Kamal Academy

Science experiments

Operating as usual

30/11/2023

ACID and BASE concept

17/11/2023

Relarionship between Area and Pressure by ibrahim kamal

02/11/2023

Highlight....

31/10/2023

Making salt at home by ibrahim kamal

08/10/2023

Centripetal force by ibrahim kamal

03/10/2023

Centripetal amd centrifugal force by ibrahim kamal

30/09/2023

Laser radiation by ibrahim kamal

23/09/2023

Relationship between Area and Pressure by ibrahim kamal

22/09/2023

Center of Mass by ibrahim kamal

19/09/2023

center of Mass and center of Gravity by ibrahim kamal

14/09/2023

How set pressure in tyres 🛞 by ibrahim kamal

13/09/2023

If we put some water into the glass why we observe water come outside of the glass by ibrahim kamal

12/09/2023

Why elfy doesn’t stick to its bottle by ibrahim kamal

08/09/2023

EGG+HCL experiment by ibrahim kamal

08/09/2023

Relationship between Area and Mass by ibrahim kamal

06/09/2023

Newton’s first law of motion explain with experiment
By ibrahim kamal

05/09/2023

How make Hydrogen gas at home 🏡 by ibrahim kamal

04/09/2023

Is hydrocarbons highly flammable? By ibrahim kamal

03/09/2023

Power of molecules by ibrahim kamal

02/09/2023

Boyles law with experiment by ibrahim kamal

02/08/2023

چند اسباق جو گزشتہ سالوں اور زندگی سے میں نے حاصل کیے ۔

۔آپ سے بڑا کوئی وی آئی پی نہیں۔ کسی کو ضرورت سے زیادہ اہمیت نہ دیں۔ اکثر لوگ اس کو for granted لے لیتے ہیں۔

۔عزت نفس پر کبھی سودے بازی نہ کریں۔

۔وطن عزیز میں اصولی سیاست کی توقع چھوڑ دیں۔

۔طاقت ، اختیار اور پیسہ ضرور حاصل کریں پر اتنی بڑی قیمت پر نہیں کہ آپ اپنی شخصت اور اصولوں کو کمپرومائز کر دیں۔

۔اگر آپ کی عمر ، قابلیت اور حالات اجازت دیتے ہیں تو جلد از جلد جہاں سینگ سمائے اس ملک کو بھاگ لیں۔

۔زندگی مختصر ہے اس کو انتہائی منظم طریقے سے گزاریں۔ اسے جھگڑوں ، ضد اور انا کی بھینٹ مت چڑھائیں۔

۔قسمت کا انتظار بے وقوفی ہے،اپنا اور زندگی کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں۔

۔دوستوں، عزیزوں سے کوئی توقع نہ رکھیں۔ یہ بس آپ کی خوشی میں خوش ہیں۔ رونے میں ساتھ نہیں دیں گے۔

۔کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ اپنی توانائی دوسروں کے پیچھے بھاگنے پر صرف نہ کریں۔ پیراشوٹ سے اترے لوگ کبھی عزت نہیں کما سکتے۔

۔لوگوں کے کاروباری،گھریلو یا سماجی معاملات میں بن بلائے دخل نہ دیں چاہے وہ آپ کا سگا خونی رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔

۔غیر ضروری معاملات، غیر ضروری لوگوں اور غیر ضروری تنقید کو اگنور کرنے کی عادت ڈالیں۔ سنی سنائی باتوں پر طیش میں آنا جہالت ہے۔

۔جو شخص کسی بھی سبب آپ کے لیے ذہنی کوفت کا باعث بنے اسے اپنی زندگی سے کٹ آف کریں۔چاہے وہ رشتہ دار ہو یا اجنبی۔

۔محفل، اجتماع ، جرگے یا بیٹھک میں بولنے سے قبل ہر بات کو تول لیں اور اچھی طرح سوچ لیں کہ ان باتوں کے کیا ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔

۔بیوی بچوں کے ساتھ عدل سے پیش آئیں۔ عدل کا تقاضہ ہے کہ جہاں سختی کی ضرورت ہو وہاں سختی اور جہاں نرمی برتنا ہو وہاں نرمی۔

۔زندگی کا کوئی بھی بڑا اور اہم فیصلہ لینے سے پہلے اگلے دس سالوں کو ذہن میں رکھیں کہ اس فیصلے کے اچھے یا برے اثرات آنے والے دس سالوں میں کیا ہو سکتے ہیں۔

