09/05/2026
اسکول کوآرڈینیٹر کی اہمیت اور ذمہ داریاں
تعلیمی ادارے کی کامیابی صرف اساتذہ یا پرنسپل کی محنت سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ ایک مؤثر اسکول کوآرڈینیٹر بھی ادارے کے نظام کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسکول کوآرڈینیٹر انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ اور والدین کے درمیان رابطے کا ایک مضبوط ذریعہ ہوتا ہے۔
اسکول کوآرڈینیٹر کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں چلایا جائے۔ وہ کلاسز کی نگرانی، اساتذہ کی رہنمائی، ٹائم ٹیبل کی ترتیب، تقریبات کی پلاننگ اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ایک اچھا کوآرڈینیٹر صرف نظم و ضبط پر توجہ نہیں دیتا بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، بچوں کے مسائل کے حل، اور والدین کے ساتھ مثبت رابطے کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک فعال کوآرڈینیٹر اسکول کے ماحول کو بہتر اور پرامن بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
آج کے جدید تعلیمی نظام میں اسکول کوآرڈینیٹر کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ تعلیمی اداروں کو صرف نصابی تعلیم ہی نہیں بلکہ مؤثر انتظام، بہتر کمیونیکیشن اور ٹیم ورک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک کامیاب اسکول کوآرڈینیٹر وہی ہوتا ہے جو ذمہ داری، صبر، قائدانہ صلاحیت اور بہترین اخلاق کے ساتھ اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلے۔
از سید کاشف حسین
06/05/2026
تحریر۔ گوہر الرحمان
میں ابتدا،میں پرائویٹ سکولوں کے اس اقدام کو
وقت ا ضیاع اور،پیسے بٹورنے کا عمل گردانتا تھا کہ یہ بچے پر ایک سال پلے گروف ، ایک سال نرسری ایک سال کے جی میں گزارتے ہیں۔ اور گورنمنٹ سکول کے بچے ایک سال کے جی میں اور دوسرا سال اول اعلئ میں ہوتا ہیں۔لیکن میں نے کلاس ون کے گورنمنٹ سکول کے بچوں اور پرائویٹ سکول کے
بچوں کا موزانہ کیا تو مجھے پرائویٹ سکول کے بچوں کی بنیاد مضبوط لگا وہ تعلیمی مہارتوں میں گورنمنٹ سکول بہت اگے تھے۔ان میں اعتماد زیادہ تھا۔اور یہ ایک بہت ہی گہری حقیقت ہے جسے عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جسے میں شروع میں صرف اس کو "وقت کا ضیاع" یا "فیس بٹورنے کا طریقہ" سمجھتا تھا، دراصل وہی بچے کی تعلیمی بنیاد (Foundation) ہوتی ہے۔میں اپ کو اس فرق کو چند اہم نکات سے سمجھا سکتاہوں
* **ذہنی پختگی (Cognitive Readiness):** پانچ یا چھ سال کا بچہ براہِ راست 'اول کلاس' کا بھاری سلیبس اٹھانے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتا۔ پلے گروپ اور نرسری اسے آہستہ آہستہ سکول کے ماحول، بیٹھنے کے آداب اور پنسل پکڑنے کے طریقے سے روشناس کرواتے ہیں۔
* **بنیادی تصورات (Basic Concepts):** نجی سکولوں میں تین سال (پلے گروپ، نرسری، کے جی) کے دوران بچہ حروفِ تہجی، آوازوں کی پہچان اور گنتی کے بنیادی تصورات اتنی بار دہرا چکا ہوتا ہے کہ پہلی جماعت تک پہنچتے پہنچتے وہ روانی سے پڑھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
