Blooming sun international school system

Blooming sun international school system

Commentaires

پرائیویٹ سکولز اونرز اور اساتذہ کون ہیں ؟؟؟؟
معزز والدین !

پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا کون ہیں ؟؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کیں ۔۔۔۔۔۔ بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز والدین ۔۔۔۔۔
اب موجودہ حالات میں آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کا سر نہ جھکنے دیں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی بلڈنگز کرائے کی ہیں، ہر ماہ کی دس تاریخ کو مالک بلڈنگ کرایہ لینے آجاتا یے ۔۔۔۔۔۔ یہ اساتذہ انہیں مجبوری سنائیں تو وہ بھی انہیں مافیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بلڈنگز سے بے دخل کرنے کا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ کے آغاز پر سکول اساتذہ انہی لوگوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بجلی، گیس، پٹرول، سکیورٹی گاردز اور نجانے کون کون سی پیمنٹس ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ فرمان آتا ہے ۔۔۔۔ آپ فیسیں نہ لیں ۔۔۔۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے سکول نہیں گئے تو ان کا کون سا خرچہ ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرچے میں ایک روپے کی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ الٹا جن والدین ادھار بکس لیں تھیں، 4،4 ماہ کی فیس دینی تھی وہ فون سننے کے روادار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے انہی لوگوں نے آپ کے بچوں کو سر اٹھا کے چلنا اور جینا سکھایا ہے اور سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھیں اور آج ان کا سر جھکنے سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت پر اپنی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کے اداروں کو بند ہونے بچائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ پڑھایا اور سکھایا ہے وہ اپنی تاثیر کھودے ۔۔۔۔۔!!!
بچوں کی تربیت کے حوالے سے کرنے کے کاموں میں آج بس یہ چھوٹی سی لسٹ!

گلے لگانا:
کہیں ایک ریسرچ میں پڑھا تھا کہ انسان کو دن میں کم از کم آٹھ بار hug کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی تو چلیں چھوڑیئے لیکن اپنے بچوں کی اس ضرورت کا خیال کریں۔ میرے جیسی ماں کو ہر پونے گھنٹے کا الارم لگانا پڑتا ہے تا کہ کام میں لگ کر بھول نہ جاؤں۔ لمس سے ایک محبت، ایک گرماہٹ کا احساس دل میں جاگتا ہے، تحفظ کا احساس ہوتا ہے، بچے میں self esteem بڑھتی ہے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق hug اتنا لمبا ضرور ہو کہ آپ آرام سے دس تک گنتی گن سکیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ دو زانو ہو کر بچے کے لیول پر آ کر اسکو گلے لگائیں تا کہ وہ بھی آپ کے گلے میں بازو ڈال کر آپ کو hug back کر سکے۔

آئی کانٹیکٹ:
آئی کانٹیکٹ کسی بھی رشتے میں‌ ازحد ضروری ہے اور سکرین کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمیں خود تو برا لگتا ہے کہ شوہر ٹی وی کی طرف دیکھتے دیکھتے ہی جواب دیتے ہیں، ہم نظرانداز ہو رہے ہیں، لیکن وہی ہم ہانڈی میں چمچہ ہلاتے ہوئے بچوں سے بات کر رہے ہوتے ہیں، دور سے ہی سوال جواب چل رہے ہوتے ہیں۔ سارا دن تو ممکن نہیں لیکن اصول بنا لیں کہ رات کے کھانے پر ہر طرح کی سکرین آف ہو، یا سونے سے پہلے کچھ دیر آئی کانٹیکٹ کر کے دن بھر کی روداد شیئر کی جائے اور پھر بچوں سے بھی پوچھا جائے کہ کیسا دن گزرا۔

بوسہ لینا:
چھوٹے بچوں کو تو ہم بار بار گود میں اٹھاتے ہیں، بار بار پیار کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے، ایک فاصلہ غیر محسوس طریقے سے حائل ہوتا جاتا ہے۔ اب کئی کئی دن اسکو بوسہ نہیں دیا جاتا۔ بظاہر نہ آپ کو کوئی تشنگی محسوس ہوتی ہے اور نہ انہیں لیکن کہیں نہ کہیں ایک کمی سی رہ جاتی ہے۔ یہ کمی نہ رہنے دیں! بچے کو جب گلے لگائیں تو ماتھے پر پیار سے بوسہ دے دیں۔ اسے اچھا لگے گا۔ آپکو بھی اچھا لگے گا!