24/07/2023

یونیورسٹی کا ماحول ٹھیک کرنے کے لیے ان چیزوں کو مد نظر رکھیں

١ ۔پیپرز باہر سے بن کر آے اور باہر ہی چیک ہوں۔
٢۔ لڑکے لڑکی کی لائبریری کے سوا اکٹھے بیٹھنے پر پابندی ہو۔
٣۔یونیورسٹی میں تمام ہوسٹل مغرب سے پہلی بند کر دیے جاۓ ۔
٤۔ لڑکے اور لڑکیوں کی کلاس الگ کر دی جاۓ ۔
٥۔ یونیورسٹی میں کوٸ بھی میوزیکل شو نہیں ہونا چاٸیے ۔۔
٦۔ تمام سٹوڈنٹ کو یونیفورم پہنے پر پابند کیا جاۓ ۔
٧۔ یونیورسٹی میں لڑکیوں کے لیے سکارف لازم کیا جاۓ ۔۔
٨۔یونیورسٹی ٹرانسپورٹ لڑکے اور لڑکیوں کےلیے الگ کیا جاۓ ۔۔
٩۔یونیورسٹی میں جو لڑکےاور لڑکیاں ہوسٹل میں ہیں ان کی انٹری ایگسٹ کا ریکارڈ رکھا جاۓ ۔۔۔ تھم سیسٹم انسٹال کیا جاۓ ۔۔۔ اور وہ ڈیٹا ان سب سٹوڈنٹ کے گھر والوں سے شٸیر کیا جاۓ ۔۔۔
١٠۔باہر سے انے والے اوٹ ساٸیڈرز کو مغرب کے بعد اندر جانے کی بلکل اجازت نہ دی جاۓ ۔
١١۔ ہفتے میں ایک بار تمام ہوسٹلز کی بھرپور طریقے سے تلاشی لی جاۓ ۔۔۔
١٢۔ کم سے کم 3 مہینے میں ایک بار سٹوڈنٹ کے پیرنٹس کی میٹنگ بلاٸ جاۓ ۔۔۔
١٣۔ کلاس میں سٹوڈنٹ کی حاضری الیکڑک ہونی چاٸیے ۔۔۔
١٤۔ یونیورسٹی کے تمام کیمرے انلاٸن کر دینے جاۓ اور ہر سٹوڈنٹ کی فیملی سے ایک ممبر کو ان کیمرے کی رینج دی جاۓ ۔۔۔ تاکہ وہ گھر بیٹھ کر یونیورسٹی کا ماحول دیکھ سکے ۔
١٥۔ ہر سٹوڈنٹ کو ان کی یونیورسٹی انٹری کے لیے شپیشل پاس دیا جاۓ مطلب ٹچ اینڈ گو کی طرح۔۔

آپ دوست بھی کچھ مشورہ دیں ۔۔یونیورسٹیز کو کیا اقدام لینے چاٸیے ۔۔۔۔۔👍

Photos from Kamal Academy's post 20/07/2023

سوال..دن رات چیخنے اور چلانے والا میڈیا اور اینکرز خاموش کیوں ..؟؟؟
کسی بھی نیوز چینل پر اب تک یہ خبر نہیں چلائی گئی وجہ کیا ہے ..؟؟؟؟
جواب۔۔۔۔۔کیونکہ مقابلہ
ملاں اور مسٹر
مدرسہ اور یونیورسٹی
داڑھی اور کلین شیو
پگڑی اور ٹائی
قمیص و پاجامہ اور پینٹ شرٹ
والوں کے درمیان ہوا ہے
کسی کو بتانا نہیں
نامی گرامی یونیورسٹیوں والے ہار گئے تمام نیوز چینل والوں نے یوم سوگ کا اعلان کیا ہے 🤣
ملاں کو قومی دھارے میں لانے والو حسد نہ کرو بلکہ محنت کے دھارے میں آ جاؤ

04/07/2023

*آج ایک عورت کی برسی ہے ،،*

*اس عورت کی جس کی خاطر شیخ مجیب ڈھاکہ میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگایا کرتا تھا ،،*

*اس عورت کی برسی ہے جسکو جنرل ایوب نے اپنی فوجی آمریت کو مضبوط کرنے کیلیے غدار اور سیکورٹی رسک قرار دیا تھا ،،*

*اس عورت کی برسی ہے جس کے متعلق پاکستان کے پہلے سول آمر مسٹر بھٹو نےکہا تھا یہ شادی کیوں نہی کرتی*

*اس جملے کو سن کر ایک برطانوی صحافی رو پڑا تھا کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس عورت پر الزام لگاتی ہے جسے یہ مادر ملت یعنی قوم کی ماں کہتی ہے ،،،*

*جنرل ایوب نے جب اسکو دھاندلی سے ہرایا تو اس وقت متحدہ پاکستان بھی ہارگیا ،،،*

*فاطمہ جناح ملت کے پاسبان کی بہن تھی ،،،*

*وہ ایوب سےجیت جاتی توپاکستان واقعی آج ایشین ٹائیگر ہوتا ،،،*

*اس کی ہار کی سزا آج تک پاکستان بھگت رہا ہے.*

*پوری قوم سے درخواست ہے کہ وہ قوم کی محسن' محمد علی جناح کو قائداعظم بنانے والی' مادر ملت محترمہ فا طمہ جناح کے ایصال ثواب کے لئے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھ کر دعا کریں.*
Follow👉 Usman Writes

30/06/2023

‏عیدالاضحی ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ 4 ﮐﮭﺮﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﮐﺎ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻫﻮتا ہے, ﺗﻘﺮﯾﺒﺄ 23 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻗصائی ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻤﺎتے ہیں۔
3 ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﭼﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ والے ﮐﻤﺎتے ہیں۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﻫﻮتا ہے۔
‎ #ﻧﺘﯿجہ : ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ملتی ہے ﮐﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﺎﺭﻩ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻫﻮتا ہے.
ﺩیہاﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﯾﺸﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻗﯿﻤﺖ ملتی ہے۔
اربوں روپے ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻻﻧﮯ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍلے کماتے ہیں۔
ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ لیے مہنگا ﮔﻮﺷﺖ ﻣﻔﺖ ﻣﯿﮟ ملتا ہے ,
ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺳﻮ ﺍﺭﺏ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻫﻮتی ﻫﯿﮟ ,
ﭼﻤﮍﮮ ﮐﯽ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﺎﻡ ملتا ہے,
یہ ﺳﺐ ﭘﯿسہ ﺟﺲ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﻫﮯ ﻭﻩ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺧﺮﭺ ﮐﺮتے ہیں ﺗﻮ نا ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺘﻨﮯ ﮐﮭﺮﺏ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ ﻫﻮتا ہے ...
یہ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﮔﻮﺷﺖ نہیں ﮐﮭﻼﺗﯽ , بلکہ ﺁﺋﻨﺪﻩ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ ,
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮئی ﻣﻠﮏ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﺍﻣﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭨﯿﮑﺲ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ پیسہ غریبوﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﭩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺎﺋﺪﻩ نہیں ہوتا ﺟﺘﻨﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻢ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﻓﺎﺋﺪﻩ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ ,
ﺍﮐﻨﺎﻣﮑﺲ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﮐﻮﻟﯿﺸﻦ ﺁﻑ ﻭﯾﻠﺘﮫ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﭼﮑﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﺗﺎ ﻫﮯ کہ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻋﻘﻞ ﺩﻧﮓ ﺭﻩ ﺟﺎﺗﯽ ﻫﮯ ...
‎ ـ
__فَبِـاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ__

