28/02/2023
دعا کی عجیب قبولیت
امام محمد الغزالیؒ دور حاضر کے کبار اہل علم اور بڑے مفکرین میں سے تھے۔ فکر اسلامی کے عظیم داعی اپنے منفرد اسلوب کی وجہ سے "أديب الدعوة" کے لقب سے مشہور ہوئے۔ 94 کتب کے مصنف، جن کی تصنیفات نے نسلوں کو متاثر کیا۔ حکومت پاکستان نے بھی تمغہ برائے اعلیٰ کارکردگی سے نوازا۔ 1989ء میں شاہ فیصل ایوارڈ ملا۔ شیخ غزالی 1917ء کو مصر کے ایک چھوٹے سے گاوں میں پیدا ہوئے۔ 10 سال کی عمر میں حفظِ قرآن مکمل کیا اور 1943ء میں جامعہ ازہر سے فارغ التحصیل ہوئے۔ امام ابو زہرہؒ کے خصوصی شاگرد تھے۔ نوجوانی میں اخوان المسلمون سے وابستہ ہوئے۔ پھر مرشد عام سے اختلاف کی وجہ سے الگ ہوئے۔ والد نے امام غزالی کی نسبت سے غزالی نام رکھا تھا۔ پھر یہ خود بھی وقت کے امام غزالی بنے۔ کئی بار گرفتار ہوئے۔ جامعہ ازہر کے خطیب بھی رہے اور ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ سمیت کئی جامعات میں پڑھاتے بھی رہے۔ خیر، الغزالی کے تعارف پر پوری کتاب بھی ناکافی ہے۔ یہاں ایک عجیب واقعہ ذکر کرنا مقصود ہے۔
ان کی وفات کا قصہ بڑا عجیب ہے۔ شیخ ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے: "اللهم ارزقني الوفاة في بلد حبيبك المصطفى" (یا اللہ! مجھے اپنے حبیب مصطفیؐ کے شہر میں موت نصیب فرما) اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بظاہر اس دعا کے قبول ہونے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ کیونکہ وہ مصر میں رہتے تھے۔ مارچ 1996 ء میں شیخ غزالی کو سعودی عرب سے ایک خط موصول ہوا، جس میں انہیں ریاض میں ہونے والی ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ اس وقت شیخ غزالی بیمار تھے۔ سفر کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ پھر اہل خانہ اور ڈاکٹرز بھی منع کر رہے تھے۔ مگر شیخ نے نہیں مانا اور سفر پر روانہ ہوگئے۔ کانفرنس میں شرکت کی اور اپنا خطاب شروع کیا۔ خطبہ کے بعد ان کی زبان پر آخری کلمات یہ جاری تھے کہ "نريد أن نحقق في الأرض لا إله إلا الله" (ہم زمین پر لا الہ الا اللہ کو نافذ کرنا چاہتے ہیں) کہ اسٹیج پر ہی گر گئے اور فوراً ہی روح پرواز کر گئی۔ زندگی کا آخری جملہ کلمہ طیبہ تھا۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی رسول کریمؐ کا ارشاد ہے: "من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة" یعنی ”جس کا آخری کلام "لا اله إلا الله" ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘ (سنن ابی داود ،حدیث نمبر: 3116)
وہاں سے سعودی مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن بازؒ کے حکم پر ان کے جسد خاکی کو مدینہ منورہ منتقل کر دیا گیا۔ مسجد نبویؐ میں جنازہ اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔ بقیع کے گورکن کا کہنا تھا کہ اس شیخ کا عجیب معاملہ رہا۔ میں عرصے سے یہاں قبریں کھودتا ہوں، یہاں کی زمین کافی سخت ہے، لیکن ان کیلئے ایسی نرم تھی، جیسے مکھن۔ پھر مجھ سے جب قبر کی جگہ متعین کرنے کا کہا گیا تو اچانک میری نگاہ پرانی قبروں کے درمیان ایک جگہ پر پڑی۔ ان میں سے ایک امام مالک بن انسؒ کی اور دوسری امام نافع مولی عبد اللہ بن عمرؒ کی قبر تھی۔ شیخ غزالی کیلئے ان کے ما بین جگہ بنی۔ یعنی ایک امام فقہ اور ایک امام حدیث کے درمیان۔ (ضیاء چترالی)