Prof. Dr. Imran Javaid

Prof. Dr. Imran Javaid

Professor of Mathematics, Career Counselor and BETTER PAKISTAN Aspirant.

Operating as usual

01/02/2023

Dear young people,
What is taught in educational institutions is not sufficient for professional success. It needs to be realized that technology is totally reshaping everything. Identify what is missing and work on the necessary skills needed for future.
Learn, earn and return are three phases of life.
Learn enough to earn enough to return enough.

It is responsibility of the old ones to train and take care of young ones for a great and safe life.

Have blessed life.

01/02/2023

The one who uses force is afraid of reasoning.

What a topic for essay

ہدایت نامہ بھی خوب ہے۔ essay میں clarity, organization اور relevance کو دیکھا جا نچا جائے گا۔

31/01/2023

ہمارے ملک کی تعلیم کے معاملات کی سمجھ بوجھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوری دنیا میں ڈیٹا اور ڈیٹا سے decision اور insights کا رولا پڑا ہوا ہے۔ مشین لرننگ ، AI, DS ، بزنس اینا لیٹکس ، فنانشل اینا لیٹکس وغیرہ وغیرہ میں statistics اور ڈیٹا کی سمجھ کے بنا آ پ ایک قدم نہیں چل سکتے ، اس کے باوجود آ پ کو کسی پاکستانی کالج میں 10٪ بچے بھی statistics پڑھتے نظر نہیں آ ئینگے۔ حد تو یہ ہے کہ ڈیٹا اور decision کے اس دور میں بعض اوقات statistics میں ایڈمشن کے خواہشمند ہی بہت کم ملتے ہیں ۔

بھائی مارکیٹ میں اس وقت ڈیٹا سے decision اور insights والی اندھا دھند جابز ہیں ۔ میتھ ، سٹیٹ اور کمپیوٹر تینوں آ نے چاہییں ۔ ملک کو ایسے لوگ چاہییں اور پوری ایک نسل بھی اس طرح کی تیار ہو جائے تو بھی سب کو نوکری مل جائے ۔ ضروری یہ ہے کہ جو گریجویٹ پاس آ وٹ ہوں ان کو ذرا جدت کا تڑکا لگا ہوا۔

میں نے آ ج کل اپنے frying pan میں 200 سے زائد جوان ڈالے ہوئے ۔ اگر ان میں سے 20-25 کو ہی ٹھیک سے تڑکا لگ گیا تو وہ باقیوں کے لئے نمونے بن جائیں گے انشاء اللہ ۔ decision making understand certainty اور decision making under uncertainty یہ دونوں میتھ کے موضوعات ہیں ۔ سٹیٹ کی سمجھ ان کے لئے ضروری ہے اور کمپیوٹر سالیوشنز کے بنا تو کچھ بھی ڈھنگ کا ہو ہی نہیں سکتا۔

ڈاکٹر عمران جاوید

31/01/2023

سجدہ کر دیا ، مطلب سرنڈر کر دیا ، بڑائی ، برتری مان لی۔ دعا کی ، یہ مان لیا کہ دینے والی ذات اسی رب کی ہے۔ اس کا حکم ہو گا تو کوشش کی سمت ٹھیک ہو گی ، انسانی خواہش کے مطابق نتیجہ نکلے گا۔ نماز ، دعا ، سنت طریقے ، یہ سب سوچوں کی تربیت کے لئے ہیں ۔ رب کو رب مان لیا تو پھر ظلم زیادتی کے وقت رب یاد آ ئے گا، ادھر قدم جانا ہی نہیں چاہیے ۔

سوچوں کی تربیت نہ ہو رہی ہو تو شدید پریشانی کا معاملہ ہے۔ اللہ کے بندوں سے زیادتی کا سلسلہ جاری ہے تو سرنڈر نہیں کیا۔ اللّٰہ کے بندوں سے زیادتی کی معافی بندوں سے بھی مانگنی پڑے گی اور اللہ سے بھی۔

جب الحاج صاحب اپنے مال کو یا اختیار کو استعمال کر کے پٹرول شارٹ کر دیں ، مارکیٹ میں سے ضرورت کی اشیاء غائب کر دیں تو بہت سے سوالات دماغ میں آ تے ہیں ۔

میری سمجھ کے مطابق ہمارے مذہب میں سوچوں کی تربیت اور عادات سکھانے کے معاملات کا مکمل انتظام ہے۔ سڑک پر جا کر دوسروں کے حقوق اور مارکیٹ میں اشیاء کی shortageکے بعد جانے کیا کیا دماغ میں آ تا ہے۔ ہمارے ہاں مزہب کو عمل کرنے کے لئے پڑھنے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اپنی عقل سمجھ کو استعمال کر کے دوسروں کو فائدہ دینا فرض ہے، اس کا حساب دینا پڑے گا ۔ اپنی پوزیشن کو استعمال کرکے دوسروں کا نقصان کیا اور اپنے لئے مال اکٹھا کیا تو یہ مزہب کی فلاسفی کے مطابق نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جتنا مزہب کارڈ استعمال ہوتا ہے اتنا مذہب سے سیکھا جاتا ہے اور نہ ہی اتنا صحیح فائدہ لیا جاتاہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

30/01/2023

انڈیا کے ٹیلنٹ ہنٹ والے شوز کو دماغ میں رکھیں ۔ آ پ کا جلوہ، آ پ کا سکرپٹ ، آ پ کی اداکاری سب تگڑے چاہییں ورنہ ریجکشن بزر بج جائے گا۔ آ پ کی پرسنلیٹی ، آ پ کا تعارف اور آ پ کا خود کو پریزنٹ کرنا سب کا تگڑا امپیکٹ چاہیے ۔ اتنی پراعتماد ڈائیلاگ ڈیلیوری کہ انٹرویو والے بابے کو شام تک یاد رہیں آ پ۔ ممکن ہے انٹرویو والے بابے پہلے کسی بات پر گرمی کھائے بیٹھے ہوں تو آ پ کو اس گرمی کے ماحول میں بھی پرفارمینس کرنی پڑ سکتی ہے۔

