27/05/2025
Dawat E Haqq
Promoting Islam, Islamic Posts, Islamic Status, Islamic Videos. For more posts join us on WhatsApp https://chat.whatsapp.com/DUTsPiiknttF45l2lNIgs8
27/05/2025
27/05/2025
*قربانی کی مسائل*
*قربانی کے جانور میں عقیقہ کی نیت کرنا*
سوال
کیا قربانی میں عقیقہ کی نیت کرنے سے عقیقہ اور قربانی ادا ہو جاتے ہیں؟
جواب
چھوٹے جانور میں یا بڑے جانور کے صرف ایک حصے میں شرعاً صرف ایک ہی نیت کی جاسکتی ہے، خواہ قربانی کی نیت ہو یا عقیقہ کی، ایک حصے میں دو نیتیں درست نہیں ۔
البتہ قربانی کے بڑے جانور (اونٹ، گائے، بھینس وغیرہ) کے سات حصوں میں قربانی کے حصہ کے علاوہ عقیقہ کی نیت سے مستقل حصہ شامل کیا جاسکتا ہے، جو حصہ عقیقہ کی نیت کا ہوگا وہ عقیقہ شمار ہوگا، باقی حصے قربانی کے شمار ہوں گے۔ قربانی کے ساتھ عقیقہ کرتے ہوئے قربانی کی گائے وغیرہ میں لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ رکھ لے، یہ مستحب ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے :
"فَلَا يَجُوزُ الشَّاةُ وَالْمَعْزُ إلَّا عَنْ وَاحِدٍ وَإِنْ كَانَتْ عَظِيمَةً سَمِينَةً تُسَاوِي شَاتَيْنِ مِمَّا يَجُوزُ أَنْ يُضَحَّى بِهِمَا ؛ لِأَنَّ الْقِيَاسَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ أَنْ لَا يَجُوزَ فِيهِمَا الِاشْتِرَاكُ ؛ لِأَنَّ الْقُرْبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ إرَاقَةُ الدَّمِ وَأَنَّهَا لَا تَحْتَمِلُ التَّجْزِئَةَ ؛ لِأَنَّهَا ذَبْحٌ وَاحِدٌ وَإِنَّمَا عَرَفْنَا جَوَازَ ذَلِكَ بِالْخَبَرِ فَبَقِيَ الْأَمْرُ فِي الْغَنَمِ عَلَى أَصْلِ الْقِيَاسِ". (10/ 278)
فتاوی شامی میں ہے :
"وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد". (فتاوی شامی 6/ 326، کتاب الاضحیة، ط: سعید) فقط واللہ اعلم
دعوتِ حق WhatsApp Group Invite
💙💜💙💜💙💜💙💜💙💜
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
*🌹بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*🌸اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه🌸*
🇵🇰 *آج کا کیلنڈر* 🌤
🔖 *29 ذوالقعدہ 1446ھ* 💎
🔖 *27 مئی 2025ء* 💎
🔖 *14 جیٹھ 2082ب* 💎
🌄 *بروز منگل Tuesday* 🌄
🍂 *بال اور ناخن نا کاٹے!*
🔹 *نبی کریم ﷺ نے فرمایا :’’ جب عشرہ (ذوالحجہ) شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔*🔹
📗«صحیح مسلم -1977»~
❄❄❄❄❄❄❄❄❄❄
💜💙💜💙💜💙💜💙💜💙
*بَطَلِ اسلام سُلطان نورالدین محمود زنگی رحمہ اللہ،* *قسط: 09*
*عالم اسلام کا ردِ عمل:*
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
(علامہ اقبالؒ)
"اُفق سے آفتاب اُبھرا گیا دورِ گراں خوابی"
عِمَادُ الدین زنگی شہید رحمة الله عليه:
خاندان:
عِمادالدین زنگیؒ سلطان ملک شاہ سلجوقی کے ایک معزز مصاحب قسیم الدولہ آقسنقر بن عبداللہ کا فرزند تھا۔ بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ آقسنقر ملک شاہ کا مملوک (غلام) تھا، لیکن علامہ شہاب الدین مقدسی کتاب الروضتین فی اخبار الدولتین میں لکھتے ہیں:
"كَانَ آقسَنُقر تُركَيًا مِن أَصْحبِ السُّلْطَانُ رُكُنُ الدِّينِ مَلِكُ شَاهِ بن الب ارسلان"
"آقسنقر ترکی نژاد تھا اور سلطان رکن الدین ملک شاہ بن الپ ارسلان کے مصاحبوں میں شامل تھا۔"
اسی کتاب میں آگے چل کر علامہ شہاب الدین لکھتے ہیں:
"قسیم الدولہ آقسنقر سلطان ملک شاہ کا بچپن کا ساتھی تھا۔ وہ سلطان موصوف کے ساتھ کھیل کود کر بڑا ہوا۔ جب الپ ارسلان کی شہادت کے بعد ملک شاہ مسند آرائے حکومت ہوا تو اس نے آقسنقر کو اپنے خاص دوستوں اور سربر آوردہ امرا میں شامل کر لیا۔
تھوڑے ہی عرصہ میں اس کا شمار ملک شاہ کے خاص معتقدین میں ہونے لگا۔ یہاں تک کہ سلطان نے اس کو وزیر سلطنت خواجہ نظام الملک طوسی کی تحریر پر حلب کا گورنر مقرر کردیا۔"
علامہ ابن اثیر نے تاریخ ایامِ اَتابکہ میں آقسنقر کے بارے میں لکھا ہے:
"وَمِنَ الدَلِيل عَلَى عُلُومَرْتَبَةِ تَلَقَّبُهِ قَسِيمُ الدَّوْلَةِ وَكَانَتِ الالقاب چند مصُعُونَةٌ لَا تَعْطَى إِلَّا لِمُسْتَحَقِيَا"
"اور منجملہ ان دلائل کے جو اس کے عالی مرتبہ ہونے کا ثبوت ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اس کو قسیم الدولہ کا خطاب مرحمت ہوا اور القاب اس زمانہ میں محفوظ تھے اور مستحقین کے سوا کسی کو نہیں دیے جاتے تھے۔"
سلطان ملک شاہ نے آقسنقر کو پہلے قصر شاہی کا حاجب مقرر کیا، پھر کچھ عرصہ بعد 477ھ میں اس کو حلب وحماة کا گورنر (امیر) مقرر کیا۔ آقسنقر نے اپنے علاقوں کا انتظام نہایت خوش اسلوبی سے کیا۔ جب دو سال بعد (479ھ میں) وہ ملک شاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے علاقوں کی سالانہ رپورٹ پیش کی تو سلطان نے فرط مسرت سے اٹھ کر اس کی پیشانی چوم لی اور منبج اور لاذقیہ کے صوبے بھی اس کی امارت میں شامل کر دیے۔
آقسنقر صرف ایک بہادر سپاہی اور صائب الرائے مشیر ہی نہیں تھا، بلکہ مبداء فیض نے اسے نہایت اعلیٰ انتظامی قابلیت سے بھی نوازا تھا۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ اگر اس کے زیرنگین علاقے میں کوئی قافلہ لوٹا جائے تو جائے حادثہ کے نواحی دیہات کو نقصان پورا کرنا پڑے گا۔ اس حکم کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے ماتحت صوبوں میں رہزنی اور لوٹ مار کا یکسر خاتمہ ہو گیا۔
آقسنقر نے 481ھ میں شیزر پر حملہ کیا اور چھ ماہ کے محاصرے کے بعد اس ناقابلِ تسخیر قلعے کو فتح کر لیا۔ 483ھ میں اس نے حمص پر قبضہ کیا اور 484ھ میں فامیہ اور رحبہ کے مضبوط قلعوں پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔
سلطان ملک شاہ اس کے جنگی کارناموں پر بے حد خوش ہوا اور اسے بیش قیمت خلعت سے نوازا۔ اگلے سال 485ھ میں سلطان ملک شاہ کا انتقال ہوگیا اور اس کے دو بیٹوں رکن الدین ابوالمظفر (برکیا روق یا تکیاروق) اور ناصر الدین محمود میں تخت نشینی کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا، اس کے ساتھ ہی ملک شاہ کے بھائی تاج الدولہ تتش ارسلان (بن الپ ارسلان) والیٔ دمشق نے حصولِ سلطنت کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردیے۔
سب سے پہلے وہ ایک لشکرِ جرار کے ساتھ حلب کی طرف بڑھا۔ آقسنقر نے مصلحتاً اس کی اطاعت قبول کرلی اور اپنی فوج کے ساتھ اس کے لشکر میں شامل ہوگیا۔ تتش اور آقسنقر کی متحدہ فوج نے تھوڑے ہی عرصہ میں موصل، جزیرہ اور دیارِ بکر وغیرہ کے وسیع علاقوں کو فتح کرلیا۔ اس اثناء میں برکیاروق بھی فوجیں جمع کرنے میں مصروف رہا۔