09/05/2023

میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں گاؤں گاؤں ، گلی گلی نہیں گھوم سکتا تاکہ اپنی قوم کو یہ بتا سکوں کہ اسلام کے نام پر آپ کے ساتھ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے یہ بربادی کے سوا کچھ نہیں۔
~باچا خان

09/05/2023

ﺳﻮﺭﺝ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺮﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ 5 ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ 600 ﻣﯿﻞ ﻓﯽ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺑﮭﺎﮔﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺭە ﺟﺎﮰ ﯾﺎ ﻏﻠﻄﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﮨﻮﺟﺎﮰ۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍە ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮈﯾﺰﺍﯾﻦ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺫﯾﺰﺍﺋﻨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻨﭩﺮﻭﻟﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ؟

ﭼﺎﻧﺪ ﺗﯿﻦ ﻻﮐﮫ ﺳﺘﺮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﮯﺍﺭﺑﻮﮞ کھرﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﮯ لئے ﮨﻮﺍ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ، ﭘﺎﻧﯽ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻔﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺳﺎﺣﻠﯽ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻏﻼﻇﺘﯿﮟ ﺑﮩﮧ ﮐﺮ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔
ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ۔ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺯﯾﺎﺩە ﻧﮧ ﮐﻢ ﻧﻤﮑﯿﻦ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﺁﺑﯽ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻻﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﺑُﻮ ﻧﮧ ﭘﮭﯿﻠﮯ۔ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻧﮩﺮﯾﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺳﻄﺢ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮ ﮰ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﻏﯿﺐ ﭘﺮﺩە ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﺭﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﺎﺭﺍ۔

ﺍﺱ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻘﻞ ﮨﮯ ؟ ﺍﺱ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ؟

ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ عظیم ہستی ﺍُﭨﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ میںﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ :
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔ " ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ‏
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ:5 ‏)

ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
" ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ "
ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ‏( Barrier ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ‏( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ:20 ‏)

ﺟﺐ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ "
ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‏(ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ:40)

ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ:
" ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ‏(ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ:38)

ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ‏(ﭼﮭﺖ) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ:
" ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ‏
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ:47 ‏)

ﻭە ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ " ﻗﻮﺍﻧﯿﻦ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭨﻞ ﮨﯿﮟ " ﭘﺮ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ اس ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ
" ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦتفوت" ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ؟
( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ:3 ‏)

ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻗﺎﺑﻞِ ﻓﺨﺮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺮﺩە ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺲ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﮐﺲ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؟

ﻧﻮﻣﻮﻟﻮﺩ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺒﺬﻭﻝ ﮐﺮﺍﮰ؟ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﻥ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺧﻄﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﯿﻨﮧ ﺳﭙﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﮰ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺳﯽ ﭼﮍﯾﺎ ﺷﺎﮨﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﺗﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ؟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺣﯿﻮﺍﻧﺎﺕ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﮑﮭﺎﮰﻣﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﮯ لئے ﻟﭙﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﻮﻥ ﺳﮑﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﻣﺤﺒﺖ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﻧﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﻻ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﻧﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﯿﮟ ؟
ﯾﮧ ﺁﺩﺍﺏِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ سیکھے؟

ﺷﮩﺪ ﮐﯽ ﻣﮑﮭﯿﺎﮞ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺑﺎﻏﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﮯ ﺭﺱ ﭼﻮﺱ ﭼﻮﺱ ﮐﺮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﯾﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﻻ ﮐﺮ ﭼﮭﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﭘﮭﻮﻝ ﺯﮨﺮﯾﻠﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎتیں۔ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺷﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻡ ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺘﯽ ہیں۔ ﺟﺐ ﮔﺮﻣﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﮩﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﮕﻞ ﮐﺮ ﺑﮩﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کے لئے ﺍپنے ﭘﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﮑﮭﺎ ﭼﻼ ﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﻣﻮﻡ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍے ﺁﺭﮐﯿﭩﯿﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺯﺩە ﮨﯿﮟ۔ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻨﻈﻢ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺜﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﺍﮈﺍﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﻧﺴﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭە ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کا ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﯿﮟ۔ ﺍﻧﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ ؟
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟

ﻣﮑﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﻟﻌﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺪﯾﺪ ﭨﯿﮑﺴﭩﺎﺋﻞ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﻔﯿﺲ ﺩﮬﺎﮔﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﯿﮟ۔

ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﭼﯿﻮنٹیاں ‏( Ant ‏) ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ موسم سردا ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﯽ ہیں، ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺗﯽ ہیں، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ تنظیم ﺳﮯ ﺭﮨﺘﯽ ہیں ﺟﮩﺎﮞ مینیجمینٹ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻝ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮐﺎﺭﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ۔

ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﭽﮭﻠﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﻭﻃﻦ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﻧﮩﯿﮟ، ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮑﭩﯿﺮﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﯿﮟ؟
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﮰ؟
سوشل مینیجمینٹ ﮐﮯ ﯾﮧ اصوﻝ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﺲ ﻧﮯ سکھائے؟

ﮐﯿﺎ ﺯﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ؟
ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ، ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺤﻮﺭ ﭘﺮ -67 1/2 ﮈﮔﺮﯼ ﺟﮭﮏ ﮔﺌﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺎﺭ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﻣﯽ، ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﺰﺍﮞ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮎ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ، ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻝ ﻣﻠﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ۔

ﺯﻣﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺷﻤﺎﻟًﺎ ﺟﻨﻮﺑًﺎ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﮨﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ؟
ﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﻠﯿﺎﮞ ﮐﮍﮐﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽﻧﺎﺋﭩﺮﻭﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﺎﺋﭩﺮﺱ ﺁﮐﺴﺎﺋﮉ ‏( Nitrous Oxide ‏) ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﻮﺩﻭﮞ کے لئے ﻗﺪﺭﺗﯽ ﮐﮭﺎﺩ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ، ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯ ﺁﺑﺪﻭﺯ ‏( Submarine ‏) ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍﻭٴﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻃﯿﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭘﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﺷﻌﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻘﻨﺎﻃﯿﺴﯿﺖ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﮯ

ﺯﻣﯿﻦ ،ﺳﻮﺭﺝ، ﮨﻮﺍﻭٴﮞ، پہاﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﺎ ﮐﺮ رکھا ہے تاﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺁﺑﯽ ﺑﺨﺎﺭﺍﺕ ﺍﭨﮭﯿﮟ، ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﭨﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺵ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﻻﺋﯿﮟ، ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﯾﮉﯾﺎﺋﯽ ﺫﺭﮮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺑﺮﺳﮯ۔

ﺟﺐ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﮐﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺫﺧﯿﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮجاتا ہے۔ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺯﯾﺎە ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨوتی ہے ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮕﮭﻞ ﮐﺮ ﻧﺪﯼ ﻧﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎﻭٴﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﮰ ﻭﺍﭘﺲ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ جاتا ہے۔

ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻣﺘﻮﺍﺯﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔

ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ۔ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﻮﭺ ﺗﮭﯽ؟

ﮨﻤﺎﺭﮮ Pancreas ‏( ﻟﺒﻠﺒﮯ ‏) ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﮯ ، ﺩﻝ ﮐﺎ ﭘﻤﭗ ﮨﺮ ﻣﻨﭧ ﺳﺘﺮ ﺍﺳﯽ ﺩﻓﻌﮧ منظم باقاعدہ حرکت سے ﺧﻮﻥ ﭘﻤﭗ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ 75ﺳﺎﻟﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﻣﺮﻣﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒًﺎ ﺗﯿﻦ ﺍﺭﺏ ﺑﺎﺭ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩﮮ ‏( Kidneys ‏) ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﮯﻣﺜﻞ ﺍﻭﺭ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ہیں ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ کے لئے ﺟﻮ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯﻭە ﺭﮐﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ اور ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ۔

ﻣﻌﺪە ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﻤﭙﻠﯿﮑﺲ ‏( Chemical Complex ‏) ﮨﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍ ﻣﺜﻠًﺎ ﭘﺮﻭﭨﯿﻦ ،ﮐﺎﺭﺑﻮﮨﺎﺋﯿﮉﺭیٹس ﻭﻏﯿﺮە ﮐﻮ ﻋﻠﯿﺤﺪە ﮐﺮﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺕ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮﻧﮓ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ، ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﮯ ﻣﺜﻞ ﻧﻤﻮﻧﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﻓﯿﮑﭩﺮﯾﺎﮞ ، ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﻦ ﮔﮱ ﺗﮭﮯ؟

ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﯾﺎ؟ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪ ، ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻋﻘﻞ ﮐﺎ ﺧﺰﺍﻧﮧ، ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺳﭩﻮﺭ، ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ سینٹر، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ، ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ، ﻻﮐﮫ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺮ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ کے ﻋﺸﺮ ﻋﺸﯿﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔

ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮭﺮﺑﻮﮞ ﺧﻠﯿﺎﺕ ‏( Cell ‏) ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ۔ ﺍﺗﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﮧ ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺷﻌﻮﺭ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻣﮑﻤﻞ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﮯ ۔ ﺍﻥ ﺟﯿﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ پروگرامنگ لکھی ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ چلتی ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ، ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺩﺍﻧﺶ ، ﻏﺮﺽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺍﻥ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ پروگرامنگ ہے؟

ﺣﯿﻮﻧﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻧﺒﺎﺗﺎﺕ ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﺞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻧﻘﺸﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﮯ؟

ﺧﻮﺭﺩﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﯿﻞ ‏( Cell ‏) ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺗﻮﺍﻧﺎ ﻋﻘﻞ ﻭ ﮨﻮﺵ ﻭﺍﻻ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﻭﭦ ﮨﮯ ؟
ﮨﻮﻧﭧ، ﺯﺑﺎﻥ، ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻟﻮ ﮐﮯ ﺍﺟﺰﺍ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ؟

ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﮐﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺍﻥ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻻﮐﮭﻮﮞ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟

لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ

Photos from Kamal Academy's post 08/05/2023

پاکستانی مذہب بیزار جو مذہبی شناخت پر شدید احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں، انکے لیے خودکشی کا ایک اور مقام کہ برطانیہ کا نیا بادشاہ انجیل پر ہاتھ رکھ کر بادشاہت کا حلف اٹھا رہا ہے۰۰اور حلف لینے والے عیسائی پادری ہیں۰یہ تقریب مکمل مذہبی تقریب ہے۰

بادشاہِ برطانیہ کی تاجپوشی کی تقریب میں “یروشلم“ نام کا نغمہ بھی بجایا گیا جس میں یروشلم کو برطانیہ بنانے تک تلواریں نیام میں نہ رکھنے کا عہد ہے۰ بادشاہ کو یروشلم کے پادریوں کی طرف سے بھیجا گیا مقدس تیل لگایا گیا. اعلان کیا گیا کہ انجیل بادشاہت کا قانون ہو گی۰

بادشاہ نے جس کرسی پر بیٹھ کر تاج پہنا اس کے نیچے مقدس پتھر نصب ہے۰ روایت کے مطابق اِسی پتھر پر بٹھا کر حضرت داؤد علیہ السلام کی تاج پوشی کی گئی تھی۔ یہ تقریب برطانوی بادشاہت، سیاست اور مذہب کے تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک مکمل باب ہے جس میں مرکزی حیثیت انجیل، صلیب اور پادری کی ہے۔

03/05/2023

سب سے زیادہ ضرورت تو آپ کی قوم کو ہے

ازبکستان کے ایک دور دراز دیہات میں پاکستانی تبلیغی جماعت پہنچی تو ان کے رہنے کا انتظام مسجد میں تھا،
نماز کا وقت ہوا، تبلیغی جماعت کے کچھ ارکان وضو کر کے واپس آئے تو مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اپنے اپنے جوتے اٹھا کر اندر داخل ہوئے اور جوتوں کو مسجد کے ایک کونے میں رکھ دیا۔
ایک مقامی بوڑھا حیرانگی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا،
نماز ختم ہوئی تو اس بوڑھے نے جماعت کے امیر سے پوچھا کہ : وضو کے بعد ان لوگوں نے اپنے جوتے اندر کیوں رکھے،
امیر جماعت نے جواب دیا : حفاظت کیلئے، تاکہ کوئی باہر سے اٹھا کر نہ لے جائے۔
بوڑھے نے پوچھا : کیا آپ کے ملک میں مسجد کے باہر سے جوتے چوری ہو جاتے ہیں؟
امیر جماعت نے کہا : جی ہاں، بدقسمتی سے،
تو بوڑھے نے کہا کہ : پھر آپ یہاں اتنی دور ہمارے ملک میں کیا تبلیغ کرنے آئے ہیں، تبلیغ کی سب سے زیادہ ضرورت تو آپ کی قوم کو ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو مسجد کے اندر یا باہر سے کوئی چیز چوری نہیں ہوتی۔...

01/05/2023

ایک فتویٰ جس نے مسلم تہذیب کو جہالت کے کفن میں لپیٹ کر رکھ دیا....

پرنٹنگ مشین جرمنی کے ایک سنار گوتنبرگ نے 1455 میں ایجاد کی. اسوقت مسلم تہذیب تاریخی عروج پر تھی. عثمانی خلافت کی عظیم سلطنت ایشیا میں شام عراق ایران آرمینیا آذربائیجان اردن سعودی عرب یمن مصر تیونس لیبیا مراکو تک اور یورپ میں یونان روم بوسنیا بلغاریہ رومانیہ اسٹونیا ہنگری پولینڈ آسٹریا کریمیا تک پھیلی ہوئی تھی.

مذہبی علما نے فتوی دیدیا کہ پرنٹنگ مشین بدعت ہے اس پر قران اور اسلامی کتابوں کا چھاپنا حرام ہے. عثمانی خلیفہ سلطان سلیم اول نے پرنٹنگ مشین کے استعمال پر موت کی سزا کا فرمان جاری کر دیا. مسلم ممالک پر یہ پابندی 362 سال برقرار رہی. ہاتھ سے لکھے نسخے چھاپہ خانے کا مقابلہ کیسے کرتے..!؟
کتابوں رسالوں کی فراوانی نے مغرب کو جدید علوم کا سمندر اور مسلم تہذیب کو بنجر سوچ کے جوہڑ میں تبدیل کر دیا. جاگے تو فکری بینائی کھو چکی تھی.

آخر 1817 میں فتوی اٹھا لیا گیا. لیکن ان پونے چار سو سال کی پابندی نے مسلم تہذیب کو عقیدوں کا ذہنی غلام بنا دیا. از خود سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا. یہ فاصلہ آج تک نہ صرف برقرار ہے بلکہ مزید بڑھتا جا رہا ہے. مقام حیرت ہے کہ مسلمانوں کو اس تہذیبی زیاں پر ملال بھی نہیں، نہ ہی یہ تاریخ نصاب میں پڑھائی جاتی ہے کہ نئی نسل سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھ سکے.

