Mufti Nasir Ali

Mufti Nasir Ali

Neki Ki Baat | M***i Nasir Ali Kay Saath, is a Series of Videos Designed to Educate People Around th

Operating as usual

26/12/2023

پانچ منٹ کا مدرسہ

26/12/2023

نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ

*طلاق بائنہ کے بعد نکاح کرنے سے تین طلاق کا اختیار حاصل ہوتا ہے یا نہیں؟*

سوال

طلاقِ بائنہ کے بعد عدت پوری ہو جائے اور دوبارہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیں تو شوہر تین طلاق کا مالک ہوگا یا نہیں ؟اگر نہیں تو کیوں؟

جواب
واضح رہے کہ کسی مرد اور عورت کا باہم نکاح ہوجانے کے بعد شوہر کو تین طلاق کا اختیار ہوتاہے، اور جب تک تین طلاق کا عدد مکمل نہ ہو عرفِ فقہ میں اسے ایک ’’ملک‘‘ سے تعبیر کیا جاتاہے، یعنی ایک ملک میں شوہر کو تین طلاق کا اختیار ہوتاہے، چاہے ایک ایک کرکے طلاق دے، یا ایک ساتھ دے۔ اور جب تک تین طلاق کا عدد مکمل نہ ہو، یہ ملک بر قرار رہتی ہے۔

لہٰذا ایک طلاق بائن کے بعد اگر زوجین عدت کے اندر یا عدت گزرنے کے بعد ساتھ رہنے کے لیے باہمی رضامندی سے نکاح کرلیں تو شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی بچتا ہے، کیوں کہ دوبارہ نکاح کرنے سے کوئی نئی ملک حاصل نہیں ہوتی، بلکہ وہی پہلے والی ملک حاصل ہوجاتی ہے۔

البتہ تین طلاقیں ایک ساتھ یا متفرق طور پر دے دیں تو شوہر کی ملک ختم ہوجائے گی، لہٰذا نہ تو اسے رجوع کا حق ہوگا اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کا۔ اس کے بعد اگر مطلقہ کسی دوسرے شخص سے شادی کرلے اور اس سے ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ طلاق دے دے اور اس کی عدت گزرجائے تو اب پہلے شوہر کو اس سے نکاحِ جدید کا حق حاصل ہوگا، اور وہ پہلے شوہر کے پاس نئی ملک کے ساتھ آئے گی؛ لہٰذا نئی ملک میں اسے دوبارہ تین طلاقوں کا اختیار ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144109201604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

26/12/2023

البرکہ

Photos from M***i Nasir Ali's post 25/12/2023
Photos from M***i Nasir Ali's post 25/12/2023

AL-BARKA ORGANIC FOODS



0316-2713443
Nazimabad karachi

14/12/2023
14/12/2023

🔬 دس منگھڑت روایات🔬

عوام میں بہت سی ایسی روایات مشہور ہیں جن کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا، ذیل میں ایسی دس منگھڑت روایات ملاحظہ فرمائیں:
▪ روایت 1⃣: حضور اقدس ﷺ ایک بار تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر حضور اقدس ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرات صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللّٰہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، آپ پھر بھی رو رہے ہیں! تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اس لیے رو رہا ہوں کہ میرا ایک امتی کلمہ کے بغیر جہنم میں چلا گیا۔‘‘

▪ روایت 2️⃣: اللّٰہ تعالٰی کی معرفت میرا سرمایہ ہے اور یقین میری قوت ہے۔
☀ الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة:
24- حديث: «المعرفة رأس مالي، والعقل ديني، والحسب أساسي، والشوق مركبي، وذكر الله أنسي، والثقة كنزي، والحزن رفيقي، والعلم سلاحي، والصبر ردائي، والرضا غنيمتي، والفقر فخري، والزهد حرفتي، واليقين قوتي، والصدق شفيعي، والطاعة حسبي، والجهاد خلقي، وقرة عيني الصلاة». ذكره القاضي عياض، وآثار الوضع عليه لائحة.

روایت 3⃣: کلمہ ’’لا الٰہ الا اللّٰہ‘‘ مدّ کے ساتھ یعنی کھینچ کر پڑھنے سے چار ہزار کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
☀ لسان الميزان:
8163- (ز): نعيم بن تمام. عن أنس. وعنه الحسن بن إسماعيل اليمامي. له حديث أخرجه ابن النجار في «الذيل» في ترجمة أبي القاسم عبد الله بن عمر بن محمد الكلوذاني المعروف بابن داية من روايته عن يونس بن طاهر بن محمد عَن عَبد الرحمن بن محمد بن حامد عَن مُحَمد بن عبد الوارث بن الحارث بن عبد الله بن عبد الملك الأنصاري الزاهد عن الحسن. ولفظ المتن: «من قال: لا إله إلا الله ومدها هدمت له ذنوب أربعة آلاف كبيرة». هذا حديث باطل، وأظنه يغنم بن سالم الآتي في آخر الحروف [8670]، تصحف اسمه واسم أبيه كالذي بعده. والله أعلم.

روایت 4⃣: میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کرام کی طرح ہیں۔
☀ المصنوع في معرفة الحديث الموضوع (الموضوعات الصغرى):
196- حَدِيثُ: «عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ» لَا أَصْلَ لَهُ كَمَا قَالَ الدُّمَيْرِيُّ وَالزَّرْكَشِيُّ وَالْعَسْقَلانِيُّ.

روایت 5️⃣: دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ ان الفاظ کو حدیث قرار دینا درست نہیں، البتہ قرآن وسنت کی نصوص سے اس کا مفہوم ثابت ہے۔
☀ الموضوعات للصغاني:
106- وَمِنْهَا قَوْلُهُمْ: «الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ».
☀ المصنوع في معرفة الحديث الموضوع (الموضوعات الصغرى):
135- حَدِيثُ: «الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الآخِرَةِ» قَالَ السَّخَاوِيُّ: لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ.
☀ الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الكبرى:
205- حَدِيثُ: «الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ» قَالَ السَّخَاوِيُّ: لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ، مَعَ إِيرَادِ الْغَزَالِيِّ لَهُ فِي «الْإِحْيَاءِ». قُلْتُ: مَعْنَاهُ صَحِيحٌ يُقْتَبَسُ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: «مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ».