تتش اور آقسنقر کی فوجیں یلغار کرتی ہوئی آذربائیجان میں داخل ہوئیں تو برکیاروق اُن کے مقابلے پر آگیا۔ برکیاروق آقسنقر کے ہاتھوں میں پل کر جوان ہوا تھا۔ آقسنقر کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ اپنے مخدوم ومحسن کے نور نظر اور اپنے گودوں پالے کے خلاف تلوار اٹھائے۔ وہ تتش کا ساتھ چھوڑ کر برکیاروق کے ساتھ جا ملا۔ آقسنقر کے اس اقدام سے تتش کی فوجی قوت پر بڑی کاری ضرب لگی اور اس نے میدان جنگ سے پسپا ہونے ہی میں مصلحت دیکھی۔ چنانچہ وہ جنگ کیے بغیر ہی دمشق کی طرف چلا گیا۔
دمشق پہنچ کر اس نے از سر نو جنگ کی تیاری کی اور جمادى الأولى 487ھ میں ایک زبردست فوج کے ساتھ حلب کی طرف بڑھا۔ سلطان برکیاروق کے حکم پر امیر کربوقا اور امیر بزان والیٔ حران آقسنقر کی مدد کے لیے پہنچ گئے۔ "تل سلطان" کے قریب نہر سبعین کے کنارے پر آقسنقر اور تتش کی فوجوں میں ٹکر ہوئی۔ آقسنقر کی فوج تتش کی کثیرالتعداد فوج کے زبردست دباؤ کا مقابلہ نہ کرسکی اور میدان جنگ سے بھاگ نکلی۔
امیر کربوقا، اس کا بھائی التونتاش اور امیر بزان بھاگ کر حلب میں جا چھپے، لیکن آقسنقر میدان جنگ میں برابر ڈٹا رہا۔ یہاں تک کہ تتش کے سپاہیوں نے گھیرا ڈال کر اسے گرفتار کرلیا۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ جب آقسنقر کو پابجولاں تاج الدولہ تتش کے سامنے پیش کیا گیا تو تتش نے اس سے پوچھا کہ اگر تجھے فتح حاصل ہوتی تو تو میرے ساتھ کیا سلوک کرتا؟
آقسنقر نے کڑک کر جواب دیا: "میں تیرے قتل کا حکم دیتا تا کہ فتنہ وفساد کی جڑکٹ جاتی۔"
تتش نے اس کا جواب سن کر کہا کہ اب میں تیرے لیے یہی حکم دیتا ہوں۔ چنانچہ جمادی الاولی 487ھ میں آقسنقر کو اپنے مرحوم مربی اور محسن کے حقیقی بھائی کے حکم سے قتل کردیا گیا۔
ابتدائی زندگی:
آقسنقر کے قتل کے وقت ِعمادُالدین زنگی ؒ کی عمر باختلاف روایت دس یا چودہ برس کی تھی۔ وہ اپنے والدین کی واحد اولاد تھا۔ میدانِ جنگ میں وہ بھی اپنے باپ کے ساتھ موجود تھا اور آقسنقر کے قتل کے بعد تتش کے سپاہی اس کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگنا چاہتے تھے، لیکن عمادالدین نے فراست سے کام لیا۔ وہ ایک سپاہی کو کچھ دے دلا کر وہاں سے نکل بھاگا اور سیدھا سلطان برکیاروق کی خدمت میں پہنچا۔ برکیاروق نے اس کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور اسے اپنے لشکر میں شامل کرلیا۔ اس کے بعد برکیاروق اور تتش کے درمیان کئی خونریز معرکے ہوئے۔
شروع شروع میں تو تتش کا پلہ بھاری رہا ہے، لیکن آخر رَے کے قریب ایک فیصلہ کن جنگ میں اسے زبردست شکست ہوئی۔ اس کا لشکر تتر بتر ہوگیا اور وہ خود گرفتار کرلیا گیا۔ اسی جگہ آقسنقر کے ایک مصاحب نے تتش کو قتل کرکے اپنے آقا کے قتل کا بدلہ لے لیا۔ ان تمام لڑائیوں میں عمادالدین برکیاروق کے ساتھ ساتھ پھرتا رہا۔ اسی اثناء میں ترکان خاتون کا اصفہان میں انتقال ہوگیا اور اس کی وفات کے ڈیڑھ ماہ بعد سلطان محمود بھی چار سال کی عمر میں چل بسا۔ (30 شوال 487ھ)
اب سلطان برکیاروق بلا شرکتِ غیرے سلجوقی سلطنت کا سربراہِ اعلیٰ ہوگیا۔ تتش کے قتل کے بعد اس کے بیٹے ملک رضوان نے حلب کی حکومت سنبھالی۔ اس نے سلطان برکیاروق کی اطاعت قبول کرلی اور سلطان نے اسے حلب کی امارت پر بحال رکھا۔ امیر کربوقا اور التونتاش ابھی تک نظر بند تھے۔ برکیاروق کے حکم سے رضوان نے انہیں رہا کردیا۔ امیر کربوقا نے رہا ہوتے ہی برکیاروق کی اجازت سے یکے بعد دیگرے حران، موصل اور ماردین پر چڑھائی کی اور ان سب مقامات کو فتح کرلیا۔ برکیاروق نے خوش ہوکر اسے موصل کا مستقل امیر مقرر کردیا۔ امیر کربوقا آقسنقر کا پرانا دوست تھا۔ اس نے اپنے مرحوم دوست کے فرزند عمادالدین کو سلطان برکیاروق کی اجازت سے اپنے پاس بلالیا اور اس کی تعلیم و تربیت کا نہایت اعلیٰ انتظام کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے گزارہ کے لیے کئی جاگیریں دیں۔
اس طرح قوام الدولہ امیر کربوقا نے اپنے مرحوم دوست کا حقِ دوستی نہایت عمدہ طریقے سے ادا کردیا۔ یہ امیر کربوقا ہی تھا جس کی پُر خلوص عنایات اور نوازشات نے یتیم عمادالدین کو اپنا شاندار مستقبل تعمیر کرنے میں مدد دی۔ چند ماہ بعد امیر کربوقا نے آمد پر چڑھائی کی تو عمادالدین کو اپنے لشکر کے میمنہ کا سردار مقرر کیا۔
عمادالدین کے لیے کسی لڑائی میں عملی حصہ لینے کا یہ پہلا موقع تھا، لیکن وہ ایسی بہادری سے لڑا کہ دوست دشمن بھی عش عش کر اٹھے۔ اثنائے جنگ میں امیر کربوقا دشمن کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے لشکر سے جدا ہو گیا اور دشمن کے گھیرے میں آ گیا، اس نازک موقع پر عمادالدین بجلی کی طرح جھپٹ کر امیر کربوقا کی مدد کے لیے پہنچ گیا اور اپنی شمشیرِ خاراشگاف سے دشمنوں کو کاٹتا ہوا امیر کربوقا کو محاصرے سے نکال لایا۔
اس کے بعد اس نے ایک طوفانی حملے میں قلعہ آمد کے دفاعی انتظامات کو درہم برہم کر ڈالا اور اس کی فصیل پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔ اس واقعہ سے امیر کربوقا اور سلطان برکیاروق کی نظروں میں اس کی وقعت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی۔ امیر کربوقا نے ماہ ذیقعد 495ھ میں وفات پائی۔ اس کے بعد امیر سنقرجہ اور موسیٰ ترکمانی یکے بعد دیگرے موصل کے حکمران ہوئے، لیکن چند ماہ کے اندر اندر دونوں قتل کردیے گئے۔ ان کے بعد امیر جر کمیش (جکرمش) نے موصل پر قبضہ کر لیا۔
امیر جرکمیش عمادالدین پر اس قدر مہربان ہوا کہ اپنے لڑ کے ناصرالدین کی بیٹی سے اس کا نکاح کردیا اور اس کے ساتھ ایک معقول جاگیر بھی اس کو دی۔ اس دوران میں سلطان برکیاروق کا انتقال ہو چکا تھا اور سلطان غیاث الدین ابوشجاع محمد (بن ملک شاہ) نے مملکت سلجوقیہ کی عنان حکومت سنبھال لی تھی۔ امیر جرکمیش نے بھی برکیاروق کی وفات کے بعد سلطان محمد کی اطاعت قبول کرلی تھی، لیکن بدقسمتی سے 500ھ میں اس کی سلطان محمد سے بگڑ گئی اور سلطان نے جاولی سقادہ کو موصل کا امیر مقرر کرکے بھیج دیا۔ اس نے ضعیف العمر امیر جرکمیش کو شکست دے کر گرفتار کرلیا۔
اب اہل شہر نے سلطان قلیج ارسلان والیٔ قونیہ سے مدد مانگی۔ وہ ایک مختصر سی فوج کے ساتھ آیا، لیکن جاولی کے مقابلے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب جاولی بلا کھٹکے موصل پر حکومت کرنے لگا، لیکن جلد ہی سلطان محمد اس سے بھی بدظن ہو گیا اور امیر مودود کو اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ اس نے جاولی کو شکست دے کر موصل پر قبضہ کر لیا۔
عمادالدین شروع ہی سے سلطان محمد کی مخالفت پسند نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ جب امیر جرکمیش اور سلطان محمد میں نزاع پیدا ہوئی تو وہ موصل کو چھوڑ کر کہیں باہر چلا گیا۔ امیر مودود موصل کی امارت پر فائز ہوا تو عمادالدین واپس آکر اس کی فوج میں شامل ہو گیا۔
