Safar-e-Maarfat

Official FaceBook Page of Mirza Qamar Uz Zaman Advocate. Senior Lawyer and Islamic Scholar.

Operating as usual

05/05/2023

Dua-e-Aafiat | Prayer for peace | دعا عافیت by Qamar Uz Zaman .

05/05/2023

الفاظ و مادہ کی حیران کن جداگانہ تاثیرات اور دعاؤں کی مستند ترین کتاب "حصنِ حصین" کا مختصر تعارف !!!

02/05/2023

*اسلام کے ساتھ ساتھ دیگر مذاھب کی تفہیم*
=====================
ہم سوشل میڈیا کے اس موثر الیکٹرانک پیج سے بغرض آگہی اور وسعت فہم و فراست اپنے دوستوں کے لیے دیگر مذاہب کی تفہیم اور جاننے کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں برصغیر میں واقع اپنے پڑوسی مذہب
*"سکھ مت"*
کو سب سے پہلے چنا گیا ہے۔
اس کے پس منظر میں مندرجہ ذیل اغراض و مقاصد بھی ہیں۔

*پہلا یہ کہ*

سکھ مذہب اور دینِ اسلام میں اسقدر اقدار مشترک ہیں۔ کہ سکھ مت پر ایسے گمان ہوتا ہے کہ یہ اسلام کی تعلیمات پر ہی مبنی مذہب ہے۔
مثلاً
عقائد میں عقیدہ توحید
اور عبادات میں
تسبیحات کرنا۔۔۔۔۔ نام جھپنا
اس طرح
عادات یا معاملات میں
محنت کرنا یعنی کرت کرنی
اور
معاشرت میں
خیرات کرنا یا ونڈ چکنا

*دوسرا یہ کہ*

جغرافیائی اور خطے کی صورتحال کے اعتبار سے سکھ قوم حالیہ برسوں میں زمانے کے معروضی حالات کے سبب برصغیر کے مسلمانوں اور پاکستان کے قریب آرہی ہے۔

*تیسرا*
برصغیر میں بسنے والی یہ دونوں اقوام کئی صدیوں سے ہندؤوں کی اکثریت کی چیرہ دستیوں اور مکارانہ چالوں کا شکار ہوتی چلی آ رہی ہیں۔

*چوتھا یہ کہ*
ان دونوں اقوام کا ایک دوسرے کے نظریات کو سمجھنا سکھوں، مسلمانوں کے لیے بالعموم اور پاکستانیوں کے لیے بالخصوص انتہائی ضروری بھی ہے۔

*پانچواں*
اگر مستقبل میں آگے چلتے ہوئے سکھوں میں تحریک آزادی مضبوط ہوتی ہے اور اسکے نتیجے میں خالصتان بن جاتا ہے تو یہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک ایسا بفر زون ہوگا جو انڈیا کے بہت بڑے طویل بارڈر کو جو پاکستان کے ساتھ متصل ہے اور ہر وقت گرم رہتا ہے ، وہ کم ہو جائے گا یعنی ہمارا ایک ایسا بدترین پڑوسی بدل جائے گا جو ہمارے وسائل کو ترقیاتی کاموں کی بجائے ستر سال سے جنگ و جدل میں لگوا رہا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں ہماری نفسیات میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرکے جرنیل مافیاز نے ستر سالوں سے پاکستان پر قبضہ بھی کیا ہؤا ہے۔

*چھٹا*
آپکو یہ جان کر حیرانگی ہو گی کہ سکھوں اور مسلمانوں میں نظریاتی طور پر بڑا قرب ہے لیکن ہندوؤں کی مکاری اور عیاری نے دونوں اقوام کے حیران کن حد تک اس نظریاتی قرب کو اب تک بدترین دشمنی میں بدل رکھا تھا۔

*ساتواں*
قرآن پاک کی ایک آیت ہے جس میں اللہ فرماتے ہیں
کہ
*میرے دین کے راستے کی طرف بلاؤ , حکمت کے ساتھ۔۔، مواعظ حسنہ کے ساتھ اور مختلف ادیان میں موازنہ کی صلاحیت کے ساتھ۔*

فرمانِ باری تعالیٰ ملاحظہ کیجئے

*اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۱۲۵﴾*

اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے پورا واقف ہے ۔

یہ صلاحیت انسان میں اسی وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب وہ مطالعہ تقابلِ ادیان کرتے ہوئے دیگر مذاھب کو بھی بہترین طریقوں سے سمجھے اور اپنے دین کی بھی تفہیم حاصل کرے اور پھر اس کو دلائل و براہین کے ذریعے دوسرے ادیان سے بہتر ثابت کر سکے۔
الغرض اس لیے بھی دوسرے ادیان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

*آٹھواں*
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو دیگر ادیان کو سمجھنے کے سلسلے میں
مسلمانوں کا رویہ کبھی ایسا ہوا کرتا تھا کہ وہ سالہا سال دوسرے ادیان اور تہذیبوں کا علم حاصل کرتے تھے اور اس سلسلے میں الشیخ محمد البیرونی کی مثال تو بہت ہی خوبصورت ہے کہ جب
تاریخ انسانیت کے بہت بڑے اس مسلم اسکالر اور مصنف و مورخ امام محمد البیرونی رحمۃ اللہ علیہ نے ہندو مت کی تفہیم کے لیے ہندوستان کی طرف مہاجرت کی اور اپنی تحقیقی زندگی کے 18 قیمتی سال ہندوؤں کے مندروں میں گزارے اور مسلمانوں کو پہلی دفعہ ہند اور اس کے باشندوں کے مذہب یعنی "ہندو مت" سے اپنی عظیم الشان تصنیف *"کتاب الہند"*
لکھ کر روشناس کروایا ۔

جی وہی عظیم مؤرخ البیرونی جس نے چکوال کے قریب کٹاس کے مندر میں بیٹھ کر بغیر جدید وسائل اور معاونات کے زمین کا قطر دریافت کیا، جو آج بھی تقریبا درست ہے۔
ھمارے ان تحقیقی مضامین کا ایک اجتماعی عنوان ہو گا