آ پ کا تعارف ، آ پکے مستقبل کے پلانز کے بنا مکمل ہی نہیں ۔ جو آ پ نے سیکھا ، جہاں سے سیکھا ، جس سطح کا سیکھا ، سب اہم ہے مگر یہ بھی بہت اہم ہے کہ مزید آ پ کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ جو آ پ کا objective ہے وہ organization کے objective سے کس حدتک میچ کرتا ہے، کیسے آ پ کے مقاصد اور آ رگنائزیشن کے مقاصد ایک دوسرے کو بیک کریں گے۔

آ پ کی حسن کی سمجھ ، ہمارے ہاں اکثر یت کو حسن صرف نسوانی حسن ہی لگتا ہے اور یہ سمجھ تھوڑی کم ہے۔ aesthetic sense بہت ہی اہم ہے۔ اگر آ پ aesthetic sense میں کمزور ہیں تو average سے اوپر جا نا مشکل ہے۔ آ پکی بطور پروفیشنل ہر ایک حرکت ایک شاندار لیول کی aesthetic sense مانگتی ہے۔ ڈھانچہ اہم ہوتا ہے مگر finishing بھی بہت ہی اہم ہے۔ بہتر finishing کے لئے aesthetic sense کا بہت بہتر معیار چاہیے ۔

کوئی آ پکی قابلیت نہیں پہنچانے گا، قابلیت کو ایک سے تین منٹ کے دورانیے میں بتا نے کی ریہرسل کریں۔ اگر آ پ کو اپنی قابلیت پیش کرنی نہیں آ تی تو پانچ منٹ کے انٹرویو میں چند فقروں کی گفتگو میں کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے۔

انٹرویو یہ نہیں ہو تا کہ میں نے اتنے سوالوں کے صحیح جواب دیے اور اتنوں کے غلط۔ انٹرویو میں تو بندہ پسند کیا جاتا ہے اور سب کچھ شامل ہے اس میں ۔ سب دیکھا جائے گا۔ آ پکی انرجی بھی بہت اہم ہے۔ مریل اور ڈری سہمی آ واز والا انٹرویو تو بہت ہی بے کا ر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

30/01/2023

It is important to figure out how to think, than what to think.
The world needs problem solvers, not the content memoriser.

It is important to have information but it is more important to know the process.

Competence of a professional is not judged by the amount of content they know rather it is judged by their analytical abilities, problem solving methods and attitudes and the new solutions they provide.

Do you imagine solutions in today's era and in future without computer and technology? Artificial intelligence will have impact on everything. Artificial intelligence is away from understanding without Mathematics.

So do whatever you want but you must know Mathematics for providing solutions, English for reading and communication especially writing skills, computer and technology as per need of the time and the strong desire to learn new things because we are in era of

LEARN, UNLEARN AND RELEARN.

Degrees and CGPAs are becoming irrelevant with time. Survival of a professional is linked with his persistent desire of learning new things and stay updated.

Change the thought process, change habits for survival. We desperately need it for survival as country and to save the future of our young people.

30/01/2023

فنانشل انویسٹمنٹس کی کلیکشن کو
Portfolio
کہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں مسئلہ یہ ہے کہ آ پ نے اپنے سرمائے کو مختلف جگہ invest کرنا ہے۔ per unit cost اور number of units کا حساب لگانا ہے۔ آ پ کا ہدف یہ ہے کہ per unit profit کو سوچ کر overall profit کو بڑھائیں۔ ساری انوسٹمنٹ ایک جگہ نہیں کرنی، وغیرہ وغیرہ

ایک typical سا linear combination بنے گا چاہے profit کو سوچ کر بنا لیں چاہے کا سٹ کو سوچ کر بنالیں اور چاہے مارکیٹ constraints کو سوچ کر۔
management, economics
اور فنانس میں اسی لئے operation research, optimization theory, game theory اور decision theory ضرور پڑھائے جاتے ہیں۔ linear algebra کے linear combination کو نوٹ کرتے جائیں، ہر جگہ دکھے گا۔ سوچنا شروع کریں، کیریئر ہی کیریئر۔ جب کہانی symbols اور میتھ لینگویج میں آ جائے تو پروگرامنگ اور کمپیوٹر سے مدد ضرور لیں۔ ا متحانوں کی تیاری ہوتی رہے گی، قابلیت پر توجہ دیں۔ اپنے مال کا استعمال سیکھیں۔

اگر آ پ linear algebra، operation research، optimization theory میں سے کچھ بھی پڑھ رہے ہیں اور اسکو بزنس، فنانس اور ڈیٹا سائنس سے relate نہیں کر رہے تو کوئی زیادہ فائدہ نہیں لے رہے اپنے مال سے۔

سوچ سمجھ کر اور فائدہ جان کر پڑھیں۔

ڈاکٹر عمران جاوید

29/01/2023

پرابلم سالونگ کے سٹیپس

1. عام آ دمی کا اسکی سمجھ اور اس کے حساب سے بیان کیا ہوا مسئلہ

2. مسئلہ کی formal statement
3. مسئلے کے variables کی identification اور مسئلے کا mathematical ماڈل
4. میتھیمیٹکل ماڈل کے سولیوشن کے لئے الگورتھم
5. الگورتھم کے بعد اس کی coding
6.کوڈنگ سے اس کا سالیوشن
7. سالیوشن کا تجزیہ ، ان پٹ آ ؤ ٹ پٹ ریلیشن شپ کی سمجھ اور اس کی رپورٹنگ

ہماری مروجہ پریکٹس میں میتھ والے میتھیمیٹکل ماڈل اور اسکی تھیوری کے ساتھ چمٹے رہتے ہیں ۔ عام آ دمی کے بیان اور فارمل سٹیٹمنٹ پر توجہ نہیں ۔ فارمل سٹیٹمنٹ سے میتھیمیٹکل ماڈل تک کی پریکٹس نہیں ۔ الگورتھمز کا کورس پڑھنے کی شدید ضرورت ہے۔

ہمارے کمپیوٹر سائنس والے کہانی درمیان سے شروع کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر کو سمجھ میتھ کی زبان آ تی ہے۔ کوڈنگ وغیرہ وغیرہ کے لئے پورا مسئلہ ، پوری کہانی سمجھ ہونا ضروری ہے۔