شہرت کا آغاز:
امیر مودود بڑا قوی ہمت اور باغیرت مسلمان تھا۔ اس نے سب سے پہلے صلیبیوں کے خلاف باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا۔ نوجوان عمادالدین کا حسّاس دل مدت سے مسلمانوں کے مصائب پر کڑھ رہا تھا اور وہ صلیبیوں کے دستِ ستم کو توڑنے کے لیے بے تاب تھا۔ امیر مودود کی قیادت میں بہت جلد اسے یہ موقع مل گیا۔ وہ کئی لڑائیوں میں صلیبیوں کے خلاف ایسی بے جگری سے لڑا کہ ہر طرف اس کی شجاعت اور بے خوفی کی دھاک بیٹھ گئی۔ ان لڑائیوں میں بلاد شجستان، ایڈیسہ اور طبریہ کے معرکے بہت مشہور ہیں۔
بلاد شجستان میں عین معرکہ کارزار میں دشمنوں نے اسے گھیر لیا، لیکن وہ مطلق ہراساں نہ ہوا اور اس زور کا حملہ کیا کہ دشمن اپنا گھیرا توڑنے پر مجبور ہو گیا۔ ایڈیسہ پر کئی حملوں میں وہ امیر مودود کا قوی دست و بازو ثابت ہوا اور اپنے تیز وتند حملوں سے صلیبیوں کا ناک میں دم کردیا۔ 508ھ میں طبریہ کا مشہور معرکہ پیش آیا۔ عمادالدین اس خونریز جنگ میں محیر العقول شجاعت سے لڑا۔ وہ دشمنوں کی صفوں کو الٹتا ہوا شہر کے دروازہ تک پہنچ گیا اور اس میں اپنا نیزہ گاڑ دیا۔ غرض چند سال کے اندر اندر شہرت اور ناموری عمادالدین کے قدم چومنے لگی اور صلیبی اس کے نام سے تھرانے لگے۔
آقسنقر برسقی کی رفاقت:
507ھ/1113ء میں امیر مودود کو ایک باطنی فدائی (شیعہ حشیشین) نے جامع دمشق میں شہید کر، ڈالا سلطان محمد نے اس کی جگہ اس کے بیٹے ملک مسعود کو موصل کا حاکم مقرر کیا اور امیر جیوش بک کو اس کا اتالیق بنایا۔ عمادالدین زنگی کو سلطان نے ملک مسعود کے ماتحت کام کرنے کا حکم دیا ۔ 511ھ/1117ء میں سلطان محمد سلجوقی نے وفات پائی اور اس کا بیٹا سلطان محمود تخت حکومت پر بیٹھا ۔ ملک مسعود نے امیر جیوش بک کے ایماء پر سلطان محمود کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اس پر عمادالدین، ملک مسعود سے الگ ہوگیا۔
سلطان محمود نے ملک مسعود کو شکست دی اور اس کی جگہ آقسنقر برسقی کو موصل کا گورنر مقرر کیا۔ چونکہ عمادالدین نے ملک مسعود کا ساتھ نہیں دیا تھا اس لیے سلطان محمود نے اس کا سابقہ اعزاز بحال رکھا اور اس کو آقسنقر برسقی کا نائب مقرر کردیا۔ برسقی ایک بہادر اور بیدار مغز حاکم تھا اور امیر مودود کی طرح اس کے دل میں بھی صلیبیوں کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ موجزن تھا۔ اس کی ماتحتی میں عمادالدین کو اپنے فطری جوہر چمکانے کا خوب موقع ملا۔ اس زمانہ میں اس نے سیمساط کے عیسائی مرکز کو تہ و بالا کر ڈالا اور پھر بلاد سروج میں ارمنوں اور فرانسیسیوں کے پرخچے اڑا ڈالے۔ عمادالدین کے جنگی کارناموں نے اس کو سلطان محمود سلجوقی اور امیر برسقی کی نظروں میں بےحد محبوب و محترم بنا دیا۔
مأخوذ از کتاب: سلطان نُورالدّین مَحمود زنگی رحمۃاللہ علیہ
مصنف: طالب ہاشمی صاحب
*بَطَلِ اسلام سُلطان نورالدین محمود زنگی رحمہ اللہ،* *قسط: 08*
*گھٹا ٹوپ اندھیرا:*
پہلی صلیبی جنگ کا دوسرا دور صلیبیوں کی کامیابی پر منتج ہوا۔ ان کی پے در پے فتوحات نے عراق، شام اور فلسطین کے مسلمانوں کو لامتناہی مصائب و آلام میں مبتلا کردیا۔ ان بیچاروں کی نہ جان محفوظ تھی نہ آبرو۔ چند سال کے اندر اندر صلیبی اقتدار کے سیلاب نے بڑے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں ایڈیسہ، انطاکیہ، یروشلم، بیروت ،طرابلس، عکہ، صور، صیدان، ارسوف، قیصاریہ، اڈانا، ممترا، طرطوس اور بانیاس جیسے بارونق شہر بھی شامل تھے۔
اس اقتدار کو عیسائیوں کے دو انتہا پسند مذہبی فرقوں نے بڑی تقویت پہنچائی۔ کہنے کو تو ان کا نام ٹمپلرز (خُدامِ معبد) اور ہاسپیٹلرز (خدام شفاخانہ) تھا، لیکن ان دونوں فرقوں نے اپنے آپ کو فوجی بنیادوں پر منظم کرلیا تھا اور عیسائی سلطنت کی پشت و پناہ بن گئے تھے۔ وہ مسلمانوں کے جانی دشمن تھے اور ان کو دکھ پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی جارحانہ سرگرمیوں اور دہشت انگیزیوں سے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا تھا۔ امام ابن اثیر کا بیان ہے کہ: ”ان لوگوں کے انسانیت سوز افعال سے شیطان بھی پناہ مانگتا تھا۔“
(ٹیمپلرز (Templers) ابتداء میں یہ ایک مذہبی تنظیم تھی جس کی بنیاد 1118ء میں رکھی گئی۔ اس کا مرکز یروشلم میں تھا اور اس کا مقصد یروشلم کے عیسائی زائرین کی حفاظت کرنا تھا۔ 1186ء میں یروشلم کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے فتح کرلیا تو ان لوگوں نے قبرص کو اپنا مستقر بنا لیا۔ ان میں سے کچھ لوگ لندن جا کر آباد ہوگئے، لندن کا یہ علاقہ آج بھی ٹمپل (The Temple) کے نام سے مشہور ہے اور وہاں ایک گرجا ان لوگوں کی یاد دلاتا ہے۔ تیرھویں صدی عیسوی کے آخر میں اس فرقہ کا خاتمہ ہو گیا۔
ہاسپیٹلرز (Hospitallers) ابتداء میں یہ بھی ایک خالص مذہبی تنظیم تھی جس کا مقصد بوڑھے اور بیمار عیسائیوں کی خبر گیری اور یروشلم کے عیسائی زائرین کی ضرورتوں کو پورا کرنا تھا، اس کی بنیاد 1050ء میں رکھی گئی۔ بعد میں یہ ایک زبردست فوجی تنظیم کی صورت اختیار کرگئی۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے یروشلم کو فتح کیا تو یہ لوگ قبرص چلے گئے، پھر انہوں نے روڈس اور آخر میں مالٹا کو اپنا مرکز بنایا۔ 1799ء میں اس تنظیم کا بھی خاتمہ ہوگیا۔)
ارضِ شام و فلسطین وغیرہ کے بدقسمت مسلمانوں کے لیے صلیبی اقتدار ایک گھٹا ٹوپ اندھیرے کی مانند تھا، جس میں ان کو روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ 1099ء سے لے کر 1128ء تک کا زمانہ مسلمانوں کے لیے ایک انتہائی پُر آشوب دور تھا۔
اہلِ یورپ کو جن حالات میں ایشیا کے اسلامی ممالک پر حملہ کرنے کی جرات ہوئی، ان کا مختصر سا خاکہ پہلے باب میں کھینچ دیا گیا ہے، لیکن تعجب ہے کہ صلیبیوں کی مسلسل فتوحات اور چیرہ دستیوں نے بھی مسلمان حکمرانوں کو بیدار نہ کیا، وہ بدستور آپس میں لڑتے بھڑتے رہے اور اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی طرف مطلق توجہ نہ کی۔
یہ صحیح ہے کہ صلیبی اقتدار کی ہلاکت خیزیوں سے حمص، حماۃ، دمشق، موصل اور حلب کے شہر کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوگئے تھے، لیکن مصیبت یہ تھی کہ ارد گرد بجلیاں کوندتے دیکھ کر بھی ان شہروں کے حکمرانوں میں باہمی اتحاد و تعاون کے جذبے کا فقدان تھا۔ ایشیائے کوچک کے مردِ مجاہد قلیج ارسلان اور مقامی امیروں نے اس زمانہ میں بعض دفعہ انفرادی طور پر صلیبیوں کے خلاف جدوجہد کی اور ان کو شکستیں بھی دیں، لیکن کسی ایک مرکز سے وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی کامیابیوں کا کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور ان علاقوں کے مسلمان مسلسل صلیبیوں کے مظالم کا تختۂ مشق بنتے رہے۔