روایت 6️⃣: ’’تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللّٰهِ‘‘ یعنی اللّٰہ تعالٰی کے اخلاق اپناؤ۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ حدیث کے نہیں، اس لیے اس کو حدیث نہیں سمجھنا چاہیے۔ البتہ جہاں تک اس قول کے صحیح یا غلط ہونے کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، البتہ اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس قول کا صحیح مطلب بھی بیان کیا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض بزرگوں نے اس جملے کو صحیح استعمال فرمایا ہے، جبکہ اس قول کا غلط اور غیر شرعی مطلب بھی مراد لیا جاسکتا ہے جیسا کہ بعض ملحدین نے اپنے غلط عقائد کے لیے اس کا سہارا لیا ہے۔
☀ مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين:
وَهَذَا مَوْضِعٌ يَتَوَارَدُ عَلَيْهِ الْمُوَحِّدُونَ وَالْمُلْحِدُونَ، فَالْمُوَحِّدُ يَعْتَقِدُ: أَنَّ الَّذِي أَلْبَسَهُ اللهُ إِيَّاهُ هُوَ صِفَاتٌ جَمَّلَ اللهُ بِهَا ظَاهِرَهُ وَبَاطِنَهُ، وَهِيَ صِفَاتٌ مَخْلُوقَةٌ أُلْبِسَتْ عَبْدًا مَخْلُوقًا، فَكَسَا عَبْدَهُ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ فَضْلِهِ وَعَطَائِهِ. وَالْمُلْحِدُ يَقُولُ: كَسَاهُ نَفْسَ صِفَاتِهِ، وَخَلَعَ عَلَيْهِ خِلْعَةً مِنْ صِفَاتِ ذَاتِهِ، حَتَّى صَارَ شَبِيهًا بِهِ، بَلْ هُوَ هُوَ، وَيَقُولُونَ: الْوُصُولُ هُوَ التَّشَبُّهُ بِالْإِلَهِ عَلَى قَدْرِ الطَّاقَةِ، وَبَعْضُهُمْ يُلَطِّفُ هَذَا الْمَعْنَى، وَيَقُولُ: بَلْ يَتَخَلَّقُ بِأَخْلَاقِ الرَّبِّ، وَرَوَوْا فِي ذَلِكَ أَثَرًا بَاطِلًا «تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ». وَلَيْسَ هَهُنَا غَيْرَ التَّعَبُّدِ بِالصِّفَاتِ الْجَمِيلَةِ، وَالْأَخْلَاقِ الْفَاضِلَةِ الَّتِي يُحِبُّهَا اللهُ، وَيَخْلُقُهَا لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، فَالْعَبْدُ مَخْلُوقٌ، وَخِلْعَتُهُ مَخْلُوقَةٌ، وَصِفَاتُهُ مَخْلُوقَةٌ، وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بَائِنٌ بِذَاتِهِ وَصِفَاتِهِ عَنْ خَلْقِهِ، لَا يُمَازِجُهُمْ وَلَا يُمَازِجُونَهُ، وَلَا يَحِلُّ فِيهِمْ وَلَا يَحِلُّونَ فِيهِ، تَعَالَى اللهُ عَنْ ذَلِكَ عُلُوًّا كَبِيرًا. (فَصْلٌ: الدَّرَجَةُ الثَّانِيَةُ مُشَاهَدَةُ مُعَايَنَةٍ)

روایت 7️⃣: جو شخص اللّٰہ تعالٰی کے راستے میں عید گزارے گا تو وہ جنت میں حضور اقدس ﷺ کے نکاح یا ولیمے میں شریک ہوگا۔

روایت 8️⃣: حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک بار حضور اقدس ﷺ سے پوچھا کہ اللّٰہ تعالٰی کے نزدیک آپ زیادہ محبوب ہیں یا قرآن کریم؟ تو حضور اقدس ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ: ’’میں زیادہ محبوب ہوں کیوں کہ اللّٰہ تعالٰی نے اپنا کلام (یعنی قرآن کریم) مجھ پر نازل فرمایا ہے۔ پھر حضرت جبریل نے پوچھا کہ اللّٰہ تعالٰی کے ہاں آپ زیادہ محبوب ہیں یا میں؟ تو حضور اقدس ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ: ’’میں زیادہ محبوب ہوں کیوں کہ آپ کو میرے پاس بھیجا جاتا ہے۔‘‘ پھر پوچھا کہ اللّٰہ تعالٰی کو آپ زیادہ محبوب ہیں یا اپنا دین؟ تو حضور اقدس ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ: ’’اللّٰہ تعالٰی کو اپنا دین مجھ سے زیادہ محبوب ہے کیوں کہ مجھے دین کے لیے بھیجا گیا ہے۔‘‘

روایت 9️⃣: ایک عورت حضور اقدس ﷺ کے پاس ایک دودھ پیتا بچہ لے کر آئی اور عرض کیا کہ اسے اپنے ساتھ جہاد کے لیے لے جائیں۔ تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ:’’یہ جہاد میں کس کام آئے گا؟‘‘ تو عورت نے جواب دیا کہ اسے اپنے لیے ڈھال بنالیں۔

روایت 🔟: جس کھانے میں کوئی عالم شریک ہوجائے تو اُس کے شرکاء سے اُس کھانے کا حساب معاف ہوجاتا ہے۔

❄️ تبصرہ:
مذکورہ دس روایات کا حضور اقدس ﷺ اور حضرات صحابہ کرام سے کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا، اس لیے ان کو حدیث سمجھنے اور حدیث کہہ کر بیان کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