مسئلہ بزنس کا، فنانس کا ہو یا کسی بھی طرح کی decision makingکا ہو تو سمجھنے کے لئے ڈیٹا کی سمجھ کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے statistics کی تگڑی سمجھ چاہیے ۔ مطلب عام آ دمی کا مسئلہ statistics کے بنا سمجھ ہی نہیں آ سکتا۔

اب ہمارے میتھ، سٹیٹ اور کمپیوٹر پڑھنے والوں کو تینوں کی سمجھ چاہیے اور اس کی پریکٹس ہو گی case studies سے ۔ کبھی بزنس پرابلم کی کیس سٹڈی لیں ، کبھی سٹاک ایکسچینج کی کیس سٹڈی لیں ، کبھی فنانس کی کیس سٹڈی لیں اور سب سیکھیں ۔ cyber security, financial technology, business analytics اور نئی نئی بہت سی ڈگریاں میتھ سٹیٹ کمپیوٹر کے کمبینیشن کی پیداوار ہیں ۔ ان تینوں شعبوں کے جوانوں کو کیس سٹڈیز کے ذریعے اپنے دماغ کی بند گرہیں کھولنی ہیں ۔

ادھوری تعلیم اور بغیر ہدف کے تعلیم مایوس کرے گی۔ کمانے کا 100 فیصد تعلق سیکھنے سے ہے۔ لیکن ضروری ہے یہ سمجھنا کہ کیا سیکھنا ہے اور کیسے اپڈیٹڈ رہنا ہے۔ ان پڑھ آ دمی کا کاروبار بالکل غیر محفوظ ہے اور ٹارگٹ کے بنا حاصل کی ہوئی تعلیم فائدہ مند نہیں ۔

آ نکھیں ، دماغ ، کان سب کھلا رکھیں ، دنیاداری سیکھیں ، سوفٹ سکلز سیکھیں ، کورس کا پہلے ہدف سمجھیں ، اس کے بعد اس کو سیکھنا شروع کریں۔ آ ن لائن ہر قسمی تعلیم بھی ہے اور بہت سے سوالات کا جواب بھی۔

سوچیں ، سمجھیں ۔ ملک کو عقل مند جوانوں کی بہت ضرورت ہے۔ نہ میری بات کا 100 فیصد یقین کریں نہ کسی اور کا۔ آ ئیڈیا سمجھیں اور اس کے بعد اپنے منصوبے بنائیں ۔

ڈاکٹر عمران جاوید

Photos from Prof. Dr. Imran Javaid's post 29/01/2023

السلام علیکم

دھوکا الرٹ

یہ کوئی محترم میری تصویر کا استعمال کر کے پیسے اکٹھے کرنے پر لگے ہو ئے ہیں ، براہ مہربانی جان لیں کہ یہ میں نہیں ہوں اور میرے پیارے صداقت کا شکریہ جس نے پیسے دینے سے پہلے مجھے فون کر لیا۔

تصویر استعمال کرنے والے محترم سے بھی گزارش ہے کہ اپنے باپ بھائی کی تصویر استعمال کر یار۔ تیرے گھر میں کوئی باپ بھائی نہیں ہے۔

محتاط رہیں ۔

ڈاکٹر عمران جاوید

29/01/2023

I've received 15,000 reactions to my posts in the past 30 days. Thanks for your support. 🙏🤗🎉

28/01/2023

میں جب لکھ رہا ہوتا ہوں تو احساس ہو رہا ہوتا ہے کہ کسی کو چٹکی (چونڈی) تو نہیں بھری جا رہی، بعض چٹکیاں پھر بھی 'وڈی' جاتی ہیں۔
میری عمر والے تو کسی نہ کسی طرح نظام کے beneficiaries ہیں۔ ایسا سب چلتا رہا تو ہماری اگلی نسلیں بہت تنگ ہونگی ۔ (زندہ رہا تو) میں تو اپنے پوتوں، نواسوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے کوشش کی۔ اگر میں status quo والی کوئی بات لکھوں تو اس کو زیادہ reactions ملتے ہیں اور اگر کو ئی چٹکی بھر دوں تو ٹھنڈ رہتی ہے۔ یہ فیسبک وال جو مجھے پوچھتی ہے
what's on your mind?
، میری ڈائری ہے۔ کہتے ہیں کہ خیالات لکھ لیں تو ان پر کام کرنا آ سان ہو جاتا ہے۔ مجھے گوگل اور فیسبک نے اسی وجہ سے پڑھانا شروع کر دیا ہے اور میرا کام آ سان ہو گیا ہے۔
مجھے جب کو ئی جوان فون / میسج کر کے یہ بتا تا ہے کہ میری کسی بات سے اس کو نیا آ ئیدیا ملا ، اسکا کوئی فائدہ ہوا، میرا خون کئی کلو بڑھ جاتا ہے۔ ہمارے جوانوں کے لئے مشکل یہ ہے کہ انہوں نے نوکری والوں سے کاروبار سیکھنا ہے۔ جن کا پچھلی عمر میں ٹیکنالوجی سے واسطہ پڑا، ان سے ٹیکنالوجی سیکھنی ہے۔ مطلب ۔۔۔

جوان تو میری اندھی محبت ہیں۔ یہ کچھ بن گئے تو ملک سنور جائے گے۔ اب تو ملک سے محبت جوانوں سے محبت ہے اور جوانوں سے محبت ملک سے محبت ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

28/01/2023

انٹرویو میں تعارف کا مطلب ہوتا ہے مہارت کا دعویٰ ، فائدہ دینے کی صلاحیت کا دعویٰ ۔ اس دعویٰ میں شامل ہے کہ مہارت کہاں سے لی، اس میں کس سے، کہاں سے کیا کیا سیکھا۔ کہا ں سے کا مطلب ہے ادارہ کون سا ہے اور کس سے کا مطلب ہے سکھانے والے ۔