(صلیبیوں کی مسلسل فتوحات نے اہل یورپ کے خون میں پھر حرارت پیدا کردی اور بارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں ان کے مزید لشکروں نے مسلمانوں کی سرزمین ہتھیانے کے حرص میں مبتلا ہوکر ارض مشرق کا رخ کیا۔ ان میں سب سے بڑا لشکر ڈیوک ولیم آف اکیوٹین اور سٹیفنز آف برگنڈی کی قیادت میں ایشیائے کو چک میں داخل ہوا۔
ان کے ساتھ صلیبیوں کا نامور سردار ریمنڈ (ریماں) بھی آملا۔ اس لشکر کی مجموعی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ سلطان قلیج ارسلان اور امیر کربوغا والیٔ موصل نے متحد ہوکر ہیلس کے کنارے پر صلیبیوں کے اس زبردست لشکر کا مقابلہ کیا اور اس کو ایسی خوفناک شکست دی کہ بہت کم صلیبی اپنی جانیں سلامت لے جاسکے۔
اس کے بعد ڈیڑھ لاکھ صلیبی جنگجوؤں پر مشتمل دو اور فوجیں کونٹ ڈی نرد اور کونٹ آف پوئیٹرس اور ڈیوک آف بویریا کے ماتحت قسطنطنیہ سے روانہ ہوئیں۔ ان دونوں فوجوں کو بھی قلیج ارسلان اور امیر کربوغا نے یکے بعد دیگرے تباہ کردیا۔ صرف ایک ہزار صلیبی بڑی مشکلوں سے موت یا غلامی سے بچے۔
495ھ میں امیرِ کربوقا نے وفات پائی۔ اس کے بعد موصل پر امیر جرکمیش (جکرمش) نے قبضہ کرلیا، امیر جرکمیش اور امیر سقمان اور تقی والیٔ حصن کیفہ ایک دوسرے کے مخالف تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو صلیبیوں کے خلاف متحد ہو جانے کی توفیق دی اور انہوں نے حران کے باہر صلیبی طالع آزماؤں کا مقابلہ کیا۔ امیر سقمان کے ساتھ سات ہزار ترکمان اور امیر جرکمیش کے ساتھ تین ہزار عرب اور کرد تھے، ان کے مقابلہ پر صلیبیوں کی تعداد چالیس ہزار تھی جس کی قیادت بالڈون دوم (یروشلم کا آئندہ بادشاہ) جوسلن حاکم طبریہ اور بوہمنڈ کر رہے تھے۔
تین روز کی خوفناک جنگ کے بعد صلیبی ہزیمت اٹھا کر بھاگ کھڑے ہوئے اور بالڈون اور جوسلن مسلمانوں کے ہاتھ اسیر ہوگئے۔ بوہمنڈ اور اس کا بھتیجا بھاگ کر ایڈیسہ چلے گئے۔ امیر جرکمیش کی وفات کے بعد جادلی والیٔ موصل نے عیسائیوں سے سازش کر کے بالڈون اور جوسلن کو رہا کردیا۔
اسی زمانہ میں ایک دفعہ ہمنڈ والیٔ انطاکیہ مسلمان علاقوں کو تاخت و تاراج کرنے کی مہم پر نکلا ہوا تھا، دانشمندیہ خاندان کا حکمران محمد کمشتگین ابن دانشمند اس پر جا پڑا اور صلیبی لشکر کے پرخچے اڑا دیے۔ بوہمنڈ اور اس کے چچا زاد بھائی رچرڈ کو مسلمانوں نے قیدی بنالیا اور کہیں چار سال بعد انہوں نے فدیہ دے کر رہائی حاصل کی۔
1113ء میں یروشلم کے بادشاہ بالڈون نے دمشق پر چڑھائی کی، امیر طغتگین والیٔ دمشق نے امیر مودود والیٔ موصل سے مدد مانگی۔ امیر مودود اُس دور کا بہت بڑا مجاہد تھا اور اس نے اپنے طوفانی حملوں سے صلیبیوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ جونہی والیٔ دمشق کا پیغام ملا، وہ خم ٹھونک کر صلیبیوں کے مقابلہ پر آ گیا۔
منجار اور ماردین (maridin) کے مسلم حکمران بھی اس کے ساتھ مل گئے، ان سب نے مل کر جھیل طبریہ (Tiberias) کے پاس ایک خونریز لڑائی میں صلیبیوں کو شکست فاش دی۔ ان کے ہزاروں آدمی میدانِ جنگ میں کھیت رہے اور ایک بڑی تعداد جھیل طبریہ اور دریائے اردن (جورڈن) میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی۔ افسوس کہ امیر مودود کو اسی سال ایک باطنی (اسماعیلی شیعہ) خودکش حملہ آور نے جامع دمشق میں شہید کردیا اور عالم اسلام ایک ایسے عظیم مجاہد سے محروم ہوگیا جسے اللہ تعالٰی نے قیادت کی بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا۔
جون 1119ء میں امیر نجم الدین الغازی والیٔ ماردین نے البلاط کے مقام پر صلیبیوں کو ایک زبر دست شکست دی۔ اسی طرح اس زمانے میں مصریوں نے بعض ساحلی جنگوں میں صلیبیوں کو بڑا نقصان پہنچایا۔)
بغداد کی عباسی خلافت اور مصر کی فاطمی (شیعی) خلافت ایک دوسرے کی حریف تھیں، ان کا ایک مرکز پر جمع ہونا تو امرِ محال تھا، لیکن اپنے طور پر بھی ان میں اتنی سکت نہ تھی کہ صلیبیوں سے نبرد آزما ہوسکیں۔ مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی ہوئی تھی اور بغداد اور قاہرہ کے حکمران "ٹُک ٹُک دیدم دم نہ کشیدم" کا مصداق بنے ہوئے تھے۔
اس پُر آشوب دور میں چشمِ فلک نے یہ نظارے بھی دیکھے کہ مسلمان حکمران اور امراء ایک دوسرے کے خلاف صلیبیوں سے مدد لے رہے ہیں یا ان کو مدد دے رہے ہیں۔ (تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو)
(صلیبیوں نے جن دنوں انطاکیہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ شیعہ فاطمی حاکمِ مصر نے محصور مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے عیسائیوں کے پاس سفیر بھیجے اور بہت کچھ رعایتیں دے کر ان سے صلح کرنے کی کوشش کی۔ مؤرخ مچاڈ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ: مصر کے شیعہ حاکم کے سفیروں نے صلیبیوں کو مبارکباد دی کہ انہوں نے فاطمی (شیعی) خلافت کے دشمنوں (یعنی ترکوں) پر فتح حاصل کرلی ہے، لیکن صلح کی یہ گفت و شنید صلیبیوں کے جوش جنون کی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی۔
اس کے بعد جب صلیبیوں نے عرقہ کا محاصرہ شروع کیا تو مصر کے شیعہ حاکم نے پھر ان کے پاس سفیر بھیجے جو اپنے ساتھ عیسائی سرداروں کے لیے بیش بہا تحائف لےکر گئے۔ صرف گاڈ فری ڈی بوئکن کے لیے چالیس ہزار دینار نقد، تیس خلعتِ پارچات (قیمتی ملبوسات) بہت سے سونے چاندی کے برتن اور ایک عربی گھوڑا تھا۔
500ھ میں سلطان محمد سلجوقی نے جادلی سقادا کو موصل کا امیر مقرر کیا۔ کچھ عرصہ بعد سلطان اس سے بدظن ہوگیا اور امیر مودود کو ایک لشکر جرار دے کر جادلی کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔ جادلی شکست کھا کر بھاگ نکلا اور الغازی صاحبِ ماردین کے پاس پناہ لی، جب وہاں بھی بچاؤ نہ دیکھا تو صلیبیوں سے ساز باز کرلی اور بالڈون اور جوسلن کو جو اس کی قید میں تھے رہا کردیا۔
بالڈون کے زمانۂ اسیری میں اس کی ریاست ایڈیسہ (عدیسہ) پر ٹنکرڈ نے قبضہ کرلیا تھا۔ بالڈون نے جادلی سے مدد لے کر ایڈیسہ پر چڑھائی کردی۔ ادھر ٹنکرڈ نے رضوان بن تتش امیرِ حلب سے مدد مانگی۔ رضوان نے مسلمانوں کے مفاد سے غداری کرتے ہوئے ٹنکرڈ کو بھر پور مدد دی۔ طل بشر کے پاس دونوں فوجوں میں جنگ ہوئی۔ اس لڑائی میں مسلمان متحارب صلیبیوں کے مددگار بن کر ایک دوسرے کے خلاف جنگ کر رہے تھے، حالانکہ وہ چاہتے تو صلیبیوں کی نا اتفاقی سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکتے تھے۔
