25/07/2024
Building a Brighter Future Through Islamic Education with Madrasa.Com
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Madrasa.com, Tutor/Teacher, House No 953 P. I. B Colony, Karachi.
I am an experienced Quran teacher and tutor, And our vision is to spread the teaching of Quran to the whole world and to teach Quran to everyone so join Madrasah.com to learn and spread Quran.
25/07/2024
Building a Brighter Future Through Islamic Education with Madrasa.Com
24/07/2024
Building a Brighter Future
Through Islamic Education with Madrasa.com
اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ آخری قسط 3
@highlight
ایمان کی حفاظت کا طریقہ کار
امید تو ہے کہ گزشتہ دو اقساط میں نام نہاد اسکالرز کو پہچاننے کا طریقہ آپ کو معلوم ہو گیا ہوگا، آج ہم اپنا ایمان محفوظ رکھنے کا طریقہ جانیں گے۔
اپنا ایمان محفوظ کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اجماع امت کا قائل ہے یا نہیں اور جو موقف اس نے اپنایا ہے آیا وہ اہل سنت والجماعت کا موقف ہے یا نہیں؟ بس یہ معلوم کرلیں۔ اکثریت منکر ملے گی اور یہ ہی ڈاکو کی علامت ہے۔
اجماع امت اور اہل سنت والجماعت کے موقف سے مراد یہ ہے کہ(وسیع دائرہ میں سے ایک حصہ ہے یہ) وہ دین کو بیان کرتے وقت 1400 سال کی سند رکھتا ہے کہ یہ بات جو اس نے قرآن و حدیث سے بیان کی ہے وہ بات اللہ کے رسولﷺ ،صحابہ رضوان اللہ ، تابعین، تبع تابعین ،مفسرین،محدثین، سے اسی مفہوم کے ساتھ ہر صدی میں مسلمانوں کی وہی تفہیم تھی ؟
99 فیصد کے پاس یہ سند نہیں ملے گی جس کی بنیادی وجہ انکا اپنا بے سند ، بے صحبت ہونا ہے ، نتیجہ میں دینی بے نسلی ہونا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دین اپنے فہم، عقل اور نفس کی روشنی میں بیان کرتے ہیں ۔ جو سراسر حرام ہے۔
دین مکمل ہونے کے بعد صرف منتقل ہونا ہے ،قیامت تک اس میں اضافہ کمی کرنے کا کسی بھی انسان کو حق ہی نہیں سوائے اللہ کی ذات کے۔ اسی وجہ سے علماء ہمیشہ باحوالہ بات بیان کرتے ہیں اور پابند ہیں کہ باحوالہ ہی بات بیان کریں اور یہ طبقہ ان پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد قرار دیتا ہے لہذا اپنی مرضی کا ترجمہ و تشریح کرتا پایا جائے گا۔
اضافی عیوب
اسی وجہ سے اگر آپ ان لوگوں کی تفاسیر تک اٹھاکر دیکھیں جہاں آیات علماء، فقہاء، جاننے اور نہ جاننے والے، عالم اور جاہل سے متعلق ہیں وہ وہاں علمی خیانت سے کام لیتے ہیں کبھی ان آیات کی تفصیلی تشریح نہیں کریں گے بلکہ ترجمہ کرتے ہوئے آ گے نکل جائیں گے بلکہ ترجمہ میں بھی ہلکے الفاظ کا استعمال کریں گے۔
قرآن کی جن آیات میں حدیث کی حجیت کا ذکر وہاں سے بھی خاموشی سے گزر جائیں گے۔