پرانے پرانے تعلیمی ادارے کوالٹی کے پیچھے تھے ، کسی حد تک اب بھی ہیں اور ان سب تعلیمی اداروں پر اب دباؤ ہے quality with relevance۔ فائدے اور relevance کی اس بحث ، اس تنقید اور سوالات، مارکیٹ کا دباؤ وغیرہ سے کچھ وقت میں شاید بہتری بھی آ جائے گی۔ سیاسی جلسوں میں پیدا ہونے والی یونیورسٹیوں کا رواج آ یا، پھر بغیر منصوبہ بندی کے بی ایس سی کو اے ڈی ایس اوربی ایس سے replace کیا گیا اور اساتذہ کے کالجز کو ایک دم سے یونیورسٹی لیول پر پڑ ھانے پر مجبور کیا گیا تو اس کے بعد جانے کیا کیا ہوا۔ اب پڑھنے والے کم ہیں اور ڈگریاں دینے کے لئے تیار ادارے کہیں زیادہ ۔ مارکیٹ کی اس ریس میں relevance کا سفر مشکل ہو گیا ہے ، کوالٹی کا بھی ستیاناس ہو گیا ۔ آسا ن امتحان ، فیس ادائیگی پر ڈگری ، فیل ہونے کا خوف ختم، شاندار سی جی پی اے کی گارنٹی۔

آ سانی سے ڈگری حاصل ہو گئی ، فائدے کی سمجھ نہیں ، اگر ٹیکنیکل سمجھ بھی نہیں ہے تو پھر ٹائر پنکچر ہے ، گاڑی کا آ گے بڑھنے کا عمل تقریباً ناممکن ہے۔

اس سب عمل میں انٹرویو آ گیا۔ انٹرویو لینے والے کے لئے پورا تعارف اہم ہے، قابلیت بھی اور قابلیت دینے والا ادارہ بھی۔ ایک نوجوان نے نام لیا پرانے، اسٹیبلشڈ اور ٹف ٹریننگ دینے والے ادارے کا اور دوسرے نے نام لیا کسی ایسے ادارے کا جس کی شہرت ابھی بننی ہے یا بری ہے۔ نتیجہ آ پ خود سوچ سکتے ہیں ۔ پرانے اور اسٹیبلشڈ اداروں کو کوالٹی کے ساتھ ساتھ relevance کو سوچنا ہے جب کہ نئے اداروں کو سب کچھ کرنا ہے جس سے انکی repute بہتر ہو۔ سمسٹر کے تمام مضامین میں جب تمام طالب علم یا بہت زیادہ طالب علم 4/4 سی جی پی اے لے رہے ہوں تو دینے والے اور لینے والے دونوں بے ایمان ہیں ۔ اور بے ایمانی کا یہ کاروبار نہ تو لمبا چلے گا اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

28/01/2023

بیچارہ مزدور جب صبح سے شام تک اندھا دھند محنت کرنے کے بعد بھی اپنے بچوں کو روٹی نہیں کھلا سکتا تو اسکی بے بسی اور لاچارگی سوچیں ۔ مزدور کی اجرت نہیں بڑھ رہی، ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے سب ملازمیں کی تنخواہیں کم ہو رہی ہیں اور مہنگائی بڑھی جارہی ہے۔

جب تک غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہے گی ، مسائل میں اضافہ ہی ہو گا۔ ملک آ ج رہنے کے لئے مشکل ہو رہا ہے اور ہم نہ سدھرے تو جانے کیا کیا ہو گا۔ اس ملک کے ہر شہری کو اپنی اپروچ بدلنا ہو گی۔ اس ملک کے با شعور مسلمانوں پر زیادہ بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک مسلمان ہونے کی اور دوسری شعور کی۔

درد تو محسوس کریں اس بے بس کا جو اپنے آ پ کو ہلکان کر کے بھی بچوں کو نہیں کھلا پارہا ۔ اگر اس کو مانگنے کی عادت پڑ گئی یا چھیننے کی عادت پڑ گئی، غیرت پر سمجھوتا ہو گیا تو پھر ملک کے حالات اچھے ہوں یا برے، اس کی عادت نہیں بدلے گی۔

درد اور مسئلہ محسوس کریں۔ ابھی تیل 100 سے ڈرا ڈرا کر پچاس ساٹھ روپے تک مزید مہنگا ہو نا ہے۔

27/01/2023

بچے کا بھرکس نکالنا ہے، اس کو کمپیوٹر سے دور رکھنا ہے، اس کو کھیل سے دور رکھنا ہے، اس کو برائلر بنانا ہے، پڑھا پڑھا کر کملا کرنا ہے، مہینے کا 20 سے 25 ہزار لگانا ہے اس پر اگر اس کا داخلہ سرکاری میڈیکل کالج ہو گیا اور فیس کے نام پر کروڑ کے لگ بھگ لگانا ہے اگر پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلہ ہوا تو۔

اس نے ایم بی بی ایس کر لیا ، خجل خوار ہو کر۔ اب اس بیچارے کے سرکاری نوکری کے بہت کم چانس ہیں اور پرائیوٹ میں 40 ہزار کے لگ بھگ اس کو تنخواہ ملے گی۔ اس سب کے باوجود اتنی اندھی خوشی اور خواہش میڈیکل سے جڑی ہے کہ داخلہ ہونے پر ہی، جو یقیناً بہت مشکل سے ہوتا ہے، فیسبکی مبارکبادوں کی لائن لگ جاتی ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہے ہماری بحیثیت قوم۔ نئے شعبے ، نئی راہیں ، آ سان اور مختلف راستے منتظر رہتے ہیں اور ڈاکٹر کہنے اور کہلوانے کی خواہش ملک کے بے حد ٹیلنٹ کو تباہ کئے جارہی ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

27/01/2023

Stop looking for success, money and love. Work on yourself and your abilities that you attract them. Enable yourself, prepare yourself, challenge yourself and see you will get everything you desired for.

So many things and people don't come to you if you run after them. Be yourself, the strongest and best version of yourself, success, things, money, people will start coming your way, once you desired for. Stop running after...

Study, study, study, know and do what prepares you to be able, able for what you desire.

The smartest amongst students may not be the highest scorer in examination and the highest scorer may not be the smartest. Learn life, dream, set goals, make plans and go for it.

If you have no idea how to earn some money and you are already twenty years old, I am sorry to announce that you have wasted alot of time.

Set your mind right and move in some good direction.