محبت کسی بھی رشتے میں ہو، اظہار اور تجدیدِ اظہار مانگتی ہے۔ کتنی ہی بار ہم یہ شکوہ اپنے شوہر سے کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں۔ اب آپ ویسے پیار نہیں کرتے جیسے شادی کے شروع میں کرتے تھے۔ زبان سے نہ کہیں تو بھی دل میں محسوس کرتے ہیں۔ لیکن بعینہ وہی سب بچوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے بچے کو چوم چوم کر اسکو تنگ کر دیتے ہیں، اور بڑے بچوں کے لئے ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ محبت انکی بھی ضرورت ہے۔ اظہار کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہیں بتاتے اپنی اولاد کو کہ وہ ہماری زندگی کا محور ہے؟ ہماری خوشی اسکی مسکراہٹ سے مشروط ہے۔ اسکے چہرے پر ذرا سی پریشانی ہماری جان نکال دیتی ہے۔ وہ ہمیں ہر ایک سے زیادہ عزیز ہے۔ جب hug کریں تو دس تک گنتی گننے کی بجائے اسوقت انہیں ایک آدھا جملہ پیار سے بول دیں۔ پھر آئی کانٹیکٹ کر کے ماتھے پر بوسہ دیں اور پندرہ سیکنڈ میں آپکے تینوں "کام" ہو جائیں گے۔ 🙂
جو لوگ اپنے بچوں کو جھپی نہیں ڈالتے، بوسہ دینے کی عادت نہیں، وہ ایک سے شروع کریں۔ جھجک آئے تو بھی کوشش کریں اور آہستہ آہستہ ڈوز بڑھاتے جائیں۔ آپکو فرق خود ہی محسوس ہو گا۔ محبت کا یہ اظہار روزانہ کی بنیاد پر اسلئے بھی اتنااتنا اہم ہے کہ محبت ہم سبھی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب گھر سے نہیں ملتی تو کہیں اور ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری اولاد کو گھر سے ہی اتنا پیار اور اعتماد ملے، انہیں محبت کے لئے کسی اور کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ آپکو نہیں معلوم کہ گھر سے باہر کی دنیا کا کوئی شخص انہیں محبت دے گا تو واپسی میں کیا ڈیمانڈ کرے گا۔ محتاط رہیں۔ وقت کی نزاکت کا خیال رکھیں
ٹِپ وَن
لیجے، parental tips کا آغاز کرتے ہیں۔ ـــــــ بعض گھروں میں بچوں پر ماں یا باپ کی اتھارٹی قائم نہیں ہو پاتی۔ بچے ایک کا رُعب لیتے ہیں، دوسرے کو سنجیدہ لینے سے انکاری نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور اِس کا حل کیا ہے؟
بہت آسان نسخہ ہے۔ اگر کوئی آپ کے بچوں سے کسی روز پوچھ لے کہ آپ کے ابّو کس کی بات کو زیادہ اہمیّت دیا کرتے ہیں؟ آپ کی بات یا آپ کی ماما کی بات ؟ تو جواب یہ ملنا چاہئیے کہ "ماما کی بات کو"۔ اسی طرح اگر کوئی اُن سے پوچھ لے کہ آپ کی ماما کس کی زیادہ سنتی ہیں؟ آپ کی یا آپ کے بابا کی؟ تب بھی جواب یہی ملنا چاہئیے کہ وہ بابا کی بات کو ترجیح دیا کرتی ہیں۔
یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو نفسیاتی اعتبار سے یہ شے بچوں پر ماں باپ کی اتھارٹی یکساں طور پر قائم کر دیتی ہے۔
اگر ایسا نہیں ہو رہا تو سیچوئیشن ریویو کریں۔ آپس میں طے کر لیں کہ جب آپ ڈانٹو گی، یا کسی بات سے منع کرو گی، یا کچھ کرنے کا حکم صادر کرو گی تو میں مداخل نہیں ہوں گا۔ پھر جب میں کروں تو آپ بھی۔
البتہ، خود اپنے لئے یہ ضرور طے کر لیں کہ جب بھی کچھ کہنا وہنا ہو تو آپس میں الگ سے مشورہ کریں۔ ایکدم پھٹ پڑنے والے رویّے یعنی explosive situations سے بچنے کا یہی عمدہ طریقہ ہے۔ نیز، جن گھروں میں روٹین اور فیملی رُولز نام کی کوئی شے پائی جاتی ہے، وہاں مسائل ہمیشہ کم کم رہیں گے۔
یاد رکھیں، ہر ہر ایشو پر تربیتی مواد پڑھنا آپ کا فرض ہے ــــ یہ جاننے کو کہ کیسے بچوں سے متعلق ہر مسئلہ کو مختلف انداز میں بھی ڈِیل کیا جا سکتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بچوں کو کاپی کیٹ مت بنائیں.
والدین کے لئے انتہائی رہنما تحریر :

بچوں کو اعتماد گھر سے ملتا ہے... کم نمبر آنے پر ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ سے پرہیز کریں... زیادہ محنت کی تلقین کریں... بچے کے کزنز سے اپنے بچے کا کبھی موازنہ نہ کریں... اور خاص طور پر پڑوسیوں کے بچوں سے تو بالکل بھی نہیں... کیونکہ مچھلی کی خاصیت درخت پر چڑھنا نہیں، پانی میں تیرنا ہے... اسی طرح ہر بچے کی اپنی صلاحیت ہوتی ہے...
اپنے بچے کو Copy Cat مت بنائیے... اسے منفرد بنائیے... منفرد بننا سکھائیں... جو وہ ہے، جس میں اس کی قابلیت ہے، اسے اس شعبے، اس کام میں منفرد بننا سکھائیں... بچے کو یہ مت سکھائیں کہ...
How to be a best doctor...
How to be a best engineer...
How to be a best writer...
How to be a best business tycoon...

اسے یہ سکھائیں کہ...
How to be the best of whatever you are...

اگر وہ آسمان میں اُڑنا چاہے تو اس کے پَر بن جائیے...
اگر وہ پانی میں تیرنا چاہتا ہے، تو اسے تیرنے دیں...
اسے کبھی یہ طعنہ مت دیں، کہ اسلم صاحب کا بیٹا ہوائی جہاز اڑاتا ہے، اور تُو گھر میں مکھیاں اڑاتا رہ بس...
اسے یہ مت کہیں کہ خالدہ آنٹی کی بیٹی نے میڈیکل میں 96 فیصد نمبر لیۓ ہیں، اور تم 60 فیصد لے کر بیٹھی رہو آرٹس میں...