*بابا جی گرو نانک*
*حیات- و- تعلیمات*

=======پہلی قسط======

سکھ کا لفظ سیکھنے سے نکلا ہے۔
مسلمانوں اور سکھوں میں پہلی مماثلت یہاں سے ہی شروع ہو جاتی ہے کہ ہمارے مذہب کی پہلی تعلیم بھی "اقرا" (یعنی پڑھنے یا) علم سیکھنے کے حکم سے شروع ہوتی ہے اور سکھ مت کا نام بھی سیکھنے سے شروع ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں اس رواں پہلے مضمون سمیت تقریباً دس قسط وار مضامین اپلوڈ کیے جائیں گے۔
جو دوست اس سلسلے میں علمی اشتیاق رکھتے ہوں انہیں کسی ڈائری پر اس کے نوٹس بنا لینے چاہیئیں یا ان مضامین کو اپنی ڈیوائس میں محفوظ کرلینا چاہیے۔
تاکہ یہ مضامین یاد دھانی کے لیے انکے پاس محفوظ رہ سکیں۔
تحریر»»
*مرزا قمر الزمان ایڈووکیٹ*
03436217767

30/04/2023

*اللہ کریم کی دوستی کے نتائج اور مقام کی نزاکت*
====================

*خود اللّٰہ بذاتہ اہل ایمان کا دوست ہے۔*

اور مومنین کے لیے یہ کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔
اہل ایمان کے لئے اس سے بڑا تفاخر کیا ہو سکتا ہے۔

دنیا میں اگر کسی شخص کا صاحبانِ اقتدار کے حلقے میں ادنی سا تعلق بن جائے تو وہ پھولے نہیں سماتا۔
مقتدر طبقہ تو کبھی بھی اس کی دوستی کا اظہار نہیں کرتا مگر یہ خود ہر وقت فخر سے اس تعلق کا ڈھنڈورا پیٹتا رہتا ہے۔ کہ فلاں لیڈر سے میرے روابط ہیں

یہاں تو معاملہ ہی جدا ہے۔ مالکِ کائنات خود برملا اعلان کر رہا ہے۔

واہ کیا کہنے !

اہل ایمان کو کائنات کے اقتدار اعلیٰ کا مالک رب العالمین خود اپنا دوست کہہ رہا ہے۔

اب اگر اہل ایمان میں سے کسی کو اس تعلق کا شعور حاصل ہو جائے تو پھر ساری زندگی اس تعلق کے تقاضہ جات کو سنبھالنا اس کی سب سے بڑی فکر اور ذمہ داری بن جاتی ہے کہ مبادا وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دے یا ایسا کام نہ کر دے جس سے اس کے دوست کی ذات پہ یا اس دوستی کے رشتے پہ کوئی حرف آئے۔

*بڑا نازک مقام ہے۔ بھائیو سنبھل کے !!!*

درحقیقت یہاں مؤمن ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہوتا ہے جہاں وہ احسن التقویم کی بلندیوں۔رفعتوں اور روشنیوں کی طرف عازم سفر ہو سکتا ہے اور اسفل السافلین کی کھائی میں بھی گر سکتا ہے !!!

واضح رہے کہ دائمی ظلمت اور عدل کے نور سے محرومی کفار کی دوستی کا منطقی نتیجہ ہے۔

*اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ۬ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓئُہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙ یُخۡرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ*

ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ تعالٰی خود ہے وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں ۔ وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں ، یہ لوگ جہنّمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ۔
(سورہ البقرہ 257)

بصیرت ، راست فکری اور درست راستوں کی طرف راہنمائی خدا تعالیٰ کی دوستی کا منطقی نتیجہ ہے
اسی لیے فرمایا کہ
*مومن کی بصیرت سے ڈرو کہ وہ میری (عطا کردہ) فراست سے سوچتا ہے*

تحریر»»
*مرزا قمرالزمان ایڈووکیٹ* 03436217767

Send a message to learn more

08/04/2023

نفس کامارنا یا اسے مہذب کرنا. اسی مقام سے ایک غلط تعبیر نے جنم لیا۔ بعض انسان اس طرف چل نکلے کہ چلونفس اگر اللہ کا دشمن ہے تو پھر اسکو قتل کر دیتے ھیں/ماردیتےھیں۔ یہ تصوراتنی طاقت سے رائج ھواکہ نفس انسان کو قتل کرنے​کے لیے جسم کو اذیت دی جانے لگی، اسےبھوکا پیاسارکھاجانے لگا۔ ریاضتوں کے لامتناہی سلسلے شروع ہوئے لوگ کئی کئی ماہ وسال کے لیے ازخود زندہ درگور ہونے لگے۔ انسانوں کی بستیوں سے ترک سکونت ہونے لگی اور جنگل آباد ہونے لگے۔ اور کہیں چلہ ہائےمعکوس کے طریقے رائج گئے۔۔۔۔۔۔ وه بھول گئے کہ قتل نفس کاتصور ہی غلط ہے۔۔۔۔ اسکو مارنا آپ کے بس میں نہیں اسکو مارنے سے آپکی​ زندگی کامقصد مرجاتا ہے۔ یہ کھیل ہی ختم ہو جاتاہے​۔ نفس کی خواہشات میں چھپی​ دبکی بیٹھی ایک خواہش ملے گی۔۔۔۔ جو اپنے مالک کو پا لینے کی خواہش ہے۔۔۔۔ جو ھمسائگی رب کی خواہش ہے۔۔۔ جو مالک سے محبت لازوال کا تعلق قائم کرنے کی خواہش ہے۔ اسکو پچھلی صفوں سے نکال کر پہلی خواہش بنانا تو اصل زندگی ہے اگر نفس کو ماروگے تو یہ خواہش بھی مر جائے گی۔ لہذا نفس کو مارنا"مقصود محبوب"نہیں۔ بلکہ کوئی ذات آپکے اندر خواہشات کی ترجیحات کو بدلنا چاہتی ہے جو اس وقت ہو گا جب نفس مہذب ہو جائے گا لہذا اس کی ھمواری اور استواری سے فائدہ اٹھا ؤ اسکو تہذیب سکھلاو۔ مہذب کرتے وقت اور اسکو تہذیب سکھلاتے وقت اسکے مہربان رب نے اسکی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے جائز مقامات اور جائز ذرائع رکھے ہیں بلکہ ان مقامات پر اور ان ذرائع سے خواہشات کی تکمیل پر جزا اور انعامات رکھے ہیں۔۔۔ اور پھر تم نے اگر نفس کو قتل کر دیا تو پھر اللہ کی جستجو اور تلاش کی خواہش کہاں جائےگی؟ لامحالہ وہ بھی قتل ہو جائے گی۔اس لئے جتنا مالک نے چاہا اس سے آگے نہ بڑھو تزکیہ اختیار کرو نفس کا تزکیہ ضروری ہے اسکو تہذیب سکھلاو تہذیب سکھلانا ضروری ہے اسکی خواہشات میں ترجیحات قائم کرو کیونکہ ترجیحات قائم کرنا ضروری ہے ورنہ اہم غیر اہم اور غیر اہم اہم هو جائے گا اور تم غیر اہم کےلیے زندگی کی مہلت ضائع کر دو گے۔۔۔۔ اقتباس از فناءوبقاء صفحہ,74

