور کے پھونکے جانے سے لے کر زمین و آسمان کے ہولناک مناظر اور انسانوں کے جمع ہونے تک۔ یہ دن ہر بندے کے لئے
فیصلے کا دن ہوگا۔

:قسط نمبر 25

قیامت کے عظیم مناظر: لواءِ الحمد، حوضِ کوثر، میزانِ اعمال اور بی بی فاطمہؑ کی شفاعت

قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب ہر نفس اپنے انجام کو پائے گا۔ انسان اپنے اعمال کے ساتھ پیش ہوگا اور کوئی حقیقت چھپی نہ رہ پائے گی۔ اس دن کے چند عظیم مناظر اہل بیتؑ کی احادیث اور قرآن کی روشنی میں یوں بیان ہوئے ہیں:

:لواءِ الحمد

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

"يُعْطَى لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَنَا حَامِلُهُ، وَلَا فَخْرَ، وَآدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي"
(سنن ترمذی، حدیث 3615)

قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں لواءِ الحمد (پرچمِ حمد) ہوگا۔ تمام انبیاء، اوصیاء اور اہلِ ایمان اس کے سائے میں جمع ہوں گے۔

روایات میں آیا ہے کہ اس پر یہ کلمات درج ہوں گے:

"الحمد لله رب العالمين"

(بحارالانوار، ج 7، ص 216)
"بسم الله الرحمن الرحيم، لا إله إلا الله، محمد رسول الله، علي ولي الله"

(تفسیر قمی، ج 1، ص 98)
"النجاة للمتقين" یعنی نجات صرف پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

(نورالثقلین، ج 2، ص 475)
یہ پرچم نورانی ہوگا اور مومنین کے لئے سایہ و نجات کا سبب بنے گا۔

حوضِ کوثر

قرآن نے فرمایا:
"إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ" (الکوثر: 1)

رسول اللہ ﷺ کا حوضِ کوثر ایسا ہوگا کہ:

اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔
اس کی خوشبو مشک سے بڑھ کر ہوگی۔
جو ایک گھونٹ پی لے گا، پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
(صحیح مسلم، کتاب الفضائل)

اہل بیتؑ اور ان کے پیروکار اس حوض پر وارد ہوں گے۔
میزانِ اعمال اور پلِ صراط

قرآن میں ہے:
"وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا"
(الانبیاء: 47)
اعمال کو عدل کے ترازو میں تولا جائے گا، اور ہر شخص کے چھوٹے بڑے اعمال سامنے آجائیں گے۔
اس کے بعد پلِ صراط ہوگا، جو آگ کے اوپر تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہوگا۔ (مسند احمد)
جو اہل ایمان ہوں گے، وہ آسانی سے گزر جائیں گے، اور گناہکار جہنم میں گر پڑیں گے۔

بی بی فاطمہؑ کی شفاعت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"فاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِساءِ أهلِ الجَنَّةِ"
(سنن نسائی، حدیث 8368)

قیامت کے دن بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے بابا ﷺ کی امت کی شفاعت کے لئے آئیں گی۔

منادی ندا دے گا:

"غضّوا أبصاركم حتى تجوز فاطمة بنت محمد"
(بحارالانوار، ج 43، ص 25)

یعنی اپنی نظریں نیچی کرلو تاکہ فاطمہؑ بنتِ رسولؐ قیامت کے دن گزر سکیں۔

امام حسینؑ کی خون آلود قمیص

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"إذا كان يوم القيامة أقبلت فاطمة عليها السلام ومعها قميص الحسين عليه السلام وهو مخرّق بالدّم..."
(امالی الصدوق، ص 111؛ بحار الانوار، ج 44، ص 223)

قیامت کے دن بی بی فاطمہؑ امام حسینؑ کی خون آلود قمیص کو ہاتھ میں لے کر بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اس مظلومیت کے واسطے سے ان کی شفاعت کو قبول کرے گا اور بے شمار مؤمنین کو نجات عطا ہوگی۔

18/09/2025

موضوع: قبل و بعد از ظہور امام مہدی علیہ السلام تا قیامت

قسط نمبر 21 تا 23

امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت، امن و سکون اور

باطل پرستوں کا خاتمہ

قسط نمبر 21: امن و امان کا عالم

امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا سب سے نمایاں پہلو عدل و انصاف اور حقیقی امن ہوگا۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:
"وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔"

