05/10/2025
قبل و بعد از ظہورِ امام مہدی علیہ السلام تاقیامت
قسط نمبر 24 تا 25
آخری اقساط
قیامت کا آغاز، صور کا پھونکا جانا اور ہولناک تباہیاں
قیامت کا دن ایک عظیم اور خوفناک دن ہوگا، جس کے آغاز کو قرآن نے "یوم القیامہ، یوم الحسرة، یوم الفصل" جیسے مختلف ناموں سے بیان کیا ہے۔ اس دن کی ابتدا صور پھونکے جانے سے ہوگی۔
صور کا پھونکا جانا
قرآن میں ہے:
"وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَىٰ فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنظُرُونَ"
(الزمر: 68)
یعنی جب صور میں پہلی بار پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کے سب لوگ مرجائیں گے، سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ پھر دوسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔
ہولناک تباہیاں
قرآن میں قیامت کے وقت کی کائناتی تبدیلیوں کا ذکر ہے:
زمین کا لرزنا اور پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہونا:
"إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا" (الزلزال: 1)
"وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا" (النبأ: 20)
سمندروں کا بھڑک اٹھنا:
"وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ" (التکویر: 6)
آسمان کا پھٹ جانا اور ستاروں کا جھڑ جانا:
"إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ" (الانشقاق: 1)
"وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْ" (الانفطار: 2)
سورج اور چاند بے نور ہو جائیں گے:
"وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ" (القیامہ: 9)
یہ سب نشانیاں انسان کو بے انتہا خوف میں مبتلا کریں گی۔
انسانوں کی کیفیت
اس دن انسان اپنی سب سے قریبی ہستیوں کو بھول جائے گا:
"يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ، وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ"
(عبس: 34-37)
یعنی ہر شخص اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگا اور قریبی رشتے بھی بھلا دیے جائیں گے۔
میدانِ حشر
صور کے بعد سب انسان میدانِ محشر میں جمع ہوں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"يُحشَرُ الناسُ يومَ القيامةِ على أرضٍ بيضاءَ عَفْراءَ كقُرْصَةِ نَقِيٍّ ليس فيها عَلَمٌ لأحدٍ"
(صحیح بخاری، حدیث 6521)
یعنی قیامت کے دن لوگوں کو ایک سفید چمکدار زمین پر جمع کیا جائے گا جس پر کوئی نشان یا بلندی نہ ہوگی۔
صور کے پھونکے جانے سے لے کر زمین و آسمان کے ہولناک مناظر اور انسانوں کے جمع ہونے تک۔ یہ دن ہر بندے کے لئے
فیصلے کا دن ہوگا۔
:قسط نمبر 25
قیامت کے عظیم مناظر: لواءِ الحمد، حوضِ کوثر، میزانِ اعمال اور بی بی فاطمہؑ کی شفاعت
قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب ہر نفس اپنے انجام کو پائے گا۔ انسان اپنے اعمال کے ساتھ پیش ہوگا اور کوئی حقیقت چھپی نہ رہ پائے گی۔ اس دن کے چند عظیم مناظر اہل بیتؑ کی احادیث اور قرآن کی روشنی میں یوں بیان ہوئے ہیں:
:لواءِ الحمد
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"يُعْطَى لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَنَا حَامِلُهُ، وَلَا فَخْرَ، وَآدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي"
(سنن ترمذی، حدیث 3615)
قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ میں لواءِ الحمد (پرچمِ حمد) ہوگا۔ تمام انبیاء، اوصیاء اور اہلِ ایمان اس کے سائے میں جمع ہوں گے۔
روایات میں آیا ہے کہ اس پر یہ کلمات درج ہوں گے:
"الحمد لله رب العالمين"
(بحارالانوار، ج 7، ص 216)
"بسم الله الرحمن الرحيم، لا إله إلا الله، محمد رسول الله، علي ولي الله"
(تفسیر قمی، ج 1، ص 98)
"النجاة للمتقين" یعنی نجات صرف پرہیزگاروں کے لئے ہے۔
(نورالثقلین، ج 2، ص 475)
یہ پرچم نورانی ہوگا اور مومنین کے لئے سایہ و نجات کا سبب بنے گا۔
حوضِ کوثر
قرآن نے فرمایا:
"إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ" (الکوثر: 1)
رسول اللہ ﷺ کا حوضِ کوثر ایسا ہوگا کہ:
اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔
اس کی خوشبو مشک سے بڑھ کر ہوگی۔
جو ایک گھونٹ پی لے گا، پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
(صحیح مسلم، کتاب الفضائل)
اہل بیتؑ اور ان کے پیروکار اس حوض پر وارد ہوں گے۔
میزانِ اعمال اور پلِ صراط
قرآن میں ہے:
"وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا"
(الانبیاء: 47)
اعمال کو عدل کے ترازو میں تولا جائے گا، اور ہر شخص کے چھوٹے بڑے اعمال سامنے آجائیں گے۔
اس کے بعد پلِ صراط ہوگا، جو آگ کے اوپر تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہوگا۔ (مسند احمد)
جو اہل ایمان ہوں گے، وہ آسانی سے گزر جائیں گے، اور گناہکار جہنم میں گر پڑیں گے۔
بی بی فاطمہؑ کی شفاعت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"فاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِساءِ أهلِ الجَنَّةِ"
(سنن نسائی، حدیث 8368)
قیامت کے دن بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے بابا ﷺ کی امت کی شفاعت کے لئے آئیں گی۔
منادی ندا دے گا:
"غضّوا أبصاركم حتى تجوز فاطمة بنت محمد"
(بحارالانوار، ج 43، ص 25)
یعنی اپنی نظریں نیچی کرلو تاکہ فاطمہؑ بنتِ رسولؐ قیامت کے دن گزر سکیں۔
امام حسینؑ کی خون آلود قمیص
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"إذا كان يوم القيامة أقبلت فاطمة عليها السلام ومعها قميص الحسين عليه السلام وهو مخرّق بالدّم..."
(امالی الصدوق، ص 111؛ بحار الانوار، ج 44، ص 223)
قیامت کے دن بی بی فاطمہؑ امام حسینؑ کی خون آلود قمیص کو ہاتھ میں لے کر بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اس مظلومیت کے واسطے سے ان کی شفاعت کو قبول کرے گا اور بے شمار مؤمنین کو نجات عطا ہوگی۔