27/01/2023

ہمارے پاس صرف ڈالر کی کمی نہیں ۔ ہمارے پاس جدید اور relevant علم کی کمی کا مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ knowledge economy اور human capital جیسی ٹرمز کا مطلب سمجھنے سمجھانے کا دور ہے۔ ایک جائزہ لیجئے کہ دنیا کے کسی بھی بڑے اور ترقی یافتہ ملک میں جو کمپنیاں 1990 میں امیر ترین تھیں ، اب نہیں ہیں ۔ جدید بزنسز کے ماڈل فرق ہیں ۔

جیسے مینڈک پانی کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی باڈی کی ٹمپریچر برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھاتا جاتا ہے اور پانی سے باہر چھلانگ نہیں لگا تا ، ہمارا قومی حال بھی یہی ہے۔ ہماری روزی روٹی کی روٹین ہمیں مزاحمت کے قابل نہیں چھوڑتی اور ہم برداشت بڑھا رہے ہیں ۔

کوئی کاروبار ایسا نہیں بچا جو آ پ اپنے بچوں کو سیٹ کر کے دے جائیں اور وہ اس سے کما کے کھاتے رہیں ۔ کوئی بھی کاروبار اب کسی بھی ان دیکھے خطرے کا شکار ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ کاروبار کی عمر تھوڑی ہو گئی ۔ آ پ کے مد مقابل کی بہتر حکمت عملی آ پ کو ڈبو سکتی ہے ۔ آ پ کو اپڈیٹ رہنا ہے اور competitive رہنا ہے۔ ان پڑھ بندے کے بس کی بات نہیں ۔ علم چاہیے اور جدید علم جاہیے۔

تھکا ٹٹا پرا نا علم نہیں چلے گا۔ جدید علم چاہیے جو کاروبار کی سمجھ دے، ٹیکنالوجی کی سمجھ دے، دنیا داری کی سمجھ دے، کسی بھی شعبے کی چند ٹرمز کو رٹا مار کر پیپر دینے والا کام تو بالکل ہی بے کار ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

27/01/2023

گوگل سے پوچھئے
What are career options for math graduates?
نوٹ کرلیں، پروفیشن کو سمجھنے، پڑھنے کی کوشش کریں، متعلقہ organizations کے بارے معلومات اکٹھی کریں۔

پھر ایک اور سوال پوچھیں،
What is skill set for ...?
...میں اپنی مرضی کا شعبہ لکھیں۔ اپنی مرضی کے کیریئر کے لئے skill set سمجھیں، پھر اپنا جائزہ لیں کہ آ پ کو اس skill set میں سے کس کس چیز پر عبور ہے اور کیا کیا مزید کرنے کی ضرورت ہے۔
جاب مارکیٹ میں یا کاروبار میں پہلے پروڈکٹ یا بندے کی deficiency یا weakness پکڑی جا تی ہے۔ جو جو weaknesses سکل سیٹ والی ہیں، ان پر کام کریں۔ آ ن لائن ریسورسز سےبہت سے کورسز کریں، پھر سرٹیفیکیٹ لیں۔ تعلیم کا مقصد سیکھنا ہوتا ہے، امتحان بعد کی چیز ہے۔
گاجر کا کاروبار نہ کریں، گاجر کی مختلف ڈشز کی انفارمیشن لیں۔ مارجن زیادہ ہو گا۔ گاجر کا ترجمہ اپنے حساب سے کر لیں۔

اگر آ پ میتھ کے علاوہ کسی شعبے سے ہیں تو میتھ کی جگہ وہ لکھ کر سارا عمل دہرا لیں۔

بہت سی نیک خواہشات
ڈاکٹر عمران جاوید

27/01/2023

Muashra hai kon? | Green Ideology

27/01/2023
26/01/2023

سرکاری نوکری دنیا کے اکثر ممالک میں مشکل سے ملتی ہے۔ زیادہ آ بادی والے ممالک میں تو بہت ہی مشکل سے۔ ہم بھی اب ویسے ہی حالات میں ہیں۔ تسلیم کر لیجئے اور آ گے بڑھئیے۔ سیاستدان کو 4 لاکھ کے حلقے سے 80000 ووٹ مل جائیں ، اسکا کام چل جاتا ہے۔ 80000 ووٹ پورے کرنے کے لیے بہت سی آپشن استعمال ہو سکتی ہیں۔ سچ بولنا مجبوری نہیں۔ ہمارے ہاں 'راہنما' کا مطلب راستہ دکھانے والا نہیں ہے۔
ایک سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ سرکاری نوکری مل گئی تو تاحیات کچھ نہ کچھ ماہانہ ملتا رہے گا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی۔ ذراغور کیجئے ایکسپرٹ بندہ کبھی ریٹائر ہی نہیں ہوتا، مہنگا ہوتا جاتا ہے۔ اس کو اپنی مہارت پر یقین ہوتا ہے اور لوگوں کی ضرورت رہتا ہے۔

اپنے اندر ماہر پیدا کیجئے، کچھ ایسا سیکھئیے کہ آپ لوگوں کی ضرورت ہوں۔ اس صورت میں آ پ سروسز دیکر زندگی جئیں گے۔آپ قیمتی ہونگے اور آ پ کی موجودگی کی وجہ سے آ پ کا employer ذیادہ کمائے گا، آ پ کو آ پ کا حصہ مل جائے گا۔

اگر ذہنی طور پر مضبوط ہو جائیں، مقابلے کے عادی ہو جائیں، نفسیات کی سمجھ ہو، دنیا داری کے جگاڑ آ تے ہوں تو آ پ جدید کاروباری بنیںگے۔ ا ب ہم ایسے دور میں ہیں جس میں ان پڑھ بندے کو پتہ ہی نہیں چلنا، کو ئی اس کا کا روبار لے جائے گا۔ آ پ کو بہت سے دکاندار اب گلا کرتے نظر آئیں گے۔ مندے کی بات کریں گے۔ کچھ کا کاروباری مدمقابل ان کو آ وٹ کلاس کر چکا ہے۔

بڑے برانڈز کی سیل نے گاہک کی نفسیات بدل دی ہے۔ چھوٹے کاروباری لوگ سمجھ ہی نہیں پارہے کہ کرنا کیا ہے۔

We are in a world now where there is battle of ideas.