(سنن ابن ماجہ، ج 2، ص 1368؛ بحارالانوار، ج 51، ص 74)

اس دور میں انسانوں کے دلوں سے کینہ و بغض دور ہو جائے گا، کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ درندے اور چرندے بھی امن کے ساتھ رہیں گے۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"قائم (عج) کے ظہور کے وقت درندے اور جانور ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔"

(کمال الدین، ص 675؛ بحارالانوار، ج 52، ص 316)

قسط نمبر 22: انسانوں اور جانوروں کا آپسی سلوک
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت میں انسان اور جانور دونوں امن کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔
بچے سانپ اور بچھو کے ساتھ کھیلیں گے لیکن کوئی ضرر نہ پہنچے گا۔
بھیڑ اور شیر ایک ساتھ چراگاہ میں رہیں گے اور امن قائم ہوگا۔
یہ سب قرآن کی آیت "وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ"
(الحجر: 47) کی عملی تصویر ہوگی۔

قسط نمبر 23: باطل پرستوں اور شیطان کا خاتمہ
امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت میں باطل کی تمام قوتوں کو ختم کر دیا جائے گا۔
دجال کا انجام:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجال کو قتل کریں گے۔

(بحارالانوار، ج 52، ص 193)
یاجوج و ماجوج:

قرآن (الکہف: 94-98) کے مطابق ان کا دوبارہ خروج ہوگا مگر اللہ تعالیٰ انہیں نیست و نابود کر دے گا۔
شیطان کا قتل:
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"جب قائم (عج) کی حکومت قائم ہوگی تو ابلیس کو حاضر کیا جائے گا۔ وہ گھٹنوں کے بل ہوگا اور امام مہدی علیہ السلام اسے اپنے ہاتھ سے قتل کریں گے۔"

(تفسیر قمی، ج 2، ص 253؛ بحارالانوار، ج 53، ص 7)

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:

"مہدی ابلیس کو قتل کریں گے، پھر قیامت قریب ہوگی۔"
(بحارالانوار، ج 52، ص 351)

یوں زمین سے گمراہی کا آخری دروازہ بھی بند ہو جائے گا اور حساب و کتاب کا دن قریب آ جائے گا۔

08/09/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدیؑ تا قیامت

قسط نمبر 18 تا 20

قسط نمبر 18

امام مہدیؑ کی سواری

ائمہ اہل بیتؑ کی روایات کے مطابق امام مہدیؑ کی سواری کوئی عام جانور یا گھوڑا نہیں ہوگی بلکہ نورانی بادل ہوں گے۔ یہ بادل الٰہی حکم کے تحت امامؑ کو جس طرف چاہیں گے وہاں لے جائیں گے، اور ان کے ذریعے زمین امامؑ کے لیے سمٹ جائے گی۔
امام صادقؑ سے روایت ہے:

"قائم آل محمدؑ کے لیے ایک نورانی سواری ہوگی جو بادلوں کے ذریعہ چلتی ہوگی۔ زمین ان کے لیے لپیٹ دی جائے گی اور وہ جہاں چاہیں گے وہاں پہنچ جائیں گے۔"
(کمال الدین، شیخ صدوق، ج2، ص672؛ بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج52)

یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ امامؑ کی قیادت ایک ماورائے فطرت اور الٰہی نصرت کے ساتھ ہوگی، تاکہ وہ لمحوں میں پوری دنیا تک اپنی رسائی ممکن بنا سکیں۔
قسط نمبر 19

امام مہدیؑ کی تلوار
ائمہؑ کی روایات میں واضح طور پر آیا ہے کہ امام مہدیؑ کے پاس حضرت علیؑ کی مشہور تلوار ذوالفقار ہوگی۔ یہ صرف ایک مادی ہتھیار نہیں بلکہ عدل و حق کی قوت کی علامت ہے۔
امام باقرؑ فرماتے ہیں:

"جب قائمؑ قیام کریں گے تو ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کا پرچم، زرہ اور ذوالفقار ہوگا۔"
(کمال الدین، شیخ صدوق، ج2، ص653)

امام صادقؑ نے فرمایا:

"گویا میں قائمؑ کو دیکھ رہا ہوں کہ ذوالفقار ان کے کندھے پر ہے، وہ اسے گھماتے ہیں تو مشرق و مغرب روشن ہوجاتا ہے۔"
(بحار الانوار، ج52، ص354)
یہ تلوار ظلم اور باطل کے تمام مراکز کو نیست و نابود کرنے اور عالمی عدل کے قیام کے لیے امامؑ کا آلہ کار ہوگی۔