دمشق کے امیر تشتگین نے 522ھ/ 1128ء میں وفات پائی تو اس کے جانشین تاج الملوک بوری کےاسماعیلی (شیعہ) وزیر نے 1129ء میں دمشق عیسائیوں کو دے ڈالنے کی سازش کی، لیکن اس سازش کا بروقت انکشاف ہوگیا اور دمشق عیسائیوں کے ہاتھ میں جانے سے بچ گیا، بانیاس کے غدار حاکم اسماعیل نے اپنا شہر صلیبیوں کے حوالے کردیا اور خود انہی کے پاس یروشلم میں جا کر مقیم ہو گیا۔
بالڈون ثانی شاہِ یروشلم ایک دفعہ رملہ (فلسطینی علاقہ) میں مقیم تھا کہ مسلمانوں نے شہر کو گھیر لیا۔ بالڈون کے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی، لیکن ایک مسلمان فوجی نے کسی پرانے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے اس دشمنِ اسلام کی مدد کی اور اس کو ایک پوشیدہ راستے سے نکال کر ایک محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے اپنی فوجوں کو منظم کرکے مسلمانوں پر ایک بھر پور حملہ کیا، جس کی تاب نہ لا کر انہیں پسپا ہونا پڑا۔ اس قسم کے اور بھی متعدد واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں دینی غیرت اور حمیت کا کس قدر فقدان تھا۔)
اس پر مستزاد یہ کہ اس افراتفری میں اسماعیلی (شیعہ) دہشت پسندوں (یعنی حسن ابن صباح کے پیروکار باطنی خودکش حملہ آوروں) کی خوب بن آئی تھی۔ ایک طرف تو وہ حالات کا فائدہ اٹھا کر اپنی سلطنت (دولتِ اسماعیلیہ مشرقیہ یا دولت ملاحدہ کہستان) کو وسیع سے وسیع تر کر رہے تھے اور قلعہ گرد کوہ، لامسر، رودبار، طبس، کہستان، خور، خوسف، قائین، تون وغیرہ پر قبضہ کر چکے تھے۔
اور دوسری طرف اپنی دہشت گردی سے بالواسطہ صلیبیوں کے ہاتھ مضبوط کررہے تھے جو مسلمان حکمران، امیر، والی یا عالم ان کے خلاف ذرا بھی حرکت کرتا۔ باطنی خودکش حملہ آور (حشیشین) فوراً پہنچ کر اس کا کام تمام کردیتے تھے۔ دنیائے اسلام کی کئی نامور شخصیتیں ان کی خون آشامی کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں۔
امیر مودود صاحبِ موصل، آقستقر برسقی، قاضی ابوسعید ہروی، جناح الدولہ قاضی ابوالعلا صاعد نیشا پوری، عبداللطیف خجندی، فاطمی خلیفۂ مصر الآمر باحکام اللہ، عباسی خلیفہ المسترشد باللہ، دولت شاہ علوی حاکم اصفہان، قاضی عبدالواحد وزیر فخرالملک ابوالمظفر بن خواجہ نظام الملک وغیرہ جیسے اکابرِ وقت اُس پُر آشوب دور میں باطنی فدائیوں (حشیشین خودکش حملہ آوروں) کی تلواروں کا شکار ہوئے۔
ستم بر ستم یہ کہ باطنی (شیعہ) فدائی صلیبیوں کی طرح حجاج کے قافلوں کو بھی لوٹنے سے دریغ نہ کرتے تھے۔ غرض اس بد قسمت سرزمین کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے تھے۔ باہمی تشتت وافتراق نے ان کو ذلت و ادبار کے عمیق گڑھے میں گرا دیا تھا۔ خود عیسائی مؤرخ برملا اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی یہ حالت صرف اس لیے تھی کہ ان کی طاقت منقسم تھی اور وہ باہمی تنازعات اور لڑائیوں میں الجھے ہوئے تھے۔ (لین پول۔ فلپ کے حتی وغیرہ)
مؤرخ ابن اثیر نے اس پُر آشوب دور کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: "عیسائیوں کی تعداد بہت زیادہ اور ان کی فوجیں بہت جوشیلی اور طاقتور تھیں۔ ان کے ظلم وجور حد سے بڑھ گئے تھے۔ بغیر کسی ڈر کے وہ جو چاہتے کر گزرتے تھے۔ ان کی سلطنت بالائی الجزیرہ میں ماردین سے لےکر مصر کی سرحد العریش تک پھیلی ہوئی تھی۔
حران اور رقہ میں انہوں نے بڑی تباہی مچائی تھی، ان کا شیطانی سیلاب نصیبین کے دروازوں تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے حیہ کے صحرائی راستہ کے سوا دمشق کو جانے والے تمام راستے بند کر دیے تھے اور شہروں پر بلا لحاظ آبادی خراج (ظالمانہ ٹیکس) لگا دیا تھا، حلب سے چند قدم باہر انہی کا سکہ چلتا تھا۔ کوئی شخص خواہ وہ خدا کا ماننے والا تھا یا دہریہ ان کی دستِ بُرد سے بچا ہوا نہ تھا۔ ان کے فوجی دستے اور دہشت پسند گروہ (ہاسپیٹلرز اور ٹمپلرز) جزیرہ ابن عمر اور رأس العین تک چھاپے مارتے تھے۔
دیارِ بکر میں عمید تک اور حماۃ سے حلب تک کے علاقے ان کی لوٹ مار کی آماجگاہ بن گئے تھے۔ تجارتی قافلے ان رہزنوں کے خوف سے بند ہوگئے تھے اور تجارت کا نام ونشان تک مٹ گیا تھا۔ ہر طرف خوف و ہراس کا عالم تھا اور مسلمان عجب بے بسی کی حالت میں تھے۔“
ان نازک حالات میں مظلوم مسلمانوں کی دعائیں بالآخر رنگ لائیں۔ یکایک اُفقِ مشرق پر ایک درخشندہ ستارہ نمودار ہوا، جس کی تیز روشنی سے صلیبی غارت گروں کی آنکھیں چندھیا گئیں اور مسلمانوں کے پژمردہ قلوب امید اور یقین کے نور سے معمور ہو گئے، مسلمانوں کے لیے فرشتۂ رحمت بن کر ظاہر ہونے والا یہ کوکب درخشندہ ابوالجود عمادالدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ تھا۔
(واضح رہے کہ یہ وہ زنگی بن سنغر نہیں جو دانائے مشرق شیخ سعدی کے مربی ابو بکر بن سعد زنگی والیٔ فارس کا جدِ امجد تھا۔)
اس مردِ مجاہد نے اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا اور صلیبیوں کے مقابلے میں بے سہارا مسلمانوں کے لیے ڈھال بن گیا۔ اس نے اپنی مجاہدانہ ضربوں سے صلیبیوں کی صفوں میں جگہ جگہ رخنے ڈال دیے اور صلیبی اقتدار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
ماخوذ از ”المَلِکُ العادل سلطان نور الدین محمود زنگیؒ“
تصنیف: طالب ہاشمی صاحب
#شیعرمحمدسکندرجیلانی
*بَطَلِ اسلام سُلطان نورالدین محمود زنگی رحمہ اللہ،* *قسط: 07*
*یروشلم ۔۔۔ صلیبیوں کی منزل مقصود:*
ساری دنیا میں اپنی قدامت اور عظمت کے لحاظ سے بہت کم شہر یروشلم یا بیت المقدس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں سبھی کے نزدیک یہ شہر بےحد مقدس و متبرک ہے۔ اس کے چپے چپے پر ان تینوں قوموں کے نہایت مقدس مقامات پھیلے ہوئے ہیں۔
(اہلِ عرب "یروشلم" کو "القدس" یا " بیت المقدس" کہتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور رسول اکرم ﷺ شب معراج کو اسی جگہ سے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔ اہل یورپ اس شہر کو یروشلم (Jerusalem) ، شهر مقدس (The Holy City) جیره سلیما (Geruseleme) اور ہیگی اپولیس (Hagiopolis) وغیرہ ناموں سے پکارتے ہیں۔ مؤخر الذکر دو نام اطالوی اور یونانی زبانوں کے ہیں۔)
یہ عظیم شہر بے شمار انبیاء کا مہبط اور مَسکَن رہا ہے اور کتنے ہی جلیل القدر نبیوں کے مزارات اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ اپنی 33 سو سالہ تاریخ میں یہ شہر دنیا کی تمام عظیم الشان سلطنتوں کی یورشیں برداشت کرتا رہا ہے۔ یہ کم و بیش اکیس مشہور حملوں اور محاصروں کا ہدف بنا۔ دنیا کی کئی قوموں نے اسے مُسَخَّر کیا۔ عبرانی، یونانی، رومی اور دوسری قومیں صدیوں تک اس شہر میں اپنے اقتدار کا ڈنکا بجاتی رہیں۔
