Chemistry rack. Com
It is a collection of short notes on chemistry knowledge easy to understand education website link i
25/01/2024
24/01/2024
22/01/2024
دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب
ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔
دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،
دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔
اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔
ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا
آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟
ملکہ نے کہا!
سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں
آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے.... !!
بادشاہ کو بیوی سے بڑی محبت تھی۔
بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔
بادشاہ باہر دربار میں آیا تو
بادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو خوش دیکھا تو۔۔۔
واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔
بادشاہ مزید خوش ہونے۔
بادشاہ نے کہا سبکو مٹھائی بانٹ دو۔
مٹھائی کھاتے ہوئے بادشاہ سے وزیر نے پوچھا!
بادشاہ سلامت یہ آج مٹھائی کس خوشی میں آئی ہے؟
بادشاہ نے کہا!
کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
ایک مشیر نے چپکے سے وزیر اعظم سے پوچھا!
وزیر با تدبیر ویسے یہ دھنوں ہے کیا..؟
وزیراعظم نے کہا!
کہ مجھے تو علم نہیں یہ دھنوں کیا بلا ہے،
بادشاہ سے پوچهتا ہوں۔
وزیر اعظم نے ہمت کر کے پوچھا!
بادشاہ سلامت ویسے یہ دھنوں ہے کون؟
بادشاہ سلامت تھوڑا سا گھبرائے اور سوچنے لگے کہ واقعی پہلے معلوم تو کرنا چاہیے تھا کہ یہ دھنُوں کون ہے؟
بادشاہ نے کہا!
مجھے تو علم نہیں کہ یہ کون ہے... ۔
میری بیوی آج خوش تهی وجہ پوچھی تو
اس نے کہا!
کہ ٓآج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے میں اسکی خوشی کی وجہ سے خوش ہوا۔
بادشاہ گھر آیا اور بیوی سے پوچھا....
ملکہ عالیہ یہ دھنوں کون تھا؟ جس کی وجہ سے آپ اتنی خوش تھی اور ہم بھی خوش ہیں۔
ملکہ عالیہ نے کہا!
کہ مجھے تو علم نہیں کہ دھنوں کون ہے؟
یہ تو دھوبن بڑی خوش تھی اُس نے بتایا۔
آج دھنوں پیدا ہوا ہے۔
اس لیئے میں بھی خوش ہو کر اسکی خوشی میں شریک ہوئی۔،،،،،،،
دھوبی کی بیوی کو بلایا اور پوچھا!
تیرا ستیاناس ہو.
یہ تو بتا کہ یہ دھنوں کون ہے؟
جس کی وجہ سے ہم نے پوری سلطنت میں مٹھائیاں بانٹی۔!
دھوبن بولی!
یہ دَھنُوں ہماری کھوتی کا بچہ ہے
جو کل پیدا ہوا ہے۔
ایسا ہی حال ہمارے ہاں سوشل میڈیا کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جو بھی خبر ملتی ہے۔
بغیر تصدیق کے فورا گروپ اور سوشل میڈیا پر آ جاتی ہے
کسی جگہ ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا. ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں.شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے
ہیں.سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو. جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی. شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا. ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے.
شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے. تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ. ابو نصر پراٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا.ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے،
معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں. پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا. پراٹھے عوررت کی طرفبڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ. عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی. ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟ گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛
ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے. لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر. اُس نے ابونصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے. جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے. آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے. ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا. میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی. میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینےمیں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا. مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں.
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے. منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں. کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئےتو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا. میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟ تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے. ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا. میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا. میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نےمیری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ. میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے. وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ. مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے. منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسےاس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے. عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا. ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی.
منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟ فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی. مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی۔گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا. منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے. ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی. میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اگر میں نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا اور اپنے کھانے کیلئے پراٹھے خریدے ہوتے تو آج نجات بھی نہ ہوتی۔
اپنی قیمتی راے دے ۔
10/01/2024
10/01/2024
بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی کنیز پر عاشق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن کنیز کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا۔ قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس کنیز کے پیچھے ہولیا۔ جب وہ جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔ جب اس کنیز نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:
''اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے' اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی کنیز کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا:
'' جب تُو اللّٰہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پروردگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں ؟ مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا بندہ ہوں ، جا....تو بے خوف ہو کر چلی جا۔''
اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔
راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا۔ قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جائے۔ اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا۔ جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:
''تجھے کیا پریشانی ہے؟
قصاب نے کہا:'' مجھے سخت پیاس لگی ہے
یہ سن کر قاصدنے کہا: ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔
'قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا:
''میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔
اس قاصد نے کہا:
’ٹھیک ھے مَیں دعا کرتا ہوں، تم آمین کہنا
پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا
جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔
بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرا دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا:
تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا۔ پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہو لیا ہے اور تمہارے سر پر سایہ فگن ہے، سچ سچ بتاؤ تم نے ایسی کون سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟
یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا:
'اللّٰہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں
بے شک گناہ سرزد ہونا انسان ہونے کی دلیل ہے مگر ان پر توبہ کر لینا مومن ہونے کی نشانی ہے-
(حکایتِ سعدی رحمتہ اللّہ علیہ)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Rahimyar Khan