یہ ہماری تاریخ میں کیا جانے والا ایک ظلم تھا، اور اس بارے میں موجودہ نسل کو ذرا بھی معلومات نہیں ہونگی...
یہ کوئی ایک فتویٰ نہیں تھا سائنس کی ہر ایجادات پر اسی طرح فتویٰ جاری کیے گئے ہیں اور بعد میں اسی سے فائدہ اٹھانے والوں میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں...
مسلمانوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ جدیدیت Modernization کے اصولوں کو چھوڑ کر روایت پسندی Traditionalism جیسی لعنت کو گلے سے لگا لیا اور نہ روکنے والے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے ہم نے آسانیاں تقسیم کرنے کے بجائے مشکلات سے لڑنے کا فن سیکھ لیا ہے
Copied: ijaz bashir

30/04/2023

لہو لہان میں پھر سے یہ آستین کروں
تُو چاہتا ہے دوبارہ تِرا یقین کروں۔۔؟

29/04/2023

آج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچوں بول
تے آج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی
توں لکھ لکھ مارے وین
آج لکھاں دھیاں روندیاں
تے وارث شاہ نوں کہن

29/04/2023

تنخواہ لینے والے یا ملازمت کرنے والے مرد کا انتخاب کرتے وقت، آپ کو یہ قبول کرنا ہوگا کہ مخصوص آمدن میں مہینے کا آخر مشکل ہوگا.

اگر آپ نے ایک کاروباری شخص کا انتخاب کیا ہے جو آپ کی معاشی دیکھ بھال کر سکتا ہے اور آپ کے گھر کا مکمل انتظام چلا سکتا ہے تو آپ کو یہ قبول کرنا ہوگا کہ وہ وقت نہیں دے سکے گا۔

اگر آپ ایک فرمانبردار اور شریف شوہر کا انتخاب کرتی ہیں، تو آپ کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ وہ آپ پر منحصر ہے اور آپ کو اس کی ضروریاتِ زندگی کو یقینی بنانا چاہیے۔ عورت کو گھر کا نظام چلانا ہوگا اور کما کر لانا ہوگا.

اگر عورت ایک پڑھے لکھے اور پیسے والے شخص سے شادی کرتی ہے تو اسے یہ قبول کرنا ہوگا کہ اسے اپنی رائے کو بہت دفع مارنا پڑے گا. اور اپنی مرضی کو بھی بہت دفعہ قبر میں اتارنا پڑے گا .

اگر آپ ایک لچھے دار اور رومانی باتیں کرنے والا مرد چاہتی ہیں تو یاد رکھیں اس کی یہ فطرت مستقبل میں بھی اس کے ساتھ رہے گی پھر چاہے وہ رومانی باتیں سننے کے لیے آپ کے کان ہوں یا کسی اور کے..

اگر آپ ایک خوبصورت مرد کا انتخاب کرتی ہیں، تو اس کے نخرے بہت ہوں گے لیکن اس کا دل بھی اتنا ہی خوبصورت ہو گا. کیونکہ ایسی شخصیات کو کمپلیکس یعنی احساس کمتری نہیں ہوتی.

اگر آپ ایک کامیاب مرد کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو آپ کو سمجھنا چاہیے کہ اس کے پاس کردار ہے اور اس کے اپنے مقاصد اور عزائم ہیں۔

اگر آپ ایک مالدار شخص کا انتخاب کرتی ہیں تو یاد رکھیے گا تو آپ کی زندگی اس کے مرون منت ہوگی.

مکمل کچھ بھی نہیں ملا کرتا!!

29/04/2023

‏تُو میرے درد کی تضحیک نہیں کر سکتا
چھوڑ دے زخم اگر ٹھیک نہیں کر سکتا🥀

دیکھ میں جبری محبت کا نہیں ھوں قائل
سو تجھے کھینچ کر نزدیک نہیں کر سکتا 🖤

29/04/2023

تُمہارے لوٹ کے آنے سے پہلے
مُجھے اِس ہجر نے کھا لیا تو ؟
تُمہارے پاس سب ھوتے ھوئے بھی
تُمہیں میری کمی نے آ لیا تو۔؟🥀

26/04/2023



‏بلیک ہولز۔۔۔ Black Holes
بلیک ہولز کے بارے میں قرآن نے ہمیں چودہ سو سال پہلے بتادیا ۔۔۔
"سورة طارق" اور "سورة واقعہ" میں بلیک ہولز کے بارے میں نشاندہی کی گئی اور لفظ "طارق" کو آج کی سائنسی زبان میں بلیک ہولز کہا جاتا ہے۔آج کی سائنس نے ابھی تک دو بلیک ہولز دریافت کیئے ہیں جن کا نام S50014+18 اور 500-XTEJ1650 رکھا گیا۔جبکہ قرآن نے "سورة مومنین" میں بتایا ہے کہ ان کی کل تعداد سات ہے۔ اور قرآن نے بلیک ہولز کو ستاروں کے ڈوبنے کی جگہ بھی قرار دیا ہے جسکی تحقیق تک ابھی سائنس نہیں پہنچ پائی۔"قرآن" یہ بھی بتا چکا ہے کہ اس کائنات جیسی مزید کائناتیں بھی موجود ہیں۔ جنہیں "سورة نوح" میں سات متوازن آسمانوں کا نام دیا گیا۔ اور آج سائنس نے اسے مانا کہ اس جیسی اور بہت سی کائناتیں موجود ہیں جو اس کائنات کے بلکل متوازن ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں اسے parallel universes کا نام دیا گیا۔ اور "قرآن" سے ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بلیک ہولز ایک دنیا سے دوسری دنیا تک جانے کا راستہ ہیں۔ مگر اسے تیز ترین بجلی کی سپیڈ کے بغیر کراس نہیں کیا جا سکتا اور بجلی کی اسپیڈ سے کوئی سواری بنانا ابھی تک انسان کیلئے ایک ناممکن کام ہے۔ بلیک ہولز کو صرف ایک سواری نے ہی کراس کیا ہے وہ ہے "براق" یعنی برق سے بنا ہوا۔۔ جس کا مطلب ہے (بجلی جیسا تیزرفتار) ۔۔۔ وہ سواری جس پر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے "شب معراج " میں سواری کی تھی۔
بشکریہ
نامعلوم