04/04/2023

الحمدللہ الذی بعزتہ وجلالہ وبنعمتہ تتم الصالحات

آئینِ پاکستان کی فتح۔
اور
فسطائیت ،نظریہِ ضرورت اور غیر جمہوری اندازِ فکر رکھنے والوں کی شکست۔
اللّٰہ کریم مملکت پاکستان کو استحکام عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

23/03/2023

*ھم رمضان المبارک کیسے گزاریں!!! (1)*
====================
*مرحبا مرحبا*
*آمد رمضان مرحبا*

تمام مسلمانوں کو بالعموم اور گروپ کے تمام برادران ،خواہران کو بالخصوص آمدہ کل یعنی یکم رمضان المبارک 1444ھ بمطابق 23 مارچ 2023 ء بروز جمعرات ماہِ صیام و قیام کی آمد مبارک ہو۔

رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ جو اس عرصہ ءِ حیاتِ مستعار میں ایک دفعہ پھر ہمارے سروں پر سایہ فگن ہونے کو ہے۔
آ ئیں تمام دوست پہلے تو اس نعمت عظمٰی کے حاصل ہونے پر مندرجہ ذیل مسنونہ دعا سے شکر ادا کر لیجیے۔

*"الحمدللہ الذی بعزتہ وجلالہ وبنعمتہ تتم الصالحات"*
(کم از کم سات دفعہ)

*الحمدللہ وماتوفیقی الا باللہ*

رمضان المبارک میں مندرجہ ذیل چار چیزوں پر ھماری توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔

*1»» صیام*
(دن کا روزہ)

*2»» قیام*
(رات کا قیام یا تراویح)

پوری دلجمعی اور خشوع وخضوع کے ساتھ

*3»» تعلق بالقرآن*

ایک سچے مؤمن کے قرآن سے تعلق استوار کرنے اور پھر اسے نبھانے کے راستے میں عموماً مندرجہ ذیل سنگ ہائے میل آتے ہیں۔
اسے
قرآن پڑھنے۔۔۔ قرآن سننے۔۔۔ قرآن سمجھنے۔۔۔ قرآنی تعلیمات کو خود اپنانے۔۔۔ اور اسکی دعوت کو دیگر لوگوں تک پہنچانے۔۔۔ اور اس کے احکامات کو پوری دنیا پر غالب کرنے کی جدوجہد کے عزم کے ساتھ۔
زندگی گزارنا ہوتی ہے۔

*4»» خلوت*

رمضان المبارک میں کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ خلوت اپنائی جائے۔
اور خلوت یہ ہے کہ مخلوق سے توجہ ہٹا کر اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہوا جائے۔
لازماً خلوت اپنائیے کیونکہ خلوت اپنائے بغیر پہلے تینوں کام نہ ہو سکیں گے۔

*صیام اور قیام*

دو ایک جیسے الفاظ کی حامل احادیث مبارکہ ھیں۔صرف ایک لفظ کے اختلاف کے ساتھ دونوں میں ایک جگہ لفظ "صیام" اور دوسری جگہ "قیام" آیا ہے۔ فرمایا

*"مّن صامّ/قامّ رمضان ایمانا وٗاحتساباً غفر لہ ماتقدم من ذنبہ"*

جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ اسکے پہلے کیے گئے تمام گناہ معاف کردئیے گئے۔
اور جس نے رمضان المبارک میں رات کو قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ اس کے پہلے کیے گئے تمام گناہ معاف کردئیے گئے۔

مگر آئیے ذرا ان بیان کی گئی دو شرائط پر غور کریں

*1-----ایمان کیا ہے؟*

اللہ کریم ۔۔ اسکے رسولِ رحیم ۔۔ پہلے انبیاء۔۔۔ تمام کتبِ سماوی۔۔ آخرت۔۔ جزا وسزا
پر ایمان اور یقین رکھنا ایمان کہلاتا ہے

*2-احتساب کیا ہے؟*

خود احتسابی۔۔ محاسبہ ذاتی
Process of Self accountability

روزہ خواھشات نفسانی کنٹرول کرنے کا ذریعہ جو خود احتسابی کی بنیاد ہے۔
جبکہ قیام اللیل میں تلاوت قرآن پاک قرآن سے مضبوط اور مربوط تعلق استوار کرنے کا ذریعہ ہے

سرکار گرامی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رمضان المبارک میں دو دفعہ قرآن کریم کا (دور) ختم فرماتے تھے۔
ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کو قرآن سناتے اور دوسری دفعہ ان سے سنتے۔

احادیث میں آیا ہے کہ ماہِ رجب و شعبان میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات بدل جایا کرتے تھے۔
گویا بے چینی سے رمضان کی آمد اور استقبال کا انتظار شروع ہو جاتا تھا

مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں اور الفاظ پر غور کریں۔

*وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ» قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: «لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ لَيْلَةٌ أَغَرُّ وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمٌ أَزْهَرُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ*

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ماہ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا فرماتے :’’
اے اللہ ! ہمارے لیے رجب و شعبان میں برکت فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ جمعہ کی رات ، چمک دار رات ہے اور جمعہ کا دن ترو تازہ ہے۔

اپنی جسمانی اور ذہنی کیفیات کو روزوں کی عبادت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سرکارِ گرامی مرتبت شعبان المعظم میں ہی کثرت کے ساتھ روزے رکھنے شروع فرما دیتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم ( آپس میں ) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔
اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا
اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
(صحیح بخاری 1969)

شعبان المعظم کے آخری ایام میں سرکار گرامی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک گزارنے کی خصوصی تیاری شروع کر دیتے تھے۔

ایک صحابی نے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کیفیت کو یوں بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان المعظم میں رمضان المبارک کے گزارنے کو یوں تیار ہوتے تھے جیسے کوئی شخص پانی میں داخل ہونے سے پہلے اپنے کپڑے سنھبال لیتا ہے یا پائنچے چڑھا لیتا ہے۔
جیسے اصطلاحاً ہم پنجابی والے کہتے ہیں کہ کسی کام کے لیے