▪ فائدہ: واضح رہے کہ جن جن روایات سے متعلق حضرات اہلِ علم کی تصریحات میسر آئیں کہ یہ روایات ثابت نہیں تو ان کے بارے میں ان حضرات کی عبارات بھی ذکر کردی گئی ہیں، جن سے اُن روایات کا حکم بخوبی واضح ہوجاتا ہے، باقی جن روایات سے متعلق ایسی صراحت نہیں ملی تو ان کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا ہے، البتہ وہ بھی غیر ثابت ہی ہیں۔ مزید تفصیل آگے ذکر کی جارہی ہے۔

❄️ احادیث بیان کرنے میں شدید احتیاط کی ضرورت:
احادیث کے معاملے میں بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے، کیوں کہ کسی بات کی نسبت حضور اقدس حبیبِ خدا ﷺ کی طرف کرنا یا کسی بات کو حدیث کہہ کر بیان کرنا بہت ہی نازک معاملہ ہے، جس کے لیے شدید احتیاط کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ آجکل بہت سے لوگ احادیث کے معاملے میں کوئی احتیاط نہیں کرتے، بلکہ کہیں بھی حدیث کے نام سے کوئی بات مل گئی تو مستند ماہرین اہلِ علم سے اس کی تحقیق کیے بغیر ہی اس کو حدیث کا نام دے کر بیان کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں امت میں بہت سی منگھڑت روایات عام ہوجاتی ہیں۔ اور اس کا بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسی بے اصل اور غیر ثابت روایت بیان کرکے حضور اقدس ﷺ پر جھوٹ باندھنے کا شدید گناہ اپنے سر لے لیا جاتا ہے۔
ذیل میں اس حوالے سے دو احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں تاکہ اس گناہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکے اور اس سے اجتناب کیا جاسکے:
1⃣ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔‘‘
110- حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «...وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ».
2️⃣ صحیح مسلم میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’مجھ پر جھوٹ نہ بولو، چنانچہ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔‘‘
2- عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رضى الله عنه يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لا تَكْذِبُوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَىَّ يَلِجِ النَّارَ».
ان وعیدوں کے بعد کوئی بھی مسلمان منگھڑت اور بے بنیاد روایات پھیلانے کی جسارت نہیں کرسکتا اور نہ ہی بغیر تحقیق کیے حدیث بیان کرنے کی جرأت کرسکتا ہے۔

❄️ غیر ثابت روایات سے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ:
بندہ نے ایک روایت کے بارے میں ایک صاحب کو جواب دیتے ہوئے یہ کہا کہ یہ روایت ثابت نہیں، تو انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی حوالہ دیجیے، تو بندہ نے ان سے عرض کیا کہ: حوالہ تو کسی روایت کے موجود ہونے کا دیا جاسکتا ہے، اب جو روایت احادیث اور سیرت کی کتب میں موجود ہی نہ ہو تو اس کا حوالہ کہاں سے پیش کیا جائے! ظاہر ہے کہ حوالہ تو کسی روایت کے موجود ہونے کا ہوتا ہے، روایت کے نہ ہونے کا تو کوئی حوالہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ہمارے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ یہ روایت موجود نہیں، باقی جو حضرات اس روایت کے ثابت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اصولی طور پر حوالہ اور ثبوت انھی کے ذمے ہیں، اس لیے انھی سے حوالہ اور ثبوت طلب کرنا چاہیے، تعجب کی بات یہ ہے کہ جو حضرات کسی غیر ثابت روایت کو بیان کرتے ہیں اُن سے تو حوالہ اور ثبوت طلب نہیں کیا جاتا لیکن جو یہ کہے کہ یہ ثابت نہیں تو اُن سے حوالے اور ثبوت کا مطالبہ کیا جاتا ہے! کس قدر عجیب بات ہے یہ! ایسی روش اپنانے والے حضرات کو اپنی اس عادت کی اصلاح کرنی چاہیے اور انھی سے حوالہ اور ثبوت طلب کرنا چاہیے کہ جو کسی روایت کو بیان کرتے ہیں یا اس کے ثابت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
البتہ اگر حوالہ سے مراد یہ ہو کہ کسی محدث یا امام کا قول پیش کیا جائے جنھوں نے اس روایت کے بارے میں ثابت نہ ہونے یا بے اصل ہونے کا دعویٰ کیا ہو تو مزید اطمینان اور تسلی کے لیے یہ مطالبہ معقول اور درست ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن ہر روایت کے بارے میں کسی محدث اور امام کا قول ملنا بھی مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ گزرتے زمانے کے ساتھ نئی نئی منگھڑت روایات ایجاد ہوتی رہتی ہیں، اس لیے اگر کوئی مستند عالم تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کرے کہ یہ روایت یا واقعہ ثابت نہیں اور وہ اس کے عدمِ ثبوت پر کسی محدث یا امام کا قول پیش نہ کرسکے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ ان کا یہ دعویٰ غیر معتبر ہے کیوں کہ ممکن ہے کہ کسی امام یا محدث نے اس روایت کے بارے میں کوئی کلام ہی نہ کیا ہو، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہو، ایسی صورت میں بھی اس روایت کو ثابت ماننے والے حضرات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس روایت کا معتبر حوالہ اور ثبوت پیش کریں، اور لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ انھی حضرات سے ثبوت اور حوالہ کا مطالبہ کریں۔ اور جب تحقیق کے بعد بھی اُس روایت کے بارے میں کوئی بھی ثبوت نہ ملے تو یہ اس روایت کے ثابت نہ ہونے کے لیے کافی ہے۔
واضح رہے کہ یہ مذکورہ زیرِ بحث موضوع کافی تفصیلی ہے، جس کے ہر پہلو کی رعایت اس مختصر تحریر میں مشکل ہے، اس لیے صرف بعض اصولی پہلوؤں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔

⬅️ ایک اہم نکتہ:
منگھڑت اور بے اصل روایات سے متعلق ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر کوئی روایت واقعتًا بے اصل، منگھڑت اور غیر معتبر ہے تو وہ کسی مشہور خطیب اور بزرگ کے بیان کرنے سے معتبر نہیں بن جاتی۔ اس اہم نکتے سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوجاتی ہے کہ جب انھیں کہا جائے کہ یہ روایت منگھڑت یا غیر معتبر ہے تو جواب میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کیسے منگھڑت ہے حالاں کہ یہ میں نے فلاں مشہور بزرگ یا خطیب سے خود سنی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی حدیث کے قابلِ قبول ہونے کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں بن سکتی کہ میں نے فلاں عالم یا بزرگ سے سنی ہے، بلکہ روایت کو تو اصولِ حدیث کے معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ غلطی تو بڑے سے بڑے بزرگ اور عالم سے بھی ہوسکتی ہے کہ وہ لاعلمی اور انجانے میں کوئی منگھڑت روایت بیان کردیں، البتہ ان کی اس غلطی اور بھول کی وجہ سے کوئی منگھڑت اور غیر معتبر روایت معتبر نہیں بن جاتی، بلکہ وہ بدستور منگھڑت اور بے اصل ہی رہتی ہے۔

14/12/2023

ایک عورت بار بار عمرہ کرتی ہے تو کیا ہر مرتبہ اس کو اپنی چوٹی کے بال ایک پورکے برابر کاٹنے ہوں گے؟ نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ

سوال:

ایک عورت بار بار عمرہ کرتی ہے تو کیا ہر مرتبہ اس کو اپنی چوٹی کے بال ایک پورکے برابر کاٹنے ہوں گے؟ اس طرح اس کی چوٹی بہت چھوٹی ہوجائے گی، یہ ایک وقت میں ختم بھی ہوسکتی ہے، عورت کے حلال ہونے کی کیا شکل ہے ؟ براہ کرم، تفصیل سے جواب دیں۔

جواب نمبر: 32289
بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(ب): 786=656-6/1432

جی ہاں ہرعمرہ سے فراغت کے بعد اس عورت کو اپنی چوٹی کے بال کم از کم ایک پوروے کے برابر کٹوانا ضروری ہے۔ اتنا زیادہ عمرہ کرنے کی اسے کیا ضرورت پیش آئی جو آخر میں سارے بال ختم کروانا پڑیں اورعورت گنجی ہوجائے جب کہ عورت کے لیے بال رکھنا واجب ہے۔ اسے عمرہ بار بار کرنے کے بجائے کثرت سے طواف کرنا چاہیے، مکہ میں رہ کر سب سے محبوب عبادت یہی طواف ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

14/12/2023

اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسی کا حکم نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ

سوال:

میں نے ایک لائف انشورنس پالیسی لی ہوئی ہے، اور ختم کرنے کا ارادہ کر لیا، مگر کمپنی سے متعلق لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ لائف کے پاس بے شمار پراپرٹی بھی ہیں اور آمدن کا ذریعہ بھی ہے، جس سے بیمہ کاروں کو سالانہ منافع تقسیم کیا جاتا ہے، یہاں تک ایک صاحب نے کہا: زیادہ تر ذریعہ آمدن پراپرٹی ہی ہے، اور اس نے خود ذمہ لیا جواب دہی سے متعلق ( اللہ معاف کرے)۔ آپ سے گزارش ہے قرآن و سنت سے راہ نمائی کیجیے کہ پالیسی رکھنا جائز ہے یا ختم کرنا بہتر ہے؟

جواب
انشورنس کی مروجہ تمام اقسام جوئے اور سود کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہیں، لہذا انشورنس کی پالیسی اگر لے لی ہو تو اس کو فی الفور ختم کردیں، اور توبہ واستغفار بھی کریں، اور اس صورت میں آپ کے لیے جمع کرائی اصل رقم کا استعمال جائز ہوگا، زائد رقم کا استعمال جائز نہیں ہوگا، بلکہ اسے ثؤاب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہوگا۔

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144007200090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

04/01/2023

شادی اور نکاح کی سنتیں.. نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ

سنت نکاح:۔ نکاح کی سنت یہ ہے کہ سادگی کے طریقہ سے ہو اور اس میں زیادہ تکلف اور بہت زیادہ سامان نہیں ہونا چاہئے۔
سنت یوم:۔ نکاح کیلئے مسنون دن جمعہ کا ہے جو برکت اور بھلائی کا سبب ہے۔
سنت مکان:۔ اور مسجد میں نکاح کرنا مسنون ہے۔
سنتِ اعلان:۔ یعنی سنت ہے کہ نکاح کو مشہور کیا جائے، اور دف بجایا جائے یعنی ایسا باجا جو ایک طرف سے کھلا ہوا ہو جس کو دف اور ڈھبڑا کہتے ہیں۔
سنّت خُرما:۔ نکاح کے بعد چھوارا یا کھجور کا لُٹانا اور تقسیم کرنا سنت ہے۔
سنت شب:۔ یہ ہے کہ جب پہلی رات کو اپنی بی بی کے پاس جائے تو اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَھَا وخَیْرَ مَا فِیْھَا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا
سنت شوّال:۔مسنون اور محبوب طریقہ یہ ہے کہ نکاح ماہ شوال میں کیا جائے کہ برکت کا باعث ہے۔
سنت ولیمہ:۔ مسنون ہے کہ جب پہلی رات اپنی زوجہ کے پاس گذارے تو ولیمہ کرے اور اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں اور دوستوں و مساکین کو کھلاوے اور یہ ضروری نہیں کہ ولیمہ بہت بڑے سامان سے کیا جائے بلکہ اگر تھوڑا ہی کھانا پکا کر اپنے عزیز رشتہ داروں کو تھوڑا تھوڑا کھلائے تب بھی سنت ادا ہوجائے گی۔ اور سب سے خراب ولیمہ وہ ہے جس میں مالدار اور دنیادار لوگ بلائے جائیں اور مسکین غریب اور دیندار نہ بلائے جائیں، بلکہ نکالے جائیں غریب محتاج۔ اے بھائیو! جب ولیمہ کرو تو اس میں سنت کی نیت رکھو اور مسکین غریب اور دیندار کو بلاؤ ۔ اور امیروں میں سے جس کو چاہو بلاؤ لیکن غریبوں کو نہ نکالو۔ اور جو شخص دکھلانے اور ناموری کیلئے ولیمہ کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں ایسے شخص کو ولیمہ کا کچھ ثواب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کا ڈر ہے۔
سنت دعوت:۔ دعوت کا قبول کرنا سنت ہے۔ لیکن جو شخص حرام مال کھاتا ہو اور رشوت اور سود یا بدکاری میں مبتلا ہو اس کی دعوت قبول نہ کرنی چاہئے۔ اور اگر ایک ہی وقت میں دو آدمی دعوت کریں تو اُس شخص کی دعوت قبول کرو جس کا مکان اور دروازہ تم سے قریب تر ہو۔