جن احادیث میں اجماع امت کو ذکر کیا گیا انہیں بیان ہی نہیں کریں گے۔ باقی اپنے مطلب کی ساری حدیثیں انہیں زبانی نمبروں کے ساتھ یاد ہوں گی۔
اگر آپ ان سے سوال کرلیں کہ یہ بات جو آپنے فرمائی ہے اس کی دلیل پیش کریں تو جواب میں اکثر خود سے گڑھی ہوئی کوئی دلیل پیش کریں گے کبھی کسی کا حوالہ نہیں دیں گے اور اگر حوالہ دے بھی دیا تو تحقیق کرنے پر آپ کو معلوم ہو جائے گا وہ ش*ذ قول تھا یا مردود قول تھا۔
ان سے ان کی علمی سند کا پوچھ لیں تو وہ سرے سے ہی دین کی سند کی ضرورت کا انکار کریں گے۔ وہ الگ بات ہے کہ بڑے فخر سے اپنی دنیاوی سند کو بڑھاچڑھاکر بیان کریں گے میں انجینئر ہوں۔ میں فلسفہ کا پروفیسر ہوں، میں ماہر نفسیات ہوں، میں ڈاکٹر ہوں بس نہیں ہوں تو عالم نہیں ہوں باقی سب کچھ ہوں۔
عوام کو دھوکہ دینے کے لئے علماء کے ساتھ تصاویر سند کے طور پر پیش کرسکتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ کسی ایک عالم سے تفسیر اگر پڑھی ہے تو اسکا نام ایسے لیں گے کہ فلاں میرا استاد ہے۔ حالانکہ اس سے صرف تفسیر پڑھی ہوگی جو مسلمان معاشرے میں ہر چوتھے محلے میں مسجد میں پڑھائی جاتی ہے جو قرآن سمجھنے کے لئے تو کافی ہوسکتی ہے لیکن آپ کو قرآن کی تفسیر کرنے کا کبھی اہل نہیں بناتی۔
ایسا بھی فراڈ نوٹ کیا گیا کہ مختلف علماء اور غیر علماء کی مجالس میں شرکت کی اور آج عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ان تمام لوگوں کو اپنا استاد بیان کرتے ہیں ۔
اتفاق یہ بھی ہوا کہ جس استاد کا وہ حوالہ دیں گے اس استاد کا اپنا کوئی استاد نہیں تھا یعنی ذاتی مطالعہ سے اس نے بھی دین بیان کرنے کا جرم کیا ہوا ہوگا یا پھر آپ کو وہ کڑی مل جائے گی جس میں سارے ہی اجماع امت کے منکر تھے خلاصہ یہ کہ کوئی نسلی دین پڑھا ہوا نہیں ملے گا بلکہ ایک گروہ ہوگا جو تفسیر نفسی کے جرم کا مرتکب پایا جائے گا۔
لہذا سادہ سا اصول یاد رکھنا ہے کہ بے سند انسان سے نہ دین سیکھنا ہے، نہ اس سے علاج کروانا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں یا جان تباہ ہوگی یا ایمان تباہ ہوگا۔
والسلام
یوسف عبدالرزاق
اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ قسط 2
@highlight
طریقہ واردات
نام نہاد (پروفیسرز، انجینیرز، موٹیویشن اسپیکرز) اسکالروں کا طریقہ واردات پہلے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بجاؤ کرنے میں آسانی رہے۔
ان لوگوں کے مختلف اہداف ہوتے ہیں لہذا اہداف کے حساب سے ہر ایک کا طریقہ واردات مختلف ہے :
پہلا طبقہ
جس نے اسلام کو ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے استعمال کرنا ہے اور جس کے لئے اس نے قرآن کے معنی ، مراد میں تحریف معنوی کرنی ہے تو سب سے پہلے وہ (نعوذباللہ )نبی کریم ﷺ کا کردار محض ڈاکیا والا بنا کر معاشرے کو بتائے گا۔