*"لنگھوٹ کس لینا"*

*رمضان اور انفاق فی سبیل اللہ*

سرکار گرامی کی معمول کی سخاوت شعبان کے آخری ایام میں اپنے بام عروج تک پہنچ جاتی تھی۔ اور ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی آندھی ہے جو اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو اڑا لے جائے گی۔

ھمیں بھی رمضان المبارک کو گزارنے کے لیے ان سنت ہائے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانا چاہیے۔
لہذا
ہمیں پلٹنا چاہیے۔۔۔۔ تائب ہونا چاہیے ۔۔۔
رجوع ءالی اللہ کرنا چاہیے۔
اپنے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قرآن پاک اور اللہ کی محبت کو تازہ کرنا چاہیے۔

زمانے کے حوادث اور نفسانی وشیطانی ترغیبات سے کمزور ہوتا ہوا یہ تعلق نہ صرف ازسرنو استوار ہونا چاہیے بلکہ آئیں عزم مصمم کر لیں کہ اس رمضان میں اسے مضبوط سے مضبوط تر ہو جانا چاہیے۔

رجوع الی اللہ کی ان کیفیات کو پلٹنے اور مضبوطی کے ساتھ استواری کے لیے اس رمضان المبارک میں ہم پوری سعی اور کوشش کریں گے کہ گروپ کے تمام احباب

*"تواصی بالحق و تواصی بالصبر"*

کے جذبے کے تحت ایک دوسرے کی معاونت کریں۔
تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس سال بھی گزشتہ سال کی طرح
خلوت کے ماحول سے بھرپور فایدہ اٹھائیے ۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ قران پڑھنے سننے اور سیکھنے کی طرف توجہ کیجئے اور کم ازکم روزانہ ایک پارہ ترجمہ کے ساتھ پڑھیے اور سنیے اور پھر کسی دوسرے دوست کو سنائیں بھی۔
اس سلسلے میں ایک لنک اپ لوڈ کیا جا رہا ہے اس کے ذریعے آپ تلاوتِ قرآن سن سکتے ہیں۔
ویسے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی روزانہ ایک پارے کے مضامین کا خلاصہ اور تاریخی اعتبار سے رمضان المبارک میں پیش آمدہ واقعات کے متعلق بہت سے دیگر معلوماتی مضامین دوستوں کی خدمت میں پیش کریں گے۔ ان سے استفادہ کیجیئے گا۔
ترجمہ یا تفسیر کی تفہیم میں اگر کوئی دقت یا مسئلہ درپیش ہو تو بلاجھجک مشاورت کر لیا کریں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو یہ رمضان المبارک ایمان اور احتساب کی بہترین کیفیات میں گزارنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
آمین یارب العالمین۔
ان شاءاللہ یہ رمضان المبارک ھماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی کا سبب بنے گا۔
*آمین یارب العالمین*
تحریر»»
*مرزا قمرالزمان ایڈووکیٹ*

13/03/2023

*سید ھجویر ، مخدوم امم*
*صوفی کبیر ، استادِ برصغیر*

(پانچویں قسط)
====================

گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا

*احسان کی تعریف۔۔*

حدیثِ پاک میں مرتبۂ احسان کو ان کلمات میں بیان فرمایا گیا ہے (احسان یہ ہے کہ)
تم اللہ کی عبادت اس قدر حضوریِ قَلب
(Presence of Mind)
کے ساتھ کرو کہ گویا تم اللہ عزّوجلّ کو دیکھ رہے ہو ۔
اور اگر تم (اپنی بشری نارسائی کے سبب) اسے نہیں دیکھ پاتے، تو یقین رکھوکہ وہ ضرور تمہیں دیکھ رہا ہے۔ (صحیح بخاری:50)

چنانچہ سید ہجویر اسی مقامِ احسان کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’میں نے حاتمِ اَصمّ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا :
آپ نماز کس طرح ادافرماتے ہیں ؟

*اہل طریقت کے ہاں نماز کی ادائیگی»»*

حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا
جب نماز کا وقت آتا ہے، تو پانی سے ظاہری وضو کرتا ہوں
(یعنی اس سے اعضاءِ وضو کی پاکیزگی حاصل کرتا ہوں)
اور توبہ کے ذریعے باطنی وضو کرتا ہوں،
یعنی توبہ سے قلب و روح کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔ مسجد میں نماز پڑھتے وقت خانۂ کعبہ کو اپنے سامنے،
مقامِ ابراہیم کو دونوں ابروں کے درمیان، بہشت کو دائیں، دوزخ کو بائیں،
پلِ صراط کو قدموں کے نیچے اور
فرشتۂ موت کو اپنے پیچھے تصور کرتاہوں۔ اس کے بعد اللہ کی عظمت وجلالت کو اپنے ظاہر و باطن پر طاری کرکے اللہ اکبر کہتا ہوں،
اعزاز و وقار کے ساتھ قیام کرتا ہوں،
قراءت کے وقت اللہ کی ہیبت دل پر طاری رہتی ہے،
تواضع اور انکسار کے ساتھ رکوع اور اَزحد تضرُّع اور عاجزی کے ساتھ سجدہ کرتاہوں، حِلم و وقار کے ساتھ قعدہ کرکے شکر کے ساتھ سلام پھیرتا ہوں ۔

جنت کو دائیں اور دوزخ کو بائیں رکھنے کی حقیقت کو اس قول میں بیان کیا گیا ہے۔

*خوف اور امید کا توازن۔۔*

*’’ایمان خوف ورجا کے درمیان ہے‘‘*
یعنی حقیقتِ ایمان اور کمالِ ایمان یہ ہے کہ انسان کے دل پر خشیت وہیبتِ الٰہی بھی طاری ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عفو و مغفرت پر اس کا یقین بھی مرتبۂ کمال پر ہو،
اسی کو وعظ و تذکیر کے عنوان پر مجموعۂ احادیث میں ترغیب وترہیب اور رغبت ورہبت سے تعبیر کیا گیا ہے۔
فرشتۂ اَجل کو پیچھے تصور کرنےکا مطلب یہ ہے کہ بندۂ مومن کو ہر آن موت کے لئے تیار رہنا چاہئے
اور پل صراط کو سامنے رکھنے کامطلب یہ ہے کہ شریعت کے جادۂ مستقیم پر ایک ایک قدم ہزار بار سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہئے، ورنہ ذرا سی بے احتیاطی اور لغزش سے انسان گہرے ظلمت کدے میں گر سکتا ہے یا جہنم کا ایندھن بن سکتا ہے،