11/12/2022

مسجد نبوی میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر آپ تمام دوست احباب کی طرف سے سلام پیش کر دیا ہے ۔۔۔جن دوستوں نے خصوصی سلام پیش کرنے کا پیغام دیا ان کا خصوصی سلام پیش کر دیا ہے اس دعا کے ساتھ کہ رب کریم سب دوستوں کو بار بار حاضری کی توفیق عطا فرمائے۔۔

07/12/2022

الحمدللہ حرم مکہ میں ان تمام دوستوں کے لیے بالخصوص دعا کر رہا ہوں جن کی طرف سے دعاؤں کی درخواست کی گئی تھی ۔۔۔کل حرم مدینہ منورہ کی طرف روانگی ہو گی وہاں بھی انشاء اللہ ان تمام دوستوں کا سلام عرض کروں گا جن کی طرف سے سلام کا پیغام دیا گیا ہے ۔۔طالب دعا ناصر علی

21/11/2022

اخلاص اور دینِ فطرت پر استقامت کی دعا ۔۔نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ

أَمْسَيْنَا عَلىٰ فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلىٰ دِيْنِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلىٰ مِلَّةِ أَبِيْنَا إِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ

ترجمہ: ہم نے شام کی اِسلام کی فطرت اور اِخلاص کے کلمہ پر اور اپنے نبی حضرت محمّد ﷺ کے دین پر اور اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ملّت پر جو سیدھے سادے مسلمان تھے اور وہ کبھی شرک کرنے والوں میں نہ تھے۔

فائدہ:نبی کریم ﷺ شام کو یہ دُعاء پڑھا کرتے تھے۔(سنن کبریٰ نسائی:9745)

18/11/2022

مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب کاانتقال ھوگیاھے اناللہ واناالیہ راجعون

18/11/2022

نافع علم، پاکیزہ رزق اور مقبول عمل کی دعا... نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُك عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا طَيِّبًا وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلًا

ترجمہ:اے اللہ!میں تجھ سے نفع دینے والا علم،پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔

فائدہ: حدیث میں ہے:نبی کریمﷺصبح کی نماز کا سلام پھیرتے تو مذکورہ بالا دعاء پڑھا کرتے تھے۔(شعب الایمان :1645)

17/11/2022

💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
*__________________________*نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ ۔۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ ۔۔۔

*ہم انسان بہت خودغرض ہیں, ساری عمر اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں یہاں تک کہ زندگی کے دن پورے ہو جاتے ہیں, مسئلہ یہ نہیں کہ ہم سب نے اپنی خواہشات کی پیروی کرنے میں وقت لگایا، مسئلہ تو یہ ہے کہ اس رب العالمین کو ہی بھول گئے جس نے ہمیں بنایا، شاید کہ خواہشات رکھنا برا نہیں ہے بس خود کو ان کے تابع کر لینا غلط ہے، ہم نے اپنی خواہشات کا ہی بت بنا لیا، اور ان کی ہی پوجا کرنے میں لگے ہیں، یہ تو بھول ہی گئے کہ بت تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ان سب کو پورا کرتے کرتے ہم خود کو ہی توڑ لیتے ہیں... اور پھر جاتے ہیں رب کے پاس کے کوئی تو مدد ہو، اور وہ رحمان تو ہمارے انتظار میں ہے کہ ہم واپس آئیں گے، یا شاید وہ ایسے اسباب بنادیتا ہے کہ ہمیں واپس آنا پڑتا ہے.. غور طلب بات یہ ہے کہ، یہ سب چیزیں، دوست، رشتے زندگی کا حصہ ضرور ہیں لیکن زندگی نہیں ہیں.. زندگی تو اللہ کی امانت ہے.. بس ہم شاید سمجھ نہیں سکتے……!!!*
*__________________________*
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞

26/10/2022

اقسام غسل.. پانچ منٹ کا مدرسہ۔۔نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ

غسل کی چار قسمیں ہیں
1. فرض
2. واجب
3. سنت
4. مستحب

فرض غسل
فرض غسل چھ ہیں
1. شہوت کے ساتھ منی نکلنے پر خواہ سوتے میں ہے یا جاگتے میں۔ خواہ بیہوشی میں ہو یا ہوش میں۔ ج**ع سے ہو یا بغیر ج**ع کے کسی خیال و تصور وغیرہ سے ہو۔
2. زندہ عورت کے پیشاب کے مقام میں یا زندہ مرد و عورت کے پاخانہ کے مقام میں کسی با شہوت مرد کے حشفے کے داخل ہونے پر خواہ انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ( یہ دونوں قسم کا غسل غسلِ جنابت کہلاتا ہے )۔
3. حیض سے پاک ہونے پر۔
4. نفاس سے پاک ہونے پر۔
5. میت کا غسل اور یہ زندہ پر واجب علی الکفایہ ہے۔
6. سارے بدن پر نجاست لگنے یا بدن کے بعض حصہ پر نجاست لگنے سے جب نجاست کا مقام معلوم نہ ہو۔