وہ قرآن کے ترجمہ تفسیر میں کبھی کسی مفسر کو ذکر نہیں کرے گا بلکہ پراعتماد طریقہ سے ایسے تشریح بیان کرے گا جیسے ابھی یہ آیت اسی پر نازل ہوئی ہے۔ یعنی بغیر ریفرنس بیان کرے گا۔
اس کی گفتگو قرآن سے شروع ہوکر قرآن پر ختم ہوگی جو بظاہر متائثر کن بات ہے لیکن درحقیقت وہ اس ذات کی نفی کرتا ہے جس پر قرآن نازل کیا گیا، اس ذات کی تفہیم کا انکار کرتا ہے جس پر قرآن اتارا گیا۔ اس کا مکمل زور اس بات پر ہوگا کہ خود قرآن پڑھو، خود قرآن سمجھو۔
پہلے وقتوں میں ڈائریکٹ حدیث کا انکار کیا گیا نتیجہ میں علماء اور عوام نے انہیں گمراہ قرار دیا، وہ بدنام ہوئے اب انکار حدیث کھلم کھلا تو نہیں کیا جاتا بلکہ ایک نئی شرط خود سے گڑہ دی گئی کہ ہمارے نزدیک حدیث کا تواتر سے ثابت ہونا شرط ہے۔ بعض نے خود سے ہی حدیث کی نئی تعریف گڑھ لی اور کمال یہ ہے کہ انہیں لوگوں کی عبارتوں میں ہی لکھا ملے گا کہ حدیث سے کوئی اسلامی حکم ثابت نہیں ہوتا۔
آپ اگر غور کریں کہ آپ کوئی بھی سوال کرلیں تو جواب قرآن سے دیا جاتا ہے جس سے ہم متائثر ہوجاتے ہیں اور اسی دوران یہ حوالہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات قرآن میں چونکہ نہیں ہے یا ایسے کہا جاتا ہے کہ قرآن نے صرف 2 قسمیں بیان کی ہیں لہذا تیسری قسم کا انکار کردیا جاتا ہے حالانکہ تیسری قسم حدیث سے ثابت شدہ ہوتی ہے اسکا تذکرہ نہیں کیا جاتا ۔
ایک عام آدمی قرآن کا بہت احترام کرتا ہے اس کا اس طرٖف ذہن بھی نہیں جاتا کہ قرآن کو حوالہ دے کر صاحب قرآن کی حدیث کا دھڑلے سے انکار کیا جارہا ہوتاہے۔ مزید یہ کہ ان لوگوں نے چونکہ قرآن کی ذاتی تشریح ( جسے میں تشریح نفسی کہتا ہوں) کرنا ہوتی ہے اور ذاتی تشریح میں سب سے بڑی رکاوٹ حدیث اور اجماع امت ہے لہذا جب تک ان دونوں کا انکار یا انہیں مشکوک نہ بنادیا جائے اس وقت تک یہ ہدف حاصل نہیں ہوتا لہذا میٹھے لفظوں، سلجھے لہجوں کے ساتھ ڈاکہ زنی کی جاتی ہے۔
اگر آپ قرآن کی آیت سے ہی انکا دجل، مکروفریب بے نقاب کردیں تو ایک نئی لائن ہے جو بہت عام ہے۔"اصل میں اس آیات کو ابھی تک کسی نے صحیح سمجھا ہی نہیں" اور اس کے بعد پھر اپنی ذاتی تشریح جو تحریف قرآن ہی کی ایک صورت ہے بیان کی جاتی ہے۔
دوسرا طبقہ:
اس طبقے کا ہدف اسلام کی پوری چین یعنی صحابہ، تابعین، تبع تابعین، فقہاء،محدثین،مفسرین،اولیاء کی ذات کو مجروح کرنا ہوتا ہے اور اس کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہر دور کے علماء ہوتے ہیں خواہ کسی بھی مکتبہ فکر کے ہوں، لہذا غور کی جیئے گا سب سے پہلے وہ اس چین کے آخری سرے یعنی "علماء" کی ذات کو مجروح کرتے ہیں تاکہ ان کے پھیلائے جانے والے خرافات کی تصدیق کے لئے عوام کسی عالم کے پاس جا ہی نہ سکے۔ کیونکہ ان کی تحریف قرآن ،حدیث،تاریخ کی تصدیق وتکذیب تو علماء نے کرنی ہے اور انہیں سے اگر کوئی متنفر ہوگیا تو جو بھی نظریہ اسے دیاجائے گا وہ اسے قبول کرلے گا۔