پٹھوں کی نشوونما (Fine Motor Skills): ایک چھوٹا بچہ جب پلے گروپ میں رنگ بھرتا ہے یا کلے (Clay) سے کھیلتا ہے، تو دراصل وہ اپنے ہاتھ کے پٹھوں کو پنسل پکڑنے اور لکھنے کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں براہِ راست لکھائی شروع کروانے سے بچے کی ہینڈ رائٹنگ اور گرفت کمزور رہ جاتی ہے۔
خوف کا خاتمہ: تین سالہ عمل بچے کے دل سے اسکول کا خوف نکال کر اسے سیکھنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اچانک بڑی کلاس میں آنے والا بچہ اکثر دباؤ کا شکار ہو کر تعلیم سے بدظن ہو جاتا ہے۔
بنیادی لسانی مہارت: نجی اسکولوں کے بچے پہلی جماعت تک پہنچنے سے پہلے الفاظ جوڑنا اور جملے بنانا سیکھ چکے ہوتے ہیں، جبکہ سرکاری اسکول کا بچہ ابھی حروفِ تہجی سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ "خلا" ہے جو آگے چل کر کبھی پر نہیں ہوتا۔
* **سرکاری سکولوں کا چیلنج:** سرکاری سکولوں میں جب بچہ براہِ راست کچی یا پہلی جماعت میں آتا ہے، تو اسے ایک ہی سال میں وہ سب کچھ سیکھنا پڑتا ہے جو نجی سکول کا بچہ تین سال میں سیکھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے پر بوجھ بڑھ جاتا ہے اور اس کی بنیاد کچی رہ جاتی ہے۔
* **اعتماد کی کمی:** جب ایک بچہ بغیر تیاری کے بڑی کلاس میں جاتا ہے اور اسے سبق سمجھ نہیں آتا، تو اس میں احساسِ کمتری پیدا ہونے لگتا ہے، جو آگے چل کر اس کی پوری تعلیمی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔
تعلیم میں **"جلدی"** سے زیادہ **"مضبوط بنیاد"** کی اہمیت ہوتی ہے۔ آپ کا یہ مشاہدہ ثابت کرتا ہے کہ ابتدائی برسوں کی تعلیم (Early Childhood Education) پر سرمایہ کاری اور وقت دینا دراصل بچے کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔حکومت کے لیے مخلصانہ مشورے
سرکاری اسکولوں کے اس بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن (ECE) کا قیام: حکومت کو چاہیے کہ ہر سرکاری اسکول میں "کچی" کلاس سے پہلے کم از کم دو سالہ (نرسری اور پری نرسری) پروگرام متعارف کروائے۔ اس کے لیے الگ سے رنگین اور پرکشش کمرے مختص کیے جائیں۔
ماہرِ نفسیات اور تربیت یافتہ خواتین اساتذہ: چھوٹے بچوں کو مرد اساتذہ کے بجائے ایسی تربیت یافتہ خواتین اساتذہ کے سپرد کیا جائے جو بچوں کی نفسیات سمجھتی ہوں اور انہیں ماں جیسی شفقت دے سکیں۔
کھیل کے ذریعے سیکھنا (Activity Based Learning): ابتدائی کلاسوں میں کتابوں کا بوجھ ختم کر کے "کھیل کود اور سرگرمیوں" کے ذریعے سیکھنے کا نصاب بنایا جائے۔ جب تک بچہ ذہنی طور پر تیار نہ ہو، اسے روایتی امتحان کے شکنجے میں نہ کسا جائے۔
غذائی پروگرام کا آغاز: پسماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے اسکول میں صحت بخش ناشتے یا دودھ کا انتظام کیا جائے، کیونکہ جسمانی طور پر کمزور بچہ ذہنی مشقت نہیں کر سکتا۔
والدین کی آگاہی مہم: حکومت کو میڈیا کے ذریعے والدین کو یہ سمجھانا چاہیے کہ بچے کو کم عمری میں بڑی کلاس میں بٹھانا اس پر احسان نہیں بلکہ اس کی تعلیمی بنیادیں کھوکھلی کرنا ہے۔اس کے علاوہ والدین گھروں میں یہ دو سال اپنے بچوں سے خود محنت کر سکتے ہیں۔ مدرسے کے علماء سے ناظرہ قران پڑھانے کے وقت بھی مدد لے سکتے ہیں