ِ_قرآن

Photos from Kamal Academy's post 25/04/2023

پاکستان بننے کے بعد پہلی ایف آئی آر کب داخل ہوئی ۔
18 اگست 1947 میں پاکستان کا پہلا بدترین اور نا انصافی پر مبنی سچا واقعہ

تپیدار اور شاعر محمد خان ہمدم کا تعلق سندھ کے ایک ٹاؤن ماتلی ضلع بدین سے تھا وہ ایک نیک، سچا مذہبی پنج وقت نمازی اور تہجد گزار انسان بھی تھا ، محکمہ ریوینیو کراچی میں تپیدار کی حیثیت سے تعینات تھا۔
17 اگست 1947 پاکستان آزاد ہو چکا تھا ، 18 اگست 1947 ، رمضان کے مہینے میں محمد علی جناح ، لیاقت علی خان اور ملک کی اعلیٰ قیادت کو کراچی میں نماز شکرانہ کی ادائیگی کرنی تھی ، سرکاری اعلیٰ افسران شاہی کی طرف سے ریوینیو والوں کو مرکزی عیدگاہ کی صاف صفائی کا حکم ملا تاکہ مناسب طریقے سے نماز شکرانہ کی انتظام کیا جا سکے ۔

محمد خان ہمدم کی سربراہی میں عیدگاہ کی صفائی کا کام کیا گیا ، اسی دوران محمد خان ہمدم کو یہ خیال آیا کہ وہ بھی پہلی صف میں محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے ساتھ نماز ادا کرے گا یہ اس کی دلی تمنا بن گئی ۔
جب نماز کا وقت قریب آیا تو ڈپٹی کمشنر اور مختار کار آخری جائزہ لینے کیلئے مرکزی عیدگاہ پہنچے سارے اسٹاف کو حکم ہوا کہ پہلی اور دوسری صفیں خالی ہونی چاہئیں ، پہلی صف میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان اور سردار عبد الرب نشتر نماز پڑھیں گے اور دوسری صف میں پاکستان کے بیوروکریٹس اور دیگر اعلیٰ افسران ہونگے ، باقی پچھلی صفوں میں خلق خدا نماز پڑھے گی ۔
یہ اعلان سنتے ہی محمد خان ہمدم نے سوچا کہ اسلام میں ایسا کچھ بھی نہیں کہ حکمران اور عوام کاندھے سے کاندھا ملا کر نماز نہ پڑھ سکیں یہ کون سا مسخرہ پن لگا رکھا ہے ، اس غریب کی بات بھی صحیح تھی کہ واقعی اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے اگر حکمران دیر سے آئے اور اگلی صف میں جگہ نہ ہو تو پیچھے بھی نماز پڑھ سکتا ہے ، اس میں کوئی حرج بھی نہیں اور نہ کسی کتاب میں لکھا ہوا ہے مگر یہاں تو قصہ ہی دوسرا ہے۔
بہر حال جیسے ہی نماز کا وقت ہونے والا تھا ، مختار کار نے پھر اگلی صفوں کا جائزہ لیا ، پہلی صف میں محمد خان ہمدم تنہا کھڑا تھا جبکہ دوسری صف بھی خالی تھی ، مختار کار نے محمد خان سے کہا یہاں سے نکلو اور پیچھے کسی بھی صف میں جا کر کھڑے ہو جاؤ ، یہاں جناح والی قیادت نماز پڑے گی ، اس نے کہا کہ اسلام میں یہ فرق نہیں ہے میں جناح کے ساتھ پہلی صف میں نماز پڑھوں گا ، کچھ ہی دیر میں اے سی صاحب آئے اور مختار کار کو حکم دیا کہ پہلی صف میں جو شخص کھڑا ہے اسے وہاں سے فورآ ہٹایا جائے ، مگر خان صاحب پر ایک ہی بھوت سوار تھا کہ دین اسلام ایسا کوئی اندھیر نہیں ہے ، میں سب سے پہلے پہنچا ہوں اس لئے پہلی صف میں قائد کے ساتھ نماز ادا کروں گا ، یہاں سے مجھے کوئی بھی نہیں ہٹا سکتا ، اسی دوران کمشنر صاحب بھی آ گئے انہیں بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا کہ یہ صاحب اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں کہ جناح صاحب کے ساتھ نماز پڑھوں گا۔

کمشنر نے سیکورٹی کے عملے کو حکم دیا کہ اس کا دماغ خراب ہے اسے مار کر ایسی جگہ پھینک آؤ کہ آج یہ یہاں دوبارہ نظر نہ آئے ، حکم کی تعمیل ہوئی سیکورٹی والے کتوں کی طرح اس پر چڑھ گئے اسے لہو لہان کر دیا پھر کتے پکڑنے والی گاڑی میں ڈال کر اسے منگھو پیر والے علاقے میں جہاں ویرانہ تھا پھینک آئے۔
ہمدم صاحب وہاں بے ہوش پڑے تھے کہ ایک چرواہے کی نظر اس پر پڑی اسے ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر ہوش میں لیکر آیا
مختصر حال احوال کے بعد محمد خان نے اسے کہا کہ مجھ پر ایک مہربانی کرو مجھے کسی طرح میرے گھر کراچی پہنچا دو اس چرواہے نے اسے کسی گاڑی میں ڈال کر اس کے گھر پہنچا دیا ۔
اس کی بیوی نے یہ خون والے کپڑے اور جسم پر تشدد دیکھ کر پوچھا کیا ہوا ؟ تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟
محمد خان ہمدم نے اپنی بیوی کو بتایا کہ مجھے پہلی صف میں قائد اعظم کے ساتھ پاکستان کی آزادی کی نماز شکرانہ پڑھنے کی سزا ملی ہے ، قصہ بہت بڑا ہے اب تو میرا حشر اور برا ہونے والا ہے ، باقی باتیں بعد میں کریں گے تم پہلی فرصت میں یہاں سے ماتلی چلی جاؤ ، ابھی جاسوس سونگھتے سونگھتے یہاں پہنچنے والے ہونگے مجھے نہیں چھوڑیں گے تم نکل جاؤ مجھ پر کئی کیس بنیں گے شاید میری پوری عمر جیل میں گزر جائے گی۔