صحابہؓ کا تقابل اہل بیت ؓسے کرے گا ، جذبات ابھارے گا اور نتیجہ میں اہل بیت کو سامنے رکھتے ہوئے صحابہؓ کی عصمت پر حملہ کردے گا، آپ ذہنی طور پر اہل بیتؓ کے فضائل سے اتنے مرغوب ہوچکے ہوں گے کہ آپ محسوس بھی نہیں کریں گے وہ شخص رسول اللہ کی تربیت پر سوال اٹھاچکا ہے اور ایک باطل نظریہ جو صدیوں سے ہے کہ نعوذ باللہ "آپ ﷺ ایک ناکام نبی تھے" آپ کے وصال کے بعد سوائے چند صحابہ کے باقی سارے مرتد ہو گئے تھے" آپ کے ذہن میں پیوست کرچکا ہے۔
صحابہؓ کی عصمت دری کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ سوا لاکھ صحابہؓ کی زندگیوں میں سے 10 سے 20 کمزوریاں جمع کرکے مسلسل بیان کرنا شروع کردے گا اور انسان کی فطرت ہے کہ اگر وہ مستقل منفی بات کسی کے بھی بارے میں سنتا رہے تو ایک وقت آتا ہے اس کے ذہن سے مثبت پہلو پھیکا پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ منافقین ، مرتدین اور صحابہؓ کو ایک ہی کردار بناکر پیش کرے گا جو سراسر دھوکہ ہے، ایمان پر ڈاکہ زنی ہے۔
آدھی حدیث بیان کی جائے گی یا ایک ہی موضوع پر ایک حدیث میں بات مجہول ہے اور دوسری میں واضح ہے تو مجہول والی روایت بیان کرکے دل ومیں شکوک وشبہات پیدا کئے جائیں گے۔
فقہاء کے مرتب شدہ مسائل کے کسی مخصوص جُزیہ کو بغیر تفصیل ذکر کئے قرآن کی آیت کے مقابلہ میں کھڑا کرکے دیکھایا جائے گا مثلا سلام کا جواب دینا مسلمان پر واجب ہو جاتا ہے یہ قرآن کا حکم ہے۔ اب کیا نمازی پر بھی نماز توڑ کر جواب دینا واجب ہے؟ قطعا نہیں! اسی طرح کی کئی مخصوص صورتیں فقہاء نے جمع کی ہیں امت کی رہنمائی کے لئے ۔اس کی تفصیل عوام کو معلوم نہیں لیکن یہ ڈاکہ زنی اس طرح کی جائے گی ڈائریکٹ قرآن کی آیات مسئلہ کے سامنے پیش کی جائے گی نتیجہ میں عوام متنفر ہوں گے فقہاء، علماء سے۔
ان دونوں طبقات میں ایک چیز قدر مشترک ہے اور وہ ہے اجماع امت کا انکار۔
دینی مسائل کے استنباط کے لئے اجماع امت کا درجہ قرآن و حدیث کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے لیکن اس کی اہمیت اس طرح بڑھ جاتی ہے کہ اجماع امت ہی کے ذریعہ ہم اعتماد سے قرآن میں لکھے گئے عربی متن کو قرآن کہ پاتے ہیں، حدیث رسول کو حدیث کہ پاتے ورنہ ہم میں سے 1400 سال پہلے کون تھا یا ایسی کون کی ہمارے پاس گیدڑسنگی ہے جس کے ذریعہ ہم قرآن وسنت کی تصدیق وتکذیب کرسکیں؟ اسی وجہ سے سب سے پہلے یہ طبقہ اجماع امت کا منکر ہوتا ہے تاکہ حفاظتی دیوار گرادی جائے پھر من مانے قرآن و سنت کے ترجمہ کئے جاسکیں، نئے نئے فلسفہ قائم کئے جاسکیں، دین کو ایسا بنادیں کہ اس میں ترقی کے عنوان سے روز بروز تبدیلیاں کی جاسکیں ۔ تحقیق کے نام پر تخریب کاری میں آسانی رہے۔
یہ چند بنیادی طریقہ واردات تھے جنہیں جاننا میں نے ضروری سمجھا۔ ان شاء اللہ اگلی قسط میں وہ فارمولا دیا جائے گا جس کی روشنی میں آپ اپنے ایمان کو ان فتنوں سے محفوظ کرسکتے ہیں.
اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ قسط نمبر1
@highlight
سوشل میڈیا کا جہاں مثبت کردار ہے وہاں فطری منفی کردار بھی ہے جس کے ذریعہ درست کے ساتھ غلط معلومات، افکار بھی پہیل رہے ہیں۔
اگر ہم قریب کی مثال دیکھ لیں تو رمضان میں ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کیا گیا کہ تراویح کی شرعی کیا حیثیت ہے؟ موضوع تراویح تھا لیکن حملہ تمام صحابہ اور چودہ سو سالہ فقہاء،دثین،مفسرین،علماء،اولیاء،صالحین
،متقین،مؤمنین،عارفین کے اجماع پر کیا گیا اور دلیل یہ بنائی گئی کہ قرآن و حدیث سے اس کی فرضیت ثابت نہیں ہوتی لہذا یہ محض ایک نفل عبادت ہے۔
اس زہر آلودہ نظریہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ:
تراویح کا اہتمام کرنے والا طبقہ سست ، کمزور پڑگیا کہ اگر نفلی ہی عبادت ہے تو ہم تھکیں کیوں؟ نفلی تو اور بھی بہت سے کام ہیں۔ اور جو اہتمام سے پڑھنے والا طبقہ تھا انہیں متزبزب کردیا گیا۔
صحابہ اور ان کے اجماع کی اہمیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ بنیاد ہے اسلام کی۔
عوام کے ہاتھوں یہ فیصلہ دے دیا گیا کہ عبادات کے درجات وہ متعین کریں، ان پر بحث کریں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ذات کو مجروح اس معنی میں کیا گیا کہ جیسے تراویح کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ نعوذباللہ یہ نماز حضرت عمر نے ذاتی جیب خرچ سے اسلام میں داخل کی۔
پھر آئی بڑی عید
قربانی کو وجوب کے درجہ سے اٹھاکر مستحب، مباح کے مقام پر لاکر پٹخا گیا، کسی نے ایک قربانی کو پورے ٹبر کی قربانی کے لئے قرار دیا۔
پھر آیا محرم
حبِ اہل بیت کے نام پر بغضِ صحابہ کی مہم شروع ہوئی، ہر نائی میراسی نے اہل بیت کے نام پر صحابہ کی سرے عام گستاخیاں کیں اور افسوس یہ کہ یہ کام جانے انجانے میں اہل سنت والجماعت کہلانے والوں سے بھی سرزد کروایا گیا۔
اب ربیع الاول میں کیا کٹا کھلتا ہے اس کے بعد ہی تبصرہ کیا جاسکتا البتہ گزشتہ 3 مواقع پر جو ظلم ہوا اس کا اگر خلاصہ کیا جائے تو یہ نکلتا ہے کہ:
صحابہؓ کی ذات کو مجروح کرو، صحابہ کی اہمیت ختم کردو، صحابہ کی حجیت ختم کردو۔
اس سازش کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ رسالت کے گواہوں کا عدل ختم کیا جائے، جب صحابہ ہی عادل، حجت نہیں رہیں گے تو رسالت کا ثبوت خود بہ خود ہی مٹنا شروع ہو جائے گا، پھر قرآن پر بھی سوالات کھڑے کرنا آسان ہو جائے گا کیونکہ اسے مرتب کرنے والے صحابہ ہی تھے یا نبی کی نبوت کے گواہ صحابہ ہی تھے اور نتیجہ میں اسلام کا بھی وہی حال ہوگا جو اس وقت عسائیت کا ہے کہ بائبل کا کوئی نسخہ محفوظ ہی نہیں۔