اور اگر بچے گھر میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں... اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں جسمانی سر گرمی کی ضرورت ہے... انہیں گراونڈ یا پارک میں لے کر جائیں...

گلاس یا کپ ٹوٹنے پر برائے کرم یہ بتانا نہ شروع کر دیں کہ یہ بہت مہنگا آیا تھا... یاد رکھیے” کپ ٹوٹنے سے دل ٹوٹنا زیادہ بُری بات ہے...!!“

بچوں میں سٹیج کا خوف دور کرنے کے لیے گھر پر ایک روسٹرم کا انتظام کریں... اپنے اور عزیز و اقارب کے بچوں کے درمیان ہفتہ وار تقریریں مقابلے کروائیں... اگر بچے تقریر کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو بلند خوانی loud reading کروا لیں...

خوب حوصلہ افزائی کریں... تالیاں بجائیں، چھوٹے موٹے انعام دیں... اس سر گرمی سے بچے بہت جلد اپنے آپ کو پُراعتماد محسوس کریں گے... ایک بات یاد رہے کہ اگر بچہ دورانِ تقریر بھول جائے تو مذاق نہ اُڑایا جائے...

اجنبی لوگوں اور اجنبی جگہوں کا خوف ‏Xenophobia
ختم یا کم کرنے کے لیے ریسٹورنٹ یا شاپنگ مال میں چھوٹی ادائیگی بچوں سے کروائیں... بچوں کو اے ٹی ایم کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے بارے میں ضروری معلومات دیں اور مناسب عمر پر استعمال کا طریقہ بتائیں...

یاد رکھیے بچوں کو Financial literacy سے دور نہ رکھیں...
بچوں کو مہمانوں سے ضرور متعارف کروائیں... لیکن بچوں کو نظمیں سنانے پر مجبور نہ کریں اور خود سنانا چاہیں تو سنانے دیں... انہیں ٹوکیں مت...

اپنی اولاد کے دوست بنیں... والدین اور اولاد کے درمیان communication gap کی وجہ سے کتنی ہی اولادوں نے خود کو تباہ کر لیا ہے... اور والدین نے اس بارے میں کوئی اقدامات نہیں کیۓ، الٹا اولاد کو مؤرد الزام ٹھہرا دیا کہ اولاد ہی نافرمان تھی...

یاد رکھیۓ...!!
فرمانبرداری ایک الگ شے کا نام ہے... اور اولاد سے دوستانہ رویّہ اور اولاد سے روز مرہ کی گفتگو اور اولاد کے مسائل کے بارے میں دریافت کرنا، یہ سب الگ چیزیں ہیں...

اسلیۓ خدارا...!!
اپنی اولاد کے دوست بنیں... اگر پہلے سے دوست ہیں اور آپ کے اور آپ کی اولاد کے درمیان کوئی communication gap نہیں، تو ﷲ آپ کی کوششیں اولاد کے حق میں مزید بہتر فرماۓ... لیکن اگر 2 2 ہفتے اولاد سے کوئی out of sylabus بات نہیں کرتے آپ، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے...!!

👈 نوٹ:
خدارا ان معاملات کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کیجیۓ گا...
ہو سکتا ہے کہ آپ اولاد کی پرورش میں پرفیکٹ ہوں، مگر یہ باتیں کسی دوسرے سے تو شیئر کر ہی سکتے ہیں، جو اولاد کے معاملے میں کوتاہی کر جاتے ہیں... جان بوجھ کر نہ سہی، انجانے میں ہی کوتاہیاں ہو جاتی ہیں...!!

👈 نوٹ 2:
اس تحریر کا یہ مطلب ہرگز نہیں... کہ اولاد کو مخمل کی زندگی مہیا کر دیں... اسے زندگی کی سختیاں اور تلخیاں سہنے کیلیۓ کسی کسی موقع پر تنہا پرواز کرنا بھی سکھائیں... مختصر اگر ایک لائن میں کہا جاۓ، تو ٹیپو سلطان کا مشہور جملہ بہت مناسب ہو گا کہ...
"اپنی اولاد کو نوالہ سونے کا کھلاؤ... لیکن اس پر نگاہ شیر کی رکھو...

Blooming sun international school system is a name of Quality Education

Fonctionnement normal

24/09/2019

Blooming sun international School System is offering Franchise all across Punjab. BSISS is committed to educating and nurturing the young minds so they may grow towards responsible global citizenship. For comprehensive information kindly contact at 03005440043.
Address: DINGA (GUJRAT)
Email:[email protected]

[08/07/19]   آپ کا بچہ
5 سال تک آپ کا کھلونا.!
10 سال تک آپ کا خادم..!!
15 سال کا ہونے سے پہلے، پہلے
آپ اسے اپنا دوست بنا لیں
ورنہ دشمن تو وہ بن ہی جائے گا...!!!