اندھا دھند نہ پڑھیں، صرف پیپرز کے لیے نہ پڑھیں۔ سیکھنے کو ترجیح بنائیں، سلیبس سے ہٹ کر ضرور پڑھیں۔ ایسے تمام کاروباری لوگ جو کتاب نہیں پڑھتے، جو نئی چیزیں نہیں سیکھتے اور نہ ہی سوچتے ہیں، انکی اب چھٹی ہو نے جا رہی ہے۔ جب پہلے والوں کی چھٹی ہو رہی ہے تو آ ج کا نوجوان عقل استعمال کرے۔ کتاب بھی پڑے اور جدید ترین developments پر بھی نظر رکھے۔ ٹیکنالوجی سیکھیں استعمال کے ذریعے۔

گوگل پر جدید ترین مضمون تواتر سے میسر ہیں۔ پڑھئے اور صرف استاد پر ہی انحصار نہ کیجئے۔

سوچ بدلیے انداز بدلیے تا کہ آپ بقا پائیں۔

ڈاکٹر عمران جاوید

26/01/2023

جب تک ہمارے ملک کے لوگوں کا ایک خاص تناسب بہت پرزور انداز میں ملک کی بہتری کے لئے پوزیشن نہیں لیتا، سدھار مشکل ہے۔ سب بدل رہا ہے لیکن مارکیٹ پریشر سے ۔ ہم بحیثیت قوم react کر رہے ہیں، proactive نہیں ہیں۔

ہمیں سب سے پہلے تعلیم کے بارے اپنی سوچ بدلنی ہے۔ جہاں ریاضی پڑھنے والے کو ٹرینڈ اور پیٹرن نہ دکھے، جہاں معیشت کا طالب علم بے روزگار ہو، جہاں entrepreneurship کا expert نوکری ڈھونڈتا پھرے، جہاں بے روزگار جوان لوگوں کو روزگار حاصل کرنے کی تربیت دے، وہاں chaos ہے، وہاں سمت نہیں ہے۔

میں تنقید نہیں کرتا، تنقید کرنے کی پوزیشن ہی نہیں ہے، ذمہ داری کی عمر اور پوزیشن ہے۔ یہ دھائی ہے کوئی سنے نہ سنے۔ جہاں بیماری کا ہوا کھڑا کر کے دوائی غائب کر دی جائے، جہاں ۔۔۔

ہمیں جوانوں میں شعور بانٹنا ہے، سکھانا زیادہ ضروری ہے امتحان لینے سے ۔ ریاضی پڑھنے والے کو اپنا کام پتہ ہونا چاہیے ، میری نظر میں ہمارا کام ہے trend analysis, pattern analysis اور
association identification between various scenarios.
یہ کام اگر آ تا ہے تو ڈگری / تعلیم فائدہ دے گی، نہیں آ تا تو پھر ہٹ اینڈ ٹرائیل ہی ہے۔

سب کو اپنا کام آ ئے گا تو ہی کچھ بنے گا۔ اگر کسی کو اپنا کام آ تا ہی نہ ہو، یا پتہ ہی نہ ہو تو کسی پر کرپشن یا نالائقی کا فتویٰ نہ دیں، اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیریں۔

آ داب

ڈاکٹر عمران جاوید

26/01/2023

Degrees don't ensure good income. Abilities do

26/01/2023

میں استاد ہوں اور میرا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں ہے۔ میرا کام ٹرمینالوجی اور concept کی وضاحت پر ختم نہیں ہو جاتا۔ میرے ملک کا تقاضا ہے، معاشرے کا تقاضا ہے، حالات کا تقاضا ہے، میرے سبجیکٹ کی بقا کا تقاضا ہے، تعلیم پر بھروسے کا تقاضا ہے کہ میرے پاس آ ئے ہوئے نوجوان کے شعوری تقاضے اور روزگار کے راستے ، ان کو سکھا نے کے عمل کو اپنے کلاس میں گزارے ہوئے وقت کا حصہ بناؤں۔ میرے ملک کے مسائل مختلف ہیں ، میں امریکہ اور جرمنی کا ماڈل یہاں چلاؤں تو شاید وہ ماڈل ذرا بھی فائدہ نہ دے۔

ٹرمینالوجی اور concept کی وضاحت کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ بتایا جائے کہ یہ concept پڑھنے کا کیا کیا اور کہاں کہاں فائدہ ہے۔ مارکیٹ میں موجود ایکسپرٹ اس کو کیسے استعمال کر رہا ہے اور آ پ کو کس سطح کی انڈرسٹینڈنگ اور سکل چاہیے ۔ ریسرچ ہوتی کیا ہے، اس موضوع پر ریسرچ میں کیا کیا اہداف ہیں ، کون سی ریسرچ نہیں کرنی اور کس سمت میں جانا ہے۔ اس موضوع کے کون کون سے پہلو ہیں اور کس کس سمت میں اس کی جڑیں ہیں۔

جب مجھے خود اندازہ ہے کہ نوٹس بنوا کر پیپر لینے کے عمل سے اس وقت نوجوانوں کو کوئی بھی فائدہ نہیں ، مجھے ان کی انڈرسٹینڈنگ اور ان کے شعوری اور روزگاری معاملات کو بھی دیکھنا ہے تو میری نالائقی اور کرپشن کی تعریف فرق ہے۔ مجھے نوٹس بنوا کر امتحان لینے تک کا کام کرپشن لگتا ہے۔

میں کلاس روم میں نئی سوچ اور نئے راستے ڈسکس کرنے جاتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ وقت نے میری نوکری بدل دی ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میرا طالب علم بحث میں حصہ لے۔ میرا دل کرتا ہے کہ وہ مجھ سے بالکل بھی خوفزدہ نہ ہو، اس کا ڈر میرے سکھانے کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ طالب علم یہ سمجھے کہ میرے پر اس کا حق ہے۔ وہ پڑھ کر آ ئے ، مجھے مختلف زاویے دکھائے ، مجھے uncomfortable کرے، مجھے مزید پڑھنے پر مجبور کرے۔ مجھے پوچھے کہ سر ٹرمینالوجی کا فائدہ بتائیں ، کیریئر پلاننگ کرکے اپنے پلانز میرے سے ڈسکس کرے۔ میرا آ ئیڈیل ساتویں سمسٹر کا جوان وہ ہے جس کے کیرئیر سکچز واضح ہو گئے ہوں، جس نے ایک شاندار جوان کی شہرت بنا لی ہو۔ کاش میں جوانوں کے دل سے ڈر نکال سکتا۔