قسط نمبر 20

امام مہدیؑ کا اہل و عیال (شادی اور اولاد)
ائمہ اہل بیتؑ کی بعض روایات میں امام مہدیؑ کے اہل و عیال اور اولاد کے بارے میں اشارات ملتے ہیں، اگرچہ ان کی تفصیلات الٰہی حکمت کے تحت پردے میں رکھی گئی ہیں۔

اہل و عیال کا ذکر

امام صادقؑ نے فرمایا:
"گویا میں قائمؑ کو دیکھ رہا ہوں کہ نجف اشرف میں ان کے خیمے نصب ہیں اور ان کے اہل و عیال وہاں مقیم ہیں۔"
(الغيبة، شیخ طوسی، ص110)

اولاد کے بارے میں اشارات
علامہ مجلسیؒ لکھتے ہیں:

"ائمہؑ کی بعض روایات سے امام مہدیؑ کی اولاد کا ہونا ثابت ہے، مگر ان کی تفصیلات ہم پر ظاہر نہیں کی گئیں۔"
(بحار الانوار، ج52، ص90)

پس عقلمندانہ رویہ یہی ہے کہ ہم اس مسئلہ میں قطعیت سے کچھ نہ کہیں اور صرف معتبر کتب میں منقول اجمالی اشارات کو تسلیم کریں۔

حوالہ جات

کمال الدین و تمام النعمة، شیخ صدوق، ج2
الغيبة، شیخ طوسی
بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج52

23/08/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت

اقساط 14 تا 17

قسط نمبر 14: دشمنانِ مہدیؑ کا انجام

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد سب سے پہلے وہ باطل قوتوں کا خاتمہ کریں گے جنہوں نے زمین کو ظلم و فساد سے بھر دیا ہے۔ ان میں نمایاں دشمن سفیانی اور دجال ہیں۔

سفیانی شام سے اپنی فوج کے ساتھ نکلے گا مگر امامؑ کے مخلص سپاہیوں کے ہاتھوں شکست کھائے گا۔

دجال کا فتنہ بھی اپنے عروج پر ہوگا لیکن آخرکار نابود ہوگا۔
یہ انجام اس بات کی دلیل ہوگا کہ باطل کبھی حق کے مقابلے میں باقی نہیں رہ سکتا۔
(الغيبة للنعمانی، ص 279؛ بحار الانوار، ج 52، ص 354)

قسط نمبر:15
امامؑ کا عالمی سفر و مراکز حکومت

امام مہدی علیہ السلام کے عالمی نظامِ عدل کے لئے متعدد مراکز ہوں گے۔

کوفہ امامؑ کا دارالحکومت ہوگا۔

مسجد سہلہ امامؑ کا حکومتی مرکز اور دفتر ہوگا۔

بیت المقدس ایک اہم مقام ہوگا جہاں بڑے عالمی فیصلے ہوں گے۔

امامؑ مختلف علاقوں کا سفر کریں گے تاکہ عدل قائم کریں، ظلم کا خاتمہ کریں اور علم و معرفت کو عام کریں۔ یہ سفر صرف فتوحات نہیں بلکہ انسانیت کے لئے عدل و انصاف کے قیام کا اعلان ہوں گے۔
(بحار الانوار، ج 53، ص 11؛ كمال الدين، ج 2، ص 671)

قسط نمبر:16
ظہور کے بعد کا پہلا جمعہ اور خطبہ

روایات کے مطابق ظہور کے بعد امام مہدی علیہ السلام کا پہلا جمعہ کوفہ میں ہوگا۔ اس دن امامؑ منبر پر تشریف لا کر ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمائیں گے:

"اَیُّهَا النَّاسُ! اَنَا بَقِيَّةُ اللّٰهِ فِي أَرْضِهِ، اَنَا حُجَّةُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ، اَنَا اِمَامُكُمُ الْقَائِمُ… اَيُّهَا النَّاسُ! مَنْ يُحَاجُّنِي فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَأَنَا أَوْلٰی النَّاسِ بِكِتَابِ اللّٰهِ، وَمَنْ يُحَاجُّنِي فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ فَأَنَا أَوْلٰی النَّاسِ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ…"