*ویسے ذہن نشین رہے کہ صاحبانِ طریقت جس نقصان کو سب سے بڑا مانتے ہیں وہ کسی صاحبِ دل کا کیفیتِ حضوری سے غیابت میں چلا جانا ہے*

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان بڑے اساتذہ کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنا دے۔

آمین یارب العالمین۔

تحریر»»»»
*مرزا قمر الزمان ایڈووکیٹ*
Cell no, 03436217767

Send a message to learn more

06/03/2023

*سید ھجویر ، مخدوم امم*
*صوفی کبیر ، استادِ برصغیر*

(چوتھی قسط)
====================
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا

*توفیق کیا ھے ؟*

سید صاحب فرماتے ہیں

*"توفیق سے مراد نیک اعمال میں اللہ کی تائید حاصل ہونا ہے"*

اور اہل ایمان کو کتاب وسنت کا ملنا یعنی کتاب وسنت کا وجود توفیق الہی پر بنفسہ سب سے بڑی دلیل ہے اور امت اس پر متفق ہے سوائے معتزلہ اور قدریہ فرقوں کے جو لفظ توفیق کو بے معنی سمجھتے ہیں۔

مشائخ کے ایک گروہ کا قول ہے کہ

*"التوفیق ھوالقدرۃ علی الطاعت عند الآستعمال"*

توفیق انسان کا بندگی پر بروقت قادر ہونے کا نام ہے۔

انسان کی ہر حرکت اور سکون (عدم حرکت) کا خالق اللہ تعالی ہے.
جو طاقت اسے بندگی پر آمادہ کرتی ہے. اسی کا نام توفیق ہے۔
مثال کے طور پر آپ کو نماز کے وقت میں وضو کے لئے پانی میسر آ جائے ۔۔۔پہننے کو صاف ستھرے کپڑے مل جائیں۔ یا حج کے وقت مالی لحاظ سے استطاعت حاصل ہوجائے۔ انسانوں کی مدد کے وقت دولت حاصل ہوجائے۔ جہاد کے وقت جسمانی قوت و طاقت میسر آ جائے تو یہ تمام کام توفیق حاصل ہو جانے کے زمرے میں ہی آ ئیں گے۔

اور توفیق صرف جسمانی۔ مرئی یا مادی ہی نہیں ہوتی بلکہ ذہنی۔ غیر مرئی۔ اور روحانی بھی ہوتی ہے۔ اسکا یہ پہلو نیات کو مخاطب کرتا ہے۔

توفیق مانگتے رہنا چاہیے۔ اور حاصل شدہ توفیق پر شکر کرتے رہنا چاہیے.

*و ما توفیقی الا بااللہ*

اور بے شک سب توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

========== (جاری ہے)
تحریر»»
*مرزا قمرالزمان ایڈووکیٹ*

Send a message to learn more

03/03/2023

*سید ھجویر ، مخدوم امم*
*صوفی کبیر ، استاد برصغیر*

(تیسری قسط)
====================
"گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا"

*روحانی ارتقاء کی رکاوٹیں»»»*

سید ہجویر نے فرمایا کہ روحانی ارتقاء کی راہ میں دو چیزیں حائل ہوتی ہیں۔جنہیں وہ حجابات کہتے ہیں

سید ھجویر کی نظر میں حجابات کی اقسام۔۔

حجابات دو ہیں
ایک "رینی" یہ کبھی دور نہیں ہوتا
اور دوسرا "غینی" جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔
" رین" کے معنی مہر لگنے کے ہیں.
جبکہ حجاب "غین" کے معنی اوٹ اور ہلکے پردے کے ہیں ۔
اس طرح سمجھو کہ پتھر کبھی آئینہ نہیں بن سکتا اگرچہ اسے کتنا ہی صاف شفاف کرنے کی کوشش کی جائے-
لیکن اگر آئینہ زنگ آلود ہو جائے تو تھوڑا سا صاف کرنے سے دوبارہ چمک جائے گا - اس کی وجہ یہ ہے کہ پتھر کے اندر تاریکی اور آئینہ کے اندر چمک اس کی ذاتی صفت ہے-
چونکہ ذات اصل قائم رہنے والی چیز ہوتی ہے۔ اس لیے وہ کسی طرح زائل نہیں ہو سکتی۔
سید صاحب نے سیدنا جنید بغداد کے حوالے سے اسکو وطن کہا
اور صفت چونکہ عارضی و ناپئیدار ہوتی ہے اور وہ قائم اور باقی رہنے والی چیز نہیں ہوتی اس لئے جلدی زائل ہو جاتی ہے ۔ اسکو عارضی "خطرات" کہا۔

رینی کا لفظ قرآن پاک کی اس آیت سے لیا گیا ہے جس میں فرمایا

*"کلا بل ران علی قلوبہم"*

کہ ان کے اعمال
(بار بار کی تکذیب یا جھٹلانے سے)
کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ لگ چکا ہے۔
سید صاحب کشف المحجوب کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو ان لوگوں کے لئے لکھا جن کے دلوں کو حجابات غینی نے گھیر رکھا ہے ہے مگر نور حق کی جھلک ان کے اندر موجود ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کی برکت سے حجاب غینی اٹھ جائیں گے ۔
مگر جن کی سرشت انکار حق اور اختیار باطل پر مستحکم ہو چکی ہے وہ اس کی مدد سے راستہ نہیں پائیں گے اور انکو مشاہدات حق نصیب نہیں ہوں گے۔
بالفاظ دیگر یوں کہہ لیں کہ
"رینی" حجابات
جبلت اور فطرت بن چکے ہوتے ہیں۔
جبکہ"غینی" حجابات عارضی طور پر گناہ کی صفت کو اختیار کرنے یا ابھی ارادہ ۔خواہش۔ عمل/ فعل اور عادت کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔
یعنی ایک ’’رَین‘‘ اور دوسرا ’’غَین‘‘
دراصل قلبی اور روحانی خرابیوں میں ایک تو کفر، شرک اور نفاق ہے اور اس کے سبب انسان کے دل ودماغ پر ہدایت کے انوار وتجلیات کا فیضان مستقل طور پر رک جاتاہے۔
اس حوالے سے بھی انکے نزدیک حجاب کی دو قسمیں ہیں
ایک ’’رینی ‘‘
یہ کبھی نہیں اٹھتا وہ مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں بعض لوگوں کی ذات خود حق سے حجاب کا سبب ہوتی ہے، یہاں تک کہ ان کے نزدیک حق اور باطل یکساں ہوجاتاہے۔ اسی حجاب کو ’’رَین‘‘ کہتے ہیں اور اسے قرآن مجید میں ختم،،، طبع،،، اِغفال،،، اَکِنّہ،،، اور قَساوت سے تعبیر کیا ہے،
چنانچہ اللہ کریم کا ارشاد ہے