بیس سال پہلے
مجھے بھی یہ بات بہت سخت لگی تھی
کہ پندرہ سال کا ہونے پر ہمارا بچہ
ہمارا دشمن کیوں بن جائے گا..؟

فرمایا
آپ کا بچہ پہلے پانچ سال
آپ کا کھلونا ہوتا ہے
سارے گھر کا لاڈلہ ہر ایک کی آنکھ کا تارا
آپ اسے بھرپور وقت دیتے ہیں اور وہ
آپ کو بھرپور پیار دیتا ہے
ماں باپ
اس کی نظر میں دنیا کے سب سے
مہربان
بہادر، ذہین، دولت مند، انسان ہوتے ہیں

پھر
اسکول میں داخلہ ہوجاتا ہے
گھر میں چھوٹا بہن بھائی آچکا ہوتا ہے
آپ کی مصروفیات بڑھ جاتی ہیں
پہلے بچے کو ملنے والا وقت تقسیم ہوجاتا ہے
اسکول میں دوست بن جاتے ہیں
کچھ اساتذہ اچھے لگتے ہیں

آپ یعنی ماں باپ
بچے کی پسندیدہ شخصیات کی فہرست میں
تیسرے چھوتے نمبر پر چلے جاتے ہیں

دس سال بعد
ایک بار پھر ٹاپ ٹین کی لسٹ بدلتی ہے
پہلے نمبر
پر دوست
پھر کوئی ٹیچر
فلم، ٹی وی کا کوئی فنکار
کرکٹ، فٹبال کا کوئی کھلاڑی آجاتا ہے

پندرہ سال کا ہوتے ہوتے
بچہ ماں باپ کی نصیحتیں سن سن کر
مار پٹائی ڈانت کھا کھا کر
بیزار ہو چکا ہوتا ہے
اور
اس عمر میں
اکثر ٹین ایج بچے
ماں باپ کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں
اپنی آزادی کا دشمن
اپنی خواہشات کا دشمن
اپنے فرینڈز کا دشمن. ....!
ایک بات نوٹ کر لیجیے
یہ مسئلہ صرف آپ کا یعنی
ہمارے وطن یا اس خطہ کا نہیں ہے
بلکہ ساری دنیا کے ٹین ایج بچوں اور ان کے پیرنٹس کا ہے
اگر
ہم مغرب میں بچوں اور پیرنٹس کے مسائل جان لیں تو ہمارے ہوش اڑ جائیں
پھر یقین جانیں ہم صبح شام
دن رات اپنے بچوں کے
صدقے واری جائیں

لیکن
اس بات سے مطمئن ہوکر بیٹھ نہیں سکتے
بہتری لانی ہوگی بچوں کے ساتھ تعلقات میں
روزبروز اصلاح کی کوشش کرنی ہے

چند آسان آسان ٹپس عرض کرتا ہوں

بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان کے مسائل بھی بڑے ہوجاتے ہیں
اس لئے اب ان سے

تو تو میں میں بند کر دیں

ان ٹین ایج بچوں کو مکمل فرد سمجھیں

دلیل سے بات کریں، توجہ سے ان کی بات سنیں

غصّہ کرنا چھوڑ دیں اس سے پہلے کہ بچے آپ سے بات کرنا چھوڑ دیں

تسلیم کریں دنیا کے ساری ٹین ایج بچے اس عمر میں ایسے ہی ہوتے ہیں
اپ بھی کم و بیش ایسے ہی تھے
میں بھی ایسا ہی تھا

حوصلہ افزائی کیجئے
بچوں کی نہیں..!
ان کے کام کی
مثلاً
آپ نے اچھے رزلٹس کے لئے جو مستقل مزاجی سے محنت کی ہے یہ بات قابل تعریف ہے

بچوں کی اسٹرینتھ پہچان کر ان کی حوصلہ افزائی کریں
یعنی نوٹ کیجئے کون سا کام آپ کے بچے خودبخود
انتہائی محنت لگن اور ذمہ داری سے کرتے ہیں..؟
اس خوبی کی تعریف کیجئے

بچہ سچ بولتا ہے
نماز کی پابندی کرتا ہے
وقت کی اہمیت کا احساس کرتا ہے
تو جم کر بھرپور انداز میں ایپریشئیٹ کیجئے

بچوں کی کامیابیوں کو سیلیبریٹ کریں

ایک وقت میں ایک بچے کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر جائیں
اس دوران آپ صرف سوال کیجئے
نوے فیصد سے زیادہ وقت بچے کو بولنے دیں

اپنے پاس مائک صرف دس فیصد وقت رکھیں

نصیحت نہیں سوال کریں

بچہ آپ کی بات سنجیدگی سے نا سنتا ہو تو
خاندان کے کسی فرد یا ٹیچر جن سے وہ انسپائر ہو
کی مدد لینی چاہیئے ان کے ذریعے حکمت کے ساتھ
موٹیویٹ کیجئے

ہر ایک ٹین ایج بچے کو
ایڈوینچر، تھرل، کی طلب ہوتی ہے
کچھ ایسے ایونٹ آرگنائز کیجئے جس میں بچوں کی یہ فطری طلب پوری ہوجائے
مثلاً
تیراکی، ھائکنگ، کشتی رانی، سائیکلنگ، گارڈننگ،
ڈیزرٹ سفاری،
کسی نا کسی آؤٹ ڈور کھیل کے لئے سامان، مواقع اور اجازت فراہم کریں

آج کی گفتگو کا زیادہ تر نوجوان لڑکوں سے
متعلق ہے

ہو سکتا ہے میری کچھ باتیں سخت اور بری لگیں گی مگر
امید ہے کام آئیں گی۔

[06/22/19]   کامیاب شخص کی زندگی کے گیارہ فارمولے

ایک ۔ آپ زندگی میں کبھی چائے، کافی اور ٹیکسی کی بچت نہ کریں. پیسے بچانے کےلئے بس پر سفر نہ کریں. کیونکہ دنیا میں آج تک کوئی شخص بچت سے امیر نہیں ہوا. امارت زیادہ پیسے کمانے سے آتی ہے بچت سے نہیں۔