(ترجمہ:)
"اے لوگو! میں زمین پر اللہ کی باقی ماندہ حجت ہوں۔ میں اللہ کی طرف سے تم پر حجت ہوں۔ میں تمہارا امام قائم ہوں… اے لوگو! جو کوئی میرے ساتھ کتابِ خدا کے بارے میں بحث کرے تو میں سب سے زیادہ کتابِ خدا کا حق دار ہوں۔ اور جو کوئی میرے ساتھ سنتِ رسول اللہ کے بارے میں بحث کرے تو میں سب سے زیادہ سنتِ رسول اللہ کا حق دار ہوں۔"

اس خطبہ میں امامؑ:

اپنا تعارف اور نسب بیان کریں گے۔

قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف دعوت دیں گے۔

اور عدل و انصاف پر مبنی عالمی منشور کا اعلان کریں گے۔

یہ پہلا جمعہ انسانی تاریخ کا وہ دن ہوگا جس میں مومنین کا انتظار اپنی منزل کو پائے گا۔
(بحار الانوار، ج 52، ص 290؛ الغيبة للطوسی، ص 285)
17 قسط نمبر:
امامؑ اور امام حسینؑ کی زیارت کا منظر

امام مہدی علیہ السلام ظہور کے بعد کربلا تشریف لے جائیں گے اور وہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزارِ اقدس کی زیارت کریں گے۔
امامؑ گریہ و عزاداری کریں گے۔
انصار اور مؤمنین بھی اس زیارت میں شریک ہوں گے۔
یہ منظر ایک بار پھر دنیا کو یاد دلائے گا کہ امام حسینؑ کی قربانی ہی عدل و حق کے قیام کی بنیاد ہے۔
(بحار الانوار، ج 53، ص 12)

17/08/2025

قبل و بعد از ظہورِ مہدی (عج) تا قیامت

قسط نمبر: 12 اور 13

امام مہدیؑ کے دور میں امام مہدی (عج) اور خواتین کا کردار اور اہل سنت کی توقعات

اللہ تعالیٰ نے امام مہدیؑ کو آخر الزمان میں عدل و انصاف کی حکومت قائم کرنے کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ آپؑ کے دور میں معاشرے کی تمام اکائیاں، بشمول خواتین، اپنا مثالی کردار ادا کریں گی۔

1. امام مہدیؑ کا کردار:

امام مہدیؑ کی بعثت دنیا میں عدل و قسط قائم کرنے کے لیے ہوگی، جیسا کہ نبیﷺ نے فرمایا:
"مہدی میری اولاد سے ہوگا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔"
(سنن ابی داؤد، کتاب المہدی، حدیث: 4282)

امامؑ کا کردار صرف حکمران کا نہیں ہوگا بلکہ وہ دین کی صحیح تشریح کریں گے، امت کو متحد کریں گے اور اسلامی تعلیمات کو دنیا میں نافذ کریں گے۔

2. خواتین کا کردار:

امام مہدیؑ کے دور میں خواتین بھی دین کی خدمت اور معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گی۔ خواتین کی ذمہ داری ہوگی:
- گھر اور معاشرے میں اسلامی اقدار کو فروغ دینا۔
- اولاد کی تربیت کرنا تاکہ وہ امامؑ کے دور میں فعال کردار ادا کرسکیں۔
- علم دین حاصل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا۔

امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے:
"جب قائمؑ (مہدی) قیام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہر مومن مرد و عورت کی عقل کو کامل کردے گا۔"
(بحار الانوار، ج52، ص336)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ خواتین بھی امامؑ کے دور میں علمی اور روحانی ترقی کی معراج پر ہوں گی۔

قسط نمبر 13

3. اہل سنت کی توقعات:

اہل سنت کے نزدیک امام مہدیؑ ایک عادل حکمران ہوں گے جو دنیا کو ظلم سے نجات دلائیں گے۔ ان کی توقعات درج ذیل ہیں:
- وہ سنت نبویﷺ کو زندہ کریں گے۔
- مسلمانوں کو متحد کریں گے۔
- دجال اور شیطانی قوتوں کے خلاف جنگ کریں گے۔

امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں:
"مہدیؑ کا ظہور قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، وہ اہل ایمان کے لیے اللہ کی رحمت ہوں گے۔"
(المنار المنیف، ص148)