واجب غسل
واجب غسل تین ہیں
1. جب کوئی جنبی کافر مسلمان ہو۔یعنی جب کوئی مرد یا عورت جبکہ جنابت کا غسل اس پر باقی ہو اور وہ مسلمان ہو جائے یا عورت پر حیض و نفاس کا غسل باقی ہو اور وہ مسلمان ہو جائے۔
2. نابالغہ لڑکی پندرہ سال کی عمر سے پہلے حیض سے بالغ ہوئی ہو تو حیض سے پاک ہونے پر احتیاطاً اس پر غسل واجب ہو گا اور اس کے بعد جو حیض آتے رہیں گے ان سے پاک ہونے پر غسل فرض ہو گا
3. ایسے ہی لڑکا پندرہ سال کی عمر سے پہلے اح**ام کے ساتھ بالغ ہو اور اُسے پہلا اح**ام ہو تو اس پر احتیاطاً غسل واجب ہے اور اس کے بعد جو اح**ام ہے گا اس سے غسل فرض ہو جائے گا اور اگر عمر کے لحاظ سے بالغ ہوا یعنی پندرہ سال کی عمر کے بعد اح**ام ہوا تو اس پر غسل فرض ہے فائدہ واجب غسل سے مراد فرضِ عملی ہے اس لئے بعض نے ان سب کو فرض غسل میں شمار کیا ہے۔اس طرح میت کا غسل اور سارے بدن پر نجاست لگنے یا بعض حصہ پر لگنے اور جگہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنا بھی فرضِ۔عملی ہے اس لئے بعض نے ان دونوں کو بھی واجب میں شمار کیا ہے

سنت غسل
سنت غسل چار ہیں
1. جمعہ کے دن ان لوگوں کے لئے غسل کرنا سنت ہے جن پر جمعہ فرض ہے
2. دونوں عیدین کے دن طلوع فجر کے بعد ان لوگوں کو غسل کرنا سنت ہے جن پر عیدیں کی نماز واجب ہے۔
3. حج یا عمرہ کے احرام کے لئے احرام باندھنے سے پہلے غسل کرنا۔
4. حاجی کو عرفہ کے دن میدان عرفات مین زوال کے بعد وقوف کے لئے غسل کرنا۔

مستحب غسل
مستحب غسل بہت ہیں جن میں سے چند یہ ہیں
1. بدن پر نجاست لگ جائے لیکن معلوم نہ ہو کہ کس جگہ لگی ہے۔
2. لڑکا یا لڑکی جب عمر کے لحاظ سے پندرہ برس کی عمر کو پہنچ کر بالغ ہو اور اس وقت تک بلوغت کی علامات اس میں نہ پائی جائے۔
3. مکہ معظمہ میں داخل ہونے اور طوافِ زیارت کے لئے۔
4. عرفہ کی رات یعنی ذی الحجہ کی آٹھویں و نویں تاریخ کی درمیانی شب میں 5. مزدلفہ میں ٹھہرنے کے لئے دسویں تاریخ کی صبح کو بعد طلوع فجر۔
6. کنکریاں پھینکنے کے لئے منیٰ میں داخل ہوتے وقت۔اور بقیہ دو دن اور جمروں پر کنکریاں مارنے کے لئے۔
7. مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے لئے۔
8. شب برائت یعنی شعبان کی پندرہویں رات کو۔
۹. شب قدر کی راتوں میں۔جو شخص سبِ قدر کو دیکہے یعنی اس کو کشف و الہام یا علامات سے معلوم ہو جائے
10. سورج گرہن کی نماز کے لئے۔
11. چاند گرہن کی نماز کے لئے۔
12. نماز استسقاء کے لئے۔
13. جب مجنون۔مست و بیہوش اچھا ہو جائے۔
14. رفع خوف و دفع مصیبت کی نمازوں کے لئے۔
15. دن کی تاریکی و سخت آندھی کے وقت۔
16. نیا کپڑا پہنتے وقت۔
17. آدمیوں کے مجمع جانے کے لئے۔
18. پچھنے (فصد۔ٹیکا) لگنے کے بعد
1۹. میت کو غسل دینے کے وقت اور غسل دینے کے بعد غسل دینے والے کے لئے۔
20. اس شخص کے لئے غسل مستحب ہے جس کے قتل کا قصد کیا جائے خواہ جبراً قتل کیا جائے یا قصاص میں یا ظلم سے۔
21. کسی گناہ سے توبہ کے لئے۔
22. جب کوئی مسلمان ہو جائے اور وہ جنابت میں نہ ہو تو اس کو غسل کرنا۔ 23. سفر سے واپس وطن پہنچنے پر۔
24. مجالسِ خیر میں حاضر ہونے کے لئے۔
25. استحاضہ والی عورت کو جبکہ اس کا استحاضہ دور ہو جائے۔

11/10/2022

حوضِ کوثر ... پانچ منٹ کا مدرسہ ۔۔۔نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ

قیامت کے دن ہر نبی کے لئے ایک حوض ہو گا اور ہر نبی کی امت کی الگ الگ پہچان ہو گی، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کا نام کوثر ہے، وہ سب حوضوں سے بڑا ہے آپ کی امت کی پہچان یہ ہے کہ ان کے وضو کے اعضا نہایت روشن ہوں گے۔ آپ کا حوض کوثر ایک ماہ کی مسافت کی درازی میں ہو گا اس کے کنارے زاویہ قائمہ بناتے ہیں اور کناروں پر موتی کے قبے ہیں، اس کی مٹی نہایت خوشبودار مشک کی ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، گلاب اور مشک سے زیادہ خوشبودار، سورج سے زیادہ روشن اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کے پینے کے برتن ستاروں کی مانند چمکدار اور بکثرت ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے جام بھر بھر کر پلائیں گے جو ایک بار پی لے گا پھر میدانِ حشر میں پیاسا نہ ہو گا مرتد و کافر و مشرک حوض کوثر کے پانی سے محروم رہیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک گمراہ فرقے بھی اس نعمت سے محروم رہیں گے۔ حوض کوثر حق ہے البتہ اس کی کیفیات جو بیان ہوئیں خبر احادیث سے ثابت ہیں اس لئے مرتبہ ظن میں ہیں۔