دو: تنخواہ مت لیں، تنخواہ آپ کو کبھی دولت مند نہیں بنائے گی۔

تین ۔ آپ اپنی رقم سے کبھی سرمایہ کاری نہ کریں، سرمایہ کاری صرف دولت کی حفاظت کرتی ہے، یہ آپ کو دولت مند نہیں بناتی. آپ کو ہمیشہ سرمایہ کاری سے پہلے سرمایہ پیدا کرنا چاہیئے۔

چار : آپ روزانہ خوشحالی کے دس آئیڈیاز سوچیں، یہ دس آئیڈیاز آپ کےلئے خوشحالی کا خزانہ ثابت ہوں گے۔

پانچ۔ آپ لکھنا سیکھیں، لکھنے سے انسانی دماغ میں اضافہ ہوتا ہے، آپ میں سوچنے سمجھنے کی اہلیت بڑھتی ہے اور سوچنے سمجھنے والے لوگ کبھی غریب نہیں رہتے۔

چھ۔ آپ کے پاس اگر رقم ہے تو آپ کبھی اس رقم کا دو فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری پر خرچ نہ کریں‘ 98 فیصد رقم اپنے پاس رکھیں‘ یہ 98فیصد رقم آپ کے اعتماد میں اضافہ کرے گی، میں نے زندگی میں بے شمار ایسے کروڑ پتی دیکھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دولت سے نواز رکھا تھا. انہوں نے اپنی دولت مختلف منصوبوں پر لگا رکھی تھی اور کروڑپتی ہونے کے باوجود ان کی جیبیں خالی تھیں۔

سات۔ آپ کبھی ایسا کاروبار نہ کریں جس میں زیادہ مقابلہ ہو. ایسا کاروبار کریں جس میں آپ اپنی اجارہ داری قائم کر سکیں۔

آٹھ۔ چوبیس گھنٹے میں آٹھ گھنٹے سونا سب سے اچھی سرمایہ کاری ہے۔

نو۔ آپ ہمیشہ ان لوگوں کو وقت دیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں نہ کہ ان لوگوں کو جن کے لئے آپ بے وقعت ہیں یا جن کو آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دس۔ آپ سارا دن ان نعمتوں پر شکر ادا کریں اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو عنایت کر رکھی ہیں‘ شکر انسان کی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔

گیارہ۔ آپ اپنے اوپر، اپنے جسم پر، اپنے ذہن پر اور اپنے تجربے پر اعتماد کریں‘ آپ صحیح اور غلط کے بارے میں دوسروں سے پوچھنے کے بجائے اپنے آپ سے سوال کریں‘ دنیا میں آپ کا آپ سے بڑا کوئی دوست نہیں‘ آپ اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے سکتے.

20/05/2019

Complete assignment on preventive relief.... Specific relief act...

[03/07/19]   آج ایک وڈیو کلپ دیکھا جس میں ایک بچہ باپ کی قبر سے لپٹ کر ماں سے فیس نہ ملنے کا شکوہ کر رہا تھا بظاہر نظر آنے والے کلپ نے اپنے احساسات کو کاغذ کے حوالے کرنے پر مجبور کیا اپنے اسی احساس سے گوندھے جذبے کو دوستوں کی نظر کرنا چاہوں گا اور آراء کا منتظر رہوں گا

بیٹھا پیا روندا اک نکا جہیا بال ڈٹھا
حال اپنے تو ود بے حال ڈٹھا
بہہ پیو دی قبر تے ٹاواں ماری جاندا او
ہائے ابا ہائے ابا دی قلقاری لائی جاندا او
ابا او ابا اماں کولوں منگنا فیس جد سکول دی
حد کر دیندی اے ٹال مٹول دی
سکول ای تو چھڈ دے اج مینوں کہیا سوں
لگدا اے وس نہ وس اچ رہیا سوں
وچ بکل منہ دے اوہنوں ڈٹھا روندا
کاش ابا اج تو کر ہوندا
پہلے وی اوہنوں روندا ڈٹھا کئی وار
آجا نا ابا تو کیوں نی آ جاندا کار
معافی سانوں چا دے رنج جے ساڈے نال تو
چل کر دا کی ہویا ویکھ زرا حال تو
کر دیندی سانوں تتی روٹی رات آلی ماں اے
کہندی ابا تواڈا آ لے میں کھانی تاں اے
آندراں ہین لوسھ گیا ابا اودیا پکھ نال
تو لماں پیا اے ایتھے کیڈے ای سکھ نال
کرائے آلا چاچا وی گلاں کردا بہتیریاں
ابا ہین اوس وی نظراں نیں پھیریاں
ہاں ابا منی اپنی دا دساں کی حال ای
پچھلے اک مہینے توں اوہ ہسپتال ای
ڈاکٹر کہندے اہدے پھپھڑے نے گئے مک
رہ رہ پکھیاں گئیاں آندراں نے سک
اینوں کرے لے جاو ایہ نہیں بچدی
مرض ڈاہڈی لگ گئی اینوں اے پکھ دی
ویکھ ویکھ تی نوں ماں وی مری جاندی ابا
چل میرے نال تینوں منی پی بلاندی ابا
کیوں چپ پہ آ ایں کیوں نی کج بولدا
ویکھ ویکھ اتھرو وی دل نہیں اوں ڈولدا
میں وی اج سوچ لیا سکول نی اوں جانا میں
مونڈے اتے ماں دے پار جہڑا لانا میں
حال اپنی ماں دا نہ ڈٹھا جاندا ابا
ابا تے نی سندا تو ای سن لے ربا
تو تے ہیں خالق تو تے ہیں مالک سب تے مالکا
ہتھ جوڑ نکے نکے عرض کردا بالکا
ہووے نہ بال شالا جگ تے یتیم اے
سن لے سوہنیا روف تے رحیم اے
ٹھنڈا تو کر دی ابے میرے دی گور نوں
میرے ورگا دکھ نہ وکھاویں کسے ہور نوں
میرے ورگا دکھ نہ وکھاویں کسے ہور نوں

