14/09/2026
سبق نمبر 13
اس تختی کو سمجھنے اور پڑھنے کا سب سے آسان اور مختصر طریقہ یہ ہے:
1۔ جزم (سکون) کیا ہے؟علامت: حرف کے اوپر آنے والا چھوٹا سا نشان (^) جزم (کبھی یہ حرف پر چھوٹی سی دال یا گول دائرے کی صورت میں بھی ہوتا ہے)کہلاتا ہے۔
قاعدہ: جزم والا حرف اکیلا نہیں پڑھا جاتا۔ اسے ہمیشہ پچھلے حرف سے ملا کر پڑھتے ہیں۔
2۔ پڑھنے کا آسان فارمولاپہلے حرف کی آواز (زبر، زیر یا پیش) کو جزم والے حرف کی آواز کے ساتھ جوڑ کر وہیں روک دیں۔
3۔ پہلی لائن کو پڑھنے کی مثالیں اُاْ ہمزہ + ہمزہ پیش = اُاْ (آواز کو جھٹکے سے روکیں)
اُعْ (ہمزہ + عین پیش = اُعْ) (حلق سے آواز نکال کر روکیں)
اُثْ (ہمزہ + ثا پیش= اُثْ) (زبان کی نوک دانتوں سے لگا کر نرمی سے روکیں)
(اُذْ ہمزہ + ذال پیش = اُذْ)
(نرمی سے آواز روکیں)
نوٹ 👇
اس تختی میں حروف قلقلہ کو واضح کر کے قلقلہ کے ساتھ ادا کریں گے
👇
قلقلہ کا سادہ اور عام فہم مطلب ہے "آواز کا پلٹنا یا ٹکرانا"۔
جب ہم بولتے ہوئے کسی حرف پر رکتے ہیں، تو آواز وہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک جھٹکے یا ٹکراو کے ساتھ واپس آتی ہے۔
جیسے دیوار پر ماری ہوئی گیند واپس پلٹتی ہے۔
1۔ قلقلہ کے حروف (صرف 5 ہیں)قرآن پاک کے صرف ان پانچ حروف پر قلقلہ ہوتا ہے: ق ، ط ، ب ، ج ، د۔(یاد رکھنے کے لیے ان کا مجموعہ "قُطْبُ جَدٍ" ہے)۔
2۔ قلقلہ کب ہوتا ہے؟
جب ان پانچ حروف (ق، ط، ب، ج، د) کے اوپر جزم (سکون) ہو، تو ان کو پڑھتے وقت آواز کو ہلکا سا جھٹکا دے کر پلٹایا جاتا ہے۔
3۔ عام فہم مثالیں (اردو کے ذریعے)اَبْ (Ab): اگر ہم عام اردو میں "اب" کہیں، تو آواز 'ب' پر رک جاتی ہے۔
لیکن قلقلہ میں اسے "اَبْ۔بہ" کی طرح ہلکا سا پلٹائیں گے
اَجْ (Aj): آواز کو صرف 'ج' پر روکنا نہیں ہے، بلکہ "اَجْ۔جہ" کی طرح ہلکی سی بازگشت (Echo)
پیدا کرنی ہے۔
اللّٰہ تعالٰی ہمارے سیکھنے سکھانے کو قبول فرمائے آسان فرمائے آمین ۔
✨ خواتین اور بچوں کے لیے آن لائن قرآن پاک سیکھنے کا سنہری موقع! ✨گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآنی تعلیم حاصل کریں۔ ہماری ماہر اور تجربہ کار خواتین اساتذہ (Female Teachers) کے زیرِ نگرانی واٹس ایپ کے ذریعے بالکل مفت تعلیم حاصل کریں۔
📖 کورسز کی تفصیل:نورانی قاعدہ اور تجوید کورس ناظرہ / حفظِ قرآن کریم
🤲مسنون دعائیں اور نماز کورس