*ہر گز نہیں، بلکہ انکے کرتوتوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے۔*
المطففین :14

یہ لوگ ناقابلِ اصلاح ہوتے ہیں اور ہدایت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

*اوراُنہوں (کافروں) نے کہا:جس دین کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں، اُس کی (قبولیت کی) راہ میں ہمارے دلوں پر پردے چڑھے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان حجاب ہے،*
حم السجدہ 05

۔دوسری قسم کے حجاب کو ’’غین ‘‘
کہتے ہیں۔ دراصل یہ انسان کے دل میں حرص وطمع، بُخل، ہواوہوس، حسد، کِبَرونَخوت، ریااور دیگر اَخلاقی اَمراض ہوتے ہیں، جن کے سبب انسان کے دل پر وقتی پردہ پڑ جاتاہے، مگر یہ حجاب عارضی ہوتاہے اور توبہ واستغفار سے زائل ہو جاتا ہے۔
===========(جاری ہے)

==============
فرینڈز ! تصوف کے نظریات پر مبنی تحریروں اور معلوماتی ویڈیو کلپس تک رسائی کے لیے یوٹیوب چینل
*"SAFAR E MAARFAT"*
سبسکرائب کر لیں۔۔۔۔۔!!!
==============
تحریر»»
*مرزا قمرالزمان ایڈووکیٹ*
03436217767

02/03/2023

That's First impressions of God which receives by innocent people's

ہالینڈ کے سکول کے بچوں کو ذہنی نشوونما کے لئے مسجد کے دورے پر لے جایا گیا تھا اور ان سے سجدہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا سجدے کے بعد ، انہوں نے ہالینڈ کے بچوں سے پوچھا کہ سجدے کے دوران انہیں کیسا محسوس ہوا. ان کے جوابات اور کیفیات بھی اپکو حیرت زدہ کر دینگے ❗️ بچوں نے کیا جواب دیے ملاحظہ فرمایٸں۔۔
- میں نے یسوع کو سنا ،
- میں نے خدا سے بات کی ،
- میں اب چرچ نہیں جاؤں گا ،
- میں نے زمینی کھڑکی سے آسمان کی طرف دیکھا ،
- اگر میں مسلمان ہوجاؤں تو آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوں گے ،
- یہ یوگا اور مراقبہ سے کہیں زیادہ اچھا ہے ،
- میری پیشانی سے میری تکلیف زمین میں پھیل گئی ،
- میں نے مسلمانوں کے خدا کو دیکھا ، اس نے بھی مجھے محبت کے ساتھ مدعو کیا ،
- ستارے مجھ تک پہنچے اور انہیں دیکھا ،
- میں نے روشن لوگوں کو دیکھا ، خدا نے ان سے محبت کی ،
- ہم ہلکی ہلکی کاروں پر آسمان پر چڑھے ،
- کیا مسلمانوں کا خدا ڈچ زبان بولتا ہے؟

صبح و شام یہ مختصر سا عمل کریں ، اور اپنے ساتھ 70,000 ہزار فرشتوں کی ڈیوٹی لگوا لیں !!!. 02/03/2023

https://youtu.be/KlDsjRXHdgU
تعوذ تین بار»»

*اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم*

سورۃ الحشر کی آخری تین آیات ایک بار»»

*هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ-هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ(۲۲)هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۲۳)هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ-یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۲۴)*

صبح و شام یہ مختصر سا عمل کریں ، اور اپنے ساتھ 70,000 ہزار فرشتوں کی ڈیوٹی لگوا لیں !!!.

Safar-e-Maarfat - YouTube 01/03/2023

*سید ھجویر ، مخدوم امم*
*صوفی کبیر ، استادِ برصغیر*

(دوسری قسط)
====================
*گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا*

*تعلیماتِ تصوف»»»*

*تصوف کی تعریف»*

آپ کے نزدیک تصوف بنیادی طور پر صفائے قلب اور روح کی جِلا کا نام ہے۔

اسےقرآن وحدیث میں "تزکیہ"،" احسان" اور 'عرفان" سے تعبیر کیاگیا ہے۔

*تصوف کے حوالے سے مختلف گروہ»»*

سید ہجویر نے تصوف کے حوالے سے اسکے وابستگان اور متعلقین کو تین گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔

1۔۔صوفی
2۔۔متصوف
3۔۔ مُسْتَصْوِفْ

*1- صوفی»»*

وہ فرماتے ہیں کہ
صوفی وہ ہے جو اپنے وجود سے فانی ہوکر حق کے ساتھ باقی ہوگیا ہو، نفسانی خواہشات اور ان کے تصرف سے آزاد ہوکر حقیقت الحقائق یعنی اللہ عزّوجلّ کے ساتھ واصل ہو گیا ہو۔

*"لا مالکہ ولا یملکہ"*
ترجمہ۔
اسکا ماسوائے رب کے کوئی مالک نہ ہو۔اور کوئی چیز اسکی ملکیت نہ ہو۔

*2- متصوف»»*

جبکہ متصوف وہ ہے جو مجاہدے اور ریاضت کے ذریعے اِس مقام کے حصول کے لئے کوشاں ہو اور جو راہِ حقیقت کی تلاش میں اپنے آپ کو صوفیاء کے طریقے پر کاربند رکھتا ہے۔

*3- مستصوف»»*

اور مُسْتَصْوِفْ وہ بدبخت ہے جو دنیوی منفعت کے حصول اورجاہ و مرتبے کی لالچ میں صوفیاء کی نقالی کررہا ہو، اسے نہ تو اوپر والے دونوں گروہوں سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی اسے طریقت کے بارے میں کوئی ادنیٰ سی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔
مشائخ کرام نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے۔