اڑھائی ہزار سال تک اس مقدس اور قدیم شہر پر برابر تباہیاں نازل ہوتی رہیں۔ ہر قوم اور ہر سلطنت نے اس پر حملے کیے اور کسی نے اس کی غارت گری میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ظلم و جور کا کوئی طریقہ ایسا نہیں تھا جو فاتحین نے اس شہر کے بد قسمت باشندوں پر استعمال نہ کیا ہو۔
لیکن 637ء میں ایک عجیب قوم نے اس شہر کا محاصرہ کیا اور اس پر فتح بھی پائی، مگر فاتحین جن میں اس قوم کا سربراہِ اعلیٰ بھی تھا، اس میں اس طرح داخل ہوئے جس طرح نسیمِ سحری گلشن میں داخل ہوتی ہے، نہ کسی عمارت کی ایک اینٹ تک گری، نہ کسی انسانی رگ سے لہو کا ایک قطرہ تک بہا۔ اب تک جتنے حملے ہوئے تھے ان سب میں بیت المقدس بری طرح تباہ ہوتا رہا تھا۔ لیکن اس عجیب حملہ نے باشندگانِ شہر کی قسمت بدل ڈالی۔ غلام ہونے کے بجائے وہ ہر قسم کی بندشوں اور پابندیوں سے آزاد ہوکر راحت و آرام کے صحیح مفہوم سے پہلی مرتبہ آشنا ہوئے۔
(16 ہجری/ 637ء میں جب مسلمانوں کی فتوحات کا سیلاب یروشلم کی دیواروں کے نیچے پہنچا تو عیسائیوں نے قلعہ بند ہوکر مقدور بھر مقابلہ کیا۔ جب مقابلے سے عاجز آگئے تو صلح کی درخواست کی، جس کی یہ شرط رکھی کہ مسلمانوں کا خلیفہ خود یہاں آئے اور معاہدۂ صلح پر دستخط کرے۔
سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ یروشلم پر قبضہ آپ کی تشریف آوری پر موقوف ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ خط ملنے پر کاروبارِ خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا اور خود بیت المقدس کے لیے روانہ ہوگئے۔
علامہ شبلیؒ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس سفر کے متعلق لکھتے ہیں کہ: "ان کے ساتھ نقارۂ نوبت، خدم و حشم لاؤ لشکر ایک طرف، معمولی ڈیرہ اور خیمہ تک نہ تھا۔ سواری میں گھوڑا تھا اور چند مہاجرین و انصار ساتھ تھے، تاہم جہاں یہ آواز پہنچتی تھی کہ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے شام کا ارادہ کیا ہے، زمین دہل جاتی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یروشلم کے قریب جابیہ کے مقام پر قیام کیا، وہیں یروشلم کے محصور عیسائیوں کے نمائندے پہنچے اور معاہدۂ صلح لکھا گیا، اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے معمولی لباس میں پیادہ پا سردارانِ فوج کے ہمراہ بیت المقدس میں داخل ہوئے۔
انگریز مؤرخ سر ولیم میور کے بقول: ”یروشلم میں پہنچ کر خلیفہ (عمر) نے بطریق اور اہلِ شہر سے مہربانی اور شفقت سے ملاقات کی اور ان کو وہی حقوق عطا کیے جو ان کے شایانِ شان تھے۔ یہ ان کی نہایت مہربانی اور عنایت تھی کہ باشندوں پر معمولی جزیہ لگایا اور ان کے معابد اور گرجوں کو بالاستقلال ان کے قبضے میں دے دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب یروشلم کے مقدس مقامات کو دیکھ رہے تھے تو نماز کا وقت آگیا۔ بطریق (پادری) نے وہیں کپڑا بچھا دیا اور کہا کچھ حرج نہیں آپ یہیں (گرجے کے اندر) نماز ادا کرلیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا اور فرمایا:
لَوْصَلَّيْتُ دَاخِلَ الْكَنِيسَةِ أَخَذَهَاالْمُسْلِمُونَ بَعْدِى وَقَالُو هُنَا صَلَّى عُمَرُ۔ (ابن خلدون)
"اگر میں آج گرجے کے اندر نماز پڑھ لوں گا تو میرے بعد مسلمان یہ دعویٰ پیش کرکے کہ عمر نے اس میں نماز پڑھی، یہ گرجا تم سے چھین لیں گے۔"
اس کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے گرجے سے باہر سیڑھیوں پر نماز ادا کی اور ایک تحریری وثیقہ لکھ کر پادری کے حوالے کیا، جس میں لکھا تھا: اس سیڑھی پر نہ کوئی نماز ادا کرے اور نہ ہی اذان دے۔ ( ابن خلدون ج: ۲ ،٥٢۲ )
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نماز مسجد اقصیٰ کے قریب ایک مقام پر ادا کی، اس جگہ انہی کے نام پر ایک مسجد تعمیر کی گئی جو اب تک قبة الصخرا کے پاس موجود ہے اور مسجد عمر کے نام سے مشہور ہے۔ بیت المقدس کے قیام کے دوران ہی ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ آج آپ اذان دیں۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں عہد کر چکا تھا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے بعد اذان نہ دوں گا، لیکن آپ کا ارشاد نہیں ٹال سکتا۔ یہ کہہ کر اذان دینی شروع کی تو صحابہ کرام کو حضور ﷺ کا عہد مبارک یاد آ گیا اور روتے روتے ان کی (بشمول حضرت عمرؓ) ہچکیاں بندھ گئیں۔)
اس کے بعد مسلسل چار سو ساٹھ برس تک یروشلم اسی قوم کے فرزندوں (مسلمانوں) کے قبضے میں رہا۔ بنی امیہ کی خلافت کے زمانہ میں عیسائیوں کو بیت المقدس میں جو امن اور آرام میسر تھا، عیسائی مؤرخ آرچر نے اسے عیسائی زائرین کی زبان سے بڑی تفصیل کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔ صرف بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان ثانی کے رویہ کے متعلق فرانسیسی مؤرخ مچاڈ نے شکایت کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ کہتا ہے کہ مروان ثانی عیسائی اور مسلمان دونوں قوموں کے حق میں یکساں طور پر جابر تھا اور جب اسے اور اس کے خاندان (بنی امیہ) کو دشمنوں (بنوعباس) نے مغلوب کرلیا تو عیسائی اور مسلمان دونوں خدا کا شکر بجالائے۔
عباسی حکمرانوں میں سے تو اکثر کے زمانہ کو یورپی مؤرخین نے عیسائیوں کے حق میں خدا کی رحمت قرار دیا ہے۔ جب عباسی خلافت ضعیف ہوگئی تو مصر میں بنی فاطمہ نے طاقت پکڑی اور اپنی علیحدہ خلافت قائم کرکے بیت المقدس سمیت شام اور فلسطین کے اکثر علاقوں پر قبضہ کرلیا۔
عیسائی مؤرخین مصر کے فاطمی خلیفہ حاکم بامر الله (386_411ھ/ 996_1020ء) کے مظالم کے بےحد شاکی ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق اسی خلیفہ کے مظالم نے نہ صرف یونانی عیسائیوں بلکہ تمام یورپ کے عیسائیوں کو شام اور بیت المقدس پر حملہ کرنے کے لیے برانگیختہ کیا، مگر در اصل اس مخبوط الحواس خلیفہ کا تشدد کچھ عیسائیوں ہی سے مخصوص نہ تھا، بلکہ مسلمان بھی اس کے رویہ سے بیزار تھے۔
(عرب مؤرخین کا بیان ہے کہ حاکم کی عقل میں فتور تھا جو آخر دم تک رہا۔ اس نے پہلے تو علم کی اشاعت کے لیے بہت سے مدارس قائم کیے اور ان میں علماء و فقہاء کو تعلیم کے لیے مقرر کیا، لیکن کچھ مدت بعد ان کو ناحق قتل کرادیا اور تمام مدارس بند کرادیے۔ ایک دفعہ اس نے حکم دیا کہ کوئی شخص دن کے وقت کاروبار نہ کرے، بلکہ تمام تاجر اور دکاندار رات کو دکانیں کھولیں۔
1009ء میں اس نے عیسائیوں کے بہت سے گرجے منہدم کردیے، جن میں یروشلم کا کنیسة القيامة (کنیسائے مزار مسیح علیہ السلام) بھی شامل تھا، یہ گرجا عیسائیوں کے نزدیک بےحد مقدس و محترم تھا۔ جب یورپ میں اس گرجا کے انہدام کی خبر پہنچی تو عیسائیوں میں سخت اشتعال پیدا ہوا۔ عیسائی مؤرخین کا بیان ہے کہ حاکم کے اسی اقدام نے صلیبی جنگوں کا بیج بویا۔