15/02/2019

اللہ کے فضل سے کامیابی کے دو سال مکمل
سیشن 2019۔2020 کے داخلے شروع
6 مارچ تک داخلہ فری

22/08/2018

Photos from Blooming sun international school system's post

22/08/2018

سالانہ رزلٹ

14/08/2018

Blooming sun international school system's cover photo

14/08/2018

بلومنگ سن انٹرنیشنل سکول سسٹم 14 اگست کے پروگرام کی جھلکیاں اللہ کریم میرے ملک پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور اس دھرتی ماں کے صدقے میرے گلشن (BSISS) کی بھی حفاظت فرمائے
آمین ۔۔پاکستان زندہ باد

[07/16/18]   میرا ایک بےتکلف دوست اردو کا لیکچرار بھرتی ہوا تو میں نے اس سے لطف لینے کے لئے ایک دن اپنے پاس بلایا اور پوچھا
’اُردو لکھنا پڑھنا جانتے ہو؟
وہ غصے سے مجھے گھورنے لگا
‘میں نے طنزیہ لہجے میں سوال دوبارہ دہرایا‘
وہ غرایا’’کیا یہی مذاق کرنے کے لیے بلایا ہے؟میں نے قہقہہ لگایا’نہیں جانی!بس آج تمہاری اردو کا امتحان لینا ہے‘بولو کتنے کی شرط لگاتے ہو؟
اس نے دانت پیسے’شرط لگانا حرام ہے‘
اب کی بار میں نے اسے گھورا’اگر میں ثابت کردوں کہ .شرط. حرام نہیں تو؟
اس کی آنکھیں پھیل گئیں’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ کرو ثابت‘
میں نے اطمینان سے کہا’’ کیا نماز کے لیے وضو شرط نہیں‘کیا شادی کے لیے نکاح شرط نہیں؟