خدائے بزرگ و برتر امام مہدی (عج) کا جلد ظہور فرمائے۔الٰہی آمین

14/08/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدیؑ تا قیامت

قسط نمبر 10 اور 11

دیگر انبیاء و اوصیا کی رجعت

روایات اہل بیتؑ کے مطابق امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے کچھ خاص بندوں کو دوبارہ دنیا میں واپس بھیجے گا، جن میں انبیاء اور اوصیا شامل ہوں گے۔ یہ رجعت اس لیے ہوگی کہ وہ دینِ حق کی نصرت کریں اور حق کے دشمنوں پر خدا کے وعدے کے مطابق عذاب اور بدلہ واقع ہو۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"سب سے پہلے رجعت کرنے والوں میں امام حسینؑ ہوں گے، اور وہ اپنے اصحاب کے ساتھ آئیں گے، یہاں تک کہ قائمؑ کا ساتھ دیں اور اپنے دشمنوں سے بدلہ لیں۔"
(بحار الانوار، ج 53، ص 39؛ الغیبة، طوسی، ص 477)

اسی طرح معتبر روایات میں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ آسمان سے نزول فرمائیں گے اور امام مہدیؑ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی عالمی شہادت ہوگا کہ ختم نبوت حضرت محمد ﷺ پر ہوچکی ہے اور اللہ کی آخری حجت امام مہدیؑ ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے، اور تمہارے امام تم میں سے ہوں گے۔"
(صحیح مسلم، ج 1، ص 94؛ بحار الانوار، ج 51، ص 71)

یہ عظیم اجتماع انبیاء، اوصیا اور مومنین کے لشکر کو ایک صف میں لا کر دنیا میں عدل و انصاف کے قیام اور باطل کے مکمل خاتمے کا نقطۂ آغاز ہوگا۔

قسط نمبر 11

امام کا رابطہ عوام سے

امام مہدیؑ کے ظہور کے بعد عوام سے براہِ راست رابطہ ایک انقلابی طرزِ حکومت کا نمونہ ہوگا۔ آپؑ کا مقصد محض حکمرانی نہیں بلکہ ہر فرد تک دینِ حقیقی کا پیغام پہنچانا، ظلم کا خاتمہ، اور عدل کا نفاذ ہوگا۔

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:

"جب قائمؑ ظہور کریں گے تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں گے، اور اپنے اصحاب کو دنیا کے مختلف شہروں میں بھیجیں گے تاکہ وہ لوگوں کو دین کی تعلیم دیں اور انہیں حق پر قائم کریں۔"
(الکافی، ج 8، ص 540؛ بحار الانوار، ج 52، ص 363)

امامؑ کی حکومت میں کسی بھی فیصلے میں ذاتی مفاد یا ظلم کا شائبہ تک نہ ہوگا۔ ہر مسئلہ کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں ہوگا، اور کسی بھی اختلاف یا تنازع کے لیے براہِ راست امامؑ یا آپ کے مقرر کردہ نمائندے سے رجوع کیا جائے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"میری امت کے آخر میں مہدی آئیں گے، جو میری امت کی طرح لوگوں کو ہدایت دیں گے۔"
(سنن ابن ماجہ، ج 2، ص 1367؛ بحار الانوار، ج 51، ص 75)

اس براہِ راست رابطے اور شفاف حکمرانی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عوام کو دینی و دنیاوی دونوں معاملات میں مکمل سکون، رہنمائی اور عدل حاصل ہوگا، اور معاشرہ حقیقی اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا۔

09/08/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت

قسط نمبر 8 اور 9

معیشت و وسائل کی تقسیم اور دنیا سے ظلم، فقر و خوف کا خاتمہ

امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے بعد ان کے عالمی نظامِ عدل کا ایک اہم پہلو معیشت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگا۔ صدیوں سے دنیا میں دولت چند ہاتھوں میں محدود رہی، طبقاتی فرق بڑھتا گیا، اور محروم طبقے غربت و بھوک کا شکار رہے۔ امام علیہ السلام اس غیر منصفانہ نظام کو جڑ سے ختم کریں گے۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو لوگوں کے درمیان انصاف سے حکومت کرے گا اور عدل اس قدر پھیل جائے گا کہ کسی کو کسی کی طرف سے ظلم کا اندیشہ نہ ہوگا۔ زمین اپنے خزانے ظاہر کرے گی اور لوگوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہوں گے یہاں تک کہ کوئی محتاج باقی نہ رہے گا۔"
(الکافی، ج 8، ص 330)

امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

"قائم کے زمانے میں دولت لوگوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگی کہ جسے دینے کے لیے عامل (کلکٹر) تلاش کرے گا مگر کوئی لینے والا نہ ہوگا۔"
(الغیبة، نعمانی، ص 236)

اس عہد میں نہ صرف غربت کا خاتمہ ہوگا بلکہ دنیا ظلم اور خوف سے بھی پاک ہو جائے گی۔ قرآن کی یہ آیت اپنے عملی مفہوم میں ظاہر ہوگی:

"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"
"تاکہ دولت صرف تمہارے مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے۔"
(القرآن، سورۃ الحشر، آیت 7)

امام مہدی علیہ السلام کا عدل اس قدر وسیع ہوگا کہ زمین کا ہر خطہ امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ نہ کسی کو جان کا خوف ہوگا، نہ عزت و مال کا خطرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

"میری امت میں مہدی کا ظہور ہوگا… ان کے دور میں امت ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوگی جیسی پہلے کبھی نہ ہوئی تھی، آسمان خوب بارش برسائے گا، زمین اپنی پیداوار کئی گنا بڑھا دے گی، اور وہ مال کو گن گن کر نہیں بلکہ ڈھیر لگا کر تقسیم کریں گے۔"
(سنن ابن ماجہ، ج 2، ص 1367 — شیعہ و سنی دونوں میں موجود روایت)

یہی وہ دور ہوگا جب فقر، مظلومیت اور دہشت گردی کا وجود ختم ہو جائے گا، اور دنیا ایک حقیقی عادلانہ و پرامن معاشرہ بنے گی۔

07/08/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت

قسط نمبر 7

علم و شعور کا عالمی انقلاب

1. علم کا کمال اور انسانی عقل کی تکمیل
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو وہ لوگوں کے سروں پر اپنا ہاتھ رکھے گا، ان کی عقلوں کو مکمل کرے گا اور ان کے شعور کو بلند کرے گا۔"
(الکافی، ج 1، ص 25)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ امامؑ کے ظہور کا پہلا اثر انسانوں کی فکری بیداری ہوگی۔

2.۔ علم کے 27 ابواب
روایات میں آیا ہے کہ:
"علم 27 حصوں پر مشتمل ہے۔ ظہور سے پہلے صرف 2 حصے دنیا کو حاصل ہوں گے، اور جب ہمارا قائم آئے گا تو وہ باقی 25 حصے ظاہر کرے گا۔"
(بحار الأنوار، ج 52، ص 336)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہور سے پہلے انسانیت فقط تھوڑے سے علم پر قناعت کر رہی ہوگی، جبکہ امامؑ کا ظہور علمی انقلاب لائے گا۔

3.۔ علم گھر گھر پہنچے گا
روایت ہے:
"علم اس طرح پھیلایا جائے گا جیسے روشنی پھیلتی ہے، یہاں تک کہ عورت گھر میں قرآن اور سنت کی روشنی میں فیصلہ کرے گی۔"
(الغیبة، نعمانی، ص 239)

امامؑ کے دور میں خواتین بھی علمی بصیرت سے مالا مال ہوں گی، اور گھروں میں علم و دین کی روشنی ہوگی۔

4.۔ علمی نظام کی خصوصیات
– تعلیم عام ہوگی، امیر و غریب میں فرق نہ ہوگا
– ہر انسان کو اس کی زبان اور فہم کے مطابق سکھایا جائے گا
– قرآن اور اہل بیتؑ کی اصل تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا
– مذہب، سائنسی علوم، معاشرت اور اخلاقیات سب کو دینی بنیادوں پر تشکیل دیا جائے گا

03/08/2025

موضوع: قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت

قسط نمبر 6:

ظہور کے بعد پہلا قیام (مکہ مکرمہ) اور عالمی ردِعمل

ظہورِ امام مہدیؑ کا آغاز مکہ مکرمہ سے ہوگا۔ روایات کے مطابق امامؑ خانہ کعبہ کے قریب، رکن و مقام کے درمیان کھڑے ہو کر اللہ کا نام لے کر اپنے ظہور کا اعلان فرمائیں گے:

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"قائمؑ، مقامِ ابراہیم اور رکن کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو دعوت دیں گے۔"
(الغيبة، شیخ نعمانی، ص 233)

روایت میں ہے:

"سب سے پہلے جبرائیل امام مہدیؑ کے سامنے حاضر ہو کر عرض کریں گے: السلام علیک یا حجة الله فی ارضه۔"
(بحار الانوار، جلد 52، صفحہ 307)

عالمی ردعمل اور میڈیا کی گونج

روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امامؑ کا اعلان اور ظہور دنیا بھر کے لیے ایک غیر معمولی خبر بن جائے گا۔ میڈیا، حکومتیں اور دنیاوی طاقتیں اس پر ردعمل دیں گی۔

شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں:

"جبرائیلؑ ایک پکار کے ذریعے دنیا بھر میں امام مہدیؑ کا تعارف کروائیں گے۔ لوگ اپنے گھروں میں امامؑ کی آواز سنیں گے اور حیران رہ جائیں گے۔"
(کمال الدین، شیخ صدوق، جلد 2، ص 652)

بعض لوگوں کا انکار اور دشمنی

ظہور کے بعد امامؑ کی بیعت سے کچھ لوگ انکار کریں گے۔ خاص کر سفیانی (شامی طاقت) اور اس کے حامی اس بیعت کو ماننے سے انکار کریں گے اور امامؑ سے جنگ کی تیاری کریں گے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں :

"جب قائمؑ ظہور کریں گے تو بعض لوگ کہیں گے: یہ تو آلِ محمدؐ سے نہیں، بلکہ ہم خود زیادہ حقدار ہیں۔"
(الغيبة، شیخ طوسی، ص 278)

31/07/2025

قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت
قسط نمبر 5

313 اصحابِ امام مہدیؑ کی خصوصیات اور کردار

313 اصحاب وہ منتخب بندگانِ خدا ہیں جو امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت فوراً ان کے گرد جمع ہوں گے۔ یہ افراد عام سپاہی نہیں بلکہ ہر ایک قیادت، علم، عبادت، قربانی، اخلاص اور عالمی انقلاب کا ستون ہوگا۔ روایات میں ان کے اوصاف اور کردار بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

1. عقیدہ و ایمان کی بلندی

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اللہ کی معرفت حاصل کی، اور دین میں بصیرت رکھتے ہیں، وہ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں گے۔"
حوالہ : الغيبة، شیخ نعمانی، ص 315

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:

"وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے دین پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں اور کبھی شک نہ کریں گے۔"
حوالہ: کمال الدین، شیخ صدوق، ج 2، ص 653

2. علم و فہم کا درجہ

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں :
"اللہ تعالیٰ امام مہدیؑ کے اصحاب کے دلوں میں علم و حکمت نازل فرمائے گا، اور وہ بغیر کسی شک و تردد کے فیصلہ کریں گے۔"
حوالہ: بحار الانوار، ج 52، ص 372
حوالہ: الغيبة، شیخ طوسی، ص 469

بعض روایات میں ہے:

"ہر ایک اصحابِ امام کا دل لوہے کی طرح مضبوط ہوگا اور ان کے سینے حکمت کے خزانے ہوں گے۔"
حوالہ: بحار الانوار، ج 52، ص 355

3. عبادت و تقویٰ

امام صادقؑ فرماتے ہیں :

"راتوں میں عبادت گزار، دن میں بہادر اور جنگجو، ان کی عبادت ایسی ہوگی جیسے زاہدوں کی، اور جنگ ایسی جیسے شیر درندے کی۔"
حوالہ: الغيبة، شیخ نعمانی، ص 316
حوالہ: بحار الانوار، ج 52، ص 308

4. جسمانی و روحانی طاقت

"ان میں ہر ایک کو 40 مردوں کے برابر طاقت دی جائے گی۔ وہ راتوں کو زمین پر سفر کریں گے اور دن میں بادلوں پر۔"
حوالہ: الغيبة، شیخ طوسی، ص 474
حوالہ: بحار الانوار، ج 52، ص 340

5. پوری دنیا سے انتخاب

امام باقرؑ فرماتے ہیں:

"ان میں کچھ مشرق سے ہوں گے، کچھ مغرب سے، اور کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آسمان سے بلایا جائے گا۔"
حوالہ: الاختصاص، شیخ مفید، ص 255
حوالہ: بحار الانوار، ج 52، ص 290

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صرف عرب یا ایک قوم سے نہیں، بلکہ عالمی لشکر ہوگا۔