مشرقی مؤرخین نے حاکم کے اس اقدام کی یہ توجیہ کی ہے کہ اسی زمانہ میں رومیوں نے شام پر حملہ کرکے مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھائے تھے اور ان کی مسجدیں گرا ڈالی تھیں۔ حاکم نے اس کے قصاص میں عیسائیوں کے گرجے منہدم کرادیے۔)
گیارھویں صدی عیسوی کے آخری میں آلِ سلجوق نے یروشلم مصر کی فاطمی حکومت سے چھین لیا۔ سلطان تاج الدولہ تتش (یا توتوش) ابنِ الپ ارسلان سلجوقی نے اپنی فوج کے ایک ترکمانی افسر اورتوق بن اکسب کو یروشلم کا حاکم مقرر کیا، اورتوق نے 484ھ/ 1091ء میں وفات پائی تو اس کے دو بیٹے سکمان اور ایلغازی اس کے جانشین ہوئے۔
صلیبی جب ارضِ شام میں داخل ہوئے تو اس وقت یروشلم پر یہی ترکمانی بھائی قابض تھے۔ انطاکیہ اور معرة النعمان کو برباد کرنے کے بعد صلیبیوں نے عرقہ کا محاصرہ کیا تو مصر کی فاطمی حکومت نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور اپنے محصور مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کے بجائے ایک طاقتور فوج یروشلم پر حملہ کرنے کے لیے بھیج دی۔ ترکمانوں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے، لیکن مصریوں نے انہیں مغلوب کرلیا اور یروشلم پر قابض ہوگئے۔ سکمان یہاں سے کیفہ (دیارِ بکر) کو چلا گیا اور ایلغازی نے عراق کا راستہ لیا۔
(مقامِ تعجب ہے کہ عین اس وقت جب صلیبی جنگجو مسلمانوں کے لیے تباہی اور بربادی کا پیغام ثابت ہورہے تھے، مسلمان حکمران اپنے مشترکہ اور حقیقی دشمن کے خلاف کوئی متحدہ محاذ بنانے کے بجائے ایک دوسرے کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے تھے، ایک طرف مصری حکومت یروشلم کے مسلمان حکمرانوں سے اپنے پرانے بدلے چکانے میں مصروف تھی تو دوسری طرف طرابلس اور بیروت کے مسلمان امیر نقد و اجناس کی صورت میں صلیبیوں کو امداد دے رہے تھے۔)
ترکمان بالعموم جاہل لوگ تھے، ان کے عہدِ حکومت میں عیسائی زائرین کبھی کبھار ان کے اکھڑپن اور بدسلوکی کا شکار ہو جاتے تھے۔ ان کی بدسلوکی کی مبالغہ آمیز داستانیں جب یورپ میں پہنچتی تھیں تو اہل یورپ کے خون میں گرمی پیدا ہو جاتی تھی، لیکن وہ یہ بھول جاتے تھے کہ عام مسلمان بھی ترکمانوں کے اس اکھڑپن اور درشت سلوک سے محفوظ نہیں تھے۔
در حقیقت اس طوائف الملوکی اور خانہ جنگی کے پُر آشوب زمانے میں عیسائیوں اور مسلمانوں کو یکساں تکلیفیں پہنچتی تھیں۔ نواحِ فلسطین میں نظم ونسق تباہ ہو چکا تھا اور قزاقوں اور لٹیروں کی بن آئی تھی۔ وہ نہ صرف عیسائی زائرین کے قافلوں کو لوٹ لیتے تھے، بلکہ مسلمان قافلوں پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے تھے۔ البتہ سلجوقیوں اور رومیوں کی لڑائیوں میں اگر کبھی عیسائیوں کو نقصان پہنچا تو وہ ان کا اپنا ہی قصور تھا، کیونکہ وہ رومی عیسائیوں کی حمایت میں خواہ مخواہ مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے، حالانکہ سلجوقیوں اور رومیوں کے درمیان کوئی مذہبی لڑائی نہیں تھی۔
یورپ میں ان سارے حالات کو عیسائیوں پر مسلمانوں کے ہولناک اور لرزہ خیز مظالم سے موسوم کیا گیا اور صلیبی جنگ کے لیے میدان ہموار کیا گیا۔ صلیبیوں کی یلغار جب یروشلم کی دیواروں کے نیچے پہنچی تو اس وقت اس شہر پر مصر کے فاطمی خلیفہ ابوالقاسم احمد المستعلی بالله کا عَلمِ اقتدار لہرا رہا تھا۔
مصر کا یہ (فاطمی شیعہ) حکمران اپنی ہمسایہ مسلمان حکومتوں کا شدید دشمن تھا۔ اس کو بغداد کے عباسی حکمران اور عباسی حکمران کو اس سے کوئی ہمدردی نہ تھی، آل سلجوق کا تو فاطمی حکمران نام سننا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ یروشلم کے مسلمانوں کی کوئی عملی مدد کر سکتا۔
مختصر یہ کہ یروشلم کے دفاع کی ذمہ داری تنہا افتخارالدولہ کے کندھوں پر آپڑی جو (فاطمی) خلافتِ مصر کی طرف سے اس شہر کا حاکم تھا۔
یروشلم کا محاصرہ:
صلیبیوں نے 6 جون 1099ء کو بڑے جوش و خروش سے یروشلم کا محاصرہ کرلیا۔ ان کے پچاس ہزار جنگجوؤں کے سامنے یروشلم کا دفاع کرنے والی مسلمان فوج کی تعداد صرف ایک ہزار تھی۔ صلیبیوں کو یقین تھا کہ وہ یروشلم کی قلیل محافظ فوج کو دو تین دن کے اندر مغلوب کرلیں گے، لیکن ان کی یہ توقع نقش بر آب ثابت ہوئی۔
مسلمانوں نے حیرت انگیز بہادری سے صلیبیوں کا مقابلہ کیا اور ان کا منہ پھیر کر رکھ دیا۔ لیکن یروشلم کے عیسائی باشندے مسلمانوں کے لیے مارِ آستین ثابت ہوئے۔ وہ مسلمانوں کے دفاعی انتظامات کی ذرا ذرا خبر صلیبیوں کو چوری چھپے پہنچا دیتے تھے، جس سے ان کے جوش اور ہمت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔
صلیبیوں نے محاصرے کے دوران بہت سی منجنیقیں تیار کرلیں اور ان کے ذریعہ یروشلم کی شہرِ پناہ پر بے پناہ سنگ باری کی، لیکن اپنی تمام کوششوں کے باوجود وہ چالیس دن تک شہر فتح نہ کر سکے۔ 23 شعبان 492ھ مطابق 15 جولائی 1096ء کو صلیبیوں نے اپنی تمام قوتیں مجتمع کرکے شہر پر ایک فیصلہ کن حملہ کیا۔ مسلمانوں نے سروں سے کفن باندھ کر اس مہیب یلغار کو روکا اور 12 گھنٹے کی خونریز لڑائی میں صلیبیوں کو لوہے کے چنے چبوا دیے، عین اس وقت جب صلیبی ہمت ہار بیٹھے تھے، اُن کے پادریوں نے اپنے پرانے حربے سے کام لیا اور جبلِ زیتون کی طرف اشارہ کرکے چِلائے: وہ دیکھو! سینٹ جارج تمہاری مدد کے لیے آیا ہے، (سینٹ جارج یا جرجیس عیسائیوں کا بہت بڑا مذہبی پیشوا گزرا ہے۔)
اس کے ساتھ ہی صلیبیوں نے جبل زیتون کی طرف نگاہ اٹھائی تو انہیں اس کی چوٹی پر ایک سوار دکھائی دیا، جو اپنی سپر کو ہلا ہلا کر صلیبیوں کو شہر میں داخل ہونے کا اشارہ کر رہا تھا۔ (یہ خالصتًا جادو کا کرشمہ تھا)
سقوطِ یروشلم:
بذریعہ جادو "آسمانی سوار" کے نمودار ہوتے ہی صلیبیوں میں زبردست جوش کی آگ بھڑک اٹھی، انہوں نے ایک خوفناک حملے میں مسلمانوں کے تمام دفاعی انتظامات درہم برہم کردیے اور شہر میں گھس گئے۔ یہ گھڑی مسلمانوں پر قیامت سے کم نہ تھی۔ صلیب کے ان نام لیواؤں نے شہر میں داخل ہوکر ایسی بہیمیت اور بربریت کا ثبوت دیا کہ شرافت و انسانیت سر پیٹ کر رہ گئی۔ ان قصابوں کے ہاتھوں ستر ہزار انسان بے دردی سے ذبح ہوگئے، نہ کوئی مسلمان بچا، نہ یہودی، نہ بوڑھوں کو امان ملی، نہ عورتوں اور بچوں کو۔ اس مہیب ہنگامہ میں گریہ و زاری اور موت کی چیخوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔
ریمنڈ داژیل (Raymond D' Agile) اپنا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: (مسجد اقصیٰ) کے صحن میں خون گھٹنوں بلکہ گھوڑوں کی باگوں تک پہنچتا تھا۔ البرٹ ڈی ایکس کا بیان ہے کہ یروشلم کے تمام محلوں، عبادت گاہوں اور کوچوں میں لاشوں کے انبار لگ گئے تھے۔ حتی کہ ویران اور تنہا جگہوں میں بھی لاشیں ہی لاشیں نظر آتی تھیں۔ قتل و غارت اور لوٹ مار کا یہ ہنگامہ سات دن تک جاری رہا اور نوبت یہاں تک پہنچی۔