اگر زندہ رہا تو میں اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بتا نا چاہتا ہوں کہ بیٹا میں نے پورا زور لگایا۔ میرا اپنے ملک کے ستر سال کے بزرگوں سے گلہ ہے کہ کچھ نے خاموش رہ کر اور کچھ نے اپنے پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر اس ملک کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ جب 2022 نے ہماری آ نکھوں کا آ پریشن کر دیا ہے تو آ ئیں اپنے ملک کو خود اٹھا ئیں ۔ جیسے جوان ہوں ، ویسا ملک ہوتا ہے۔ جوانوں کے پاس راستے نہ ہونے کا مطلب ہے کہ ملک کے پاس راستہ نہیں ہے۔

میرا پیشہ جوانوں کی تربیت ہے تو میرا سب سے بڑا شوق یہ ہے کہ جسے میرے ہاتھ لگیں وہ کوئی تگڑی فلم بنے۔ اس کے لئے پہلے چیز ڈر سے چھٹکارا ہے۔ کبھی چھٹی کے وقت ایلیٹ کلاس کے سکول کے باہر بچوں کی باڈی لینگویج دیکھیں یا پھر مہنگی یونیورسٹی کے جوان دیکھ لیں ، انکی باڈی لینگویج ڈر سے آ زادی بتا رہی ہوگی۔ سرکاری سکول اور کوئی لوئر مڈل کلاس والی یونیورسٹی دیکھ لیں ، ڈر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے دل و دماغ میں ۔ ایسے خاموش اور سنجیدہ جوان جیسے ہوسپٹل کے وارڈ میں مریض کے ساتھ موجود ہوں۔

دماغ اور د ل میں ڈالا ہوا ڈر ہمیں کھا جائے گا۔ ہمارے ہاں جس جس کا کام ڈر ختم کرنا ہے، وہ ڈر کی تقسیم میں لگا ہوا ہے۔

ہائے میری خواہشیں ، کاش ہمارے ملک کی بھی کوئی سمت ہو۔

ڈاکٹر عمران جاوید

25/01/2023
25/01/2023

Q. 1Platforms to exploit expertise of problem solving

There are several platforms that can be used to exploit expertise in problem solving, including:

Stack Exchange: A network of Q&A communities where users can ask and answer questions on a variety of topics, including programming, mathematics, and science.

Quora: A Q&A platform where users can ask and answer questions on a wide range of topics, including technology, business, and personal development.

GitHub: A platform for developers to host and collaborate on code and projects. It includes a feature called "Issues" where users can ask for help with problems they're encountering in their code.

Kaggle: A platform for data science and machine learning competitions, where users can collaborate and share expertise to solve problems.

Slack: A messaging platform for team collaboration, many companies use it internally to ask for help, share knowledge and find solutions.

LinkedIn: A professional social network where people can connect with each other, share knowledge and ask for help.

These platforms provide a space for experts to share their knowledge and for users to ask for help with specific problems.

Q. 2 Career finding platforms for math graduates

There are several platforms that can be used by math graduates to find career opportunities, including:

LinkedIn: A professional social network where users can connect with other professionals, search for job opportunities, and apply to positions.

Glassdoor: A website where users can search for job opportunities, read reviews of companies and salaries, and research companies.

Indeed: A job search website that aggregates job listings from various sources, including company websites and job boards.

MathJobs: A website for job opportunities in Mathematics that includes listings for academic and non-academic positions in the field of mathematics, and also includes other resources like funding opportunities and events.

The American Mathematical Society: A professional society for mathematicians that includes job listings for academic and research positions, as well as listings for positions in industry, government, and other organizations.

The Society for Industrial and Applied Mathematics: A professional society for applied mathematicians and computational scientists that includes job listings for positions in academia, government, and industry.

ResearchGate: is a platform that connects scientists and researchers. It allows to search for jobs, find collaborators and share publications, it also allows to connect with other researchers in the field.

These platforms provide a space for math graduates to search for job opportunities, research companies, and connect with other professionals in the field.

ChatGPT

25/01/2023
25/01/2023
25/01/2023

یہ ذہن میں رکھیے کہ یو نیورسٹی میں داخلہ سے پہلے آ پ کو تمام اہم concepts کا تعارف میسر ہے۔ یو نیورسٹی میں ایسا کچھ نہیں پڑھا یا جاتا جس کا تعارف کا لج لیول تک نہ کرایا گیا ہو۔ یو نیورسٹی مہا رت حاصل کرنے کی جگہ ہے۔
حقائق کیا ہیں، سب واقف ہیں اس لئے اس پر کچھ نہیں کہتا۔ جنگیں وسائل کے حصول کے لئے ہوتی ہیں۔ Artificial intelligence کے آ نے کے بعد جنگ کی شکل بدل گئی ہے۔ اب economic war ہے۔ یہ جنگ artificial intelligence کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اور آ گے اس مقابلے میں شدت آ ہے گی۔ وہ قومیں جو artificial intelligence میں پیچھے ہوں گی وہ دیوالیہ ہو جا ئیں گی۔

ہمیں جنگی بنیادوں پر اپنی سوچوں اور طرز تعلیم کو بدلنا ہے۔ اپنے ملک کی بقا کے لیے، اپنے جوانوں کے روزگار کے لئے ۔ سرکاری نوکریاں پرائیویٹ جیسی ہوتی جارہی ہیں اور مزید ہوںگی۔

سرکاری نوکری کی خواہش کو دماغ سے نکالنا ہوگا۔ سیاست دان جو مرضی کہیں، سرکاری نوکریوں والا chapter تقریباً بند ہے۔ بہت برائے نام ملیں گی۔

بچوں کو جدید پڑھائیے ، خود جدید پڑھئیے۔ اب اجتماعی کوشش سے کچھ بہتری ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر عمران جاوید

25/01/2023

Half-hearted attempt is recipe of failure.