اسی رات محمد خان ہمدم کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے جناح اور لیاقت علی خان پر قاتلانہ حملے کی پاکستان کی پہلی ایف آئی آر کاٹی گئی اور اس پر ملک دشمن اور جاسوسی کی دفعات بھی لگائی گئیں۔

یہ خبر میڈیا میں بھی آئی اور اسے سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ، چار سال تک کیس چلا اور اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

اس کے دوستوں نے سزا کے خلاف اپیل داخل کی مگر اسی دوران پاکستان کے اندر ملک کی سلامتی کے خلاف ایک مقدمہ دائر ہوا جس میں ملک کے نامور شاعر فیض احمد فیض کو گرفتار کر کے کراچی جیل میں لایا گیا ، محمد خان کو جب معلوم ہوا کہ فیض احمد فیض بھی جیل میں ہے تو کسی طریقے سے اس سے رابطہ کیا اور ملاقات کی اور اسے اپنا تعارف کروایا کہ میں بھی شاعر ہوں اور سارا قصہ بتایا ، فیض نے اسے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا ، فیض احمد فیض نے محمد خان ہمدم سے کہا یار مجھے سندھی نہیں آتی ، مجھے سندھی سکھاؤ ، محمد خان فیض کو سندھی پڑھاتا رہا اس دوران فیض نے محمد خان کو ایک قابل وکیل مقرر کر کے دیا جس نے محمد خان ہمدم کو سارے الزامات سے بری کر دیا گیا ، ساتھ میں نوکری بھی بحال ہوئی اور بقایاجات کی بھی ادائیگی بھی ہوئی ۔

اس نے فیض احمد فیض کا شکریہ ادا کیا اور جیل سے رہا ہوکر گھر پہنچتے ہی اپنی الماری سے قرآن پاک اور جائے نماز اٹھا کر کسی بچے کو دی کہ جا کر اسے مسجد میں رکھ کر آؤ ، پھر اس نے پہلی صف میں نماز پڑھنے کیلئے ہمیشہ کیلئے توبہ کر لی۔
اس تجربے کے بعد محمد خان ہمدم ایک بڑا کمیونسٹ بن گیا اور اپنی نوکری بہت ہی ایمانداری سے کرنے بعد ریٹائر ہوا۔

حوالہ ۔۔۔ کتاب "اهي ڏينهن اهي نينهن"
مصنف ۔۔۔۔ محمد موسیٰ جوکھیو کی سندھی کتاب سے اردو ترجمہ

#نثاریات

25/04/2023

آسٹریلوی شہری عید کی نماز سے آنے والے شور کی شکایت کرنے آیا۔ اس کا مسلمانوں نے پرتپاک استقبال کیا، اسلام کی دعوت دی اور وہ جاتے ہوئے مسلمان ہوکر گیا

Want your school to be the top-listed School/college in Kharian?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Videos (show all)

How earth revolve around the sun experiment #experiment #virals #newtrend
Relarionship between Area and Pressure by ibrahim kamal
Highlight....#Pakcambridgehighschoolsainthal
مہندی کا رنگ اب نہیں اترے گا 😃😃😃
Centripetal force by ibrahim kamal
Centripetal amd centrifugal force by ibrahim kamal
Laser radiation by ibrahim kamal
Laser radiation by ibrahim kamal
Relationship between Area and Pressure by ibrahim kamal
Relationship between Area and Pressure by ibrahim kamal
Center of Mass by ibrahim kamal

Location

Category

Telephone

Website

Address


Kharian
Other Education in Kharian (show all)
Ch Ch
Kharian

$

M***i Ali Raza Jamali M***i Ali Raza Jamali
Main Road
Kharian, ALICHAK

خانقاه عاليہ جمال آباد شریف کھاریاں علی چک

Hayat International School System Hayat International School System
Kharian, 50090

Hayat International School System is modern kind of school. We provide all facilities for students. W

usamarana796 usamarana796
Kharian

Rana Usama

Rahat Rasool Rahat Rasool
Kharian, 50090

Nature Beauty

Allied School Dhoria Official Allied School Dhoria Official
Dhoria
Kharian, 50090

-A caring environment with a strong academic foundation -An exclusive focus on the individual child

Muhammad Aqib Muhammad Aqib
Bhattian
Kharian

education

Read Foundation High School Kharian Read Foundation High School Kharian
Kharian

READ Foundation has been devoted to causing change by strengthening humanity through education in Pa

Bright Stars College For Girls Kharian Campus Bright Stars College For Girls Kharian Campus
Near Convoy Check Post, Murrala Morr, Jandanwala Kharian Cant
Kharian

A complete Institute for Females from Inter to Masters Level

F G Degree College for Women Kharian Cantt F G Degree College for Women Kharian Cantt
Kharian Cantt, District Gujrat, Punjab
Kharian, 50070

FG Degree College for Women Kharian Cantt is an institution that holds the name of excellence, supre