میری دلیل سنتے ہی اُس نے پہلے اپنے بال نوچے پھر میز پر پڑا پیپر ویٹ اٹھا کر میرے سر پر دے مارا لیکن میں چوکنا تھا لہذا اس کا نشانہ خطا گیا
’چلو اگر تمہیں شرط منظور نہیں تو شرط کا نام انعام رکھ لیتے ہیں‘
کچھ بحث و تمہید کے بعد یہ تجویز اسکو پسند آگئی اور مجھے یقین ہوگیا کہ میری جیب میں اب رقم آنے والی ہے۔طے پایا کہ اگر اس نے اُردو بوجھ لی تو میں اُسے ہزار روپے دوں گا اور اگر وہ ناکام رہا تو اُسے ہزار روپے دینا ہوں گے
۔اسکو یقین تھا کہ وہ یہ مقابلہ ہار ہی نہیں سکتا کیونکہ اُردو سے اس کا بڑا پرانا تعلق ہے اور وہ اِس زبان کا ماہر ہے۔میں نے سرہلایا اور پوچھا’کھاتہ ترتیبات‘‘ کسے کہتے ہیں؟
اسکا رنگ اُڑ گیا’’کیا کہا؟ پھر سے کہنا‘میں نے اطمینان سے دوبارہ کہا’کھاتہ ترتیبات‘وہ سرکھجانے لگا‘ میں مزے سے سیٹی بجارہا تھا‘اس کی طرف سے جواب میں تاخیر ہوئی تو میں نے اطمینان سے کہا’’بیٹا اس کا مطلب ہے Account Settings ۔چلواب یہ بتاؤ’رازداری رسائی‘‘ کسے کہتے ہیں؟وہ مزید ہڑبڑا گیا۔یہ کون سی زبان بول رہے ہو؟میں مسکرایا’’بیٹا یہ اُردو ہے‘ خالص اُردو‘اس کا مطلب بھی سن لو‘اس کا ترجمہ ہے ''Privacy settings'' اب بتاؤ کہ’’ربط کا اشتراک‘ کیا ہوتا ہے؟اُس کے پسینے چھوٹ گئے‘ ہکلاکر بولا’’نہیں پتا‘میں نے میز بجایا’’میرے پیارے اس کا مطلب ہوتاہے Share link ۔وہ بے بسی سے اپنی ہتھیلیاں مسلنے لگا۔ میں نے سگریٹ سلگا کر ایک کش لگایا اور آگے کو جھکتے ہوئے پوچھا’’فیس بک استعمال کرنا جانتے ہو؟وہ اچھل پڑا’’کیا مطلب؟ تم جانتے تو ہو کہ میں چار سال سے فیس بک استعمال کر رہا ہوں ‘ میں نے دھواں اس کے منہ پر پھینکا’’اچھاتو پھر یہ بتاؤ آخری دفعہ تم نے’تجدید کیفیت‘کب کیا تھا؟اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور دھاڑ کر بولا’’میں کوئی تمہاری طرح بے غیرت نہیں‘ میں نے یہ کام کبھی نہیں کیا‘‘میں نے حیرت سے پوچھا’’کون سا کام؟وہ گرجا’’یہی جو تم پوچھ رہے ہو‘‘میں نے قہقہہ لگایا’’ابے یہ Status Update کی اُردو ہوتی ہے.اچھایہ بتاؤ تمہارے کتنے’پیروکار‘ہیں؟یہ سنتے ہی اُس نے مجھے گردن سے دبوچ لیا’’کیا بکواس کر رہے ہو میں کوئی پیر بابا ہوں‘میرے کہاں سے پیروکار آگئے؟میری چیخ نکل گئی‘ میں نے بمشکل اپنی گردن چھڑائی اور دو قدم دور ہٹ کر چلایا’’کمینے ! پیروکار سے مراد’Followers ‘‘ ہوتے ہیں۔ایک موقع اور دیتا ہوں‘ بتاؤ جب تم فیس بک پر کوئی تصویر لگاتے ہو تو اسے کسی سے’’منسلک‘‘ کرتے ہو؟کبھی تمہیں’’معاونت تختہ‘‘کی ضرورت پیش آئی؟تم’مجوزہ صفحات‘‘ کھولتے ہو؟تم نے کبھی اپنی ’’معلومات کی تجدید‘‘ کی؟کبھی ’’اپنے’واقعات زندگی‘ کو’’عوامی‘‘ کرکے’’پھیلایا؟اسکے چہرے کے تاثرات عجیب سے ہوگئے تھے‘ یوں لگ رہاتھا جیسے کچھ ہی دیر میں وہ خالق حقیقی سے جاملے گا۔اس نے میرے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اپنے ناخن چبانے شروع کر دیے۔میں نے پراعتماد لہجے میں کہا۔تم ہار گئے ہو۔نکالوایک ہزار‘‘۔ اُس نے نفی میں سرہلادیا’’نہیں۔۔۔پہلے ثابت کرو کہ یہ اُردو کہیں استعمال بھی ہوتی ہے‘مجھے پتا تھا کہ وہ یہ سوال ضرور کرے گا لہذا اطمینان سے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھول کر سامنے کردیا جہاںTagکی اردو ’’منسلک‘‘ لکھی تھی۔Support Dashboard کو ’’معاونت تختہ‘‘ لکھا ہوا تھا‘ Recommended Pages کا ترجمہ ’’مجوزہ صفحات‘‘ کیا گیا تھا‘Life eventsسے مراد’’واقعاتِ زندگی‘‘ تھے اور Everyone کی اردو ’’عوامی‘‘ کی شکل میں دستیاب تھی۔ وہ کچھ دیر ہونقوں کی طرح میری ’’اُردو مارکہ فیس بک‘‘ دیکھتا رہا‘ پھر خاموشی سے پرس نکالا‘ پانچ پانچ سو کے دو نوٹ نکال کر میری ٹیبل پر رکھے ‘ اپنے آپ کو ایک عجیب و غریب سائنسی قسم کی گالی دی اور تیزی سے باہر نکل گیا ۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ اب تک اردو ہماری قومی زبان تو نہ بن سکی لیکن فیس بک کی زبان ضرور بن گئی ہے تاہم فیس بک والے ’’واجب القتل‘‘ قرار دے دینے چاہئیں جنہوں نے ابھی تک بے شمار الفاظ کا اردو ترجمہ نہیں کیا‘ مثلاً ٹائم لائن‘ ای میل‘ پاس ورڈ‘ سرچ انجن‘ پروفائل‘ فیس بک‘ کوکیز‘ایپلی کیشنز‘موبائل‘ لاگ اِن اور لاگ آؤٹ جیسے بدیسی الفاظ تاحال یہاں موجود ہیں حالانکہ ان کا ترجمہ انتہائی آسان ہے ‘ میری رائے میں ‘ Facebook کو ’’متشکل کتاب‘۔Timeline کو’’وقت کی لکیر‘۔Emailکو’’برقی چٹھی‘۔Password کو’’لفظی گذرگاہ‘۔Cookies کو’’چھان بورا‘۔Application کو ’’عرضی‘۔ Mobile کو’’گشتی‘‘ ۔Search Engine کو ’’مشینی تلاشی‘۔Video کو ’’متحرک تصاویر‘۔ Profileکو ’’شخصی ڈھانچہ‘۔ Log out اورLogin کا
اردو ترجمہ نقصِ امن کے اندیشے کے تحت نہیں کیا جا سکتا ۔اردو کی ترویج و ترقی کے لیے انگریزی کو بے لباس کرنا بہت ضروری ہے