6. قائدانہ صلاحیتیں

امام صادقؑ فرماتے ہیں :

"یہ 313 وہ لوگ ہوں گے جو دنیا کے نظام کو بدلنے کے اہل ہوں گے، اور ہر ایک کو ایک قوم یا علاقے کی قیادت دی جائے گی۔"
حوالہ: الغيبة، شیخ طوسی، ص 469

ہر فرد خود ایک قائد ہوگا، تابع محض امامؑ کا، مگر مخلوق کا رہنما۔

7. اخلاص اور وفاداری

امام صادقؑ فرماتے ہیں :
"یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے مال، جان اور وقت کو امام کے لیے وقف کر دیں گے، اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"
حوالہ: بحار الانوار، ج 52، ص 308

8. انصاف پسند اور سچ کے پابند

"یہ وہ لوگ ہیں جو ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار
ہوں گے، اور ہر کام میں عدل کو مقدم رکھیں گے۔"
حوالہ: الغيبة، نعمانی، ص 315

27/07/2025

موضوع: قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی (عج) تا قیامت

قسط نمبر 4: امام مہدیؑ کا پہلا خطاب اور عالمی اعلانِ ظہور

1. ظہور کا وقت اور مقام

امام مہدیؑ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کے پاس ظہور فرمائیں گے۔
وہ اپنی پشت کو خانہ کعبہ سے لگا کر پہلا خطبہ ارشاد فرمائیں گے۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"قائم آل محمدؐ خانہ کعبہ کے پاس قیام کریں گے اور اپنی پشت خانہ کعبہ سے لگائیں گے، پھر کہیں گے:
"اے لوگو! ہم وہی آل محمدؐ ہیں جنہیں اللہ نے تم پر اپنا خلیفہ بنایا ہے."
حوالہ: الغيبة للطوسي، ص 273

2. پہلا خطبہ:

امام مہدیؑ اپنے خطاب میں
اپنی حقیقی شناخت بیان کریں گے

رسول اللہ ﷺ اور اہل بیتؑ کی وراثت کا ذکر کریں گے

مظلوموں پر کیے گئے مظالم پر گواہی دیں گے

لوگوں کو عدل، توحید اور قرآن کی طرف بلائیں گے

نصرت کے لیے بیعت طلب کریں گے

امام باقرؑ فرماتے ہیں :

"پھر امام مہدیؑ فرمائیں گے:
جو چاہے آدمؑ کی وصیت، نوحؑ کی حکمت، ابراہیمؑ کا حلم، موسیٰؑ کی شریعت، عیسیٰؑ کی بشارت، محمد ﷺ کا دین اور علیؑ کی ولایت دیکھنا چاہتا ہے، وہ میری طرف آئے"
حوالہ: بحارالانوار، ج 52، ص 290

3. آسمانی اعلان (صیحة)

ظہور سے پہلے ایک عالمی غیبی صدا آسمان سے سنائی دے گی:

"حق مہدیؑ کے ساتھ ہے، تم اس کی پیروی کرو!"
حوالہ: الغيبة للنعماني، ص 253
یہ آواز شبِ جمعہ، 23 رمضان کو ہوگی۔

یہ صدا دنیا کی ہر قوم کو اپنی زبان میں سنائی دے گی۔

4. امامؑ کی بیعت کا مطالبہ

امامؑ کے ظہور کے بعد 313 خاص اصحاب پہلے بیعت کریں گے،
پھر باقی لوگوں سے امامؑ بیعت لیں گے۔

امام صادقؑ فرماتے ہیں:

"قائمؑ خانہ کعبہ سے ظہور کریں گے، اور لوگوں سے کہیں گے:
میرے پاس اللہ کا حکم اور دلیل ہے، تم میں جو چاہے بیعت کرے۔"
حوالہ: الکافی، ج 1، ص 336

5. ظہور کے وقت امامؑ کا دردناک کلام

روایت میں ہے کہ امامؑ ظہور کے وقت مظلومیت اور ظلمِ اہل بیتؑ پر گریہ کریں گے:

"اے دنیا کے لوگو! میرے جد حسینؑ کو پیاسا شہید کیا گیا..."
"اے دنیا والو! میرا حق غصب کیا گیا، میرے آباء کو قتل کیا گیا.."
حوالہ: بحارالانوار، ج 53، ص 11

Want your school to be the top-listed School/college in Dubai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Damascus
Dubai
00000