25/01/2023

بچوں کو کاپی کیٹ مت بنائیں.
والدین کے لئے انتہائی رہنما تحریر :

بچوں کو اعتماد گھر سے ملتا ہے... کم نمبر آنے پر ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ سے پرہیز کریں... زیادہ محنت کی تلقین کریں... بچے کے کزنز سے اپنے بچے کا کبھی موازنہ نہ کریں... اور خاص طور پر پڑوسیوں کے بچوں سے تو بالکل بھی نہیں... کیونکہ مچھلی کی خاصیت درخت پر چڑھنا نہیں، پانی میں تیرنا ہے... اسی طرح ہر بچے کی اپنی صلاحیت ہوتی ہے...
اپنے بچے کو Copy Cat مت بنائیے... اسے منفرد بنائیے... منفرد بننا سکھائیں... جو وہ ہے، جس میں اس کی قابلیت ہے، اسے اس شعبے، اس کام میں منفرد بننا سکھائیں... بچے کو یہ مت سکھائیں کہ...
How to be a best doctor...
How to be a best engineer...
How to be a best writer...
How to be a best business tycoon...

اسے یہ سکھائیں کہ...
How to be the best of whatever you are...

اگر وہ آسمان میں اُڑنا چاہے تو اس کے پَر بن جائیے...
اگر وہ پانی میں تیرنا چاہتا ہے، تو اسے تیرنے دیں...
اسے کبھی یہ طعنہ مت دیں، کہ اسلم صاحب کا بیٹا ہوائی جہاز اڑاتا ہے، اور تُو گھر میں مکھیاں اڑاتا رہ بس...
اسے یہ مت کہیں کہ خالدہ آنٹی کی بیٹی نے میڈیکل میں 96 فیصد نمبر لیۓ ہیں، اور تم 60 فیصد لے کر بیٹھی رہو آرٹس میں...

اور اگر بچے گھر میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں... اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں جسمانی سر گرمی کی ضرورت ہے... انہیں گراونڈ یا پارک میں لے کر جائیں...

گلاس یا کپ ٹوٹنے پر برائے کرم یہ بتانا نہ شروع کر دیں کہ یہ بہت مہنگا آیا تھا... یاد رکھیے” کپ ٹوٹنے سے دل ٹوٹنا زیادہ بُری بات ہے...!!“

بچوں میں سٹیج کا خوف دور کرنے کے لیے گھر پر ایک روسٹرم کا انتظام کریں... اپنے اور عزیز و اقارب کے بچوں کے درمیان ہفتہ وار تقریریں مقابلے کروائیں... اگر بچے تقریر کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو بلند خوانی loud reading کروا لیں...

خوب حوصلہ افزائی کریں... تالیاں بجائیں، چھوٹے موٹے انعام دیں... اس سر گرمی سے بچے بہت جلد اپنے آپ کو پُراعتماد محسوس کریں گے... ایک بات یاد رہے کہ اگر بچہ دورانِ تقریر بھول جائے تو مذاق نہ اُڑایا جائے...

اجنبی لوگوں اور اجنبی جگہوں کا خوف ‏Xenophobia
ختم یا کم کرنے کے لیے ریسٹورنٹ یا شاپنگ مال میں چھوٹی ادائیگی بچوں سے کروائیں... بچوں کو اے ٹی ایم کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے بارے میں ضروری معلومات دیں اور مناسب عمر پر استعمال کا طریقہ بتائیں...

یاد رکھیے بچوں کو Financial literacy سے دور نہ رکھیں...
بچوں کو مہمانوں سے ضرور متعارف کروائیں... لیکن بچوں کو نظمیں سنانے پر مجبور نہ کریں اور خود سنانا چاہیں تو سنانے دیں... انہیں ٹوکیں مت...

اپنی اولاد کے دوست بنیں... والدین اور اولاد کے درمیان communication gap کی وجہ سے کتنی ہی اولادوں نے خود کو تباہ کر لیا ہے... اور والدین نے اس بارے میں کوئی اقدامات نہیں کیۓ، الٹا اولاد کو مؤرد الزام ٹھہرا دیا کہ اولاد ہی نافرمان تھی...

یاد رکھیۓ...!!
فرمانبرداری ایک الگ شے کا نام ہے... اور اولاد سے دوستانہ رویّہ اور اولاد سے روز مرہ کی گفتگو اور اولاد کے مسائل کے بارے میں دریافت کرنا، یہ سب الگ چیزیں ہیں...

اسلیۓ خدارا...!!
اپنی اولاد کے دوست بنیں... اگر پہلے سے دوست ہیں اور آپ کے اور آپ کی اولاد کے درمیان کوئی communication gap نہیں، تو ﷲ آپ کی کوششیں اولاد کے حق میں مزید بہتر فرماۓ... لیکن اگر 2 2 ہفتے اولاد سے کوئی out of sylabus بات نہیں کرتے آپ، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے...!!

👈 نوٹ:
خدارا ان معاملات کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کیجیۓ گا...
ہو سکتا ہے کہ آپ اولاد کی پرورش میں پرفیکٹ ہوں، مگر یہ باتیں کسی دوسرے سے تو شیئر کر ہی سکتے ہیں، جو اولاد کے معاملے میں کوتاہی کر جاتے ہیں... جان بوجھ کر نہ سہی، انجانے میں ہی کوتاہیاں ہو جاتی ہیں...!!

👈 نوٹ 2:
اس تحریر کا یہ مطلب ہرگز نہیں... کہ اولاد کو مخمل کی زندگی مہیا کر دیں... اسے زندگی کی سختیاں اور تلخیاں سہنے کیلیۓ کسی کسی موقع پر تنہا پرواز کرنا بھی سکھائیں... مختصر اگر ایک لائن میں کہا جاۓ، تو ٹیپو سلطان کا مشہور جملہ بہت مناسب ہو گا کہ...
"اپنی اولاد کو نوالہ سونے کا کھلاؤ... لیکن اس پر نگاہ شیر کی رکھو...

متفق و منقول

Videos (show all)

Website