[07/12/18]   آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں :❤

جج صاحب نے فنڈ قائم کیا ہے اور پیسا اکٹھا ہو نہیں رہا - جج صاحب آپ بڑے ہیں لیکن کبھی کبھی عقل کی بات چھوٹوں سے بھی مل جاتی ہے - جج صاحب یوں چندوں سے مسجدیں بنتی ہیں یا ڈسپنسریاں ، ڈیم نہیں بنتے - ڈیم حکومتی وسائل سے بنتے ہیں کہ اربوں کھربوں کے اخرجات ہوتے ہیں ....آئے میں آپ کو کچھ ارب اکٹھے کر دیتا ہوں ، عمل کرنا ، یعنی جمع کرنا آپ کا کام -
................
ویسے تو جس گورنر ہاوس میں صرف ایک دن کے دودھ کا بل اٹھائیس ہزار بنتا ہے اس سے جان چھڑانی ہی اچھی ہے ..لیکن گورنر کے عہدے کو ختم کرنے کے لیے لمبی چوڑی آئینی ترامیم کی ضرورت ہے - جب کہ یہ ایک آسان سا اور انتظامی فیصلہ ہو گا کہ گورنر صاحب کو ڈیفنس یا کسی اور پوش علاقے میں ایک دو ایکڑ کی کوٹھی میں منتقل کر دیا جائے اور گورنر ہاؤس کو بیچ د جائے ....کیونکہ :
لاہور کا گورنر ہاوس اکہتر ایکڑ رقبے پر واقعہ ہے - شاید کہا جا سکتا ہے کہ یہ لاہور کی قیمتی ترین جگہ ہے - اکہتر ایکڑ میں گیارہ ہزار تین سو ساٹھ مرلے ہوتے ہیں ..اگر ایک مرلے کی قیمت صرف بیل لاکھ روپے شمار کی جائے جو وہاں کی ممکنہ قیمت کا نصف بھی نہ ہو شاید تو بھی یہ قیمت بائیس ارب روپے بنتی ہے -
...........
اسی طرح کراچی کا گورنر ہاوس ہے جس کی قیمت لاہور کے گورنر ہاؤس سے کم نہ ہو گی -
اس کے بعد پشاور کا گورنر ہاؤس بھی اربوں روپے کی زمین پر موجود ہے
سو ان تین گورنر ہاوسز کو بیچ کے ہی ڈیمز کی اچھی خاصی قیمت وصول کی جا سکتی ہے
..............
اس کے بعد ہر ضلع کے ڈی سی ہاوسز ہیں جن کے رقبے آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ہیں ، میں نے ایک بار اس حوالے سے بھی مضمون لکھا تھا ، اگر ملتا تو نقل کرتا ، آپ کی آنکھیں کھل جاتیں - یہ گھر بھی بعض جگہوں پر بیسیوں ایکڑ پر مشتمل ہیں - جب کہ ایک ڈی سی نامی افسر عموما چھے فٹ سے لمبا نہیں ہوتا ، اس کا وزن بھی سو کلو کے لگ بھگ ہوتا ہے ، سو اس شہر کی کسی بھی پوش آبادی میں اس کو ایک یا دو کنال کے گھر میں "بند " کیا جا سکتا ہے کہ "لیجئے صاحب قوم کی خدمت کیجئے "
...
اور چلتے چلتے بتاتا چلوں کہ ہمار وزیر اعظم ہاؤس قائد اعظم یونورسٹی سے کچھ زیادہ ہی رقبے میں واقع ہے -
اچھا ایک اور بات یاد آئی کہ آپ نے پچھلے دنوں موبائل فون پر ٹیکس کٹوتی ختم کی ...کہ جو ایک سو کے کارڈ پر بچیس روپے کے قریب تھی ، اگر بائیس کروڑ کی آبادی میں صرف دو کروڑ افراد موبائل استعمال کرنے والے تصور کیے جائیں اور ہفتے کا ایک کارڈ تو جناب یہی پچاس کروڑ روپے بنتا ہے ، جو اب حکومت کی بجائے کمپنیوں کی جیب میں جا رہا ہے ...عوام کو کوئی خاص رلیف نہیں ملا ..اپ اسے واپس بحال کر کے ڈیم کے لیے مختص کر لیں
...........
اگر گزری حماقتوں کا ذکر کریں گے تو رونے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا ...جیسا کہ اورنج ٹرین ہے جس پر دو سو ارب روپے سے زیادہ لگ رہے ہیں جو ایک شہر کی صرف ایک سڑک ہے ...آپ نے نیرو کا نام سنا ہو گا ؟
جی ہاں ہمارے یہ حکمران نیرو ہی ہیں کہ روم جل رہا تھا اور یہ بانسری بجا رہے تھے -
جی ہاں! آنے والی نسلیں ہم کو گالیاں دیں گی کہ تمام کا تمام پانی پی گئے اور ہمارے لیے کچھ نہ چھوڑا - تو اس موئی اورنج ٹرین کی جگہ اس پیسے کو ڈیم بنانے میں بھی لگایا جا سکتا تھا -
جناب یہ صرف ایک حماقت ہے ، ورنہ اگر میگا سکینڈلز کو گننا شروع کریں گے تو درجنوں کالا باغ اور بھاشا ڈیم آپ کی جیب میں آ جائیں گے -
..............
سوال یہ بھی ہے کہ یہ ہمارے لیڈر ، افسر اور رہنما کیسے ان تنگ گھروں میں رہ سکیں گے تو بتاتا چلوں کہ :
بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے، دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں، باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں، لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے. وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اسکا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں-
وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے۔ اسکے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے، اسکے پاس 1980ء کی گاڑی ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے۔
جرمنی کے چانسلر کا ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم سرکاری طور پر ملا ہے -
زرا سوچئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

02/07/2018

Blooming sun international school system dinga

یا اللہ میرے گلشن کو سلامت رکھنا

18/02/2018

الحمد للہ کامیابی کا ایک سال مکمل دوسرا شروع داخلے جاری ہیں

12/11/2017

تمعنا شاکر کلاس ورک کرتے ہوئے

15/10/2017

Blooming sun international school system Dinga Campus

12/10/2017

My Dream Blooming sun international school systm dinga

20/08/2017

EHSAS

04/06/2017

Blooming sun international school system

04/06/2017

Profile Pictures

04/06/2017

Blooming sun international school system

05/05/2017

Blooming sun international school system's cover photo

Emplacement

Type

Téléphone

Adresse


Gujrat
Dinga

Heures d'ouverture

Lundi 08:40 - 14:30
Mardi 08:40 - 14:30
Mercredi 08:40 - 14:30
Jeudi 08:40 - 14:30
Vendredi 08:40 - 12:30
Samedi 08:40 - 02:30