*پہلی وضاحت !*

’’مُسْتَصْوِفْ صوفیاء کے نزدیک مکھی کی مانند ہے اور غیر صوفیاء یعنی عوام کے لئے بھیڑیا ہے۔ صوفیاءِ کرام مُسْتَصْوِفْ کو مکھی سے اس لئے تشبیہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ صوفیاء کی نقّالی ہؤا وہوس کی خاطر کرتے ہیں جیسے مکھی کسی چیز پر بھنکتی رہتی ہے۔
اور عوام کے حق میں اس لیے بھیڑیے ہیں کہ بھیڑیے کا کام بھی چیرنا پھاڑنا اور مردار کھانا ہے، یعنی ناجائزطریقے، حیلے اور مکروفریب سے مفادات سمیٹنا ہے۔

*دوسری وضاحت !*

الغرض
صوفی صاحبِ وصول ہوتا ہے۔
متصوف واصل باللہ ہوتا ہے۔
اور مُسْتَصْوِفْ صاحبِ فصول یعنی ذاتِ حقِ تعالیٰ اور راہِ حق سے دور ہوتاہے،

*تیسری وضاحت !*

وہ مزید فرماتے ہیں
کہ
’’صوفیا سے متعلق آج کل یہ مصیبت عام ہوگئی ہے،کہ ملحدین کے ایک گروہ نے جب حقیقی صوفیا کی شان اور قدر ومنزلت دیکھی، تو اپنے آپ کو بھی ان کا ہم شکل بنالیا اور کہنا شروع کردیا کہ اطاعات وعبادات کی تکلیف (مسئولیت/ فرضیت) اسوقت تک ہے، جب تک معرفت حاصل نہیں ہوجاتی۔ جب معرفت حاصل ہوگئی تو عبادات واطاعات کی تکلیف جسم سےاُٹھ جاتی ہے۔ یعنی انسان اللہ تعالیٰ اور رسولِ مکرم کے احکام اور شریعت کا مکلَّف اور جوابدہ نہیں رہتا‘‘۔
(یعنی دراصل یہ ملحدین ہیں)

مستصوف کے لیے حلیہ اختیار کرنا مجبوری ہے
حقیقی صوفیاءِ کرام کی شکل اختیار کرنے یا حلیہ بنانے یا لبادہ اوڑھنے کا تکلف بھی حضرت داتا صاحب کے عہد یعنی اسلام کی قرونِ اولیٰ اور قرونِ وُسطیٰ کی مجبوری تھی،
( آج کل تو بسا اوقات اس طرح کے کسی تکلف کی بھی قطعًا کوئی حاجت نہیں ہے اور نہ ہی ظاہری اعتبار سے تدیُّن اور تشرُّع کی صورت اختیار کرنے کا تکلف کیا جاتاہے)
کیونکہ تواہم پرستی۔ ضعیف الاعتقادی اور دنیاوی اغراض کے حصول کی خواہشات اس قدر شدت پر ہیں کہ ہر قسم کا شکار خود ہی شکاری کے جال میں پھنسنے کے لئے بے قرار ہوتا ہے۔
سندھ اور جنوبی پنجاب کے وہ جاگیردار اور وڈیرے جو تصوف کے نام پہ سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اسکی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے شاید اسی کیفیت کو کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے کہ

*خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں*
*کہ درویشی بھی عیاری ہے، سلطانی بھی عیاری*

------------------ *(جاری ھے)*

==============
*"SAFAR E MAARFAT"*

Link of channel----- !!!

https://www.youtube.com/channel/UCgW6T7eZJWmKFFOFbR3cRRg
تحریر»»
*مرزا قمرالزمان ایڈووکیٹ*
03436217767

Safar-e-Maarfat - YouTube Official Channel of Mirza Qamar Uz Zaman Advocate.Senior Lawyer and Islamic Scholar with experience of more than 30 years.Writer of Book: "فنا ‌‌ؤ بقا" .The ...

26/02/2023

*سید ھجویر ، مخدوم امم*
*صوفیِ کبیر استادِ برصغیر*

(پہلی قسط)
=====================

*شخصیت و عظمت»»»*

آپ کا نام نامی اسم گرامی
حضرت ابوالحسن سید *"علی بن عثمان"* ہجویری رحمہ اللہ تعالیٰ ہے۔

آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام حسن کے توسط سے امام الاولیاء و امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

آپ کا زمانہ یا عہد مشہور روایات کے مطابق 400ھ تا 465ھ ہے۔

آپ کا مزارِ پرانوار الحال لاھور۔۔۔۔ پنجاب۔۔۔۔۔ پاکستان میں ہے۔ جو چوبیس گھنٹے مرجعِ خلائق رہتا ہے۔

سید ہجویر برصغیر کے لیے روشن آفتاب و ماہتاب کا درجہ رکھتے ہیں ۔ایسا روشن چراغ کہ جس کی ضوفشانی سے اندھیری راتوں میں ٹھوکریں کھانے والے مسافر منزلوں کا پتہ پاتے ہیں۔

یہ وہ قبر ہے جہاں سے بےدلیلوں کو دلیل اور حیات بخش سبیل ملتی ہے۔

کسی مستشرق نے کہا تھا کہ یہ وہ صوفی ہے جسکا ویثرن اپنے زمانے سے دو ہزار سال آگے سفر کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
سید ہجویر کہ جن کا کشف ایک ہزار سال قبل سے تاحال محجوب عقلوں کے حجاب دور کر رہا ہے۔

خواجہ اجمیر سیدنا معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے متعلق فرمایا تھا کہ

*گنج بخش فیض عالم مظہرِ نورِ خدا*
*ناقصاں را پیر کامل کاملاں را راہنما*

سید ہجویر برصغیر کے صوفیاء کے سردار پیشوا اور امام ہیں۔

سید ہجویر ہمارے پاکستان کے لیے اللہ کا انعام ہیں۔

ہمارے استاد محترم پروفیسر احمد رفیق اختر ،، اللہ کریم انکو حیات خضر عطا فرمائے،، سید ہجویر کو اپنا روحانی استاد اور مرشد کہتے ہیں۔

برصغیر کی امت کے ترجماں، صاحب اللساں، محب قرآں علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ۔ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی بصیرت اسی در سے ملی !
یعنی لاکھوں دلوں کو روشن کرنے والا یہ منور چراغ جسے دنیا شاعرِ مشرق کے لقب سے جانتی ہے یہ بھی اسی شمع ہدایت سے روشن ہوا۔
سچ تو یہ ہے کہ تصوف کے مشرب سے وابستہ ہر طالب علم کسی نہ کسی سطح پر سید ہجویر سے فیضیاب ہے اس نسبت پر ہمیں بھی نازاں و شاداں ہونا چاہیے۔ اور صد شکر کہ ہم سب پر بطور استاد سید ھجویر کا دستِ شفقت بھی ہے۔

علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے استادِ برصغیر سید ہجویر کا تعارف ان الفاظ میں کروایا ہے۔

فرمایا کہ

*سید ہجویر مخدوم امم*
*مرقد اوپیر سنجر راحرم*

*بند ہائے کوہسار آسان گسیخت*
*در زمین ہند تخم سجدہ ریخت*

*عہد فاروق از جمالش تازہ شد*
*حق زحرف او بلند آوازہ شد*

*پاسبان عزت ام الکتاب*
*از نگاہش خانہ باطل خراب*

*خاک پنجاب ازدم او زندہ گشت*
*صبح ما از مہر او تابندہ گشت*

*عاشق وہم قاصد طیار عشق*
*از جبینش آشکار اسرار عشق*

====================

*ان اشعار کا ترجمہ و تشریح»»*

*سیّدِ ہجویرؒ مخدومِ اُمم*
*مرقدِ او پیرِ سنجر را حرم*

ہجویر کے سیّد اور امتوں کے سردار جن کا مزار حضرت معین الدّین چشتی سنجریؒ کے لیے ایک مقدّس مقام تھا (انہوں نے یہاں پر چلّہ کشی کی اور حرم کا راستہ پایا)۔

*بند ہائے کوہسار آساں گسیخت*
*در زمینِ ہِند تُخم سجدہ ریخت*

انہوںؒ نے پہاڑوں کے کٹھن راستے آسانی سے طے کئے۔ یعنی افغانستان سے ھجرت فرمائی اور سرزمین ہندوستان میں سجدوں کا بیج بویا۔ اور خدائے واحد کی پرستش کا آوازہ بلند کیا۔

*عہدِ فاروقؓ از جمالش تازہ شُد*
*حق زِحرفِ او بُلند آوازہ شُد*

اُنؒ کے حسن وجمال اور مخلوق خدا کے ساتھ محبت سے سیدنا عمرفاروقؓ کے دور کی یاد تازہ ہوگئی۔ اور اُنؒ کی تبلیغ سے دینِ حق کا شہرہ عام ہوگیا۔

*پاسبانِ عزّتِ اُمّ الکتاب*
*از نگاہش خانہ باطِل خراب*

آپ قرآنِ کریم کی عزّت کے پاسبان ہیں۔ اور آپ کی ایک نگاہ سے باطِل کا خانہ خراب ہو جاتا ہے۔

*خاکِ پنجاب از دمِ او زندہ گشت*
*صبح ما از مہرِ او تابندہ گشت*

پنجاب کی سرزمین میں زرخیزی اور قوت نمو اُنؒ کے دَم سے ہے۔یعنی یہ روئیدگی اور زرخیزی اس لیے ہے کہ وہ یہاں آسودہ خاک ہیں اقبال فرماتے ہیں کہ سچ تو یہ ہے کہ میرے زہن نے انہی کی فکر سے جلاء پائی ہے۔ اور میری صبح بھی اُن ہی کے آفتاب سے منوّر ہوئی ہے۔

*عاشق و ہم قاصد طیارِ عشق*
*از جبینش آشکار اسرارِ عشق*

وہ دینِ حق کے عاشق بھی تھے اور عشق کے ہمہ وقت تیز رفتار قاصد بھی، اُنؒ کی پیشانی سے عِشق کے بھید و اسرار و رموز آشکار (بے نقاب) ہوتے ہیں۔

(از حضرت علّامہ محمّد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ - اسرارِ خودی)

میری دانست میں

*برصغیر کے مسلم باشندگان کو بالعموم اور ان میں سے وابستگانِ تصوف کے لیے بالخصوص استاد شناسی کے جذبات کے تحت انکے قرب کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر راہِ سلوک کی کٹھن منازل کا طے ہونا مشکل ہے۔ہمیں سید ھجویر کےساتھ وفا کوش اور نیاز کیش والا تعلق نہ صرف استوار رکھنا ہے۔ بلکہ اسے اور مستحکم کرنا ہے اسی میں ہماری بھلائی ہے۔*

========= *(جاری ہے)*
تحریر»»
*مرزا قمرالزمان ایڈووکیٹ*

Send a message to learn more

Want your school to be the top-listed School/college in Kharian?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

Punjab
Kharian
50090

Other Education Websites in Kharian (show all)
Islami Tehqeeq Islami Tehqeeq
Kharian, 50090

Welcome to Islami Tehqeeq official page�

Namwar Namwar
Kharian

Educational and skills-related courses and the content will be shared on it.So that you learn someth

National Cadet Schools National Cadet Schools
National Cadet Schools
Kharian, 50090

National Cadet Schools is an excellent educational system in Guliana, Gujrat.

Islamic Bayan, Naat, Saif ul Malook. Islamic Bayan, Naat, Saif ul Malook.
Dist, Gujrat, Teh
Kharian

Certified.today Certified.today
Main GT Road Kharian
Kharian, 50090

Certified. today is coming soon! and you'll enjoy services

Crypto Nation Crypto Nation
Kharian, 50090

Crypto Nation Anyone can GROW 5000% when using our signals to trade! We sharing our knowledge for

QAHE & OIETC TEST QAHE & OIETC TEST
Kharian
Kharian, 50090

Army Public School & College, Kharian Cantt Army Public School & College, Kharian Cantt
Kharian

APSACS is a chain of educational institutes providing quality education in Pakistan.

Islamic Center Noor Ul Quran   Mohri Sharif Islamic Center Noor Ul Quran Mohri Sharif
Village Mohri Sharif
Kharian, 50090

ایک ایسا تعلیمی ادارہ جہاں بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم ایک ہی چھت کے نیچے دی جاتی ہے

Learn Quran with hafiz Umar Learn Quran with hafiz Umar
Kharian

Assalam.o.Alaikum! Wellcome To Our Quran Academy. In This Institute ,We Will Teach You Different Kind

Jamia TUL Farooqia Gujrat Jamia TUL Farooqia Gujrat
Attu Wala Neher, Bhau Ghaseet Pur, Gujrat
Kharian, 50090

Badar ul Huda international official Badar ul Huda international official
Kharian

Badar ul Huda international [official] main G. T rood Ali chak near kharian