07/10/2022

بعث بعد موت۔۔مرنے کے بعد کی زندگی کیسی ہو گی ۔۔۔۔پانچ منٹ کا مدرسہ ۔۔نیکی کی بات مفتی ناصر علی کے ساتھ

ولبعث بعد الموت کا مطلب ہے کہ مرنے کے بعد سب کو قیامت کے دن دو بارا زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ پس اول صور پھونکنے کے بعد جب چالیس برس کا عرصہ گزر جائے گا اور اتنی مدت تک احادیثِ صرفہ کا ظہور ہو چکے گا تو اللہ تعالیٰ اسرافیل علیہ الاسلام کو زندہ کرے گا پھر وہ صور پھونکیں گے جس کو نقحہ ثانی کہتے ہیں، جس سے اوّل عرش کو اٹھانے والے فرشتے پھر جبرائیل و میکائل اور عزرائیل علیہم الاسلام اٹھیں گے پھر نئی زمین و آسمان اور چاند وسورج موجود ہوں گے، پھر ایک مینہ برسے گا جس سے سبزہ کی طرح ہر روح والی چیز جسم کے ساتھ زندہ ہو جائے گی۔ اس دوبارہ پیدا کرنے اور حساب و کتاب کر کے جزا و سزا کے طور پر جنت و دوزخ میں بھیجنے کو شرع میں بعث و نشر اور حشر و نشر کہتے ہیں اور اس دن کو یوم الحشر، یوم الجزاء، یوم الدین اور یوم حساب کہتے ہیں۔ اس کا منکر کافر ہے سب سے پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبر مبارک سے اس طرح باہر تشریف لائیں گے کہ آپ کے داہنی ہاتھ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ہو گا اور بائیں ہاتھ میں حضرت فاروق اعظم کا ہاتھ ہو گا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر اور انبیاء علیم صلٰوۃ والسلام پھر صدیقین پھر شہدا پھر صالحین پھر اور مومنین یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے اَلحَمدُ لِلّٰہِ الَّذِی اَذھَبَ عَنَّا الَحَزَنَ ط اِنَّ رَبَّنَا لَغَفّور شَکّور
پھر اور کفار اور اشرار یہ کہتے ہوئے اٹھیں گے :
یَا وَیلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّر قَدِنَا
نیکوں کا گروہ الگ ہو گا اور بروں کی ج**عت الگ، ہر شخص برہنہ بے ختنہ اٹھے گا سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنت کا سفید لباس پہنایا جائے گا ان کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بہترلباس پہنایا جائے گا، ان کے بعد اور رسولوں اور نبیوں کو پھر مؤذنوں کو لباس پہنایا جائے گا پھر کوئی پیدل کوئی سوار ہو کر میدان حشر میں جائیں گے، کافر منھ کے بل چلتا ہوا جائے گا، کسی کو ملائکہ گھسیٹتے ہوئے لے جائیں گے، کسی کو آگ جمع کرے گی اس روز آفتاب ایک میل کے فاصلہ پر ہو گا اس دن کی تپش ناقابل بیان ہے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے، بھیجے ( مغز) کھولتے ہوں گے، اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستر گز زمین میں جذب ہو جائے گا پھر جب زمین جذب نہ کر سکے گی تو اوپر چڑھے گا کسی کے ٹخنوں تک ہو گا کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے گلے تک اور کافر کے تو منھ تک چڑھ کر لگام کی طرح جکڑ لے گا، جس میں وہ ڈبکیاں کھائے گا، پیاس کی شدت سے زبانیں سوکھ کر کانٹا ہو جائیں گی اور بعض کی منھ سے باہر نکل آئیں گی، دل ابل کر گلے میں آ جائیں گے، ہر شخص بقدر گناہ اس تکلیف میں مبتلا ہو گا پھر سب کو نامہ اعمال دئے جائیں گے۔ مومنون کو سامنے سے دائیں ہاتھ میں اور کافروں کو پیچھے سے بائیں ہاتھ میں ملیں گے۔
نیکیاں اور بدیاں میزان عدل میں تولی جائیں گی، جس کا نیکی کا پلہ بھاری ہو گا وہ جنت میں جائے گا جس کا وہ پلہ ہلکا ہو گا وہ دوزخ میں جائے گا جس کے دونوں پلے برابر ہوں گے وہ کچھ مدت اعراف میں رہے گا، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں جائے گا۔ میزان میں اعمال تولنے کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ حقوق العباد کا بدلہ اس طرح دلایا جائے گا کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دلائی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈالی جائیں گی، چرندوں پرندوں اور وحشی جانوروں وغیرہ کا بھی حساب ہو گا اور سب کو بدلہ دلا کر سوائے جن و انس کے سب کو نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ میزان حق ہے اس کا منکر کافر ہے پل صراط حق ہے اور اس کا منکر بھی کافر ہے، میدان حشر کے گرداگرد دوزخ محیط ہو گی جنت میں جانے کے لئے اس دوزخ پر ایک پل ہو گا جو کہ بال سے زیادہ باریک، تلوار سے زیادہ تیز، رات سے زیادہ سیاہ ہو گا، یعنی اس پر اندھیرا ہو گا، سوائے ایمان کی روشنی کے اور کوئی روشنی نہ ہو گی، اس کی سات گھاٹیاں ہیں، سب لوگوں کو اس پر چلنے کا حکم ہو گا، سب سے پہلے نبیوں کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے گزریں گے آپ کے بعد آپ کی امت گزرے گی، پھر اور مخلوق باری باری گزرے گی، سوائے انبیاء علیہ السلام کے۔اور کوئی کلام نہ کرے گا اور انبیاء علیہم السلام کا کلام یہ ہو گا
اَللّٰھُمَّ سَلِّم سَلِّم
اے اللہ سلامت رکھنا سلامت رکھنا