کسے نماند که دیگر به تیغِ ناز کُشی
مگر که زنده کُنی خَلق را و باز کُشی
اس دوران ان غارت گروں نے شہر کی ہر ایک چیز لوٹ لی۔ مسجدِ عمر میں آرائش کا اس قدر سامان تھا کہ اس سے چھ بڑے چھکڑے بھرے جا سکتے تھے۔ اس میں سونے کے بیس اور چاندی کے ایک سو بیس شَمع دان اور بے شمار دوسری قیمتی اشیاء شامل تھیں۔ ٹنکر ڈاس سامان کو دو دن تک لوٹنے میں مصروف رہا۔ اسی طرح مقتول مسلمانوں کے آراستہ و پیراستہ مکانوں میں جو صلیبی پہلے داخل ہوا اس نے اس پر قبضہ جمالیا، جب صلیبی یروشلم کے بد قسمت باشندوں کے خون سے اپنی آتش غضب فرو کر چکے تو انہیں یروشلم پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کی فکر ہوئی۔
22 جولائی 1099ء کو انہوں نے ایک اجلاس عام میں گاڈ فرے ڈی بوئلن کو شہرِ مقدس کا بادشاہ منتخب کیا اور پادری ارنلف کو اپنا بڑا مذہبی پیشوا مقرر کیا۔ گاڈ فرے بڑا متعصب صلیبی تھا، اس نے اپنے لیے کنیستہ القیامہ کے محافظ کا لقب اختیار کیا اور یروشلم کو مرکزی صلیبی ریاست قرار دیا۔ ایڈیسہ اور انطاکیہ کے بعد یہ تیسری ریاست تھی جو صلیبیوں نے سرزمین مشرق میں قائم کی۔
عالمِ اسلام میں ماتم:
یروشلم کے سقوط اور وہاں کے مسلمانوں کے قتلِ عام کی خبر تمام عالمِ اسلام میں انتہائی دکھ کے ساتھ سنی گئی۔ یروشلم کے ایک عالم قاضی ابو سعید ہَروی کچھ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بغداد پہنچ کر خلیفہ مستظہر باللہ کے دربار میں صلیبیوں کے ہولناک مظالم بیان کیے تو ہر طرف سے نالہ وشیون کی آوازیں آنے لگیں۔ اسی طرح دمشق کے قاضی نے بغداد پہنچ کر خلیفہ کے سامنے اپنی ڈاڑھی نوچتے ہوئے مسلمانوں کی مظلومی کی دردناک داستان سنائی تو خلیفہ اور اس کے سب درباری زار و قطار رونے لگے۔ مسلمان شعراء نے دردناک مرثیے لکھے جن میں مظفر ابی وردی کا مرثیہ بہت مشہور ہوا۔ (یہ مرثیہ ابوالفدا نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے۔)
اس زمانہ میں سلاجقۂ عظام کے جانشین سلطان برکیا روق اور سلطان محمد باہمی جنگ میں مشغول تھے، عباسی خلیفہ نے ان کو خدا اور رسول کا واسطہ دے کر متحد ہو جانے کو لکھا، لیکن ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔ مصر کی فاطمی (شیعی) خلافت کو یروشلم کے ہاتھ سے نکل جانے کا صدمہ تو بہت ہوا، لیکن آنسو بہانے اور دعائیں مانگنے کے سوا اس سے کچھ بن نہ پڑا۔ غرض مسلمانوں کے ضعف اور افتراق کی بدولت صلیبیوں کو ارضِ شام وفلسطین میں قدم جمانے کا خوب موقع مل گیا۔
سقوطِ طرابلس:
گاڈ فرے کو یروشلم زیادہ عرصہ حکومت کرنا نصیب نہ ہوا۔ ایک سال بعد (18جولائی 1100ء) کو اسے پیغامِ اجل آ گیا۔ اب صلیبیوں نے گاڈ فرے کے چھوٹے بھائی بالڈون (اول) کو ایڈیسہ سے بلا کر اس کا جانشین مقرر کیا۔ گاڈ فرے یروشلم کا بادشاہ بننے کے بعد اپنی ریاست میں چنداں توسیع نہیں کر سکا تھا۔ بالڈون نے بادشاہ بنتے ہی ملک گیری کی مہم کا آغاز کردیا اور اگلے چند سالوں کے اندر حیفہ، بیسان (جو دمشق سے بحیرہ روم جانے والے راستہ پر واقع تھا) ارسوف، قیصاریہ، صور، عکہ، سیڈون، طرابلس اور بیروت کو فتح کرلیا۔
اس زمانے میں بحیرۂ روم کے یہ ساحلی شہر بڑے خوشحال اور بارونق تھے۔ صلیبیوں نے ان پر قبضہ کر کے وہاں کے مسلمان باشندوں کو بڑی بیدردی سے ذبح کر ڈالا اور ان کے گھر اور مساجد ومدارس اور خانقاہیں جلا ڈالے۔
ان بد قسمت شہروں میں طرابلس کا شہر خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ بیسں ہزار کی آبادی کے اس شہر پر بنو عمار کی حکومت تھی جو علم و ہنر کے بڑے سر پرست تھے۔ شہر میں کئی اعلیٰ درجے کے کتب خانے اور مدارس تھے۔ بلور، کاغذ، اون، ریشم اور کتان اس کی خاص صنعتیں تھیں جو ہزارہا کاریگروں کا ذریعہ معاش تھیں۔
مشہور ایرانی سیاح ناصر خسرو اپنے سفرنامے میں لکھتا ہے: "طرابلس ایک خوبصورت شہر ہے۔ یہ نہایت سرسبز اور شاداب کھیتوں اور باغوں سے گھرا ہوا ہے۔ انگوروں کی بیلیں، نارنگی سنگترہ، کھجور اور دوسرے پھلدار درختوں کے باغ عجب بہار دیتے ہیں۔ شہر میں اس قدر رونق ہے کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ چار پانچ یہاں تک کہ چھ منزلہ مکانات بھی بنے ہوئے ہیں۔
دکانیں نہایت شاندار ہیں اور ہر قسم کے سامان سے بھری ہوئی ہیں۔ منڈیوں میں دنیا جہان کی چیزوں کی وہ بہتات ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ چوکوں اور گلیوں میں فوارے جاری ہیں۔ شہر کی جامع مسجد سنگِ مرمر کی بنی ہوئی ہے اور بڑی وسیع اور شاندار ہے۔ یہاں کاغذ بنانے کا ایک کارخانہ ہے جس میں نہایت نفیس کاغذ تیار ہوتا ہے۔"
صلیبیوں نے طویل محاصرہ کے بعد 1109ء میں طرابلس کو فتح کرلیا اور پھر جو کچھ انہوں نے شہر کے اندر کیا وہ تہذیبِ انسانی کے دامن پر ایک بدنما داغ ہے۔ مسلمان آبادی کو تہہ تیغ کرنے کے ساتھ انہوں نے طرابلس کا وہ عظیم الشان کتب خانہ بھی جلادیا، جس کی تمام مشرق میں شہرت تھی۔ مختلف روایتوں کے مطابق اس کتب خانہ میں ایک لاکھ سے تین لاکھ تک نادر و نایاب کتابیں تھیں۔ موسیو مچاڈ نے اس دردناک سانحہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
"طرابلس کے مشہورِ عالم کتب خانہ میں یونانیوں، مصریوں، عربوں اور ایرانیوں کے قدیم علوم کی ہزاروں قابل قدر یادگاریں تھیں۔ ایک سو آدمی ان کی نقل پر ملازم تھے۔ قاضی (مہتمم کتب خانہ) تمام ممالک میں نایاب اور قیمتی کتابیں خریدنے کے لیے آدمی بھیجتا رہتا تھا۔ شہر کی فتح کے بعد ایک پادری کی سرکردگی میں صلیبیوں نے اس عظیم کتب خانه کو نذر آتش کردیا۔"
مشرقی مؤرخوں نے بڑے درد کے ساتھ اس نا قابلِ تلافی نقصان کا ذکر کیا ہے، لیکن ہمارے ہم عصر مغربی مؤرخین نے اس کا مطلق ذکر ہی نہیں کیا ہے۔ ان کی خاموشی سے معلوم ہوتا ہے کہ فرنگی سپاہیوں نے انتہا درجہ کی لاپروائی سے اس آگ کو دیکھا جس نے ایک لاکھ کتابوں کے قیمتی ذخیرے کو جلا کر خاکستر کردیا۔"
(تاریخ مچاڈ)
طرابلس کے محلِ وقوع اور اہمیت کے پیش نظر صلیبیوں نے یہاں اپنی چوتھی ریاست قائم کی۔ اب ایڈیسہ، انطاکیہ، یروشلم اور طرابلس ارضِ مشرق میں عیسائی قوت کا مرکز بن گئے۔ گو یہ سب ریاستیں مقامی طور پر خود مختار تھیں، لیکن ان پر یروشلم کو بالادستی حاصل تھی اور وہ رسمی طور پر یروشلم کے بادشاہ کے ماتحت متصور ہوتی تھیں۔
ماخوذ از ”المَلِکُ العادل سلطان نور الدین محمود زنگیؒ“
تصنیف: طالب ہاشمی صاحب
#شیعرمحمدسکندرجیلانی
Click here to claim your Sponsored Listing.