یہ کام سرانجام دینے کے لئے عالم تو مل نہیں سکتا تھا لہذا نام نھاد (پروفیسرز، انجینیرز، موٹیویشن اسپیکرز)کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے محقیقین یا علماء کا روپ دھار کر، سامنے قرآن و حدیث رکھ کر دین کو بیگاڑنا شروع کیا۔ اور عوامی خواہشات کی تکمیل کے لئے کسی نے موسیقی کو حلال قرار دینا شروع کردیا، کوئی علی الاعلان صحابہؓ کے معاملات کا قاضی بن کر فیصلہ کرنا شروع ہوا، کسی نے علماء کو طعنہ دینے شروع کردئے، کوئی اولیاء اللہ کا مزاق اڑانا شروع ہوگیا،کسی نے خود سے غلط احادیث بیان کرنا شروع کردیں، کوئی خود سے شارح قرآن بن گیا، اجماع امت کا انکار الگ سے کیا گیا۔ خلاصہ یہ کہ ایک طوفان بدتمیزی کا بازار گرم کیا گیا ہے اور ابھی تک ہے اور جسکا صرف ایک نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے عقائد کو کمزور کیا جائے، تحقیق کے ٹائٹل کے تحت تخریب کاری کی جائے۔
کمال یہ ہے ان سارے دونمبروں کا ایک مشترکہ بیانیہ آپ کو سننے کو ملے گا کہ علماء سے عوام کو بدظن کرو تاکہ ڈاکہ زنی میں آسانی ہو۔
آخر میں اپنے دعوی کی دلیل کے طور پر ایک سوال چھوڑے جارہا ہوں کہ
ان تمام نمونوں کو سننے سے پہلے آپ زیادہ مؤدب تھے یا انہیں سننے کے بعد ہوئے؟
تحقیق کے نام پر اسلام کو کاٹ کر چھوٹا کیا گیا یا مزید اسلام کے احکامات بتائے گئے؟
ان نمونوں کو سننے سے پہلے آپ کے دل میں زیادہ صحابہؓ کا احترام تھا یا آج ہے؟
ان نمونوں کو سننے سے پہلے عالم کی قدر زیادہ تھی یا اب ہے؟
ان نمونوں کو سننے سے پہلے شوق سے عبادت کرتے تھے یا آج کرتے ہیں؟
اگر پہلے کے مقابلہ میں آپ زیادہ بدتمیز ہو گئے ہیں، عبادات کی اہمیت کم ہو گئی ہے تو سمجھ لیں آپ کے ایمان پر ڈاکہ ڈل چکا ہے
اور اگر ایسا نہیں ہے تو اگلا شکار آپ ہوسکتے ہیں لہذا ان نا اہل لوگوں سے بچیں اور جس طرح دنیا کے تمام امور ماہرین کی مدد سے آپ طے کرتے ہیں ویسے ہی دین کو دین کے ماہرین ہی سے حاصل کریں تاکہ آپ کی دنیا وآخرت بگڑنے سے بچ جائے۔
اپنے ایمان کی حفاظت کیجئے
(قسط نمبر1)
21/01/2024
How to maintain Relationships? (Part 1)ہم رشتوں کو کیسے نبھائیں ؟(پہلا حصہ) How to maintain Relationships? (Part 1)ہم رشتوں کو کیسے نبھائیں ؟(پہلا حصہ) Allah has not made us alone, but has connected us with many people, and some of t...