جہنم میں پل صراط کے دونوں طرف کانٹوں کی طرح کے آنکڑے ہوں گے، جن کی لمبائی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، وہ لوگوں کو ان کے عملوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حکم سے پکڑیں گے، بعض کو پکڑ کر جہنم میں گرا دیں گے اور بعض کا گوشت چھیل ڈالیں گے لیکن زخمی کو اللہ تعالیٰ نجات دے گا، مومن سب گزر جائیں گے، بعض بجلی کی مانند بعض تیز ہوا کی مانند بعض پرندوں کی مانند، بعض تیز گھوڑے کی مانند، بعض تیز اونٹ کی مانند جلد گزر جائیں گے، بعض تیز دوڑنے والے آدمی کی مانند، بعض تیز چلنے والی پیدل کی مانند، بعض عورتوں کی طرح آہستہ، بعض سرین پر گھسیٹتے ہوئے اور بعض چیونٹی کی چال چلیں گے، کفار و منافق سب کٹ کر دوزخ میں گر جائیں گے، جس کو اس دنیا میں۔شریعت پر چلنا آسان ہو گا اتنا ہی پل صراط پر چلنا آسان ہو جائے گا اور جتنا یہاں۔شریعت پر چلنا مشکل ہو گا، اتنا ہی وہاں پل صراط پر چلنا اس کے لئے دشوار ہو گا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حق ہے، قیامت کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سامنے گناہگار بندوں کی شفاعت فرمائیں گے۔
حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حق ہے، قیامت کے روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سامنے گناہگار بندوں کی شفاعت فرمائیں گے۔ حضور کو یہ فضیلت عطا ہو چکی ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ کے جلال و جبروت کے ادب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی اجازت مانگیں گے۔ اور سجدے میں گر کر اللہ پاک کی بے شمار حمد وثنا کریں گے، پھر آپ کو شفاعت کی اجازت ہو گی، آپ بار بار شفاعت کرتے رہیں گے اور اللہ پاک بخشتا رہے گا، یہاں تک کہ جس نے سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہا اور اس پر مرا ہو گا، اگرچہ اس نے کبیرہ گناہ بھی کئے ہوں لیکن شرک نہ کیا ہو وہ دوزخ سے نکالا جائے گا اور جنت میں داخل کیا جائے گا خواہ کسی نبی کا امتی ہو آنحضرت سب کی شفاعت کریں گے اور اللہ پاک قبول فرمائے گا سوائے کفر و شرک کے باقی تمام گناہوں کی معافی کے لئے شفاعت ہو سکتی ہے کبیرہ گناہوں والے شفاعت کے زیادہ محتاج ہوں محتاج ہوں گے کیونکہ صغیرہ گناہ تو دنیا میں بھی عبادتوں سے معاف ہو جاتے ہیں پھر آپ کے بعد اور انبیا کرام و اولیا و شہدا و علما و حفاظ و حجاج بلکہ ہر وہ شخص جسے کوئی دینی منصب ملا ہو اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کرے گا، لیکن بلا اجازت کوئی شخص شفاعت نہ کر سکے گا۔ نبی کریم بعض اموات کی قبر میں شفاعت فرمائیں گے بعض کی حشر میں دوزخ میں جانے سے پہلے شفاعت کریں گے اور بعض کو دوزخ میں جانے کے بعد شفاعت کر کے دوزخ سے نکالیں گے، بعض کی جنت میں ترقی درجات و بلندی مراتب کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔ بعض کی شفاعت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص وعدہ فرما لیا ہے مثلاً
1. جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مزار مبارک کی زیادت کرے،
2. جو حضور پر کثرت سے درود بھیجے،
3. جو ثواب جان کر مکہ یا مدینہ میں رہے تاکہ وہاں وفات پائے، ان کے لئے آپ نے شفاعت کا وعدہ فرمایا ہے،
کافروں یا مشرکوں کے لئے آپ کی یا کسی اور کی شفاعت بالاتفاق نہیں ہو گی، بعض گناہگار مسلمانوں کے لئے بھی آپ کی شفاعت نہ ہو گی، جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ قدریہ اور مرجۂ کو میری شفاعت نہ ہو گی، ظالم بادشاہ کی بھی میں شفاعت نہیں کروں گا اور شرع سے تجاوز کرنے والے کی بھی شفاعت نہیں کروں گا اگر اس کا ظاہر مطلب لیا جائے تو اہل کبائر سے یہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے، یا یوں کہا جائے گا کہ ترقی درجات کی شفاعت ان کے لئے نہ ہو گی۔ بعض لوگوں سے خفیہ حساب لیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ستاری فرما کر ان کو بخش دے گا اور کسی سے سختی کے ساتھ ایک ایک چیز کی باز پرس ہو گی، اللہ تعالیٰ اس قیامت کے دن کو جو ہمارے حساب سے پچاس ہزار برس کا دن ہے اپنے خاص بندوں پر اس قدر ہلکا کر دے گا کہ ان کو اتنا وقت معلوم ہو گا جتنا کہ ایک فرض نماز میں صرف ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی کم یہاں تک کہ بعض کو ایک پلک جھپکنے میں سارا دن طے ہو جائے گا۔
اللہ پاک حضور اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود عطا فرمائے گا کہ تمام اولین و آخرین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد و ستائش کریں گے نیز آپ کو ایک جھنڈا مرحمت ہو گا جس کو لواء حمد کہتے ہیں۔ تمام مومنین حضرتِ آدم علیہ السلام سے لے کر آخر دنیا تک سب اس کے نیچے ہوں گے۔

Want your school to be the top-listed School/college?

Videos (show all)